Basta — Continuous reader

Read the complete text as one continuous edition. Switch between parallel Urdu and Roman Urdu, Urdu only, or Roman Urdu only.

View
Original scan of Basta page 1

1

Original scan of Basta page 2

2

No transliteration available for this page.

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيعًا عَلِيمًا (سورۃ النساء، آیت 148) اللہ پسند نہیں کرتا کہ کسی کی علانیہ برائی زبان پر لائی جائے سوائے اس کے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو، اور بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ۝ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ۝ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (آیات 224 تا 227، سورۃ الشعراء) اور گمراہ لوگ شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ ہر وادی میں بہکے ہوئے سرگرداں پھرتے ہیں؟ اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور اعمالِ صالح بجا لائے، اور کثرت سے اللہ کی یاد کی، اور اپنے اوپر ظلم کئے جانے کے بعد ہی بدلہ لیا۔ اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جلد جان لیں گے کہ وہ کس کروٹ پلٹتے ہیں۔ (ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔) (ترجمہ: ابو منصور، مطبوعہ بفضل ربی فاؤنڈیشن)

3

No transliteration available for this page.

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی Post Box No. 10979, Karachi-74700 Ref: ITS/M-1/2007 Date: 20/05/2007 تفویض حقوقِ اشاعت و تقسیم جیسا کہ متعلقہ افراد بخوبی آگاہ ہیں کہ اس احقر نے دینی و مذہبی شاعری پر مشتمل ایک مستند و معیاری مجموعۂ کلام بنام ’’بستہ‘‘ 2000ء میں مرتب و شائع کرا کر حسبِ ضابطہ 2001ء میں حکومتِ پاکستان کے متعلقہ محکمے سے باقاعدہ رجسٹر کرا کے اس کی طباعت و تقسیم سے متعلق جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرا لئے تھے۔ یہ بستہ ہوتے ہی نایاب ہو گیا تھا، چنانچہ ایک ادارے نے ہماری اجازت سے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے انتخابِ بستہ کے نام سے جاری کیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ ادارہ سے ہمارا اشتراک مکمل اور مشاورت تا قانونی حق ’’انتخابِ بستہ‘‘ تک محدود ہی ہے۔ اپنے ادارہ کی دیگر مطبوعات میں اشتراکِ مکمل اور مشاورت کے حوالے سے موصوف / ادارہ مذکورہ میرا اور میرے ادارے کا نام بلا جواز استعمال کرتے ہیں۔ اب علامہ اقبال ٹاؤن کے بعد ہر امام بارگاہ پر اصل و مکمل بستہ ضروری ترمیم و اضافے کے ساتھ بارِ دیگر زیرِ طباعت ہے۔ از سرِ نو کر کے قدر دانوں کے استفادہ کے لئے پیش کیا جا رہا ہے جو ہر مؤمن کے گھر، خصوصاً ہر مسجد و امام بارگاہ اور عزاخانہ کی ضرورت ہے، جس میں یکم محرم تا 30 ذی الحجہ، ہر قسم کی دینی و مذہبی اور قومی ولی تقریبات اور ہر خصوصی کے لئے مطلوبہ کلام موجود ہے۔ اصل و مکمل بستہ کی طباعت و اجرا کے بعد اس قسم کے کسی اور مجموعہ یا انتخاب کی کوئی ضرورت و جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اس بستہ کا مختصر انتخاب ’’گلدستہ‘‘ کے نام سے بھی ہم نے مرتب و جاری کیا۔ ہم بخوشی بلا معاوضہ دینی و مذہبی کتب کے معروف ناشر و تقسیم کنندہ محفوظ بک ایجنسی، ناظم روڈ کراچی کو اس ’’بستہ‘‘ کی اشاعت و تقسیم کا کلی اختیار تفویض کرتے ہیں اور آئندہ بھی یہی ادارہ (محفوظ بک ایجنسی) اس کی اشاعت و تقسیم کا مجاز و ذمہ دار ہوگا، نیز اس کا ہدیہ بلکہ حد تک مناسب رکھا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مومنین اس سے مستفید ہو سکیں۔ 20 مئی 2007ء والسلام / محتاجِ دعا پروفیسر سید سبط جعفر زیدی مرتبِ بستہ و بانی (بین الاقوامی) ادارۂ ترویجِ سوزخوانی

4

No transliteration available for this page.

حضرت ابو طالبؑ کی وصیت جب جناب ابو طالبؑ کو یہ پتا چلا کہ مشرکین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ابو طالب انتقال کر جائیں تو ہم لوگ (حضرت) محمدؐ کو قتل کریں — تو آپ نے خاندانِ بنی ہاشم کے تمام لوگوں اور دیگر لوگوں سے، اس خاندان کے لوگوں کے عہد و پیمان تھے، سب کو جمع کر کے وصیت فرمائی کہ ’’میں دنیا میں رہوں یا نہ رہوں بہر صورت رسولِ خدا کی مدد و نصرت کرتے رہنا۔‘‘ اس موقع پر آپ نے چند اشعار بھی کہے: أُوصِي بِنَصْرِ النَّبِيِّ الْخَيْرِ مَشْهَدَهُ عَلِيًّا ابْنِي وَعَمَّ الْخَيْرِ عَبَّاسَا وَحَمْزَةَ الْأَسَدَ الْحَامِي حَقِيقَتَهُ وَجَعْفَرًا أَنْ تَذُودُوا دُونَهُ النَّاسَا وَهَاشِمًا كُلَّهَا أُوصِي بِنُصْرَتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا دُونَ حَرْبِ الْقَوْمِ أَمْرَاسَا كُونُوا فِدًى لَكُمْ نَفْسِي وَمَا وَلَدَتْ مِنْ دُونِ أَحْمَدَ عِنْدَ الرَّوْعِ أَتْرَاسَا بِكُلِّ أَبْيَضَ مَصْقُولٍ عَوَارِضُهُ تَخَالُهُ فِي سَوَادِ اللَّيْلِ مِقْبَاسَا (حضرت بنی اکرمؐ کی مدد و نصرت کے لئے میں (آپ سب لوگوں کو اور خاص طور سے) اپنے فرزند علیؑ اور اپنے دیگر بھائی عباس کو وصیت کرتا ہوں۔ اور شیرِ بیشۂ شجاعت جناب حمزہ کو، جن کی ہیبت سے سب ڈرتے ہیں، اور (اپنے بیٹے) جعفر کو وصیت کرتا ہوں کہ لوگوں کے مقابلے میں حضور کا پورا ساتھ دینا اور ان کی طرف سے دفاع کرنا۔ نیز بنی ہاشم کے تمام لوگوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اگر لوگ جنگ پر کمر بستہ ہو جائیں تو تم لوگ رسولِ خدا کی مدد کرنا۔ اور جب بھی خطرات کا سامنا ہو تو تم سب لوگ حضرت محمد مصطفیؐ کے لئے سینہ سپر ہو کر ان پر اپنی جان نثار کرنا۔ میری جان اور میری اولاد سب تم پر قربان ہو۔ دشمن اگر کسی کی مدد و نصرت کے لئے دو چمکدار اور آب دار تلواریں لے کر میدان میں نکل آئے تو رات کی تاریکی میں شعاعوں کی طرح چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔) ماخوذ از ’’دیوان ابو طالب‘‘، مترجم و مرتب: مولانا رضی جعفر نقوی، ادارۂ اصلاح، لکھنؤ، پاکستان

5

No transliteration available for this page.

دعائے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ترکیب: اول و آخر 15 مرتبہ درود شریف، پھر اس کے درمیان دعا پڑھ کر حاجت طلب کرے۔ شیخ کفعمی نے مقاتل بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ امام نے فرمایا سو مرتبہ اس دعا کو پڑھیں، ان شاء اللہ تعالیٰ دعا مستجاب ہوگی۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اللّٰهُمَّ كَيْفَ أَدْعُوكَ وَأَنَا أَنَا وَكَيْفَ أَقْطَعُ رَجَائِي مِنْكَ وَأَنْتَ أَنْتَ إِلٰهِي إِذَا لَمْ أَسْأَلْكَ فَتُعْطِيَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي أَسْأَلُهُ فَيُعْطِيَنِي إِلٰهِي إِذَا لَمْ أَدْعُكَ فَتَسْتَجِيبَ لِي فَمَنْ ذَا الَّذِي أَدْعُوهُ فَيَسْتَجِيبَ لِي إِلٰهِي إِذَا لَمْ أَتَضَرَّعْ إِلَيْكَ فَتَرْحَمَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي أَتَضَرَّعُ إِلَيْهِ فَيَرْحَمَنِي إِلٰهِي فَكَمَا فَلَقْتَ الْبَحْرَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَنَجَّيْتَهُ أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ تُنَجِّيَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ وَتُفَرِّجَ عَنِّي فَرَجًا عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ بِفَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ میرے اللہ! کیونکر تجھے پکاروں جب کہ میں ہوں (خطاکار) میں، اور کیونکر کاٹ دوں اپنی امید تجھ سے جب کہ تو ہی ہے (رحمت سے بھرپور)؟ تو میرے اللہ، جب میں نے تجھ سے نہیں مانگا تب (بھی) تو نے مجھے عطا فرمایا، تو وہ کون (ہستی) ہے کہ اسے مانگوں تب (ہی) مجھے عطا فرمائے؟ میرے اللہ، جب میں نے تجھے نہیں پکارا تب (بھی) تو نے میری (آرزو) پوری کر دی، تو وہ کون ہستی ہے کہ اسے پکاروں تب (ہی) میری آرزو پوری کرے؟ میرے اللہ، جب میں تیرے حضور نہیں گڑگڑایا تب (بھی) تو نے مجھ پر رحم فرمایا، تو وہ کون (ہستی) ہے کہ اس کے سامنے گڑگڑاؤں تب (ہی) وہ مجھ پر رحم فرمائے؟ میرے اللہ، جس طرح تو نے چاک کیا سمندر کو موسیٰ علیہ السلام کے لئے اور چھٹکارا دیا ان کو، (میں) تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ درود بھیج حضرت محمدؐ پر اور آلِ محمدؑ پر اور یہ کہ چھٹکارا دے مجھے اس سے جس میں میں پھنس گیا ہوں، اور برطرف کر دے مجھ سے (پریشانیوں کو) برطرف کرنا بہت جلدی، بغیر دیر کئے، واسطے تیرے فضل اور تیری رحمت کے۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

6

No transliteration available for this page.

حدیث کساء اعوذ بالله من الشيطان الرجيم۔ بسم الله الرحمن الرحيم اللهم صل على محمد وآل محمد (وعجل فرجهم والعن أعداءهم أجمعين) عن جابر بن عبد الله الأنصاري عن فاطمة الزهراء عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال سمعت فاطمة أنها قالت دخل علي أبي رسول الله في بعض الأيام، فقال السلام عليك يا فاطمة فقلت عليك السلام، قال إني أجد في بدني ضعفاً فقلت له أعيذك بالله يا أبتاه من الضعف، فقال يا فاطمة ائتيني بالكساء اليماني فغطيني به فأتيته بالكساء اليماني فغطيته به وصرت أنظر إليه وإذا وجهه يتلألأ كأنه البدر في ليلة تمامه وكماله (اللهم صل على محمد وآل محمد) فما كانت إلا ساعة وإذا بولدي الحسن قد أقبل، وقال السلام عليك يا أماه فقلت وعليك السلام يا قرة عيني وثمرة فؤادي فقال يا أماه إني أشم عندك رائحة طيبة كأنها رائحة جدي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقلت نعم إن جدك تحت الكساء فأقبل الحسن نحو الكساء، وقال السلام عليك يا جداه يا رسول الله أتأذن لي أن أدخل معك تحت الكساء قال وعليك السلام يا ولدي ويا صاحب حوضي قد أذنت لك فدخل معه تحت الكساء (اللهم صل على محمد وآل محمد) فما كانت إلا ساعة وإذا بولدي الحسين قد أقبل، وقال السلام عليك يا أماه فقلت وعليك السلام يا ولدي ويا قرة عيني وثمرة فؤادي فقال لي يا أماه إني أشم عندك رائحة طيبة كأنها رائحة جدي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقلت نعم إن جدك وأخاك تحت الكساء فدنا الحسين نحو الكساء، وقال السلام عليك يا جداه السلام عليك يا من اختاره الله أتأذن لي أن أدخل معكما تحت الكساء، فقال وعليك السلام يا ولدي ويا شافع أمتي قد أذنت لك فدخل معهما تحت الكساء (اللهم صل على محمد وآل محمد) فأقبل عند ذلك أبو الحسن علي بن أبي طالب، وقال السلام عليك يا بنت رسول الله فقلت وعليك السلام يا أبا الحسن ويا أمير المؤمنين، فقال يا فاطمة إني أشم عندك رائحة طيبة كأنها رائحة أخي وابن عمي رسول الله فقلت نعم ها هو مع ولديك تحت الكساء فأقبل علي نحو الكساء، وقال السلام عليك يا رسول الله أتأذن لي أن أكون معكم تحت الكساء، قال له وعليك السلام يا أخي ويا وصيي وخليفتي وصاحب لوائي قد أذنت لك فدخل علي تحت الكساء (اللهم صل على محمد وآل محمد) ثم أتيت نحو الكساء، وقلت السلام عليك يا أبتاه يا رسول الله أتأذن لي أن

8

No transliteration available for this page.

أكون معكم تحت الكساء، قال وعليك السلام يا بنتي ويا بضعتي قد أذنت لك فدخلت معهم تحت الكساء (اللهم صل على محمد وآل محمد) فلما اكتملنا جميعاً تحت الكساء أخذ أبي رسول الله بطرفي الكساء وأومأ بيده اليمنى إلى السماء، وقال اللهم إن هؤلاء أهل بيتي وخاصتي وحامتي لحمهم لحمي ودمهم دمي يؤلمني ما يؤلمهم ويحزنني ما يحزنهم أنا حرب لمن حاربهم وسلم لمن سالمهم وعدو لمن عاداهم ومحب لمن أحبهم إنهم مني وأنا منهم فاجعل صلواتك وبركاتك ورحمتك وغفرانك ورضوانك علي وعليهم وأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيراً (اللهم صل على محمد وآل محمد) فقال الله عز وجل يا ملائكتي ويا سكان سماواتي إني ما خلقت سماء مبنية ولا أرضاً مدحية ولا قمراً منيراً ولا شمساً مضيئة ولا فلكاً يدور ولا بحراً يجري ولا فلكاً يسري إلا في محبة هؤلاء الخمسة الذين هم تحت الكساء، فقال الأمين جبرائيل يا رب ومن تحت الكساء، فقال عز وجل هم أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة هم فاطمة وأبوها وبعلها وبنوها (اللهم صل على محمد وآل محمد) فقال جبرائيل يا رب أتأذن لي أن أهبط إلى الأرض لأكون معهم سادساً، فقال الله نعم قد أذنت لك فهبط الأمين جبرائيل، وقال السلام عليك يا رسول الله العلي الأعلى يقرئك السلام ويخصك بالتحية والإكرام ويقول لك وعزتي وجلالي إني ما خلقت سماء مبنية ولا أرضاً مدحية ولا قمراً منيراً ولا شمساً مضيئة ولا فلكاً يدور ولا بحراً يجري ولا فلكاً يسري إلا لأجلكم ومحبتكم وقد أذن لي أن أدخل معكم فهل تأذن لي يا رسول الله، فقال رسول الله وعليك السلام يا أمين وحي الله نعم قد أذنت لك فدخل جبرائيل معنا تحت الكساء (اللهم صل على محمد وآل محمد) فقال لأبي إن الله قد أوحى إليكم يقول إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيراً (اللهم صل على محمد وآل محمد) فقال علي لأبي يا رسول الله أخبرني ما لجلوسنا هذا تحت الكساء من الفضل عند الله، فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم والذي بعثني بالحق نبياً واصطفاني بالرسالة نجياً ما ذكر خبرنا هذا في محفل من محافل أهل الأرض وفيه جمع من شيعتنا ومحبينا إلا ونزلت عليهم الرحمة وحفت بهم الملائكة واستغفرت لهم إلى أن يتفرقوا، فقال علي عليه السلام إذاً والله فزنا وفاز شيعتنا ورب الكعبة، فقال أبي رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يا علي والذي بعثني بالحق نبياً واصطفاني بالرسالة نجياً ما ذكر خبرنا هذا في محفل من محافل أهل الأرض وفيه جمع من شيعتنا ومحبينا وفيهم مهموم إلا وفرج الله همه ولا مغموم إلا وكشف الله غمه ولا طالب حاجة إلا وقضى الله حاجته، فقال علي عليه السلام إذاً والله فزنا وسعدنا وكذلك شيعتنا فازوا وسعدوا في الدنيا والآخرة ورب الكعبة (اللهم صل على محمد وآل محمد)

9

Roman Urdu Index

اشاریہ

Mazameen

مضامین

Qitaat

SerialNamePage
1Kuch to Haider, kuch Ali, kuch Murtaza kehne lage85
2Hamari kya hai ke hum sab to hain ghulam-e-Ali85
3Sote hi kab the Saqi-e-Kausar tamam raat85
4Mere liye takleef deh farmate hain85
5Musalmanon pe farz-e-Hajj ayaan hai85
6Sab ke mushkil-kusha hain mere Ali85
7Ali janab bhi, bazu-e-intikhab bhi hai86
8Hasan ki sulh mein yun Karbala jalwa-numa hai86
9Aqeedat paikar-e-alfaz mein jab jagmagati hai86
10Lab pe hain naam un ka to parhte hain sab durood86
11Hussain Shah bhi hai aur badshah bhi hai86
12Jache zulm-o-sitam ke muqable mein Hussain86
13Apne dukhon mein aaya jo tera khayal86
14Hussain zulm mein jeena sikha diya tu ne86
15Guzar gaye the kai din ke ghar mein aab na tha87
16Sar-e-neza woh farq-e-Shah pe pari kalghi lehakti87
17Rag-e-dasht mein tanha tu watan yaad aaya87
18Jahan mein chain bani baap ki tasveer karti hai87
19Hazrat Abbas Shah-e-La Fata ke sher hain87
20Jis ne Shabbir se wafa ki hai87
21Ali agar jurm hai hamara hai87
22Shar nazrat soch jitne teer barsane lagi87
23Najat-e-hashr ke zamin ka ghar hai88
24Aaj yun zikr-e-gham-e-shohada pani chahe88
25Dua-e-Zahra ki tabeer hai azadari88
26Tauheed ka payam azadari-e-Hussain88
27Mila hai auj shaheedon ke aastane ko88
28Ay Karbala ki khak, is ehsan ko na bhool88
29Jata hai koi noha ka azadar jahan se88
30Aseer-e-ishq-e-Shah qafas mein hote88
31Jalwe mein apne le kar bala ka pas-manzar89
32Ghulam-e-khak badru Hussain hain Batool89
33Farsh-e-majlis pe Fatima Zahra89
34Haye Akbar ka dam ukhartaa hai89
35Hasan ki jaan ho gaya hoga89
36Har phool ke rang-o-bu ka guldasta hai89

قطعات

نمبرعنوانصفحہ
1کچھ تو حیدر، کچھ علی، کچھ مرتضیٰ کہنے لگے85
2ہماری کیا ہے کہ ہم سب تو ہیں غلامِ علیؑ85
3سوتے ہی کب تھے ساقیِ کوثر تمام رات85
4میرے لئے تکلیف دہ فرماتے ہیں85
5مسلمانوں پہ فرض حج عیاں ہے85
6سب کے مشکل کشا ہیں میرے علیؑ85
7علیؑ جناب بھی، بازوئے انتخاب بھی ہے86
8حسن کی صلح میں یوں کربلا جلوہ نما ہے86
9عقیدت پیکرِ الفاظ میں جب جگمگاتی ہے86
10لب پہ ہیں نام ان کا تو پڑھتے ہیں سب درود86
11حسین شاہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے86
12جچے ظلم و ستم کے مقابلے میں حسین86
13اپنے دکھوں میں آیا جو تیرا خیال86
14حسین ظلم میں جینا سکھا دیا تو نے86
15گزر گئے تھے کئی دن کہ گھر میں آب نہ تھا87
16سرِ نیزہ وہ فرقِ شہ پہ پڑی کلغی لہکتی87
17رگِ دشت میں تنہا تو وطن یاد آیا87
18جہاں میں چین بنی باپ کی تصویر کرتی ہے87
19حضرت عباس شاہِ لافتیٰ کے شیر ہیں87
20جس نے شبیر سے وفا کی ہے87
21علیؑ اگر جرم ہے ہمارا ہے87
22شر نظرت سوچ جتنے تیر برسانے لگی87
23نجاتِ حشر کے ضامن کا گھر ہے88
24آج یوں ذکرِ غمِ شہدا پانی چاہے88
25دعائے زہرا کی تعبیر ہے عزاداری88
26توحید کا پیام عزاداریِ حسین88
27ملا ہے اوج شہیدوں کے آستانے کو88
28اے کربلا کی خاک، اس احسان کو نہ بھول88
29جاتا ہے کوئی نوحہ کا عزادار جہاں سے88
30اسیرِ عشقِ شہ قفس میں ہوتے88
31جلوے میں اپنے لے کر بلا کا پس منظر89
32غلامِ خاک بدرو حسین ہیں بتول89
33فرشِ مجلس پہ فاطمہ زہرا89
34ہائے اکبر کا دم اکھڑتا ہے89
35حسن کی جان ہو گیا ہوگا89
36ہر پھول کے رنگ و بو کا گلدستہ ہے89

Rubaiyat

SerialNamePage
1Jis ki kahin haram-e-Haq mein dilawat ho jaye90
2Ay ahl-e-aza, aza ke din aa pahunche90
3Duniya se chala le ke jo naam Haider90
4Dil, dil se mila hai Abu Talib ne90
5Maddah-e-Panjtan ka dam bharte hain90
6Iman ki tasveer nazar aati hai90
7Shah ast Hussain, badshah ast Hussain91
8Kya sirf Musalmanon ke pyare hain Hussain?91
9Be-hubb-e-Hussain deen-o-iman hain barbad91
10Maidan mein jab aaye Shah-e-Arsh-panah91
11Lakhon sar-e-mushrikeen kehne wale91
12Kare ke Hussain ikhtiyare kardi91
13Khurshid sar-e-sham kahan jata hai91
14Aali nasab-o-nik seer wala jah91
15Mazloom Shah-e-bahr-o-bar sa hoga92
16Haider ki fazilat ka bayan hai ab tak92
17Hasil jise Aqa ki huzuri ho jaye92
18Bulbul ko gul pasand, gulon ko hawa pasand92
19Hukm-e-hakim hai ke kafir hai sar-e-baghi92
20Mar jaye jo farzand to kya chara hai92
21Maidan mein koi jane wala na raha92
22Jab naam-e-Ali munh se nikal jata hai92
23Us din ye woh hain ke noha-gar hai Zahra93
24Maan kehti thi kya laal jeete honge93
25Hairat mein hun kyun jahan mein aaya pani93
26Phir chand-e-gham ka nazar aaya hai93
27Ghairon se bhi kya faiz koi pata hai?93
28Kya pyas thi jis se sara lashkar taraya93
29Abid ko dawa aur na ghiza dete hain93
30Resham-e-Sarwar se laga rakha hai93
31Karte hain ahl-e-rozi chehlum Hussain ka94
32Alaiha ne bhi rukh wahshi se nikla94
33Manqoosh hai dil par mere naam Haider94
34Khud ko sher ne kya izn ki ijazat de di94
35Jab zikr ka Karbala Sham ne bakhsha94
36Sitam-e-alapna ko kyun na royen ahl-e-dar94
37Asghar ke liye maqtal fughan rakhte hain95
38Jis roz ke ho izn-e-asma al-shaqafat95
39Haider ki ata pe Ali shahid hai95
40Ay bad-e-saba kaun-o-makan ur gayi95
41Ye log hain duniya ko jagane wale95
42Gulshan mein phirun ke sar-e-sehra dekhun95
43Rukte hue darya ko rawani de di95

رباعیات

نمبرعنوانصفحہ
1جس کی کہیں حرمِ حق میں دلاوت ہو جائے90
2اے اہلِ عزا، عزاء کے دن آ پہنچے90
3دنیا سے چلا لے کے جو نام حیدرؑ90
4دل، دل سے ملا ہے ابو طالبؑ نے90
5مداحِ پنجتن کا دم بھرتے ہیں90
6ایمان کی تصویر نظر آتی ہے90
7شاہ است حسین، بادشاہ است حسین91
8کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسین؟91
9بے حبِ حسین دین و ایمان ہیں برباد91
10میدان میں جب آئے شہِ عرش پناہ91
11لاکھوں سرِ مشرکین کہنے والے91
12کارے کہ حسین اختیارے کردی91
13خورشید سرِ شام کہاں جاتا ہے91
14عالی نسب و نیک سیر والا جاہ91
15مظلوم شہِ بحر و بر سا ہوگا92
16حیدر کی فضیلت کا بیاں ہے اب تک92
17حاصل جسے آقا کی حضوری ہو جائے92
18بلبل کو گل پسند، گلوں کو ہوا پسند92
19حکمِ حاکم ہے کہ کافر ہے سرِ باغی92
20مر جائے جو فرزند تو کیا چارہ ہے92
21میدان میں کوئی جانے والا نہ رہا92
22جب نامِ علیؑ منہ سے نکل جاتا ہے92
23اُس دن یہ وہ ہیں کہ نوحہ گر ہے زہرا93
24ماں کہتی تھی کیا لال جیتے ہوں گے93
25حیرت میں ہوں کیوں جہاں میں آیا پانی93
26پھر چاندِ غم کا نظر آیا ہے93
27غیروں سے بھی کیا فیض کوئی پاتا ہے؟93
28کیا پیاس تھی جس سے سارا لشکر ترایا93
29عابد کو دوا اور نہ غذا دیتے ہیں93
30ریشمِ سرور سے لگا رکھا ہے93
31کرتے ہیں اہلِ روضی چہلم حسین کا94
32علیہ نے بھی رخ وحشی سے نکلا94
33منقوش ہے دل پر میرے نام حیدر94
34خود کو شیر نے کیا اذن کی اجازت دے دی94
35جب ذکر کا کربلا شام نے بخشا94
36ستمِ الاپنا کو کیوں نہ روئیں اہلِ دار94
37اصغر کے لئے مقتل فغاں رکھتے ہیں95
38جس روز کہ ہو اذنِ اسماء الشقفت95
39حیدر کی عطا پہ علی شاہد ہے95
40اے بادِ صبا کون و مکاں اڑ گئی95
41یہ لوگ ہیں دنیا کو جگانے والے95
42گلشن میں پھروں کہ سرِ صحرا دیکھوں95
43رکتے ہوئے دریا کو روانی دے دی95

Soz

SerialNamePage
1Har daur ke katib hain Quran-o-Ahl-e-Bait96
2Banda-e-Zahra saal-e-ibadat agar kare96
3Sar-e-tum se bhi junun ko josh hua mila96
4Chashm-e-Nabi ke khwab ko kehte hain Sayyida96
5Kya poochhen Khuda sahib tu qareeb hai Zahra97
6Ay roza-daro aao buka ke ye roz hain97
7Shareek-e-gham-e-Shah mashriqain hain Zainab97
8Jurat mein Ali, sabr mein Shabbir, hain Zainab97
9Jab watan se kooch ki Muslim ke tayyari hui97
10Kisi ne Kufe ke raste mein di ye khabar97
11Khaime darya pe gaye jab ke khaima wala ne98
12Bibi Fatima jo ada ki Imam ne98
13Hua jo Shah ke lashkar mein qaht-e-pani ka98
14Jab na aada se kisi tarah safai thehri98
15Jab raat-e-shahadat mein barqi Shabbir deen ne98
16Jab aayi subh-e-qatl Imam-e-falak-waqar98
17Jab thori raat qatl ki maidan mein reh gayi99
18Ashur ki jo raat thi mahshar sifat thi99
19Jab bazu ne Zainab ki kamar ko thama di99
20Barchhi ki ani jab lagi Akbar ke jigar mein99
21Hussaini jab ke chale baad dopahar ran ko99
22Asr ka waqt hai munis hain na yawar baqi99
23Kaam aaye rufaqa Shah ke jab maidan mein100
24Ay azizo kahan ho, ujraye Ahl-e-Bait100
25Karwan salar-e-deen jab karwan Karbala100
26Qareeb ko na jo andhon ka karwan aaya100
27Rehti hai bhooki khaye chiragh jo zahr mein100
28Abbas ne farmaya ke ghar aao na jani100
29Jab naujawanon ki lash na payi Hussain ne101
30Shah-e-mazloom se Abbas ne jis dam hukm paya101
31Nikle khaime se jo shahsawar-e-Karbala ke Abbas101
32Shor-e-Sham ke lashkar mein ke Abbas aaye101
33Jab mashk bhar kar nehr se Abbas Ghazi ghar chale101
34Shah ka irada tha jalat mein lajawab101
35Ashna-e-sarahat ka Hussain ibn-e-Ali102
36Jab chaman-e-khak mein Akbar ki jawani ka khila102
37Pyare saghir-e-Hasan mein koi hai parda-ru102
38Abbas ko Hussain jo darya pe ro chuke102
39Zara rahi hai dilon ko apni hui sarkar102
40Be-chain thi Sughra jo firaq-e-pidari se102
41Dobara bana jo apne Sarwar ka zaban103
42Asghar ki lash jab kar afshan Hussaini ne103
43Jab tabar tak Hussain par (Hurr) ro chuke103
44Tha hukm ke Yazid ka pani bhar na karen103
45Kehti thi Bano Asghar jani kis dam ghar mein aaoge103
46Jab Zulfiqar Imam-e-Asghar mein ro chuki103
47Jab zindan mein ranji hue Sultan-e-bahr-o-bar104
48Karbala se jab Hussaini qafila guzar hua104
49Sher-e-Kufani ne Salima jo ata ki104
50Jab Yazid apne gunahon se pasheman hua104
51Sarhane lakht-e-jigar ke tahar shab ne ki105
52Nikle gham ke oont pe qatl ki rah se105
53Ek ek kar ke bikharte the jab ansar-e-Hussain105
54So gaye jab bhi ashab sar-e-dasht-e-bala105
55Kyun mastura hai kya aag rahi hai105
56Ali ki bibiyan zindan mein jab aseer huin105
57Shahr-e-Sham kahe par Hazrat Zainab se kaha106
58Alaiha se watan mein kisi ne kya kalam106
59Chaku katwa raha dobara jo shaqi ne106
60Sakina qaid-e-Kufa-o-Sham ke zindan mein jab aayi106

سوز

نمبرعنوانصفحہ
1ہر دور کے کاتب ہیں قرآن و اہلِ بیت96
2بندۂ زہرا سالِ عبادت اگر کرے96
3سرِ تم سے بھی جنوں کو جوش ہوا ملا96
4چشمِ نبی کے خواب کو کہتے ہیں سیدہ96
5کیا پوچھیں خدا صاحب تو قریب ہے زہرا97
6اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیں97
7شریکِ غمِ شہ مشرقین ہیں زینب97
8جرأت میں علیؑ، صبر میں شبیر، ہیں زینب97
9جب وطن سے کوچ کی مسلم کے تیاری ہوئی97
10کسی نے کوفے کے رستے میں دی یہ خبر97
11خیمے دریا پہ گئے جب کہ خیمہ والا نے98
12بی بی فاطمہ جو ادا کی امام نے98
13ہوا جو شاہ کے لشکر میں قحطِ پانی کا98
14جب نہ اعداء سے کسی طرح صفائی ٹھہری98
15جب راتِ شہادت میں برقی شبیر دیں نے98
16جب آئی صبحِ قتل امامِ فلک وقار98
17جب تھوڑی رات قتل کی میدان میں رہ گئی99
18عاشور کی جو رات تھی محشر صفات تھی99
19جب بازو نے زینب کی کمر کو تھاما دی99
20برچھی کی انی جب لگی اکبر کے جگر میں99
21حسینی جب کہ چلے بعد دوپہر رن کو99
22عصر کا وقت ہے مونس ہیں نہ یاور باقی99
23کام آئے رفقا شاہ کے جب میدان میں100
24اے عزیر دو کہاں ہو، اجڑائے اہلِ بیت100
25کارواں سالارِ دین جب کارواں کر بلا100
26قریب کو نہ جو اندھوں کا کارواں آیا100
27رہتی ہے بھوکی کھائے چراغ جو زہر میں100
28عباس نے فرمایا کہ گھر آؤ نہ جانی100
29جب نوجوانوں کی لاش نہ پائی حسین نے101
30شہ مظلوم سے عباس نے جس دم حکم پایا101
31نکلے خیمے سے جو شہسوارِ کربلا کے عباس101
32شورِ شام کے لشکر میں کہ عباس آئے101
33جب مشک بھر کر نہر سے عباس غازی گھر چلے101
34شہ کا ارادہ تھا جلات میں لاجواب101
35آشناۓ صراحت کا حسین ابنِ علی102
36جب چمنِ خاک میں اکبر کی جوانی کا کھلا102
37پیارے صغیرِ حسن میں کوئی ہے پردہ رو102
38عباس کو حسین جو دریا پہ رو چکے102
39ذرا رہی ہے دلوں کو اپنی ہوئی سرکار102
40بے چیں تھی صغرا جو فراقِ پدری سے102
41دوبارہ بنا جو اپنے سرور کا زباں103
42اصغر کی لاش جب کر افشاں حسینی نے103
43جب طبر تک حسین پر (حر) رو چکے103
44تھا حکم کہ یزید کا پانی بھر نہ کریں103
45کہتی تھی بانو اصغرؑ جانی کس دم گھر میں آؤ گے103
46جب ذوالفقار امامِ اصغر میں رو چکی103
47جب زنداں میں رنجی ہوئے سلطانِ بحر و بر104
48کربلا سے جب حسینی قافلہ گزر ہوا104
49شیرِ کوفانی نے سلیمہ جو عطا کی104
50جب یزید اپنے گناہوں سے پشیمان ہوا104
51سرہانے لختِ جگر کے طہر شب نے کی105
52نکلے غم کے اونٹ پہ قتل کی راہ سے105
53ایک ایک کر کے بکھرتے تھے جب انصارِ حسین105
54سو گئے جب بھی اصحاب سرِ دشتِ بلا105
55کیوں مستورہ ہے کیا آگ رہی ہے105
56علی کی بیبیاں زنداں میں جب اسیر ہوئیں105
57شہرِ شام کہے پر حضرت زینب سے کہا106
58علیہ سے وطن میں کسی نے کیا کلام106
59چاکو کٹوا رہا دوبارہ جو شقی نے106
60سکینہ قیدِ کوفہ و شام کے زنداں میں جب آئی106

Salam

SerialNamePage
1Bijli kaji kyun mahwa hota hai107
2Zikr ko ghar ke kyun Karbala maan ne107
3Kaun qatil tha salami kar jahan aur bhi hai108
4Bijli kya hua maqam-e-Hasan ke waste108
5Zard chehra hai Najaf-o-zar hun109
6Lab-o-rukhsar ne Zainab Hussaini liye the109
7Majlis se kuch malak shaheedon mein bhar kar le gaye109
8Hussain ibn-e-Ali ka gham roz-e-mahshar mein rehta hai110
9Aa tere maqsad ka karun ya nazar110
10Salami jaan guzra hai ranj-e-gham khasan-e-Zahra ka111
11Hai salam us pe jo thi sadar, haye Hussain111
12Karun chhaki zamin pe jis dam Imam ki112
13Waris-e-Sayyid-ul-anam Hussain112
14Dil mein jis Muslim ke hubb-e-Saqi-e-Kausar nahin113
15Is se barh kar aur kya hoga hijab-e-Fatima113
16Kya musibat ho yahan be-sar-o-samanon ki113
17Hussain yun hue rukhsat-e-bari dil se juda114
18Hifz-e-namus-e-ilahi ka Shah-e-sher-e-Hussain114
19Kis zaban se ho bayan ye sar-e-zindan-e-Ahl-e-Bait114
20Ye Zainab deta tha kehna Hussain hi ke liye115
21Ek dusra saniha duniya ka sadiyon mein aisa na aaye115
22Jab koi tegh pe kehte pukarte hain Hussain116
24Hai yahi waqt un ka daman tham le116
25Wohi to fath-o-zafar ke nishan uthate hain117
26Be-shak azeem martaba Shah-e-anam hai117
27Haq ki manzil Karbala hai Haq ka jada Karbala117
28Bais-e-rang hain kyun gul ka muqaddar nikle118
29Phir Ashur hai aur phir taban Hussain118
30Jo shakhs badun namaz mein ilm-o-guhar liye hote hain118
31Khayal-e-Karbala hai aur main hun119
32Jo maratib hain mujhe Khuda ke samne119
33Ay sar-e-Karbala haman zinda-bad ay mere ke parcham119
34Karbala ki manzilat sabit hai har unwan se120
35Baithaye mushkilat ke raste mein pa ke120
36Taslim kijiye ga aankh-e-chashm-e-safa ke liye121
37Nazar pari jo ghar ki aan ki surat121
38Silsila naam-e-Khuda, jazba-e-imani ka121
39Har ek cheez zamane ki aani jani hai122
40Bahr-e-ishq-e-Shah mein shari ka kalam aisa na ho122
41Ho salam us pe jo nandi bhi hai pyari bhi hai123
42Haq se hai meri janib-e-rahmat dawri ki aankh123
43Khud ki aisi na kisi ko aur taqdir mili123
44Ahl-e-Kufa ki zindagi Hussain ke baad124
45Khana-e-Kaaba sa koi ghar nazar aata nahin124
46Tajawar hain umara to Mustafa hai watan mein124
47Bahr ki kehte shaheed kuch mera ghar124
48Jo Shah ke tarafdar yahan bhi hain wahan bhi125
49Khoob ji bhar kar jamal-e-ru-e-Akbar dekha125
50Salam us pe ke jo muhabbat dil pe Khuda ki hai126
51Zikr hum karte rahenge Hazrat-e-Karbala ka126
52Kabhi fart-e-adab mein aankh uthani nahin jati126
53Shahon ka tazkira hai, lashkar ki baat hai127
54Kaho hazirat? Zikr-e-shaheed-e-Karbala hai127
55Salami Karbala mein kya qiyamat ki ghari hogi127
56Bahr ajnabi ne sar se Maula ko pehchana nahin128
57Meri aankhon se yun ashk-e-gham har dam nikalte hain128
58Ye silsila-e-Aal-e-Rasul-e-Mustafa ke liye129
59Ay sawad-e-dil, sipah-e-Mustafa jeete raho129
60Jahan bhi zulmat-e-batil ne sar uthaya hai129
61Kisi ummat thi is rah-e-guzar se guzre130
62Chhorta nahin hum Karbala ka gham tanha130
63Khak-e-jo harb-o-sar ko saja deti hain130
64Duniya jo dikhayi deen se ghafil Hussaini ne131
65Tum ko taht-e-dil rahe is yan ke sath131
66Kya hai jaan mein aap ko kya hamare pas132
67Awaz-e-mad'hat ki Hussain bara-dari tak132
68Zainab kamal-e-sani-e-qudrat ka naam hai132
69Kuch bhi nazar aata nahin, mujh ko dekhta jata133
70Kheti hui zamin pe jaun-khez ya chali133
71Shahon ka naam liye khanda-peshani ke sath133
72Chali hai barham sadaqat Hussaini ke ghar se134
73Karbala walon ke jaise imtihan hote nahin134
74Khuli hai kashti-e-Nabi ki kitab-e-pani mein135
75Bahr ki kehte hain gham ka shaheed! Kuch ho135
76Kahan woh ghar duniya ko koi dar ke hai136
77Hussain sab diyar ko pas ke soye hain136
78Ye aatam ki sada zinda rahegi136
79Karbala ki sher-dil khatun-e-Zainab al-salam137
80Har samt jahan mein hai Shah-e-Karbala ka137
81Ahl-e-Kufa ne wafa Muslim se na ki137
82Use chand Karbala ke to tar dekhe honge138
83Karbala ki khak par kya aadmi sajde mein hai139
84Khuda-shinasi-o-khud-agahi Hussain se hai139
85Chhor kar batil ka dar, tujh pe ke rasta kaun139
86Dushwar isi ka kaam kaise aasan hoga140
87Neze pe sar Karbala tha tilawat sar-e-anam140
88Qita: chehra-e-Nasiruddin ghar aur Sharif140
89Hussain jab ko chale baad dopahar ran ko140

سلام

نمبرعنوانصفحہ
1بجلی کجی کیوں ماہوا ہوتا ہے107
2ذکر کو گھر کے کیوں کربلا ماں نے107
3کون قاتل تھا سلامی کر جہاں اور بھی ہے108
4بجلی کیا ہوا مقامِ حسن کے واسطے108
5زرد چہرہ ہے نجف و زار ہوں109
6لب و رخسار نے زینب حسینی لیے تھے109
7مجلس سے کچھ ملک شہیدوں میں بھر کر لے گئے109
8حسین ابنِ علی کا غم روزِ محشر میں رہتا ہے110
9آ تیرے مقصد کا کرو یا نظر110
10سلامی جاں گزرا ہے رنجِ غم خاصانِ زہرا کا111
11ہے سلام اس پہ جو تھی صدر، ہائے حسین111
12کروں چھکی زمین پہ جس دم امام کی112
13وارثِ سید الانام حسین112
14دل میں جس مسلم کے حبِ ساقی کوثر نہیں113
15اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا حجابِ فاطمہ113
16کیا مصیبت ہو یہاں بے سر و سامانوں کی113
17حسین یوں ہوئے رخصتِ بڑی دل سے جدا114
18حفظِ ناموسِ الٰہی کا شہِ شیرِ حسین114
19کس زباں سے ہو بیاں یہ سرِ زندانِ اہلِ بیت114
20یہ زینب دیتا تھا کہنا حسین ہی کیلئے115
21ایک دوسرا سانحہ دنیا کا صدیوں میں ایسا نہ آئے115
22جب کوئی تیغ پہ کہتے پکارتے ہیں حسین116
24ہے یہی وقت ان کا دامن تھام لے116
25وہی تو فتح و ظفر کے نشان اٹھاتے ہیں117
26بے شک عظیم مرتبہ شاہِ انام ہے117
27حق کی منزل کربلا ہے حق کا جادہ کربلا117
28باعثِ رنگ ہیں کیوں گل کا مقدر نکلے118
29پھر عاشور ہے اور پھر تابان حسین118
30جو شخص بدون نماز میں علم و گہر لیے ہوتے ہیں118
31خیالِ کربلا ہے اور میں ہوں119
32جو مراتب ہیں مجھے خدا کے سامنے119
33اے سرِ کربلا ہماں زندہ باد اے میرے کے پرچم119
34کربلا کی منزلت ثابت ہے ہر عنوان سے120
35بیٹھاۓ مشکلات کے رستے میں پا کے120
36تسلیم کیجئے گا آنکھِ چشمِ صفا کے لئے121
37نظر پڑی جو گھر کی آن کی صورت121
38سلسلہ نامِ خدا، جذبۂ ایمانی کا121
39ہر ایک چیز زمانے کی آنی جانی ہے122
40بحرِ عشقِ شہ میں شری کا کلام ایسا نہ ہو122
41ہو سلام اس پہ جو نندی بھی ہے پیاری بھی ہے123
42حق سے ہے میری جانبِ رحمت داوری کی آنکھ123
43خود کی ایسی نہ کسی کو اور تقدیر ملی123
44اہلِ کوفہ کی زندگی حسین کے بعد124
45خانۂ کعبہ سا کوئی گھر نظر آتا نہیں124
46تجاور ہیں امراء تو مصطفیٰ ہے وطن میں124
47بحر کی کہتے شہید کچھ میرا گھر124
48جو شہ کے طرفدار یہاں بھی ہیں وہاں بھی125
49خوب جی بھر کر جمال روئے اکبر دیکھا125
50سلام اس پہ کہ جو محبت دل پہ خدا کی ہے126
51ذکر ہم کرتے رہیں گے حضرتِ کربلا کا126
52کبھی فرطِ ادب میں آنکھ اٹھانی نہیں جاتی126
53شاہوں کا تذکرہ ہے، لشکر کی بات ہے127
54کہو حاضرت؟ ذکرِ شہید کربلا ہے127
55سلامی کربلا میں کیا قیامت کی گھڑی ہوگی127
56بحر اجنبی نے سر سے مولا کو پہچانا نہیں128
57مری آنکھوں سے یوں اشکِ غم ہر دم نکلتے ہیں128
58یہ سلسلۂ آلِ رسولِ مصطفیٰ کے لئے129
59اے سوادِ دل، سپاہِ مصطفیٰ جیتے رہو129
60جہاں بھی ظلمتِ باطل نے سر اٹھایا ہے129
61کسی امت تھی اس راہِ گزر سے گزرے130
62چھوڑتا نہیں ہم کربلا کا غم تنہا130
63خاکِ جو حرب و سر کو سجا دیتی ہیں130
64دنیا جو دکھائی دین سے غافل حسینی نے131
65تم کو تحتِ دل رہے اس یاں کے ساتھ131
66کیا ہے جاں میں آپ کو کیا ہمارے پاس132
67آوازِ مدحت کی حسین بارہ دری تک132
68زینب کمال صانعِ قدرت کا نام ہے132
69کچھ بھی نظر آتا نہیں، مجھ کو دیکھتا جاتا133
70کھیتی ہوئی زمین پہ جون خیز یا چلی133
71شاہوں کا نام لئے خندہ پیشانی کے ساتھ133
72چلی ہے برہم صداقت حسینی کے گھر سے134
73کربلا والوں کے جیسے امتحاں ہوتے نہیں134
74کھلی ہے کشتیِ نبی کی کتابِ پانی میں135
75بحر کی کہتے ہیں غم کا شہید! کچھ ہو135
76کہاں وہ گھر دنیا کو کوئی در کہ ہے136
77حسین سب دیار کو پاس کے سوئے ہیں136
78یہ آتم کی صدا زندہ رہے گی136
79کربلا کی شیر دل خاتونِ زینب السلام137
80ہر سمت جہاں میں ہے شہِ کربلا کا137
81اہلِ کوفہ نے وفا مسلم سے نہ کی137
82اسے چاند کربلا کے تو تر دیکھے ہوں گے138
83کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے139
84خدا شناسی و خودآگہی حسین سے ہے139
85چھوڑ کر باطل کا در، تجھ پہ کے راستہ کون139
86دشوار اسی کا کام کیسے آسان ہوگا140
87نیزے پہ سر کربلا تھا تلاوت سرِ انام140
88قطعہ: چہرۂ نصیر الدین گھر اور شریف140
89حسین جب کو چلے بعد دوپہر رن کو140

Marsiye

SerialNameHaalPage
1Ghar se jab Sarwar-e-Sayyid-e-Alam nikleRawangi az Madina142
2Jati hai bahar aaj Madine ke chaman seRawangi az Madina143
3Jab chale Yathrib se Sibt-e-Mustafa su-e-IraqRawangi az Madina145
4Jab hua Yusuf-e-Zahra ka safar Yathrib seRawangi az Madina146
5Pehli manzil jo Madine se hui Sarwar koRawangi az Madina148
6Muslim ke yatimon ko jo malun ne paya149
7Is darja be-qarar the Sultan-e-bahr-o-barRawangi az Madina150
8Muntazir the shab-e-hashtum Zilhijja ko ShabbirRawangi az Makka151
9Watan se Muhammad ke koi khasta-jaan shaheed na hoShahadat Hazrat Muslim152
10Insan ke liye maut hai gham-e-be-watani kaShahadat Hazrat Muslim154
11Kufe mein dakhila hai Safir-e-Imam kaShahadat Hazrat Muslim155
12Shah ne jab chand Muharram ka safar mein dekhaRuyat-e-hilal-e-Muharram156
13Ay ahl-e-aza phir ayyam-e-gham ke din aayeAamad-e-ayyam-e-aza157
14Hazrat ko hua mah-e-Muharram jo safar meinAhwal Janab Sughra158
15Jis ghari nehr pe khaime Shah-e-wala ke hueWurud-e-Karbala159
16Haftum mah-e-Muharram ki hui jabke saharMahsuri se rukhsat tak160
17Jis dam suni Imam ne sada-e-HurrShahadat Hazrat Hurr161
18Bani jo rafiq-e-Shah-e-deen reh gaye do-charShahadat Hazrat Habib162
19Haftum se ta dahum jo hua qafile ka haalAhwal az Arafa, ahwal Ali Asghar163
20Muslim ke laal jabke shaheed-e-jafa hueRukhsat Aun-o-Muhammad165
21Ran mein Zainab ki jo aaghosh ke pale aayeShahadat Aun-o-Muhammad167
22Jab zakhm kha ke bint-e-Ali ke pisar gireShahadat Aun-o-Muhammad168
23Zainab jo nange paon khari thi qareeb-e-darShahadat Aun-o-Muhammad169
24Rukhsat hua Hussain se jab naujawan pisarShahadat Hazrat Ali Akbar170
25Akbar ki lash jabke na payi Hussain neShahadat Hazrat Ali Akbar171
26Pahunche pisar ki lash pe jab Shah-e-bahr-o-barLash-e-Akbar dar khaima172
27Chhota jo Shah se peeri mein naujawan farzandShahadat Hazrat Ali Akbar173
28Jab dilbar-e-Zahra ki shahadat ka din aayaShahadat Hazrat Ali Akbar175
29Lash-e-Akbar ki jo maqtal se utha laye HussainShahadat Hazrat Ali Akbar177
30Phiri jo mominon se sawari Akbar kiLash-e-Ali Akbar dar khaima178
31Jab lash-e-pisar ko uthaya Hussain neLash-e-Ali Akbar dar khaima179
32Pahuncha jo ran mein sher-e-zi-jah ka pisarShahadat Hazrat Qasim180
33Ghore se jabke Qasim gulgun qaba giraShahadat Hazrat Qasim181
34Qareeb lash-e-Qasim jo pahunche Sarwar-e-deenShahadat Hazrat Qasim182
35Mashk bhar kar su-e-khaima jo Alamdar chaleShahadat Hazrat Abbas183
36Jab hue bazu-e-Abbas qalam darya parShahadat Hazrat Abbas184
37Tegh ka war jo Abbas ke shane pe lagaShahadat Hazrat Abbas185
38Jab zanu-e-Hussain pe Abbas mar gayeShahadat Hazrat Abbas186
39Shabbir jabke ran se chale su-e-khaima-gahPas-e-shahadat Hazrat Abbas187
40Likha hai jab koi hami na Shah-e-deen ka rahaRukhsat-o-shahadat Ali Asghar188
41Momino be-kas-o-be-yar hai mazloom HussainQaim-e-aza-e-Abbas dar Karbala par190
42Reti pe barchhi khaye para tha jo nur-e-ainRukhsat-o-shahadat Ali Asghar191
43Gahware se Hussain jo Asghar ko le chaleRukhsat-o-shahadat Ali Asghar192
44Pahunche jo qatl-gah mein Shah-e-falak-janabRukhsat-o-shahadat Ali Asghar193
45Bazu phailaye par Asghar ke liye roti haiRukhsat-o-shahadat Ali Asghar194
46Imam-e-Pak ko jab ashqiya ne gher liyaAhwal-e-shab-e-Ashur195
47Kutub mein hai shab-e-Ashur ka ye haal likhaAhwal-e-shab-e-Ashur196
48Likha hai jab shab-e-Ashur guzri ek paharAhwal-e-shab-e-Ashur198
49Kufe ko chala qasid-e-Sughra jo watan seAamad-e-qasid-e-Sughra dar Karbala199
50Itni gah mein pahunche jo Shah-e-jinn-o-basharAamad-e-qasid-e-Sughra dar Karbala200
51Abbas ko Hussain jo darya pe ro chukeShahadat Imam Hussain201
52Jab ran mein Sibt-e-Ahmad tanha reh gayaBa-waqt-e-Asr ek musafir ka aana203
53Jab qatl ran mein ho chuka lashkar Hussain kaAsr-e-Ashur205
54Jab aakhri salam ko khaime mein aaye ShahRukhsat Imam Hussain206
55Jab mare ke dasht mein warid hua lashkarWurud Umar bin Saad dar Karbala207
56Jab Karbala mein Shah ka lashkar hua shaheedWurud Umar bin Saad dar Karbala208
57Jab hui zuhr talak qatl sipah-e-ShabbirImam ka Khuda se mukalama-e-shukr210
58Aqraba kat gaye jab Shah ke bari bariRukhsat-e-akhir-o-tayyari-e-Sajjad211
59Jab khatima-ba-khair hua fauj-e-Shah kaRukhsat-e-akhir212
60Jis dam makeen-e-khaima sitam-khezon ne giraShahadat Imam Hussain213
61Pyasa hai kai din se Yadullah ka janiImam ka Zuljanah se kalam215
62Luta gaya jo Aal-e-Muhammad ka karwanBaad-e-qatl-e-Shah216
63Gharat-e-khaima-e-Sarwar ko jab aaye aadaTaraji-e-khaim218
64Jab rukhsat Hussain ka hangam aa gayaFaryad-e-Zainab Asr-e-Ashur220
65Jo Karbala mein hui Shah par jafa suniyeQabz-e-ruh Imam Hussain221
66Jab ran mein qatl fauj-e-Shabbir Karbala huiTaraji-e-khaim-o-faryad-e-Zainab223
67Jab ran mein baad-e-Sham-e-Ghariban sahar huiTaraji-e-khaim-o-faryad-e-Zainab224
68Jab gul chiragh-e-turbat-e-Khair-ul-Wara huaTaraji-e-khaim-o-Sham-e-Ghariban225
69Farogh-e-Sham-e-Ghariban hujum-e-afat haiSham-e-Ghariban, aamad-e-Maula Ali227
70Shami jo sham-e-deen ahl-e-buka chukeTaraji-e-khaim-o-asiri-e-Ahl-e-Haram228
71Aaj maqtal mein ajab be-sar-o-saman hain haramSham-e-Ghariban229
72Likhte hain rawiyan-e-jigar-soz ye kalamSham-e-Ghariban230
73Karbala mein Shah-e-wala ke haram lutte hainTaraji-e-khaim233
74Jabke paband-e-salasil hue bu-e-SajjadAsiri-o-rawangi az Karbala234
75Jab Karbala mein izzat-e-athar lut gayiAsiri-o-rawangi az Karbala235
76Jab lut ke Karbala se aseer-e-sitam chaleAsiri-o-rawangi az Karbala236
77Yun raqam karta hai ek rawi-e-maghmum-o-nigarAhwal-e-bazar-e-Kufa237
78Diyar-e-Kufa mein jab Aal-e-Mustafa aayiMukalama Imam Hussain-o-Zainab238
79Jab haram qila-e-Tiryan ke barabar aayeIshtiyaq-o-faryad shahr mein240
80Jab ke sher-e-deen ne Shamiyon wale aayeAhwal-e-shahr-e-Sham241
81Aamad-e-haram-e-Shah ki darbar mein haiDarbar-e-Sham243
82Jabke darbar mein namus-e-Paighambar aayeSar-e-Imam dar aaghosh-e-Sakina245
83Ghul hai darbar mein namus-e-Paighambar aayeAamad-e-Hind darbar mein246
84Aamad hai Ahl-e-Bait-e-Paighambar ki Sham meinBazar-o-darbar-e-Sham-o-Sakina248
85Likha hai dast-e-bint-e-Yadullah tha bandha249
86Ya Ali aaye zindan mein haram rote hainAhwal-e-qaid-khana-e-Sham249
87Sar apna peet ke Fizza se Hind ne poochhaQaid-khana mein aamad-e-Hind250
88Qaid-khane se jo Zainab tha hakim ka mahalQaid-khana mein aamad-e-Hind251
89Abid ko jab Yazid se Baba ka sar milaAhwal-e-darbar-e-Sham252
90Pahunchi jo qaid-khane mein Hind-e-sitamgarMukalama Syed Sajjad-o-Hind253
91Qaid-khane mein matam hai ke Hind aati haiMukalama Syed Sajjad-o-Hind254
92Qaid-khane mein Sakina ko jo layi taqdirAhwal Janab Sakina256
93Sar-e-Hussain jo zindan-e-Sham mein aayaShahadat Janab Sakina257
94Sakina Sham ke zindan mein thi use na haalShahadat Janab Sakina258
95Zindan mein jabke dukhtar-e-Shabbir mar gayiShahadat Janab Sakina259
96Sar jo Shabbir ka zindan mein laye khuddamAhwal-o-shahadat Janab Sakina260
97Jab qaid se aseer riha ho gaye tamamRihai-e-Ahl-e-Bait262
98Hussain be-kas pe rone par ka aaj chehlum haiChehlum-e-shohada-e-Karbala263
99Chehlum jo Karbala mein bahattar (72) ka ho chukaChehlum-e-shohada-e-Karbala263
100Sham se jab Ahl-e-Bait-e-gham-zada Karbala chaleRawangi-o-chehlum-e-shohada-e-Karbala264
101Pahunche aseer-e-Sham se chhut kar jo KarbalaQubur-e-shohada par matam ke bain265
102Jab Mashhad ke qareeb Sham se Hijaz ko chaleYaad-e-aqraba266
103Chhut kar jab aaya Sham se kunba-e-Rasul kaWapsi-e-Madina267
104Jab aankhon ke qarar qaid se chhuteRihai-e-Ahl-e-Bait269
105Watan mein jab haram Shah-e-namdar aayeWapsi-e-Madina270
106Yathrib se Karbala ke musafir qareeb hainWapsi-e-Madina271
107Likha hai chhut ke Yathrib mein jab haram aayeWapsi-e-Madina272
108Malik-e-saltanat Kufa jo khafa hueWurud dar watan273
109Hussain Sibt-e-Rasul-o-Hasan salam alaikAlwida-o-salam-e-rukhsat274
110Wa-hasrata ke Shah ka gham hua tamamAlwida-o-salam-e-rukhsat276
111Haan dosto koi na hua ab shor-o-shain meinAlwida-o-salam-e-rukhsat277
112Maan ka jo saya Fatima ke sar se uth gayaRehlat Hazrat Khadija278
113Aaya bihisht-e-qurb-e-Nabi ka dam-e-wisalRehlat Rasul-e-Khuda279
114Bimar jab ke Ahmad-e-Mukhtar ho gayeRehlat Rasul-e-Khuda280
115Ay ashko ruko ke ye fasl-e-aza haiRehlat Rasul-e-Khuda281
116Tha yaad mein Nabi ki jo Zahra ka ghair haalBaad Rasul-e-Khuda ta rehlat-e-Sayyida282
117Baba ko rote rote jo Zahra guzar gayiShahadat Janab Sayyida284
118Jab khalq se waqt-e-safar-e-Fatima aayaShahadat Janab Sayyida285
119Rawi bayan karta hai Zahra ka majraShahadat Janab Sayyida286
120Duniya se jab guzar gayin Zahra jigar-figarShahadat Janab Sayyida287
121Duniya se aaj rehlat-e-bint-e-Rasul haiShahadat Janab Sayyida288
122Tanha jo ran mein reh gaya Zahra ka gul-badan289
123Zakhmi hue jo Haider-e-Safdar namaz meinZarbat bar farq-e-Maula Ali289
124Unniswin (19) se aap ka matam hai Ya Ali290
125Ikkiswin (21) ki raat qiyamat ki raat thiShahadat Amir-ul-Momineen291
126Ay roza-daro aao buka ke ye roz hainShahadat Amir-ul-Momineen292
127Kya Sibt-e-Mustafa ki shahadat ki raat thiShahadat Imam Hasan293
128Sharbat-e-tegh se Shabbir ne woh kulfat payiShahadat Imam Hasan294
129Jis dam Hasan ka zahr se kaleja jigar huaShahadat Imam Hasan296
130Zahr-e-dagha se ghair jo haal-e-Hasan huaShahadat Imam Hasan297
131Kafan pehna ke jo Shabbar ko le chale ShabbirShahadat Imam Hasan298
132Haan dosto ye waqt hai andoh-o-gham kaShahadat Imam Hasan299
133Dafn-e-janaza hua Shah Hasan ka jabShahadat Imam Hasan300
134Jis dam janaza par Shah-e-lasaniShahadat Imam Hasan302
135Para hai jis mein Hussain ghareeb ka janiShahadat Syed Sajjad303
136Jab Abid-e-Pak ko payam-e-ajal aayaShahadat Syed Sajjad304
137Haan ghar walo zaliman-e-Rasul-e-do-jahanShahadat Imam Muhammad Baqir305
138Hazrat Rubab hai Madine mein qiyamat se qareebShahadat Imam Muhammad Baqir306
139Qaul-e-Sadiq hai Hussain dil se ghulaman-e-HussainShahadat Imam Jafar Sadiq307
140Qatl ka gham ka woh gham jo Abbasi neShahadat Imam Musa Kazim309
141Waris-e-Haider-o-Shakir the jo razi-ba-razaShahadat Imam Ali Raza311
142Qaza hui alam-e-ghurbat mein Raza ka alamShahadat Imam Ali Raza312
143Qaid mein Maula Taqi sham-o-sahar rote theShahadat Imam Muhammad Taqi313
144Qaid ho kar jo chale shahr-e-Madina se TaqiShahadat Imam Muhammad Taqi314
145Kufa zulm tha jo Maula Taqi ne sahaShahadat Imam Ali Naqi315
146Jab zahr se shaheed hue gyarahwin ImamShahadat Imam Hasan Askari316
147Mutamid ka tha zamana ke hua zulm ye aahShahadat Imam Hasan Askari317
148Chhup kar parde se Askari rehteShahadat Imam Hasan Askari318
149Ay Sahib-uz-Zaman ye zamana Imam ka haiImam-e-Zamana aur Karbala319
150Sajjad jab dobara aseer-e-jafa hueShahadat Janab Zainab320
151Jab Karbala se lut ke watan ko haram phireRehlat Janab Rubab322
152Takht-e-qaid-e-Kufa se jab ho gaye rihaRehlat Janab Rubab323
153Ay momino phir aankhon mein Shawwal aati haiInhidam Jannat-ul-Baqi324
154Jaan-e-Nabi-o-khasa-e-Dawar hai FatimaInhidam Jannat-ul-Baqi325
155Ay sogwaro aao wafa ka maqam haiAlwida326

مرثیے

نمبرعنوانحالصفحہ
1گھر سے جب سر سید عالم نکلےروانگی از مدینہ142
2جاتی ہے بہار آج مدینے کے چمن سےروانگی از مدینہ143
3جب چلے یثرب سے سبط مصطفیٰ سوئے عراقروانگی از مدینہ145
4جب ہوا یوسف زہرا کا سفر یثرب سےروانگی از مدینہ146
5پہلی منزل جو مدینے سے ہوئی سرور کوروانگی از مدینہ148
6مسلم کے یتیموں کو جو ملعون نے پایا149
7اس درجہ بے قرار تھے سلطان بحر و برروانگی از مدینہ150
8منتظر تھے شب ہشتم ذی الحجہ کو شبیرروانگی از مکہ151
9وطن سے محمد کے کوئی خستہ جاں شہید نہ ہوشہادت حضرت مسلم152
10انسان کیلئے موت ہے غم بے وطنی کاشہادت حضرت مسلم154
11کوفے میں داخلہ ہے سفیر امام کاشہادت حضرت مسلم155
12شہ نے جب چاند محرم کا سفر میں دیکھارویت ہلال محرم156
13اے اہل عزا پھر ایام غم کے دن آئےآمد ایام عزا157
14حضرت کو ہوا ماہ محرم جو سفر میںاحوال جناب صغرا158
15جس گھڑی نہر پہ خیمے شہِ والا کے ہوئےورود کربلا159
16ہفتم ماہ محرم کی ہوئی جبکہ سحرمحصوری سے رخصت تک160
17جس دم سنی امامؑ نے صدائے حرشہادت حضرت حر161
18بانی جو رفیق شہ دیں رہ گئے دوچارشہادت حضرت حبیب162
19ہفتم سے تا دہم جو ہوا قافلے کا حالاحوال از عرفہ، احوال علی اصغر163
20مسلم کے لال جبکہ شہید جفا ہوئےرخصت عون و محمد165
21رن میں زینب کی جو آغوش کے پالے آئےشہادت عون و محمد167
22جب زخم کھا کے بنت علی کے پسر گرےشہادت عون و محمد168
23زینب جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریب درشہادت عون و محمد169
24رخصت ہوا حسین سے جب نوجوان پسرشہادت حضرت علی اکبر170
25اکبر کی لاش جبکہ نہ پائی حسین نےشہادت حضرت علی اکبر171
26پہنچے پسر کی لاش پہ جب شاہ بحر و برلاش اکبر در خیمہ172
27چھوٹا جو شاہ سے پیری میں نوجوان فرزندشہادت حضرت علی اکبر173
28جب دلبر زہرا کی شہادت کا دن آیاشہادت حضرت علی اکبر175
29لاش اکبر کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسینشہادت حضرت علی اکبر177
30پھری جو مومنوں سے سواری اکبر کیلاش علی اکبر در خیمہ178
31جب لاش پسر کو اٹھایا حسین نےلاش علی اکبر در خیمہ179
32پہنچا جو رن میں شیر ذی جاہ کا پسرشہادت حضرت قاسم180
33گھوڑے سے جبکہ قاسم گلگوں قبا گراشہادت حضرت قاسم181
34قریب لاش قاسم جو پہنچے سرور دیںشہادت حضرت قاسم182
35مشک بھر کر سوئے خیمہ جو علمدار چلےشہادت حضرت عباس183
36جب ہوئے بازوئے عباس قلم دریا پرشہادت حضرت عباس184
37تیغ کا وار جو عباس کے شانے پہ لگاشہادت حضرت عباس185
38جب زانوئے حسین پہ عباس مر گئےشہادت حضرت عباس186
39شبیر جبکہ رن سے چلے سوئے خیمہ گاہپس شہادت حضرت عباس187
40لکھا ہے جب کوئی حامی نہ شاہ دیں کا رہارخصت و شہادت علی اصغر188
41مومنو بے کس و بے یار ہے مظلوم حسینقائم عزاء عباس در کربلا پر190
42ریتی پہ برچھی کھائے پڑا تھا جو نور عینرخصت و شہادت علی اصغر191
43گہوارے سے حسین جو اصغر کو لے چلےرخصت و شہادت علی اصغر192
44پہنچے جو قتل گاہ میں شاہِ فلک جنابرخصت و شہادت علی اصغر193
45بازو پھیلے پر اصغر کیلئے روتی ہےرخصت و شہادت علی اصغر194
46امام پاک کو جب اشقیا نے گھیر لیااحوال شب عاشور195
47کتب میں ہے شب عاشور کا یہ حال لکھااحوال شب عاشور196
48لکھا ہے جب شب عاشور گزری ایک پہراحوال شب عاشور198
49کوفے کو چلا قاصدِ صغرا جو وطن سےآمد قاصد صغرا در کربلا199
50اتنی گاہ میں پہنچے جو شہِ جن و بشرآمد قاصد صغرا در کربلا200
51عباس کو حسین جو دریا پہ رو چکےشہادت امام حسین201
52جب رن میں سبط احمد تنہا رہ گیابوقت عصر اک مسافر کا آنا203
53جب قتل رن میں ہو چکا لشکر حسین کاعصر عاشور205
54جب آخری سلام کو خیمے میں آئے شاہرخصت امام حسین206
55جب مارے کے دشت میں وارد ہوا لشکرورود عمر بن سعد در کربلا207
56جب کربلا میں شاہ کا لشکر ہوا شہیدورود عمر بن سعد در کربلا208
57جب ہوئی ظہر تلک قتل سپاہِ شبیرامام کا خدا سے مکالمۂ شکر210
58اقربا کٹ گئے جب شاہ کے باری باریرخصت آخر و تیاری سجاد211
59جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہ کارخصت آخر212
60جس دم مکینِ خیمہ ستم خیزوں نے گراشہادت امام حسین213
61پیاسا ہے کئی دن سے یداللہ کا جانیامام کا ذوالجناح سے کلام215
62لوٹا گیا جو آلِ محمد کا کارواںبعد قتل شاہ216
63غارتِ خیمۂ سرور کو جب آئے اعداتاراجی خیم218
64جب رخصت حسین کا ہنگام آ گیافریاد زینب عصر عاشور220
65جو کربلا میں ہوئی شاہ پر جفا سنیےقبض روح امام حسین221
66جب رن میں قتل فوجِ شبیر کربلا ہوئیتاراجی خیم و فریاد زینب223
67جب رن میں بعد شامِ غریباں سحر ہوئیتاراجی خیم و فریاد زینب224
68جب گل چراغِ تربتِ خیرالوراء ہواتاراجی خیم و شام غریباں225
69فروغِ شامِ غریباں ہجومِ آفت ہےشام غریباں آمد مولا علی227
70شامی جو شمعِ دیں اہلِ بکا چکےتاراجی خیم و اسیری اہل حرم228
71آج مقتل میں عجب بے سرو ساماں ہیں حرمشام غریباں229
72لکھتے ہیں راویانِ جگر سوز یہ کلامشام غریباں230
73کربلا میں شہِ والا کے حرم لٹتے ہیںتاراجی خیم233
74جبکہ پابندِ سلاسل ہوئے بوئے سجاداسیری و روانگی از کربلا234
75جب کربلا میں عزتِ اطہار لٹ گئیاسیری و روانگی از کربلا235
76جب لٹ کے کربلا سے اسیرِ ستم چلےاسیری و روانگی از کربلا236
77یوں رقم کرتا ہے اک راویِ مغموم و نگاراحوال بازار کوفہ237
78دیارِ کوفہ میں جب آلِ مصطفیٰ آئیمکالمہ امام حسین و زینب238
79جب حرم قلعہ تیریاں کے برابر آئےاشتیاق و فریاد شہر میں240
80جب کہ شیرِ دیں نے شامیوں والا آئےاحوال شہر شام241
81آمدِ حرمِ شاہ کی دربار میں ہےدربار شام243
82جبکہ دربار میں ناموسِ پیغمبر آئےسر امام در آغوش سکینہ245
83غل ہے دربار میں ناموسِ پیغمبر آئےآمد ہند دربار میں246
84آمد ہے اہلِ بیتِ پیغمبر کی شام میںبازار و دربار شام و سکینہ248
85لکھا ہے دستِ بنتِ یداللہ تھا بندھا249
86یا علی آئے زنداں میں حرم روتے ہیںاحوال قید خانہ شام249
87سر اپنا پیٹ کے فضہ سے ہند نے پوچھاقید خانہ میں آمد ہند250
88قید خانے سے جو زینب تھا حاکم کا محلقید خانہ میں آمد ہند251
89عابد کو جب یزید سے بابا کا سر ملااحوال دربار شام252
90پہنچی جو قید خانے میں ہندِ ستمگرمکالمہ سید سجاد و ہند253
91قید خانے میں ماتم ہے کہ ہند آتی ہےمکالمہ سید سجاد و ہند254
92قید خانے میں سکینہ کو جو لائی تقدیراحوال جناب سکینہ256
93سرِ حسین جو زندانِ شام میں آیاشہادت جناب سکینہ257
94سکینہ شام کے زنداں میں تھی اسے نہ حالشہادت جناب سکینہ258
95زنداں میں جبکہ دخترِ شبیر مر گئیشہادت جناب سکینہ259
96سر جو شبیر کا زندان میں لائے خداماحوال و شہادت جناب سکینہ260
97جب قید سے اسیر رہا ہو گئے تمامرہائی اہل بیت262
98حسین بے کس پہ رونے پر کا آج چہلم ہےچہلم شہداء کربلا263
99چہلم جو کربلا میں بہتر (72) کا ہو چکاچہلم شہداء کربلا263
100شام سے جب اہلِ بیتِ غم زدہ کربلا چلےروانی و چہلم شہداء کربلا264
101پہنچے اسیرِ شام سے چھوٹ کر جو کربلاقبور شہداء پر ماتم کے بین265
102جب مشہد کے قریب شام سے حجاز کو چلےیاد اقرباء266
103چھٹ کر جب آیا شام سے کنبہ رسول کاواپسی مدینہ267
104جب آنکھوں کے قرار قید سے چھوٹےرہائی اہل بیت269
105وطن میں جب حرم شاہ نامدار آئےواپسی مدینہ270
106یثرب سے کربلا کے مسافر قریب ہیںواپسی مدینہ271
107لکھا ہے چھوٹ کے یثرب میں جب حرم آئےواپسی مدینہ272
108مالکِ سلطنت کوفہ جو خفا ہوئےورود در وطن273
109حسین سبطِ رسول و حسن سلام علیکالوداع و سلام رخصت274
110واحسرتا کہ شاہ کا غم ہوا تمامالوداع و سلام رخصت276
111ہاں دوستو کوئی نہ ہوا اب شور و شین میںالوداع و سلام رخصت277
112ماں کا جو سایہ فاطمہ کے سر سے اٹھ گیارحلت حضرت خدیجہ278
113آیا بہشتِ قربِ نبی کا دمِ وصالرحلت رسول خدا279
114بیمار جب کہ احمد مختار ہو گئےرحلت رسول خدا280
115اے اشکو رکو کہ یہ فصلِ عزا ہےرحلت رسول خدا281
116تھا یاد میں نبی کی جو زہرا کا غیر حالبعد رسول خدا تا رحلت سیدہ282
117بابا کو روتے روتے جو زہرا گزر گئیشہادت جناب سیدہ284
118جب خلق سے وقتِ سفرِ فاطمہ آیاشہادت جناب سیدہ285
119راوی بیان کرتا ہے زہرا کا ماجراشہادت جناب سیدہ286
120دنیا سے جب گزر گئیں زہرا جگر فگارشہادت جناب سیدہ287
121دنیا سے آج رحلتِ بنتِ رسول ہےشہادت جناب سیدہ288
122تنہا جو رن میں رہ گیا زہرا کا گل بدن289
123زخمی ہوئے جو حیدرِ صفدر نماز میںضربت بر فرق مولا علی289
124انیسویں (19) سے آپ کا ماتم ہے یا علی290
125اکیسویں (21) کی رات قیامت کی رات تھیشہادت امیرالمومنین291
126اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیںشہادت امیرالمومنین292
127کیا سبطِ مصطفیٰ کی شہادت کی رات تھیشہادت امام حسن293
128شربتِ تیغ سے شبیر نے وہ کلفت پائیشہادت امام حسن294
129جس دم حسن کا زہر سے کلیجہ جگر ہواشہادت امام حسن296
130زہرِ دغا سے غیر جو حالِ حسن ہواشہادت امام حسن297
131کفن پہنا کے جو شبّر کو لے چلے شبیرشہادت امام حسن298
132ہاں دوستو یہ وقت ہے اندوہ و غم کاشہادت امام حسن299
133دفنِ جنازہ ہوا شاہ حسن کا جبشہادت امام حسن300
134جس دم جنازہ پر شاہِ لاثانیشہادت امام حسن302
135پڑا ہے جس میں حسین غریب کا جانیشہادت سید سجاد303
136جب عابد پاک کو پیامِ اجل آیاشہادت سید سجاد304
137ہاں گھر والو ظالمانِ رسولِ دو جہاںشہادت امام محمد باقر305
138حضرت رباب ہے مدینے میں قیامت سے قریبشہادت امام محمد باقر306
139قول صادق ہے حسین دل سے غلامان حسینشہادت امام جعفر صادق307
140قتل کا غم کا وہ غم جو عباسی نےشہادت امام موسیٰ کاظم309
141وارثِ حیدر و شاکر تھے جو راضی بہ رضاشہادت امام علی رضا311
142قضا ہوئی عالمِ غربت میں رضا کا عالمشہادت امام علی رضا312
143قید میں مولا تقی شام و سحر روتے تھےشہادت امام محمد تقی313
144قید ہو کر جو چلے شہرِ مدینہ سے تقیشہادت امام محمد تقی314
145کوفہ ظلم تھا جو مولا تقی نے سہاشہادت امام علی نقی315
146جب زہر سے شہید ہوئے گیارہویں امامشہادت امام حسن عسکری316
147معتمد کا تھا زمانہ کہ ہوا ظلم یہ آہشہادت امام حسن عسکری317
148چھپ کر پردے سے عسکری رہتےشہادت امام حسن عسکری318
149اے صاحب الزماں یہ زمانہ امام کا ہےامام زمانہ اور کربلا319
150سجاد جب دوبارہ اسیرِ جفا ہوئےشہادت جناب زینب320
151جب کربلا سے لٹ کے وطن کو حرم پھرےرحلت جناب رباب322
152تختِ قیدِ کوفہ سے جب ہو گئے رہارحلت جناب رباب323
153اے مومنو پھر آنکھوں میں شوال آتی ہےانہدام جنت البقیع324
154جانِ نبی و خاصۂ داور ہے فاطمہانہدام جنت البقیع325
155اے سوگوارو آؤ وفا کا مقام ہےالوداع326

Noha / Bain

SerialNamePage
1Lachar Hussaina hai Ya Hussaina (matn)328
2Jo pyase baradar shaheed, ay baradar (matn)329
3[Unwan juzwi taur par ghair wazeh] Sakina (matn)329
4[Unwan juzwi taur par ghair wazeh] (matn)329
5Lachar khari hai, be-yar khari hai (matn)330
6Pyason se zyada dard...dard-e-aab ka pani330
7Milti hai ret mein rota hai falak...wali hai331
8Bint-e-Zahra pe kya thi ro ro...Allah Shah dadu331
9Roza-daro qiyamat ke din hain332
10Sawari hai Shabbir Karbala ki332
11Aqa ki sawari hai farsh-e-aza se adab se333
12Bain / Qitaat (Syed Jafar)334
13Azadaron se khitab334
14Zainab ne kaha...ab aaye ho Baba334
15Ay ahl-e-matam [unwan juzwi taur par ghair wazeh] apna alam335
16Karbala ki fazaon mein...maan ki sada hai336
17Dam-ba-dam un ka gham gehre jao337
18Gham-e-Hussain manana bohat zaruri hai337
19Shabbir Karbala Baba ghareeb-o-be-watan Baba338
20Mere ghareeb Abu Zaragh, mere Shabbir Abu Zaragh339
21Dasht pe hun main...khaimon ke qareeb339
22Mere Baba...mere Baba...340
23Kis qatilon ka tha Hussain ka sehra340
24Abbas kahan ho341
25Ro ro ke poochhti hain Bano Shah-e-zaman se341
26Riwayat-e-Sham-e-Ghariban [unwan juzwi taur par ghair wazeh]342
27Shah ne zakhm se Zainab ko pukara hai344
28Ghabrayegi Zainab, mar jayegi Zainab346
29Salam khak-nashinon pe sogwaron ka346
30Be-parda haram hain sath...pariya hai347
31Pardesi kaise walon ki yaad jo phir chhuti hai348
32Nishan-e-fauj-e-Shabbir mita jata hai348
33Musalmano! Wale mere!349
34Haye Akbar jawan, haye Akbar jawan350
35Kamar par Sham hoti hai Asghar350
36Ab kis ka intizar hai, aao Sakina ghar chalo351
37Ay Sakina ab [unwan juzwi taur par ghair wazeh]352
38Madar-e-Hussain jo suhani Karbala, royi noha352
39Masoom tar bait mein bhi zulm ne sataya353
40Haye Qasim ne kya zulm uthaya353
41Ay Karbala bata Ali Asghar kahan gaya354
42Baad-e-Hussain kis ne kaha main yatim hun355
43Sar kata dala mazloom aur Zahra355
44Muharram aa gaya, ummat ke Shabbir woh nahin aaye!356
45Jab ke ghairat-e-insan ka sawal aata hai357
46Baba kahan hun, aana mumkin hoga357
47Karbala se jo kabhi ho ke hawa aati hai358
48Kya payam-e-Hussain ke dil par guzar gaye358
49Yaad aati hai hamein Fatima Sughra Baba359
50Laut aaya hai mera Paighambar watan se dur359
51Mere bachche ki aati hai mehndi360
52[Unwan juzwi taur par ghair wazeh]361
53Mukhtasar ziyarat361

نوحہ / بین

نمبرعنوانصفحہ
1لاچار حسینا ہے یا حسینا (متن)328
2جو پیاسے برادر شہید، اے برادر (متن)329
3[عنوان جزوی طور پر غیر واضح] سکینہ (متن)329
4[عنوان جزوی طور پر غیر واضح] (متن)329
5لاچار کھڑی ہے، بے یار کھڑی ہے (متن)330
6پیاسوں سے زیادہ درد۔۔۔دردِ آب کا پانی330
7ملتی ہے ریت میں روتا ہے فلک۔۔۔والی ہے331
8بنتِ زہرا پہ کیا تھی رو رو۔۔۔اللہ شہ دادو331
9روزہ دارو قیامت کے دن ہیں332
10سواری ہے شبیر کربلا کی332
11آقا کی سواری ہے فرشِ عزا سے ادب سے333
12بین / قطعات (سید جعفر)334
13عزاداروں سے خطاب334
14زینب نے کہا۔۔۔اب آئے ہو بابا334
15اے اہلِ ماتم [جزوی طور پر غیر واضح] اپنا علم335
16کربلا کی فضاؤں میں۔۔۔ماں کی صدا ہے336
17دم بہ دم ان کا غم گہرے جاؤ337
18غمِ حسین منانا بہت ضروری ہے337
19شبیر کربلا بابا غریب و بے وطن بابا338
20میرے غریب ابو ذراغ، میرے شبیر ابو ذراغ339
21دشت پہ ہوں میں۔۔۔خیموں کے قریب339
22میرے بابا۔۔۔میرے بابا۔۔۔340
23کس قاتلوں کا تھا حسین کا سہرا340
24عباس کہاں ہو341
25رو رو کے پوچھتی ہیں بانو شہِ زمن سے341
26روایتِ شامِ غریباں [جزوی طور پر غیر واضح]342
27شہ نے زخم سے زینب کو پکارا ہے344
28گھبرائے گی زینب، مر جائے گی زینب346
29سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا346
30بے پردہ حرم ہیں ساتھ۔۔۔پڑیا ہے347
31پردیسی کیسے والوں کی یاد جو پھر چھوٹی ہے348
32نشانِ فوجِ شبیر مٹا جاتا ہے348
33مسلمانو! والے میرے!349
34ہائے اکبر جواں، ہائے اکبر جواں350
35کمر پر شام ہوتی ہے اصغر350
36اب کس کا انتظار ہے، آؤ سکینہ گھر چلو351
37اے سکینہ اب [جزوی طور پر غیر واضح]352
38مادرِ حسین جو سہانی کربلا، روئی نوحہ352
39معصوم تر بیت میں بھی ظلم نے ستایا353
40ہائے قاسم نے کیا ظلم اٹھایا353
41اے کربلا بتا علی اصغر کہاں گیا354
42بعدِ حسین کس نے کہا میں یتیم ہوں355
43سر کٹا ڈالا مظلوم اور زہرا355
44محرم آگیا، امت کے شبیر او نہیں آئے!356
45جب کہ غیرتِ انسان کا سوال آتا ہے357
46بابا کہاں ہوں، آنا ممکن ہوگا357
47کربلا سے جو کبھی ہو کے ہوا آتی ہے358
48کیا پیامِ حسین کے دل پر گزر گئے358
49یاد آتی ہے ہمیں فاطمہ صغریٰ بابا359
50لوٹ آیا ہے میرا پیغمبر وطن سے دور359
51میرے بچے کی آتی ہے مہندی360
52[عنوان جزوی طور پر غیر واضح]361
53مختصر زیارات361

Hamd, Naat-o-Manaqib

SerialNamePage
1Seene mein jo ek dard sa hota hai woh tu hai362
2Kaun kehta hai mujhe shan-e-Sikandar de de363
3Izzat Abu Talib se, shohrat Abu Talib se363
4Use zid hai na hui to qarar sari aap ki364
5Har se khayal ki nisbat hui hai365
6Aaya yaad wiladat-e-Nabi ka, pehla naghma dali dali365
7Hua bani?!366
8La Fata Ali par tariqat Hazrat Paighambar [unwan juzwi taur par ghair wazeh]367
9Dam kar dein Ali, Ali Maula ko [unwan juzwi taur par ghair wazeh]367
10Ali tumhare / Syed Jafar368
11Anwaron ka gul chehra to Haider bana diya369
12Karam Ali nahin aate, zindagi nahin aati369
13Mad'h-e-Haider na karun, mujh ko [unwan juzwi taur par ghair wazeh]371
14Qaim Aal-e-Muhammad ka sipahi ban kar371
15Dar surat-e-tu jahan bud Ali bud372
16Basta / Hazrat Shadan Dehlavi372
17Maqam-e-jashn Khuda motabar Batool ka hai373
18Shairi ki meri afat se mansub hai374
19Khuda ishq barhta hun, Khuda se baat karta hun375
20Zainab Hussain ki bandi hai, woh Hussain mera hai377
21[Unwan juzwi taur par ghair wazeh] Hussain hi to ata karega378
22Aal-e-Nabi ke nauh Ali / Syed Jafar380
23Imam-e-mard-o-mardan the Muhammad Baqir381
24Zamane mein jo hai chanda woh Hasan Mustafa ka hai382
25Kya fazl-o-rahmat the Imam Musa Kazim383
26Marja hai khalaiq ka rauza mere Maula ka384
27[Unwan juzwi taur par ghair wazeh]385
28Zamana ne ko un aali faqih jaisa385
29Shabab-khez alwadai tum ek [unwan juzwi taur par ghair wazeh]386
30Haal ko sunayenge jab Imam aayenge386
31Zuhur ka waqt aa gaya hai, Imam se tu lage rehna388
32Har shakh-e-aqeedat ko samar dete hain Abbas389
33Intizar us ka par Arsh-e-Ali hota hai390
34[Unwan juzwi taur par ghair wazeh] Zainab aisi hasti hai391
35Adab saadat hai khidmat-e-Ali Akbar ki391
36Hussainiyat ki baqa the Janab Zainab392
37Zainab, Shabbir ke hamsafar / [unwan juzwi taur par ghair wazeh]392
38Manqabat (Syed Jafar)393
39Koi jane bhala kya taqdir thi Masooma-e-Qum ki395
40Khuda, Mustafa, Murtaza mere Maula395
41Aaye, aaye, apne Maula se baatein karen397
42Baba gham ki gayi hain Fatima bint-e-Asad399
43Naam maan Fatima aur Fatima ka ashiq400
44Allah Allah ye awaz-e-Madina400

حمد، نعت و مناقب

نمبرعنوانصفحہ
1سینے میں جو اک درد سا ہوتا ہے وہ تو ہے362
2کون کہتا ہے مجھے شانِ سکندر دے دے363
3عزت ابو طالب سے، شہرت ابو طالب سے363
4اسے ضد ہے نہ ہوئی تو قرار ساری آپ کی364
5ہر سے خیال کی نسبت ہوئی ہے365
6آیا یاد ولادت نبی کا، پہلا نغمہ ڈالی ڈالی365
7ہوا بانی؟!366
8لافتیٰ علیؑ پر طریقت حضرت پیغمبر [جزوی طور پر غیر واضح]367
9دم کر دیں علیؑ، علیؑ مولا کو [جزوی طور پر غیر واضح]367
10علیؑ تمہارے / سید جعفر368
11انوروں کا گل چہرہ تو حیدر بنا دیا369
12کرم علیؑ نہیں آتے، زندگی نہیں آتی369
13مدحِ حیدر نہ کروں، مجھ کو [جزوی طور پر غیر واضح]371
14قائم آلِ محمد کا سپاہی بن کر371
15در صورتِ تو جہاں بود علی بود372
16بستہ / حضرت شاداں دہلوی372
17مقامِ جشن خدا معتبر بتول کا ہے373
18شاعری کی مری آفت سے منسوب ہے374
19خدا عشق بڑھتا ہوں، خدا سے بات کرتا ہوں375
20زینب حسین کی باندی ہے، وہ حسین میرا ہے377
21[عنوان جزوی طور پر غیر واضح] حسین ہی تو عطا کرے گا378
22آلِ نبی کے نوح علیؑ / سید جعفر380
23امامِ مرد و مرداں تھے محمد باقر381
24زمانے میں جو ہے چاندہ وہ حسن مصطفیٰ کا ہے382
25کیا فضل و رحمت تھے امام موسیٰ کاظم383
26مرجع ہے خلائق کا روضہ میرے مولا کا384
27[عنوان جزوی طور پر غیر واضح]385
28زمانہ نے کو ان عالی فقیہ جیسا385
29شباب خیز الوداعی تم اک [جزوی طور پر غیر واضح]386
30حال کو سنائیں گے جب امام آئیں گے386
31ظہور کا وقت آ گیا ہے، امام سے تو لگے رہنا388
32ہر شاخِ عقیدت کو ثمر دیتے ہیں عباس389
33انتظار اس کا پر عرشِ علی ہوتا ہے390
34[عنوان جزوی طور پر غیر واضح] زینب ایسی ہستی ہے391
35ادب سعادت ہے خدمتِ علی اکبر کی391
36حسینیت کی بقا تھے جناب زینب392
37زینب، شبیر کے ہمسفر / [جزوی طور پر غیر واضح]392
38منقبت (سید جعفر)393
39کوئی جانے بھلا کیا تقدیر تھی معصومہ قم کی395
40خدا، مصطفیٰ، مرتضیٰ میرے مولا395
41آئے، آئے، اپنے مولا سے باتیں کریں397
42بابا غم کی گئی ہیں فاطمہ بنت اسد399
43نام ماں فاطمہ اور فاطمہ کا عاشق400
44اللہ اللہ یہ آوازِ مدینہ400

Mutafarriqat-o-Qaumiyat

SerialNamePage
1Ya Kashif-al-Asrar, dijiye meri401
2Haqiqat-e-roz-e-qiyamat (Syed Jafar)403
3Qitaat (Doctor Nasir)404
4Ay Rabb-e-jahan, bakhsh paya ka sadqa404
5Naveed-e-hashr gham walon se [unwan juzwi taur par ghair wazeh]405
6Nur hai jalwa-numa ghaib Abu Talib mein406
7Sarwar kaun hain, ay ghaib, siraj mein406
8Tum ho gaye gawah shab-e-hijrat mein407
9Alam le kar bohat jaye rahe [unwan juzwi taur par ghair wazeh]407
10Qabr hamare zamane ko uthata hai Ghadeer408
11Aks-e-yaqin Aal-e-Aba hai [unwan juzwi taur par ghair wazeh]409
12Laiq jo ho ruh ko azad karne ka409
13Har qadam kha de ziyan [unwan juzwi taur par ghair wazeh]410
14Shaheed ho ke kuch aur [unwan juzwi taur par ghair wazeh] mere laal Hussain411
15Chahal saal mein jo...tum nahin Imam412
16Unsur-e-khalq-o-quwwat se hai khilqat maan ki413
17Jo ghafil ke Hussain-o-pyar rehta hai414
18Ghairon ki muhabbat mein har kas ne kya hai415
19Sozkhwani / Sarwar Hussain416
20Koi aisa bhi hota hai, koi aisa bhi hota hai417
21Hai Nabi se muhabbat ka dawa...Haq chhor de417
22Ye nazm tarjuma hai, jin ki tasnif hai (Dada Zangar)417
23Walidain ko salam / Syed Jafar418
24Ay meri maan, hai parda tumhara / Syed Jafar419
25Ay mere baradar-e-imani / Syed Jafar419
26Ye zindagi tujh se hai bint-e-Khadija / Syed Jafar420
27Sehra (Shadan Dehlavi)422
28Sehra / Syed Jafar Zaidi423
29Rukhsati (Shadan Dehlavi)424
30Manzoom tarjuma Dua-e-Faraj / Shadan Dehlavi426
31Shan-e-aslaf ki duniya ko dikha do ay dukhtaran-e-Naqvi427
32Haq Maula aao karo / Syed Jafar428
33Dars-e-ittihad, Allama Hasan Azam Qureshi marhum430
34Naujawanon se khitab / Allama Hasan Azam Qureshi marhum431
35Use Hussain ibn-e-Ali ke samne lao utho431
36Salamat raho namaziyo tum jahan mein433
37Zuljanah / Allama Hasan Azam Qureshi marhum433
38Ay beti Zahra, hamari dua / [unwan juzwi taur par ghair wazeh]434
39Ay Pak watan painda-bad435
40Maan, ashaar-e-Ahl-e-Bait / Syed Manzur Ali [unwan juzwi taur par ghair wazeh]435
41Ashab-e-[unwan juzwi taur par ghair wazeh] / Syed Jafar Zaidi437
42Hajiya mubarak ho / Syed Jafar Zaidi438
43Rah mein tum kya suhani kehte the din mere438
44Dua / Syed Raza Haidari439
45Mere Malik! / Syed Jafar Zaidi440
46Ba-munasibat-e-wiladat Janab Sakina441
47Shairi / Maula Iradi442
48Salam / Muharram Gham Zaidi443
49Wasila-e-hayat (maan, baap) / Raza Sarwari444
50Jadid ashaar ba-unwan maan / Raza Sarwari451
51Baap / Raza Sarwari454
52Jane wale hamein aake461
53Pakistan ki bunyadon mein / Syed Jafar462
54Maan463

متفرقات و قومیات

نمبرعنوانصفحہ
1یا کاشفِ اسرار، دیجیے میری401
2حقیقتِ روزِ قیامت (سید جعفر)403
3قطعات (ڈاکٹر ناصر)404
4اے ربِ جہاں، بخش پایا کا صدقہ404
5نویدِ حشر غم والوں سے [جزوی طور پر غیر واضح]405
6نور ہے جلوہ نما غیب ابو طالب میں406
7سرور کون ہیں، اے غیب، سراج میں406
8تم ہو گئے گواہ شبِ ہجرت میں407
9علم لے کر بہت جائے رہے [جزوی طور پر غیر واضح]407
10قبر ہمارے زمانے کو اٹھاتا ہے غدیر408
11عکسِ یقین آلِ عبا ہے [جزوی طور پر غیر واضح]409
12لائق جو ہو روح کو آزاد کرنے کا409
13ہر قدم کھا دے زیان [جزوی طور پر غیر واضح]410
14شہید ہو کے کچھ اور [جزوی طور پر غیر واضح] میرے لال حسین411
15چہل سال میں جو۔۔۔تم نہیں امام412
16عنصرِ خلق و قوت سے ہے خلقت ماں کی413
17جو غافل کے حسین و پیار رہتا ہے414
18غیروں کی محبت میں ہر کس نے کیا ہے415
19سوزخوانی / سرور حسین416
20کوئی ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی ایسا بھی ہوتا ہے417
21ہے نبی سے محبت کا دعویٰ۔۔۔حق چھوڑ دے417
22یہ نظم ترجمہ ہے، جن کی تصنیف ہے (دادا زنگار)417
23والدین کو سلام / سید جعفر418
24اے میری ماں، ہے پردہ تمہارا / سید جعفر419
25اے میرے برادر ایمانی / سید جعفر419
26یہ زندگی تجھ سے ہے بنتِ خدیجہ / سید جعفر420
27سہرا (شاداں دہلوی)422
28سہرا / سید جعفر زیدی423
29رخصتی (شاداں دہلوی)424
30منظوم ترجمہ دعائے فرج / شاداں دہلوی426
31شانِ اسلاف کی دنیا کو دکھا دو اے دخترانِ نقوی427
32حق مولا آؤ کرو / سید جعفر428
33درسِ اتحاد، علامہ حسن اعظم قریشی مرحوم430
34نوجوانوں سے خطاب / علامہ حسن اعظم قریشی مرحوم431
35اسے حسین ابن علی کے سامنے لاؤ اٹھو431
36سلامت رہو نمازیو تم جہاں میں433
37ذوالجناح / علامہ حسن اعظم قریشی مرحوم433
38اے بیٹی زہرا، ہماری دعا / [جزوی طور پر غیر واضح]434
39اے پاک وطن پائندہ باد435
40ماں، اشعار اہل بیت / سید منظور علی [جزوی طور پر غیر واضح]435
41اصحابِ [جزوی طور پر غیر واضح] / سید جعفر زیدی437
42حاجیہ مبارک ہو / سید جعفر زیدی438
43راہ میں تم کیا سہانی کہتے تھے دن میرے438
44دعا / سید رضا حیدری439
45میرے مالک! / سید جعفر زیدی440
46بمناسبتِ ولادت جناب سکینہ441
47شاعری / مولا ارادی442
48سلام / محرم غم زیدی443
49وسیلۂ حیات (ماں، باپ) / رضا سروری444
50جدید اشعار بعنوان ماں / رضا سروری451
51باپ / رضا سروری454
52جانے والے ہمیں آکے461
53پاکستان کی بنیادوں میں / سید جعفر462
54ماں463

No transliteration available for this page.

گزشتہ نصف صدی کے چند نمائندہ اکابرین سوزخوانی SOME LEGENDS OF SOAZKHWANI آغا مقصود مرزا ایک بار پھر عزاداری اور سوزخوانی کے سلسلے میں سنگِ میل۔ مرحوم حاجی ولی کے صاحبزادہ، نمائندہ سوزخواں، اچھے مقرر اور قیامِ پاکستان کے بعد فروغِ سوزخوانی اور انجمن سوزخوانان کے محرکین میں شامل تھے۔ آپ کے صاحبزادگان مسعود و ڈاکٹر زوہیر ولی خانہ بھی اچھے سوزخواں ہیں۔ آفتاب علی خان ظہوری دہلی کے نمائندہ صاحبِ طرز سوزخواں اور انجمن سوزخوانان کراچی کے بانیوں میں تھے۔ آپ ایک مخلص اور فعال انسان تھے۔ اچھی سوزخوانی کی سالانہ مجلسِ سوزخوانی، جشنِ ولادت جناب سیدہ اور چہلم وغیرہ کے حسنِ انتظام کا ثبوت ہیں۔ آپ کے اجراء بھی سوزخواں ہیں۔ [نام جزوی طور پر غیر واضح] ایک مذہبی، نمائندہ سوزخواں تھے۔ سوز اور بالخصوص مرثیے کی مجلس و بندشوں کے ایسے ماہر تھے کہ جن کا جواب تو کیا ثم البدل بھی کوئی نہیں۔ قرآنی لہجہ میں خوانی اور شاعروں میں منفرد مقام رکھتے تھے۔ استاد مسعود علی خان حیدری ایک نفیس و خلیق، وجیہ و شکیل انسان اور مکمل سوزخواں، ماہرِ فن استاد تھے۔ آپ کا تعلق لاہور و جے پور سے تھا مگر تمام ہندوستان نے آپ کی فنی مہارت کا اعتراف کیا۔ آپ انجمن سوزخوانان کراچی کے صدر بھی رہے۔ ایسی روشن آواز سوزخوانی کو پھر نصیب نہ ہو سکی۔ اختر میاں ایک نفیس و شفیق انسان اور [لکھنؤ / محمودآباد] کے نمائندہ ماہرِ فن سوزخواں تھے۔ انجمن سوزخوانان کے قیام، مجلسِ سوزخوانی کے انعقاد اور غم کی اشاعت میں آپ کا نمایاں حصہ تھا۔ آپ کا سارا گھرانہ ہی فن و ثقافت اور عزاداری و سوزخوانی کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ محترمہ [نام غیر واضح] کی تعریف و تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ لکھنؤ کی تہذیب کی علامت، خلیق خاتون اور ماہرِ فن سوزخواں تھیں۔ بلا شبہ آپ ایک صدی اور تاریخ ساز شخصیت تھیں۔ سوزخوانی کی معلوم تاریخ میں آپ کی نظیر تو نایاب ہے، نہ ہی بظاہر آئندہ کوئی امکان ہے۔ استاد واحد حسین خان (دہلی / خورجوی) ایک ماہرِ فن استاد، صاحبِ [لفظ غیر واضح] انسان اور مکمل سوزخواں تھے۔ [جزوی متن غیر واضح] کے باوجود آخری سانس تک آپ کے لہجے کی گرمی برقرار رہی۔ آپ ایک مذہبی، مگر مزاج اور صوفی منش انسان تھے۔ استاد اشتیاق علی خان حیدری شاداب ایک وضع دار، سنگین المزاج، شریف النفس خوددار انسان، مخلص عزادار اور مکمل سوزخواں تھے۔ آپ ایک اچھے کمپوزر اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے استاد تھے۔ اپنے بھائی استاد مسعود علی خان کے ساتھ سوزخوانی اور انجمن میں بھی شانہ بشانہ رہے۔

26

No transliteration available for this page.

“بستہ” اور صاحبِ بستہ کے لیے چند رباعیات (حضرت راغب مرادآبادی کے منظوم تاثرات / عزت افزائی) دیباچۂ حق و حق بیانی کہیے منظوم دلوں کی ترجمانی کہیے سید جعفر نے جو دیا ہے بستہ اب اس کو کلیدِ سوزخوانی کہیے “بستہ” پڑھتے پہ جو کر بستہ ہے وہ مومن جانباز ہے دل خستہ ہے جنت کی نوید سید جعفر کے لیے اللہ کا دیا مصرع برجستہ ہے پھولوں کا ہے سوز و درد کے گلستہ ہوجائیں گے تازہ دم، پڑھیں دل خستہ “محفوظ” ہیں جس میں سوزخوانی کے رموز سید جعفر کا ہے یہی وہ “بستہ” تحفہ ہے حسین کا عزاداروں کو بخشے گا شفا یہ درد کے ماروں کو “بستہ” کے مطالعے سے غافل نہ رہیں صحت یہ عطا کرے گا بیماروں کو (بشکریہ شاعر اہل بیت ذوالفقار حسین نقوی صاحب)

27

No transliteration available for this page.

کچھ اپنی سوزخوانی اور اس “بستہ” کے بارے میں سید سبط جعفر زیدی الحمد للہ برصغیر میں سوزخوانی کیلئے خاصا مواد مختلف طبقوں میں بکھرا موجود رہا ہے اور بھارت کے مختلف شہروں کے علاوہ اردو ادب و عزاداری کے پاکستانی مراکز کراچی اور لاہور سے متعدد جرائد اور بیاضیں مختلف ناموں سے شائع ہوتی رہی ہیں، اب بھی ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہوتی رہیں گی۔ اس اعتبار سے یہ کوئی پہلا کام ہے، نہ ہی آخری۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے مجامع اور بیاضوں کی موجودگی میں اس نئی کتاب “بستہ” کی ضرورت کیا تھی؟ بات یہ ہے کہ کلاسیکی موسیقی کی طرح سوزخوانی کا المیہ بھی یہی ہے کہ جو لوگ اس کی عملی واقفیت و مہارت رکھتے ہیں وہ آگے تعلیم و تصنیف کی قدرت نہیں رکھتے اور جو اس علمی و فنی طور پر تصنیف و تالیف کرسکتے ہیں وہ اس کی عملی مظاہرہ کی استعداد نہیں رکھتے، اور جن معدودے چند افراد کے پاس یہ دونوں صلاحیتیں موجود ہیں ان کی صحت و مصروفیات اور ترجیحات انہیں ان دونوں کاموں کی مہلت و فرصت نہیں دیتیں، اور پھر اسے باقاعدہ طور پر سکھانے اور آگے بڑھانے کا کام بھی کارِ دارد تھا۔ یہ کام انجمن سوزخوانان کراچی کے تحت زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا تھا، جس کا میں خود بھی 1980ء سے رکن اور پھر عہدہ دار بھی رہا۔ اور اپنی خواہش اور کوشش کے باوجود “بوجوہ” یہ کام وہاں نہ کر سکا؟! محمد و آلِ محمد معصومین کے فضل و کرم سے مجھے قدرت نے سیکھے سمجھے محفوظ کرنے، برتنے اور آگے بڑھانے سکھانے کی استعداد و مہلت اور فرصت عطا کی، یوں میں نے عزاداری و سوزخوانی سے دلچسپی رکھنے والے بزرگوں، دانشوروں، عزاداروں اور اپنے بہی خواہوں کے علاوہ اپنے سوزخواں ساتھیوں اور بازوؤں کے تعاون سے 1988ء میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی بنیاد ڈالی تا کہ اس تربیت گاہ (نرسری) سے انجمن سوزخوانان کراچی اور قوم کو باصلاحیت نوجوان سوزخواں فراہم کئے جا سکیں۔ یوں تو میں اسکول ایجوکیشن ہی کے زمانے سے مختلف حیثیتوں میں ریڈیو ٹی وی سے وابستہ تھا، مگر بطور سوزخواں میرے بچپن کے دوست شاعرِ اہل بیت ریحان اعظمی مجھے 1985ء

29

No transliteration available for this page.

میں پی ٹی وی لے گئے اور اسی سال میرا پہلا آڈیو کیسٹ بھی کوششوں سے جاری ہوا۔ شاید ریکارڈنگ کمپنی (SRC) کی، ایم آئی (EMI)، جعفری کیسٹ (AVT)، پنجتنی کیسٹ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، رضوی کیسٹ، باب العلم کیسٹ لائبریری اور زیدی پروڈکشن، عزت فاؤنڈیشن، ترابی کیسٹ لائبریری، پیام و پیغام کے اشتراک و تعاون سے تقریباً پچاس آڈیو ویڈیو کیسٹ اور کئی [غیر واضح] سن 2000ء تک منظرِ عام پر آ چکے تھے اور ہر سال ریڈیو پی ٹی وی اور دیگر ملکی و غیر ملکی ذرائعِ ابلاغ سے بھی باقاعدگی سے سوزخوانی نشر ہوتی رہی۔ نیز پانچ آڈیو کیسٹ کا سیٹ “نصابِ سوزخوانی” کے نام سے محرم الحرام 1421ھ میں جاری کیا جا چکا ہے۔ “زبانِ شاعر” کے عنوان سے حمد و نعت و مناقب اور سلام کے کیسٹ اس کے علاوہ ہیں۔ جب کہ محترم مرزا زاہد کی تحریک پر میرا پہلا تحقیقی مضمون “سوزخوانی” روزنامہ جنگ کراچی کے ویک میگزین کے آخری صفحے اور بقیہ نصف اندرونی صفحہ پر 1988ء میں شائع ہوا، جس کے بعد نہ صرف سوزخوانی پر متعدد تحقیقی سلسلہ وار مضامین روزنامہ جنگ میں شائع ہوتے رہے بلکہ حسنِ قرأت، نعت خوانی، قوالی سماع اور نوحہ خوانی پر بھی مفصل سلسلہ وار مضامین روزنامہ جنگ اور پھر اخبار جہاں، نوائے وقت، پبلک، امن، حریت، قومی اخبار میگزین اور دیگر قومی اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے۔ بعد میں اس سلسلے کو میں نے “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” کا نام دیا اور اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا۔ بعض سوزخوانوں پر تو اس سے پہلے بھی چھوٹے مضامین لکھے جا چکے تھے مگر سوزخوانی اور پھر سوزخوانوں کے موضوع پر باقاعدہ طور پر پہلی علمی، تحقیقی و تنقیدی کوشش جو پہلے روزنامہ جنگ کراچی اور پھر کتابی شکل میں 1995ء میں منظرِ عام پر آئی، جس کی باقاعدہ رونمائی و تقریبِ اجرا ہال پرل کانٹی نینٹل کراچی میں سرفراز احمد صاحب، جاوید رضا نقوی صاحب اور دیگر احباب کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ جس کے بعد مجھ ناچیز کے معروف عالم و خطیب اور دانشور حضرت علامہ سید عقیل الغروی مدظلہ کی تحریک و تشویق پر، میرے ایک ممتاز دانشور و محقق ڈاکٹر سید سکندر آغا صاحب نے اپنا تحقیقی مقالہ “سوزخوانی” مرتب کیا جو آر ریسرچ گورنمنٹ (بھارت) کے تعاون سے 1999ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔ بلا شبہ یہ ایک قابلِ قدر اور بڑا کام ہے لیکن اس میں سوزخوانی سے زیادہ سوزخوانوں پر مواد پیش کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ عنقریب ڈاکٹر صاحب کی نگرانی میں یہ کام مزید آگے بڑھ سکے گا۔ بھارت کے نامور استاد اسد علی خان (دہلی یونیورسٹی) کی زیر نگرانی بھی سوزخوانی کے حوالے سے تحقیقی کام ہو رہا ہے جبکہ کولمبیا یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا امریکہ کی معروف اسکالر ڈاکٹر [نام جزوی طور پر غیر واضح] نے بھی موسیقی، نغمگی، ادائیگی، عزاداری اور بالخصوص سوزخوانی پر خاصا تحقیقی کام کیا ہے جس میں اس احقر (سبط جعفر) کا بھی خاصا حصہ اور تذکرہ ہے، جو ان کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مجھے اس کی شدت سے احساس رہا ہے کہ مارکیٹ میں سوزخوانی کیلئے جو مجامع اور بیاضیں موجود ہیں وہ کتنی مستند و فعال Practical, Original & Genuine سوزخوانی کی مرتب کردہ نہیں، اور غیر متعلقہ مرتب و ناشر کتنا ہی مشہور کیوں نہ ہو، سوزخوانی اور سوزخواں کے کلی تقاضوں، ضروریات اور مشکلات کا خاطر

30

No transliteration available for this page.

ادراک نہیں کرسکتا۔ دوسرے ان بیاضوں میں کتابت / کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کی بھی بڑی ناقابلِ معافی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں اور ہر سوزخواں کو اتنا احساس اور سوجھ کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ یوں سادہ لوح سوزخواں ان غلطیوں اور کوتاہیوں کا شکار ہو کر اپنا اعتبار بھی کھوتے ہیں اور باشعور سامعین کی طبیعت پر بھی بار بن جاتے ہیں جس سے سوزخواں کا اعتبار اور سوزخوانی کے مقاصد مجروح ہوتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ ان بیاضوں میں کوئی مجموعہ بھی مکمل بیاض یا بستہ نہیں ہے، موضوع و خصوصی کے اعتبار سے بھی اور مضمون و مواد کے اعتبار سے بھی، یعنی قطعات، رباعیات، سوز، سلام، بین، مرثیے اور دیگر مقدمات و متعلقات و لوازماتِ سوزخوانی یکجا نہ تھے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ مجموعوں اور بیاضوں میں بالخصوص مرثیوں کے انتخاب میں سوزخوانی کی ضرورت اور دورانیہ کا خیال نہیں رکھا گیا۔ پندرہ سے تیس بندوں کے مرثیے پڑھنے سننے کا وقت، رواج اور موقع بلکہ اب کس میں ہے؟! جب پوری مجلس کا معیاری دورانیہ (Standard Time / Duration) ہی ایک گھنٹہ اور سوزخوانی کا دس سے بیس منٹ کے درمیان ہو تو پھر مرثیے کے پندرہ بیس بند کی گنجائش کہاں سے نکل سکتی ہے؟! اور ظاہر ہے کہ ہر سوزخواں ان پندرہ بیس بندوں میں چار پانچ مربوط بندوں کے انتخاب کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر ہر مرثیہ بالخصوص جدید مرثیہ سوزخواں اور سوزخوانی کے مطلب کا نہیں ہوتا کہ کہیں فکر و فلسفے کے بجائے رخصت، شہادت، بین اور تربت و پردہ پر مبنی بند پڑھنا ہوتے ہیں۔ پانچویں اور آخری بات یہ ہے کہ بعض ہستیوں کی مجالس و محافل اور مخصوصوں کا رواج پہلے نہ تھا، اس لئے بھی ان موضوعات و شخصیات پر مرثیے پہلے موجود نہ تھے۔ چنانچہ ہم نے ان نئے مواقع اور مخصوصوں کیلئے پہلے اساتذہ کا کلام ڈھونڈا، جن ہستیوں اور مخصوصوں کیلئے مناسب کلام مثل کا ان کیلئے موجود مستند و معتبر شعراء سے درخواست کر کے نیا کلام بالخصوص مرثیے کہلوائے۔ اساتذۂ متقدمین اور شعرائے آل محمدؐ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، شاعر و سوزخواں ظہور چارچوی، داروغہ امیر محمد رضوی حیدرآبادی، بالخصوص ادارے کے سرپرست صدر شعرائے اہل بیت حضرت شاداں دہلوی کے ہم خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری ضرورت کیلئے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کیں۔ اس بستے کے حوالے سے دو کام ایسے ہیں کہ جو بعد میں کسی وقت کئے جا سکتے ہیں۔ پھر یوں ملک مقیم وہ حضرات جو اردو بول تو سکتے ہیں مگر پڑھ نہیں سکتے، ان کے لئے اس کلام کو انگریزی حروف میں تحریر کیا جا سکتا ہے (یعنی اس کلام کا Transliteration)۔ علاوہ ازیں اس کلام کی بندشیں، Scaling یعنی Notations (کمپوزیشن) بھی تحریر کی جا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر شخص اس سے براہِ راست استفادہ تو نہیں کر سکتا، مگر جو بندشیں کیسٹ میں محفوظ ہیں ان کے علاوہ بھی اس کلام کی بندشوں کو کتاب پر منتقل و محفوظ کیا جا سکے گا۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ یہ بستہ ناقل و مجالس کیلئے ایک مکمل دستاویز ثابت ہو اور مسجد و امام بارگاہ، عزا خانہ بلکہ ہر مومن کے گھر کی ضرورت اور سوزخوانی کی ضروریات کی تکمیل کا باعث ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ “بستہ” ہر مسجد، امام بارگاہ اور عزا خانہ میں موجود ہو۔ آپ اسے حاصل کر کے اپنے مرحومین کے ایصال

31

No transliteration available for this page.

ثواب یا اپنے لئے ثوابِ جاریہ کے طور پر وقف کر سکتے ہیں اور جس طرح قرآن مجید، تحفۃ العوام، مفاتیح الجنان، توضیح المسائل، وظائف الابرار وغیرہ عبادت گاہوں میں رکھی جاتی ہیں یہ بستہ بھی موجود رہے۔ یقیناً اس میں اضافہ اور بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ تا ہم فی الوقت اسے قبول فرمائیں اور ہمارے سرپرستوں، محسنوں، معاونین اور ان کے مرحومین کیلئے خصوصی دعا فرمائیں۔ اس بستے میں شامل بعض کلام کی بابت اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض کلام میں ہم نے “بوجوہ” کچھ ترمیم و اضافہ یا تبدیلی کی جسارت نیک نیتی کے ساتھ کی ہے۔ بعض تبدیلیاں ماخذ و مصادر اور نسخوں میں فرق کی وجہ سے ہیں اور بعض ہماری طرف سے، مثلاً فنی زبان جو الفاظ متروک یا معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ صوتی لطافت اور قبولِ حضرت نصیر ترابی بھائی کے پیش نظر ان میں تبدیلی کر دی ہے۔ یہ تبدیلیاں اساتذۂ متقدمین کے کلام میں زیادہ ہیں۔ بعض الفاظ یا مصرعوں کی ترتیب یا تبدیلی ادائیگی اور سوزخوانی کی ضرورت کے تحت کی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں سے نفسِ مضمون اور مواد و متن اور مقصودِ افادیت اور تاثیر میں بہتری کی واقع ہوئی ہے۔ بعض حوالے مشکوک یا متنازع ہیں؛ پرانے مرثیہ خواں و سوزخواں مجلس کی ضرورت اور اپنی آسانی کیلئے مختلف شعراء کے کلام کا الحاق و ادغام کر لیا کرتے تھے۔ اس لئے بھی ہم متعلقہ شعراء اور ان کے متعلقین سے معذرت خواہ ہیں۔ بعض جگہ شعراء کرام کا نام اور حوالہ نہیں دیا جا سکا یا اگر سہواً غلط دے دیا گیا ہے تو اس کیلئے بھی معذرت خواہ ہیں۔ آئندہ ایڈیشن میں اس کی تصحیح کی جا سکتی ہے۔ اس بستے کے سلسلے میں داد دینے سے مقدور تعاون کرنے والوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ ان سب کا فرداً فرداً شکریہ ادا کرنا اس بستے میں شاید ممکن نہ ہو اور بہت سے اسماء گرامی جو جانتے ہوئے حضرات سے ان کے اظہار کی ممانعت کی ہے، کچھ کا تعاون ہمیں اس کی اشاعت کے بعد درکار و حاصل ہوگا۔ ان سب کا شکریہ ہم ذاتی و انفرادی طور پر ادا کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، لیکن حقیقی اجر و ثواب بارگاہِ احدیت، معصومین علیہم السلام اور بالخصوص معصومۂ کربلا اور حضرت پنجتنِ طاہرہ ہی سے ملے گا۔ ہم خود بھی ان ہی کی خوشنودی کیلئے کوشاں اور آپ کی دعاؤں کے طالب ہیں۔ بڑی قدر ناشناسی ہوگی اگر ان حضرات اور ان کے متعلقین و مرحومین کیلئے دعا نہ کی جائے جن کا تذکرہ اس بستے میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں سوزخوانی سے متعلق ضروری مواد فراہم کر دیا گیا ہے، تا ہم جو شائقین مزید مطالعہ و استفادہ کرنا چاہیں وہ “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” کا مطالعہ فرمائیں۔ تمام سرپرست و محسنین و معاونین اور وابستگانِ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی ان حضرات و خواتین کے متعلقین کیلئے دعا گو اور ان کے مرحومین کیلئے دعائے مغفرت کے طالب ہیں۔ بالخصوص اپنے خصوصی کرم فرماؤں محترم زائر حسین شاہ صاحب [لفظ غیر واضح]، آغا سید عباس صاحب، شاعر و سوزخواں محترم سید نسیم زیدی (USA)، محترم سید احسن حیدر، شہر رضوی ایڈووکیٹ، محترم منظر کاظمی اور پرویز عابدی صاحب (UAE)، محترم سید محمد رضی جعفری (کینیڈا)، محترم سید جاوید رضا نقوی، محترم سید امتیاز رضا زیدی، محترم تمکین تقوی، پروفیسر مولانا نقی ہادی نقوی، مولانا حسن ظفر نقوی، محترم عنایت حسین رضوی (محفوظ بک ایجنسی)، محترم حسین عباس زیدی (احمد بک ڈپو)، عارف جعفری، ADM والے اللہ دتہ برادران اور شاہد عباس صاحب، باب العلم کیسٹ لائبریری والے آفتاب قمر اور عرفان بھائی، ترابی کیسٹ لائبریری اور

32

No transliteration available for this page.

IRC کے متعلقین و کارکنان، رضوی کیسٹ والے اختیار امام رضوی اور آلِ طہٰ [نام جزوی طور پر غیر واضح] پرنٹرز کے تمام کارکنان، حاجی قمر عباس و برادران، حاجی سید ناصر عباس، سید حسن کاظم و سلمان جلالوی فریم اور ان کے متعلقین کے علاوہ اپنے مرحومین کیلئے خصوصی دعا کے ملتمس ہیں۔ بحیثیتِ سوزخواں ہم نے جن مجامع سے استفادہ کیا ہے یا جن کا مطالعہ کیا ان میں چند بطور خاص قابلِ ذکر ہیں، مثلاً [چند عنوانات جزوی طور پر غیر واضح]، چشمِ نم، عرفانِ غم، تحریمِ غم (جلد اول و دوم)، بلالِ محرم، شمیمِ غم، سوزِ کربلا، سوزِ غم، نوائے غم (جلد اول و دوم)، منتخب مرثیے، مقبولِ عام مرثیے، نالۂ سوزداران، منشورِ سوز مرثیہ اور مختلف شعراء کرام کے مجامع۔ اس بستے کی اشاعت کے موقع پر مجھے اپنا ایک انتہائی مخلص و جانثار، بھائیوں سے زیادہ غمگسار اور خوش ہونے والا زندہ دل جواں مرگ دوست علمدار حسین ابن عابد حسین بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے، جو میرے ہر دکھ درد کا ساتھی اور ہر کام پر خوش ہونے، حوصلہ افزائی اور تعاون کرنے والا تھا۔ آپ سے ملتمس ہوں کہ علمدار حسین ابن عابد حسین زیدی کیلئے ایک سورۂ فاتحہ کی تلاوت اسی وقت فرما دیں۔ اس بستے میں مرحومین و موجودہ تقریباً تمام معلوم و معروف سوزخوانوں کا حوالہ / ذکر کسی نہ کسی عنوان سے موجود ہے۔ اس کے باوجود جن کے اسمائے گرامی رہ گئے ہیں ان کا اضافہ انشاءاللہ آئندہ ممکن ہے۔ والسلام / آپ کے مشوروں، تبصروں اور دعاؤں کے طالب سید سبط جعفر زیدی بانی: بین الاقوامی ادارۂ ترویجِ سوزخوانی ادارہ کی کارکردگی برصغیر کے اردو داں طبقہ میں نہ صرف ایامِ عزا بلکہ شبِ جمعہ، ہائے شہادت اور سوئم چہلم وغیرہ کے حوالے سے بھی مجالسِ ترحیم و ایصالِ ثواب کا انعقاد و اہتمام ہوتا ہے اور ہر مجلس کا آغاز سوزخوانی سے ہوتا ہے۔ یوں مجالس اور سوزخوانی کا سلسلہ تقریباً سارا سال ہی جاری رہتا ہے اور خوشی مجالس کراچی میں ہوتی ہیں، پر کتنی سے اتنے سوزخواں دستیاب نہیں ہیں اور اس شعبے میں نئے باصلاحیت رضاکاروں کی آمد نہ ہونے کے برابر تھی۔ گھریلو ورثہ میں کسی سوزخوان میں نوجوانوں کیلئے کوئی دلچسپی یا کشش نہیں تھی اور باقاعدہ فنی و تکنیکی سوزخوانی کی قدردانی نہ ہونے کے باعث بھی کئی کو کشش و دلچسپی کا یارانہ تھا۔ نہ سیکھنے والے، نہ فنی سکھانے والے۔ بے حد ضرورت تھی کہ جب باقی ماندہ دو چار صاحبانِ فن جو ادائیگی (موسیقی و گائیکی) اور عزاداری دونوں کے تقاضوں اور آداب سے واقف ہیں وہ بھی نہ رہے تو تکنیکی ورثہ کی سوزخوانی کے حقیقی خدوخال بتانے والا بھی کوئی نہ رہے گا اور یہ مقدس عزائی صنفِ ادائیگی اور فنِ سوزخوانی ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ان نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجمن سوزخوانان کراچی کے سابق سینئر قانون و سیکریٹری نشر و اشاعت، شاعر و مصنف پروفیسر سید سبط جعفر زیدی ایڈووکیٹ نے محرم الحرام 1418ھ میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی بنیاد رکھی، جس کے بنیادی مقاصد مندرجہ ذیل تھے: ☆ کوئی مجلسِ عزا سوزخوانی کے بغیر نہ ہو اور کوئی بانیِ مجلس کو سوزخواں کے لئے پریشانی نہ ہو۔ ☆ ہر عزاخانہ اور ہر گھر کیلئے کم از کم ایک نوجوان باصلاحیت

33

No transliteration available for this page.

دیدہ اور باکردار سوزخواں پابندی ضرور تیار کی جائے جو حقوق اللہ، حقوق العباد اور حقوق الناس میں توازن، یعنی تعلیم، معاشی و سماجی، انفرادی دینی اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ اس خدمت کو بھی بطریق احسن سر انجام دے سکے۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے ہمارے تربیتی اہداف ابتدائی طور پر مندرجہ ذیل تھے: ☆ معیاری و روایتی سوزخوانی کے بقا، تحفظ اور فروغ و ترویج کے لئے آڈیو، ویڈیو کیسٹ اور سی ڈی کی تیاری اور اجرا۔ ☆ باصلاحیت نوجوان سوزخوانوں کی تربیت، تکنیکی اعانت اور حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی نشستوں کا انعقاد اور سوزخوانی کے لئے منتخب معیاری کلام کی ترتیب و اشاعت۔ ☆ ان مقاصد کے حصول کے لئے ہم سے تعاون اور ہماری خدمات سے استفادہ کیجئے۔ بحمد اللہ کراچی کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرونِ کراچی بھی اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک سو سے زیادہ باصلاحیت و ہونہار اور خوش اطوار، دیندار و باکردار رضاکار سوزخواں اس خدمت کو سر انجام دے رہے ہیں، جو اردو اشعار میں نام سے کہتے ہیں نہ کسی اور مادی و مالی پذیرائی کے متمنی ہوتے ہیں، نہ ہی کرایۂ آمد و رفت یا ہدیہ و نذرانہ قبول کرتے ہیں۔ (اگرچہ یہ ان کا حق اور مستحسن عمل کا فریضہ ہے)۔ ان نوجوانوں میں مکمل سوزخواں ہیں، اگرچہ یہ اشتقاقی و معصومی ہی سے اجر و ثواب کے طالب ہیں۔ ہم قوم کا فرض ہے کہ وہ ان کی ممکنہ دلجوئی و پذیرائی اور ہر طرح حوصلہ افزائی کرے تا کہ دوسرے نوجوان بھی اس طرف راغب ہوں۔ کہ لوگ اس کی ضروریات کے پیش نظر تعداد میں بہت کم ہے۔ اس سلسلے میں ہماری تمام نشستیں و پابندیاں، مجالس اور مسجد و امام بارگاہوں و عزاخانوں کے منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے محلے کے چند نوجوان باصلاحیت شائقینِ سوزخوانی کو اس خدمت پر راغب و تیار کریں۔ ہم انہیں ممکن تکنیکی، فنی تعاون و رہنمائی فراہم کریں گے۔ یاد رہے کہ ہم اسکولی سطح کے طلبہ کو تربیت نہیں دیتے کہ ان کا امکان تعلیم سے [جزوی متن غیر واضح]، خدانخواستہ کسی بجائے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذی حیثیت قومی و دینی خادم تیار کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ مومنات اور خصوصاً سیدہوں کی حرمت اور عزت و احترام سب سے مقدم ہے۔ اگر حرم ساتھ نہ ہو اور جان، مال، عزت، آبرو کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہو تو اللہ تعالیٰ حج کا بھی مطالبہ و تقاضا نہیں کرتا۔ چنانچہ موجودہ حالات میں مومنات کا کسی انجمن اور خصوصی پردہ و تحفظ کے انتظام کے بغیر دور دراز علاقوں میں جا کر عزاداری کرنا مناسب نہیں، البتہ مختلف عزا خانہ اور محفوظ مقامات پر مجالس کی خدمت و شرکت میں کچھ حرج نہیں ہے۔ ایسی خواتین سوزخوانی کیلئے ہم آڈیو ویڈیو کیسٹ اور ذریعۂ کلام اور ضروری رہنمائی کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس وقت بھی کراچی اور بیرون کراچی براہِ راست اور بالواسطہ طور پر خواتین و حضرات ہم سے رہنمائی حاصل کر کے اس خدمت کو سر انجام دے رہے ہیں۔ قریباً نشستوں کا “ویڈیو کیسٹ” و اساتذہ کی “لافانی سوزخوانی”، “نصابِ سوزخوانی” اور یہ بستہ بھی ہمارے اسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ادارے کے ابتدائی سرپرستوں اور معاونین میں مندرجہ ذیل

34

No transliteration available for this page.

افراد شامل تھے: پروفیسر کربلائی حسین صاحب، مولانا رضی جعفر نقوی، محترم تمکین [نام جزوی طور پر غیر واضح]، پروفیسر اظہار حیدر رضوی ایڈووکیٹ، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، حضرت شاداں دہلوی، محترم مرزا زاہد، محترم ریحان اعظمی، جناب شہزاد اللہ [جزوی طور پر غیر واضح]، جناب جاوید رضا نقوی، جناب اختیار امام رضوی اور باب العلم کیسٹ لائبریری والے آفتاب و عرفان اور رضا جان۔ ادارے کے متذکرہ بالا ابتدائی مقاصد کے حصول کیلئے ادارہ کی جانب سے باقاعدہ تعارفی و تربیتی اشتہاری مہم چلائی گئی۔ قومی اخبارات و جرائد میں بھی باقاعدہ اطلاعات شائع کئے گئے اور پھر خصوصی تربیتی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔ کسی قسم کی تقویم کے مطابق ہر ماہ کے پہلے منگل کو مرکزی نشست مسجد و امام بارگاہ باب العلم، کلفٹن [مقام جزوی طور پر غیر واضح] میں ہوا کرتی تھی، جبکہ مستقل طور پر ہفتہ وار تربیتی نشستوں کا بھی انعقاد و اہتمام کیا گیا۔ ان نشستوں میں دانشورانِ نظام و علماء کرام کے علاوہ مختلف صوتی علوم و فنون کے ماہرین اور اساتذہ کو مدعو کر کے ان کی شخصیت و فنی مہارت سے استفادہ کیا گیا اور پیش مشقوں پر مشتمل نشستوں کا انتخاب سات نشستوں پر مشتمل دو ویڈیو کیسٹ پر جاری کیا گیا، جس میں [کئی نام جزوی طور پر غیر واضح]، پروفیسر محمد انصاری، آراے کیسی، پروفیسر سید جمال [نام غیر واضح] کے دانشورانہ، مولانا رضی جعفر نقوی کی محققانہ و تقریری رائے اور مشاہیر اساتذۂ فن اور اپنے شعبوں کی نمائندہ شخصیات کی ماہرانہ فنی آراء، گفتگو اور عملی مظاہرہ شامل ہے۔ مثلاً موسیقی کی بھی اور عزاداری و سوزخوانی کی شرعی حیثیت، جواز اور حدِ فاصل و خطِ امتیاز کیا ہے؟ ریاض کیسے کیا جائے؟ آواز خراب ہو جائے، گلا بیٹھ جائے تو کیا کیا جائے؟ وغیرہ۔ جن افراد نے اظہارِ خیال و عملی مظاہرہ کیا ان میں محترم استاد غلام الدین خان، استاد امیر احمد خان، استاد اسد علی خان، پروفیسر شاکر علی، محترم قاری حسن محمود، محترم الحاج خورشید احمد، محترم شمیم سرور اور محترم [نام جزوی طور پر غیر واضح] نمایاں ہیں۔ جبکہ وابستگانِ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے علاوہ اساتذہ کے برکات میں شامل ہیں، مثلاً [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]، استاد غلام سرور خان، استاد مسعود علی خان، استاد اشتیاق علی خان، استاد واحد حسین خان، استاد پیارے خان، محترم اختر ولی، محترم عظیم اکبر، [چند نام جزوی طور پر غیر واضح]۔ یہ ویڈیو کیسٹ 1998ء میں جاری کیا گیا۔ 1999ء میں “لافانی سوزخوانی” کے نام سے اساتذۂ متقدمین کے برکات پر مشتمل آڈیو کیسٹ کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس میں استاد واحد حسین خان، استاد مسعود علی خان، استاد اشتیاق علی خان، محترم عظیم اکبر، [متعدد نام جزوی طور پر غیر واضح] شامل ہیں۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اور اس عظیم سرمایے کی حفاظت و منتقلی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح ادارے کے بنیادی دو مقاصد، یعنی تربیتی نشستوں کا انعقاد و اہتمام اور معیاری انتخاب پر مبنی آڈیو ویڈیو کیسٹ کا اجراء و تیاری کا مرحلہ 1999ء تک مکمل ہوگا۔ ہمارے تیاری دو مقاصد کی تکمیل بحمد اللہ محرم الحرام 1421ھ میں ہوئی، یعنی “نصابِ سوزخوانی” اور “بستہ” کا اجرا۔ بانی ادارہ سید سبط جعفر نے مختلف نامور اساتذۂ فن سوز

35

No transliteration available for this page.

خوانوں سے براہِ راست بالمشافہ اور بالواسطہ دونوں طریقوں پر اکتسابِ فیض کی کوشش کی۔ سوزخوانی اور سوزخوانوں کا مستند و معتبر سینوں کے ایک رنگ ڈھنگ اور اندازِ ترنم کے علاوہ چراغ سے چراغ چلانے کی رسم کے مطابق خود بھی کچھ طبع زاد بندشیں ایجاد و اختراع اور مرتب و موزوں کیں۔ جن میں سے بیشتر 1988ء سے 1999ء کے دوران آڈیو ویڈیو کیسٹ کی صورت میں جاری ہوتی رہیں۔ پھر ایک ہی نشست میں چھ سوزخوانی، پانچ آڈیو کیسٹ پر مشتمل “نصابِ سوزخوانی” کے نام و عنوان سے تیار اور جاری کی گئی جو قطعات، رباعیات، سوز، سلام، بین اور مرثیوں پر مشتمل ہے۔ ان کیسٹ میں سے کلام اور بندش محفوظ ہیں جبکہ ان بندشوں کے علاوہ بھی بہت کچھ [جزوی متن غیر واضح] حافظے، گلے اور بعض دیگر آڈیو ویڈیو کیسٹ میں محفوظ ہے اور آئندہ بھی حسبِ موقع وقتاً فوقتاً پیش کیا جاتا رہے گا۔ فی الوقت جو نصابِ سوزخوانی پیش کیا گیا ہے وہ بالخصوص سوزخوانی کا نمائندہ انتخاب ہے، جس میں سوزخواں کے ہر بند کی نغمگی اور سوزخوانی کا فنی حال اور مستقبل یہاں ہے۔ علاوہ ازیں بیشتر کلام مختلف اداروں نے مختلف ویب سائٹ / انٹرنیٹ اور CD پر بھی جاری کیا ہے، تا ہم یہ کام انشاءاللہ عنقریب ادارہ کی جانب سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ادارہ کے زیر اہتمام مختلف قدیم و معاصر اور نوجوان سوزخوانوں کی کیسٹ اور سی ڈی وقتاً فوقتاً جاری ہوتی رہتی ہیں۔ علاوہ ازیں ادارہ کے زیر اہتمام وقتاً فوقتاً مجالس و محافل کا اہتمام مختلف مقامات پر ہوتا رہتا ہے جس کا انتخاب بھی جاری کیا جاتا ہے۔ جبکہ خصوصی نشستوں کے علاوہ ہفتہ واری تربیتی نشستوں کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔ ادارہ کا آخری مقصد جو ادارے کے قیام کے وقت پیش نظر تھا، وہ منتخب و معیاری کلام کی اشاعت تھا جو بحروفِ اول ہے نہ حرفِ آخر۔ تمام عزاداری و سوزخوانی کے عصری تقاضوں اور حیثیت کے ساتھ سے زیادت تک مجالس و محافل کی ضروریات کی قدرِ کفایت ضرورت ہے، یعنی مجموعہ “بستہ” جو آپ کے پیشِ نگاہ ہے۔ (واضح رہے کہ سوزخوانوں کی سہولت کے لئے اس بستہ کا انتخاب بھی دو جلدوں میں اور ایک مختصر بھی بنام “گلدستہ” جاری کیا جا چکا ہے۔) ۔۔۔ قبول افتد ۔۔۔ اس طرح ادارہ کے بنیادی مقاصد ہر دست تقریباً پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ تا ہم اگر حالات سازگار ہوئے تو ادارۂ ترویجِ سوزخوانی آئندہ بھی درج ذیل خدمات سر انجام دے سکتا ہے: ☆ ایک مرکزی دفترِ رابطہ (جہاں بانیانِ مجالس خصوصاً سوزخوانی اور سوزخوانوں کے سلسلے میں رابطہ کر سکیں) ☆ سوزخوانوں کی مجالس میں آمد و رفت کیلئے مناسب سواری کا انتظام ☆ شوقین سوزخوانوں کی امداد اور فروغِ سوزخوانی کے سلسلے میں ضروری اقدامات کیلئے مستقل فنڈ کا قیام۔ والسلام مع التماسِ دعا (متعلق نشر و اشاعت) سید امتیاز عباس اور کاشف زیدی

36

No transliteration available for this page.

فنِ سوزخوانی کا مختصر تعارف تکنیکی و بنیادی طور پر “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” تین ہی ہیں: حسنِ قرأت، قوالی و سماع اور سوزخوانی۔ حسنِ قرأت و قوالی پر تو متعلق اور بین الاقوامی طور پر بہت کام ہوتا رہا مگر بوجہ فنی سوزخوانی پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے فن اور اس سے وابستہ ماہرین کو بھی مسلسل نظر انداز کئے جاتے رہے۔ اس فن کے مستند و غیر مشروط اصولوں کو یکجا مرتب اور پیش کرنے کا پہلا شعوری اور باقاعدہ کام پروفیسر سید سبط جعفر نے کیا۔ تعریف “سوز” کے لفظی و لغوی معنی دکھ، درد اور جلن کے ہیں اور “خوانی” کے معنی پڑھنے، سنانے اور دہرانے کے ہیں۔ اس طرح سوزخوانی کے لغوی معنی دکھ درد کا بیان (سنائی) کے ہیں۔ اصطلاحاً اہل بیت کے فضائل و مصائب بالخصوص واقعات و مصائبِ کربلا و شام کو درد و غم میں مخصوص و حسین طریقے پر بیان کرنے (سنائے) کو سوزخوانی کہتے ہیں۔ سوزخوانی وہ باقاعدہ فنی و تکنیکی صوتی اسلامی عزائی فن ہے جس کا آغاز تقریباً تین سو سال پہلے برصغیر میں ہوا۔ باقاعدہ آغاز اگرچہ اودھ سے ہوا مگر دہلی، آگرہ، الہ آباد، حیدرآباد دکن اور یوپی کے دوسرے علاقوں نے بھی اس کے فروغ و ترویج میں نمایاں حصہ لیا۔ بعد میں کچھ اثرات پنجاب کے بھی مرتب ہوئے۔ سوزخوانی بنیادی طور پر اردو صنفِ ادائیگی ہے کہ اکثر اردو کا معیاری و مستند کلام ہی پیش کیا جاتا ہے، تا ہم اس میں عربی فارسی کا معتبر فصیح کلام بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی ترویج میں راجستھان، دکن و پنجاب کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہے، مگر بنیادی طور پر یہ یوپی والوں (اردو بولنے والوں) کا فن ہے۔ فنِ سوزخوانی کی اپنی جداگانہ اصطلاحات اور ادائیگی کے علاوہ نشست و برخاست کے مقررہ متعینہ اصول و ضوابط اور آداب ہیں۔ مثلاً ایک خاص طریقہ پر گھٹنے سامنے رکھ کر بیٹھا جاتا ہے اور تکیہ پر [جزوی متن غیر واضح] جنہیں “بستہ” کہتے ہیں۔ ہمنوا ساتھیوں کو بازو اور لیڈ / استاد کو “سوزخواں” کہتے ہیں۔ ایک سوزخواں کا آغاز کیا جاتا ہے “آمد”

37

No transliteration available for this page.

کہا جاتا ہے۔ اس کے اجزاءِ کلام میں قطعہ، رباعی، سوز، سلام، بین اور مرثیے شامل ہیں اور ان میں ہر ایک کی ادائیگی کا مختلف انداز ہوتا ہے۔ عام گھریلو اور خواندانی کی سوزخوانی اگرچہ تقلیدی قسم کی محض اظہارِ عقیدت اور پر ہے لیکن جن میں زیادہ فنی اہتمام نہیں کیا جاتا، تا ہم سوزخوانی کی بندش، سوزوں / مرتب کرتے وقت کلام کے مزاج و تاثر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ معیاری و مستند کلام صحیح مخارج سمیت تلفظ و ادائیگی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ماہرینِ فن ادائیگی کے وقت، ماحول، موقع، محل، وقت، موسم اور حاضرینِ مجلس یعنی سامعین سب ہی کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ تا ہم راگ راگنی اور سروں کا استعمال حسبِ ضرورت بہت احتیاط اور مہارت سے کیا جاتا ہے تاکہ اصل مقصد کلام و پیغام کا ابلاغ ہے، نہ کہ موسیقی کی مہارت کا اظہار۔ موسیقی و گائیکی میں محض آواز و ریاض کافی سمجھے جاتے ہیں لیکن سوزخوانی کے لئے خدا داد آواز یعنی خوش الحانی کے ساتھ ریاض اور سوزِ دل بھی درکار ہوتا ہے۔ اس میں ایک ہی کلام میں انتہائی جملے اور انتہائی اونچے سر بھی استعمال ہوتے ہیں اور ایک وقت سیدہ زہرا کا جگرناک فریاد کا بھی بھرپور اور سوزخواں استعمال ہوتا ہے۔ راگ راگنیوں اور سروں کا استعمال سوزخوانی میں بنیادی اہمیت کلام و پیغام کی ہے کہ اصل مقصود مدعا ابلاغِ کلام ہے۔ تا ہم کلام کو مؤثر طور پر سامعین تک پہنچانے، اسے قابلِ قبول بنانے، انہیں جوش و [لفظ غیر واضح] اور [لفظ غیر واضح] ملتفت کرنے کیلئے کلام و پیغام کی موزونیت و مناسبت پر نظر رکھ کر “بندش” (طرز) موزوں / مرتب کی جاتی ہے۔ کبھی کلام کو دیکھ کر سوزوں، راگ راگنیوں اور سروں کا نہایت محدود و محتاط استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی راگ راگنیوں کے تاثر کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب کلام تلاش منتخب کیا جاتا ہے۔ چونکہ سوزخوانوں کے پیش نظر نتیجتاً کلام کا ابلاغ ہوتا ہے اس لئے سروں کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے اور نہ اہتمام و التزام کی کلام کی ابتدائی و غالب بندش کی ترتیب ہی میں نہیں بلکہ بوقتِ ادائیگی بھی بطورِ خاص ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ یعنی موقع، محل، موسم، وقت و مقام اور ماحول و سامعین کے اعتبار سے معمول اور ضروری اتار چڑھاؤ میں تبدیلی بھی کی جاتی ہے۔ تا ہم فوقیت و ترجیح کلام و پیغام ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ اگر کلام و پیغام بیانِ فضائل پر مشتمل یعنی بہاریہ ہو تو بندش میں [الفاظ جزوی طور پر غیر واضح] شامل کر دیا جاتا ہے، اور اگر بیانِ مصائب ہو تو [جزوی متن غیر واضح] پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے بعض اوقات معروف راگ راگنیوں میں ناتوں قسم کی غیر معمولی تبدیلیاں بھی کی جاتی ہیں اور اس ایجاد و اختراع (ترمیم و اضافہ) یا انحراف سے راگ ادائیگی کی تنقید و معلوم اور شخصی و قانون شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یا کسی صورت / شکل سامنے آتی ہے اور شعوری و ارادی کوشش سوزخوانی میں بطور خاص کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذۂ فن سوزخوانی کی اکثر بندشوں کے تعین اور راگ راگنی کی شناخت میں ماہرین و اساتذۂ موسیقی میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک ہی بندش کے بارے میں نہ صرف راگ راگنی بلکہ بعض اوقات تو “ٹھاٹھ” کے تعین و تشخیص اور شناخت میں بھی اختلافِ رائے پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ماہر فن سوزخواں حضرات کسی راگ یا ٹھاٹھ کی غالب تاثر کو توڑ کر بندش مرتب و موزوں کرتے ہیں اور کلام و پیغام سے مطابقت نہ رکھنے والے سروں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ بقول شاعر و ادیب و دانشور اور ماہر فن موسیقی سید

38

No transliteration available for this page.

مہدی ظفر عزیز علیہ الرحمہ: ہر ذکرِ شہ تو خدا دور پاک کر پہلے نوائے غم کے گریباں کو چاک کر پہلے رہے ذرا بھی نہ آلائشِ طرب باقی سروں کو سوز کے دریا میں پاک کر پہلے تو اب آلائشِ طرب کو بالکل ہٹانے اور سروں کو سوز کے دریا میں پاک کرنے کا عمل اس قدر اہم ہے کہ جب تک فنی تقاضوں اور تکنیکی لوازمات اور مقصدیت سے بھی مکمل طور پر آگاہی نہ رکھا ہو۔ بہرحال ٹھاٹھ اور راگ راگنی میں اس شعوری و ارادی تبدیلی کے علاوہ سوزخوانی کے نقد کے پیش نظر بھی احتیاطاً اکثر سوزخواں حضرات بندشوں کی فنی و تکنیکی تعیین و تشخیص کی بحث میں نہیں پڑتے، اگرچہ تمام فنی تقاضوں اور تکنیکی لوازمات کو خوب سمجھتے اور برتتے ہیں مگر اظہار و اعلان نہیں کرتے، بلکہ کچھ پوچھیں تو باذوق عزادار اور سامعین کی ان فنی باریکیوں کا خوب خوب ادراک و احساس کر رکھتے اور ان سے مستفید و محظوظ و شاداب ہوتے ہیں۔ (بالکل اسی طرح کہ جیسے ہم اذان و حسنِ قرأت کے بارے میں راگ راگنی اور ٹھاٹھ کی بحث میں نہیں پڑتے اگرچہ یہ مقدس فنون بھی تکنیکی لوازمات سے بھرپور ہوتے ہیں، لیکن انہیں اپنے چاہنے اور سیکھنے والوں کے برتنے کے پیمانے اور معیارات و اصطلاحات جداگانہ ہیں۔) یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہر سوزخواں کیلئے راگ راگنی کی باقاعدہ تعلیم و تربیت اور مہارت ضروری نہیں ہے۔ تا ہم علم و ادب، تاریخ و مذہب، صحیح تلفظات و مخارج اور ضروری فنی و تکنیکی آگاہی سے الگ شخصیت اور ادائیگی میں علیحدہ [جزوی متن غیر واضح] کہا جاتا ہے اور ایک مکمل سوزخواں، ایک مثالی مذہبی انسان بھی ہوتا ہے۔ تا ہم کلام کا انتخاب کرنے اور بندش موزوں کرنے والے کیلئے اس قسم کی علمی و تکنیکی مہارت ضروری ہے جو اسے کامل سوزخواں اور “استاد” بناتی ہے۔ معیاری و مستند سوزخوانی اور مکمل سوزخواں / استاد کی تعریف (فنِ سوزخوانی میں) جو سوزخواں موقع، محل اور شخصیت کی مناسبت سے ہو، کلام شاعری بھی مستند ہو اور بندش بھی اس کی مطابقت و موزونیت سے ہم آہنگ ہو، دل و دماغ گرم ہو جائے، کانوں کو بھلی لگے، مزاج میں تازگی و بالیدگی محسوس ہو، اسے سننے، پڑھنے اور دہرانے کا جی چاہے، اور ہر کس اس کے بغیر محنت و تیاری اور مشق و ریاضت کے نہ پڑھ سکے، تو وہ سوزخوانی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق ہو وہ معیاری و مستند سوزخوانی کہلانے کا حق رکھتی ہے۔ اگر استاد اور بازو ساری سوزخوانی اول تا آخر ایک ساتھ ہم آواز ہو کر پڑھ رہے ہیں تو استاد کی مہارت میں کوئی کمی ہے یا پھر بازو بھی اتنے ہی ماہر و اہل ہیں؟! یوں تو ہر شخص کیلئے اس کا پسندیدہ سوزخواں اور ماہرِ گر کے لئے ان کا استاد اور بانی کا سربراہ (سر / لیڈر) استاد کا درجہ رکھتا ہے، لیکن اصطلاحی اور فنی و تکنیکی طور پر استاد کہلانے کا مستحق ایسا مکمل سوزخواں ہے جو سوزخوانی کے ہر جزو (حصہ مثلاً قطعہ، رباعی، سوز، سلام، بین اور مرثیہ) کی ادائیگی کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو، مکمل خواندہ بند کر کے کلام ہو، [جزوی متن غیر واضح] راگ، آواز و موسیقی کے اتار چڑھاؤ اور بازوؤں کے ساتھ ہر وقت، ہر جگہ، کسی بھی مجلس میں سوزخوانی کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہو، وہ مکمل سوزخواں ہے۔ استاد ہونے کیلئے مزید کچھ اضافی خصوصیات و صفات

39

No transliteration available for this page.

(مہارتیں) درکار ہوتی ہیں، مثلاً وہ تمام علوم و مروجہ اور موجودہ مستند کتب کی سوزخوانی اور اندازِ ادائیگی پر نظر رکھتا ہو۔ خود بھی فنی ادائیگی کی کچھ نہ کچھ صلاحیت ضرور رکھتا ہو۔ عزاداری (علم و ادب و تاریخ اور تلفظات و مخارج) اور موسیقی کے باہمی تعلق و تلازم اور کلام و بندش کی مطابقت سے باخبر ہو اور خوشی کے تجربہ بندش مرتب و موزوں کر سکے، گویا تقلید و ایجاد و اختراع کی صلاحیت اور ادائیگی کی کمی قدرت و مہارت رکھتا ہو، وہی حقیقی استاد کہا سکتا ہے۔ سوزخوانی کا شرعی جواز یہ بہت دلچسپ اور حساس بحث ہے جبکہ سامع صوتی علوم و فنی سے وابستہ افراد کو پیچید رہتا ہے۔ بلکہ بعض تقدیر و سخت گیر طبقات تو حسنِ قرأت و اذان، نعت خوانی، نوحہ خوانی اور بالخصوص سماع و قوالی اور حبِ اہل بیت سے متعلق افراد کو بھی ہدفِ تنقید و ہر ملامت بناتے رہتے ہیں۔ متعلقہ حضرات نے اگر محاذی مواقف و مخالفت میں بڑی جامع بحثیں کی ہیں، جیسا کہ یہاں موقع ہے نہ ضرورت۔ (اگرچہ ہم نے بھی اپنے متعدد اخباری مضامین، مطبوعہ روزنامہ جنگ کراچی وغیرہ، کے علاوہ اپنی تحقیقی و تکنیکی کتاب “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” اور شہر آغاز “بستہ” میں اس پر مفصل بحث کی ہے) مگر ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ “حسنِ صوت و خوش الحانی، موہبِ ربانی و عطیۂ خداوندی اور معجزۂ پیغمبری ہیں۔ ساری اچھی آوازیں ‘غنا’ اور حرام نہیں ہیں بلکہ اس میں اگر اپنے کلام و پیغام اور مقصد و تاثیر اور اثرات کے پیش نظر عبادت و سعادت اور موجبِ اجر و ثواب بھی ہیں۔ خوش الحانی و حسنِ صوت اور غنا میں باقاعدہ حدِ فاصل و خطِ امتیاز موجود ہے۔ بالعموم قرأت و اذان اور نعت و نوحہ و سوزخوانی میں جو ترنم (اور حسنِ صوت و خوش الحانی) مستعمل ہے وہ قطعاً جائز اور ثواب ہے۔ سوزخوانی کا تو بھی امتیاز ہے کہ اس میں کلام بھی مستند و معیاری ہوتا ہے اور بندشیں بھی (شرعی و سماعی سے پایا بازاری اور فلمی رقصوں کا تاثر تک نہیں ہوتا)۔ سوزخوانی کی بندشیں اور اجزاء (اشعار) فنونِ لطیفہ میں گائیکی ہی وہ واحد فن ہے کہ جس میں بنیادی مواد Raw Material (یعنی خام مال) باصرہ سے اور موجود Physical & Visible نہیں ہوتا اور سر گویا ہوا میں گم ہو رہے ہیں۔ لگانے کا نام ہے۔ پھر عام گائیکی و گلکاری میں کلام کا مزاج و تاثر مخصوص و متعین، یعنی ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ مثلاً خیال ہے، ٹھمری، دادرا، گیت، غزل یا قومی و ملی نغمہ وغیرہ میں بھی، بندش کی کلام حمد و نعت و منقبت یا مناجات، کلام اور قوالی وغیرہ میں بھی کلام کا مزاج و تاثر ایک ہی ہوتا ہے، یعنی زیادہ تر حزن و ترنم کی تو محکی یا روحانی قسم۔ اسی طرح نوحہ بھی بیانِ مصائب و گریہ انگیز نوعیت کا ہوتا ہے جبکہ سوزخوانی میں پڑھا جانے والا کلام مذکورہ بالا تمام مزاج و تاثرات کا حامل ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک ہی کلام میں بھی یہ سب تاثرات موجود ہوتے ہیں جبکہ ظلم و جبر اور کلام و جابر قوتوں کے خلاف احتجاج و مذمت بھی اس میں شامل ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی بندش میں ان تمام جذبات و احساسات اور ہر قسم کے مزاج و تاثرات کو ظاہر کرنے والے سروں کا اہتمام و التزام کیا جاتا ہے، جس کی ترتیب و بندش اور طرز و ادائیگی میں نہایت مہارت و چابکدستی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے سوزخواں کیلئے اونچے اور نچلے سروں کی ادائیگی کی صلاحیت اور آواز و ریاض کے ساتھ سوزِ دل بھی بنیادی و لازمی صفات قرار دی گئی ہیں۔ بالعموم قطعہ، رباعی، سوز، بین اور مرثیہ کا مزاج و تاثر تو مجموعی طور پر ایک ہی سا ہوتا ہے، یعنی بہاریہ

40

No transliteration available for this page.

ہوتے ہیں۔ یوں ہم سوز اور مرثیہ کو سوزخوانی کے لازمی و بنیادی اجزاء قرار دے سکتے ہیں۔ اگرچہ سلام بھی ایک اہم رکن ہے جس سے مجلس اور سوزخوانی میں رونق اور خوبصورتی آ جاتی ہے۔ تاہم بوقتِ ضرورت اسے محدود یا نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ سوز اور مرثیہ بہرحال سوزخوانی کے لازمی اجزاء ہیں جن کے بغیر سوزخوانی اور مجلس نامکمل اور تشنہ سمجھی جاتی ہے۔ رباعی / قطعہ سوزخواں سب سے پہلے بہاریہ یا عارفانہ کلام و پیغام پر مبنی رباعی / قطعہ پڑھتا ہے۔ رباعی تو ہوتی ہی چار مصرعوں پر مشتمل ہے تاہم قطعہ بھی بالعموم دو اشعار پر مبنی ہوتا ہے۔ پہلے بہاریہ و مدحیہ کلام پڑھا جاتا ہے، اس کے بعد المیہ و مدحیہ۔ عام طور پر رباعی و قطعہ اور بہاریہ و مدحیہ کلام ہی پہلے پڑھا جاتا ہے، جس کے بعد سوز کا نمبر آتا ہے۔ (رباعی اور قطعہ میں باعتبارِ ادائیگی کوئی فرق نہیں بلکہ شاعری کا تکنیکی فرق ہے۔) بالعموم اس میں بھی سوزخواں اپنے بازوؤں سے الگ تمام کلام تنہا ادا کرتا ہے اور کلام کے پیغام و مزاج کے مطابق بندش موزوں / منتخب کرتا ہے۔ سوز “سوز” دراصل مسدس / مرثیہ کا چھ مصرعوں پر مشتمل ایک بند ہوتا ہے، تاہم دو یا تین بند بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ بالعموم سوز میں بھی بازو اسے دہراتے ہیں اور سوزخواں تنہا کلام کی ادائیگی کرتا ہے۔ کلام زیادہ تر نغمگی و بیانِ مصائب پر مشتمل ہوتا ہے۔ سوزخوانی میں اسے انتہائی اہمیت اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سوزخواں اگرچہ قطعہ، رباعی، سلام، مرثیہ سب ہی کچھ پڑھتا ہے مگر کہلاتا سوزخواں ہے اور کسی سوزخواں کو جانچنے یا چاہنے کا بنیادی پیمانہ سوز ہی ہوتا ہے۔ طرز یا گائکی و بین (الاپ) لیکن “سلام” میں مختلف و متضاد قسم کے اشعار و تاثرات شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس کی شایانِ شان بندش مرتب و موزوں کرنا اور اسے اس کے استحقاق (Merit) پر ادا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ (ہمارے بستے کے تمام سلام اپنی بندش اور ادائیگی کے اعتبار سے جداگانہ و منفرد حیثیت و تاثرات کے حامل ہیں۔) اس میں سوزخواں کو کبھی اپنی آواز میں تکنیکی زیر و بم شامل کرنا پڑتا ہے تو کبھی حزن و ملال کی کیفیت، کبھی موسیقی انداز اختیار کرنا پڑتا ہے تو کہیں رزمیہ یا حماسی و احتجاجی۔ گویا ایک ہی کلام و بندش میں سارے انگ رنگ اور تاثرات کا بھرپور و مؤثر اظہار کرنا پڑتا ہے جو بھرپور فنی و تکنیکی مہارت کا متقاضی ہے۔ سوزخوانی کے اجزائے [غیر واضح] سوزخوانی مجلسِ عزا کا نقطۂ آغاز اور گریہ و الحرام کی مانند ہے۔ دوسرے مقامات میں اسے اذان و اقامت کی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم برصغیر کے اردو داں عزاداروں میں اسے لازمی و بنیادی اہمیت، مجلسِ عزا کا نقطۂ آغاز اور گریہ و الحرام کا درجہ حاصل ہے۔ یوں تو مجلسِ عزا کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید و حدیثِ کساء سے بھی کیا جاتا ہے لیکن مجلس کا باقاعدہ آغاز سوزخوانی سے ہوتا ہے۔ سوزخوانی میں رباعی، قطعہ، سوز، سلام، بین اور مرثیہ پڑھا جاتا ہے۔ تاہم ضروری نہیں ہے کہ ہر مجلس میں یہ تمام ارکان ادا کئے جائیں۔ اگر یہ تمام ارکان ادا کئے جائیں تو مکمل سوزخوانی کا معیاری دورانیہ Standard Time تقریباً آدھا گھنٹہ ہوتا ہے۔ لیکن اب چونکہ مجلس کا دورانیہ بہت محدود ہوتا جا رہا ہے تو موقع و محل کی مناسبت سے ان ارکان میں کمی کرنا ضروری ہو جاتا ہے اور بالعموم ایک سوز اور مرثیہ کے چند بند پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔

41

No transliteration available for this page.

سلام / بین بعض کلام و شاعری اور ادائیگی کے اعتبار سے سلام یا قطعہ، رباعی، سوز، مرثیہ کا نام نہیں دیا جا سکتا، لیکن چونکہ شاعری و ادائیگی کے لحاظ سے وہ تکنیکی طور پر سلام اور نوحہ سے قریب تر ہوتا ہے اور سوزخوانی کے دوران درمیان اس جگہ پڑھا جاتا ہے کہ جہاں سلام پڑھا جاتا ہے، اس لئے بھی اسے سلام کا قائم مقام یا متبادل قرار دیا جا سکتا ہے، جسے ہم نے “بین” کا نام دیا ہے۔ مثلاً ہمارا پرانا اور یہ کلام: کہیں بازو میں سسک رہی ہوں کہاں۔۔۔ بندش کے اعتبار سے آپ اسے سوزخوانوں کا نوحہ یا نوحہ خوانوں کی سوزخوانی قرار دے سکتے ہیں۔ مرثیہ سے پہلے سلام کا نمبر آتا ہے لیکن چونکہ فضائل و مصائب دونوں ہی ہوتے ہیں اس لئے اس کی بندش میں دونوں اندازِ ادائیگی، یعنی اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ بندش ایسی ہو جو فضائل و مصائب، مدحیہ، بہاریہ والے ہر طرح کی ادائیگی کا حق ادا کر سکے۔ اس میں حسبِ موقع چار سے دس اشعار تک پڑھے جاتے ہیں۔ اس میں کچھ کلام مثلاً مصرعِ اولیٰ کا پہلا جزو یا پورا مصرعہ اس کا حصہ سوزخواں تنہا ادا کرتا ہے، قافیہ بھی بازو ساتھ بولتے ہیں، یعنی مصرعِ اول اور ہم آواز ہوتے ہیں۔ مثلاً کلام کا آغاز یعنی مطلع کا پہلا مصرعہ یا اس کا ابتدائی حصہ سوزخواں تنہا پڑھتا ہے۔ اسی طرح ہر شعر کا پہلا مصرعہ یا اس کا ابتدائی حصہ سوزخواں تنہا ادا کرتا ہے، پھر تمام بازو ساتھ پڑھتے ہیں۔ یہ بڑا بھرپور اور مؤثر جزو / رکن ہوتا ہے جس سے مجلس اور سوزخوانی میں بڑی رونق آ جاتی ہے۔ تاہم وقت کی کمی کے پیشِ نظر اسے نظر انداز یا مختصر و محدود کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات مرثیہ کی بجائے بین یا سلام کے پہلے ہی اشعار پر بھی سوزخوانی ختم کر دی جاتی ہے اور مرثیہ کی نوبت و کیفیت نہیں ہو جاتی ہے۔ مرثیہ سوز کے بعد اسے بنیادی اہمیت اور کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ قطعہ، رباعی، سلام حتیٰ کہ سوز بھی نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر مرثیہ کے بغیر بالعموم مجلس اور سوزخوانی نامکمل اور تشنہ رہ جاتی ہے۔ خواہ تین چار بند ہی پڑھے جائیں مگر حسبِ ضرورت، موقع و محل کی مناسبت سے مرثیہ پڑھنا ضرور چاہئے۔ مرثیے سے قبل سوزخواں اپنی فنی مہارت اور تکنیکی ریاض و ریاضت اور تیاری و استادی کا مظاہرہ کر چکا ہوتا ہے اور مرثیہ میں فنی صلاحیت و استعداد کی بجائے صرف پُرسوز مقصد ہوتا ہے۔ مجلس کی شخصیت یا موضوع کی موزونیت و مناسبت کے مطابق تین سے دس بند تک ادا کئے جاتے ہیں اور اصل مقصد لعنت پر [غیر واضح] اور گریہ و بکا ہوتا ہے، جسے کامل مجلس قرار دیا جاتا ہے۔ ایکس سوزخواں اور تمام بازو بھرپور طور پر ہم آواز ہو کر زور و مؤثر انداز اور بلند آہنگ میں کلام کی ادائیگی کرتے ہیں اور اس صرف کلام شروع کرنے کیلئے چند سیکنڈز کی حد تک [غیر واضح] ہوتی ہے، مگر بعض بزرگوں کے اساتذہ مرثیہ میں بازوؤں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کچھ سے آہ اور کچھ سے کلام کی ادائیگی کا کام لیتے ہیں۔ تاہم بالعموم مرثیہ میں آج کا رواج نہیں ہے اور ساری توجہ کلام کی ادائیگی، بیانِ مصائب اور تربیت پر مرکوز ہوتی ہے۔ بعض مقامات اور گھرانوں میں سوزخوانی اور مرثیہ خوانی اپنی ادائیگی کی وجہ سے فنی و تکنیکی طور پر دو مختلف چیزیں تصور کی جاتی ہیں۔ سوزخواں و مرثیہ خواں کے فرق کو ادھورا ہونے والے جو [غیر واضح] کہتے ہیں۔ یہاں “سر” کے ساتھ پڑھنے والوں کو سوزخواں کہا جاتا ہے مگر یہ سکہ بند بحث ہے۔

42

No transliteration available for this page.

ان اجزاء / اصنافِ سوزخوانی کے عملی مظاہرے کے لئے نصابِ سوزخوانی ملاحظہ فرمائیں۔ انتخابِ کلام سوزخوانی میں ہمیشہ مستند و معیاری کلام پڑھا جاتا ہے اور ضعیف، عامیانہ یا مناثرہ انداز سے پرہیز برتا جاتا ہے۔ انتخابِ کلام اور بندش کی ترتیب میں بڑی احتیاط اور اہتمام سے کام لیا جاتا ہے۔ جدید مرثیے اور مسدس میں مثلاً اور پُرسوز کم ہوتا ہے اور فکر و فلسفہ زیادہ، اس لئے بالعموم جدید شعراء کی بجائے قدیم اساتذہ کے کلام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تاہم بعض جدید شعراء نے بھی سوزخوانی اور سوزخوانوں کی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے شہادت، بین اور پردہ پر مبنی کلام بھی کہا ہے جو سوزخوانی میں پڑھا جاتا ہے۔ ایسا کچھ کلام آپ کو زیرِ نظر “بستہ” میں بھی ملے گا۔ اصطلاحاتِ سوزخوانی صوتی علوم و فنونِ اسلامی میں قرأت و قوالی اور بالخصوص عزائی فنون میں صرف سوزخوانی ہی وہ شعبہ / صنف ہے جسے باقاعدہ علم و فن کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی مختلف اصناف / اجزاء اور ارکان ہیں، ادائیگی کے اعتبار سے علیحدہ و جداگانہ، منفرد و مخصوص گھرانے اور خاندان ہیں جنہیں اصطلاحاً “بستے / [غیر واضح]” کہا جاتا ہے۔ عزاداری کی تمام اصناف و ادائیگی میں باقاعدہ فن کا درجہ صرف سوزخوانی کو حاصل ہے۔ اس کی اپنی اصطلاحات بھی جداگانہ اور مختص ہیں۔ مثلاً: سوزخواں چوکی یا مسند پر دو زانو بیٹھتا ہے اور اس کے آگے تکیہ رکھا ہوتا ہے جو بالعموم سیاہ غلاف اور مقدس اسماء، رباعی یا شعر وغیرہ سے مزین و منقش ہوتا ہے۔ استاد (لیڈر)، جسے سوزخواں یا “سر” کہتے ہیں، درمیان میں اور ہمنوا / ساتھی دائیں بائیں اور دو سے زیادہ ہوں تو عقب میں بیٹھتے ہیں، جنہیں “بازو” کہا جاتا ہے۔ ایکس کلام کی ڈائری کو ریاض کی بجائے “بستہ” کہا جاتا ہے۔ اور یہی اصطلاح سوزخوانی کے دبستان (گھرانے) کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ سوزخوانی میں دھن، کمپوزیشن، طرز کیلئے جو اصطلاح استعمال ہوتی ہے اسے “بندش” کہتے ہیں۔ اس احتیاط و اہتمام و التزام و استادی کی وجہ سے بھی اسے جداگانہ، مختلف و ممتاز اور شخصی مقدس علم و فن کا درجہ حاصل ہے، لیکن یہ امتیاز و شرف اور انفرادی حیثیت عام گھریلو اور زمانی سوزخوانی کی نہیں، صرف قدیم روایتی تکنیکی فنی درجہ سوزخوانی کی ہے۔ سوزخوانی کیلئے ضروری لوازمات اور چند امتیازات گائیکی موسیقی سے شاذ و ناخود ہونے کے باوجود اپنے تقدس، مقاصد اور ادائیگی کے اعتبار سے بھی سوزخوانی ایک منفرد و ممتاز و شخصی مقدس اور مختلف و مشکل علم و فن ہے۔ سوزخواں کیلئے خداداد صلاحیت و حیثیتِ آواز یعنی “خوش الحانی” اور خوش گلو ہونے کے علاوہ مناسب “مشق و ریاض” بلکہ ریاضت بھی ضروری ہے اور محض آواز کی سوز ویت و فنی مہارت کافی نہیں ہے بلکہ “سوزِ دل” بھی ضروری ہے۔ جب تک پیغام و کلام اور مقصد و اہلبیت سے محبت یعنی ذاتی تعلق اور ادائیگی Involvement نہ ہو سوزخوانی کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ گائیکی کے کسی بھی شعبے میں بیک وقت تارک اور بین / زیر و بم وغیرہ کا استعمال نہیں کرنا پڑتا جبکہ سوزخواں کو ان سب کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور سب سے نچلا [غیر واضح] بھی استعمال کرنا پڑتا ہے اور سب سے اونچا سُر بھی۔ کلام و پیغام کے مزاج و تاثر اور مقصدیت کو ملحوظ رکھ کر ہی ادائیگی اور سوزخوانی کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور سروں کا انتخاب و استعمال نہایت باریکی اور احتیاط سے کیا جاتا ہے۔

43

No transliteration available for this page.

احتیاط سے محض کلام و پیغام کی موزونیت و مطابقت کو ملحوظ رکھ کر کیا جاتا ہے اور بندش کے انتخاب و ترتیب میں کلام و پیغام اور الفاظ کو بنیادی و لازمی اہمیت و حیثیت حاصل ہوتی ہے اور شایانِ شان بندش مرتب و موزوں کی جاتی ہے۔ سوزخوانی کی بندش مرتب تمام اصنافِ ادائیگی و گائیکی سے مختلف و مشکل ہوتی ہے اور غیر ضروری [غیر واضح] کے کاری رنگینی اور تان بازی سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ سوزخوانی کا آغاز و ارتقا اور مختلف خاندان و دبستان (بستے) چونکہ یہ ایک غیر اطلاقی بحث ہے اور عام سوزخواں کیلئے اس کا جاننا زیادہ ضروری بھی نہیں ہے اس لئے ہم نے یہاں بھی اس سے صرفِ نظر کیا ہے۔ تاہم ہمارے مختلف مضامین و مقالات اور کتاب و مجلہ “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” میں یہ موضوعات زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ اس منتخب مجموعہ کے قارئین کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ [متن جزوی طور پر غیر واضح] کے اجراء سے پیش کی جانے والی تمام اصنافِ عزا کا طریقۂ آغاز وہی خاندانی / روایتی تھا جو مدینہ و مکہ کے موقع پر امام حسینؑ سے [نام غیر واضح] نے پیش کی تھی یا پھر [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ اس کے بعد مختلف علاقوں، بالخصوص اودھ، لکھنؤ، آگرہ، پنجاب اور دیگر مقامات میں مختلف انداز سامنے آئے۔ ان بستوں کے موجودہ مسند اور بانی بالعموم وہ لوگ ہیں جو موسیقی و عزاداری دونوں سے گہری واقفیت اور دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض سادات اور اثنا عشری (عطائی) تھے تو بعض غیر سادات اور صاحبِ میراث۔ بہرحال وہ اثنا عشری و واقف ہوں یا خاندانی اور میراثی، سب کے مقاصد اور مراتب اپنی اپنی جگہ یکساں اور مسلم ہیں۔ ان میں بعض کی وجہِ شہرت و شناخت موسیقی و گائیکی ہے اور بعض کی محض عزاداری و سوزخوانی۔ یہ ایک علیحدہ موضوع اور طویل فہرست ہے اور اس مجموعہ کیلئے غیر ضروری بھی۔ تاہم سوزخوانی کے آغاز و ارتقا اور مختلف اداروں کی تفصیلی بحث سے قطعِ نظر کرتے ہوئے چند ضروری اور بنیادی معلومات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ سوزخوانی کا آغاز و ارتقا رجب علی بیگ سرور ہوں یا محمد حسین آزاد (فسانۂ عجائب / آبِ حیات)، ڈاکٹر سید سکندر آغا (سوزخوانی) ہوں یا محمد علی خان (تذکرۂ ذاکرین)، ڈاکٹر افضل امام ہوں یا سید اسرار حسین خان (مہرستانِ اودھ)، کوثر محمد ہاشم زیدی (تاریخِ شیعہ اور لکھنؤ)، سوزخوانی کے آغاز و ارتقا کے بارے میں ان کے بیانات میں خاصا تضاد، اختلاف اور ابہام پایا جاتا ہے۔ مذکورہ حضرات کے علاوہ دیگر محققین اور تذکرہ نگاروں نے سوزخوانی کی بجائے سوزخوانوں اور مرثیہ خوانوں پر گفتگو کی ہے اور کسی قدر اپنے ذاتی خیالات و نظریات کو ترجیح دی ہے۔ محمد علی خان مولوی یادگار خان صاحب [متن غیر واضح] نے [غیر واضح] جو میر انیس لکھنؤ سے 1213ھ میں شائع ہوا، جنہوں نے عہد بہ عہد عزاداری اور بالخصوص سوز و مرثیہ خوانی پر روشنی ڈالی۔

44

No transliteration available for this page.

روشنی ڈالی اور غیر مقالی قطب شاہ کے عہد کو سوزخوانی کا آغاز قرار دیا، یعنی تقریباً ایک ہزار برس ہجری سے سوزخوانی کا آغاز ہوا۔ ان کے بعد بارہویں صدی کے اختتام اور تیرہویں صدی کے آغاز سے سوزخوانوں کا سلسلہ تذکرہ کیا گیا اور ان سوزخوانوں کو بطورِ خاص شامل کیا گیا: چندو بی بی (سقّا بانی)، خوشحال خان، فاضل خان، حسن، سید ولی، سید غلام اصغر، کریم، حاجی محمد خان، قائم علی، مرزا عباس، وزیر علی، سید عباس، میر اسد علی، میر حسن علی، آبا خان، جمال خان، نفیس خان، حسن خان، عظمت علی، حسین علی، میر علی، سید دلدار علی، سید زین العابدین علی، سید علی علی، مدار، مونس علی، ایمن شرقی حسین، غلام علی، مرزا حیدر بیگ، محمد اللہ، مونس علی، تراب علی خان، خادم حسین، مراد علی خان، حیدر علی، شجاعت علی، یعقوب علی، مرزا علی خان، سید آفتاب حسین، سید تعشق حسین، سید باقر حسین، کالے خان، سید محمد عباس، گھرّو خان، سید میر علی، خدا حسین، عباس حسین، سید عباس حسین، سید قدرت حسین (خورد)، سید قدرت حسین (کلاں)، عباس علی خان، پچّو خان، چوہدری خان، کاظم علی، ابراہیم علی، غلام حسین، ابراہیم علی خان، سید ولایت علی، دوست علی خان، میر محمد علی، سعادت علی، حکیم میر داد علی، وزیر علی، شار حسین، سید عابد حسین، سید مصطفیٰ حسین، جہانگیر علی، حسین علی، بادر خان، سید سراج احسن، سید وحید حسین، سید محمد حسین، سید شکری حسین، سید غلام سجاد، سید منصور حسین، سید شفقت حسین، سید حیات علی، میر مومن علی، مصباح علی، کاظم علی، حاجی حسین، رضا حسین، محمد علی، اختر حسین، عباس علی وغیرہ۔ ان سوزخوانوں کے علاوہ افضل تذکرہ نگار نے ان کے بازوؤں اور شاگردوں کے نام بھی تحریر کئے ہیں۔ جو مذکورہ کتاب میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ (یہ کتاب کراچی کے معروف بزرگ فنی سوز و مرثیہ خوان اور شاعر خادم علی بازو بھائی کے پاس محفوظ ہے۔) اس کتاب میں لکھنؤ اور دیگر مقامات کی سوزخوانی اور سوزخوانوں کا تذکرہ بھی ضمنًا موجود ہے اور لکھنؤ کی سوزخوانی اور سوزخوانوں میں میر خدا علی وجیہ، مرزا اچّھے صاحب، عابد علی لکھنوی، سید سجاد حسین لکھنوی، نادر لکھنوی، محبوب صاحب لکھنوی، بندہ حسن لکھنوی اور دیگر سوزخوانوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے میر خلیق اور انیس و دبیر کے عہد کے معروف ماہر فن سوزخواں میر علی صاحب نے سب سے پہلے پانی گائیکی اور سوزخوانی کو الگ کر کے متعارف ان میں امتیاز بلکہ سوزخوانی کو انفرادیت اور کمال بھی بخشا۔ رجب علی بیگ سرور نے بھی انہی میر علی صاحب کو سوزخوانی کا اولین مستند استاد تسلیم کیا ہے۔ جبکہ ڈاکٹر افضل امام کے بقول میر علی کی تربیت لکھنؤ کے سوزخوان حیدری خان نے کی تھی۔ جبکہ سید اسرار حسین خان نے مہرستانِ اودھ کے تذکرہ میں ناصر خان ثانی کو میر علی حسن اور ان کے بھائی میر بندہ حسن کا استاد قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں بعض محققین میر احمد کو میر علی کا استاد اور بعض میر احمد کو میر علی کا شاگرد قرار دیتے ہیں۔ جبکہ مولانا عبدالحلیم شرر اور ہاشم زیدی کے بقول حفیظ خواجہ حسن مودودی اس فن کے موجد و بانی ہیں۔ ڈاکٹر سکندر آغا کے بقول خواجہ میر درد کے نواسے میر علی اور میر بندہ حسن ہی سوزخوانی کے اولین مستند اساتذہ ہیں۔ جن کے بعد میر مہدی حسن جنگ، بیگ استاد سید سجاد حسین، نواب [نام غیر واضح]، نواب [نام غیر واضح] مرزا نے فنی سوزخوانی کو کمال بخشا۔ جبکہ احمد علی شاہ کے دربار سے وابستہ میر [نام غیر واضح] کی تین بیٹیاں یا نواسیاں حیدری بیگم، محمدی بیگم اور سخی بیگم بھی اس فن کی ابتدائی ماہرین میں سے ہیں۔

45

No transliteration available for this page.

میر علی کے بعد جن سوزخوانوں کا تذکرہ ملتا ہے ان میں میر احمد، احمد علی خان، میر زکی، سلطان علی خان، میر مہدی حسین، محمد رضا خان، سید سجاد حسین، نادر صاحب، نواب اچھے صاحب، میر زکی کے بھانجے اور شاگرد میر محمود، میر محمود کے فرزند میر علی محمد اور پھر بڑے آفتاب اور حالِ ثانی میں نواب پیارے والے [نام غیر واضح] بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر سید سکندر آغا نے حضرت علامہ سید عقیل الغروی کی تحریک و تشویق پر مرتبہ تحقیقی کتاب “سوزخوانی” میں ان سوزخوانوں کا تذکرہ کیا ہے: سید آباد جعفر نقوی و سید سبط جعفر زیدی اور ظہور چارچوی (پاکستان)، سید ابرار حسین مرحوم، سید اختر امام، اختر جہاں، اسحاق حسین رضوی، آفاق حسین پاروی، سید آل حسن مرحوم، اولاد حسین آدم مرحوم، سید امیر حیدر مرحوم، بے صاحب محترم، نواب بنے صاحب مرحوم، سید توفیق حسین، ثروت حسین، چوہدری بیگم، چنبی سرور پاشا، سید حسن نقلی، حسن جعفر مرحوم، حسن رضا، حیدر بخش، حیدر یعقوب، رضا حسین مرحوم، سید رضی مرحوم، زینب بانو، زاہد رضا مرحوم، سالار رضا علی خان مرحوم، سکندر جہاں، سید شاہ حسن شکری مرحوم، گلشن بانو، صفدر عباس نقوی، سید محمد افقر زیدی، مظفر عباس مرحوم، سید ظہیر حسین، قمر حسین جعفری، سید عباس [نام غیر واضح] مرحوم، سید عشرت باز زیدی، فتح علی خان زیدی، عرفان حسین، فیاض احسن خان، قاسم علی مرحوم، کرامت اظہر مرحوم، کوثر نقوی، آغا [نام غیر واضح]، [مزید چند نام غیر واضح]۔ [نام غیر واضح] حسین (آپ سے گزارش ہے کہ تمام مذکورہ بالا مرحومین کے لئے ایک سورۃ فاتحہ تلاوت فرما دیں)۔ بہرحال خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بھی اودھ، آگرہ، الہ آباد، دلی، امروہہ، سادات بارہہ، بجنور، سہارنپور اور دکن کے علاوہ بہار اور یوپی کے بعض دیگر علاقوں کے افراد بھی اس شعبہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ پنجاب کا طرزِ سوز و سلام اور بہاری حضرات کا طریقۂ ادائیگی ذرا مختلف ہے مگر سوزخوانی ہی کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ بات اس وقت بھارت میں سوزخوانی کی کوئی مستند و معتبر اور نمائندہ شخصیت یا سلسلہ نہیں ہے، تاہم بحمد اللہ پاکستان اور بالخصوص کراچی میں تقریباً ہر علاقہ، طبقہ، خطہ اور ہر برادری کے سوزخواں اور دبستان (بستے) موجود ہیں اور اب کچھ نوآموز و نوجوان سوزخواں بھی اس طرف مائل و متوجہ ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ، بلتستان اور دیگر شمالی علاقوں کے علاوہ پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، گجراتی اور ہندوستانی بولنے والے حضرات کے علاوہ وادیِ ہنزہ کی برادری میں بھی ملک اور بیرونِ ملک یہ ذوق و شوق پروان چڑھ رہا ہے۔ اس سلسلہ میں ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کی خدمات و کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ تحفظ و بقا اور ترویجِ سوزخوانی کے سلسلے میں اتنے مؤثر و مؤثر اقدامات اس سے پہلے بھی نہیں کئے گئے۔ بانیان و متعلقینِ مجالس / مومنین سے گزارش بانیان و منتظمینِ مجالس کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ: ☆ ہر مجلس میں سوزخوانی / سوزخوانوں کا انتظام و اہتمام کریں۔ ☆ سوزخواں سے پہلے عہدہ نام / اعلان و اشتہار میں شامل کریں۔ ☆ مجلس مقررہ وقت پر شروع کی جائے اور حسین و سوزخوانوں کو صحیح وقت بتایا جائے۔ غلط وقت دینا یا پابندیِ وقت نہ کرنا دھوکہ دہی اور بے مہری ہے۔

46

No transliteration available for this page.

☆ سوزخواں کیلئے آمد و رفت کا اہتمام کیا جائے اور ذاکر بول کی حیثیت سے اس کے مقام و احترام کا خیال رکھا جائے اور نعتِ امام کے مطابق ان سے شایانِ شان سلوک کیا جائے۔ (تبرک اور نذر / نذرانہ بھی مستحبِ امام ہے۔) ☆ مومنین / سامعین کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ مقررہ وقت پر مجلس میں پہنچ کر سوزخوانوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ (تاہم سوزخوانوں کو مومنین سے کوئی تقاضہ، مطالبہ یا توقع نہیں رکھنا چاہئے۔) صوتی فنون خصوصاً سوزخوانی سے وابستہ افراد کیلئے اہم ہدایات خوش گلو اور خوش الحان ہونا، یعنی خداداد صلاحیت “آواز” کے ساتھ ہی فنی مشق و مہارت یعنی “ریاض”، ہر قسم کی صوتی ادائیگی کیلئے لازمی و بنیادی صفت و خصوصیت ہے۔ تاہم سوزخوانی میں ایک اضافی شرط “سوزِ دل” بھی شامل ہے کہ کلام و پیغام کی پُرسوز و متأثر کن ادائیگی تب ہی ممکن ہے جب آپ کلام کو دل کی گہرائی، معانی و مفاہیم سے مکمل آگاہی اور جذباتی وابستگی و بھرپور جوشِ عقیدت و محبت کے ساتھ ادا کریں۔ ہر زبان اور ہر قسم کی عبارت و الفاظ کو صحیح تلفظ اور مخارج و تہجیہ درکار ہے۔ اردو زبان و کلام کی ادائیگی کیلئے بنیادی و لازمی صفت ہے سوزخوانی چکّر اردو زبان ہی سے متعلق ہے کہ جس میں عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے الفاظ و اثرات بھی بکثرت پائے جاتے ہیں، اس لئے سوزخواں کیلئے زبان و بیان کی درستی ضروری ہے۔ چونکہ سوزخواں کو کلام و بندش کے باہمی تعلق و تلازم کی روشنی میں ادائیگی کرنا ہوتی ہے اس لئے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ واقعات و شخصیات اور کلام کے پس منظر و مطالب سے آگاہی ضرور رکھتا ہو۔ کہ اصطلاح اچھے سوزخواں کا مطالعۂ تاریخ و ادب و مذہب بھی اچھا ہونا چاہئے۔ اور اسے عام موسیقی، راگ راگنی اور سروں کی زیادہ واقفیت و مہارت کی تو ضرورت نہیں ہے مگر کلام اور بندش کی ضرورت، تقاضوں اور تعلق سے آگاہی کیلئے سوزخوانی کیلئے سوزوں سروں کی واقفیت اضافی مگر بنیادی شرط ہے تاکہ آلائشِ طرب کو علیحدہ کر کے سروں کو سوز کے دریا میں پاک کر کے کلام کی شایانِ شان ادائیگی کا حق اور فرض ادا ہو سکے۔ اتنا اہتمام کسی دوسرے فنِ گائیکی یا صنفِ موسیقی کے لئے ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح عام گائیکی و ادائیگی کے برعکس سوزخواں کو چونکہ گول اور تیر (سب سے نیچے اور اونچے) مدھم / تیز، ہر طرح کے سروں کو استعمال کرنا اور کام لینا ہوتا ہے اس لئے اسے اپنی آواز یعنی گلے کی صحت و سلامتی اور کارکردگی پر نظر رکھنا چاہئے اور معمولی سی خرابی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ ایک مکمل سوزخواں کو بیک وقت، یعنی ایک ہی نشست بلکہ بعض اوقات ایک ہی کلام اور بندش کی ادائیگی میں نچلے اور اونچے سروں کے علاوہ سوزناک اور جوش بھرے سر سے کام لینا ہوتا ہے اور کوئی ساز یا ساؤنڈ سسٹم اس کا معاون و مددگار نہیں ہوتا۔ سوزخوانی نہایت سنگین اور اکیلاسانا کے ساتھ حاضرین و سامعینِ مجلس کے سامنے براہِ راست پیش کی جاتی ہے اور سازوں کے شور میں کسی خرابی یا خامی کو چھپایا بھی نہیں جا سکتا۔ اس لئے ماہرینِ علاج اور پرہیز تجویز کرتے ہیں کہ ہر شخص اپنے مخصوص مزاج اور کیفیت و طبیعت کے مطابق ان ہدایات کو اختیار کرے۔

47

No transliteration available for this page.

بالعموم گلے کا استعمال اور کام کرنے والے ٹھنڈی (سرد)، تیز ترش (کھٹی) اور روغنی (یعنی زیادہ چکنی اور چربی والی) اشیاء سے پرہیز کرتے ہیں۔ تیز مرچ، کھٹی اشیاء اور ٹھنڈا پانی تو قطعاً استعمال نہیں کرتے، جبکہ غذا کم کھانا اور راتوں کو مسلسل جاگتے رہنے سے بھی گلے اور آواز پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تبدیلیٔ آب و ہوا، موسم کی تبدیلی، گلو و غبار و گرد، شدید سردی اور گرمی، تمباکو نوشی بھی آواز اور گلے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سوزخواں کو زیادہ سے زیادہ دیر ریاض کرنے اور ایک ہی مسلسل آواز میں مختلف سروں کی آس (آکار) کی مشق بھی کرنا ضروری ہے کہ اگر آپ کا استحکام کم ہوگا تو شاید آپ پورے مصرعہ اور بندش کو ایک سانس میں ادا نہ کرسکیں اور بعض اوقات یہ ضروری ہوتا ہے اور غلط جگہ توڑ دینے سے معانی بدل یا اُلٹ جاتے ہیں۔ جیسے حضرت [نام غیر واضح] کے مشہور سلام کا مصرعہ غلط جگہ توڑ دینے سے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً: “اپنی طرف سے چھیڑ نہ، اپنی طرف سے جنگ یہ مسلکِ حسین علیہ السلام ہے!” جبکہ یہ مصرع یوں ادا کیا جانا چاہئے: “اپنی طرف سے چھیڑ نہ، اپنی طرف سے جنگ” اس طرح غلط توڑنے سے [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ یہ مصرعہ ملاحظہ فرمائیں: “بے چین تھی صغریٰ جو فراقِ پدری سے” اب اگر آہستہ ہوا اور آواز کے کنٹرول کا انداز زیرِ توجہ آئے تو گائیکی ادائیگی اور ابلاغ بڑے بڑے وقفوں اور اوقاف کے بعد یوں ہوتا ہے: بے۔۔۔ سے۔۔۔ پہ۔۔۔ سے۔۔۔ اے۔۔۔ سے۔۔۔ اے۔۔۔ پی۔۔۔ تھی۔۔۔ صغریٰ۔۔۔ جو۔۔۔ فراق۔۔۔ آتے۔۔۔ اے۔۔۔ سے۔۔۔ پدری۔۔۔ [مثال] ظاہر ہے کہ جتنا بڑا سانس ہوگا اسی تسلسل و تواتر و اتصال کے ساتھ صحیح طور پر ابلاغ ہو سکے گا۔ اور حرف الفظ بھی نہ ٹوٹنے پائے اور بندش بھی غیر ضروری طور پر منقطع یا معطل و منفصل نہیں ہونا چاہئے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ اپنے بازوؤں کا احترام کریں اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں۔ خود بھی عزت کریں، دوسروں سے بھی ان کی عزت کروائیں اور دورانِ مجلس منبر و تائب نہ کیا کریں۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ تمام اجزاء و عناصرِ سوزخوانی کی واقفیت و مہارت حاصل کرے، یعنی رباعی، قطعہ، سوز، بین، سلام، مرثیہ سب کچھ تنہا بھی ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور بازوؤں کو بھی بطور معاون، نائب و متبادل تیار کرے۔ بازوؤں کا اہتمام بھی آداب و لوازماتِ سوزخوانی میں سے ہے۔ بہتر ہے کہ ہر عمر بازو معترف و [متن غیر واضح] ہوں تاکہ ہر حال “سر” کا مقام و احترام بھی رباعی، قطعہ اور سوز و سلام کی حد تک ضرور رکھے۔ البتہ بغیر سوزخوانی میں رونق اور کثرت پیدا نہیں ہوتی۔ سوزخواں / سلام و نوحہ خواں کو چاہئے کہ وہ یا تو شاعر کا حوالہ دے ورنہ قطعہ ضرور پڑھے کہ یہ اس کا فریضہ اور شاعر و سامعین کا حق ہے۔ سوزخواں کیلئے ضروری ہے کہ ریاض و پرسی کا بھی اہتمام کرے۔ اگرچہ اساتذہ اور روایت پسند حضرات قطعات و رباعیات اور سوز کیلئے علیحدہ، سلام و بین کیلئے علیحدہ اور مرثیہ کیلئے علیحدہ، یعنی کم از کم تین مجالس رکھتے ہیں جنہیں سادہ تجربہ دان میں ادب و احترام اور اہتمام کے ساتھ رکھا جاتا ہے، تاہم کم از کم ایک ہی بڑی بیاض میں ان سارے کلام کو تین حصوں میں تقسیم کر کے اشارے کے ساتھ تحریر کرنا چاہئے۔

48

No transliteration available for this page.

اور اس مراد میں ایک سے زیادہ نقول یا نسخہ (بازوؤں کے پاس بھی) موجود و محفوظ ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں بزرگ سوزخوانوں یا بازو میں دستیاب منابع سے بھی انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ خوشخواں کی ذاتی علم انسان سے کلام کی ادائیگی و صحتِ الفاظ، یعنی درست تلفظات، کی تصدیق و تحقیق کرالی جائے۔ اس طرح اگر کوئی غلطی بابتِ کلام یا ادائیگی میں ہوگی تو غلطی و سہو ایک فرد سے دوسرے شخص میں ہو جائے گی اور اس غلطی و واقعیت کا علم ایک ہی شخص کو ہوگا، جبکہ مجلس میں وہ غلطی ہزاروں افراد پر سوزخواں کی جہالت یا کم علمی کا اظہار کرے گی۔ مثلاً آپ نے بیشتر معروف سوزخوانوں سے سنا ہوگا جو جناب سیدہ کی شہادت سے متعلق مرثیہ “جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہ آیا” کے ایک مصرعہ: “غشی کو میری نظر بد سے بچانا” درست پڑھتے رہے ہیں۔ “غشی کو میری نظر بد سے بچانا” (معاذ اللہ)۔ بلکہ اگر کسی شاعر کی بھی غلطی ہو تو اس سے اجتناب کرنا چاہئے یا کسی مستند شاعر سے اس کی اصلاح کرالینا چاہئے۔ یہ بانیِ مجلس کا فریضہ ہے کہ وہ مجلس کے اعلان و اشتہار میں سوزخواں کے نام کی بھی تشہیر کرے، پابندیٔ وقت کا خیال رکھے، سوزخواں کی پذیرائی اور آمد و رفت کا خیال رکھے۔ تاہم سوزخواں کو از خود اس قسم کا مطالبہ، تقاضہ یا توقع نہیں کرنا چاہئے کہ اصل جزا اور حقیقی اجر و ثواب انہیں بارگاہِ ایزدی و دربارِ معصومین ہی سے ملنا ہے۔ ان کے خزانے میں کمی ہے نہ دیر ہے، نہ کسی کا احسان رکھتے ہیں نہ نیکوکاروں کا اجر ضائع کرتے ہیں، بلکہ دونوں جہانوں میں خوب خوب نوازتے ہیں۔ بس ذرا صبر اور توکل و قناعت کی ضرورت ہے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ مناسب لباس، وضع قطع اور اچھی اطوار اختیار کرے کہ اس کا منصب اور مقام و مرتبہ اور مومنین کی اس کے بارے میں حسنِ عقیدت بھی اس سے مثالی کردار کی توقع رکھتی ہے۔ یعنی دنیاوی طور پر بھی اسے اچھا مسلمان اور مثالی انسان ہونا چاہئے۔ ویسے بھی سچا مسلمان ہی اچھا انسان اور اچھا فنکار ہو سکتا ہے۔ سوزخواں کو آدابِ نشست و برخاست کا بھی لحاظ چاہئے کہ تخت، تکیہ یا [لفظ غیر واضح] و مومنین کے سامنے بیٹھنے کے بعد گھٹنوں، ہاتھوں یا ہاتھ چلانا، غیر ضروری طور پر دائیں بائیں دیکھنا، اور سوزخواں کے درمیان غیر ضروری طور پر باتیں یا تبصرے کرنا، بار بار زحمہ سوالات کہنا، لوگوں کو زبردستی داد و تحسین یا گریہ و بکا کی دعوت دینا، ہنسی مذاق، [چند الفاظ غیر واضح]، سوزخوانی کی شان اور وقار کے بھی منافی ہے۔ دورانِ مجلس بازوؤں کو تأدیب یا تنبیہ و شرمندہ کرنا بھی نامناسب طرزِ عمل ہے۔ سوزخواں کو احتیاطاً مقررہ وقت سے بھی کچھ پہلے مجلس میں پہنچ جانا چاہئے کہ دو ذاکر اول ہوتا ہے۔ اس کی موجودگی سامعین اور خصوصاً بانیِ مجلس کیلئے تقویت و اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ ایصالِ ثواب کی مجلس میں اسے قرآن خوانی میں حصہ لینا چاہئے اور کوئی دوسری مجلس یا اہم مصروفیت نہ ہو تو سوزخوانی کے بعد بھی مجلس میں رہنا چاہئے۔ رخصت ناگزیر ہو تو ذاکر اور بانیِ مجلس سے اجازت و رخصت اور حضرات بھی اچھی عادت و روایت ہے۔ بعض اوقات حصولِ برکت کیلئے یا کسی وجہ سے ذاکری کی آمد میں تاخیر کے باعث بھی سوزخوانی سے پہلے حدیثِ کساء اور بعد میں سلام کی ضرورت پیش آ جاتی ہے۔

49

No transliteration available for this page.

ایسے آڑے وقت میں مجلس کی تنظیم و ترتیب کو برقرار رکھنے کیلئے سوزخواں کو چاہئے کہ وہ حدیثِ کساء کی تلاوت اور سلام پڑھنے کی تیاری و ادائیگی رکھتا ہو تاکہ سوزخوانی کو نظر انداز نہ کرنا پڑے۔ اس کا حسنِ قرأت اور تاریخ و [لفظ غیر واضح] ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو جو سوزخواں مرثیہ تحت اللفظ، نوحہ اور زیارت پڑھانے کی بھی اضافی صلاحیت رکھتا ہو۔ بہتر ہے کہ سوزخواں ایک وقت اور پہر، یعنی نشست میں ایک ہی وعدہ کرے۔ ایسے کہ بانیانِ مجالس بعد اصرار پابندیٔ وقت کی یقین دہانی اور تاکید کرواتے ہیں مگر بوجہ عمل درآمد میں ناکام رہتے ہیں، یوں مہلت و گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے بعض اوقات کسی یا کوئی ایک مجلس خراب یا متاثر ہوتی ہے جو بڑائی دینداری کا باعث ہوتا ہے۔ ویسے اس سلسلے میں بالعموم کراچی بانیِ مجلس کی طرف سے ہوتی ہے مگر زیادہ سوزخواں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ حسبِ موقع اپنے بازوؤں کو پیش خوانی کے طور پر اپنے سامنے یا ساتھ بٹھا کر قطعہ، رباعی، سوز، مرثیہ پڑھنے کا موقع فراہم کرے تاکہ اس کا تعارف، تربیت اور حوصلہ افزائی ہو سکے۔ بعض اوقات بانیِ مجلس یا کوئی سادہ لوح سامع کسی نامناسب کلام کی فرمائش کر دیتا ہے۔ بہتر ہے کہ ایسے موقع پر بچنے معذرت کرلی جائے، اگر قبیح و مجلس ناپسند ہی ہو تو علانیہ طور پر اس کی وضاحت کر دی جائے۔ سوزخواں کو مجلس اور خصوصی کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ ضروری نہیں ہے کہ تمام اجزاء اور حاضر پر مشتمل سوزخوانی (نصف گھنٹے پر مشتمل) لازمی طور پر کی جائے۔ ذاکر اور سوز و حال کی موزونیت و مناسبت کو ہر حال ملحوظ رکھنا چاہئے۔ اس کے لئے قطعہ، رباعی، سوز یا سلام میں سے کسی رکن کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مرثیہ کا بھی انتخاب اس طرح ہو کہ ایام اختیار یا طوالت و تفصیل کی گنجائش ہو تو حسبِ ضرورت سنایا یا پھیلایا جائے اور بانیِ مجلس کو ختم کرنے کیلئے اشارہ یا پرچی کی ضرورت نہ پڑے۔ یا اگر اسے مرثیہ کے دوران ہدایت موصول ہو کہ “مولانا ابھی نہیں آئے، ذرا طول دے دیں” تو مرثیہ (سوزخوانی) خراب کرنے یا غیر ضروری طوالت و تکلف بے مزہ کرنے کی بجائے سوزخواں مرثیہ کو قرآنی اصل مقام پر ختم کر کے منبر پر سلام پڑھ کر اس وقفہ یا خلا کو پُر کرے۔ اس ضمن میں مدعو کا خیال رکھئے، یعنی خصوصی کی مناسبت سے کلام خصوصاً مرثیہ کا انتخاب کرے۔ ایسا نہ ہو کہ شہادت اور مجلس تو جناب سیدہ کی ہو اور کلام خصوصاً مرثیہ شوالِ اکبر کا پڑھا جا رہا ہو۔ بلکہ ایصالِ ثواب کی مجالس میں بھی ایام یا مرحوم کی مناسبت سے بیانِ مصائب اور مرثیہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مثلاً خاتون کی مجلس ہے تو خاتونِ جنت کا مرثیہ اور جوان کے ایصالِ ثواب کی مجلس ہے تو کربلا کے کسی جوان کا مرثیہ۔ جہاں تک ایصالِ ثواب سے متعلق مجالس کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نہایت احتیاط اور خصوصی اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے بھی کہ ایسے اجتماعات اور مجالسِ ترحیم و تعزیت میں ذاتی تعلق کے حوالے اور عزت و دنیا داری کے تحت غیر اقوام کے افراد اور کم عقیدہ غیر ملکی افراد بھی شرکت کرتے ہیں جنہیں مجالس اور اس قسم کے اجتماعات میں شرکت و سماعت اور سوزخوانی و خطابت کا کوئی تجربہ یا سابقہ نہیں ہوتا۔ ان کا مشاہدہ اور تجربہ سوز و [لفظ غیر واضح] اسی مجلس پر مبنی ہوتا ہے جس میں وہ اتفاقاً یا دعوت شریک ہو گیا ہے۔ اب اگر اسے کوئی معیاری و معقول اور شائستہ کلام و بندش سننے کو ملے گی تو اس کا تاثر خوشگوار ہوگا اور مزید تحقیق و ترغیب و تشویق کا باعث بنے گا، بصورتِ دیگر اس کے احساسات و تاثرات بھی منفی نکلیں گے۔

50

No transliteration available for this page.

بندش سننے کو ملے گی تو اس کا تاثر خوشگوار ہوگا اور مزید تحقیق و ترغیب و تشویق کا باعث بنے گا، بصورتِ دیگر اس کے احساسات و تاثرات بھی منفی نکلیں گے۔ یوں بھی سوزخوانی میں اختلافی، متنازعہ یا ضعیف روایت اور غیر معیاری کلام و بندش کو فروغ حاصل نہیں ہے۔ سوزخواں نہ صرف حاضرین و سامعینِ مجلس بلکہ ان غیر حاضر و غائب سامعین پر بھی نظر رکھتا چاہئے جو آواز کے دوش پر یا کیسٹ کے توسط سے اس کے دائرۂ سماعت میں آتے ہیں۔ سوزخواں کو چاہئے کہ وہ پڑھتے وقت پاس پر کھڑی وغیرہ رکھ لے (آف یا Silent/Vibrater پوزیشن پر موبائل فون بھی رکھا جا سکتا ہے)، نیز ڈائری یا نوٹ بک میں اپنی مجالس کے ساتھ یہ بھی ریکارڈ اور اندراج رکھے کہ اس نے کب، کہاں، کیا پڑھا؟ تا کہ جب اسی اجتماع یا خصوصی میں دوبارہ جائے تو پرانا ہی کلام نہ دہرائے۔ جو لوگ باقاعدہ اہتمام کرتے اور ریکارڈ رکھتے سنتے ہیں انہیں بڑی مایوسی ہوتی ہے جس سے سوزخواں کی شخصیت اور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ سوزخواں کو چاہئے کہ کلام اور بندش کی پرانی ریکارڈنگ کا حافظہ اور یادداشت پر توجہ [متن جزوی طور پر غیر واضح] اور وہ بندش یعنی ادائیگی پر گم نہ ہو اور وہ بندش یعنی ادائیگی پر گم نہ ہو۔ بازوؤں کو چاہئے کہ وہ اس کو اس طرح مربوط و مسلسل رکھیں کہ دورانِ کلام سکتہ یا وقفہ اور نظم نہ ہونے پائے۔ اسی طرح مرثیہ کی روانی اور بہاؤ میں بعض اوقات اگر یا آواز کا انداز کبھی ہو پاتا اور غلط ادائیگی سے کلام اور بندش کا وزن بگڑ جائے تو آواز کو [غیر واضح] اور نتیجے کا نشہ رہتا ہے۔ چنانچہ اسی نشانی و ادائیگی کیلئے “اور” کو مد کے ساتھ اور “کل” میں جگہ “زر” و “از” کی شکل میں تحریر کرلینا چاہئے۔ اسی طرح مدحیہ اور مرثیہ کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔ “قا” یا “ن” نہیں ہے جو پڑھتا ہوا دینی لکھنا چاہئے۔ اگرچہ ان لوازمات و خصوصیات کا لحاظ و اہتمام تمام اصناف و اقسامِ گائیکی و ادائیگی میں مفید و مؤثر سمجھا جاتا ہے، تاہم سوزخوانی کیلئے بے حد ضروری اور لازمی و بنیادی ہے۔ بعض اوقات کسی غلط فہمی یا بدانتظامی کی وجہ سے ایک سے زائد سوزخوانوں کو مدعو کر لیا جاتا ہے۔ یہ سوزخواں کے ظرف اور خلوص کا امتحان ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں بڑائی کی بجائے سوزخوانی کے مقررہ وقت میں کلام کو مناسب طور پر تقسیم کرلینا چاہئے۔ مثلاً پہلا سوزخواں قطعہ، رباعی، سوز اور سلام پڑھ دے اور دوسرا ایک سوز اور مرثیہ پڑھ لے، تا کہ کوئی محروم و بددعا نہ رہے۔ ایسی صورت میں پہلے پڑھنے والے کو بعد والے کا خیال رکھ کر کم کلام پڑھنا چاہئے اور بعد والے کو ذاکرِ اول کی مناسبت سے انتخابِ کلام کرنا چاہئے۔ بالعموم مصائب کے بعد فضائل کا بہاریہ کلام نہیں پڑھا جاتا بلکہ سوزخوانی میں ان باتوں کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے۔ ریاض کیسے کیا جائے؟ یہ ایک فنی و تکنیکی سوال ہے اور عام گائیکی کے طریقوں ہی پر سوزخوانی کیلئے بھی گلا تیار کیا جا سکتا ہے اور مشق و ریاض کے تمام اصول ہی اختیار کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم سوزخوانی کا آغاز اس سے ہوتا ہے جو کسی قسم کی ہوتی ہے اور کلام کی بندش میں مسلسل سروں میں سے کسی ایک غالب سُر سے اس شروع کی جا سکتی ہے۔

51

No transliteration available for this page.

الف سے “آ” کی آواز، کبھی نیچے نیچے سُروں میں یا ذرا بہاری آواز میں پورا [متن غیر واضح]، مگر اسے [غیر واضح]۔ جبکہ “ما” سے بھی بعض کلام اور بندش کی آس شروع کی جاتی ہے۔ یہ چیز محض کتابی علم سے نہیں آ سکتی بلکہ عملی اور استاد سے بالمشافہ تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک عملی مظاہرہ Performing Art یعنی “سر + مہارت” سے کرنے ہی سے آتی ہے۔ بہتر ہے کہ سانس کو زیادہ سے زیادہ پھیپھڑوں میں بھر کر روکنے اور پھر مختلف رفتار کے ساتھ آہستہ سے نکالنے (خارج کرنے) کی مشق کی جائے۔ کم از کم ایک منٹ تک سانس روکنا اور کسی نقطہ کے [غیر واضح] میں ترقی کے بغیر آدھے منٹ تک آس دینے / لگانے کی مشق ہونی چاہئے اور جب موقع ملے مختلف قسم کی آس (آ، ہا) سے منہ کھول کر اور بند کر کے گول، سُر، پکی، ہلکی، بھاری، گاڑھی یعنی ہر طرح کی آواز میں لگانا چاہئے۔ علاوہ ازیں مستند گلوکار دیکھیں کہ وہ ان کی آواز میں آواز ملا کر (ان کا ریاض ریکارڈنگ سے استفادہ کر کے) بھی آواز بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ آواز بیٹھ جانے / گلا خراب ہو جانے کی صورت میں معمول و مناسب بات یہ ہے کہ ماہرین و معالجین سے رجوع کیا جائے۔ آواز کی خرابی کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ کبھی چکنی کھانے سے، تیز مرچ مسالوں سے، بعض کو چاول، گنے، بعض کے گوشت سے، کبھی مسلسل جاگتے رہنے اور نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے، کبھی ناک کی بندش یا گوشت بڑھ جانے سے، کبھی ترش (کھٹی)، ٹھنڈی یا چکنائی والی چیزوں سے بھی آواز بیٹھ جاتی ہے۔ کبھی قبض کی وجہ سے یا زیادہ یا راتوں کے خلاف [غیر واضح] ضرور بڑھ جاتے ہیں (مرض ہو جاتے ہیں) یا حلق کا [غیر واضح] جاتا ہے۔ گلے پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ بعض لوگوں کے سروں کے پرزوں میں کچھ [غیر واضح] کے ادوار سے کسی گرد و غبار یا ایکزیمکشر کی ہوا سے کبھی حلق، ہوا پانی یا آب و ہوا مقام یا موسم کی تبدیلی کی وجہ سے بھی گلا متاثر ہوتا ہے۔ ہر کی طبیعت، مزاج اور گلا خراب ہونے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، ان کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔ تاہم عام طور پر مندرجہ ذیل نسخے مؤثر، مجرب اور تیر بہدف ثابت ہوتے ہیں: ☆ نیم گرم پانی میں نمک (ثابت لاہوری) ملا کر غرغرہ کرنا۔ ☆ سرور یا امریک دارچینی ڈال اور لاہوری ثابت نمک ملا کر غرغرہ کرنا۔ ☆ نیم گرم پانی میں اسپرین / ڈسپرین کی دو گولیاں ڈال کر غرغرہ کرنا۔ ☆ شربتِ شہتوت (توت سیاہ) چٹا اور ایک چمچ یا بادام پیس کر شہد میں ملا کر چٹانا۔ ☆ نیم گرم پانی میں تھوڑی سی ہلدی ملا کر اس کے غرغرہ کرنا۔ غم کے نیچے یا سر کو [متن غیر واضح]۔ ☆ سونف اور کوزہ مصری ہم وزن لے کر ان میں بڑی الائچی اور سیاہ مرچ کے چند دانے ملا کر پہلے انہیں کسی برتن / ڈھکنے پین میں تھوڑا سا گرم کرلیں، پھر انہیں پیس لیں (کھرل کریں) اور شیشی میں ڈال کر رکھیں۔ جب ضرورت سمجھیں یا گلے میں خراش، خشکی، گرانی یا کھردرا پن محسوس کریں تھوڑی سی چٹکی منہ میں ڈال لیں۔

52

No transliteration available for this page.

☆ کلونجی کے چند دانے چبا لینے اور ادرک کے رس میں شہد ملا کر چائے سے بھی گلے میں موجود بلغم کے ریشے صاف ہو جاتے ہیں۔ ☆ گلے اور حلق کی صفائی کیلئے ایک یہ نسخہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک پاؤ دودھ میں دو چار دانے انجیر کے پکا لیں اور پھر اس دودھ کو پی لیا جائے۔ جبکہ اس سلسلے میں بازار میں موجود معروف اداروں کی سر [غیر واضح] دوا بھی استعمال کی جا سکتی ہیں اور ہمدرد کی سیاہیاں بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ (از افادت حکیم مولانا سید باقر حسین شبیر، حکیم محمد سعید شہید، حکیم عرفان رضوی، مظلہ (معیاری دواخانہ) اور حکیم سید محمد عباس ترمذی / ڈاکٹر گلریز صحت۔) مصافح اور مجالس کے ہدیہ اور نذرانہ کا مسئلہ؟! ذکرِ اہلبیت کا ہر صورت ذریعہ یقیناً ذاکر کا حق ہے، بصورت اسے نہ بھی ہے ذکر کرنے بھی اس کا معاوضہ کا حصہ ہے اور ان کی بھی سماجی معاشی ذمہ داریاں اور ضروریات و خواہشیں ہیں۔ تاہم ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ مدحِ اہلبیت اور خدمتِ عزا کا یہ نذرانہ، غیرہ شرعی ہونا، پیشگی طور پر طے کر لینا یا پھر اسے مشروط کرنا پسندیدہ روش نہیں ہے۔ بہتر ہے بہر صورت مجلس کے مزاج اور سامعین کا توجہ ہونا چاہئے۔ [متن جزوی طور پر غیر واضح] جبکہ نظم و ضبط کے صفتِ اول کے شاعر و ذاکر اور سوزخواں کو اول تو ہر یہ پیش ہی نہیں کیا جاتا اور اگر دیا جائے بھی تو ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا، جبکہ اکثر نے چند رشیدیاں یا درہم و دینار کی بجائے اہلِ خانہ کے تمام زیورات اور گھر میں موجود جواہرات (تبرکات) رومال میں باندھ کر اپنے مداح و ذاکر کو عطا کئے ہیں۔ ہمارے رضاکار سوزخواں ان چیزوں کی نہ توقع کرتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں۔ وہ اپنی تمام خدمات اللہ و معصومین کی خوشنودی کیلئے پیش کرتے اور انہی سے اجر و ثواب کے طالب ہوتے ہیں۔ پھر بھی بانیانِ مجالس کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی سعادت کیلئے سنتِ امام کی پیروی کرتے ہوئے ان کی ممکن پذیرائی کریں اور اگر یہ لوگ نقد رقم یا لفافہ قبول نہیں کرتے تو تالیف یا دوسرے طریقوں پر ان کی پذیرائی، اعانت اور حوصلہ افزائی کریں، مثلاً ان میں بزرگ و نوجوانوں کی ذرا اسی روزگار کے سلسلے میں رہنمائی و معاونت وغیرہ۔ اے کاش (مختلف سطحوں پر) ایامِ عزا کے اختتام پر ہر سال مجلس و بے لوث ذاکرین و خدامِ عزا (جن میں غیر پیشہ ور ذاکرین کے علاوہ اسکاؤٹ / رضا کار وغیرہ بھی شامل ہیں) کے اعزاز میں پُر وقار تقریب کر کے تحائف، انعامات اور اعزازات سے ان کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کا اہتمام کیا جائے۔ بہرحال ہم کوشش کر رہے ہیں کہ رضاکار سوزخوانوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ قوم کو اسی طرح کے مخلص تعلیم یافتہ رضاکار ذاکرین بھی فراہم کریں۔ ہم خواندہ اور زبانی غیر ذمہ دارانہ خطابت سے کہیں بہتر یہ ہے کہ مستند علماء کرام کی تقاریر کے مجموعوں سے انتخاب کر کے پڑھ کر بھی باصلاحیت نوجوان ان تقاریر کو مجالس میں پڑھ کر سنایا کریں۔

53

No transliteration available for this page.

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی سے وابستہ سوزخوانان کے اسماء گرامی اور رابطہ کے نمبر مومنین کی سہولت کیلئے پیش کئے جاتے ہیں۔ شہر صحت و فہرست یہ رضاکار خدمتِ سوزخوانی کیلئے دستیاب ہیں۔ بانیانِ مجالس ان سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔ (اس فہرست میں وہ سوزخواں بھی شامل ہیں کہ جو باقاعدہ تکنیکی طور پر نہ سہی مگر مزاجی، نظریاتی اور عملی طور پر ادارہ کے مقاصد سے قریب تر ہیں۔) ان سوزخوانوں کے علاوہ بھی بعض سوزخواں رضاکارانہ طور پر اس خدمت کی بجا آوری پر مائل ہو رہے ہیں، جن کی تفصیلات آئندہ کسی موقع پر پیش کر دی جائیں گی۔ اس فہرست میں درج رابطے کے پتے اور ٹیلیفون نمبر تبدیل ہو جانے کی صورت میں ادارہ کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ہر سوزخواں کا حق اور ہر ادارہ کا فرض ہے کہ وہ سوزخواں سے وعدہ لیتے وقت اپنی شناخت کرائے۔ بہتر ہے کہ اپنے ذاتی لیٹر پیڈ یا ادارہ کے لیٹر پیڈ پر باقاعدہ، باضابطہ طور پر مجلس کی دعوت دے۔ موجودہ حالات میں سیکیورٹی کے تقاضے کے نگاہ سے یہ احتیاط و التزام انتہائی ضروری ہے۔ مرکزی قومی فلاحي اداروں سے علاقائی و مقامی دفتر رابطہ و تربیت گاہِ سوزخوانی وطنِ عزیز میں سادات و مومنین کی سب سے بڑی آبادی جعفریہ کالونی [پتہ جزوی طور پر غیر واضح] کراچی مکان نمبر 100، مرثیہ نمبر 640 (گلی نمبر 2 کاروانِ عون و محمد) کی بالائی منزل کو سوزخواں مالکِ مکان نے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کو علاقائی و مقامی دفترِ رابطہ و تربیت گاہِ سوزخوانی کیلئے [غیر واضح] کیا ہے، جہاں ملک کی قدیم ترین رفاہی فلاحي “انجمن وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ” کا مقامی دفترِ رابطہ اور شہداءِ ملت کے ورثاء کی نگہداشت و خبرگیری کرنے والے مرکز ادارہ “شہید فاؤنڈیشن پاکستان” کا بھی مقامی دفترِ رابطہ قائم ہے۔ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے رضاکار سوزخوانان (جمعہ و تعطیلات کے سوا) روزانہ شام چھ سے رات دس کے بیچ اس دفتر میں ان تینوں اداروں سے متعلق خدمات و معلومات کیلئے موجود رہتے ہیں۔ [رابطہ فہرست کے چند حصے اسکین میں واضح نہیں۔] گریہ یا [عنوان غیر واضح] کا مریداری؟ ایسے مجلس سے کیا مرثیہ کچھ یہ خطا بار بار مت پوچھ چھوڑ دیتا ہے ساتھ مشکل میں شیخ پر اعتبار مت پوچھ ہے نصیری کی بھی زینب حیدر دوستوں میں شمار مت پوچھ گر ہے یا لتا کا دوبیدار وقت نصرت فرار مت پوچھ جب پکاریں تجھے امیرِ زماں سر کو دامن پہ بار مت پوچھ مجلسیں مجلسیں ہیں بینِ عشق عشق کو کاروبار مت پوچھ میں ہوں محتاج غم کا تیرے ایسا پردہ دار مت پوچھ جو سزا ہو لے میں دے کچھ حشر میں شرمسار مت پوچھ (سید جعفر کی منقبت غزل سے منتخب چند اشعار)

54

No transliteration available for this page.

حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و موسیقی شاعر و سوزخواں پروفیسر سید سبط جعفر زیدی ایڈووکیٹ حسنِ قرأت، نعت خوانی، نوحہ خوانی اور سماع و قوالی حتیٰ کہ اذان اور صلوٰۃ و سلام کے بھی بعض انداز و اسلوبِ ادائیگی پر سادہ لوح اور انتہا پسند مذہبی طبقات کی طرف سے اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں اور ان کی طلب و حرمت اور شرعی جواز و حیثیت کی بحث ہوتی رہی ہے اور بوجہ اکثر ذمہ دار، مشتاقان اور مجتہدین و علماءِ دین ان مباحث سے پہلو تہی کرتے ہوئے سر حاصل گفتگو اور توجیہہ و توضیح سے اجتناب کرتے رہے ہیں اور اس موضوع پر بہت کم علماء، محققین اور مجتہدین نے توجہ دی ہے۔ ظاہر ہے کہ رائج انحراف بھی کوئی منفی یا مثبت نہیں اور نہ ہی اس احساس موضوع کو زیرِ بحث لانا کر عوام الناس، عام مومنین اور خود اپنے تئیں کی غیر ضروری تنازعہ یا مسئلہ فقہی میں الجھانا چاہتا ہے۔ پھر بھی اتنا چند اہم بنیادی حقائق کی جانب سے چونکہ رزم سے متعلق اسلام اور مسلمانوں کے فنونِ لطیفہ کو جو بنیادی جوش و جذبہ ایک فطری خلوص اور پورے ترک و احتشام سے بغرض حصولِ سعادت بطور عبادت انجام دیئے جاتے ہیں، ناجائز قرار دیا جاتا رہا ہے اور سادہ لوح مومنین بھی اب قرأت و نعت و صلوٰۃ و سلام، اذان و سماع اور نوحہ خوانی و سوزخوانی کے شرعی و فقہی جواز کے بارے میں فکر و متردد ہونے لگے ہیں، تو ضرورتِ امر یہ ہے کہ ان بنیادی مظاہرِ حسنِ صوت اور خوش الحانی و نغم کی شرعی حیثیت سے پہلے عام موسیقی اور غنا کی تعریف و تعیین، حد بندی اور مقام و حیثیت کا جائزہ لیا جائے۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ رائج انحراف نے اگرچہ تمام صلاحیتوں کو بُرے کار لاتے ہوئے نیک نیتی اور شرعی و دینی اعتبار کی مستقولات و معقولات شرعی سے استفادہ کے بعد ہی کوئی نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے، تاہم یہ اس کی ذاتی تحقیق اور ایک نگارش ہے جو نہ تو حرفِ آخر ہی ہے نہ دوسروں کیلئے حجت و سند۔ ہر فرد کو خود اپنی تحقیق و تجسس اور تحقیق کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے پر عمل کرے، نہ کہ میرے لکھے پر۔ موسیقی و غنا سے کیا؟ گانے بجانے کے علم اور گانے بجانے کو موسیقی کہتے ہیں۔ عربی اور

55

No transliteration available for this page.

خصوصاً قرآن و سنت (حدیث) میں برصغیر کی مروجہ اقسام و اصنافِ موسیقی کیلئے واضح اور متعین الفاظ نہیں ہیں۔ تمام اس قسم کے مفہوم کے لئے غنا، لہو و لعب اور قول الزور کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر لفظ مختلف مقام پر مختلف معنی و مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ قول الزور کے معنی جھوٹی، بیہودہ اور لغویات کے بھی ہیں خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہوں۔ اس کی بھی نوعیت کی ہو، کیسی ساز و آواز یا لحن و ترنم اور طرزِ ادائیگی کی کوئی قید شرع یا وضاحت نہیں ہے۔ (مثال کے طور پر سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 72 ملاحظہ فرمائیں:) وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اسی طرح “لہو و لعب” بھی فضول افعال اور لغو اشغال و اعمال یا بیکار باتوں کو کہتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر مختلف نوعیت کے افعال اور معاملات کو لہو و لعب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تاہم جو آیت موسیقی کی ممانعت و حرمت میں پیش کی جاتی ہے وہ سورۂ لقمان کی چھٹی آیت ہے جس میں “لَهْوَ الْحَدِيثِ” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اس سے مراد بیہودہ قصہ کہانیاں لیا گیا ہے نہ کہ لحن و نغم یا موسیقی و غنا۔ اسی طرح سورۃ الحج کی آیت نمبر 30 میں ارشاد ہوا “فَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ” یعنی لغو باتوں سے بچو۔ انہیں آیات کو موسیقی و غنا کی حرمت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان پر گفتگو سے قبل ہم [متن جزوی طور پر غیر واضح] بہتر ہوگا۔ عربی و اردو میں غنا کے معنی راگ، نغمہ اور گانے کے ہیں، جبکہ “اکتساب” میں غنا کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: “صوت المشی مع الترجيع” لیکن ترجیع کی وضاحت و صراحت نہیں کی گئی۔ اس طرح غنا اور ترجیع کی جامع و مانع اور واضح و متعین تعریف کی بجائے گنگنی، سُری اور آواز کے گھمانے کو غنا قرار دیا جاتا ہے، لیکن حسنِ صوت اور خوش الحانی کی جائز و شرعی حدود و قیود پر بحث نہیں کی گئی، یعنی حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و ترجیع کی حدِ فاصل کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ حالانکہ جس طرح حرام و حلال کے فتوے اور فیصلے اور معاملات کی جائز و ناجائز اور شرعی حیثیت سے ان کی تحقیق و تفتیش اور تحریر کیلئے ان کا کیس مشاہدہ و مطالعہ اور تجربہ و تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ مضارب و نزاکت، تجارت اور سود یا مایہ کاری و جوا (قمار بازی)، شراب اور سرکہ کی ماہیت و کیفیت اور ان کی شرعی حیثیت کا جائزہ لے کر فیصلہ و فتویٰ صادر کیا جائے۔ اسی طرح ضرورتِ امر یہ ہے کہ محققین، علامہ و مفتیانِ کرام یعنی مراجع حضرات حسنِ صوت و خوش الحانی اور غنا و موسیقی کے بارے میں عمیق تحقیق و تفتیش کر کے ان کی مختلف شکلوں اور حیثیتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ و فتویٰ صادر فرمائیں۔ یوں علم و فنِ موسیقی کا عملی مظاہرہ نہ سہی مگر اس کا علم سمجھنے جامع شرائط کیلئے لازمی قرار پاتا ہے یعنی فرضِ کفائی ہے۔ رائج انحراف کی خالص تحقیق کے مطابق غنا کی کیفیت و ماہیت اور حدود و حیثیت اور [لفظ غیر واضح] طریقہ اور تعیین و تفتیش اور توجیہ و توضیح کی باقاعدہ سنجیدہ و شعوری کوشش دانستہ یا نادانستہ نہیں کی گئی۔ بہرحال موسیقی یا گائیکی کی مذمت و ممانعت کیلئے کوئی نصِ صریح موجود نہیں ہے۔ کسی بھی آیت یا مستند حدیث سے ہر قسم کے غنا کا مطلقاً حرام ہونا ثابت نہیں ہے اور وہ جو ایک عربی مقولہ عوام میں آیت یا حدیث کے طور پر پیش کیا جاتا ہے “الغناء أشدّ من الزنا” تو یہ نہ تو آیتِ الٰہی ہے نہ ہی حدیث کی کوئی مستند و معروف حدیث ہے! اللہ عالم یہ مقولہ کب کیسے رواج پا گیا؟!

56

No transliteration available for this page.

کیا واقعی ہر موسیقی / گائیکی مطلقاً حرام ہے؟! اس سوال کا جواب، فیصلہ اور فتویٰ میرا منصب ہے نہ فریضہ۔ تاہم علومِ شرعیہ کے ایک طالبِ علم اور تحقیق و مشورات و معقولات کے [لفظ غیر واضح] کے طور پر میرا مؤقف یہ ہے کہ کسی نصِ صریح سے، یعنی حکمِ واضح اور صریح آیت و حدیث سے، ہر قسم کے غنا کا مطلقاً حرام ہونا ثابت نہیں ہے اور مروجہ اقسام و اصنافِ موسیقی و گائیکی کیلئے سروں میں کوئی واضح لفظ بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ قول الزور، لہو الحدیث اور ترجیع و غنا کی بھی باقاعدہ اور جامع و مانع منضبط تعریف اور حسنِ صوت و خوش الحانی کی حدود و تعیین نہیں کیا گیا۔ جبکہ اسلام کا کوئی واجب اور فرض اور اسی طرح گناہِ کبیرہ اور حرام عمل یا حکم ایسا نہیں ہے جو واضح اور حکم نہ ہو۔ یعنی فرض، واجب اور حرام افعال و اعمال اور اس کا واضح طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں اور ایسے احکامات جو واضح ہوں یا متشابہ ہوں وہ مندوب، مستحب اور مباح یا مکروہ وغیرہ قرار پاتے ہیں۔ یہاں تک کہ مستحب، مکروہ اور ترک و تحریمی کی بھی وضاحت و صراحت موجود ہے۔ اس اصول کے تحت گناہِ کبیرہ کوئی ایسے اعمال و افعال نہیں جس کے شرعی دلائل و شواہد یا براہین، استخراج و استنباط اور اجتہاد و استفتاء کی ضرورت پڑے۔ مثلاً شرک و کفر، فسق و فجور، جھوٹ، جوا، سود، نفاق و منافقت، خیانت و غیبت، بدکاری و قتل و فساد وغیرہ ہم کو سب واضح ہیں جبکہ غنا کیلئے نصِ صریح موجود نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر وہ قول، فعل یا شاعری جو فحش خواہشات کو ابھارے، فطری جذبات کو برانگیختہ کرے اور تحریک دے، خواہ نثر میں ہو یا نظم میں، تحریر میں ہو یا تقریر یا موسیقی میں، تحت میں ہو یا لحن و ترنم میں، بجائے خود حرام و ممنوع ہے۔ سورۃ الشعراء سمیت قرآنِ مجید کی متعدد آیات و احادیث میں نیکی مذمت و ممانعت بالصراحت موجود ہے۔ ہر وہ عمل جو انسان کی قوتِ عمل کو متاثر و مجروح کرے یا واجبات و فرائض میں خلل و رخنہ انداز ہو، حقوق اللہ، حقوق العباد یا حقوق النفس سے غافل و بے پروا کر دے، بجائے خود ممنوع یا حرام ہے۔ اس طرح اگر قرآن خوانی سے فرض نماز قضا ہو رہی ہو تو ایسی قرآن خوانی بھی ناپسندیدہ ہے۔ یہ ممکن اس وجہ سے غنا کو حرامِ مطلق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس سے کوئی نہ کوئی فرض یا حق ساقط و ضائع ہونے کا خدشہ کے علاوہ ازیں اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس نے انسان کے کسی بھی فطری جذبہ کو یکسر نظر انداز نہیں کیا ہے، تاہم ہر انسانی فطری جذبہ کچھ حدود و قیود اور مطابق و موافقِ فطرت اصول و ضوابط کا پابند و تابع ضرور کیا ہے اور مقررہ حدود و قواعد کے ماتحت کر کے قانونی و شرعی تحفظ و مقام عطا کیا ہے۔ جنسی مثال نکاح بھی ہے اور رقص بھی۔ پھر ہر عضوِ بدن اور حس کیلئے لذت و لوازم بھی موجود ہے، چنانچہ حسنِ صوت یعنی اچھی آواز اور خوش الحانی انسان کے جذبہ و ذوقِ سماعت کی تسکین کرتی ہے جسے سروں میں بھی کہا جاتا ہے اور روح کی غذا بھی، بشرطیکہ یہ لطیف اور پاک و پاکیزہ ہو۔ یہاں اس امر کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ لذتین اور نغمی انسان میں محض عقل و علم ہی کا فرق اور امتیاز نہیں ہوتا بلکہ جمالیاتی ذوق اور حسِ لطیف کا بھی ہوتا ہے اور عام آدمی کی بہ نسبت ذہین و حساس آدمی قانونِ لطیف سے زیادہ متاثر و محظوظ ہوتا ہے۔ بہرحال خوش الحانی و حسنِ صوت عطیۂ خداوندی اور معجزۂ پیغمبری ہے، البتہ اس کی حدود و قیود اور کلام (نفسِ مضمون اور مواد و متن) پر بحث آئندہ میں ہے۔ بہرحال موجود ہے اور حضرت داؤد کا معجزہ اور وجہِ شہرت ہی ان کا حسن و ترنم اور مناظر کے گیت [جاری]۔

57

No transliteration available for this page.

ہیں جو آج بھی یہود و نصاریٰ میں مذہبی تقدس و تحفظ کے ساتھ کی تقریباً ترانیم کے باد وجود مروج ہیں۔ البتہ جدید موسیقی اور بے دین شاعری و گائیکی کو جو دینی و معاشرتی اقدار سے متصادم ہیں قبول اور معقول نہیں قرار دیا جا سکتا۔ حرمتِ غنا کے ثبوت میں پیش کی جانے والی آیاتِ قرآنی اور دوسرے دلائل کا تجزیہ غنا کی مذمت و ممانعت میں کچھ احادیث اور روایات پیش کی جاتی ہیں جن کے مطابق گانا بجانا، لہو و لعب، قبیح اوقات اور حقوق و فرائض سے غفلت، فسق و فجور اور گناہوں میں مبتلا ہو جانے کے خدشات کے ساتھ اجتنابات و مظاہرِ موسیقی کے مضر اثرات اور مکروہ و مشتمل برکات کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جو ایکس ملعون ہوتا ہے وہ ازخود رد و ازخود رفتہ ہو جاتا ہے۔ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد اور حقوق النفس سب ہی متاثر ہوتے ہیں کہ یہ شوق ہر قسم کی برائی چاہتا ہے اور آدمی ہر وقت امر و نہی میں مستغرق ہو سکتا ہے۔ اس لئے بھی احتیاط، معصومین و مجتہدین نے اس کے متعلقات و مضر اثرات سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹیلیویژن، ڈش انٹینا یا وی سی آر بنیادی طور پر کلیتاً حرامِ مطلوب نہیں ہیں کہ انہیں مفید و دینی، تعلیمی و تحریکی اور اصلاحی مقاصد اور مثبت تعمیری تقریبی سرگرمیوں کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن مشاہدہ و تجربہ یہی ہے کہ ان لغویات کی فراوانی و دستیابی پر ان کا مثبت و تعمیری استعمال اور نیکی فوائد تو محدود اور جزوی اور نقصانات لامحدود ہوتے ہیں۔ چنانچہ علماء کرام ان کی حوصلہ شکنی اور متشدد مذہبی طبقات ضرور مخالفت و مذمت کرتے ہیں، جبکہ یہ آلات و ایجادات بجائے خود حرامِ مطلق نہیں ہیں۔ ان کا استعمال اور حدود و دائرۂ کار کلی بحث ہے۔ بس یہی صورتِ حال موسیقی میں بھی ہے۔ یہ آلات یا علم و فن بجائے خود کلیتاً حرامِ مطلق نہیں بلکہ اس کا استعمال و مظاہرہ خطرناک ہے جس میں خرابی کے خدشات بطورِ غالب و احتمالات و تجربات زیادہ ہی ہیں۔ جس قسم کی شیطانی، ہیجان خیز موسیقی و گائیکی اور کلام، راگ و رنگ، ڈسکو اور پاپ کے نام پر آج کل فروغ پا رہا ہے، ایکس فسق و فجور اور انتشار و انحراف زیادہ سے انسان کی تعلیم و تہذیب اور اعصاب کیلئے یا کی حیثیت انسانی فطری جذبہ حسِ لطیف اور ذوقِ سماعت کی تسکین کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم برصغیر کی قدیم کلاسیکی موسیقی و گائیکی اور روحانی، صوفیانہ و عارفانہ موسیقی و شاعری میں یقیناً روح اور اعصاب کی تسکین و طمانیت کا بہت کچھ سامان موجود ہے، جس میں سماع (شمول چہار بیت و قوالی) بھی شامل ہے۔ جبکہ حسنِ قرأت و نعت خوانی، صلوٰۃ و سلام، منقبت خوانی، سوزخوانی، نوحہ خوانی وغیرہ اصنافِ مذہبی و دینی اسلامی صورانی فنونِ لطیفہ اور مدح و ثنا و دعا ہیں، یعنی عبادت و سعادت ہیں۔ البتہ کلام کے تقدس و پیغام کے مزاج و مقصدیت کے پیشِ نظر کلام کی شایانِ شان ادائیگی کا اہتمام و التزام، آگے تقدس و اہمیت کے زیرِ اثر رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ اب ہم ان آیات کو پیش کریں گے جو حرمتِ غنا کے ثبوت میں پیش کی جاتی ہیں۔ اس ضمن میں بعض محققین اور علماء نے موسیقی کے رواجی و سماجی اور طبی و نفسی نقصانات و مضر اثرات کی نشاندہی کی ہے جو بعض درست بھی ہیں، لیکن وہ محض طبی نقصانات ہیں نہ کہ شرعی [لفظ غیر واضح]۔ علاوہ ازیں ہر قسم کی موسیقی ہر آدمی کو ہمیشہ نقصان نہیں پہنچاتی۔ بعض افراد اور بعض حالات میں مخصوص قسم کی موسیقی فائدہ بھی پہنچاتی رہی ہے، چنانچہ باسیت و قوتِ قلب (افسردگی و مایوسی) اور بلڈ پریشر (سخت و تیز دوران) و فشارِ خون اور دل و دماغ کے علاوہ بعض ذہنی و اعصابی امراض و عوارض میں موسیقی مفید و مجرب اور مؤثر بھی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔

58

No transliteration available for this page.

بعض علماء و مجتہدین اور مفسرین خصوصاً مولانا سید ذیشان علی صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ نے اپنے ترجمہ و تفسیرِ قرآن کے سلسلے میں علیحدہ علیحدہ موضوعات و عنوانات کے تحت مضامینِ قرآنِ مجید کی تفہیم و تشریح اور نشان دہی کے چکر “منہاج کا ناجا” کا عنوان قائم کر کے انہوں نے سورۂ حج کی تفسیرِ آیت اور سورۂ لقمان کی چھٹی آیت و نعت و مذمت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ آئے ہم ان آیات اور ان کے ترجمہ و تفسیر کا جائزہ لیتے ہیں۔ سورۃ الحج کی تیسویں آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ اور لغو باتوں، گانوں وغیرہ سے بچے رہو۔ اس آیت اور ترجمے کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے حاشیہ میں رقمطراز ہیں کہ اگرچہ اردو محاورات میں “زور” کے معنی بھاری کے ہیں مگر عربی معنی، جس زبان کا یہ لفظ ہے، اس کے چند معانی ہیں: جھوٹ، شرک، گانا وغیرہ۔ اور اس مقام پر ہر ایک معنی مراد لے سکتے ہیں۔ اسی بناء پر میں نے ایسا ترجمہ کیا جو سب کو شامل ہوا۔ (گویا یہ وسعت و عمومیت مترجم کی پیدا کردہ ہے اور صریح حکم نہیں ہے۔) سورۂ لقمان کی چھٹی آیت مع ترجمہ و تشریح ملاحظہ فرمائیں: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ اور لوگوں میں بعض (نضر بن حارث) ایسا ہے جو بیہودہ قصے (کہانیاں) خریدتا ہے تاکہ بغیر سمجھے بوجھے (لوگوں کی خدا کی سیدھی) راہ سے بھٹکائے اور آیا [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ “نضر (بن الحارث) تجارت کیلئے شام گیا اور وہاں سے رستم و اسفندیار کے قصے خرید لایا اور لوگوں کو سنا کر کہتا ‘محمد عاد و ثمود و ملکِ سلیمان کے حالات بیان کرتے ہیں تو میں رستم و اسفندیار کے قصے سناتا ہوں’ اور ان کی باتوں میں بعض لوگ آ جاتے۔ اسی کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعض مفسرین نے تفریح ‘الغناء’ سے گانا بجانا مراد لیا ہے اور اس آیت کا زور ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے جو نادان مسلمانوں کو دینِ اسلام سے پھیرنے کے واسطے لوڈھیاں خریدتے اور ان کے گانے بجانے اور بیہودہ افعال پر فریفتہ کر کے اسلام سے روکتے۔” گانے بجانے کی مذمت و ممانعت میں یہی دو آیات بڑی شاندار و سیدھی پیش کی جاتی ہیں۔ اصل متن اور ترجمہ و تشریح آپ نے ملاحظہ فرما لی، جس سے معلوم ہوتا ہے موسیقی و گائیکی بجائے خود حرام نہیں ہے بلکہ اسلام اور مذہب کو تخریب کرنے والے قصے کہانیاں اور لوڈھیاں کے بیہودہ افعال و اعمال اور اسلامی تعلیمات اور احکامات و عبادات اور فرائض سے روکتا قابلِ مذمت ہے اور جھوٹ، شرک یا بیہودہ باتوں اور فضول خلافِ اسلام باتوں سے روکا گیا ہے۔ اسی طرح سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں بھی بیہودہ باتوں سے مومن ہونے کو ایمان اور فلاح کا معیار قرار دیا گیا ہے: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۝ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۝ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یہی بات سورۂ فرقان کی آیت نمبر 72 میں بیان کی جا رہی ہے کہ “اللہ کے حقیقی فرما بردار اور نیک بندے تو وہی ہیں کہ جو [متن جزوی طور پر غیر واضح] اور وہ لوگ جب کسی بیہودہ کلام کے پاس سے گزرتے ہیں تو بزرگوارانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔” اس آیت کا اصل متن ملاحظہ فرمائیں۔

59

No transliteration available for this page.

وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا اس طرح اب تک کی بحث میں آپ نے لہو و لعب، لہو الحدیث، قول الزور، لغو اور غنا وغیرہ کے معانی و مفاہیم اور متعلقہ آیات و احکامات کا مطالعہ فرما لیا۔ اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ ان محدود و مذکورہ بالا آیات سے ہر قسم کی موسیقی و غنا کا کلیتاً حرامِ مطلق تو کیا کچھ سادہ طور پر بھی حرام ہونا واضح اور ثابت ہوتا ہے؟ ان آیات کے علاوہ کوئی آیت پیش نہیں کی جاتی اور یہ آیات غیر واضح، مبہم و متشابہ و غیر محکم، یعنی حرمتِ غنا کے ثبوت کیلئے ناکافی و غیر متعلق ہیں! “الغناء أشدّ...” والا مقولہ نہ حدیث ہے نہ آیت۔ غنا خود بھی واضح اور متعین نہیں ہے۔ بعض روایات جو بعض معصومین سے منسوب ہیں تو انہیں لہو و لعب اور نفس و فنی کی محفلِ شیطانی، مجلسیں اور نفسانی، شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی باتیں ناپسندیدہ قرار دی گئی ہیں۔ جہاں تک مجتہدینِ عظام کی احتیاطی تاکید اور ممانعت کی بات ہے تو وہ فکر سے انہیں سے ڈر کے کیجئے۔ اب آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ جب مجتہدین و مراجع احتیاطاً ممانعت کرتے رہے ہیں تو پھر آپ اس کے جواز پر کیوں مصر ہیں؟! تو اس کی وجہ یہ ہے کہ صلوٰۃ و سلام اور ذکر و ذاکرِ اہلبیت کی حوصلہ شکنی کیلئے انتہا پسند تنگ نظر جنونی طبقات صلوٰۃ و سلام اور نعت خوانی و سماع اور سوز و سلام و نوحہ کو بھی ملعون کرتے رہتے ہیں، جبکہ یہاں عام غنا و موسیقی اور گائیکی کی حرمت بھی نصِ صریح سے ثابت نہیں ہو رہی! چنانچہ حسین داؤدی اور محمد و مزامیر کے [متن جزوی طور پر غیر واضح] سے، بلکہ قریبی کی بستی میں آخرت کے دور و صدر کے موقع پر بچیوں کا دف بجانا، گانا اور غنا، گلوکار خیز مقدس گیتوں کا استقبال، تاریخِ اسلام، مجید کی قرأت و تلاوت میں حسن و تحمل و ادائیگی کا لحاظ و اہتمام کرنا، کربلا اور شام کو نوکی منزلیں طے کرنے کے مدینہ واپسی کے موقع پر اس قافلہ کی وطن میں آمد و واپسی کی اطلاع رسانی کیلئے خواندہ زوار رسالت مآب کی جانب سے بشر بن حذلم کو اس خدمت پر مامور و مقرر کرنا کہ وہ حسن و ترنم اور اشعار میں اہلِ مدینہ کو دیں۔ علاوہ ازیں عالمِ اسلام میں حسنِ قرأت و سماع و آہنگی کو مخصوص طریقوں پر ادا کرنے اور آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی الخمینی اعلیٰ اللہ مقامہ کے جمہوری و اسلامی ایران میں ان کی نگرانی و سرپرستی اور دورِ حکومت کے علاوہ ان کی رحلت کے بعد بھی ولایتِ فقیہ کے عہدِ حکومت میں بھی حسبِ ضرورت ساز و آلاتِ موسیقی کا استعمال، دوسری طرف اہلِ شریعت و صاحبانِ طریقت، بزرگانِ دین و اولیاء کرام میں سماع و قوالی کا رواج اور اس کے جواز کے دلائل بھی بجائے خود اس امر کی دلیل ہیں کہ ایسا گانا اور ساز جو کسی واضح حکمِ الٰہی سے متصادم نہ ہو اور حقوق اللہ، حقوق العباد یا حقوق النفس کو متاثر و مجروح نہ کرے، جائز و مباح اور بعض اوقات عبادت و سعادت بھی ہے۔ اس سلسلہ میں نقادِ عام کی سخت گیری وہی معاملہ لگتا ہے کہ “گھس کو باغ میں جانے نہ دینا!” بہرحال جن مجتہدین و علماء کرام نے ازراہِ احتیاط اس ضمن میں تحفظ اور سخت رویہ اختیار کیا ان کی نیک نیتی اور مقاصد شک و شبہ سے بالا تر ہیں کہ ان کا صحیح نظر یہ رہا ہوگا کہ موسیقی میں چونکہ فوائد کی نسبت عوام الناس اور ناپختہ اذہان نوجوانوں کے لئے نقصانات کے خطرات و خدشات زیادہ ہیں کہ ایک ملعونیت ہو کر ہر شخص کیلئے توازن و اعتدال میں رہنا اور دوسرے افراد سے اضافت کرنا ذرا مشکل ہی ہے۔ اس لئے زیادہ نقصانات کے پیشِ نظر محدود فوائد کی قربانی اور حوصلہ شکنی کو بہتر سمجھتے ہوئے ان کی ممانعت و [جاری]۔

60

No transliteration available for this page.

[صفحہ 60 سے جاری] مدت کی گئی بالکل اسی طرح جیسے کہ ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر اور ڈش انٹینا وغیرہ یکسر اور اصلاً اور مطلقاً حرام نہیں، مگر ان کا استعمال اور ان سے نشر ہونے والے پروگرام چونکہ اخلاق و کردار اور اعصاب و اطوار پر بڑے اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لئے ان سے دوری و بیزاری ہی بہتر ہے۔ تاہم مناسب، مضبوط اور مستحکم ہاتھوں میں ان کا استعمال یقیناً سودمند اور کارِ ثواب بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر حفاظت، خود اختیاری اور تخریب کاری سے نمٹنے کے لئے اسلحہ اور قانون کے محافظ مذہب و ذمہ دار اور پاک کردار ہاتھوں میں ہو تو نعمت، ورنہ سراسر مصیبت۔ [چند الفاظ غیر واضح] لائسنس کی پابندی یا اس کی کثرت و بیانات کی مضبوط قانونی و حقیقی عوام کو مجرم قرار دینے یا انہیں مجرموں، تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ سرکار تو نیک نیتی سے یہ چاہتی ہے کہ کوئی قانون کو ہاتھ میں نہ لے اور غیر ذمہ دار ہاتھوں میں یہ خطرناک اسلحہ پہنچنے سے روکا جائے۔ وجود و واقعہ یا استعمال بجائے خود قطعاً نہیں، عملی استعمال قابلِ لحاظ ہے۔ یہی معاملہ موسیقی، غنا اور گائیکی کا بھی ہے کہ کون کہاں کس لئے کیوں کب کتنا اس کا استعمال کر رہا ہے۔ یوں کسی وقتی ضرورت اور شرفِ انسانیت کے بھی خلاف ہے کہ وہ بازاروں اور گلیوں میں عامیانہ و فحش کلام کا تماشا کرے۔ معزز ذاکرین، شعراء اہل بیت اور عزاداروں کی توجہ کے لئے ایک غور طلب نکتہ ایک چھوٹے سے شاعرِ اہل بیت ہونے کی حیثیت سے میں مذہبی شاعری میں واقعیت و حقیقت (Facts) کا قائل و عامل ہوں اور اس میں مبالغہ آرائی، غلو یا افسانویت و مفروضیت Fiction کا قائل نہیں ہوں کہ ایک چھوٹا سا مفروضہ بھی ساری حقیقت و واقعیت کو مشکوک و ساقط الاعتبار بنا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے فی زمانہ ہمارے بہت سے خطباء کرام اور نوجوان شعراء اہل بیت اس سلسلے میں غیر ذمہ داری یا غیر محتاط روی کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ وہ دانستگی میں خود مدحین کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اگر اس سلسلے میں بالخصوص ہمارے نوجوان شعراء کرام، نوحہ خواں اور منقبت خواں حضرات ذی علم و ذمہ دار افراد سے مشاورت کریں تو بہت سے مسائل و تنازعات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ یہ کام اور نگرانی کراچی کی سطح پر ہاشمی انجمن کی فیڈریشن، مرکزی تنظیمِ عزاء، بطریقِ احسن سر انجام دے سکتی ہے تاکہ غیر معیاری کلام اور عامیانہ و بازاری طرزوں پر مشتمل مناقب و نوحہ جات سے نجات مل سکے۔ سوزخوانی میں چونکہ بالعموم اساتذۂ متقدمین اور عہدِ حاضر کے مستند شعراء کرام کا کلام پڑھا جاتا ہے اور بندشیں بھی مخصوص نوعیت اور مقررہ حدود و قیود میں ہوتی ہیں، اس لئے بحمد اللہ سوزخوانی اب تک غیر معیاری کلام اور بازاری و عامیانہ بندشوں / طرزوں سے محفوظ و مامون ہے، اور سوزخوانوں کی اکثریت اپنی عام عملی اور فنی زندگی میں بھی مذہب و شائستہ اطوار و طرزِ عمل کی مالک ہے۔ (محتاجِ دعا: س۔ج)

61

No transliteration available for this page.

ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کا لائحہ ہمارا موقف و مقصد یہ ہے کہ سوزخوانی کی ہر بستی اور ہر عزاخانے کے لئے اسی علاقے کی کم از کم ایک ایسی نوجوان و ہونہار، مخلص و باصلاحیت رضاکار سوزخواں پارٹی ضرور تیار کر دی جائے کہ جو اس علاقے / عزاخانے کی عزائی (سوزخوانی) ضروریات کی تکمیل و کفالت کر سکے۔ ہماری [چند الفاظ غیر واضح] مرکزی و علاقائی تربیتی نشستیں ہماری اسی خواہش و مقصد کا مظہر ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہم بانیانِ مجالس اور اپنے ادارے کے رضاکار سوزخوانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ حتی المقدور دوسرے سوزخوان حضرات کو خدمت و معاونت کا موقع دیں، اور جب جہاں کوئی دوسرا بہتر قابل سوزخواں دستیاب نہ ہو تب ہی وقتِ ضرورت وہ اپنی خدمات پیش کریں۔ یعنی جہاں کوئی نہ ہو وہاں ادارے کے رضاکار سوزخوان حاضر ہیں۔ (محتاجِ دعا: س۔ج) شائقینِ سوزخوانی کی توجہ کے لئے [ابتدائی چند الفاظ غیر واضح] مدحِ اہل بیتِ معصومین کی پسندیدہ مشغول عبادت ہے اور فی زمانہ بہترین پاک و ہنر اور درد والے طبقے میں اس کی بہترین شکل روایتی و تکنیکی سوزخوانی ہے، جس کے لئے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی عرصۂ دراز سے کوشاں ہے۔ ہم زیرِ تعلیم کمسن بچوں اور خواتین کو سوزخوانی کی باقاعدہ تربیت نہیں دیتے، تاہم وہ ہمارے پانچ کیسٹ، سی ڈی، ویڈیو اور تربیتی نشستوں کے ذریعے بلاواسطہ طور پر استفادہ کر سکتے ہیں۔ البتہ عام شائقینِ سوزخوانی اس سلسلے میں ہماری مرکزی یا علاقائی تربیتی نشستوں میں شرکت کر سکتے ہیں، جس کا کوئی ہدیہ، نذرانہ یا رجسٹریشن وغیرہ کچھ نہیں ہے۔ آئیے اور ہم سے ہر ممکن رہنمائی حاصل کیجئے۔ ہم ان نشستوں میں کلام، بندشیں، فنی و تکنیکی تربیت اور پڑھنے کے لئے [جاری] [پچھلے مضمون کا تسلسل] عباس بھی دیتے ہیں لیکن آپ کا علم، باصلاحیت اور غیر شجرہ ہونا ضروری ہے۔ ہم اچھا سوزخواں ہی نہیں، آپ کو ایک اچھا انسان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بطور مثال ہمارے ادارہ کے نوجوان رضاکار سوزخواں یقیناً آپ کے پیشِ نگاہ ہوں گے، جو سب اچھے خاندانی، تعلیم یافتہ، مذہب اور مخلص مثالی افراد ہیں۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے ہمارے ساتھی سوزخواں کاشف زیدی صاحب سے فون 0300-9268953 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ (محتاجِ دعا: س۔ج) ذاکرینِ عظام و مومنینِ کرام کے لئے ایک غور طلب نکتہ (متعلقہ سکینہ اور شہزادہ علی کی شہادت کے حوالے سے) یہ میرا ذاتی خیال ہے، میں نے تو اب کسی ذاکر و خطیب و شاعر سے سنا نہ ہی کبھی پڑھا، لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ بات سچ ہوگی۔ مقاتل میں ملتا ہے کہ بچوں کی پیاس اور بالخصوص شہزادی سکینہ کی شدتِ عطش کے پیشِ نظر مولا عباس کو پانی لانے کے لئے نہر پر جانے کی اجازت ملی۔ جنگ کی اجازت اور تلوار آزمائی کی چنانچہ آپ گھوڑے پر سوار ایک نہر کی طرف بڑھے اور [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ آپ کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح جلد سے جلد پانی تمام بچوں، بالخصوص شہزادی سکینہ تک پہنچ جائے۔ اس کوشش میں کئے بعد زخم کھائے، آپ کے دونوں دستِ مبارک قطع / شہید ہوئے مگر آپ نے کسی نہ کسی طرح مشکیزہ تیروں اور نیزوں سے بچائے رکھا اور ہاتھ قطع ہونے کے بعد دندانِ مبارک میں مشک کو دبا لیا، لیکن جب ایک شقی کے تیر سے مشکیزہ بھی چھد گیا اور سارا پانی بہہ گیا تو پھر [جاری]

62

No transliteration available for this page.

[صفحہ 62 سے جاری] مولا عباس کی آس اور خیمے میں واپس جانے کی امید ختم ہو گئی اور انہوں نے اپنا رخ خیمہ گاہِ حسینی کی طرف سے واپس لشکرِ اعداء کی طرف پھیر لیا۔ اور اسی اثنا میں گھوڑے سے زمین پر تشریف لائے۔ جب مولا آپ کے سرہانے پہنچے تو آپ نے شہزادی سے شرمندگی کے باعث لاش کو خیمے میں لے جانے کی بجائے اسی مقام پر چھوڑ رہنے کی خواہش کی۔ چنانچہ مولا عباس پانی نہ لے جا سکے۔ [چند سطور جزوی طور پر غیر واضح] کیا پتا اپنے پیارے محبوب جان کی لاش / مرقد پر نہ آئیں؟ چنانچہ مصیبتِ خداوندی نے مولا عباس کو پانی کا سامنا کرنے سے بچانے کے لئے قید خانے ہی میں روک لیا۔ واللہ اعلم! (محتاجِ دعا: س۔ج) اقوالِ معصومین (منظوم، ملخص / ترجمہ) ☆ برا آدمی وہ ہے جس سے قرض نہ لیا پڑے اور کسی کی [بقیہ مصرع / عبارت غیر واضح] ☆ بہت خوش قسمت ہے وہ شخص جسے وطن میں روزگار فراواں، برادر و دوست اور نیک اولاد نصیب ہو۔ ☆ مومن کو مومن کا عذر قبول کر لینا چاہئے۔ (یعنی اس کی معذرت یا غلطی، وجہ و تفسیر قبول کر لینا چاہئے) آپ اپنے مولا کی خاطر ان کے نام پر ملاؤں کی غلطیوں اور زیادتیوں کو نظر انداز / معاف کر دیا کریں۔ مولا سے ان کی اصلاح و مغفرت کی دعا کریں اور ان کی اس زیادتی کے عوض میں اپنے لئے بطورِ ازالہ و تلافی کوئی نعمت مانگ لیں یا اپنے گناہوں کے وبال و عذاب سے نجات و مغفرت طلب کرلیں۔ آپ یقین جانیں اس معافی و طلب کے سبب آپ کو دونوں جہانوں میں بڑی نعمتیں میسر آئیں گی۔ (ماخوذ از متفرق روایات و احادیثِ معصومین علیہم السلام) (محتاجِ دعا: س۔ج) کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم زمانۂ ظہور اور عصرِ رجعت میں داخل ہو رہے ہیں؟ روزِ [لفظ غیر واضح]، عصرِ رجعت اور ساعتِ ظہور قریب تر ہیں۔ کیا اس سلسلے میں آپ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں؟ اس سلسلے میں معلومات و آگاہی اور تیاری کے لئے اہلِ علم کرام، متعلقہ لٹریچر اور سرگرم عمل معاشرہ / تنظیموں / افراد سے رجوع و استفادہ کریں۔ ایڈریس: سید عطاء حسین شاہ الموسوی، مشن القائم انٹرنیشنل / امامیہ ترجمانِ حق، کراچی المہدی ہاؤس، 57-Z-4، بلاک 6، PECHS کراچی فون: 4398066، 4395591 فیکس: 4559167 ای میل: [email protected] ادارۂ ترویجِ سوزخوانی اور انجمنِ وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ سے متعلق معلومات و خدمات کے لئے رابطہ فرمائیں: اسلام آباد: شاعر و سوزخواں سید محمد آصف زیدی — موبائل: 0346-5372677 حیدرآباد (سندھ): شاعر و سوزخواں سید فرخ حیدر رضوی — موبائل: 0333-2626974 خیرپور میرس (سندھ): سید شاہ مراد زیدی — 0345-2483116 / 0300-3114159

63

No transliteration available for this page.

مختصر تعارف پروفیسر سید سبط جعفر زیدی (ایڈووکیٹ، مصنف، شاعر اور سوزخوان، قومی سماجی کارکن) والدین مولانا سید احمد حسین زیدی [کچھ الفاظ غیر واضح] مرحوم، ابن مولانا سید انوار احسن زیدی المعروف بہ مولوی محمد عبداللہ، [متن جزوی طور پر غیر واضح]۔ والدہ: سیدہ انوار جہاں بنت سید احمد عابدی مرحوم (رئیس گنجہ، ضلع بجنور) تعلیم نمایاں امتیازی حیثیت سے متعدد مضامین میں ایم اے، بی اے، ایم اے، ایل ایل بی اور جامعہ کراچی سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفیکیٹ زبانِ عربی بدرجۂ امتیاز۔ ادیب اعظم، مفسرِ قرآن مولانا ظفر حسن نقوی امروہوی کی سرپرستی، مولانا پروفیسر سید عنایت حسین جلالوی صاحب کی نگرانی میں مدرسہ [نام غیر واضح] کراچی سے گریجویٹ مبلغ کورس۔ مولانا شمس الحسین زیدی مرحوم نے پڑھائی جبکہ ابتدائی عربی مولانا امین الحسین رضوی مرحوم سے پڑھی۔ روزگار تعلیمی وکالت اور سول سروس سے دستبرداری کے بعد پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر گورنمنٹ کالج (محکمۂ تعلیم / حکومتِ سندھ) میں اسسٹنٹ پروفیسر۔ شعبۂ قانون و دیگر تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ تصانیف انٹرمیڈیٹ اور ڈگری کلاسز کے لئے نصابی و امدادی نصابی کتب جو 1983ء سے 1984ء کے دوران متعدد بار شائع ہوئیں۔ مطالعۂ پاکستان، عمرانیات اور اخلاقی / نظریاتی موضوعات وغیرہ۔ بعد میں “نشاناتِ راہ”، “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” اور دیگر کتب و مقالات۔ علاوہ ازیں ملکی، دینی، ادبی، سماجی اور ثقافتی حوالوں سے مختلف مقامی، قومی اور بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہوئے۔ بالخصوص روزنامہ جنگ، اخبار جہاں، عوام، نوائے وقت، قومی اخبار، پبلک، امن، حریت، جہانِ چشتی، تنظیم، ندائے اسلام، رہنما، نوائے اسلام، توحید اور دیگر جرائد میں مختلف موضوعات پر تحریریں شائع ہوئیں۔

64

No transliteration available for this page.

[مختصر تعارف پروفیسر سید سبط جعفر زیدی — جاری] مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ کراچی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا کلچرل سیکریٹری، پریس اینڈ پبلی کیشن اور چیئرمین اسپورٹس بورڈ۔ اس دوران آل سٹی کرکٹ اور فٹبال ٹیمیں بھی کھیلیں۔ انجمن شہری ترقی [رجسٹرڈ] کا صدر اور انجمن سوزخوانان کراچی کا بھی عہدہ دار رہا۔ انجمنِ جوانانِ [نام غیر واضح] کا مرکزی خادم / بانی رکن ہونے کے علاوہ کراچی بار ایسوسی ایشن اور سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی رکنیت کے علاوہ آرٹس کونسل آف پاکستان (کراچی) کی تاحیات رکنیت حاصل ہے۔ بین الاقوامی ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے بانی ہونے کے علاوہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ کے مرکزی صدر [سنہ / مدت جزوی طور پر غیر واضح] ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ غیر ملکی دورے بطور شاعر و سوزخواں 1980ء سے 2000ء کے دوران سولہ ممالک کی سیاحت و زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی (بالخصوص [متن غیر واضح]) نے بطورِ خاص خصوصی پذیرائی کی۔ شعر و سخن میں تلمذ والدِ گرامی راہی صاحب قبلہ کے علاوہ ان کے استاد حضرت مولانا محمد مصطفیٰ جوہر صاحب قبلہ اور ڈاکٹر پروفیسر نسیم [نام غیر واضح] صاحب سے عربی، اردو ادب اور شعر و سخن میں استفادہ کیا۔ سوزخوانی میں تلمذ استاد مسعود علی خان حیدری، استاد اشتیاق علی خان حیدری، استاد واحد حسین خان، [نام جزوی طور پر غیر واضح] اور دیگر اساتذۂ فن سے بالمشافہ و بالواسطہ استفادہ کیا۔ الیکٹرونک میڈیا 1974ء سے مختلف حیثیتوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستگی رہی۔ خصوصاً کمپوزر، سوزخواں، مقرر اور مہمان / صدر کی حیثیت سے بھی شرکت کی۔ بطور شاعر و نعت / نوحہ خواں ریڈیو، ٹی وی پر طویل اور مستقل وابستگی رہی۔ 1990ء میں بطور ادیب و شاعر و سوزخواں مختلف سرکاری و نجی چینلز کے لئے خصوصی پروگرام تحریر و تیار اور پیش کئے۔ 1988ء سے 2000ء کے دوران بطور شاعر و سوزخواں تقریباً 50 آڈیو ویڈیو کیسٹ اور سی ڈیز EMI، SRC، رضوی کیسٹ، زیدی پروڈکشن، پاکستان اسٹوڈیوز، AVT، جعفری کیسٹ، پنجتنی کیسٹ، AB میوزک سنٹر، باب العلم کیسٹ لائبریری، عزت فاؤنڈیشن، پیامِ اثر، ترابی کیسٹ لائبریری، شاہی اسلامی کیسٹ اور دیگر اداروں سے جاری کئے گئے۔ ان میں سے خاصا مواد مختلف اداروں نے سی ڈی اور ویب سائٹ / انٹرنیٹ پر بھی جاری کر رکھا ہے اور مزید یہ کام جاری ہے۔ پیشہ ورانہ اور شعبہ جاتی وابستگی مختلف دینی، ادبی، علمی، سماجی، ثقافتی اداروں سے مختلف حیثیتوں میں وابستگی کے علاوہ دورانِ طالب علمی اسکول کالج اور یونیورسٹی [جاری]

65

No transliteration available for this page.

تلامذہ و رفقا تعلیم و تدریس کے حوالے سے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ تصنیف و تالیف اور شعر و سخن میں بھی بہت سے شاگرد ہیں۔ تاہم سوزخوانی کے حوالے سے براہِ راست استفادہ کرنے والے خواتین و حضرات کی تعداد بھی سیکڑوں سے زائد ہے جو کراچی و بیرونِ کراچی اور ملک سے باہر بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان افراد کے متعلقین اور بلاواسطہ استفادہ کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ادارۂ ترویجِ سوزخوانی اس ادارے کے قیام کے ساتھ ہی فن کی بقا و تحفظ اور فروغ کے لئے تربیتی خصوصی نشستوں کے علاوہ آڈیو ویڈیو کیسٹ جاری کئے گئے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ علاوہ ازیں منتخب و معیاری کلام و کتب / سوزخوانی یعنی “بستہ” کی اشاعت کے بعد اس سرمایہ کو سی ڈی / ویب سائٹ پر محفوظ و منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایوارڈز مختلف قومی، دینی، مذہبی، سماجی اور ثقافتی اداروں کی جانب سے شیلڈوں، اسناد و اعزازات، تمغوں اور تعریفی سرٹیفیکیٹس سے نوازا گیا۔ خصوصی توجہ عقیدتاً فنی سوزخوانی کی بقا و ترویج کے لئے اور ترویجِ سوزخوانی باقاعدگی سے کلام و بندش (مشتمل کیسٹ اور ادائیگی کے دیگر ذرائع) سے متعلق کام جاری ہے۔ اس شعبے کے نوجوانوں کے لئے مناسب روزگار کا بندوبست فراہم کرنے کی عملی سرگرمی بھی جاری ہے۔ انعامات اعزازات و انعامات سے نوازا جاتا رہا ہے۔ تعلیمی و تدریسی شعبہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے؛ قانون، کلچرل و سماجی اداروں اور سوزخوانی کے مراکز میں بھی خدمات انجام دیں۔ برائے رابطہ: J-1642، بلاک 2، [خاصوں / ناظم آباد کالونی — جزوی طور پر غیر واضح] ناظم آباد نمبر 2، کراچی 74600 عام خط و کتابت کے لئے: پوسٹ بکس 10979، کراچی 74700 کیا آپ کو معلوم ہے؟ انجمنِ وظیفہ سادات و مومنین پاکستان (رجسٹرڈ) ہر سال تقریباً پانچ ہزار سے دو ہزار طلبہ و طالبات میں ایک کروڑ روپے سے زائد تعلیمی وظائف (بطور امداد و قرضِ حسنہ) تقسیم کرتی ہے! ذرا سوچئے: اس کا بجٹ اور ذریعۂ جاریہ میں آپ کا حصہ کتنا ہے؟ برائے رابطہ: مرکزی دفتر لاہور: 042-7351631 علاقائی دفتر کراچی: 021-6686981 وظائف: 021-6707002

66

No transliteration available for this page.

تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا رضی جعفر نقوی مجتہد برادرم مکرم و محترم جناب سید سبط جعفر صاحب دام مجدہ، جو مشہور و معروف شاعر، منقبت خواں، سوزخواں، نوحہ خواں، ادیب اور مبلغِ شعائرِ اہل بیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایڈووکیٹ اور پروفیسر بھی ہیں، ہماری ملت کے ان انتہائی بے لوث و مخلص درد مند نوجوانوں میں سے ہیں جو کسی [ذاتی مفاد] کے بغیر ملک اور بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت کرتے ہیں اور جدوجہد کے ساتھ لوگوں کی اصلاحِ فکر کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات میرے لئے باعثِ مسرت ہے کہ موصوف کا اندازِ فکر اچھوتا اور ان کے محسوسات و طبیعت کا تقاضا ایسا منفرد ہے کہ وہ الگ سب ہوا یا مختلف نظر ہوا ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ سوزخواں و مرثیہ خواں ہمیشہ مذہب سے بہت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف زمانوں میں وہ ذاکر و خادمِ اہل بیت رہے ہیں۔ سید سبط جعفر نے اپنی پوری زندگی کو خود احتسابی کا شکار [یا شعار] بنایا اور فنِ سوزخوانی اور نوجوانوں کی تربیت کے لئے نمایاں کام کیا۔ انہوں نے “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” اور مرتبۂ کلامِ اہل بیت کے اندر ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے نسیمِ گلشن اور بالخصوص سوزخوانی کی آبادیاں اور عزاخانوں میں جا بجا تربیتی نشستیں قائم کر کے نوجوانوں کی ایک سوزخوان جماعتیں تیار کر دی ہیں جو بڑا کارنامہ ہے۔ اس خدمت کو نہایت عقیدت و احترام اور ذمہ داری سے آگے بڑھایا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ان کے اس کام کو پذیرائی نصیب ہو، مزید نوجوان اس طرف متوجہ ہوں اور یہ فن بہتر طور پر محفوظ رہے۔ [اختتامی سطر / شعر جزوی طور پر غیر واضح]

67

No transliteration available for this page.

پروفیسر سید اظہر حیدر رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان صدر شعبۂ قانون، وفاقی گورنمنٹ اردو کالج کل شہروں کا وارث ہرگز آسان ہے لیکن کچھ صدیوں میں صاحبِ کمال، اہلِ نظر اور ماہر ساز و فنکاروں کو صحیح طریقے سے شناخت کرنا بہت دشوار کام ہے۔ سید سبط جعفر کی کتاب “صوتی علوم و فنونِ اسلامی” کے مطالعے سے یہ پتہ چلا ہے کہ سبط جعفر نہ صرف ایک طرف شاعر، خطیب، یادگار اور قانونی ماہر / ادیب ہیں بلکہ دوسری طرف صاحبِ طرز قوالوں، سوزخوانوں وغیرہ بالخصوص استاد مسعود علی خان، استاد واحد حسین خان، استاد اشتیاق علی خان، محترم [نام غیر واضح] وغیرہ کے فن کو ایک ثقافتی فریضہ ادا کر کے محفوظ بھی کر رہے ہیں۔ عرصۂ دراز سے یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ سوزخوانی کی بابت اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی کہ دینی و فنی حلقوں کو دینی چاہئے تھی۔ لوگ ذاکروں، نوحہ خوانوں اور قصیدہ خوانوں سے تو واقف ہوتے تھے لیکن فنی سوزخوانی سے ناواقف رہتے۔ کتابیں بھی کم تھیں۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اور ہمارا ذوقِ فن ضرور ہوا کہ مصنف کے یہاں افراد نے بیک وقت ایک ہی شہر کراچی کو سوزخوانی کے ذیل میں دوسرے صاحبانِ کمال کے علاوہ محترم سبط جعفر جیسا ایک معتبر، منفرد مقام کا فنکار دیا ہے۔ سوزخوانی کا اپنا ایک اسلوب، ایک اسکول اور ادارہ ہے جو کہ قومی بھی وجہ سے ان کے ساتھ قائم و جاری ہوگا۔ ان کے اس فنی جانب کو مزید وسیع اور ان کو تحفظ دینا چاہئے۔ سبط جعفر نے انفرادی طور پر مشہور و معروف سوزخوان حضرات کا ذکر کیا، ان کے فن کی باریکیوں پر روشنی ڈالی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے سوزخوانی کے موجودہ دبستانوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ سید سبط جعفر نے سوزخوان حضرات کا ذکر کرتے ہوئے ذاتی تعلقات و مقامات پر شناخت کرنے کی کوشش کی۔ [متن جزوی طور پر غیر واضح] ان کی تعریف و توصیف میں بہت سے سادہ و باریک نکات دکھائی دیتے ہیں، اور معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کے ہاں فن و شخصیت دونوں کی قدر موجود ہے۔

68

No transliteration available for this page.

[تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری] یہ دیکھنے کی ان کی کتاب میں آپ کو فنی تحریکوں کے ایک ایسے سوزخوان کے استادوں کے وجود دکھائی دیتے ہیں۔ استاد اشتیاق علی کے خلیفہ یا جانشین بھی ہیں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود دوسرے سوزخوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے فن کی صحیح تعریف کرنے میں کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے۔ ہر مذہب، پیشہ / شعبہ میں اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ ان اصولوں پر بھرپور اور فنکارانہ اندازِ کار برقرار ہوتا ہے۔ سبط جعفر نے کتاب میں نعت خواں، سوزخواں کے لئے مرادِ سوز کے ساتھ آدابِ مجلس کے طور طریقے، دورانِ ادائیگی پیش آنے والے نزاکت و مقامات اور مختلف سوزخوانوں کی رہنمائی کے لئے کچھ رہنما اصول بھی بتائے ہیں جو ہماری تہذیبی ضرورت و ورثہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ سوزخوانوں کے لئے سوزوں کی ادائیگی میں پابندی، سوزخوانوں کا کردار اور اخلاق و وضع، تلفظ، اندازِ نشست و برخاست، آدابِ محفل اور دوسری متعلقہ باتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن کے سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ اچھے نعت خواں / سوزخواں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مذہب، مستند تعلیم یافتہ، باکردار، متقی، ہنر مند، سچا مسلمان اور اچھا انسان ہو، خوش گلو ہو، آواز پائیدار اور پُرسوز ہو، نظری صلاحیت کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کی مناسب سمجھ بھی رکھتا ہو۔ اسی طرح سوزخوانوں کے متعلق سبط جعفر کی رائے ہے کہ وہ صاحبِ لباس، وضعِ قطع اور اچھے اطوار اختیار کریں۔ سوزخوان کو آدابِ نشست و برخاست کا بھی خیال رکھنا چاہئے، منبر پر گفتگو یا ہنسی مذاق کے بجائے ادب و وقار ملحوظ رہے۔ یا تقریر کرنا، بار بار غیر مناسب گویا ہونا، لوگوں کو زبردستی داد و تحسین یا گریہ و بکا کی دعوت دینا، آواز یا طرز کا غیر ضروری اظہار — یہ سب سوزخوانی اور سوزخواں کی شان و وقار کے منافی ہیں۔ دورانِ مجلس بازوؤں کو آدابِ مجلس سکھانا اور ان کی تربیت کرنا بھی مناسب طرزِ عمل ہے۔ یہ ساری باتیں بظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں لیکن مجموعی طور پر فن کے وقار اور مجلس کی کیفیت کو بہتر بناتی ہیں۔ وقت کا لحاظ اور ترتیب بھی ضروری ہے۔ بندہ آخر کتب موضوعات پر کتاب لکھنا جتنا آسان ہے اتنا ہی پیچیدہ اور سامنے کے موضوعات پر قلم اٹھانا دشوار ہے۔ سبط جعفر نے حسنِ قرأت، نعت خوانی، سوزخوانی، نوحہ خوانی، سماع، قوالی جیسے موضوعات پر تحریر کر کے ایک خلا پُر کیا۔ [اختتامی دعا / سلام]

69

No transliteration available for this page.

پروفیسر کرار حسین مرحوم بالعموم سید سبط جعفر نے اپنے تحقیقی و ثقافتی ورثے کی بہت بڑی اور قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے، اور اب جو ہو چکی ہے بالخصوص فنِ سوزخوانی کی تاریخ اور اس کے حفظ و بقا کے لئے قابلِ قدر کام ہے۔ پروفیسر حافظ مولانا محمود حسین صدیقی مدظلہ سید سبط جعفر نے حسنِ قرأت سے سوزخوانی تک مختلف اصناف پر بہت حاصل و مفید تحقیقی و تکنیکی بحث کی ہے۔ اس میں واقعی طور پر واضح کیا گیا ہے کہ خوش الحانی ایک خدادی تعلیم، اہلی اور موجبِ ربانی ہے۔ استاد اسد علی خان (دہلی یونیورسٹی) سوزخوانی کے حوالے سے سید سبط جعفر صاحب کو جو اعزاز حاصل ہے وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس منفرد تحقیقی اسلامی علم و فن کی علمی و ادبی بنیادوں پر ترتیب و تدوین ان کی خدمات میں شامل ہے۔ محترمہ گلبن بیگم پروفیسر سبط جعفر صاحب نے اپنے عہد کے تمام قابلِ ذکر اور نامور ماہرینِ فن اساتذہ اور سوزخوانوں سے استفادہ کر کے ان سب کا جوہر نکال کر اپنے لئے الگ راستہ بنایا ہے۔ ہمارا ادارہ ان شاء اللہ اس کو آگے بڑھائے گا۔ پروفیسر کنہیا لال ناگپال سید سبط جعفر سوز و سلام پڑھنے میں الہامی کیفیت پیدا کرتے ہیں، جس سے انسان کے دل میں امامِ حسین علیہ السلام کے غم اور عقیدت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر پروفیسر علامہ محمد سعید (پرنسپل / ڈائریکٹر — عنوان جزوی طور پر غیر واضح) برادرم مکرم محترم پروفیسر سید سبط جعفر زیدی کی زیرِ نظر کتابوں کو دیکھنا تو معلوم ہوا کہ آپ کی تحقیقی تصنیف دین و مذہب، علم و ادب اور فن و ثقافت میں گراں قدر تحقیقی و تکنیکی اضافہ ہے اور مصنف نے جس طرح نعت خوانی، سوزخوانی، قوالی اور دیگر صوتی فنون کو علمی بنیادوں پر مرتب کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ [متن جزوی طور پر غیر واضح] انہوں نے ایک نئے موضوع پر کام شروع کیا ہے اور اس میں تحقیقی و فنی معیار قائم کیا۔ محترم جمیل الدین عالی (انجمن ترقی اردو / رکن سینیٹ آف پاکستان) پروفیسر سبط جعفر کی یہ کتاب ایک نقش کے ساتھ تحقیقی، مقصدی اور دینی خدمات کی بہترین مثال ہے۔ یقیناً خدمتِ دین اور تحقیق و تالیف میں محنت و کامیابی قابلِ قدر ہے۔

70

No transliteration available for this page.

[تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری] حکیم محمد سعید شہید سچ بات یہ ہے کہ مجھے پہلی بار صوتی علوم و فنونِ اسلامی پر نئے انداز سے غور و فکر کا موقع ملا۔ آپ نے یقیناً ایک نئے انداز اور بالخصوص نئے اسلوب سے اس موضوع پر کام و کلام کیا ہے۔ اب آپ سرفراز احمد صاحب کے مشورے پر عمل کیجئے اور ڈاکٹریٹ کی تیاری کیجئے۔ جزاک اللہ، بارک اللہ۔ ڈاکٹر سید کلب صادق مدظلہ بحمد اللہ میرا تعلق سرزمینِ اردو لکھنؤ سے ہے جو مرثیہ و سوزخوانی کا اولین مرکز و منبع رہا ہے۔ مولانا کے ذکر کے طفیل تقریباً ساری دنیا کے سفر اور جانے کے بعد میں نہایت ذمہ داری اور افسوس سے عرض کر رہا ہوں کہ بدقسمتی سے صرف وہاں بلکہ اب یہ قدیم تکنیکی اور روایتی مقدس فن دنیا بھر سے تقریباً ختم ہو چلا ہے۔ آپ کو دیکھ کر اور سن کر بڑی دلی مسرت، تقویت اور طمانیت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آپ اس عہد کے سب سے بڑے باکمال و صاحبِ فن نمائندہ سوزخواں ہیں۔ میری دلی خواہش بلکہ تمنا ہے کہ آپ میرے غریب خانہ پر سوزخوانی کریں۔ امداد نظامی (ریڈیو پاکستان کوئٹہ / بلوچستان، عنوان جزوی طور پر غیر واضح) فنِ سوزخوانی بلاشبہ ایک بلند آہنگ مستقل فن، عظیم دینی فنی ورثہ اور مقدس مذہبی روایات کا مظہر و محافظ ہے۔ فنِ سوزخوانی کی اس دور میں اہمیت کے باوجود جو توجہ کی مستحق تھی نہ کی گئی۔ اسے علمی سطح پر تحقیق کا موضوع بنایا گیا، اسی لئے اس کے بنیادی [متن جاری / جزوی طور پر غیر واضح]۔ [ایک سابقہ تاثرات کا تسلسل] آداب، اسالیب اور روایات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کیلئے کوئی دستاویز ترتیب دی گئی۔ اس خلا کی بنا پر سوزخوانی کافی اپنی داخلی توانائی اور آخر میں بڑے بڑے غیر محسوس لیکن تکنیکی انداز میں ایک تقلیدی روش میں ڈھلتا جا رہا تھا۔ اسے اس اندر سے بڑا چلا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ فن اپنی اعلیٰ اقدار سے محروم ہو کر محض ایک رسمی فریضہ نہ بن جائے۔ صوتی علوم و فنون اسلامی کو دیکھ کر اور مصنف کی سوزخوانی سن کر مجھے بڑی طمانیت ہوئی ہے کہ نوجوان اس کارِ گراں کو تحقیق اور کسی نامور استاد کے متند و جانشینی سے مشرف اور خود بھی صاحبِ طرز اور باکمال سوزخواں پروفیسر سید سبط جعفر نے اس طرف توجہ دی اور سوزخوانی کو بنیاد بنا کر ایک ایسا علمی تحقیقی کارنامہ انجام دیا ہے جس کے ذریعے حسنِ قرأت سے سوزخوانی تک تمام صوتی علوم و فنون اسلامی پر سیر حاصل بحث بھی کی گئی ہے۔ سوزخوانی کے فن کے تاریخی پس منظر کے ساتھ اس کے نامور اساتذہ کا بھی مؤثر انداز میں تذکرہ کیا ہے اور اس فن کے آداب، روایات، اسالیب اور تقاضوں کے سلسلے میں بنیادی اصولوں کی مفصل معلومات فراہم کی ہیں اور یہ کام عملی تحقیق کا بھی ایک مکمل نمونہ ہے۔ اس سے نہ صرف تمام اسلامی صوتی علوم و فنون کے بارے میں جامع معلومات کا ایک سرچشمہ فراہم ہوگا بلکہ اس کی بدولت وہ بنیادیں بھی فراہم ہوں گی جو بالخصوص سوزخوانی کے فن کو زندہ رکھنے اور نئی توانائیاں عطا کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔

71

No transliteration available for this page.

جمال نقوی (علیگ) پروفیسر سبط جعفر ایک ہمہ پہلو شخصیت کے حامل ہیں۔ صحافت، خطابت، وکالت، شاعری، نثر نگاری، نعت خوانی اور سوزخوانی ان کے محبوب مشاغل ہیں۔ ان کی سوزخوانی کا معیار منفرد ہے۔ اس معیار کو انہوں نے روایت تک محدود نہیں رکھا بلکہ نئے تجربے کئے اور کر رہے ہیں۔ بالخصوص وہ عہدِ حاضر کے نمائندہ سوزخواں ہیں اور اپنی ذات میں ذخیرہ، ایک مکمل انجمن، تحریک اور ادارہ ہیں۔ (نشریہ ریڈیو پاکستان / مطبوعہ آہنگ کراچی) عابد جعفری (صدر آرٹس فورم آف پاکستانی کینیڈینز) آپ کے علمی و تحقیقی مقالے اور کیسٹ کے ذریعے مجھے پہلی مرتبہ موسیقی، عزاداری اور قدیم روایتی تکنیکی سوزخوانی کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی اور فنِ سوزخوانی کے بہت سے اسرار و رموز بھی مجھ پر منکشف ہوئے۔ پاکستان چھوڑے ہوئے تیس سال ہوئے، اس عرصے میں ہم کسی فنون سے محروم ہوئے یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ آپ کا یہ کارنامہ ہم سب اور خصوصاً دیارِ غیر میں رہنے والوں کو بہت صدق سے اپنے قد آور اور شاہکار اہلِ فن ماضی سے جوڑ دے گا۔ اس میں بیش بہا معلوماتی و تحقیقی کاوش بار بار مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خصوصاً آپ نے اس فن کے تار کو محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے کیلئے جس طرح اساتذہ کے تجربات اور ان کے انداز کو آڈیو ویڈیو پر پیش کیا ہے، اس میں ندرت بھی ہے اور غیر معمولی افادیت بھی۔ اس فن کے علاوہ بزرگ اساتذہ و مرحومین اور موجودہ شائقینِ سوزخوانی و عام [جاری] شاعر و سوزخوانِ اہل بیت سعید حیدر زیدی سعید محترمی مکرم عالیجناب سوزخواں و شاعر محمد [نام جزوی طور پر غیر واضح]، تعلیم سید سبط جعفر زیدی صاحب ایڈووکیٹ، مقرر و صاحبِ قلم، محقق و فنائے فروغِ پاتے سوزخوانی، بانی و سرپرست ادارۂ ترویجِ سوزخوانی، السلام علیکم! میں آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ جناب نے اس ناچیز کو خیرو عافیت بخشی اور “لفظی سوزخوانی” کی کیسٹ عنایت فرما کر سرفراز کیا۔ میں نے سنی اور سنی۔ دل کی گہرائیوں سے آپ کی درازیِ عمر و کامیابی کیلئے دعا میں نکلی۔ خداوندِ عالم آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور آپ کی کاوشوں کو عروج عطا فرمائے، آمین۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جس میدان میں قدم رکھا ہے اس میں علم و ہنر اور خزانوں کا بہت زیادہ پھیلاؤ ہے، لیکن اولادِ حضرت زید شہید کو اپنے اجداد سے یہ خصوصیت ورثہ میں ملی ہے کہ ہر زمانے میں اپنے تقاضوں کے مطابق تنزّل دینِ اسلام اور بالخصوص فروغِ عزائے حضرت سید الشہداء امام حسینؑ کو حسبِ توفیق و استطاعت مقصدِ حیات سمجھا اور یہ انہی کی قربانیوں کا ثمر ہے کہ یہ عزاداری آج بھی باقی ہے اور انشاء اللہ تا قیامت باقی رہے گی۔ میری دعا ہے کہ آپ کو بھی خوش قسمتی سے نصیب ہوا ہے۔ آپ کے والدِ محترم و مکرم مرحوم و مغفور کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ اپنی عاقبت سنوار گئے اور آنے والوں کیلئے راستہ روشن کر گئے۔ آپ انشاء اللہ بہت جلد اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کریں گے۔

72

No transliteration available for this page.

[صفحہ 72 سے جاری] بزرگوں کی قدر یا منفرد آواز میں تحقیق کرنا ایک بہت بڑی کاوش اور جانی مشکل مرحلہ ہے جسے اس نسبت تک آپ نے بڑی خوش اسلوبی سے طے کر لیا۔ یہ آپ کا احسان بلکہ عظیم احسان ہے ان تشنگان کی موجودہ و آنے والی نسلوں پر بالخصوص اور فنِ سوزخوانی پر بالعموم، اس لئے کہ انقلابِ زمانہ نے شاید سوزخوانی کو کسی بری طرح متاثر کیا ہے کہ صحیح ہم بدل چکی ہے۔ جس کا رخ بظاہر کسی عظیم و محترم منزل کی جانب نظر نہیں آتا۔ یقیناً ہر آواز، ہر استاد اور بزرگ سوزخواں حضرات کی اپنی پر تاثیر طرز و ادائیگی تھی۔ اس دور کو خود کو پھر سوچنے پر مجبور کریں گی جس سے بہت ممکن ہے کہ یہ بے لگام قابو آئے۔ بیشک فن اشاعت شاید اس صدی کا سب سے بڑا عزائی کارنامہ ہے۔ والسلام، دعاگو سعید حیدر زیدی سعید سید شفیع عقیل (ادیب و صحافی، شاعر و نقاد، شہر و نگار “جنگ” کراچی) صوتی علوم و فنونِ اسلامی پر یہ کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے منفرد ہے۔ سید سبط جعفر زیدی صاحب خود ایک معروف سوز و سلام پڑھنے والے ہیں، چنانچہ انہوں نے اس فن میں بعض اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے اور مختلف صوتی علوم و فنونِ اسلامی (حسنِ قرأت، سوزخوانی) اور ان سے متعلق مشہور و نمائندہ شخصیات، ماہرینِ فن اور دبستانوں کا تذکرہ کیا ہے، اور ان حضرات کیلئے بھی بنیادی خصوصیات و ہدایات اور شرائط پر روشنی ڈالی ہے جو صوتی علوم و فنون یا سوزخوانی سے وابستہ ہیں اور اس میں مہارت اور ناموری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری بلاشبہ پروفیسر سبط جعفر صاحب ان اہم موضوعات پر کام کر رہے ہیں جن پر اب تک نہ کیا جانا تھا اور اگر اب بھی نہ ہوا تو شاید پھر کبھی نہ ہو پاتا اور یہ معدودِ چند اہم علوم و فنون اور باقی ماندہ آثار اور تہذیبی ثقافتی ورثہ ضائع ہو جاتا۔ شاید قدرت نے انہیں اسی کام کیلئے دنیا میں بھیجا تھا۔ ان علوم و فنون نے بارگاہِ احمدیت میں فریاد کر کے انہیں اپنے لئے آگے لیا ہوگا۔ بہرحال یہ کام بہت اہم ہے اور خوب خوب کر رہے ہیں اور اس کی تکنیکی شعوری و دانشورانہ طریقے پر مجھے تو ابھی تک ان کی وہ بے وقار و شاندار تقریر بھی نہیں بھولی جو انہوں نے اپنی تحقیقی تصنیف “صوتی علوم و فنون اسلامی” کے اجراء کے سلسلے میں تیسرا نمبر 1995ء میں ہوٹل پرل کانٹی نینٹل کراچی میں منعقدہ تقریب میں کی تھی۔ ان کے لئے دعا گو ہیں۔ ماشاء اللہ، سبحان اللہ اور جزاک اللہ فی الدارین خیراً۔ شہید فاؤنڈیشن (پاکستان) وطنِ عزیز میں شہید ہونے والے ہر متاثرہ خاندان کے دکھ درد میں عملاً شرکت کرتی ہے اور سب کچھ آپ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ برائے رابطہ: 021-6028334، 021-6366335

73

No transliteration available for this page.

مرزا محمد اشفاق شورش لکھنوی مدظلہ (خطیب بند، پروفیسر شیعہ کالج لکھنؤ) ذاکر و شاعر و استاد و ادیب و نقاد پھول کب ہے چمنستان ہے سبط جعفر کرتب جلوہ سے خود اس کی نظر خیرہ ہے آئینہ دیکھ کے حیران ہے سبط جعفر ہر گھڑی رہتے ہیں عزت کے فضائل لب پر بخدا قاریِ قرآن ہے سبط جعفر سوزخوانی سے اسے عشق ہے سب شاہد ہیں نوحہ خوانی پہ بھی قربان ہے سبط جعفر بلند آواز سے کہتی ہے یہ بزمِ صدا بخدا میرا سلیمان ہے سبط جعفر ہونے والا ہے یقیناً کہیں ذکرِ سرور مجلسِ شاہ کا اعلان ہے سبط جعفر دست و بازو ہیں خدا کے، علیؑ و آخر سوزخوانی کی مگر جان ہے سبط جعفر سن کے آواز بھی کہتے ہیں یہ آپس میں دیکھئے کتنا خوش الحان ہے سبط جعفر تو اگر ہے زینتِ ہر مجلسِ ایصالِ ثواب عام سب پر ترا فیضان ہے سبط جعفر سب نے پہچانا ہے تجھ کو بہ طفیلِ شہرا تجھ پہ خالق کا یہ احسان ہے سبط جعفر الف سے آلِ محمدؐ کا جو دم بھرتا ہے اس پہ سو جان سے قربان ہے سبط جعفر ہم و ذر کوہر والوں سے کیا کام اسے بحر و کوثر و سلمان ہے سبط جعفر عشقِ شبیر تری زینت کا سرمایہ ہے حبِ حیدر ترا عنوان ہے سبط جعفر (طویل نظم سے اقتباس) (بشکریہ خطیب اکبر پروفیسر مرزا محمد اطہر مظفر) دعائیہ تاثرات وابستہ صاحبِ بستہ یعنی اہلیہ (مسز زیدی / شہید مومن ایوارڈ، بی ایڈی) دنیا و آخرت میں ملے گی اسے جزا معروف، مدحِ آلِ پیغمبر میں جو رہا ترتیب آپ نے جو دیا تحفۂ عزا اس کے صلے میں وارثِ غم سے ہے التجا جنت میں گھر ملیں گے ہمیں بالیقیں مگر اک گھر عطا ہو یاں بھی، پیٹے مجلسِ عزا “اصغر” اور “آلِ شیخ” امتیاز، آباد ان سب معاونین کو اللہ دے صلہ دانندہ قدرِ داں ہیں، ایوارڈ بھی معترف تابندہ اس کو کہتی ہے بینار نور کا وابستہ جو صاحبِ بستہ سے ہے یہ کنیز دن رات یہ حقیقت کی بی بی سے ہے دعا مقبول بارگاہِ جنابِ بتول ہو جو کام سبط جعفر خوش فکر نے کیا

74

No transliteration available for this page.

محقق و دانشور، نقاد و شاعر پروفیسر سید غلام عباس مختلف سطح پر اپنی تحریر و تقریر میں، میں نے ان تاثرات کا اظہار کر رکھا ہے کہ یہ اچھا، مفید اور اصلاحی کام ہے۔ میرے خیال میں یہ صرف ایک کتاب یا تصنیف نہیں بلکہ روایتِ زندگی کے کئی گوشوں کو محفوظ کرنے کا کام ہے۔ اگرچہ یہ خود بڑی سعادت بھی ہے اور پیغمبرِ کرم رکھنے اور عوام سے رابطہ کا ایک مؤثر و مستقل ذریعہ بھی، لیکن یہ کام تو ان سے کم اہلیت اور صلاحیت کے لوگ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ اب جبکہ انہوں نے اپنی فنی صلاحیتیں بھی تیار کر لی ہیں تو ضرورت امر یہ ہے کہ یہ تحقیقی کام کریں، جو انہوں نے اس سے پہلے بھی برادرم سرفراز احمد صاحب کے کہنے سے کیا تھا اور اب دوبارہ بھی اپنی نئی تحقیقی و تصنیفی و تالیفی کاوشوں پر کر رہے ہیں۔ یعنی تحقیق، تصنیف و تالیف۔ میرے لئے یہ بات بڑی طمانیت کی ہے کہ سرفراز احمد ان سے کام لینا جانتے ہیں اور یہ آگی بات ان کی بھی لیتے ہیں۔ ایک بات جو میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی وہ یہ ہے کہ عمر بھر حق و قلم کیلئے انہیں کتنے معروض میں کہاں سے جاتے ہیں؟ بہرحال یہ ایک بڑا معجزہ تھا۔ خداوندِ عالم سے دعاگو ہوں کہ وہ ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائیں۔ آمین۔ دعاگو، غلام عباس پیغام صدر انجمن سوزخوانان کراچی (مظاہر علی کاظمی) سوزخوانی کسی بھی شکل میں کبھی موسیقی سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ در حقیقت یہ ایک ایسا گلشن ہے جو خالص عقیدۂ خداوندی [جاری] [پیغام / مضمون — جاری] ہے، اور اس گلشن میں کچھ ایسا سوز اور درد ہوتا ہے کہ سامع کا دل پر تپ اٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاحبِ آل محمدؐ کو اس سے پڑھنے کا نام سوزخوانی ہوا۔ ہر صنفِ ہند پاک میں شروع میں ہندی و فارسی میں نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کی ابتدا ہوئی، اور اس کے بعد جب زبانِ اردو نے فروغ پایا تو اس زبان میں شعراء نے باقاعدہ مصنفی کے طور پر مرثیہ لکھنا شروع کیا اور اس کی مرثیوں اور نوحوں کو چند صاحبانِ اہل بیت نے جو کہ انتہائی تقی اور پرہیزگار تھے اور بڑی اچھی آوازوں میں پڑھنا شروع کیا۔ پھر سوزخوانی کی ابتدا بھی ایسے ہی ہوئی۔ والوں نے آئی ہوئی بڑی سوز و گداز کی آوازوں اور ان کی پوری ادائیگی کی قدیم بندشوں (طرزوں) کو اپنایا، جن میں سے بیشتر بندشیں (طرزیں) آج بھی اسی طرح رائج ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی بندشیں تخلیق ہوتی رہیں، مگر ان میں گائیکی زیادہ، سوز و گداز اور درد و غم کا جو انداز تھا وہ برقرار نہ رہا۔ جہاں تک موصوف کی تصنیف کا سوال ہے تو یہ یقیناً ایک عمدہ کاوش ہے اور اپنے موضوع پر غالباً یہ پہلی کتاب ہے۔ اس میں بعض باتیں ایسی قابلِ تعریف ہوں گی اور بعض باتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں جن سے کچھ لوگ اختلاف رکھیں گے۔ اور ہر دم ہر حضرات اپنی رائے کا اظہار بھی کریں گے۔ کیونکہ بعض لوگ تنقید برائے تنقید کے عادی ہوتے ہیں اور کسی کے اچھے کام کو بھی اچھا کہنا نہیں چاہتے۔ میں مصنف سے گزارش کروں گا کہ تعریف سے خوش اور تنقید سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنی کاوش جاری رکھیں۔ انشاء اللہ بہتری ایسی شاملِ حال ہوگی۔ فقط دعاگو مظاہر علی کاظمی

75

No transliteration available for this page.

پروفیسر نجم الحسن نجمی رضوی (میوزیشن / کمپوزر) [تعلیمی و فنی اسناد کی سطر جزوی طور پر غیر واضح] راقم کیلئے یہ امر باعثِ عزت و افتخار ہے کہ اسے براہِ راست / تاثرات لکھنے کے لائق سمجھا گیا۔ زیرِ نظر کاوش سید سبط جعفر کے حسین مطالعہ و مشاہدہ اور ان کے فنِ سوزخوانی کے ادراک کا منہ بولتا شاہکار ہے، جس میں انہوں نے فنونِ خوش الحانی، غنا، موسیقی (بشمول موسیقی کا) مقدس سوزوں و میلِ قرآنی احادیث کی تکنیکی و سائنسی پہلوؤں کی مدد سے خوب لوہا ہے جو ایک جرأت مندانہ کاوش ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ پروفیسر صاحب کے اس مضمون کے مطالعہ کے بعد قاری غنا، موسیقی کے مقام پر دیگر لغویات کا فرق بخوبی سمجھ سکے گا اور سوز و سلام پر راگ یا راگنیوں کا الزام عائد نہ کرسکے گا۔ ہمارے کلاسیکی علوم و فنون کی ناقدری اور زوال پذیری کا رونا تو سبھی روتے ہیں، اس حقیقت کا ادراک کوئی نہیں کرتا کہ اس ناقدری اور زوال پذیری کے پس پشت ہمارے اساتذۂ کرام کا وہ رویہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے شاگردوں کو اپنے فن کی باریکیوں سے آگاہ نہیں کرتے بلکہ کبھی کسی کو اسے اپنے ہمراہ لے کر دنیا سے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے بہت سے علوم و فنون کتابوں میں تو ملتے ہیں، اگلی زندگی میں ان کا کوئی ماہر تو کیا کوئی مبتدی بھی دور دور تک نظر نہیں آتا۔ عقیل عباس جعفری (محقق و شاعر / صحافی، ٹی وی انسائیکلوپیڈیا، پاکستان کے باسی و دیگر کتب) یہ غالباً 1989ء کی بات ہے جب سوزخوانی کے حوالے سے برادرم سبط جعفر کا پہلا مضمون روزنامہ جنگ میں اشاعت پذیر ہوا۔ میں نے بھی انہیں غالباً اس فن سے دلچسپی رکھنے والے کسی حضرات نے اس مضمون کو بڑی دلچسپی سے پڑھا کیونکہ میرے محدود علم اور مطالعہ کے مطابق اس موضوع پر شائع ہونے والا یہ پہلا مضمون تھا۔ انہی دنوں میری برادرم سبط جعفر سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اس فن پر مزید لکھیں۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے میری درخواست کو بھی لائقِ توجہ سمجھا اور اس کے بعد صرف اس فن پر بلکہ دوسرے متعلقہ علوم و فنون پر بھی کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔ انہوں نے مجھے اب تک کا جمع کیا ہوا سارا سرمایہ دکھایا۔ میں یہ سب دیکھ کر بڑی حیرت انگیز مسرت سے دوچار ہوا، کیونکہ ان موضوعات پر تھوڑا بہت الگ الگ کام تو میری نظر سے گزرا تھا، لیکن ان تمام موضوعات پر اتنا بھرپور کام میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ میں نے برادرم سبط جعفر کو مشورہ دیا کہ وہ پہلی فرصت میں اس کام کو کتابی شکل دے ڈالیں۔ میں نے انہیں اس سلسلے میں اپنی تمام تر خدمات بھی پیش کیں مگر برادرم سرفراز احمد مجھ سے زیادہ خوش نصیب نکلے کہ اس سلسلے میں مجھ سے بازی لے گئے۔ اور اب آپ کی توجہ اور اشاعت ہی سے یہ تمام کام کتابی شکل میں اشاعت پذیر ہو رہا ہے۔ اس کتاب کی علمی اور فنی حیثیت کے بارے میں تو ان فنون کے ماہر ہی بہتر بتا سکتے ہیں، میں تو [جاری]

76

No transliteration available for this page.

[عقیل عباس جعفری — جاری] اتنا جانتا ہوں کہ ہم جیسے مبتدیوں اور ان علوم اور فنون سے تھوڑی بہت شد بد رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب کسی خزانے سے کم نہیں۔ اللہ برادرم سبط جعفر اور برادرم سرفراز احمد کو اس نیک کام کی جزائے خیر دے۔ آمین۔ روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار آل محمد زیدی (مداح کراچی) میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ سید سبط جعفر زیدی اپنے وجود کی سطح پر منفرد و مخصوص کے پابند ہیں، لیکن ان کی زندگی کا پہلا اور سب سے بڑا مقصد عزاداریِ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تبلیغ و ترویج ہے۔ ان کی شاعری ہو کہ نثر نگاری، خطابت ہو کہ صحافت، مجلس ہو کہ سوزخوانی، وہ ہر سطح پر اپنے مقصد کے حصول میں کوشاں و مستغرق دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی مقصد انہیں سوزخوانی کے میدان میں لایا ہوا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار سید سبط جعفر ہے۔ ہر با ذوق فنِ سوزخواں یہ کہہ کر جان بچانے کی کوشش کرتا ہے کہ کبھی کسی فن و غیرہ تو آتا نہیں، ہم تو صرف مولائی مدح کرتے ہیں، تو جناب ہر چیز کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ صاحب ہمیں یہ تو معلوم نہیں نماز سے پہلے وضو کرنا پڑتا ہے یا ہائے کی رکعت ہوتی ہے، ہم تو بس اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ بغیر وضو کے صبح کی چار رکعت پڑھ ڈالے تو دیکھنے والا اس کی دماغی صحت کے بارے میں ضرور مشکوک ہو جائے گا۔ جس طرح ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ کوئی جاہل بر رسول پر بیٹھے، اسی طرح یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ سوزخوانی کے علم سے بے بہرہ شخص سوزخوانی کرے۔ ہم [جاری] [عقیل عباس / سابقہ مضمون کی بقیہ سطور] پیچھے تو خطیب کو اس لئے نصیحت کرتے ہیں کہ وہ شوقِ بکا کو ذکرِ حسین کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اگر سوزخواں حضرات بھی گم کرنے کے نام پر ایسی قسم کی حرکت کریں؟! اکثر و بیشتر سوزخواں اشعار غلط پڑھتے ہیں اور تلفظ کا قطعاً خیال نہیں رکھتے۔ انہیں اس ذکر سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، لہٰذا سوزخوانی کے بعد اپنا بیاض مجلس میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اکثر و بیشتر سوزخواں واقعی نہیں رہتے، جبکہ وارثِ واجب اور اسے سند و ذاکر ہے۔ ذکرِ حسین میں ریاکاری شرعاً اول ہے۔ اگر کوئی غیر وارثی سے مولانا مجلس پڑھیں تو مومنین انہیں برف ملامت بناتے ہیں لیکن یہ سوزخواں جو خود ذاکرِ اول کہلاتے ہیں عشرۂ محرم میں روزانہ شبیر کے مجلس میں ذکرِ حسین بیان فرماتے ہیں، اکثر اوقات سوزخواں حضرات وقت کی پابندی نہیں فرماتے۔ اکثر سوزخوانوں کو یہ زعم اور خوشی بھی ہے کہ وہ سوزخوانی کی خدمت کر رہے ہیں۔ حقیقت امر یہ ہے کہ معیاری سوزخوانی سیکھنا دوسروں کو سکھانا، اس میں فنی اور انفرادی طور پر اضافہ کرنا ہی دراصل عزاداری اور سوزخوانی کی خدمت ہے۔ سوزخوانی کے ریتے نقوش میں دبا کر اور الفاظ وصول کر کے مجلس سے نکل جانا سوزخوانی کی وفا کامیابی یا سعادت تو ہو سکتی ہے، سوزخوانی کی خدمت بہرحال نہیں ہوتی۔ اس لئے اگر ہر جگہ سے یہ بھی ملے تو معاشرے میں ذاکر و سوزخوان کی حیثیت سے اسے جو مقام و مرتبہ اور روزمرہ زندگی میں تعلقات حاصل کا جو فائدہ اسے حاصل ہوتا ہے، وہ بھی اسی مذہبِ عزا اور سوزخوانی کا صدقہ ہوتا ہے۔ سوزخوانی کے لئے بھی سلیقہ درکار ہوتا ہے۔ اگر سلیقہ ناپید ہو جائے تو کچھ خامہ بندی رہ جاتی ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیں کہ [جاری]

77

No transliteration available for this page.

[روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار — جاری] دلائل ہیں کہ جنگل رو سے ہم سید جعفر روایتی و تکنیکی سوزخوانی کا آخری تاجدار کہہ رہے ہیں۔ سبط جعفر نے باقاعدہ 1945ء سے 1990ء کے دوران استاد مسعود امروہوی فن سے استفادہ کیا ہے اور ان کی شاگردی اختیار کی ہے اور وہ ان معروف اساتذہ کے بازو بھی رہے ہیں اور انجمنِ سوزخوانان کے عہدے دار بھی۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک تحریک، ایک ادارہ اور سوزخوانی کے فن میں یکتا کے درجہ کا اور ایک مکتبِ فکر ہیں، جن کی بنیاد ان کے اساتذہ استاد مسعود علی خان، اعلیٰ اللہ مقامہ، استاد واحد حسین خان خورجوی مرحوم اور استاد اشتیاق علی خان حیدری طاب ثراہ نے رکھی۔ سبط جعفر ہی نسل کے نمائندہ سوزخواں ہی نہیں، عہدِ حاضر کے نمائندہ سوزخواں ہیں۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کرام کے چھوڑے ہوئے ورثے اور روایات کو آگے بڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اپنے اساتذہ سے سیکھ کر بھی اسلوبِ ادائیگی، بندشوں اور اندازِ فکر میں اجتہاد کیا ہے۔ فنی رویے میں الگ روایت قائم کرنے کی کوشش کے باوجود ان پر پرچی کا ایک بھی سایہ ڈالنے میں آج تک ناکام رہا ہے۔ وہ اپنی موجودہ حیثیت، قوتِ واجب کی عطا، اہلیت کا کرم اور اپنے اساتذہ کرام کی مہربانی قرار دیتے ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں جب فنِ سوزخوانی کا دھماکا بالکل ختم ہو رہا تھا، سبط جعفر اس بوجھ سلسلے کی رو بن کر سامنے آئے، فن سوزخوانی کے اتنی سے سید جعفر کا طلوع ایک اچھی علامت اور نیک شگون ہے۔ انہوں نے نہ صرف فنِ سوزخوانی کی تجدید کی بلکہ سائنسی [عزدارانِ حسین] کے ذوق کو بھی ابھارنے کی کوشش کی اور نئی سوزخوانی کو سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ [ایک سابقہ مضمون / تاثرات — جاری] کہ یہاں کہانی کی بھی کوشش کی۔ وہ اپنی کم عمری سے ذکرِ حسین اور تقریباً پندرہ سال کی عمر (1972ء) سے سوزخوانی کر رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے اندرونِ شہر تو کیا کسی بیرونِ شہر کی کسی قسم کی نذر و نیاز سے کمائی بھی قبول نہیں کی۔ وہ سوزخوانی میں تلفظات اور ادائیگی کے معیار کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے ہیں۔ سوزخوانی کر کے اگر انہیں کہیں اور نہیں جانا اور کوئی مصروفیت نہ ہو تو مجلس میں ضرور شرکت کرتے ہیں اور درمیان سے اٹھ کر چلے جانے کو پسند نہیں کرتے۔ وہ عام نوحہ، مرثیہ، مجلس، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ سے حتی الامکان پرہیز کرتے ہیں اور ایسی مجالس میں جانا پسند کرتے ہیں اور عبادت سمجھتے ہیں کہ جہاں پڑھنے والے کی واقعی ضرورت یا کمی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف خود وارثی رکھتے ہیں اور واجبات کی ادائیگی کے پابند ہیں بلکہ ان کے بازو اور شاگرد بھی وارثی رکھتے ہیں، کیونکہ خواص نہیں رکھتے [چونکہ خواص نہیں رکھتے؟] شاید اسی لئے وہ انہیں شاگرد نہیں بناتے۔ وہ واجبات کی ادائیگی کا خاص خیال رکھتے ہیں اور اپنے استاد کی طرح کسی قسم کا نذرانہ یا کرایہ قبول نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ جو دیا سبط جعفر کے اساتذہ نے دیا تھا وہ آج بھی فن زندہ ہے اور دیئے سے دیا جلانے کی رسم آگے بڑھ رہی ہے۔ سید سبط جعفر کے بازو اور بہت سے شاگرد بھی اب مکمل اور بہترین سوزخواں بن چکے ہیں لیکن چونکہ وہ ذکر حسین کو ذریعۂ شہرت اور خود کو وارث سمجھتے ہیں، لہٰذا نذرانہ یا استادی کی رنگ میں آ کر دیگر سوزخوان حضرات کے بازو کی طرح اپنی علیحدہ پارٹی بنانے کے تصور کو بھی پسند نہیں کرتے بلکہ سبط جعفر کے منعوا، سبط جعفر کے مظلوم اور ضعیف اہل بیت [جاری]

78

No transliteration available for this page.

[تاثرات / مضمون — جاری] کا عمل ہے۔ یہ وہ دلائل ہیں جن کی رو سے بلاشبہ سبط جعفر روایتی و تکنیکی سوزخوانی کے آخری تاجدار ہیں۔ سبط جعفر ایک ایسی جامع الکمالات شخصیت ہیں کہ مجھ کو ان کی کون سی مصروفیات، خدمتِ خلق کا جذبہ، اپنی کتاب یا نظر اور مجھ پر اپنے ذاتی اثرات کو کس کس طرح بیان کیا جائے۔ انہوں نے بیک وقت مختلف شعبہ ہائے حیات میں تحریری اور تحقیقی کاموں میں معروف ہیں۔ وہ کراچی کی معروف شخصیت ہیں اور شاعری، نثر نگاری، CSS، وکالت و نوحہ خوانی، خطابت و صحافت کی منزلوں سے گزر کر سوزخوانی کے میدان میں آئے ہیں اور سوزخوانی کے دور میں ایک نئی صورت زندہ کرنے کی سعی پیہم کر رہے ہیں اور یہی فن جس میں مشکل ہی سے پڑھنے لکھنے لوگ آتے تھے، بلاشبہ سبط جعفر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے اسے اعتبار کی بڑی حد تک بڑھایا ہے اور آڈیو / کیسٹ و تشویق پر اب اچھے خاندانوں کے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان ان کے ہم نوا ہیں۔ مرا ہرگز آرزاں میں مشکل ترین صنف سوزخوانی ہے جس کے لئے ہر دم کی گھڑیاں چل رہی ہیں، ایک دو ہفتہ یا ماہ و سال کی محنت نہیں۔ دوسرے سوزخوان حضرات کی فن سے ناواقفیت جو سوزخوانی کا بنیادی علم نہ رکھنے کے باوجود سوزخوانی کرنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کچھ ضرور فنِ سوزخوانی کے قدیم اساتذہ کا بھی ہے جنہوں نے اس فن کو نئی نسل کے حوالے نہیں کیا اور نہ کوئی ایسا ادارہ یا اکیڈمی قائم کی جس میں تشنگانِ علم و فن سوزخوانی کو سیراب کیا جا سکے اور وہ فنِ سوزخوانی کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔ ایک اور ذریعۂ تلخ پر شائستگی کا ہے یہ وہ انتہائی ضروری سامان ہے۔ ناواقف فنی سوزخوانی دوسروں پر تنقید کرنے قرار [جاری] [بقیہ تاثرات] حاصل کر نے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے اندر خود احتسابی کا حوصلہ پیدا کریں اور اسے بھی کبھی بھولیں کہ تنقید سے حقیقت کو نہیں بدلا جا سکتا۔ فن کے قلعے ہوا میں تعمیر نہیں ہو سکتے۔ فنی روایت سے ہٹ کر سوزخوانی اس فن سے بھونڈا مذاق ہے۔ سبط جعفر کی سوزخوانی کا ایک معیار ہے، انہوں نے اس معیار کو محض روایت تک محدود نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا اور اس فن کے اجارہ کے لئے کیا کوششیں کی ہیں اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کہاں تک کامیاب رہے ہیں، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ اس مختصر سے مضمون میں سوزخوانی کے فن کی تاریخ، نامور سوزخوان حضرات یا سبط جعفر کے فنِ سوزخوانی کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کسی مناسب وقت فنِ سوزخوانی کے حوالے سے سبط جعفر زیدی کے فن پر گفتگو کی جائے گی۔ سبط جعفر کی ان تھک محنت اور آگہی کا کردار کئی دن و رات میں بھی قبول، کیسٹ، مشاعرہ اور آتی تقریب میں ان کا بھرپور تعارف اور ان کے حاضرین کے پرہجوم اور بے بنیاد پرچہ بازیوں کا زمانہ ممکن جواب اور نوید ہے۔ میں ان کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ (ہفت روزہ “ندائے اسلام”، کراچی)

79

No transliteration available for this page.

مشاہیر کی آراء سے چند اقتباسات پروفیسر ڈاکٹر بلال نقوی “سوزخوانی ایک ایسا اچھوتا، منفرد اور شاندار موضوع تھا جس پر اب تک کسی کی نگاہ بھی نہیں گئی تھی اور نہ ہی پہلے مضمون مطبوعہ جنگ کے مطالعہ کے بعد یہ اندازہ ہوا تھا کہ اس میں تحقیق و تجزیہ کی اتنی گنجائش اور معنویت کی اتنی وسعت و گرانی پائی جانی ہے، بلاشبہ یہ بہت بڑا غیر معمولی کام تھا جو برادرم پروفیسر سبط جعفر نے انجام دیا۔” حضرت ساجد لکھنوی “ان مضامین پر سبط جعفر کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنا چاہئے، جو ایسی پختہ بھی ہوتی مگر کن سوزخوانی کرے، اس کا بھی حق ہے۔ کرایے بھی شاندار مضمون بھی لکھے اور جو ایسا مضمون لکھے وہ اسی طرح اس کی ادائیگی کی قدرت و مہارت بھی رکھتا ہو، ورنہ سوزخوانی کی توقیت و اہمیت کا کوئی معنی ہے نہ روح کا حال ہوگا۔” کلیم آل عبا حضرت شاہد نقوی “صحیح مخارج اور صحتِ الفاظ کے ساتھ واضح، شفاف ادائیگی اور خوش الحانی کو تو ہم سمجھتے ہیں اور اسی معیار پر سوزخوانی کو پرکھتے ہیں۔ سوزخوانی کی فنی و تکنیکی باریکیوں کا اندازہ سبط جعفر کی سوزخوانی سن کر اور ان کے مضامین پڑھ کر ہوتا ہے۔ لیکن اس پر یقین کامل تب ہوا جب سبط حسن اعظم میر مرتضیٰ حسین آبادی اور بعض دوسرے احباب کی موجودگی میں عزاداری اور فنِ موسیقی کے مقاماتِ کمالی و عملی اور مشاق فنکار، استاد و موسیقار سید مہدی ظفر مرحوم نے علی الاعلان سبط جعفر کی غیر موجودگی میں اس کی مہارت کا اعتراف اور بے حد تعریف کرتے ہوئے مکمل سوز [جاری]” “خوان قرار دیا۔ ویسے تو سبھی سوزخواں اچھے ہیں۔” محترم افتخار عارف (صدر نشین، اکادمی ادبیات پاکستان) خداوندِ کریم کی صحبتیں آپ کو گرم و گداز اور سرفراز فرمائے۔ آپ نے صحیح معنوں میں ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ تہذیبِ عزاداری کی حفاظت کے حوالے سے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کا یہ کارنامہ ساری دنیا میں ایک سعادت کے طور پر دیکھا جائے گا، مجھے اس کا پورا یقین ہے۔ عصری ضرورتوں کے پیشِ نظر مجلسِ عزا میں سوزخوانی کی پائیداریت کیلئے مواد میں تنوع کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کیسٹ کی شکل میں آوازوں کو محفوظ کر کے آپ نے صدیوں پر پھیلی ہوئی روایت کو آئندہ نسل کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ کوشش کیجئے کہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی یہ سب پہنچ سکے۔ یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔ آپ نے یہ کام کر کے ہم پر ایک احسان کیا ہے۔ انشاء اللہ آپ ہمیں سلوک اور احسان کو یاد رکھنے والوں میں پائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ وفاقی سطح پر آپ کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے ایک پروقار تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کیا جائے۔ محترمہ نیّرہ نور، شہریار زیدی اور انور الحق (نیشنل میوزک کانفرنس) کلاسیکی تکنیکی سوزخوانی ایک بہت عظیم مقدس اور مشکل فن ہے، جو پچاس اور سو سالوں تک محدود رہا اور بوجوہ اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ جبکہ مستند اساتذہ ایک ایک کر کے رخصت ہوتے گئے، ہم پروفیسر سبط جعفر کا کام غنیمت ہے کہ جنہوں نے [جاری]

80

No transliteration available for this page.

تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری [پچھلے صفحے سے جاری] ان پر وہ تمام کام کر کے اسے محفوظ کر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ایک PERFORMING ART کے طور پر تسلیم کر کے اور پروفیسر سبط جعفر کے درمیان سوزخوانی کو حق دیا جائے۔ قرأت، نعت خوانی اور نوحہ خوانی کی طرح “سوزخوانی” کو بھی میڈیا اور سرکاری سطح پر مقدس اور مستند فن کے طور پر پہچانا جائے اور سوزخوانی اور سوزخوانوں کے ساتھ اب تک روا رکھے جانے والی ناانصافی، زیادتی اور غفلت کا ازالہ کیا جائے۔ ہماری خواہش ہے کہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صاحبانِ فن پروگرام مرتب کر کے بہترین سوزخوانی کو فروغ دیا جائے بلکہ اپنے عہد کے فن سے ناواقف شائقین کی بھی اب سے اس ناواقفیت / محرومی کا ازالہ کیا جائے۔ فرحہ خواں حسن صادق میں سبط جعفر صاحب کو بہت توجہ، محبت اور عقیدت سے سنتا ہوں اور ان کی مہارت کا مداح و معترف ہوں۔ یادگار و جانشین استاد پیارے خان اور استاد امراؤ [استاد محمد امیر احمد خان — اسپیڈو پروگرام / منتخب ریڈیو پاکستان] آپ کی آواز میں اس قدر مہارت اور پختگی ہے کہ اگلے والے ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں اور نہ ہی کوئی کمی ہے۔ نغمگی کی باقاعدہ مگر اندازِ شعر و بیان کی اپنی کشش و روایت ہے۔ دخترِ خواں شہید ندیم رضا سرور میں نے سبط جعفر صاحب سے بہت کچھ سیکھا اور سیکھ رہی ہوں۔ صرف وہ سوزخواں اور درد و آہگوں ادا کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ ان کی آواز پُرسوز، پُردرد اور خوبصورت ہے۔ استاد اسد امانت علی خان پروفیسر صاحب نے ان تمام فنی مہارت اور تکنیکی معلومات اور طریقۂ استعمال کا خاص سلیقہ آگاہی رکھی ہے۔ وہ مجالس میں بڑی احتیاط اور خوبصورتی سے جس فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہم گائیکی میں بھی ان خوبیوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ مقبول احمد صابری سوز و سلام پر ہم کبھی پڑھتے ہیں اور سماع و گانے والے بھی اور ہمارے اسلامی نغمگی، پُر درد اور ادائیگی کی خوبصورتی بہت متاثر کن ہوتی ہے۔ ان کی محفل میں شرکت کے علاوہ سبط جعفر کی ادائیگی کے شاہکار ہے۔ ہم کبھی وہی کلام سوز کے بغیر بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے سوزخوان بھی، لیکن جس قسم کی سوزخوانی پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب اور مضامین میں پیش کی ہے اور ہمزہ کا مکمل مظاہرہ بھی کرتے ہیں وہ یقیناً ہماری عام سوزخوانی کی ادائیگی سے مختلف اور تکنیکی ہے۔ عام سوزخوانوں کی ادائیگی کو ہم کم از کم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حضرت کی چیز بھی کی جا سکتی ہے، اور فرق تکنیکی ہے۔

81

No transliteration available for this page.

[تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری] میری نظر میں عام سوزخوانوں میں روایتی سوزخوانی نہیں کی، مگر سوزخوانی مقصد اور ادائیگی کے اعتبار سے مذہب، فرض و کرم ہے۔ بڑے بھائی غلام مہدی [قافیہ / خاندانی رشتہ جزوی طور پر غیر واضح] سمیت ہمارا پورا گھرانہ اسی فن کا مداح رہا ہے۔ یہ بات ہے کہ قوالی اور شہنشاہِ ولایت مولا علی کرم اللہ وجہہ کی محفلوں کے ساتھ سوزخوانی کا رنگ بھی ہمارے لئے ایک فخر ہے۔ بزرگوں سے منسوب یہ قدیم و روایتی فن ایک نہایت خوشگوار کام ہے جو دیر سے محفوظ رہا ہے۔ کسی نے مجھ سے مختصر گفتگو کی کہ اس قسم کے آواز اور دیگر ادائیگیوں میں فرق ہے۔ عرض ہے یہ صاف سماعت ہے، اور بقول شاعر: ساز یہ اہلِ طریقت سوز میں اہلِ عزا دونوں مل کر دیتے ہیں تذکرۂ مولا کا الحاج خورشید احمد میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے سرکاری و سماجی سطح پر بہت سے ہمدرد اور مخلص احباب ہیں۔ جب سبط جعفر اور اپنے تاثرات دیکھے تو مجھے خیال آیا کہ انہیں ہی اپنے سوزخوانی کے کام کو بہترین سنبھالنا چاہئے۔ بہرحال میں بطور نعت خواں اور سوزخوان آپ کیلئے دعاگو ہوں۔ ڈاکٹر ریحان اعظمی صوتی علوم و فنون اسلامی اور اب یہ ایک ایسے فعال اور اہلِ انسان کا تخلیقی کارنامہ ہے کہ جس کی ساری زندگی ذکر و فکرِ آلِ محمدؐ میں گزری ہے۔ خصوصاً عزاداری اور سوزخوانی کیلئے جس کی انتھک خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس دوست کے جو تذکرہ ہے وہ میرے لئے باعثِ فخر ہے۔ نہایت دیانتدار، خوش اخلاق، بہترین کردار، اچھا دوست، اچھا شاعر اور اچھا فنکار ہے۔ ان موضوعات کا اولین تحقیقی و معتبر پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف شہروں میں سوزخوانی کی مجالس اور زیادہ طویل شہرت و عرفان میں سبط جعفر ہی ہیں۔ جدید نشر و اشاعت اور تکنیکی ذرائع کے بغیر سوزخوانی کے تقریباً 50 آڈیو اور ویڈیو کیسٹ، جن میں تقریباً 100 بندشوں کے کلام اور سوز و سلام وغیرہ محفوظ ہیں۔ 100 سے زائد رضاکار جن میں 25 ایسے جو خود بھی مکمل سوزخواں کرتے ہیں، دنیا و بڑی دونوں اعتبار سے سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور ذمہ دار طبقہ ہیں۔ یہ کارنامہ بہت قابلِ تحسین ہے۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کے خواہاں ان کی تصانیف، ان کے کسی اہلِ اسلام آباد جانے، کسی کے مرثیہ خواں اور شاعر و ذاکر سرفراز صاحب کے “القائم” کا مطالعہ کریں۔

82

No transliteration available for this page.

[تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری] محترم سید امیر امام (جنرل منیجر — پی ٹی وی) میں سمجھتا تھا کہ میرے کئی قدیم روایتی تکنیکی سوزخوانی کی آخری نمائندہ ہیں جن کے ساتھ انتہائی قدیم فن اور رشید عہدی کا غیر مرئی مؤثر کارنامہ ہے۔ ان کا تسلسل نئی پائین نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔ ہم لوگوں نے سوز و عزاداری سے متعلق مختلف نشستوں اور مجالس، منازل و اداروں میں ان سے سیکھا ہے۔ میں خود بھی اس سلسلے میں ایک شائق / خادم رہا ہوں۔ اس فن کے محفوظ ہونے اور نئی نسل تک منتقل ہونے میں سید سبط جعفر صاحب اور ان کے ساتھیوں کا کردار بڑی تقویت، طمانیت اور دلی مسرت کا باعث ہے۔ ہم اُن کے مشکور ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ انشاء اللہ یہ فن بہتر انداز میں قائم رہے گا۔ سبط جعفر کا یہ کام سوزخوانی کے حوالے سے [کچھ الفاظ غیر واضح]۔ اظہارِ تشکر سرفراز احمد اس حقیقت سے کسی کو انکار ہو سکتا ہے کہ پرانی کارکردگی جوان سے زیادہ زندہ و نیک ہوتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر سبط جعفر زیدی کے اپنے تحقیقی مقالات کے بارے میں میرے اندر ادب میں کیوں کہ یہ بڑے باصلاحیت انسان اور اپنے موضوعات کے ماہر ہیں۔ آج ان کے کام سے بڑی امید ہے۔ میں اپنے ذاتی فنی مشاہدے اور تجربہ کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تحقیق کے ساتھ عملی نمونہ بھی موجود ہے۔ ہمیں ان کی کوششوں کی قدر کرنی چاہئے اور انہیں کام جاری رکھنے میں تعاون دینا چاہئے۔ میں پروفیسر سبط جعفر سے تذکرہ کیا کہ وہ ایک تعلیمی ذمہ داری ہے اور اس فن پر آج تک میری نظر سے کوئی باقاعدہ کتاب نہیں گزری۔ اب آپ ایک بڑے سوزخواں بھی ہیں، کسی صاحبانِ کمال اور نامور سوزخوانوں کے ساتھ کام بھی رکھتے ہیں، اس لئے آپ یہ کارِ عظیم انجام دیں۔ خوش نصیب کہ انہوں نے ہماری گزارش قبول کی۔ خدا کا شکر ہے کہ سوزخوانی پر پہلا جامع و مستند کام آج ہمارے سامنے ہے۔ [پچھلے صفحے سے جاری / اشاعتی نوٹ] تصانیف میں “صوتی علوم و فنون اسلامی” اور ڈاکٹر سرفراز [نام جزوی طور پر غیر واضح] صاحب کے “القائم” کا مطالعہ فرمائیں۔ اس لئے کہ میرے لئے ان کے استاد، شاگرد اور دوست کا حوالہ نہیں بلکہ علمی و فنی صلاحیت کا اعتراف ہے۔

83

No transliteration available for this page.

[تاثرات و پیغاماتِ مشاہیر — جاری] نومبر 1995ء کے حوالے سے محترم پروفیسر [نام جزوی طور پر غیر واضح] نے “بستہ” متعلقہ و تنقیدی طور پر تعارف کیا اور کہا: “آپ صاحبِ فن ہیں، بے حد علمی و فنی کام ہے۔ ان کی سوزخوانی کے ہنر اور آڈیو ویڈیو کیسٹ میں محفوظ کلام و بندشوں اور بالخصوص یہ بستہ نہ صرف سوزخوانی اور ان کے ہم عصروں کے لئے بلکہ بطور مجموعہ تصنیف و تالیف اور معاون فنی و اشاعتی حیثیت سے ہمارے لئے بھی سعادت اور یادگار باعث ہوگی۔” انشاء اللہ والسلام / خیر اندیش سرفراز احمد بمناسبت اشاعت: بیس سال اول (کاروانِ غم / تاریخ جزوی طور پر غیر واضح) [ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کا نوٹ] سبط جعفر زیدی کی اس عظیم تصنیف پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ خداوندِ عالم ان کی توفیق میں مزید اضافہ فرمائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے کہ سبط جعفر چاہیں تو وہ تعلیمی / نوجوان اقدامات میں بھی اپنی خدمت انجام دیں۔ ہمارے ادارے کی طرف سے مزید وسعت دینے کی ڈاکٹرٹ کی ڈگری حاصل کریں۔ باقی سبط جعفر آپ یہ کام کریں ہم دعا کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا اکابر پر موضوعوں کی پہلی کتاب “صوتی علوم و فنون اسلامی” کے بعد مختصر “بستہ”، آڈیو سی ڈی [نام غیر واضح]، استاد مسعود علی خان حیدری، استاد اشتیاق علی خان حیدری، استاد واحد حسین خان، اختر ولی، محترم عظیم اکبر جیسی شخصیتوں کی سوزخوانی کی فنی و تکنیکی نمونہ پر چاہتے دیکھنے کے بعد صداقتاً یہ حسن کارکردگی (بعدِ صداقت) قبول کیا جائے۔ صدر پاکستان سے درخواست ادارۂ ترویجِ سوزخوانی، اربابِ اختیار و اقتدار سے مطالبہ کرتا ہے کہ ذکرِ صوتی علوم و فنون اسلامی (حسنِ قرأت، نعت و سماع و قوالی) کی طرح سوزخوانی / سوزخوانوں کی بھی قومی و سرکاری سطح پر پذیرائی کی جائے۔ اور مقدس تکنیکی فنِ سوزخوانی کے صاحب طرز و نامور اساتذہ: آغا مقصود مرزا، آفتاب علی خان، عظیم الحسن، استاد مسعود علی خان حیدری، استاد اشتیاق علی خان حیدری، استاد واحد حسین خان، اختر ولی اور دیگر تکنیکی سوزخوانوں کی سوزخوانی پر قومی اعزازات / نشانِ حسن کارکردگی (بعدِ صداقت) تفویض کیا جائے۔ سوزخوانی سے دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات، منتخب و معیاری کلام اور بندشوں (طرزوں) کے لئے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کے جاری کردہ مجموعوں (بستہ، انتخابِ بستہ / گلدستہ) اور آڈیو ویڈیو کیسٹ و سی ڈی سے استفادہ کریں۔ مزید تربیت اور رہنمائی کیلئے رابطہ فرمائیں: کاشف زیدی: 0300-9268953 ہارورڈ یونیورسٹی، کولمبیا یونیورسٹی، پی ایچ ڈی اور دیگر تحقیقی اداروں میں پروفیسر سبط جعفر کے بیانِ سوزخوانی اور فنِ سوزخوانی پر تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ ان پر مزید رسائل / طلبہ و طالبات، ماہرینِ فن، اساتذہ اور محققین کی رہنمائی میں باقاعدہ استفادہ کر رہے ہیں۔

84

Qitaat Qita Kuchh to Haider kaha, Ali kaha, Murtaza kehne lage Kuchh hubb-e-Itrat-e-Muhammad Mustafa kehne lage Darte darte hum ne to Allah ki qudrat kaha Tab tab ye Nasibi to Khuda kehne lage Ghulam Aal-e-Aba Shair Naqvi Hamari kya hai ke hum sab to hain ghulam-e-Ali Khuda ke naam Ali bhi hain, zer-e-dam-e-Ali Jo keh rahe hain ke hum naam-e-Ali na le kar hi Wo khud ye kehte hue le rahe hain naam-e-Ali Hazrat Maisam Tammar Sote hi kab the Saqi-e-Kausar tamam raat Karte the zikr-e-Khaliq-e-Akbar tamam raat Bedar thi shab-e-hijrat gawah hai Bal ek bar soye hain Haider tamam raat (Bashukriya soz-o-salam khwan Zakir Sajjad o Shuja Rizvi) Ustad Qamar Jalalvi Marhum Mujhe liye taklif deh farmate hain Aa aa ke mujhe khwab mein samjhate hain Tum marsiya parhte ho jahan jate ho Hum marsiya sunne ko wahan aate hain Ustad Qamar Jalalvi Musalmanon pe farz Hajj ayan hai Tawaf-e-Kaaba har sar ko nawan hai Haram ke gird phir kar puchhte hain Buton ka torne wala kahan hai Agha Izzat Afsana Surat Lakhnavi Sab ke Mushkil-kusha hain mere Ali Baat ek dhaki chhupi kya hai Tak agar se pukar kar dekho Hath lekin abhi aaya kya hai (Bashukriya sozkhwan Nadim Nasir, Bara Kath)
قطعات قطعہ کچھ تو حیدرؑ کہا، علیؑ کہا، مرتضیٰ کہنے لگے کچھ حبِ عترتِ محمد مصطفیٰؐ کہنے لگے ڈرتے ڈرتے ہم نے تو اللہ کی قدرت کہا تب تب یہ ناصبی تو خدا کہنے لگے غلام آل عبا شاعر نقوی ہماری کیا ہے کہ ہم سب تو ہیں غلامِ علیؑ خدا کے نام علیؑ بھی ہیں، زیرِ دامِ علیؑ جو کہہ رہے ہیں کہ ہم نامِ علیؑ نہ لے کر ہی وہ خود یہ کہتے ہوئے لے رہے ہیں نامِ علیؑ حضرت میثم تمار سوتے ہی کب تھے ساقیِ کوثر تمام رات کرتے تھے ذکرِ خالقِ اکبر تمام رات بیدار تھی شبِ ہجرت گواہ ہے بل ایک بار سوئے ہیں حیدر تمام رات (بشکریہ سوز و سلام خواں ذاکر سجاد و شجاع رضوی) استاد قمر جلالوی مرحوم مجھے لئے تکلیف دہ فرماتے ہیں آ آ کے مجھے خواب میں سمجھاتے ہیں تم مرثیہ پڑھتے ہو جہاں جاتے ہو ہم مرثیہ سننے کو وہاں آتے ہیں استاد قمر جلالوی مسلمانوں پہ فرض حج عیاں ہے طوافِ کعبہ ہر سر کو نواں ہے حرم کے گرد پھر کر پوچھتے ہیں بتوں کا توڑنے والا کہاں ہے آغا عزت افسانہ صورت لکھنوی سب کے مشکل کشا ہیں میرے علیؑ بات ایک ڈھکی چھپی کیا ہے تک اگر سے پکار کر دیکھو ہاتھ لیکن ابھی آیا کیا ہے (بشکریہ سوزخوان ندیم ناصر، بارہ کاتھ)

85

Qitaat Qita Ali Janab bhi, bazu-e-intikhab bhi hai Khuda ka sher bhi hai aur Bu Turab bhi hai Safon ko jorne wala Ali ba-waqt-e-namaz Agar ho jang to phir saf-shikan khitab bhi hai Ghulam Aal-e-Aba Shair Naqvi Hasan ki sulh mein yun Karbala jalwa-gar hai Madine mein jaise Fath-e-Makka karani hai Kahani ki khamoshi, Zahra ki hasrat, sulh magar koi Ye wo ajza hain jin se Karbala tartib pai hai Professor Mirza Naqvi Aqidat paikar-e-alfaz mein jab jhalakti hai Mujhe lafzon se apne kaifiyat rangon aati hai Janab-e-Fatima ke lal hain Jannat ke sardar Yahi wo baat hai jab Jannat ko Jannat banati hai (Bashukriya Syed Khadim Husain Rizvi, Shaukat Wanish o Nafis) Qita Lab pe hon naam un ka to parhte hain sab durud Zehnon mein mustajab imamat Hasan ki hai Jis ne un se chhini hukumat baad-e-qarib Lekin dilon pe ab bhi hukumat Hasan ki hai Qita Husain Shah bhi hai aur badshah bhi hai Husain din bhi hai aur din panah bhi hai Na ki Yazid ki baiat, kata diya sar ko Isi bina pe to bunyad-e-La Ilaha bhi hai Qita Jaise ke zulm-o-sitam ke muqable mein Husain Ali ki mashal-e-Haq ke muqable mein Husain Buland the sar-e-neza par misl-e-Bani ke hathon Ghadir-e-Khum mein Ali aur Mubahale mein Husain (Bashukriya Khatib Hazrat Allama Ali Kirdar Naqvi) Ghulam Aal-e-Aba Shair Naqvi Apne dukhon mein aaya jo Shabbir ka khayal Mahshar-e-Karbala tere gham ke sher mein badal gaya Har gham mein Karbala, har gham-e-Husain mein Har gham Husain mein ghazal ho gaya Abdur Rauf Sarwoch [Naam / nisbat juzwi taur par ghair wazeh] Husain zulm mein jina sikha diya tu ne Lahu ko apne kya baha diya tu ne Malukiyat ke andheron se roshni nikli Haqiqaton ka ufuq jagmaga diya tu ne
قطعات قطعہ علیؑ جناب بھی، بازوئے انتخاب بھی ہے خدا کا شیر بھی ہے اور بوتراب بھی ہے صفوں کو جوڑنے والا علیؑ بوقتِ نماز اگر ہو جنگ تو پھر صف شکن خطاب بھی ہے غلام آل عبا شاعر نقوی حسنؑ کی صلح میں یوں کربلا جلوہ گر ہے مدینے میں جیسے فتحِ مکہ کرانی ہے کہانی کی خامشی، زہرا کی حسرت، صلح مگر کوئی یہ وہ اجزا ہیں جن سے کربلا ترتیب پائی ہے پروفیسر مرزا نقوی عقیدت پیکرِ الفاظ میں جب جھلکتی ہے مجھے لفظوں سے اپنے کیفیت رنگوں آتی ہے جنابِ فاطمہؑ کے لال ہیں جنت کے سردار یہی وہ بات ہے جب جنت کو جنت بناتی ہے (بشکریہ سید خادم حسین رضوی، شوکت وانیش و نفیس) قطعہ لب پہ ہوں نام اُن کا تو پڑھتے ہیں سب درود ذہنوں میں مستجاب امامت حسنؑ کی ہے جس نے ان سے چھینی حکومت بعدِ قریب لیکن دلوں پہ اب بھی حکومت حسنؑ کی ہے قطعہ حسینؑ شاہ بھی ہے اور بادشاہ بھی ہے حسینؑ دین بھی ہے اور دیں پناہ بھی ہے نہ کی یزید کی بیعت کٹا دیا سر کو اسی بنا پہ تو بنیادِ لا الٰہ بھی ہے قطعہ جیسے کہ ظلم و ستم کے مقابلے میں حسینؑ علیؑ کی مشعلِ حق کے مقابلے میں حسینؑ بلند تھے سرِ نیزہ پر مثلِ بنی کے ہاتھوں غدیرِ خم میں علیؑ اور مباہلے میں حسینؑ (بشکریہ خطیب حضرت علامہ علی کردار نقوی) غلام آل عبا شاعر نقوی اپنے دکھوں میں آیا جو شبیرؑ کا خیال محشرِ کربلا تیرے غم کے شعر میں بدل گیا ہر غم میں کربلا، ہر غمِ حسین میں ہر غم حسین میں غزل ہو گیا عبدالرؤف سروچ [نام / نسبت جزوی طور پر غیر واضح] حسینؑ ظلم میں جینا سکھا دیا تو نے لہو کو اپنے کیا بہا دیا تو نے ملوکیت کے اندھیروں سے روشنی نکلی حقیقتوں کا افق جگمگا دیا تو نے

86

Mir Anees Gar gar ke kehte the kabhi din ko ghar mein aab na tha Magar Husain se sabr ko iztirab na tha Husain aur talab-e-aab, ay Maaz Allah Tamam lashkar-e-shaqi ko sawal-e-aab na tha (Iqtibas intikhab az sozkhwan Ustad Ali Khan) Qita Sar-e-neza wo farq-e-Shah pe pari kalghi lahekti Kya Sham-e-Ghariban kashf-e-naji chamakti Kisi kisi ko na diya husn-e-jamil-e-Hasan To ye Ahl-e-Nifaq ne kaha Sallu ala wa Aalihi Qita Rag-e-dasht mein tanha to watan yaad aaya Pani jab paya, har ek tishna watan yaad aaya Le ke har chiz Madine se chali thi Zainab Lash par bhai ki pahunchi to kafan yaad aaya Maulana Professor Mirza Muhammad Ashfaq (Shorish Lakhnavi) Jahan mein pesh beti bap ki taswir karti hai Bhare bazar mein Kufe ke jab taqrir karti hai Use bhi anjuman le barh kar apni gham to main janun Rukh-e-Zainab ka parda chara tafsir karti hai (Bashukriya sozkhwan Azhar Husain, Muhammad Ali, Qadri Baloch) Zawwar Amrohvi Hazrat-e-Abbas Shah-e-La Fata ke sher hain Khandaq-o-Khaibar ke wo yalghar-e-Karbala ke sher hain Baiat hon har jang mein misl-e-Haider intikhab Wo Khuda ke sher, ye phir Khuda ke sher hain Mir Hasan Jis ne Shabbir se wafa ki hai Us ki marzi bhi ab Khuda ki hai Itni qimat na thi Furat teri Jitni Abbas ne ada ki hai Qita Ali Akbar jo marne ja raha hai Shabab aa kar bahut puchhta raha hai Bazhein le rahi hain aah ke Zainab Magar dil hai ke baitha ja raha hai Hazrat Amir Ali Sher fitrat sochte tir barsane lagi Har aza khana pe aati hi bahar aane lagi Hum ghulaman-e-Ali ko maut ka kya dar ke jab Ya Ali hum ne kaha aur maut sharmane lagi
میر انیس گڑ گڑ کے کہتے تھے کبھی دن کو گھر میں آب نہ تھا مگر حسینؑ سے صبر کو اضطراب نہ تھا حسینؑ اور طلبِ آب، اے معاذ اللہ تمام لشکرِ شقی کو سوال آب نہ تھا (اقتباس انتخاب از سوزخوان استاد علی خان) قطعہ سرِ نیزہ وہ فرقِ شہ پہ پڑی کلغی لہکتی کیا شامِ غریباں کشفِ الناجی چمکتی کسی کسی کو نہ دیا حسنِ جمیلِ حسنؑ تو یہ اہلِ نفاق نے کہا صلو علی و آلِہ قطعہ رگِ دشت میں تنہا تو وطن یاد آیا پانی جب پایا، ہر ایک تشنہ وطن یاد آیا لے کے ہر چیز مدینے سے چلی تھی زینبؑ لاش پر بھائی کی پہنچی تو کفن یاد آیا مولانا پروفیسر مرزا محمد اشفاق (شورش لکھنوی) جہاں میں پیش بیٹی باپ کی تصویر کرتی ہے بھرے بازار میں کوفے کے جب تقریر کرتی ہے اسے بھی انجمن لے بڑھ کر اپنی غم تو میں جانوں رخِ زینبؑ کا پردہ چارہ تفسیر کرتی ہے (بشکریہ سوزخوان اظہر حسین، محمد علی، قادری بلوچ) زوار امروہوی حضرتِ عباسؑ شاہِ لافتیٰ کے شیر ہیں خندق و خیبر کے وہ یلغارِ کربلا کے شیر ہیں بیعت ہوں ہر جنگ میں مثلِ حیدر انتخاب وہ خدا کے شیر یہ پھر خدا کے شیر ہیں میر حسن جس نے شبیرؑ سے وفا کی ہے اس کی مرضی بھی اب خدا کی ہے اتنی قیمت نہ تھی فرات تری جتنی عباسؑ نے ادا کی ہے قطعہ علی اکبرؑ جو مرنے جا رہا ہے شباب آ کر بہت پوچھتا رہا ہے بازہیں لے رہی ہیں آہ کے زینبؑ مگر دل ہے کہ بیٹھا جا رہا ہے حضرت امیر علی شعر فطرت سوچتے تیر برسانے لگی ہر عزا خانہ پہ آتی ہی بہار آنے لگی ہم غلامانِ علیؑ کو موت کا کیا ڈر کہ جب یا علیؑ ہم نے کہا اور موت شرمانے لگی

87

Qitaat Haider Ali Akhtar Kaghli Marhum Nijat-e-hashr ke zamin ka ghar hai Yaqinan din ke Mohsin ka ghar hai Sadaen aa rahi hain haye kis ki Ye ghar goya kisi Momin ka ghar hai Mirza Adib Aaj hain zikr-e-gham-e-tishna-dahani chahiye Ashk ho jaye har ek darya ka pani chahiye Khandan-e-Mustafa ka zikr karne ke liye Aadmi sachcha khara aur khandani chahiye Tamkin Abbas Jafari Dua-e-Zahra ki tabir hai azadari Bajaye ankhon mein Shabbir hai azadari Koi Yazid ise khatm kar nahin sakta Ata-e-Zainab-e-dilgir hai azadari Khan Muhammad Wali Khan Tauhid ka payam azadari-e-Husain Hai darsgah-e-aam azadari-e-Husain Jo pairawan-e-Rasul hain gamzan wohi Karte hain subh-o-sham azadari-e-Husain Yaqin Baharpuri Marhum Mila ye auj shahidon ke astane ko Ke asman bhi hai majbur sar jhukane ko Jawab Hazrat Shabbir layenge kyun kar Nazar pare jo mayassar nahin zamane ko (Bashukriya sozkhwan Abbas Syed, Karbalai, Javed Kazmi) Maulana Muzaffar Ali Khan Ay Karbala ki khak is ehsan ko na bhul Turbat hai tujh pe arsh jigar-gosha-e-Rasul Islam ke lahu se teri pyas bujh gayi Sairab kar gaya tujhe khun-e-rag-e-Rasul (Bashukriya soz-o-salam khwan Syed Salman Rizwan Mehdi) Qita Jata hai koi Shah ka azadar jahan se Aate hain dam-e-naza Ali us ke jahan se Marqad se tumhein le aate hain wapas Sunte hi sada paye Sakina ki zaban se Qita Asir-e-ishq-e-Shah mashriqain mein hote Dil is dub ke aram-o-chain mein hote Ye sab shahid agar Karbala mein hote faqir Khuda gawah hai fauj-e-Husain mein hote (Baraye shuhada-e-mazhabi / Sindh Police)
قطعات حیدر علی اختر کاغلی مرحوم نجاتِ حشر کے ضامن کا گھر ہے یقیناً دین کے محسن کا گھر ہے صدائیں آ رہی ہیں ہائے کس کی یہ گھر گویا کسی مومن کا گھر ہے مرزا ادیب آج ہیں ذکرِ غم تشنہ دہانی چاہئے اشک ہوجائے ہر اک دریا کا پانی چاہئے خاندانِ مصطفیٰ کا ذکر کرنے کیلئے آدمی سچا کھرا اور خاندانی چاہئے تمکین عباس جعفری دعائے زہرا کی تعبیر ہے عزاداری بجائے آنکھوں میں شبیر ہے عزاداری کوئی یزید اسے ختم کر نہیں سکتا عطائے زینبِ دلگیر ہے عزاداری خان محمد ولی خان توحید کا پیام عزاداریِ حسینؑ ہے درس گاہِ عام عزاداریِ حسینؑ جو پیروانِ رسولؐ ہیں گامزن وہی کرتے ہیں صبح و شام عزاداریِ حسینؑ یقینؔ بحر پوری مرحوم ملا یہ اوج شہیدوں کے آستانے کو کہ آسماں بھی ہے مجبور سر جھکانے کو جواب حضرت شبیرؑ لائیں گے کیوں کر نظر پڑے جو میسر نہیں زمانے کو (بشکریہ سوزخوان عباس سید، کربلائی، جاوید کاظمی) مولانا مظفر علی خاں اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول تربت ہے تجھ پہ عرش جگر گوشۂ رسولؐ اسلام کے لہو سے تری پیاس بجھ گئی سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسولؐ (بشکریہ سوز و سلام خواں سید سلمان رضوان مہدی) قطعہ جاتا ہے کوئی شہ کا عزادار جہاں سے آتے ہیں دمِ نزع علیؑ اس کے جہاں سے مرقد سے تمہیں لے آتے ہیں واپس سنتے ہی صدا پائے سکینہؑ کی زباں سے قطعہ اسیرِ عشقِ شہ مشرقین میں ہوتے دل اس ڈوب کے آرام و چین میں ہوتے یہ سب شہید اگر کربلا میں ہوتے فقیر خدا گواہ ہے فوجِ حسینؑ میں ہوتے (برائے شہداء مذہبی / سندھ پولیس)

88

Qitaat Nasim Amrohvi Jalwe mein apne liye Karbala ka pas-manzar Qaim inqilab-e-Zaid-e-Shahid Bhi jo ankh se chalis sal Ali ki Un ansuon ka sabab Bab-e-Zaid-e-Shahid Sibt-e-Jafar Baraye shuhada-e-Anjuman Falahi / Bab-ul-Ilm Karachi Ghulam-e-Fateh-e-Badr-o-Hunain hain tinon Shahid-e-ishq-e-Shah-e-Mashriqain hain tinon Hain naam un ke Muhammad, Husain, Ali Sharik-e-fauj-e-Imam Husain hain tinon Iqbal Kaghli Farsh-e-Majlis ye Fatima Zahra Lar lar Sham karti hain Ay azadaro, aao Majlis mein Fatima intizar karti hain Qita Haye Akbar ka dam ukhrta hai Naujawani ka bagh ujarta hai Bap ke samne jawan beta Khak par eriyan ragarta hai Ustad Qamar Jalalvi Hasan ki jaan so gaya hoga Main iman ho gaya hoga Jab bana hoga wo qabr mein sozon Saya qurban ho gaya hoga Shair-e-Ahl-e-Bait Asar Zaidi (America) Har phul ke rang-o-bu ka guldasta hai Aslaf ke afkar ye paiwasta hai Har bazm-e-aza mein sozkhwani ke liye Basta to bari qimat se sasta hai [Unwan] Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Syed Nur Abbas Shahid ibn Gulzar Zaidi Adib-e-Azam, Mufassir-e-Quran Maulana Zafar Hasan Naqvi Amrohvi Maulana Qamar Husain [naam / nisbat juzwi taur par ghair wazeh]
قطعات نسیم امروہوی جلوے میں اپنے لئے کربلا کا پس منظر قائم انقلابِ زیدِ شہید بھی جو آنکھ سے چالیس سال علیؑ کی ان آنسوؤں کا سبب بابِ زید شہید سبط جعفر برائے شہدائے انجمن فلاحی / باب العلم کراچی غلامِ فاتحِ بدر و حنین ہیں تینوں شہیدِ عشقِ شہ مشرقین ہیں تینوں ہیں نام ان کے محمدؐ، حسینؑ، علیؑ شریکِ فوجِ امام حسینؑ ہیں تینوں اقبال کاغلی فرشِ مجلس یہ فاطمہ زہرا لر لر شام کرتی ہیں اے عزادارو، آؤ مجلس میں فاطمہ انتظار کرتی ہیں قطعہ ہائے اکبرؑ کا دم اکھڑتا ہے نوجوانی کا باغ اجڑتا ہے باپ کے سامنے جوان بیٹا خاک پر ایڑیاں رگڑتا ہے استاد قمر جلالوی حسنؑ کی جان سو گیا ہوگا میں ایمان ہو گیا ہوگا جب بنا ہوگا وہ قبر میں سوزوں سایہ قربان ہو گیا ہوگا شاعر اہل بیت اثر زیدی (امریکہ) ہر پھول کے رنگ و بو کا گلدستہ ہے اسلاف کے افکار یہ پیوستہ ہے ہر بزمِ عزا میں سوزخوانی کے لئے بستہ تو بڑی قیمت سے سستا ہے [عنوان] التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصال ثواب سید نور عباس شہید ابن گلزار زیدی ادیب اعظم، مفسرِ قرآن مولانا ظفر حسن نقوی امروہوی مولانا قمر حسین [نام / نسبت جزوی طور پر غیر واضح]

89

Rubaiyat Rubai Jis ki hain Haram-e-Haq mein wiladat ho jaye Kyun na wo qibla-e-arbab-e-iradat ho jaye Us ki khud apni ibadat kam ada kya hogi Jis ke chehre pe nazar karna ibadat ho jaye Hakim Arif Akbarabadi Marhum Dil, dil se milaya hai Abu Talib ne Kya rang jamaya hai Abu Talib ne Is aqd ke bare mein bhi kuchh lab kholo Jo aqd parhaya hai Abu Talib ne Ghulam Aal-e-Aba Shair Naqvi Maddahi-e-Panjtan ka dam bharte hain Duniya ki musibaton se kab darte hain Hai Chadar-e-Tathir ka saya hum par Shabbir ka marsiya parha karte hain (Bashukriya sozkhwan Khurshid Haider Naqvi) Ghulam Aal-e-Aba Shair Naqvi Iman ki taswir nazar aati hai Quran ki tafsir nazar aati hai Allah! Tere ghar ki faza ise Zahra Tathir hi Tathir nazar aati hai Mir Anees Ay Ahl-e-Aza, aza ke din aa pahunche Gham ki raten, buka ke din aa pahunche Faryad ke Fatima ki basti ujri Azadi-e-Karbala ke din aa pahunche Rubai Duniya se chala le ke jo naam-e-Haider Jannat ko chala mera salam-e-Haider Roka jo raqibon ne to Rizwan ne kaha Aane do ise ye hai ghulam-e-Haider
رباعیات رباعی جس کی ہیں حرمِ حق میں ولادت ہو جائے کیوں نہ وہ قبلۂ اربابِ ارادت ہو جائے اس کی خود اپنی عبادت کم ادا کیا ہوگی جس کے چہرے پہ نظر کرنا عبادت ہو جائے حکیم عارف اکبر آبادی مرحوم دل، دل سے ملایا ہے ابو طالبؑ نے کیا رنگ جمایا ہے ابو طالبؑ نے اس عقد کے بارے میں بھی کچھ لب کھولو جو عقد پڑھایا ہے ابو طالبؑ نے غلام آل عبا شاعر نقوی مداحیِ پنجتنؑ کا دم بھرتے ہیں دنیا کی مصیبتوں سے کب ڈرتے ہیں ہے چادرِ تطہیر کا سایہ ہم پر شبیرؑ کا مرثیہ پڑھا کرتے ہیں (بشکریہ سوزخواں خورشید حیدر نقوی) غلام آل عبا شاعر نقوی ایمان کی تصویر نظر آتی ہے قرآن کی تفسیر نظر آتی ہے اللہ! تیرے گھر کی فضا اسے زہرا تطہیر ہی تطہیر نظر آتی ہے میر انیس اے اہلِ عزا، عزا کے دن آ پہنچے غم کی راتیں، بکا کے دن آ پہنچے فریاد کہ فاطمہؑ کی بستی اجڑی آزادیِ کربلا کے دن آ پہنچے رباعی دنیا سے چلا لے کے جو نامِ حیدرؑ جنت کو چلا میرا سلامِ حیدرؑ روکا جو رقیبوں نے تو رضواں نے کہا آنے دو اسے یہ ہے غلامِ حیدرؑ

90

Rubaiyat Khwaja Moin-ud-Din Chishti Ajmeri (Syed Moin-ud-Din Hasan Chishti Ajmeri) Shah ast Husain, Badshah ast Husain Din ast Husain, Din Panah ast Husain Sar dad na dad dast dar dast-e-Yazid Haqqa ke bina-e-La Ilaha ast Husain Josh Malihabadi Kya sirf Musalmanon ke pyare hain Husain? Charkh-e-nau-e-bashar ke tare hain Husain Insan ko bedar to ho lene do Har qaum pukaregi hamare hain Husain (Bashukriya sozkhwan Doctor Muhtasham Naqvi o Zakir Amir Naqvi) Rubai Be-hubb-e-Husain din-o-iman hain tabah Be-ulfat-e-Aal hai ibadat bhi gunah Hai Aal-e-Rasul ki maut wajib "La as'alukum alaihi ajran" hai gawah Rubai Maidan mein jab aaye Shah-e-Arsh-panah Bola Ibn-e-Saad bujhe bait, ya Shah Munh pher ke sab ghusse se Sarwar ne kaha La hawla wa la quwwata illa billah Rubai Lakhon Shah-e-Mashriqain kehne wale Islam ka nur-e-ain kehne wale Qatil ka milega naam liya na koi Maujud hain Ya Husain kehne wale (Bashukriya sozkhwan Razi Baqir Zaidi o Safdar Zaidi) Khwaja Moin-ud-Din Chishti Kare ke Husain ikhtiyare kardi Dar gulshan-e-Mustafa bahare kardi Az kushtan-e-khesh din kare kardi Wallah ke ay Husain tu kare kardi Mirza Adib Khurshid sar-e-Sham kahan jata hai Roshni hai dam par jahan jata hai Maghrib hi ki janib hai mazar-e-Haider Ye shama-e-talai murad jati hai Sufi Abdul Ghaffar o Asari / Sarwat Amroh Abadi Aali nasab-o-nek sirat wala jah Hain jang-e-shujaat ke malik bhi gawah Shabbir aur ek Fateh-e-Din ki baiat! La hawla wa la quwwata illa billah (Bashukriya shair o sozkhwan Syed Doctor Husain / Quetta)
رباعیات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (سید معین الدین حسن چشتی اجمیری) شاہ است حسینؑ بادشاہ است حسینؑ دین است حسینؑ دین پناہ است حسینؑ سر داد نہ داد دست در دست یزید حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ جوش ملیح آبادی کیا صرف مسلمانوں کے پیارے ہیں حسینؑ؟ چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسینؑ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ (بشکریہ سوزخواں ڈاکٹر محتشم نقوی و ذاکر عامر نقوی) رباعی بے حبِ حسینؑ دین و ایمان ہیں تباہ بے الفتِ آلؑ ہے عبادت بھی گناہ ہے آلِ رسولؐ کی موت واجب “لا اسئلکم علیہ اجرا” ہے گواہ رباعی میدان میں جب آئے شہِ عرش پناہ بولا ابنِ سعد بجھے بیت، یا شاہ منہ پھیر کے سب غصے سے سرورؑ نے کہا لا حول ولا قوۃ الا باللہ رباعی لاکھوں شہِ مشرقین کہنے والے اسلام کا نورِ عین کہنے والے قاتل کا ملے گا نام لیا نہ کوئی موجود ہیں یا حسینؑ کہنے والے (بشکریہ سوزخواں رضی باقر زیدی و صفدر زیدی) خواجہ معین الدین چشتی کارے کہ حسینؑ اختیارے کردی در گلشنِ مصطفیٰ بہارے کردی از کشتنِ خویش دین کارے کردی واللہ کہ اے حسینؑ تو کارے کردی مرزا ادیب خورشید سرِ شام کہاں جاتا ہے روشنی ہے دم پر جہاں جاتا ہے مغرب ہی کی جانب ہے مزارِ حیدرؑ یہ شمعِ طلائی مراد جاتی ہے صوفی عبدالغفار و اثری / ثروت امروہ آبادی عالی نسب و نیک سیر والا جاہ ہیں جنگِ شجاعت کے مالک بھی گواہ شبیرؑ اور اک فاتحِ دین کی بیعت! لا حول ولا قوۃ الا باللہ (بشکریہ شاعر و سوزخواں سید ڈاکٹر حسین / کوئٹہ)

91

Rubaiyat Mir Anees Mazlum na Shah-e-bahr-o-bar sa hoga Tere ghamon ka yun kisi pe bura hoga Pyase rahe Karbala mein jis tarah Husain Yun qabr bhi pani ko na tarsa hoga (Kutub: Nau Atash labist jinhon ne khud raw pani ko haram qarar de rakha hai) Rubai Haider ki fazilat ka bayan hai ab tak Tarikh-e-zamana nigran hai ab tak Jis dar se gayin Bint-e-Asad Kaabe mein Diwar mein us dar ka nishan hai ab tak Rubai Hasil jise Aqa ki huzuri ho jaye Duniya ke gham-o-ranj se duri ho jaye Ay qatl-e-Ali Majlis par Nur-e-Husain Tari bhi yahan aaye to nuri ho jaye Mir Anees Bulbul ko gul pasand, gulon ko hawa pasand Hum ko Turabiyon ko hai khak-e-shifa pasand Ye apni apni waz hai ay sakinān-e-dost Tum ko Iram pasand hamein Karbala pasand Rubai Hukm-e-hakim hai kisi ka na rahe ghar baqi Aaj duniya mein na Haider ka rahe ghar baqi Wo roz-e-hashr pe se na hata zarra un ki baqi Lafz-e-"Haider" ye batata hai ke hai dar baqi Mir Anees Mar jaye jo farzand to kya chara hai Man marg, ilaj-e-dil-e-sad-para hai Asghar ko lita qabr mein kehte the Husain Aram karo ab yahi gahwara hai (Bashukriya sozkhwan Syed Ansar Husain Zaidi) Mir Anees Maidan mein koi jane wala na raha Aur koi gala karne wala na raha Jo mara gaya us ko utha laye Husain Shabbir ka koi lane wala na raha Mirza Adib Jab naam-e-Ali munh se nikal jata hai Har koi musibat se to mil jata hai Kya naam hai is naam ke sadqe ho Mirza Karta hua insan sambhal jata hai
رباعیات میر انیس مظلوم نہ شاہِ بحر و بر سا ہوگا تیرے غموں کا یوں کسی پہ برا ہوگا پیاسے رہے کربلا میں جس طرح حسینؑ یوں قبر بھی پانی کو نہ ترسا ہوگا (کتب: نو آتش لبست جنہوں نے خود رو پانی کو حرام قرار دے رکھا ہے) رباعی حیدرؑ کی فضیلت کا بیاں ہے اب تک تاریخ زمانہ نگران ہے اب تک جس در سے گئیں بنتِ اسد کعبہ میں دیوار میں اس در کا نشان ہے اب تک رباعی حاصل جسے آقا کی حضوری ہو جائے دنیا کے غم و رنج سے دوری ہو جائے اے قتلِ علیؑ مجلس پر نورِ حسینؑ تاری بھی یہاں آئے تو نوری ہو جائے میر انیس بلبل کو گل پسند، گلوں کو ہوا پسند ہم کو ترابیو کو ہے خاکِ شفا پسند یہ اپنی اپنی وضع ہے اے ساکنانِ دوست تم کو ارم پسند ہمیں کربلا پسند رباعی حکمِ حاکم ہے کسی کا نہ رہے گھر باقی آج دنیا میں نہ حیدرؑ کا رہے گھر باقی وہ روزِ حشر پہ سے نہ ہٹا ذرّ ان کی باقی لفظِ “حیدرؑ” یہ بتاتا ہے کہ ہے در باقی میر انیس مر جائے جو فرزند تو کیا چارہ ہے ماں مرگ، علاجِ دلِ صد پارہ ہے اصغرؑ کو لٹا قبر میں کہتے تھے حسینؑ آرام کرو اب یہی گہوارہ ہے (بشکریہ سوزخواں سید انصار حسین زیدی) میر انیس میدان میں کوئی جانے والا نہ رہا اور کوئی گلا کرنے والا نہ رہا جو مارا گیا اس کو اٹھا لائے حسینؑ شبیرؑ کا کوئی لانے والا نہ رہا مرزا ادیب جب نامِ علیؑ منہ سے نکل جاتا ہے ہر کوئی مصیبت سے تو مل جاتا ہے کیا نام ہے اس نام کے صدقے ہو مرزا کرتا ہوا انسان سنبھل جاتا ہے

92

Rubaiyat Rubai Us din ye wo hain ke nauhagar hai Zahra Thame hue hathon se jigar hai Zahra Kya baithe ho sar pe khak urao logo Kal Sham se khole hue sar hai Zahra (Bashukriya sozkhwan Syed Muhtasham Naqvi, Amir Naqvi) Rubai Man kehti thi kya malal jhele honge Bahnein nahin hain sath kis ke khele honge Ye raat andheri aur darawna jangal Asghar mere qabr mein akele honge Rubai Hairat mein hun kaisi jahan mein aaya pani Darya mein hai kis liye bahaya pani Ab lakh baras umr mare to kya Shabbir ne marte dam na paya pani Rubai Ye to Muharram ka manzar aaya hai Phir josh par Ahl-e-Aza aaya hai Kya ghaib nasib hain azadaron ke Farsh-e-Matam un ke ghar aaya hai (Bashukriya shair Khurshid Abbas, Farwat Masud, Naujawanan) Raghib Muradabadi Ghairon se bhi kya faiz koi pata hai? Apna hi to apnon pe taras khata hai Zainab ho jab mushkil raat Be-sakhta lab pe Ya Ali aata hai Rubai Kya pyas thi jis se sara lashkar tarpa Kya zakhm rassiyan tha jis se Akbar tarpa Kuchh bhi na tere kabhi hon mushkil mein Jis tarah se tir kha ke Asghar tarpa Mir Anees Abid ko dawa aur na ghiza dete hain Sota hai to zanjir hila dete hain Sadat ko qaid is pahle mein kya Qaidi ko Muharram mein chhor dete hain (Bashukriya shair o sozkhwan Sardar Abbas Muhtasham o Mukhtar Husain) Rubai Risha gham-e-Sarwar se laga rakha hai Har chaukhat pak ke kya rakhi hai Hum kar gaye hote gham-e-Sarwar ki qasam Is marsiyakhwani ne jala rakha hai
رباعیات رباعی اُس دن یہ وہ ہیں کہ نوحہ گر ہے زہرا تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر ہے زہرا کیا بیٹھے ہو سر پہ خاک اُڑاؤ لوگو کل شام سے کھولے ہوئے سر ہے زہرا (بشکریہ سوزخواں سید محتشم نقوی، عامر نقوی) رباعی ماں کہتی تھی کیا ملال جھیلے ہوں گے بہنیں نہیں ہیں ساتھ کس کے کھیلے ہوں گے یہ رات اندھیری اور ڈراؤنا جنگل اصغرؑ میرے قبر میں اکیلے ہوں گے رباعی حیرت میں ہوں کیسی جہاں میں آیا پانی دریا میں ہے کس لئے بہایا پانی اب لاکھ برس عمر مرے تو کیا شبیرؑ نے مرتے دم نہ پایا پانی رباعی یہ تو محرم کا منظر آیا ہے پھر جوش پر اہلِ عزا آیا ہے کیا غیب نصیب ہیں عزاداروں کے فرشِ ماتم ان کے گھر آیا ہے (بشکریہ شاعر خورشید عباس، فروت مسعود، نوجوانان) راغب مراد آبادی غیروں سے بھی کیا فیض کوئی پاتا ہے؟ اپنا ہی تو اپنوں پہ ترس کھاتا ہے زینبؑ ہو جب مشکل رات بے ساختہ لب پہ یا علیؑ آتا ہے رباعی کیا پیاس تھی جس سے سارا لشکر ترپا کیا زخم رسیاں تھا جس سے اکبرؑ تڑپا کچھ بھی نہ ترے کبھی ہوں مشکل میں جس طرح سے تیر کھا کے اصغرؑ تڑپا میر انیس عابدؑ کو دوا اور نہ غذا دیتے ہیں سوتا ہے تو زنجیر ہلا دیتے ہیں سادات کو قید اس پہلے میں کیا قیدی کو محرم میں چھوڑ دیتے ہیں (بشکریہ شاعر و سوزخواں سردار عباس محتشم و مختار حسین) رباعی ریشہ غمِ سرور سے لگا رکھا ہے ہر چوکھٹ پاک کے کیا رکھی ہے ہم کر گئے ہوتے غمِ سرور کی قسم اس مرثیہ خوانی نے جلا رکھا ہے

93

Rubaiyat [Unwan / shair juzwi taur par ghair wazeh] Darya ne bhi rukh wahshat se nikala [Misra ghair wazeh] [Misra ghair wazeh] [Misra ghair wazeh] (Bashukriya sozkhwan / naam juzwi taur par ghair wazeh) Rubai [Ibtidai misra juzwi taur par ghair wazeh] [Matn juzwi taur par ghair wazeh] [Matn juzwi taur par ghair wazeh] [Matn juzwi taur par ghair wazeh] Rubai [Matn juzwi taur par ghair wazeh] Rubai [Matn juzwi taur par ghair wazeh] Rubai [Matn juzwi taur par ghair wazeh] Rubai [Matn juzwi taur par ghair wazeh]
رباعیات [عنوان / شاعر جزوی طور پر غیر واضح] دریا نے بھی رخ وحشت سے نکالا [مصرع غیر واضح] [مصرع غیر واضح] [مصرع غیر واضح] (بشکریہ سوزخواں / نام جزوی طور پر غیر واضح) رباعی [ابتدائی مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [متن جزوی طور پر غیر واضح] [متن جزوی طور پر غیر واضح] [متن جزوی طور پر غیر واضح] رباعی [متن جزوی طور پر غیر واضح] رباعی [متن جزوی طور پر غیر واضح] رباعی [متن جزوی طور پر غیر واضح] رباعی [متن جزوی طور پر غیر واضح]

94

Rubaiyat Rubai Asghar ke liye shaqi kaman rakhte hain Marqad mein unhein Shah zaban rakhte hain Qurbani hain balon ke mota jangal mein Hazrat mere bachche ko kahan rakhte hain Rubai Jis roz ke ho azan-e-asman inshaqqat Zahir hon maani-e-nujum inkadarat Baba se kahengi Fatima ya Hazrat Aulad meri ba ti zanb qutilat Rubai Haider ki ata pe Ali shahid hai Aur Panjtan pe Fatehi shahid hai Kaabe mein wiladat ke Payghambar gawah Masjid ki shahadat pe Khuda shahid hai (Bashukriya sozkhwan Zahid Husain o Muzaffar Husain Zaidi) Mir Anees Ay bad-e-shaha kaun o makan urti Ay uqda-kusha-e-do jahan aogi Ab tak hai reton ke hathon se aa Ya Hazrat Sahib-uz-Zaman aogi (Bashukriya sozkhwan Nasir Abbas Naqvi o Javed Ali Zaidi) Ustad Akhtar Ansari Akbarabadi Ye log hain duniya ko jagane wale Ye dasht-e-bala hai aur zamane wale Ay waqt-e-Karbalain, zamin par aaja Aate hain Muhammad ke gharane wale (Bashukriya sozkhwan Husain Ahmad Rizvi, muddazillahu qayyim hamdard) Mir Anees Gulshan mein phirun ke sair-e-sahra dekhun Ya madan o koh o dasht o darya dekhun Har su teri qudrat ke hain lakhon jalwe Hairan hun ke do ankhon se kya kya dekhun Zahid Ali Khori Rukte hue darya ko rawani de di Islam ko Akbar ki jawani de di Tha din-e-Nabi naza mein tu ne Shabbir Jan de ke hayat-e-jawedani de di
رباعیات رباعی اصغرؑ کے لئے شقی کماں رکھتے ہیں مرقد میں انہیں شاہؑ زباں رکھتے ہیں قربانی ہیں بالوں کے موتا جنگل میں حضرت میرے بچے کو کہاں رکھتے ہیں رباعی جس روز کہ ہو اذانِ اسماں انشققت ظاہر ہوں معانیِ نجوم انکدرت بابا سے کہیں گی فاطمہؑ یا حضرت اولاد مری با تی ذنب قتلت رباعی حیدرؑ کی عطا پہ علیؑ شاہد ہے اور پنج تنؑ پہ فاتحی شاہد ہے کعبے میں ولادت کے پیغمبرؐ گواہ مسجد کی شہادت پہ خدا شاہد ہے (بشکریہ سوزخواں زاہد حسین و مظفر حسین زیدی) میر انیس اے بادِ شہا کون و مکاں اُڑتی اے عقدہ کشائے دو جہاں آؤگی اب تک ہے ریتوں کے ہاتھوں سے آ یا حضرت صاحب الزماں آؤگی (بشکریہ سوزخواں ناصر عباس نقوی و جاوید علی زیدی) استاد اختر انصاری اکبر آبادی یہ لوگ ہیں دنیا کو جگانے والے یہ دشتِ بلا ہے اور زمانے والے اے وقتِ کربلائیں، زمین پر آجا آتے ہیں محمدؐ کے گھرانے والے (بشکریہ سوزخواں حسین احمد رضوی، مدظلہ قیّم ہمدرد) میر انیس گلشن میں پھروں کہ سیرِ صحرا دیکھوں یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں ہر سو تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے حیران ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں زاہد علی خوری رکتے ہوئے دریا کو روانی دے دی اسلام کو اکبرؑ کی جوانی دے دی تھا دینِ نبیؐ نزاع میں تو نے شبیرؑ جان دے کے حیات جاودانی دے دی

95

Soz Har daur ke katib hain Quran o Ahl-e-Bait Iman ka nisab hain Quran o Ahl-e-Bait Allah ke qarib hain Quran o Ahl-e-Bait Mahbub ke habib hain Quran o Ahl-e-Bait Haq Ahl-e-Bait ka hai Khuda ki kitab par Lakhon durud Aal-e-Risalat Maab par (Bashukriya sozkhwan o shair Naqviya, fidwi Sikandar Zaidi / Bolan) Banda hazar sal ibadat agar kare Aur zer-e-paye koh-e-Uhud rah-e-Haq mein de Hajj bhi piyada pa jo hazar us ne hon kiye Aur be-gunah qatl ho wo zulm o jaur se Hubb-e-Ali ki na ho agar dil ke jam mein Jannat ki bu na pahunchegi hargiz masham mein (Bashukriya sozkhwan Asad Naqvi baradaran o Syed Tanvir Haider) Maryam se bhi Batul ko rutba siwa mila Baba use Rasul sa Khair-ul-Wara mila Beta har ek shahid to Khandaq ka marka mila Shohar mila to Khaliq ka uqda-kusha mila Har ek apne martabe mein intikhab hai Zahra se be-misal Ali lajawab hai (Bashukriya salam o nauhakhwan Iftikhar Ali Bahari Khan) Chashm-e-Nabi ke khwab ko kehte hain Sayyida Ismat ke aftab ko kehte hain Sayyida Quran ke jawab ko kehte hain Sayyida Munh bolti kitab ko kehte hain Sayyida Ye zat yun kitab ki tafsir ban gayi Lafzon mein dhal ke Ayah-e-Tathir ban gayi
سوز ہر دور کے کاتب ہیں قرآن و اہل بیتؑ ایمان کا نصاب ہیں قرآن و اہل بیتؑ اللہ کے قریب ہیں قرآن و اہل بیتؑ محبوب کے حبیب ہیں قرآن و اہل بیتؑ حق اہل بیتؑ کا ہے خدا کی کتاب پر لاکھوں درود آلِ رسالت مآب پر (بشکریہ سوزخواں و شاعر نقویہ، فدوی سکندر زیدی / بولان) بندہ ہزار سال عبادت اگر کرے اور زیرِ پائے کوہِ احد راہِ حق میں دے حج بھی پیادہ پا جو ہزار اُس نے ہوں کئے اور بے گناہ قتل ہو وہ ظلم و جور سے حبِ علیؑ کی نہ ہو اگر دل کے جام میں جنت کی بو نہ پہنچے گی ہرگز مشام میں (بشکریہ سوزخواں اسد نقوی برادران و سید تنویر حیدر) مریمؑ سے بھی بتولؑ کو رتبہ سوا ملا بابا اسے رسولؐ سا خیر الوریٰ ملا بیٹا ہر اک شہید تو خندق کا معرکہ ملا شوہر ملا تو خالق کا عقدہ کشا ملا ہر ایک اپنے مرتبے میں انتخاب ہے زہرا سے بے مثال علیؑ لاجواب ہے (بشکریہ سلام و نوحہ خواں افتخار علی بہاری خان) چشمِ نبیؐ کے خواب کو کہتے ہیں سیدہؑ عصمت کے آفتاب کو کہتے ہیں سیدہؑ قرآن کے جواب کو کہتے ہیں سیدہؑ منہ بولتی کتاب کو کہتے ہیں سیدہؑ یہ ذات یوں کتاب کی تفسیر بن گئی لفظوں میں ڈھل کے آیۂ تطہیر بن گئی

96

Soz Kya puchhna Khuda sahib-e-tathir se Zahra Umm-e-Aimma, madar-e-Shabbir se Zahra Khatun-e-jahan, malik-e-tathir hai Zahra Sar ta ba qadam nur ki taswir hai Zahra Shabbir ko jo puchho to shahanshah-e-Arab hai Beti hai Nabi ki, yahi rutba hai wo nasab hai (Bashukriya sozkhwan Aziz Haider Jalalvi o Nadim Jalalvi) Ay rozadaro aao buka ke ye roz hain Sadat par nuzuli-e-bala ke ye roz hain Sar-e-taj-e-ausiya ki aza ke ye roz hain Tum se wida-e-Sher-e-Khuda ke ye roz hain Zakhmi hua Imam tumhara namaz mein Zalim ne rozadar ko mara namaz mein Sharik-e-gham-e-shah mashriqain hain Zainab Karnain, Fatima ki nur-e-ain hain Zainab Bar-e-Muhammad o Haider ka chain hain Zainab Khuda ki rah mein bilkul Husain hain Zainab Husain mard do inqilab hain goya Ye auraton mein amal ki kitab hain goya (Bashukriya sozkhwan Syed Khadim Abbas Jalalvi) Jurat mein Ali sabr mein Shabbir hain Zainab Tafsir-e-fasahat dam-e-taqrir hain Zainab Zinat-e-qafila-e-Aal ki taswir hain Zainab Gharane pe bhi sahib-e-tauqir hain Zainab Shabbir ke maqsad ki nigahban yahi hain Afsana-e-Islam ka unwan yahi hain Jab watan se koch ki Muslim ke tayyari hui Khana-e-Aal-e-Aba mein girya o zari hui Donon beton ki jo Hazrat man se bimari hui Harf-e-zan shohar se apne yun wo guftari hui Ek to dagh-e-firaq apna diye jate ho tum Dusre mere bachchon ko liye jate ho tum (Bashukriya sozkhwan Syed Ijaz Husain Shahzad)
سوز کیا پوچھنا خدا صاحبِ تطہیر سے زہرا اُمِّ اَئمہ، مادرِ شبیرؑ سے زہرا خاتونِ جہاں، مالکِ تطہیر ہے زہرا سر تا بہ قدم نور کی تصویر ہے زہرا شبیرؑ کو جو پوچھو تو شہنشاہِ عرب ہے بیٹی ہے نبیؐ کی، یہی رتبہ ہے وہ نسب ہے (بشکریہ سوزخواں عزیز حیدر جلالوی و ندیم جلالوی) اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیں سادات پر نزولیِ بلا کے یہ روز ہیں سرِ تاج اوصیا کی عزا کے یہ روز ہیں تم سے وداعِ شیرِ خدا کے یہ روز ہیں زخمی ہوا امام تمہارا نماز میں ظالم نے روزہ دار کو مارا نماز میں شریکِ غمِ شہ مشرقین ہیں زینبؑ کرنین، فاطمہؑ کی نورِ عین ہیں زینبؑ بارِ محمدؐ و حیدرؑ کا چین ہیں زینبؑ خدا کی راہ میں بالکل حسینؑ ہیں زینبؑ حسینؑ مرد دو انقلاب ہیں گویا یہ عورتوں میں عمل کی کتاب ہیں گویا (بشکریہ سوزخواں سید خادم عباس جلالوی) جرأت میں علیؑ صبر میں شبیرؑ ہیں زینبؑ تفسیرِ فصاحت دمِ تقریر ہیں زینبؑ زینتِ قافلۂ آل کی تصویر ہیں زینبؑ گھرانے پہ بھی صاحبِ توقیر ہیں زینبؑ شبیرؑ کے مقصد کی نگہبان یہی ہیں افسانۂ اسلام کا عنوان یہی ہیں جب وطن سے کوچ کی مسلمؑ کے تیاری ہوئی خانۂ آلِ عبا میں گریہ و زاری ہوئی دونوں بیٹوں کی جو حضرت ماں سے بیماری ہوئی حرفِ زن شوہر سے اپنے یوں وہ گفتاری ہوئی ایک تو داغِ فراق اپنا دیئے جاتے ہو تم دوسرے میرے بچوں کو لئے جاتے ہو تم (بشکریہ سوزخواں سید اعجاز حسین شہزاد)

97

Soz Khaime darya pe gaye jab ke Shah-e-wala ne Gher Shabbir ko sab fauj-e-sitam-ara ne Ab diya pe us ne na diya ada ne Fauj-e-ada se ye Shabbir lage farmane Ye bhi do char din ab hum pe guzar jayenge Gar raza Haq ki hai to pyase hi mar jayenge (Bashukriya nauha o sozkhwan Zafar Husain Shahid o baradaran / Lahore) Tasbih-e-Fatima jo ada ki Imam ne Pason ne khabar ye kahi aa ke samne Ki sairgah khat ki us dam ghulam ne Ab-e-rawan bhi band kiya fauj-e-Sham ne Fauj-e-Khuda ko phir se duri nasib hai Shah bole kya masaib-e-Kausar qarib hai Hua jo Shah ke lashkar mein qaht-e-pani ka Ajib hal hua Fatima ke jani ka Kabhi khayal tha Akbar ki naujawani ka Kabhi malal tha Asghar ki be-zabani ka Kabhi bahen ke liye be-qarar hote the Kabhi Sakina ka munh dekh dekh rote the (Bashukriya sozkhwan Mohsin Husain Amrohvi o Kirdar Husain Zaidi) Jab ada se kisi tarah safai na thehri Subh-e-Ashur-e-Muharram ko larai thehri Puchhta Zainab ne ke kya mere bhai thehri Shah ne farmaya bahen tum se judai thehri Aaj pyaron se mulaqat ghanimat jano Ay bahen aaj ki ye rat ghanimat jano Jab rat-e-shahadat mein barqi Shabbir ne Qabr mein hum ishq ki sar ki shahdin ne Dekha jo safedi ko sahar ki shahdin ne Mur kar rukh-e-Akbar nazar ki shahdin ne Farmaya sahar gham ki zahir hui beta Ab uth ke azan do ke shab akhir hui beta (Bashukriya shair o sozkhwan Syed Shahid Hasan Zaidi)
سوز خیمے دریا پہ گئے جب کہ شہِ والا نے گھیر شبیرؑ کو سب فوجِ ستم آرا نے اب دیا پہ اُس نے نہ دیا اعدا نے فوجِ اعدا سے یہ شبیرؑ لگے فرمانے یہ بھی دو چار دن اب ہم پہ گزر جائیں گے گر رضا حق کی ہے تو پیاسے ہی مر جائیں گے (بشکریہ نوحہ و سوزخواں ظفر حسین شہید و برادران / لاہور) تسبیحِ فاطمہؑ جو ادا کی امامؑ نے پاسوں نے خبر یہ کہی آ کے سامنے کی سیرگاہ کھات کی اُس دم غلام نے آبِ رواں بھی بند کیا فوجِ شام نے فوجِ خدا کو پھر سے دوری نصیب ہے شہ بولے کیا مصائبِ کوثر قریب ہے ہوا جو شاہ کے لشکر میں قحطِ پانی کا عجیب حال ہوا فاطمہؑ کے جانی کا کبھی خیال تھا اکبرؑ کی نوجوانی کا کبھی ملال تھا اصغرؑ کی بے زبانی کا کبھی بہن کے لئے بے قرار ہوتے تھے کبھی سکینہؑ کا منہ دیکھ دیکھ روتے تھے (بشکریہ سوزخواں محسن حسین امروہوی و کردار حسین زیدی) جب اعدا سے کسی طرح صفائی نہ ٹھہری صبحِ عاشور محرم کو لڑائی ٹھہری پوچھتا زینبؑ نے کہ کیا میرے بھائی ٹھہری شہؑ نے فرمایا بہن تم سے جدائی ٹھہری آج پیاروں سے ملاقات غنیمت جانو اے بہن آج کی یہ رات غنیمت جانو جب راتِ شہادت میں برقی شبیرؑ نے قبر میں ہم عشق کی سر کی شہدیں نے دیکھا جو سفیدی کو سحر کی شہدیں نے مڑ کر رخِ اکبرؑ نظر کی شہدیں نے فرمایا سحر غم کی ظاہر ہوئی بیٹا اب اٹھ کے اذان دو کہ شب آخر ہوئی بیٹا (بشکریہ شاعر و سوزخواں سید شہید حسن زیدی)

98

Soz Jab aai subh-e-qatl Imam-e-falak-waqar Zainab utha ke hath ye kehti thin bar bar Pardesiyon pe rahm kare mere Kirdigar Kyunke zamin ki bhai se chhut kar main sogwar Sara jahan siyah hai chashm-e-pur-ab mein Tar dekhne mein ne dekha hai aftab khwab mein (Bashukriya soz o salamkhwan Mazhar Husain Naqvi) Ashur ki jo rat thi mahshar sifat thi Be-kas musafiron pe qiyamat ki rat thi Fauj-e-shaqi laga hue apni ghat thi Sarwar tin roz se rah-e-Furat thi Kehti thi ye Sakina hum ye khaye marte hain Hum, chacha hamein pani pilaye Jab bazu ne Zainab ki Ali Akbar ko rukhsat di Apni shadi ko marne ki nihayat hui shadi Niche se nikal bap ko bete ki dua di Aur hathon pe gardun par shauq ke ghata di Shah bole karam hum tujh pe Rizwan tumhara Pyare mere Allah nigahban tumhara (Bashukriya sozkhwan Kirdar Husain Naqvi o Abbas Sahib) Barchhi ki ani jab lagi Akbar ke jigar mein Aur gir gaya dam tor ke aghosh-e-pidar mein Shah ne kaha so taur tujhe le chalun ghar mein Bazu mein na taqat hai na quwwat hai jigar mein Le jata teri lash ka dushwar hai beta Sar apna bhi to mujh pe ye bhari hai beta (Bashukriya sozkhwan Syed Nazir Husain Naqvi o Haider Ali Zaidi) Husain jab ke chale bad dopehar ran ko Na tha koi ke jo thame rikab-e-tausan ko Husain chupke khare the jhuka ke gardan ko Sakina chhor rahi thin qaba ke daman ko Na aasra tha koi Shah-e-Karbalai ko Faqat bahen ne kiya tha sawar bhai ko (Bashukriya sozkhwan Syed Ghulam Abbas Naqvi, Muhammad Taqi Amrohvi)
سوز جب آئی صبحِ قتل امامِ فلک وقار زینبؑ اٹھا کے ہاتھ یہ کہتی تھیں بار بار پردیسیوں پہ رحم کرے میرے کردگار کیونکہ زمین کی بھائی سے چھٹ کر میں سوگوار سارا جہاں سیاہ ہے چشمِ پُر آب میں تر دیکھنے میں نے دیکھا ہے آفتاب خواب میں (بشکریہ سوز و سلام خواں مظہر حسین نقوی) عاشور کی جو رات تھی محشر صفات تھی بے کس مسافروں پہ قیامت کی رات تھی فوجِ شقی لگا ہوئے اپنی گھات تھی سرورؑ تین روز سے راہِ فرات تھی کہتی تھی یہ سکینہؑ ہم یہ کھائے مرتے ہیں ہم، چچا ہمیں پانی پلائے جب بازو نے زینبؑ کی علی اکبرؑ کو رخصت دی اپنی شادی کو مرنے کی نہایت ہوئی شادی نیچے سے نکل باپ کو بیٹے کی دعا دی اور ہاتھوں پہ گردوں پر شوق کے گھٹا دی شہ بولے کرم ہم تجھ پہ رضوان تمہارا پیارے میرے اللہ نگہبان تمہارا (بشکریہ سوزخواں کردار حسین نقوی و عباس صاحب) برچھی کی انی جب لگی اکبرؑ کے جگر میں اور گر گیا دم توڑ کے آغوشِ پدر میں شہؑ نے کہا سو طور تجھے لے چلوں گھر میں بازو میں نہ طاقت ہے نہ قوت ہے جگر میں لے جاتا تری لاش کا دشوار ہے بیٹا سر اپنا بھی تو مجھ پہ یہ بھاری ہے بیٹا (بشکریہ سوزخواں سید نذیر حسین نقوی و حیدر علی زیدی) حسینؑ جب کہ چلے بعد دوپہر رن کو نہ تھا کوئی کہ جو تھامے رکابِ توسن کو حسینؑ چپکے کھڑے تھے جھکا کے گردن کو سکینہؑ چھوڑ رہی تھیں قبا کے دامن کو نہ آسرا تھا کوئی شاہِ کربلائی کو فقط بہن نے کیا تھا سوار بھائی کو (بشکریہ سوزخواں سید غلام عباس نقوی، محمد تقی امروہوی)

99

Soz Asr ka waqt hai munis hain na yawar baqi Na to Qasim hain na Abbas na Akbar baqi Had ye hai ab nahin chhe mah ka Asghar baqi Hafsa hai ro gaye tamam barse azbar baqi [Misra juzwi taur par ghair wazeh] Mominon Khatam-e-Payghambar pak hua (Bashukriya Farrukh Ali Syed Hasan Raza Sanganvi, Zakir Ali Wasti Rizvi) Kam aaye rufaqa Shah ke jab maidan mein Aur akela raha wo mah-e-Arab maidan mein Aa ke bhara kiya Abbas ne tab maidan mein Ro ke ki arz ke hum jayen ab maidan mein Shah ne farmaya ke tanha to na chhore jao Bhai Abbas sar-e-meri na tore jao Ay azizo kya bayan ho majra-e-Ahl-e-Bait Jab raha waris na koi sar pe haye Ahl-e-Bait Aur laga lene wahan ismat-saraye Ahl-e-Bait Kya kya is waqt ki main haye Ahl-e-Bait Chikh kar ro ro ke kehte the kabhi shor o shain Hum ko mat luto, lutero! hum hain namus-e-Husain (Bashukriya sozkhwan Sibt Nabi Naqvi o Rizwanat Naqvi) Karwan salar-e-din jab karwan Karbala Khak sar pe dalti aai to Zainab Karbala Rah mein un be-kason se jab koi tha puchhta Kis ke tum namus ho aur kis ke ho sahib-e-aza Kaliye girya do dikha kar kehte the Ahl-e-aza Is Husaini qafile ka rahnuma hai badshah Qarib-e-Kufa jo randon ka karwan aaya Khule saron ke tamashe ko sab jahan aaya Imam har do sara misl-e-sarban aaya Zaban-e-hal se karta yahi bayan aaya Na hai taam mein wo zaiqa na pani mein Maza mila hai jo randon ki sarbani mein (Bashukriya soz o salamkhwan Rizwan Ali Kazmi / Islamabad) Taslim Amrohvi Rehti hai barchhi khaye para tha jo nur-e-ain Baithe the dil ko pakre hue Shah-e-mashriqain Nagah ek kaniz pukari ba-shor o shain Dam torta hai pyas se be-shir ya Husain Jald khaime mein tashrif laiye Bazu ka lal mar gaya hai maiye Abbas ne farmaya ke ghabrao na jani Bibi ke pilane ke liye late hain pani Raste ke hamein lakh hon gar zulm ke bani Kya dil se bhula denge teri tishna-dahani Be-shak bhare nahr se ayen to qasam lo Darya se hum aage kahin jayen to qasam lo (Bashukriya sozkhwan Syed Hashmat Ali Zaidi)
سوز عصر کا وقت ہے مونس ہیں نہ یاور باقی نہ تو قاسمؑ ہیں نہ عباسؑ نہ اکبرؑ باقی حد یہ ہے اب نہیں چھ ماہ کا اصغرؑ باقی حفصہ ہے رو گئے تمام برسے ازبر باقی [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] مومنوں خاتمِ پیغمبر پاک ہوا (بشکریہ فرخ علی سید حسن رضا سنگنوی، ذاکر علی واسطی رضوی) کام آئے رفقا شاہؑ کے جب میدان میں اور اکیلا رہا وہ ماہِ عرب میدان میں آ کے بھرا کیا عباسؑ نے تب میدان میں رو کے کی عرض کہ ہم جائیں اب میدان میں شہؑ نے فرمایا کہ تنہا تو نہ چھوڑے جاؤ بھائی عباسؑ سرِ میری نہ توڑے جاؤ اے عزیزو کیا بیاں ہو ماجرائے اہل بیتؑ جب رہا وارث نہ کوئی سر پہ ہائے اہل بیتؑ اور لگا لینے وہاں عصمت سرائے اہل بیتؑ کیا کیا اس وقت کی میں ہائے اہل بیتؑ چیخ کر رو رو کے کہتے تھے کبھی شور و شین ہم کو مت لوٹو، لٹیرو! ہم ہیں ناموسِ حسینؑ (بشکریہ سوزخواں سبط نبی نقوی و رضوانت نقوی) کارواں سالارِ دیں جب کارواں کربلا خاک سر پہ ڈالتی آئی تو زینبؑ کربلا راہ میں اُن بے کسوں سے جب کوئی تھا پوچھتا کس کے تم ناموس ہو اور کس کے ہو صاحبِ عزا کلیے گریہ دو دکھا کر کہتے تھے اہلِ عزا اس حسینی قافلے کا رہنما ہے بادشاہ قریبِ کوفہ جو راندوں کا کارواں آیا کھلے سروں کے تماشے کو سب جہاں آیا امام ہر دو سرا مثلِ سارباں آیا زباں حال سے کرتا یہی بیاں آیا نہ ہے طعام میں وہ ذائقہ نہ پانی میں مزا ملا ہے جو راندوں کی سار بانی میں (بشکریہ سوز و سلام خواں رضوان علی کاظمی / اسلام آباد) تسلیم امروروی رہتی ہے برچھی کھائے پڑا تھا جو نورِ عین بیٹھے تھے دل کو پکڑے ہوئے شاہِ مشرقین ناگاہ اک کنیز پکاری بہ شور و شین دم توڑتا ہے پیاس سے بے شیر یا حسینؑ جلد خیمے میں تشریف لائیے بازو کا لال مر گیا ہے مائیے عباسؑ نے فرمایا کہ گھبراؤ نہ جانی بی بی کے پلانے کے لئے لاتے ہیں پانی رستے کے ہمیں لاکھ ہوں گر ظلم کے بانی کیا دل سے بھلا دیں گے تری تشنہ دہانی بے شک بھرے نہر سے آئیں تو قسم لو دریا سے ہم آگے کہیں جائیں تو قسم لو (بشکریہ سوزخواں سید حشمت علی زیدی)

100

Soz Jab naujawan ki lash na pai Husain ne Thokar har ek gam pe khai Husain ne Rakh kar zamin pe khak urai Husain ne Dil tham kar ye bat sunai Husain ne Ankhon se sujhta nahin mujh dil malul ko Ay zalimo, dikha do Shahid-e-Rasul ko (Bashukriya sozkhwan Nadim Jamal Zaidi o Hasan Mujtaba) Shah-e-mazlum se Abbas ne jis dam alam paya Bar-e-taqdir mein wo hoga Jafar ka hum paya Falak bhi apne pesh manzil-shanasi ne gham paya Musafir ne nishan-e-manzil-e-mulk-e-adam paya Kaha bagh-e-Iram ki bu abhi se mujh ko aati hai Isi rah-e-talkh par wir ki rah jati hai (Bashukriya sozkhwan Zakir Husain o Mahmud Tajali) Nikle khaime se jo bahaduri lagaye Abbas Parh ke rajaz war pe maidan mein aaye Abbas Mashk o alam sath mein laye Abbas Han magar bund bhi pani ki na paye Abbas Aah hai pyason ka bich jang ke be-qarari hai Larne bhi aaye hain pani ke talabgari hain (Bashukriya sozkhwan Wasi Haider o Wali Haider Zaidi) Shor hai Sham ke lashkar mein ke Abbas aaye Aur awaz-e-khabar aati ke bahut pas aaye Phir gham-e-Shah-e-Shahidan se Imam pas aaye Yun taqdir ke ye jang unhein ras aaye Barh ke ghore ka shujaat ne qadam chum liya Tegh ne gauhar-e-shujaat ka alam chum liya (Bashukriya sozkhwan Bahadur Husain Rizvi o Syed Ali) Jab mashk bhar kar nahr se Abbas Ghazi ghar chale Ek jam-e-Kausar bhar liya aur khuld se Haider chale Hamrah-e-sher chale, Hamza chale, Jafar chale Maidan ka rasta roke kuffar-e-lashkar chale Aata tha fauj-e-kis ka alam ghore hue Abbas jaise sher se tegh o dam lare hue (Bashukriya sozkhwan Hakim Syed Haider Abbas o Shams-ul-Hasan) Shabbir ka mah-e-ru tha jalalat mein lajawab Abru the Zulfiqar to chehra tha aftab Neza badan ke san mein the jaise abr-e-ab Phir char surat Haider sunte hue Jannat ke ishtiyaq mein dulha bane hue [Aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh]
سوز جب نوجوان کی لاش نہ پائی حسینؑ نے ٹھوکر ہر ایک گام پہ کھائی حسینؑ نے رکھ کر زمیں پہ خاک اڑائی حسینؑ نے دل تھام کر یہ بات سنائی حسینؑ نے آنکھوں سے سوجھتا نہیں مجھ دل ملول کو اے ظالمو، دکھا دو شہیدِ رسولؐ کو (بشکریہ سوزخواں ندیم جمال زیدی و حسن مجتبیٰ) شہِ مظلوم سے عباسؑ نے جس دم علم پایا برِ تقدیر میں وہ ہوگا جعفرؑ کا ہم پایا فلک بھی اپنے پیش منزل شناسی نے غم پایا مسافر نے نشانِ منزلِ ملکِ عدم پایا کہا باغِ ارم کی بو ابھی سے مجھ کو آتی ہے اسی راہِ تلخ پر ویر کی راہ جاتی ہے (بشکریہ سوزخواں ذاکر حسین و محمود تاجعلی) نکلے خیمے سے جو بہادری لگائے عباسؑ پڑھ کے رجز وار پہ میدان میں آئے عباسؑ مشک و علم ساتھ میں لائے عباسؑ ہاں مگر بوند بھی پانی کی نہ پائے عباسؑ آہ ہے پیاسوں کا بیچ جنگ کے بیقراری ہے لڑنے بھی آئے ہیں پانی کے طلبگاری ہیں (بشکریہ سوزخواں وصی حیدر و ولی حیدر زیدی) شور ہے شام کے لشکر میں کہ عباسؑ آئے اور آوازِ خبر آتی کہ بہت پاس آئے پھر غمِ شاہِ شہیداں سے امام پاس آئے یوں تقدیر کہ یہ جنگ انہیں راس آئے بڑھ کے گھوڑے کا شجاعت نے قدم چوم لیا تیغ نے گہر شجاعت کا علم چوم لیا (بشکریہ سوزخواں بہادر حسین رضوی و سید علی) جب مشک بھر کر نہر سے عباسؑ غازی گھر چلے اک جام کوثر بھر لیا اور خلد سے حیدرؑ چلے ہمراہِ شیر چلے، حمزہؑ چلے، جعفرؑ چلے میدان کا رستہ روکے کفارِ لشکر چلے آتا تھا فوجِ کس کا علم گھوڑے ہوئے عباسؑ جیسے شیر سے تیغ و دم لڑے ہوئے (بشکریہ سوزخواں حکیم سید حیدر عباس و شمس الحسن) شبیرؑ کا ماہِ رو تھا جلالت میں لاجواب ابرو تھے ذوالفقار تو چہرہ تھا آفتاب نیزہ بدن کے سن میں تھے جیسے ابرِ آب پھر چار صورت حیدرؑ سنتے ہوئے جنت کے اشتیاق میں دولہا بنے ہوئے [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

101

Soz Josh Malihabadi Ashna bahr-e-sadaqat ka Husain ibn-e-Ali Mudarris-e-dars-e-shahadat ka Husain ibn-e-Ali Mojiza falak-e-shujaat ka Husain ibn-e-Ali Hausla tirgi-e-quwwat ka Husain ibn-e-Ali Jis ne mujhe di na sham-e-adamiyat, wo Husain Sans jis ke dam se leti hai bashariyat, wo Husain (Bashukriya qari o sozkhwan Raza Maulai o Muhammad Ali Maulai) Jab chaman-e-khak mein Akbar ki jawani ka mila Pani pani kaha aur qatra na pani ka mila Dagh Syedaniyon ko aaj nahani ka mila Shah ko kuchh na paye bazu ke jawani ka mila Ru dar samne the taqat hai na binai hai Beta mara gaya aur kham tanhai hai (Bashukriya sozkhwan Zafar Husain Zaidi o Sibt Muhammad Rizvi) Ya Rab saghir mein koi be-padri na ho Baba kisi ka qatl huzur-e-nazar na ho Pardes mein yatim koi dar badar na ho Barhe mein koi parda-nashin nang-e-sar na ho Qaidi hui pidar se chhuti bhai mar gaye Ye sare dukh kaleje ke upar guzar gaye (Bashukriya sozkhwan Iqlim Akhtar Zaidi o Iwaz Ali) Abbas ko Husain jo darya pe ro chuke Bhai se apne hath lipat kar ho chuke Yan tak tasalli Akbar o Asghar bhi ho chuke Garmi mein jo pate the wo mitti mein so chuke Karte the Shah har ek tan-e-pak pak par Qasim ki lash par kabhi Akbar ki lash par (Bashukriya sozkhwan Hasan Kazmi o baradaran) Zhala-bari hai dilon ko milti hoti Sarkar Na bedaron ke pare hain na mahrumon ki qatar Abchar gaya wo chaman aur khizan hui wo bahar Na koi sahib-e-darban na koi khidmatgar Maqam wo, hai jis ja nigah marmana hai Huzur ke dar o dast par khak urti hai (Anjumani Bab-ul-Ilm / prashad peshtar) Hai chain thi Sughra jo firaq-e-pidari se Ze uthe bhi kehti thi nasim-e-sahari se Ay bad-e-saba karti hun dard-e-jigari se Kal bhaiyon to keh mere baba safari se Nargis ki tarah chashm-e-suye digarman hai Jald aao ke basti ka chaman sirf khizan hai
سوز جوش ملیح آبادی آشنا بحرِ صداقت کا حسین ابنِ علیؑ مدرسِ درسِ شہادت کا حسین ابنِ علیؑ موجزہ فلکِ شجاعت کا حسین ابنِ علیؑ حوصلہ تیرگیِ قوت کا حسین ابنِ علیؑ جس نے مجھے دی نہ شمعِ آدمیت، وہ حسینؑ سانس جس کے دم سے لیتی ہے بشریت، وہ حسینؑ (بشکریہ قاری و سوزخواں رضا مولائی و محمد علی مولائی) جب چمنِ خاک میں اکبرؑ کی جوانی کا ملا پانی پانی کہا اور قطرہ نہ پانی کا ملا داغ سیدانیوں کو آج نہانی کا ملا شاہؑ کو کچھ نہ پئے بازو کے جوانی کا ملا رو در سامنے تھے طاقت ہے نہ بینائی ہے بیٹا مارا گیا اور خام تمہائی ہے (بشکریہ سوزخواں ظفر حسین زیدی و سبط محمد رضوی) یا رب صغیرؑ میں کوئی بے پدری نہ ہو بابا کسی کا قتل حضورِ نظر نہ ہو پردیس میں یتیم کوئی در بدر نہ ہو بڑھے میں کوئی پردہ نشیں ننگِ سر نہ ہو قیدی ہوئی پدر سے چھٹی بھائی مر گئے یہ سارے دکھ کلیجے کے اوپر گزر گئے (بشکریہ سوزخواں اقلیم اختر زیدی و عوض علی) عباسؑ کو حسینؑ جو دریا پہ رو چکے بھائی سے اپنے ہاتھ لپٹ کر ہو چکے یاں تک ترسلی اکبرؑ و اصغرؑ بھی ہو چکے گرمی میں جو پٹے تھے وہ مٹی میں سو چکے کرتے تھے شہؑ ہر ایک تنِ پاک پاک پر قاسمؑ کی لاش پر کبھی اکبرؑ کی لاش پر (بشکریہ سوزخواں حسن کاظمی و برادران) ژالہ باری ہے دلوں کو ملتی ہوتی سرکار نہ بیداروں کے پڑے ہیں نہ محروموں کی قطار آبچر گیا وہ چمن اور خزاں ہوئی وہ بہار نہ کوئی صاحبِ درباں نہ کوئی خدمت گار مقام وہ، ہے جس جا نگاہ مرمنا ہے حضور کے در و دست پر خاک اڑتی ہے (انجمنی باب العلم / پرشاد پیشتر) ہے چین تھی صغریٰ جو فراقِ پدری سے زِ اُٹھے بھی کہتی تھی نسیمِ سحری سے اے باد صبا کرتی ہوں دردِ جگری سے کل بھائیوں تو کہہ میرے بابا سفری سے نرگس کی طرح چشمِ سوئے دگرماں ہے جلد آؤ کہ بستی کا چمن صرف خزاں ہے

102

Soz Taslim Amrohvi Dulha bana jo Banu-e-shurur ka be-zaban Zainab balayen liye lekin hue kam-jan Munh chum kar jo sab ne dua di bad-e-fughan Asghar ka hath pe rakh kar pukari man Lo bibiyo, ab apne kalejon ko tham lo Rukhsat talab hai Asghar nadan salam lo (Bashukriya sozkhwan Zafar Abbas o Intizam Husain) Rehan Azmi Asghar ki lash jab ke uthai Husain ne Dekhi baghair apni kalai Husain ne Phir lash asman ko dikhai Husain ne Taqdir ye zamin ko sunai Husain ne Le ay zamin meri amanat sambhal le Main saunpta hun ab tujhe bazu ka lal le (Bashukriya shair o nauhakhwan Muzaffar Haider Zaidi / Pakrali) Jab nazar tak Husain pe thami to ek ro chuke Ek dopehar mein chhote se lashkar ko ro chuke Qasim ko ro chuke, Ali Akbar ko ro chuke Ghurbat bata ke kitni Asghar ko ro chuke Syedaniyon ne ro ke kaha shor o shain se Lo ab zamana hota hai khali Husain se (Bashukriya sozkhwan Syed Hasan Abbas Zaidi / Achhi) Laha hukm ye Yazid ka pani bashar piyen Ghore piyen, sawar piyen aur sher piyen Jo tishna-lab jahan ke hain wo be-khatar piyen Yan tak ke sab charand o parand aan kar piyen Kafir bhi gar piyen to na ho mana kajhiyo Par Fatima ke lal ko pani na dijiyo (Bashukriya sozkhwan Wahid Husain Zaidi) Kehti thi Banu Asghar jani kab tum ghar mein aaoge Darya se la kar pani kab tum ghar mein aaoge Le mere jani suye nahani kab tum ghar mein aaoge Apni dikhai shakl nishani kab tum ghar mein aaoge Sog mein tere banaya hai yahi kafni ka lal hai Bhulon wali aaja, chhota tera khal hai (Bashukriya Maulana Akhtar-ul-Husain Zain-ud-Din-ul-Husaini Muhammadi) Jab Zulfiqar Imam-e-Asghar mein ro chuki Tamanni qabr khod ke khunbar ho chuki Bachche ke sath Banu ki qismat ko ro chuki Karta lahu bhar hua ashkon se dho chuki Pani na tha jo Shah chhirakte mazar par Ansu tapak pare qad-e-shir-khwar par (Bashukriya shair o sozkhwan Sardar Husain Zaidi / Canada, London)
سوز تسلیم امروہوی دولہا بنا جو بانوی شرور کا بے زباں زینبؑ بلائیں لیے لیکن ہوئے کم جاں منہ چوم کر جو سب نے دعا دی بعدِ فغاں اصغرؑ کا ہاتھ پہ رکھ کر پکاری ماں لو بی بیو، اب اپنے کلیجوں کو تھام لو رخصت طلب ہے اصغرؑ ناداں سلام لو (بشکریہ سوزخواں ظفر عباس و انتظام حسین) ریحان اعظمی اصغرؑ کی لاش جب کہ اٹھائی حسینؑ نے دیکھی بغیر اپنی کلائی حسینؑ نے پھر لاش آسماں کو دکھائی حسینؑ نے تقدیر یہ زمیں کو سنائی حسینؑ نے لے اے زمیں میری امانت سنبھال لے میں سونپتا ہوں اب تجھے بازو کا لال لے (بشکریہ شاعر و نوحہ خواں مظفر حیدر زیدی / پاکرالی) جب نظر تک حسینؑ پہ تھمی تو اک رو چکے اک دوپہر میں چھوٹے سے لشکر کو رو چکے قاسمؑ کو رو چکے، علی اکبرؑ کو رو چکے غربت بتا کے کتنی اصغرؑ کو رو چکے سیدانیوں نے رو کے کہا شور و شین سے لو اب زمانہ ہوتا ہے خالی حسینؑ سے (بشکریہ سوزخواں سید حسن عباس زیدی / اچھی) لہا حکم یہ یزید کا پانی بشر پئیں گھوڑے پئیں، سوار پئیں اور شیر پئیں جو تشنہ لب جہاں کے ہیں وہ بے خطر پئیں یاں تک کہ سب چرند و پرند آن کر پئیں کافر بھی گر پئیں تو نہ ہو منع کجھیو پر فاطمہؑ کے لال کو پانی نہ دیجیؤ (بشکریہ سوزخواں واحد حسین زیدی) کہتی تھی بانو اصغرؑ جانی کب تم گھر میں آؤ گے دریا سے لا کر پانی کب تم گھر میں آؤ گے لے میرے جانی سوئے نہانی کب تم گھر میں آؤ گے اپنی دکھائی شکل نشانی کب تم گھر میں آؤ گے سوگ میں تیرے بنایا ہے یہی کفنی کا لال ہے بھولوں والی آجا، چھوٹا تیرا خال ہے (بشکریہ مولانا اختر الحسین زین الدین الحسینی محمدی) جب ذوالفقار امامِ اصغرؑ میں رو چکی تمنّی قبر کھود کے خونبار ہو چکی بچے کے ساتھ بانوں کی قسمت کو رو چکی کرتا لہو بھر ہوا اشکوں سے دھو چکی پانی نہ تھا جو شاہؑ چھڑکتے مزار پر آنسو ٹپک پڑے قدِ شیر خوار پر (بشکریہ شاعر و سوزخواں سردار حسین زیدی / کینیڈا، لندن)

103

Soz Jab tan mein zakhmi ho gaye Sultan-e-bahr o bar Zof se hath ghore ki gardan pe dal kar Kehne lage Husain ke aata nahin nazar Le chal mujhe to Akbar murdon ki lash par Ay ab bawafa mere dil ko qarar de Is ka sila tujhe Shah-e-Zuljalal sawar de Ghora qadam qadam suye maqtal hua rawan Pahunche na Shah ke zakhmon ko tha sabr ka imkan Ek naujawan ki lash pe thehra wo be-zaban Jhuk kar Husain pukare yahi hai han Beta jo Zuljanah to aap utre zamin se Do hath kanpte hue uthe zamin se (Bashukriya shair o sozkhwan Muzaffar Naqvi, Amrohvi) Karbala se jab Husaini qafila lutta hua Bal bal roya Madine ko chala Dekh kar gor-e-ghariban Ahl-e-Bait-e-Mustafa Fatiha parh kar lage rone baghair aah o buka Bolin Zainab az zamin-e-Karbala, ya shor o shain Saunp kar tujh ko chali hun apna main bhai Husain Ay zamin tujh mein Ali Asghar mera pinhan hua Ay zamin tujh mein Ali Akbar mera pinhan hua Bia ki shab Qasim Muzaffar mera pinhan hua Aun bhi pinhan hua, Jafar mera pinhan hua Ay gham! main le chali hun qatl ke bazar se Par hua daman, tera kya kya dar-e-shahwar se (Iltimas Surah Fatiha baraye sozkhwan Mushtaq Ali Khan) Shabbir ko Khaliq ne Sakina jo ata ki Zainab ki surat bhi sab is mah-e-liqa ki Jis dam diya godi mein use le ke chacha ki Abbas ne hathon ko utha kar ye dua ki Rakhe tujhe ay ladli Allah salamat Duniya mein rahe sar pe tere Shah salamat (Bashukriya sozkhwan Zia-ul-Hasan o Zakir Husain baradaran) Mirza Dabir Jab Yazid apne gunahon se pashiman hua Nas ke pehle sifat zakhm wo gareban hua Subh-e-kazib ki tarah chak gareban hua Kal ki shahzadiyon ke jhagre ka saman hua Ek taraf samne darbar mein sada aai Ek taraf beriyan pehne hue Sajjad aaye (Bashukriya sozkhwan Syed Ali Zaidi)
سوز جب تن میں زخمی ہو گئے سلطانِ بحر و بر ضعف سے ہاتھ گھوڑے کی گردن پہ ڈال کر کہنے لگے حسینؑ کہ آتا نہیں نظر لے چل مجھے تو اکبرؑ مردوں کی لاش پر اے اب باوفا میرے دل کو قرار دے اس کا صلہ تجھے شہِ ذوالجلال سوار دے گھوڑا قدم قدم سوئے مقتل ہوا رواں پہنچے نہ شہؑ کے زخموں کو تھا صبر کا امکان اک نوجوان کی لاش پہ ٹھہرا وہ بے زباں جھک کر حسینؑ پکارے یہی ہے ہاں بیٹا جو ذوالجناح تو آپ اترے زمیں سے دو ہاتھ کاپتے ہوئے اٹھے زمیں سے (بشکریہ شاعر و سوزخواں مظفر نقوی، امروہوی) کربلا سے جب حسینیؑ قافلہ لٹتا ہوا بال بال رویا مدینے کو چلا دیکھ کر گورِ غریباں اہلِ بیت مصطفیٰؐ فاتحہ پڑھ کر لگے رونے بغیر آہ و بکا بولیں زینبؑ از زمیںِ کربلا، یا شور و شین سونپ کر تجھ کو چلی ہوں اپنا میں بھائی حسینؑ اے زمیں تجھ میں علی اصغرؑ مرا پنہاں ہوا اے زمیں تجھ میں علی اکبرؑ مرا پنہاں ہوا بیاع کی شب قاسمؑ مظفر مرا پنہاں ہوا عونؑ بھی پنہاں ہوا، جعفرؑ مرا پنہاں ہوا اے غم! میں لے چلی ہوں قتل کے بازار سے پر ہوا دامن، ترا کیا کیا درِ شہوار سے (التماس سورۃ فاتحہ برائے سوزخواں مشتاق علی خان) شبیرؑ کو خالق نے سکینہؑ جو عطا کی زینبؑ کی صورت بھی سب اس ماہِ لقا کی جس دم دیا گودی میں اسے لے کے چچا کی عباسؑ نے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ دعا کی رکھے تجھے اے لاڈلی اللہ سلامت دنیا میں رہے سر پہ ترے شاہ سلامت (بشکریہ سوزخواں ضیاء الحسن و ذاکر حسین برادران) مرزا دبیر جب یزید اپنے گناہوں سے پشیمان ہوا نس کے پہلے صفت زخم وہ گریباں ہوا صبحِ کاذب کی طرح چاک گریباں ہوا کل کی شہزادیوں کے جھگڑے کا سامان ہوا ایک طرف سامنے دربار میں صدا آئی ایک طرف بیڑیاں پہنے ہوئے سجادؑ آئے (بشکریہ سوزخواں سید علی زیدی)

104

Soz Mohsin Naqvi Shahid Ek ek kar ke bikharte the jab Ansar-e-Husain Aah sara koi zaifi ka, koi ruh ka chain Ye jawan lash, wo kamsin, to idhar rahat-e-ain Hichkiyan wo kisi bachchi ki, kisi man ke wo bain Zindagi dard se bas dida-e-tar jaisi thi Asr-e-Ashur qiyamat ki sahar jaisi thi Sarhane lash-e-pidar ke ye matam sharne ki Saza muhabbat ibn-e-Ali ki khub mili Ghar bhi kya, saf tu ne jan bhi di Sada-e-lash ne di dur to zaban se shabi Ali Imam Hasan ast o manam ghulam-e-Ali Hazar jan-e-girami fidai nam-e-Ali (Bashukriya sozkhwan Sabir Husain Zaidi / Karbalai Najaf Ali Karaji) Nikle haram ke unt jo maqtal ki rah se Boli Sakina mile chale lash-e-Shah se Khushbu lahu ki aane lagi qatl-gah se Rukhsat zarur chahiye Zahra ke mah se Ji bhar ke aaj khana-e-zindan mein roenge Ab ka hai wo Husain ke sine pe soenge (Bashukriya sozkhwan Syed Aal-e-Rasul) Ye kaun si mastura hai kya matamak rahi hai Islam ki khidmat ka sila mang rahi hai Har sahib-e-ghairat se rida mang rahi hai Pardes mein marne ki dua mang rahi hai Afsurda hain aflak pe posh-e-zamin hai Jibrail zara dekho, ye Zainab to nahin hai (Bashukriya sozkhwan Mahmud Akhtar Zaidi / Haidari) Ali ki betiyan zindan mein jab asir huin Rasulzadiyan hakim ki zanjir huin Husain haram Shah par kashir huin Gham-e-Husain mein Syedaniyan faqir huin Kai dinon se mayassar na ab o dana tha Andheri rat thi tuta sa qaid-khana tha (Bashukriya shair o sozkhwan Ustad Syed Ali Shafiq Akbarabadi)
سوز محسن نقوی شہید ایک اک کر کے بکھرتے تھے جب انصارِ حسینؑ آہ سرا کوئی ضعیفی کا، کوئی روح کا چین یہ جوان لاش، وہ کمسن، تو ادھر راحتِ عین ہچکیاں وہ کسی بچی کی، کسی ماں کے وہ بین زندگی درد سے بس دیدۂ تر جیسی تھی عصرِ عاشور قیامت کی سحر جیسی تھی سرہانے لاشِ پدر کے یہ ماتم شرنے کی سزا محبت ابنِ علیؑ کی خوب ملی گھر بھی کیا، صف تو نے جان بھی دی صدائے لاش نے دی دور تو زباں سے شبی علیؑ امام حسن است و منم غلامِ علیؑ ہزار جان گرامی فدائے نام علیؑ (بشکریہ سوزخواں صابر حسین زیدی / کربلائی نجف علی کراجی) نکلے حرم کے اونٹ جو مقتل کی راہ سے بولی سکینہؑ ملے چلے لاشِ شہؑ سے خوشبو لہو کی آنے لگی قتل گاہ سے رخصت ضرور چاہئے زہرا کے ماہ سے جی بھر کے آج خانہ زنداں میں روئیں گے اب کا ہے وہ حسینؑ کے سینے پہ سوئیں گے (بشکریہ سوزخواں سید آل رسول) یہ کون سی مستورہ ہے کیا ماتمک رہی ہے اسلام کی خدمت کا صلہ مانگ رہی ہے ہر صاحبِ غیرت سے ردا مانگ رہی ہے پردیس میں مرنے کی دعا مانگ رہی ہے افسردہ ہیں افلاک پہ پوشِ زمیں ہے جبرئیل ذرا دیکھو، یہ زینبؑ تو نہیں ہے (بشکریہ سوزخواں محمود اختر زیدی / حیدری) علیؑ کی بیٹیاں زنداں میں جب اسیر ہوئیں رسول زادیاں حاکم کی زنجیر ہوئیں حسینؑ حرم شاہ پر کشیر ہوئیں غمِ حسینؑ میں سیدانیاں فقیر ہوئیں کئی دنوں سے میسر نہ آب و دانہ تھا اندھیری رات تھی ٹوٹا سا قید خانہ تھا (بشکریہ شاعر و سوزخواں استاد سید علی شفیق اکبر آبادی)

105

Soz Shahr-e-Sham ke, ye Hazrat Zainab se kya Uzr karta hun ke ab bakhsh do, meri khata Kaha Zainab ne ke, malun o bani-e-jafa Tu ne kata mere aage mere bhai ka gala Bad marne na janaze tu agar yad-e-gham Az zamin dast baron aram o faryad-e-gham (Bashukriya sozkhwan Syed Irshad Husain, Arshad Husain o baradaran) Abid se watan mein kisi ne kiya kalam Guzre kitne zamana kahan tum pe ya Imam Maula ne tin bar kaha, Sham Sham Sham Rang mera akela tha aur gard o khak o aam Betiyon ke nam le ke gham-shiar hote the Baba ka bhi rona tha aur hum bhi rote the (Bashukriya sozkhwan Muhammad Abbas Husain) Sajjad ko bulaya dobara jo shaqi ne Ye sunte hi Yahud ke dhage sine Farmaya bint-e-Ali ne Main kya hun jo rukh uthaye mere ji ne Kya jaye ab kya sitam ijad karne ka Bazu ke kahin kaun si bedad karne ka Wadi gai pukar ki baton pe na jana Dekho main kahe deti hun kuchh de to na mana Gar tegh rakhe halq pe gardan na hilana Baba ki tarah mar ke sar apna katana Saman jo kuchh lut ka tum paye ho beta Pehle sar-e-Shah-e-Shuhada laye ho beta (Bashukriya shair o sozkhwan Syed Ishtiaq Husain Hamdani) Sakina qaid ho kar Sham ke zindan mein jab aai Wo bachchi is andhere ghar ki tariki se ghabrai Taqdir ne mohib afat ki pehli rat dikhlai Zamin to farsh thi, saya falak tha charkh minai Phulon ke sath hoti thi madaman ke pas soti thi Bhar bhar kar ghari zindan ke darwaze pe roti thi Andhere jo guzarta tha use kehti thi sahja ja Main be-kas qaid hun ek ye paigham hai mera Agar baba milen tujh ko to ye keh kar kehna mera Ke bani musibat hai, khabar lo ay Shah-e-wala Agar tujh se kahen jaise main sona chhor aaya hun To kahiyo dur zindan pe rona chhor aaya hun (Bashukriya sozkhwan Ustad Qadr Ali Khan Marhum)
سوز شہرِ شام کے، یہ حضرت زینبؑ سے کیا غذر کرتا ہوں کہ اب بخش دو، میری خطا کہا زینبؑ نے کہ، ملعون او بانیِ جفا تو نے کٹا مرے آگے مرے بھائی کا گلا بعد مرنے نہ جنازے تو اگر یادِ غم از زمیں دست بڑوں آرام و فریادِ غم (بشکریہ سوزخواں سید ارشاد حسین، ارشد حسین و برادران) عابدؑ سے وطن میں کسی نے کیا کلام گزرے کتنے زمانہ کہاں تم پہ یا امام مولا نے تین بار کہا، شام شام شام رنگ مرا اکیلا تھا اور گرد و خاک و عام بیٹیوں کے نام لے کے غم شعار ہوتے تھے بابا کا بھی رونا تھا اور ہم بھی روتے تھے (بشکریہ سوزخواں محمد عباس حسین) سجادؑ کو بلایا دوبارہ جو شقی نے یہ سنتے ہی یہود کے دھاگے سینے فرمایا بنتِ علیؑ نے میں کیا ہوں جو رخ اٹھائے مرے جی نے کیا جائے اب کیا ستم ایجاد کرنے کا بازو کے کہیں کون سی بیداد کرنے کا وادی گئی پکار کی باتوں پہ نہ جانا دیکھو میں کہے دیتی ہوں کچھ دے تو نہ مانا گر تیغ رکھے حلق پہ گردن نہ ہلانا بابا کی طرح مر کے سر اپنا کٹانا سامان جو کچھ لوٹ کا تم پائے ہو بیٹا پہلے سرِ شاہِ شہداء لائے ہو بیٹا (بشکریہ شاعر و سوزخواں سید اشتیاق حسین ہمدانی) سکینہؑ قید ہو کر شام کے زنداں میں جب آئی وہ بچی اس اندھیرے گھر کی تاریکی سے گھبرائی تقدیر نے محب آفت کی پہلی رات دکھلائی زمیں تو فرش تھی، سایہ فلک تھا چرخ مینائی پھولوں کے ساتھ ہوتی تھی مداماں کے پاس سوتی تھی بھر بھر کر گھڑی زنداں کے دروازے پہ روتی تھی اندھیرے جو گزرتا تھا اسے کہتی تھی سہجا جا میں بے کس قید ہوں ایک یہ پیغام ہے میرا اگر بابا ملیں تجھ کو تو یہ کہہ کر کہہنا میرا کہ بنی مصیبت ہے، خبر لو اے شہِ والا اگر تجھ سے کہیں جیسے میں سونا چھوڑ آیا ہوں تو کہیو دور زنداں پہ رونا چھوڑ آیا ہوں (بشکریہ سوزخواں استاد قدر علی خان مرحوم)

106

Salam Mahshar ki jagah ayan mah-e-aza hota hai Mir Anees Bahr-e-jagah ayan mah-e-aza hota hai Charkh pe matam-e-Shah-e-Shuhada hota hai Rone walon ka bhi kya rutba hai Subhan Allah Jis ke ashkon ka kharidar Khuda hota hai Dekh kar tak dam-e-naza jo roye Abbas Pyar se Shah liye kehte hain ye kya hota hai Kyun chal hue hain pani na mila to na mila Wo kya gham ne jo mujh haq-e-wafa hota hai Pher din ankhen jo Asghar ne pukari bawa Ro paro ay Bibi dekho to ye kya hota hai Shah ro dete the kehti thi Sakina jis dam Pas se sina mein um ab to khata hota hai Kehti thin Qanbar Khuda dekh ke Abid ko asir Kahin bimar Ali bhi rahi mein bandha hota hai Tir chahtab ye sada aati thi maidan-e-Anees Dekhen kab qaid se Sajjad riha hota hai (Bashukriya Allama Nawab Haider Abidi) Zikr-e-Shah kar ke muhibbin ko rulaya main ne Mir Anees Zikr-e-Shah kar ke muhibbin ko rulaya main ne Apna ghar koi khisht mein banaya main ne Shah ne farmaya karunga na bhulaunga Pani do roz na paya to na paya main ne Shah kehte the ke pyasa mera jahan qatl Khud ke marne ka ajab ranj uthaya main ne Aai awaz Ali ki na daro ay beta Aab-e-Kausar tere mehman ko pilaya main ne Shah ne farmaya mere bhai ke bazu kate Is pe bhi hath na afsos pe uthaya main ne Mara Akbar ko to kehta tha kahin Ibn-e-Munir Aaj taswir-e-Muhammad ko mitaya main ne Shah ne qasid se kaha beti ko ye khat likhna Aaye yan ek ghari chain na paya main ne Kahiyo Sughra se ke mushkil hai watan mein aana Ab to pi pi isi jangal ko basaya main ne
سلام محشر کی جگہ عیاں ماہِ عزا ہوتا ہے میر انیس بحرِ جگہ عیاں ماہِ عزا ہوتا ہے چرخ پہ ماتمِ شاہِ شہدا ہوتا ہے رونے والوں کا بھی کیا رتبہ ہے سبحان اللہ جس کے اشکوں کا خریدار خدا ہوتا ہے دیکھ کر تک دمِ نزع جو روئے عباسؑ پیار سے شاہؑ لئے کہتے ہیں یہ کیا ہوتا ہے کیوں چل ہوئے ہیں پانی نہ ملا تو نہ ملا وہ کیا غم نے جو مجھ حق وفا ہوتا ہے پھیر دیں آنکھیں جو اصغرؑ نے پکاری باوا رو پڑو اے بی بی دیکھو تو یہ کیا ہوتا ہے شاہؑ رو دیتے تھے کہتی تھی سکینہؑ جس دم پاس سے سینہ میں اُم اب تو خطا ہوتا ہے کہتی تھیں قنبر خدا دیکھ کے عابدؑ کو اسیر کہیں بیمار علیؑ بھی رہی میں بندھا ہوتا ہے تیر چہتاب یہ صدا آتی تھی میدانِ انیس دیکھیں کب قید سے سجادؑ رہا ہوتا ہے (بشکریہ علامہ نواب حیدر عابدی) ذکرِ شہؑ کر کے محبین کو رلایا میں نے میر انیس ذکرِ شہؑ کر کے محبین کو رلایا میں نے اپنا گھر کوئی خشت میں بنایا میں نے شہؑ نے فرمایا کروں گا نہ بھلاؤں گا پانی دو روز نہ پایا تو نہ پایا میں نے شاہؑ کہتے تھے کہ پیاسا مرا جہاں قتل خود کے مرنے کا عجب رنج اٹھایا میں نے آئی آواز علیؑ کی نہ ڈرو اے بیٹا آپ کوثر ترے مہمان کو پلایا میں نے شہؑ نے فرمایا مرے بھائی کے بازو کاٹے اس پہ بھی ہاتھ نہ افسوس پہ اٹھایا میں نے مارا اکبرؑ کو تو کہتا تھا کہیں ابنِ منیر آج تصویرِ محمدؐ کو مٹایا میں نے شہؑ نے قاصد سے کہا بیٹی کو یہ خط لکھنا آئے یاں ایک گھڑی چین نہ پایا میں نے کہیو صغریٰ سے کہ مشکل ہے وطن میں آنا اب تو پی پی اسی جنگل کو بسایا میں نے

107

Salam Kaun qatil tha salami ke jahan aur bhi hai Kaun qatil tha salami ke jahan aur bhi hai Karbala wale ke hum tujhe kahan aur bhi hai Sadqe is dil ke jo jo hubb-e-Ali se abad Is se behtar koi duniya mein makan aur bhi hai Nam-e-Shabbir pe Subhan farhan hota Bad tan ke ye iman ka nishan aur bhi hai Parchhiyan mar ke Akbar ko pukarte ada Shah ne puchha koi farzand jawan aur bhi hai Man ke shane ko hathon par pukare Maula Nazr-e-Haq ke liye ye shuja zaran aur bhi hai Bal khole hue lashe jo aayen Zahra Khul gaya gham to gham-e-naza kahan aur bhi hai Khari haddiyan pahar aa gaye ghair Dekh beta isi tauq-e-giran aur bhi hai Nile rukhsaron pe kanon se lahu hai jari Kardon bali Sakina pe nishan aur bhi hai Manqabat Jafar Husain Ravi fazak nam to Yaqub o Haider ast Zikr-e-Ali se himmat-e-Payghambar ast (Bashukriya sozkhwan Syed Musa Rizvi o Munawwar Mehdi) Mahshar ki paida hua tha gham-e-Hasan ke waste Mirza Adib Bajri paida hua tha gham-e-Hasan ke waste Aur bana khanjar-e-Shimr tishna-dahan ke waste Ay falak Zainab ko tu ne kyun phiraya dar badar Matam-e-Shabbir kya kam tha bahen ke waste Bole Abid, agar do Asghar to hon to shahr-e-Sham Aur hum jite rahen ranj o mihan ke waste Ay falak insaf se tujh ko teri dur hai Gardan-e-Sajjad ho tauq o rasan ke waste Shimr se kehti thi Zainab chhin mat meri rida Ye rida rehne de bhai ke kafan ke waste Wafa ki jan bana Ahl-e-dil ki nazron mein Wo tishna-lab darya jo pyas rakhta hai (Baqir Zaidi / London, Canada / America) Karam, sabr o wafa ki saltanat ka nam hai Haider Wafa ki aakhri sarhad ko hum Abbas kehte hain (Parvez Hujjat Fazili)
سلام کون قاتل تھا سلامی کہ جہاں اور بھی ہے کون قاتل تھا سلامی کہ جہاں اور بھی ہے کربلا والے کے ہم تجھے کہاں اور بھی ہے صدتے اس دل کے جو جو حبِ علیؑ سے آباد اس سے بہتر کوئی دنیا میں مکان اور بھی ہے نامِ شبیرؑ پہ سبحان فرحاں ہوتا بعد طعن کے یہ ایمان کا نشان اور بھی ہے پرچیاں مار کے اکبرؑ کو پکارتے اعدا شہؑ نے پوچھا کوئی فرزند جوان اور بھی ہے ماں کے شانے کو ہاتھوں پر پکارے مولا نذرِ حق کے لئے یہ شجاع ذراں اور بھی ہے بال کھولے ہوئے لاشے جو آئیں زہرا کھل گیا غم تو غمِ نزع کہاں اور بھی ہے کھڑی ہڈیاں پہاڑ آ گئے غیر دیکھ بیٹا اسی طوقِ گراں اور بھی ہے نیلے رخساروں پہ کانوں سے لہو ہے جاری کردوں بالی سکینہؑ پہ نشان اور بھی ہے منقبت جعفر حسینؑ روی فذاک نام تو یعقوب و حیدر است ذکرِ علیؑ سے ہمتِ پیغمبر است (بشکریہ سوزخواں سید موسیٰ رضوی و منور مہدی) محشر کی پیدا ہوا تھا غمِ حسنؑ کے واسطے مرزا ادیب بجری پیدا ہوا تھا غمِ حسنؑ کے واسطے اور بنا خنجرِ شمر تشنہ دہن کے واسطے اے فلک زینبؑ کو تو نے کیوں پھرایا در بدر ماتمِ شبیرؑ کیا کم تھا بہن کے واسطے بولے عابدؑ، اگر دو اصغرؑ تو ہوں تو شہرِ شام اور ہم جیتے رہیں رنج و محن کے واسطے اے فلک انصاف سے تجھ کو تیری دور ہے گردنِ سجادؑ ہو طوق و رسن کے واسطے شمر سے کہتی تھی زینبؑ چھین مت میری ردا یہ ردا رہنے دے بھائی کے کفن کے واسطے وفا کی جان بنا اہلِ دل کی نظروں میں وہ تشنہ لب دریا جو پیاس رکھتا ہے (باقر زیدی / لندن، کینیڈا / امریکہ) کرم، صبر و وفا کی سلطنت کا نام ہے حیدرؑ وفا کی آخری سرحد کو ہم عباسؑ کہتے ہیں (پرویز حجت فاضلی)

108

Salam Zard chehra hai zaif o zar hun Mir Anees Zard chehra hai zaif o zar hun Sakht Sajjad mein bimar hun Kehti thi Zainab dubai ya Ali Sar barahna main sar-e-bazar hun Kehte the Abid uthe kyun kar qadam Ay sitamgaro, zaif o zar hun Dam ba dam khincho na mere hath ko Paon barh sakte nahin nachar hun Main piyadah tum ho ghoron par sawar Kis qadar dinon bahut bimar hun [Aakhri do misra juzwi taur par ghair wazeh] (Bashukriya sozkhwan Faizan Mahmud o Anees Zaidi) Baghaur sun le zamana, Husain aise the Shahir Lakhnavi Baghaur sun le zamana, Husain aise the Baqa o fana ko banaya, Husain aise the Chhatti ke pichhe wo Khaliq se pyar ki baten Ajal ko ho gaya Sikandar, Husain aise the Khilafat pe zamana tha us taraf lekin Wahi ke jo kaha tha Husain aise the Chappu Sham-e-shujaat ka loya mang gai Tere na lakhon se tanha Husain aise the Kar lo bandh ke chori mein jalti rahi se [Aakhri misra ghair wazeh] Alfiya pite ka lash-e-Husain aise the Jawan ki lash uthai, bhai ki qabr Husain aise the Kahin bhi sog na bola, Husain aise the Hazar shukr ke sajde shahid karta hai Banaya qatre ko darya, Husain aise the (Bashukriya Musawwir o sozkhwan Mukhtar Haider Zaidi) Majlison se kuchh malak shishon mein bhar kar le gaye Haiyat Lakhnavi Majlison se kuchh malak shishon mein bhar kar le gaye Le gaye ansu Khuda jane ke Kausar le gaye Hum dard ke guman hum isi dar ke faqir le gaye Haiyat jis dar se farishte aa ke aktar le gaye Der se pahunche dar-e-Shah-e-Najaf par hum faqir Ek gum-shuda tha zindagi wo bhi sambhal le gaye Jo mile jata tha wo bhi sab sambhal le gaye Shah ka malbus, Zainab ki chadar le gaye Dubhar mein ek tan par zakhm khane sheron Ek dil par dagh shuhada din baghair le gaye Bugz kya tha ashqiya ko Fatima ke lal se Kuchh nahin to ghoron mein bhar ke pachar le gaye Maqtal dil the kya unhein dard-e-yatimi ka qatil Kanon se bali Sakina ke jo khinch kar le gaye Safiya Quran pe chale lutta hai karam Abid bimar ko ta Sham kyun kar le gaye
سلام زرد چہرہ ہے ضعیف و زار ہوں میر انیس زرد چہرہ ہے ضعیف و زار ہوں سخت سجادؑ میں بیمار ہوں کہتی تھی زینبؑ دوبائی یا علیؑ سر برہنہ میں سرِ بازار ہوں کہتے تھے عابدؑ اٹھے کیوں کر قدم اے ستم گارو، ضعیف و زار ہوں دم بہ دم کھینچو نہ میرے ہاتھ کو پاؤں بڑھ سکتے نہیں ناچار ہوں میں پیادہ تم ہو گھوڑوں پر سوار کس قدر دنوں بہت بیمار ہوں [آخری دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] (بشکریہ سوزخواں فیضان محمود و انیس زیدی) بغور سن لے زمانہ، حسینؑ ایسے تھے شہیر لکھنوی بغور سن لے زمانہ، حسینؑ ایسے تھے بقا و فنا کو بنایا، حسینؑ ایسے تھے چھتّی کے پیچھے وہ خالق سے پیار کی باتیں اجل کو ہوگیا سکندر، حسینؑ ایسے تھے خلافت پہ زمانہ تھا اُس طرف لیکن وہی کہ جو کہا تھا حسینؑ ایسے تھے چپّو شامِ شجاعت کا لویا مانگ گئی ترے نہ لاکھوں سے تنہا حسینؑ ایسے تھے کر لو باندھ کے چوری میں جلتی رہی سے [آخری مصرع غیر واضح] الفیاء پیٹے کا لاشِ حسینؑ ایسے تھے جوان کی لاش اٹھائی، بھائی کی قبر حسینؑ ایسے تھے کہیں بھی سوگ نہ بولا، حسینؑ ایسے تھے ہزار شکر کے سجدے شہید کرتا ہے بنایا قطرے کو دریا، حسینؑ ایسے تھے (بشکریہ مصور و سوزخواں مختار حیدر زیدی) مجلسوں سے کچھ ملک شیشوں میں بھر کر لے گئے ہیئت لکھنوی مجلسوں سے کچھ ملک شیشوں میں بھر کر لے گئے لے گئے آنسو خدا جانے کہ کوثر لے گئے ہم درد کے گماں ہم اسی در کے فقیر لے گئے ہیئت جس در سے فرشتے آ کے اکٹر لے گئے دیر سے پہنچے درِ شاہِ نجف پر ہم فقیر ایک گم شدہ تھا زندگی وہ بھی سنبھل لے گئے جو ملے جاتا تھا وہ بھی سب سنبھل لے گئے شہؑ کا ملبوس، زینبؑ کی چادر لے گئے دوبھر میں ایک تن پر زخم کھانے شیروں ایک دل پر داغ شہدا دیں بغیر لے گئے بغض کیا تھا اشقیا کو فاطمہؑ کے لال سے کچھ نہیں تو گھوڑوں میں بھر کے پچر لے گئے مقتل دل تھے کیا انہیں دردِ یتیمی کا قاتل کانوں سے بالی سکینہؑ کے جو کھینچ کر لے گئے صفیہ قرآں پہ چلے لوٹتا ہے کرم عابد بیمار کو تا شام کیوں کر لے گئے

109

Salam Husain ibn-e-Ali ka gham dil-e-muztar mein rehta hai Rubai / Maulana Muhammad Mustafa Jauhar Husain ibn-e-Ali ka gham dil-e-muztar mein rehta hai Bahar unwan jaise ghar ka malik ghar mein rehta hai Gham-e-Shabbir aur hubb-e-Ali hai zindagi apni Ye chehra dil mein rehta hai, ye sauda sar mein rehta hai Safina ka puchhne wale taharat dida-e-tar ki Ye ansu Sayyida ke gosha-e-chadar mein rehta hai Kisi surat Ali ke dar pe rehne ki jagah milti Khiradmuzir sagar isi chakkar mein rehta hai Laga hi nahin bugz-e-Ali dushman ke sine se Ye marz dur hai jo isi khanjar mein rehta hai Azari se na puchho ke awaz-e-bhala kahan Ye puchho bhai ka hai to kyun lashkar mein rehta hai Kabhi pahlu mein dhundta aur rawai hain Rubab uth kar Ye aam rat bhar yad-e-Ali Asghar mein rehta hai Bayan-e-marifat mein sidq se milta nahin Jauhar Dimagh us ka khayal-e-lanat-e-Shimr mein rehta hai Ayah-e-Tathir ke maqsad ka mehwar Fatima Maulana Muhammad Mustafa Jauhar Ayah-e-Tathir ke maqsad ka mehwar Fatima Yani sharh-e-azmat-e-nur-e-munawwar Fatima Aur hai chehron jahan un se roshan Rasul Manba-e-Kausar hain Ali aur ek Kausar Fatima Manqabat din-e-Khuda ki nafiz hayat hui Hashr o mahshar o Shabbir jaise din ka lashkar Fatima Nam hai Tasbih-e-Zahra, kam Tasbih-e-Khuda Zikr tera zikr-e-Haq Allahu Akbar Fatima Teri khidmat mein hua nafa ko Quran har zaban Ay Lisanullah ay iman-parwar Fatima Ayah-e-Tathir likhne ke liye taqdir ne Teri sirat ko banaya is ka manzar Fatima Tu kare apne janaze ke liye shab ko pasand Aur teri dukhtar ho Kufe mein khule sar Fatima Zahr-e-Shimr do, halq-e-Haider ke ho gaye Phir gaya Shabbir ka gardan pe khanjar Fatima (Bashukriya shair o salamkhwan Syed Haider Zaidi Saeed) Professor Mirza Qamar Abbas Wafa Kanpuri Lafz-e-Shabbir ka haq hai hayat bad-e-mamat Magar wo log jo Sibt-e-Nabi ke zakir hain
سلام حسین ابنِ علیؑ کا غم دلِ مضطر میں رہتا ہے رباعی / مولانا محمد مصطفیٰ جوہر حسین ابنِ علیؑ کا غم دلِ مضطر میں رہتا ہے بہر عنوان جیسے گھر کا مالک گھر میں رہتا ہے غمِ شبیرؑ اور حبِ علیؑ ہے زندگی اپنی یہ چہرہ دل میں رہتا ہے، یہ سودا سر میں رہتا ہے سفینہ کا پوچھنے والے طہارت دیدۂ تر کی یہ آنسو سیدہؑ کے گوشۂ چادر میں رہتا ہے کسی صورت علیؑ کے در پہ رہنے کی جگہ ملتی خردمضر ساگر اسی چکر میں رہتا ہے لگا ہی نہیں بغضِ علیؑ دشمن کے سینے سے یہ مرض دور ہے جو اسی خنجر میں رہتا ہے آزاری سے نہ پوچھو کہ آوازِ بھلا کہاں یہ پوچھو بھائی کا ہے تو کیوں لشکر میں رہتا ہے کبھی پہلو میں ڈھونڈتا اور روائی ہیں ربابؑ اٹھ کر یہ عام رات بھر یادِ علی اصغرؑ میں رہتا ہے بیانِ معرفت میں صدق سے ملتا نہیں جوہر دماغ اس کا خیالِ لعنت شمر میں رہتا ہے آیۂ تطہیر کے مقصد کا محور فاطمہؑ مولانا محمد مصطفیٰ جوہر آیۂ تطہیر کے مقصد کا محور فاطمہؑ یعنی شرحِ عظمتِ نورِ منور فاطمہؑ اور ہے چہروں جہاں ان سے روشن رسولؐ منبعِ کوثر ہیں علیؑ اور ایک کوثر فاطمہؑ منقبت دینِ خدا کی نافذ حیات ہوئی حشر و محشر و شبیرؑ جیسے دیں کا لشکر فاطمہؑ نام ہے تسبیحِ زہرا، کام تسبیحِ خدا ذکر تیرا ذکرِ حق اللہ اکبر فاطمہؑ تیری خدمت میں ہوا نفع کو قرآن ہر زبان اے لسانِ اللہ اے ایمان پرور فاطمہؑ آیۂ تطہیر لکھنے کے لئے تقدیر نے تیری سیرت کو بنایا اس کا منظر فاطمہؑ تو کرے اپنے جنازے کیلئے شب کو پسند اور تیری دختر ہو کوفے میں کھلے سر فاطمہؑ زہرِ شمر دو، حلقِ حیدرؑ کے ہوگئے پھر گیا شبیرؑ کا گردن پہ خنجر فاطمہؑ (بشکریہ شاعر و سلام خواں سید حیدر زیدی سعید) پروفیسر مرزا قمر عباس وفا کانپوری لفظِ شبیرؑ کا حق ہے حیات بعدِ ممات مگر وہ لوگ جو سبطِ نبیؐ کے ذاکر ہیں

110

Salam Salami jaan guzra hai ranj-o-gham khasan-e-Dawar ka Nasim Amrohvi Salami jaan guzra hai ranj-o-gham khasan-e-Dawar ka Taalluq-e-sultani ka Zahra ka Haider ka, Payghambar ka Sada shahr hai Ashur-o-shain-e-dard-o-Haider ka Qatar-o-Shimr-o-ashqiya ka, dar-e-ruh-e-Akbar ka Ali ki tegh ke dam se hua har marka faisal Uhud ka, Badr ka, Siffin ka, Khandaq ka, Khaibar ka Ye panchon sar-e-use dil-e-Panjtan ki shan mein aaye Qamar ka, Shams ka, Rahman ka, Mirrikh ka, Kausar ka Khuda ke Shah ko rukhsat kis ka khauf paya Iblis-o-zard ka, Usman ka, Salman ka, Buzar ka Nishan-e-saf-e-azadari mein kya naam lagta hai Zubair-o-Muslim-o-Wahab-o-Habib-o-Hurr Sarwar ka Ghulam-e-Panjtan ko dar nahin un panch chizon ka Ajal ka, jaan ki ka, qabr ka, barzakh ka, mahshar ka Mila ke rone walon ko sawab ek aah ka kya kya Salat-o-saum ka, khums-o-zakat-o-Hajj-e-Akbar ka Hua hai qatl-e-Shabbir ko ek ek sadma tha Bhatijon, bhaiyon ka, bhai ka, Akbar ka, Asghar ka [Chand misra juzwi taur par ghair wazeh] Sakina le gayi ye panch dagh us bagh-e-alam se Talaiyon ka, rasan ka, bap ka, khaimon ka, ghar ka Tarap ke kehti thi Banu karun kis kis ka main matam Jawan ka, tifl ka, dildar ka, dukhtar ka, shohar ka Ye tukhm-e-Imam-e-Pak ko kis kis ka dhoka aaya Bahen ka, beti ka, bimar ka, Imam ka, mahshar ka (Bashukriya sozkhwan Syed Asghar Abbas Zaidi Farrukh Bahari, aur sozkhwan Aziz Zaidi o baradaran) Hai salam us pe jo kehti thi Sayyida haye Husain Raja Kanwar / Lucknow Hai salam us pe jo kehti thi Sayyida, haye Husain Zalimon ne tujhe pani na diya, haye Husain Ali Akbar ne tere samne pi basi khai Qatl-e-Asghar tere hathon pe hua, haye Husain Dekh dekh ke jise Fatima ne pala tha Us pe bachchon ne zulm kiya, haye Husain Na raha koi janaze ko uthane wala Kabhi Zainab pe raha, haye Husain Ghore dauraye lainon ne tere lashe par Jaise tu jaise Payghambar hi na tha, haye Husain Khajal gaye jaise chitthi chadrein saman luta Baad tere hui hum par ye jafa, haye Husain Jis jagah khaima-e-Zainab tha wahan se ab tak Raat ko aati hai kanon mein sada, haye Husain (Bashukriya sozkhwan Muhammad Wali, Syed Sajid Husain Zaidi)
سلام سلامی جاں گزرا ہے رنج و غم خاصانِ داور کا نسیم امروہوی سلامی جاں گزرا ہے رنج و غم خاصانِ داور کا تعلقِ سلطانی کا زہرا کا حیدرؑ کا، پیغمبرؐ کا صدا شہر ہے عاشور و شینِ درد و حیدرؑ کا قطار و شمر و اشقیا کا، درِ روحِ اکبرؑ کا علیؑ کی تیغ کے دم سے ہوا ہر معرکہ فیصل احد کا، بدر کا، صفین کا، خندق کا، خیبر کا یہ پانچوں سرِ اسے دلِ پنجتن کی شان میں آئے قمر کا، شمس کا، رحمان کا، مریخ کا، کوثر کا خدا کے شاہؑ کو رخصت کس کا خوف پایا ابلیس و زرد کا، عثمان کا، سلمان کا، بوذر کا نشانِ صفِ عزاداری میں کیا نام لگتا ہے زبیرؑ و مسلمؑ و وہبؑ و حبیبؑ و حرؑ سرورؑ کا غلامِ پنجتن کو ڈر نہیں ان پانچ چیزوں کا اجل کا، جاں کی کا، قبر کا، برزخ کا، محشر کا ملا کے رونے والوں کو ثواب اک آہ کا کیا کیا صلوٰۃ و صوم کا، خمس و زکوٰۃ و حجِ اکبرؑ کا ہوا ہے قتلِ شبیرؑ کو اک اک صدمہ تھا بھتیجوں، بھائیوں کا، بھائی کا، اکبرؑ کا، اصغرؑ کا [چند مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سکینہؑ لے گئی یہ پانچ داغ اس باغِ عالم سے طلائیوں کا، رسن کا، باپ کا، خیموں کا، گھر کا ترپ کے کہتی تھی بانو کروں کس کس کا میں ماتم جواں کا، طفل کا، دلدار کا، دختر کا، شوہر کا یہ تخمِ امام پاک کو کس کس کا دھوکا آیا بہن کا، بیٹی کا، بیمار کا، امام کا، محشر کا (بشکریہ سوزخواں سید اصغر عباس زیدی فرخ بہاری، اور سوزخواں عزیز زیدی و برادران) ہے سلام اس پہ جو کہتی تھی سیدہ ہائے حسینؑ راجہ کنور / لکھنؤ ہے سلام اس پہ جو کہتی تھی سیدہ، ہائے حسینؑ ظالموں نے تجھے پانی نہ دیا، ہائے حسینؑ علی اکبرؑ نے ترے سامنے پی بسی کھائی قتلِ اصغرؑ ترے ہاتھوں پہ ہوا، ہائے حسینؑ دیکھ دیکھ کے جسے فاطمہؑ نے بالا تھا اس پہ بچوں نے ظلم کیا، ہائے حسینؑ نہ رہا کوئی جنازے کو اٹھانے والا کبھی زینبؑ پہ رہا، ہائے حسینؑ گھوڑے دوڑائے لئینوں نے ترے لاشے پر جیسے تو جیسے پیغمبرؐ ہی نہ تھا، ہائے حسینؑ خجل گئے جیسے چٹھی چادریں سامان لٹا بعد تیرے ہوئی ہم پر یہ جفا، ہائے حسینؑ جس جگہ خیمۂ زینبؑ تھا وہاں سے اب تک رات کو آتی ہے کانوں میں صدا، ہائے حسینؑ (بشکریہ سوزخواں محمد ولی، سید ساجد حسین زیدی)

111

Salam Gardan jhuki zamin pe jis dam Imam ki Allama Abdul Karim Warak Gardan jhuki zamin pe jis dam Imam ki Gahman hui Nabi alaihissalam ki Dauraye ghore laut pari fauj-e-Sham ki Pyasa para hai Saqi-e-Kausar ke jaam ki Yaan Ahl-e-Bait rote rahe khun ki nadiyan Waan nok-e-neza bijli rahi fauj-e-Sham ki Haq par na ki Husain ne baiat Yazid ki Aadat thi us lain ko rishwat mudam ki Kehti Ali betiyan, Sadat ki gayin Izzat thi jis ki zat se Bait-ul-Haram ki Kaaba laga Rasul alaihissalam ka Oji bahar rauza Dar-us-Salam ki Us sar-e-zamin pe duron ko ghoron ki chale Sharbat hai jis zamin pe Khair-ul-Anam ki (Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Syed Habib Razi ibn Syed Qaisar Jafari marhum) Waris Syed-ul-Anam Husain Yaad-e-Zain Shah Taji Waris Syed-ul-Anam Husain Tum pe Allah ka salam Husain Sab jawanan-e-khuld ke sardar Hain Imam-e-Hasan, Imam Husain Kausar-o-Salsabil ke mukhtar Tishna-lab aur tishna-kam Husain Jis ko paigham aakhri kahiye Hain wo Allah ka payam Husain Rakib-e-dosh-e-Sahib-e-Meraj Allah Allah tera maqam Husain Qudrat-e-intiqam thi phir bhi Na liya tu ne intiqam Husain Ruh ki tazgi hai teri yaad Dil ki taskin tera naam Husain Tera banda Zain Taji hai Tajwar hain tere ghulam Husain
سلام گردن جھکی زمین پہ جس دم امام کی علامہ عبد الکریم ورک گردن جھکی زمین پہ جس دم امام کی گہماں ہوئی نبیؐ علیہ السلام کی دورائے گھوڑے لوٹ پڑی فوجِ شام کی پیاسا پڑا ہے ساقیِ کوثرؑ کے جام کی یاں اہل بیتؑ روتے رہے خون کی ندیاں واں نوکِ نیزہ بجلی رہی فوجِ شام کی حق پر نہ کی حسینؑ نے بیعت یزید کی عادت تھی اس لعین کو رشوت مدام کی کہتی علیؑ بیٹیاں، سادات کی گئیں عزت تھی جس کی ذات سے بیت الحرام کی کعبہ لگا رسولؐ علیہ السلام کا اوجی بہار روضہ دارالسلام کی اس سرِ زمیں پہ دروں کو گھوڑوں کی چلے شربت ہے جس زمیں پہ خیر الانامؐ کی (التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصال ثواب سید حبیب رضی ابن سید قیصر جعفری مرحوم) وارث سید الانام حسینؑ یادِ زین شاہ تاجی وارث سید الانام حسینؑ تم پہ اللہ کا سلام حسینؑ سب جوانانِ خلد کے سردار ہیں امامِ حسنؑ، امام حسینؑ کوثر و سلسبیل کے مختار تشنہ لب اور تشنہ کام حسینؑ جس کو پیغام آخری کہیے ہیں وہ اللہ کا پیام حسینؑ راکبِ دوشِ صاحبِ معراج اللہ اللہ ترا مقام حسینؑ قدرت انتقام تھی پھر بھی نہ لیا تو نے انتقام حسینؑ روح کی تازگی ہے تیری یاد دل کی تسکین تیرا نام حسینؑ تیرا بندہ زین تاجی ہے تاجور ہیں ترے غلام حسینؑ

112

Salam Dil mein jis Muslim ke hubb-e-Saqi-e-Kausar nahin Nasim Amrohvi Dil mein jis Muslim ke hubb-e-Saqi-e-Kausar nahin Phul hai khushbu nahin, Kaaba hai gauhar nahin Maan lun kyun kar Nabi ko aur auladon ki nasl Gham hai sina nahin, phal shajar hai samar nahin Chhor kar Itrat ko mangi mein agar Quran to kya Bahr hai kashti nahin, girdab hai langar nahin Tab-e-nazara ho kya Anwar se dar jaye na kyun Ilm se kamil nahin hoti hai wo Haider nahin Be-kas-o-tanha khare hain dasht mein Sibt-e-Rasul Jane kaise hain, Sarwar hai lashkar nahin Dukhtaran-e-Fatima kyun kar chhupayen apne sar Sharm hai sina nahin, bazar hai chadar nahin Bazm mein Meraj Haider kahin hai ay Nasim Tur hai jalwa nahin, din hai shab-e-khawar nahin (Bashukriya qari Hadis-e-Kisa o salam o nauhakhwan Zulimran) Is se barh kar aur kya hoga hijab-e-Fatima Nasim Amrohvi Is se barh kar aur kya hoga hijab-e-Fatima Ayah-e-Tathir hai awwalin niqab-e-Fatima Khas khas Shabbir hain sabhi, bahnein pak Fatima Malik-e-Kausar Ali, Kausar khitab-e-Fatima Zahra ke arsh par Hasan ke Zahra ki khata Hal Ata bhi maujud aaya hai bab-e-Fatima Sabr, khamoshi, tahammul, zabt aur shukr-e-Khuda In khasail mein hain bas Zainab jawab-e-Fatima Taza taza bhi laraz jata hai jab karta hai yaad Hazrat Zainab ki chheri aur shabab-e-Fatima Khun kya jari hai karam isyan ka kya use Mere liye ye hain mahshar mein Janab-e-Fatima (Bashukriya shair o sozkhwan Sibt Hasan Zaidi Soz Nauha) Kya musibat ho bayan be-sar-o-samanon ki Ustad Sadiq Ali Khan Sadiq Kya musibat ho bayan be-sar-o-samanon ki Hum-nashin jin se rahi khak-e-bayabanon ki Dekhi jagein unhein Abbas ne Zainab se kaha Haye kasali hui surat mein nadanon ki Puchhti rehti thin din raat Sakina sab se Hichkiyan baithti hain kyun dar pe mehmanon ki Sadiq ansu to ye hai ke Nabi ka beta Zabh ho jaye hukumat mein Musalmanon ki (Bashukriya nauhakhwan Zulfiqar Jafari o Ansar Jafari baradaran)
سلام دل میں جس مسلم کے حبِ ساقی کوثر نہیں نسیم امروہوی دل میں جس مسلم کے حبِ ساقی کوثر نہیں پھول ہے خوشبو نہیں، کعبہ ہے گوہر نہیں مان لوں کیوں کر بنیؐ کو اور اولادوں کی نسل غم ہے سینہ نہیں، پھل شجر ہے ثمر نہیں چھوڑ کر عترت کو مانگی میں اگر قرآن تو کیا بحر ہے کشتی نہیں، گرداب ہے لنگر نہیں تابِ نظارہ ہو کیا اُنور سے ڈر جائے نہ کیوں علم سے کامل نہیں ہوتی ہے وہ حیدرؑ نہیں بے کس و تنہا کھڑے ہیں دشت میں سبطِ رسولؐ جانے کیسے ہیں، سرور ہے لشکر نہیں دخترانِ فاطمہؑ کیوں کر چھپائیں اپنے سر شرم ہے سینہ نہیں، بازار ہے چادر نہیں بزم میں معراج حیدرؑ کہیں ہے اے نسیم طور ہے جلوہ نہیں، دن ہے شبِ خاور نہیں (بشکریہ قاری حدیث کساء و سلام و نوحہ خواں ذوالعمران) اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا حجابِ فاطمہؑ نسیم امروہوی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا حجابِ فاطمہؑ آیۂ تطہیر ہے اولین نقابِ فاطمہؑ خاص خاص شبیرؑ ہیں سبھی، بہنیں پاک فاطمہؑ مالکِ کوثر علیؑ، کوثر خطابِ فاطمہؑ زہرا کے عرش پر حسنؑ کے زہرا کی خطا ہل اتیٰ بھی موجود آیا ہے بابِ فاطمہؑ صبر، خاموشی، تحمل، ضبط اور شکرِ خدا ان خصائل میں ہیں بس زینبؑ جوابِ فاطمہؑ تازہ تازہ بھی لرز جاتا ہے جب کرتا ہے یاد حضرت زینبؑ کی چھیڑی اور شبابِ فاطمہؑ خون کیا جاری ہے کرم عصیاں کا کیا اسے میرے لئے یہ ہیں محشر میں جنابِ فاطمہؑ (بشکریہ شاعر و سوزخواں سبط حسن زیدی سوز نوحہ) کیا مصیبت ہو بیاں بے سرو سامانوں کی استاد صادق علی خان صادق کیا مصیبت ہو بیاں بے سرو سامانوں کی ہم نشیں جن سے رہی خاک بیابانوں کی دیکھی جاگیں انہیں عباسؑ نے زینبؑ سے کہا ہائے کسالی ہوئی صورت میں نادانوں کی پوچھتی رہتی تھیں دن رات سکینہؑ سب سے ہچکیاں بیٹھتی ہیں کیوں در پہ مہمانوں کی صادقؔ آنسو تو یہ ہے کہ بنیؐ کا بیٹا ذبح ہو جائے حکومت میں مسلمانوں کی (بشکریہ نوحہ خواں ذوالفقار جعفری و انصر جعفری برادران)

113

Salam Husain yun hue ay mujarmi watan se juda Mir Anees Husain yun hue ay mujarmi watan se juda Ke jaise bulbul-e-nashad ho chaman se juda Sipah-e-Sham se nikla jo tu bola malak Wo aftab-e-darakhshan hua watan se juda Watan mein bhar ke ghar se na jite ji ay Ajab ghari thi ke Akbar hue bahen se juda Laga kar Asghar se tir jab Shah ne Gale se bachche laga khun-e-dahan se juda Sakina mar gayi qaid-e-sitam mein ghut ghut kar Magar na jaan-e-giran hui rasan se juda Hifz-e-namus-e-ilahi, kar-e-shamshir-e-Husain Professor Nasrin Naqvi Hifz-e-namus-e-ilahi, kar-e-shamshir-e-Husain Satwat-e-din-e-Muhammad, husn-e-tadbir-e-Husain Is se barh kar aur kya hogi fazilat ki dalil Khud Rasulullah kehte hain zanu Husain Gar ki gardish taaton ka sar na uthne payega Hashr tak hai paye batil aur zanjir-e-Husain Mard-o-zan ke apne pishte kyun hue Bas yahi dushman ki nazron mein hai taqsir-e-Husain Kis zaban se ho bayan ye izz-o-shan-e-Ahl-e-Bait Maulana Hasan Raza Khan Bahari Kis zaban se ho bayan ye izz-o-shan-e-Ahl-e-Bait Madh kar ke Mustafa se madhkhwan Ahl-e-Bait Mustafa izzat barhane ke liye tazim dein Hai buland iqbal tera dudman Ahl-e-Bait Un ke ghar mein be-ijazat Jibrail aate nahin Qadr wale jante hain qadr-o-shan Ahl-e-Bait Ay shabab-e-fasl-e-gul pe chal gayi kaisi hawa Kis qamar hai lehrata bustan Ahl-e-Bait Kis ne hai hukumat haye kya andher hai Lut raha hai din-o-rah-e-karwan Ahl-e-Bait Fatima ke ladle ka aakhri didar hai Hashr ka hangama barpa hai miyan Ahl-e-Bait Bagh-e-jannat chhor kar aaye hain Mahbub-e-Khuda Ay zab!e qismat tumhari gulistan Ahl-e-Bait Ghar lutana jaan dena koi tum se sikh jaye Jaan-o-man tum par fida ay khandan Ahl-e-Bait (Bashukriya Maulana Qari Hasan Mahmud)
سلام حسینؑ یوں ہوئے اے مجرمی وطن سے جدا میر انیس حسینؑ یوں ہوئے اے مجرمی وطن سے جدا کہ جیسے بلبلِ ناشاد ہو چمن سے جدا سپاہِ شام سے نکلا جو تو بولا ملک وہ آفتاب درخشاں ہوا وطن سے جدا وطن میں بھر کے گھر سے نہ جیتے جی اے عجب گھڑی تھی کہ اکبرؑ ہوئے بہن سے جدا لگا کر اصغرؑ سے تیر جب شہؑ نے گلے سے بچے لگا خونِ دہن سے جدا سکینہؑ مر گئی قیدِ ستم میں گھٹ گھٹ کر مگر نہ جانِ گراں ہوئی رسن سے جدا حفظ ناموسِ الٰہی، کارِ شمشیر حسینؑ پروفیسر نسرین نقوی حفظ ناموسِ الٰہی، کارِ شمشیر حسینؑ سطوتِ دین محمدؐ، حسنِ تدبیر حسینؑ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی فضیلت کی دلیل خود رسول اللہؐ کہتے ہیں زنو حسینؑ گر کی گردش طاعتوں کا سر نہ اٹھنے پائے گا حشر تک ہے پائے باطل اور زنجیر حسینؑ مرد و زن کے اپنے پیشتے کیوں ہوئے بس یہی دشمن کی نظروں میں ہے تقصیر حسینؑ کس زباں سے ہو بیاں یہ عزوشانِ اہل بیتؑ مولانا حسن رضا خان بہاری کس زباں سے ہو بیاں یہ عزوشانِ اہل بیتؑ مدح کر کے مصطفیٰؐ سے مدح خواں اہل بیتؑ مصطفیٰؐ عزت بڑھانے کیلئے تعظیم دیں ہے بلند اقبال تیرا دودمان اہل بیتؑ ان کے گھر میں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں قدر والے جانتے ہیں قدر و شان اہل بیتؑ اے شبابِ فصل گل پہ چل گئی کیسی ہوا کس قمر ہے لہراتا بوستان اہل بیتؑ کس نے ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے لٹ رہا ہے دین و راہِ کاروان اہل بیتؑ فاطمہؑ کے لاڈلے کا آخری دیدار ہے حشر کا ہنگامہ برپا ہے میان اہل بیتؑ باغِ جنت چھوڑ کر آئے ہیں محبوبِ خدا اے زب!ے قسمت تمہاری گلستان اہل بیتؑ گھر لٹانا جان دینا کوئی تم سے سیکھ جائے جان و ماں تم پر فدا اے خاندان اہل بیتؑ (بشکریہ مولانا قاری حسن محمود)

114

Salam Ye Zainab deta tha kehna Husain hi ke liye Jamil Lakhnavi Ye Zainab deta tha kehna Husain hi ke liye Karam ki bhik na mangunga zindagi ke liye Husain khana-e-Zahra mein aap kya aaye Chiragh mil gaya Kaabe ko roshni ke liye Khuda ne dubte suraj ko kar diya wapas Nizam-e-dahr bana parda-e-Ali ke liye Husain karte hain sairab khud ke lashkar ko Kaleja chahe dushman ki dosti ke liye Gham-e-Husain mein ankhon ke bah gaye darya Zamana itna na roya kabhi kisi ke liye Jawan bete ki mayyat utha rahe hain Husain Ye Khuda hai waqt diya kabhi kisi ke liye Main sath le ke tajalli-e-Tur mein jaunga Gham-e-Husain nahin sirf jite ji ke liye (Bashukriya sozkhwan Jawad Husain Zaidi o Turab Jafari) Doctor Professor Farhat Manzar Jafari Matam unhi ka hai yahi alam panah hain Takhliq-e-kainat ke wahid gawah hain Ek daur-e-Islami duniya ka Husain mein aisa aata hai Sibt Akbarabadi Ek daur Islami duniya ka muridon mein aisa aata hai Jab koi pir-e-ishq hai koi shahadat pata hai Jab nauhe ke liye walon ka dard koi sunata hai Sine mein ruh larazti hai jaise se ji ghabrata hai Use muqarrarat use gharrat unhon ko apni qismat par Koi tusa hi aaj ka hal se pyasa jata hai Ay tir Khuda is duniya par karti nahin kyun bijli teri Ghar se Zulqarnain pura Kaaba jangal mein luta jata hai Insan tere pattharon mein kyun darindon insanon ka Gham deta hai mazlumon ko masumon ko tarta hai Sajjad asir hue us kis ne ye kaha Ye pyason se masum lain hain zanjir ke pehnta hai Kitab nazar aati hai mujhe har chiz kahan aur azurda Nazar tak aisi hojati hai jab Yawar aata hai (Bashukriya sozkhwan Doctor Alhaj Saeed-ul-Hasan o Shahab Haider)
سلام یہ زینبؑ دیتا تھا کہنا حسینؑ ہی کیلئے جمیل لکھنوی یہ زینبؑ دیتا تھا کہنا حسینؑ ہی کیلئے کرم کی بھیک نہ مانگوں گا زندگی کیلئے حسینؑ خانۂ زہرا میں آپ کیا آئے چراغ مل گیا کعبے کو روشنی کیلئے خدا نے ڈوبتے سورج کو کر دیا واپس نظامِ دہر بنا پردۂ علیؑ کیلئے حسینؑ کرتے ہیں سیراب خود کے لشکر کو کلیجہ چاہے دشمن کی دوستی کیلئے غمِ حسینؑ میں آنکھوں کے بہ گئے دریا زمانہ اتنا نہ رویا کبھی کسی کیلئے جوان بیٹے کی میت اٹھا رہے ہیں حسینؑ یہ خدا ہے وقت دیا کبھی کسی کیلئے میں ساتھ لے کے تجلیِ طور میں جاؤں گا غمِ حسینؑ نہیں صرف جیتے جی کیلئے (بشکریہ سوزخواں جواد حسین زیدی و تراب جعفری) ڈاکٹر پروفیسر فرحت منظر جعفری ماتم انہی کا ہے یہی عالم پناہ ہیں تخلیقِ کائنات کے واحد گواہ ہیں اک دورِ اسلامی دنیا کا حسینؑ میں ایسا آتا ہے سبط اکبر آبادی اک دور اسلامی دنیا کا مریدوں میں ایسا آتا ہے جب کوئی پیرِ عشق ہے کوئی شہادت پاتا ہے جب نوحے کیلئے والوں کا درد کوئی سناتا ہے سینے میں روح لرزتی ہے جیسے سے جی گھبراتا ہے اسے مقررات اسے غررات اُنہوں کو اپنی قسمت پر کوئی توسا ہی آج کا حال سے پیاسا جاتا ہے اے تیر خدا اس دنیا پر کرتی نہیں کیوں بجلی تیری گھر سے ذوالقرنین پورا کعبہ جنگل میں لوٹا جاتا ہے انسان ترے پتھروں میں کیوں درندوں انسانوں کا غم دیتا ہے مظلوموں کو معصوموں کو ترتا ہے سجادؑ اسیر ہوئے اُس کس نے یہ کہا یہ پیاسوں سے معصوم لعین ہیں زنجیر کے پہنتا ہے کتاب نظر آتی ہے مجھے ہر چیز کہاں اور آزردہ نظر تک ایسی ہوجاتی ہے جب یاورؑ آتا ہے (بشکریہ سوزخواں ڈاکٹر الحاج سعید الحسن و شہاب حیدر)

115

Salam Jab koi tir-e-sitam sine pe khate hain Husain Pir-e-Tariqat Sufi Jamil Shah Warsi Jab koi tir-e-sitam sine pe khate hain Husain Dekh kar hum bhi to muskurate hain Husain Muntazir ho raha hai khwan-e-ilm ka Husain Hazrat Abid ko sine se lagate hain Husain Sabr ki talqin farmate hain Ahl-e-Bait ko Nauha Hazrat Ali Asghar jo late hain Husain Hai wahi rahmat mizaji apne nana ki tarah Zulm karte hain lain aur bhul jate hain Husain Tir se utha to aai ye nida roz-e-nushur Chal mujhe sar-e-mahshar bulate hain Husain Taziyat ki jaye is mauqa pe ya dein tahniyat Hazrat Qasim ko ab dulha banate hain Husain Ho karam ya Shah-e-Mardan andar ya Fatir Hazrat Abbas ke lashe pe jate hain Husain Pardes Zainab jao bachcho Shah ki nusrat karo Lautne Akbar ko kandhe par uthate hain Husain Ya ilahi rahm kar na kuchh na phans jayen bibiyan Aakhri rukhsat ko ab khaime mein aate hain Husain Tere bachchon ka khula duniya Zainab Khatam-ur-Rusul Maulana Zafar Ali Khan Zahra Tere bachchon ka khula duniya Zainab Khatam-ur-Rusul Aur sawari Shah-e-Khatm-e-Mursalan, Fatima [Jari safha 117] Hai yahi waqt un ka daman tham le Allama Rashid Turabi Hai yahi waqt un ka daman tham le Girne wale ab Ali ka naam le Manzilon ke sar pe hai tegh-e-Ali Apna badla subh le ya sham le Hai Abuzar se wafa to apne sar Haq-parasti ka bhi ek ilzam le Be-murawwat aadmi majbur hai Jis tarah jo maani-e-Islam le Dafn-e-Asghar ho gaye, Shah ne kaha Mere bachche ab yahan aram le Asr-e-Ashur aai awaz-e-Rasul Fatima bazu se Zainab tham le Qaid khana mein koi bachchi hai dafn Ek amanat aur mulk-e-Sham le Ay Turabi muft hai ab-e-hayat Maut ke hathon se koi jaam le
سلام جب کوئی تیرِ ستم سینے پہ کھاتے ہیں حسینؑ پیرِ طریقت صوفی جمیل شاہ وارثی جب کوئی تیرِ ستم سینے پہ کھاتے ہیں حسینؑ دیکھ کر ہم بھی تو مسکراتے ہیں حسینؑ منتظر ہو رہا ہے خوانِ علم کا حسینؑ حضرت عابدؑ کو سینے سے لگاتے ہیں حسینؑ صبر کی تلقین فرماتے ہیں اہل بیتؑ کو نوحہ حضرت علی اصغرؑ جو لاتے ہیں حسینؑ ہے وہی رحمت مزاجی اپنے نانا کی طرح ظلم کرتے ہیں لعین اور بھول جاتے ہیں حسینؑ تیر سے اٹھا تو آئی یہ ندا روزِ نشور چل مجھے سرِ محشر بلاتے ہیں حسینؑ تعزیت کی جائے اس موقع پہ یا دیں تہنیت حضرت قاسمؑ کو اب دولہا بناتے ہیں حسینؑ ہو کرم یا شاہِ مرداں اندر یا فاطر حضرت عباسؑ کے لاشے پہ جاتے ہیں حسینؑ پردیس زینبؑ جاؤ بچو شاہ کی نصرت کرو لوٹنے اکبرؑ کو کاندھے پر اٹھاتے ہیں حسینؑ یا الٰہی رحم کر نہ کچھ نہ پھنس جائیں بیبیاں آخری رخصت کو اب خیمے میں آتے ہیں حسینؑ تیرے بچوں کا کھلا دنیا زینبؑ ختم الرسلؐ مولانا ظفر علی خان زہرہ تیرے بچوں کا کھلا دنیا زینبؑ ختم الرسلؐ اور سواری شاہِ ختمِ مرسلان، فاطمہؑ [جاری صفحہ 117] ہے یہی وقت ان کا دامن تھام لے علامہ رشید ترابی ہے یہی وقت ان کا دامن تھام لے گرنے والے اب علیؑ کا نام لے منزلوں کے سر پہ ہے تیغِ علیؑ اپنا بدلہ صبح لے یا شام لے ہے ابوذر سے وفا تو اپنے سر حق پرستی کا بھی اک الزام لے بے مروت آدمی مجبور ہے جس طرح جو معنیِ اسلام لے دفنِ اصغرؑ ہو گئے، شہؑ نے کہا میرے بچے اب یہاں آرام لے عصرِ عاشور آئی آوازِ رسولؐ فاطمہؑ بازو سے زینبؑ تھام لے قید خانہ میں کوئی بچی ہے دفن اک امانت اور ملکِ شام لے اے ترابیؔ مفت ہے آبِ حیات موت کے ہاتھوں سے کوئی جام لے

116

Salam Wahi to fath-o-zafar ke nishan uthate hain Haji Haq Rizvi Wahi to fath-o-zafar ke nishan uthate hain Jihad-e-Haq mein jo azad jaan uthate hain Nishan-e-rah-e-roshan hain chhup nahin sakte Ghubar agarche bahut karwan uthate hain Yahi shanakht hai ain-e-Karbala ki shahid Azab-e-jaan pe apni jaan uthate hain Kahan mein gunjta hai nara-e-Husain Husain Ab us sada ko Kausar la-makan uthate hain Hain Karbala ki zamin hi se asman roshan Isi ki khak se kahkashan uthate hain Imam-o-muqtadi ek sajda-e-dirina mein Zamin pe rakh ke jabin asman uthate hain Mare hain kaun amiron ke Shah ke, mane Kabhi qadam to kabhi beriyan uthate hain (Bashukriya shair Abbas Jafari / Japani, Champion Focus) Alhaj Syed Syed Amir Zaidi (Lahore) Be-shak azim martaba Shah-e-Anam hai Tarif kya karun ke wo ali maqam hai Kaise nasib hogi ghulami wahan Saeed Abbas ka azim jahan par ghulam hai (Makhuz az: Roshan Shabein ke guldasta Surah Amj tak) Haq ki manzil Karbala hai Haq ka jada Karbala Haji Haq Rizvi Haq ki manzil Karbala hai Haq ka jada Karbala Yun to hai ek nuqta-e-sahra panah-e-Karbala Ek tasalsul hai Haq-o-batil ka nashr-o-munir Hai Husain-o-Badr-o-Khaibar ka iada Karbala Jo chahe to ek Shabbir dekhte to ek dasht Kitni rangin Karbala hai kitni sada Karbala Sare jazbe mil ke us ek hi wahdat mein hain Apni manzil rasta maqsad irada Karbala Aaj bhi insaniyat ki haq-numai ke liye Gam gam Ibn-e-Ali hain, jada jada Karbala Marke aise Haq-o-batil ke sare sar ke Kitni la-mahdud hai, kitni kushada Karbala Zindagi mein kash qayim wo qiyam ek din Shar ke amali jamein Madina ya piyada Karbala (Bashukriya shair o martabakhwan Syed Javed Hasan) Saba Akbarabadi Yahan se hoti hai tabligh-e-din-o-iman ki Idara-e-din ka hai majlis-e-aza kahan hai (Digar sher juzwi taur par ghair wazeh)
سلام وہی تو فتح و ظفر کے نشان اٹھاتے ہیں حاجی حق رضوی وہی تو فتح و ظفر کے نشان اٹھاتے ہیں جہادِ حق میں جو آزاد جان اٹھاتے ہیں نشانِ راہِ روشن ہیں چھپ نہیں سکتے غبار اگرچہ بہت کارواں اٹھاتے ہیں یہی شناخت ہے آئینِ کربلا کی شہید عذابِ جان پہ اپنی جان اٹھاتے ہیں کہاں میں گونجتا ہے نعرۂ حسین حسینؑ اب اس صدا کو کوثر لامکاں اٹھاتے ہیں ہیں کربلا کی زمیں ہی سے آسماں روشن اسی کی خاک سے کہکشاں اٹھاتے ہیں امام و مقتدی ایک سجدۂ دیرینہ میں زمیں پہ رکھ کے جبیں آسماں اٹھاتے ہیں مرے ہیں کون امیروں کے شاہ کے، مانے کبھی قدم تو کبھی بیڑیاں اٹھاتے ہیں (بشکریہ شاعر عباس جعفری / جاپانی، چیمپئن فوکس) الحاج سید سید عامر زیدی (لاہور) بے شک عظیم مرتبہ شاہِ انام ہے تعریف کیا کروں کہ وہ عالی مقام ہے کیسے نصیب ہوگی غلامی وہاں سعید عباسؑ کا عظیم جہاں پر غلام ہے (ماخوذ از: روشن شبیں کے گلدستہ سورہ امج تک) حق کی منزل کربلا ہے حق کا جادہ کربلا حاجی حق رضوی حق کی منزل کربلا ہے حق کا جادہ کربلا یوں تو ہے اک نقطۂ صحرا پناہِ کربلا اک تسلسل ہے حق و باطل کا نشر و منیر ہے حسینؑ و بدر و خیبر کا اعادہ کربلا جو چہے تو ایک شبیرؑ دیکھتے تو ایک دشت کتنی رنگیں کربلا ہے کتنی سادہ کربلا سارے جذبے مل کے اس ایک ہی وحدت میں ہیں اپنی منزل راستہ مقصد ارادہ کربلا آج بھی انسانیت کی حق نمائی کیلئے گام گام ابنِ علیؑ ہیں، جادہ جادہ کربلا معرکے ایسے حق و باطل کے سارے سر کے کتنی لامحدود ہے، کتنی کشادہ کربلا زندگی میں کاش قائم وہ قیام ایک دن شر کے عملی جامیں مدینہ یا پیادہ کربلا (بشکریہ شاعر و مرتبہ خواں سید جاوید حسن) صبا اکبر آبادی یہاں سے ہوتی ہے تبلیغِ دین و ایمان کی ادارۂ دین کا ہے مجلسِ عزا کہاں ہے (دیگر شعر جزوی طور پر غیر واضح)

117

Salam Bais-e-rashk na kyun ho sar-e-kham ka muqaddar nikle Doctor Professor Qamar Naqvi Bais-e-rashk na kyun khun ka muqaddar nikle Jo gira hue bhi qismat ka Sikandar nikle Raat kya khatm hui khun to qismat chamki Subh-e-azadi-e-insan ka ye manzar nikle Jis ne dekha kiya masum pe Quran ka guman Jab Shahzir le hathon pe Asghar nikle Muskura kar sar-e-maidan Ali Asghar ne kaha Hum bhi, bhaiya Ali Akbar ke barabar nikle Pehle qurban to kiye Aun-o-Muhammad lekin Dekhne Hazrat Zainab, Ali Akbar nikle Beta hoga wo alam ke ho kham Naqvi Tum ba-fazl-e-Shah-e-Laulak sukhanwar nikle (Bashukriya shair o sozkhwan Syed Abid Husain Naqvi / Malan, Alwardi) Josh-e-shab kaun bana diye lal-o-gauhar aise hote hain Hakim Arif Akbar marhum Josh kyun bada-e-lal-o-gauhar aise hote hain Jinhi asan ke mah-o-akhtar aise hote hain Jo chayen Karbala ko dam se gulzar-e-Iram kardein Gulistan-e-Muhammad ke gul-e-tar aise hote hain Jo dekha jang mein Aun-o-Muhammad ko ajal boli Saron misl nahin bachchon ke tewar aise hote hain Ali Akbar ko ran mein dekh kar aada pukar uthe Khuda ki shan mukammal paikar aise hote hain Talab karta hai kya sail ata hota hai kya katan Ghar wale alam se dekhe banda-parwar aise hote hain (Bashukriya martabakhwan Syed Zamir Haider Naqvi, Haiderpur Khas) Salam ba-huzur Sarkar Syed-ush-Shuhada Imam Husain Syed Javed Raza (Islamabad) Asr-e-Ashur hai aur chehra-e-taban Husain Zer-e-khanjar hai ada-e-sajda chahan Husain Har muqaddar mein kahan ulfat-o-irfan-e-Husain Karbala ho chuki, taza hai gulistan Husain Chahe insan ho, fitrat saf na bhi ho Dard se rone ka saman hoga darban Husain Umar bhar samne mein baithti jo nahin, baad Imam Bazu-e-Shah se mujhe Sham-e-Ghariban Husain Waqt-e-rehlat na bhi hath ko khali rakhna Jao duniya se to hath mein daman Husain Takhti the wo behtar hi zamana mein Raza Koi taqtul kahan aap ki mehman Husain
سلام باعثِ رشک نہ کیوں ہو سرِ خم کا مقدر نکلے ڈاکٹر پروفیسر قمر نقوی باعثِ رشک نہ کیوں خوں کا مقدر نکلے جو گرا ہوئے بھی قسمت کا سکندر نکلے رات کیا ختم ہوئی خوں تو قسمت چمکی صبح آزادی انسان کا یہ منظر نکلے جس نے دیکھا کیا معصوم پہ قرآن کا گماں جب شہزیر لے ہاتھوں پہ اصغرؑ نکلے مسکرا کر سرِ میدان علی اصغرؑ نے کہا ہم بھی، بھیا علی اکبرؑ کے برابر نکلے پہلے قربان تو کئے عون و محمدؑ لیکن دیکھنے حضرت زینبؑ، علی اکبرؑ نکلے بیٹا ہوگا وہ عالم کے ہو خام نقویؔ تم بہ فضلِ شہِ لولاک سخنور نکلے (بشکریہ شاعر و سوزخواں سید عابد حسین نقوی / مالن، الوردی) جوشِ شب کون بنادئیے لعل و گوہر ایسے ہوتے ہیں حکیم عارف اکبر مرحوم جوش کیوں بادۂ لعل و گوہر ایسے ہوتے ہیں جنہی آساں کے ماہ و اختر ایسے ہوتے ہیں جو چایں کربلا کو دم سے گلزارِ ارم کردیں گلستانِ محمدؐ کے گلِ تر ایسے ہوتے ہیں جو دیکھا جنگ میں عونؑ و محمدؑ کو اجل بولی سروں مثل نہیں بچوں کے تیور ایسے ہوتے ہیں علی اکبرؑ کو رن میں دیکھ کر اعدا پکار اٹھے خدا کی شان مکمل پیکر ایسے ہوتے ہیں طلب کرتا ہے کیا سائل عطا ہوتا ہے کیا کتن گھر والے عالم سے دیکھے بندہ پرور ایسے ہوتے ہیں (بشکریہ مرتبہ خواں سید ضمیر حیدر نقوی، حیدرپور خاص) سلام بحضور سرکار سید الشہداء امام حسینؑ سید جاوید رضا (اسلام آباد) عصرِ عاشور ہے اور چہرۂ تاباں حسینؑ زیرِ خنجر ہے ادائے سجدہ چہاں حسینؑ ہر مقدر میں کہاں الفت و عرفانِ حسینؑ کربلا ہو چکی، تازہ ہے گلستان حسینؑ چاہے انسان ہو، فطرت ساف نہ بھی ہو درد سے رونے کا ساماں ہوگا دربان حسینؑ عمر بھر سامنے میں بیٹھتی جو نہیں، بعد امام بازوئے شہؑ سے مجھے شامِ غریباں حسینؑ وقتِ رحلت نہ بھی ہاتھ کو خالی رکھنا جاؤ دنیا سے تو ہاتھ میں دامان حسینؑ تختی تھے وہ بہتر ہی زمانہ میں رضا کوئی تقتل کہاں آپ کی مہمان حسینؑ

118

Salam Khayal-e-Karbala hai aur main hun Hasan Akbar Mirza Khayal-e-Karbala hai aur main hun Iram ka rasta hai aur main hun Dair-e-Shabbir hai aur meri qismat Maqam-e-iltija hai aur main hun Husain ibn-e-Ali mujh karam hain Faza ka silsila hai aur main hun Bhala ab bhi na ho us dar se nisbat Gham-e-Aal-e-Aba hai aur main hun Adawat ki saza pate hain dushman Muhabbat ki jaza hai aur main hun Mera Kaaba hai Bab-e-Ali Faqirana sada hai aur main hun Idhar bimar palne narsai Idhar aah-o-buka hai aur main hun (Bashukriya shair Advocate Mahbub Raza Rizvi o Maulana Shafiq Rizvi) Jo maratib hain Muhammad ke Khuda ke samne Jo maratib hain Muhammad ke Khuda ke samne Sab wo darpe hain Ali ke Mustafa ke samne Kisi andaz-e-ajz ki hum karte khush rahe Apna dam nikla kiya Mushkil-kusha ke samne Aate hi Haider ke din hue mulk Ab nahin kuchh bolte Sher-e-Khuda ke samne Ay taskin, tere Khuda ke samne [Chand misra juzwi taur par ghair wazeh] Ay markaz-e-pas zindabad ay mimbar ke parcham Karmin Bahari / Dar Lakhnavi Ay markaz-e-pas zindabad, ay mimbar ke parcham zindabad Har ashk paikar kehta hai Shabbir ka matam zindabad Insan ka bhala kya hai rishte mein dushman bhi kabhi Ay neze par malang zindabad, ay Shabbir ka gham zindabad Har qaum mein matam hota hai, Shabbir ka gham ab aata hai Dil khinchte hain sab ke teri taraf ay matam zindabad Banda ho Muslim ya Momin, chahe ghair hon sab Is dukh mein haqiqat zindabad, ay nara-e-matam zindabad Shabbir hua Bharat-o-Kashmir-o-Iran ki zamin mein Pakistan har mulk pe qabza tera hai Fateh-e-Azam zindabad [Aakhri ashar juzwi taur par ghair wazeh]
سلام خیالِ کربلا ہے اور میں ہوں حسن اکبر مرزا خیالِ کربلا ہے اور میں ہوں ارم کا راستہ ہے اور میں ہوں دیرِ شبیرؑ ہے اور میری قسمت مقام التجا ہے اور میں ہوں حسینؑ ابنِ علیؑ مجھ کرم ہیں فضا کا سلسلہ ہے اور میں ہوں بھلا اب بھی نہ ہو اس در سے نسبت غمِ آلِ عبا ہے اور میں ہوں عداوت کی سزا پاتے ہیں دشمن محبت کی جزا ہے اور میں ہوں مرا کعبہ ہے بابِ علیؑ فقیرانہ صدا ہے اور میں ہوں ادھر بیمار پلنے نارسائی ادھر آہ و بکا ہے اور میں ہوں (بشکریہ شاعر ایڈووکیٹ محبوب رضا رضوی و مولانا شفیق رضوی) جو مراتب ہیں محمدؐ کے خدا کے سامنے جو مراتب ہیں محمدؐ کے خدا کے سامنے سب وہ درپے ہیں علیؑ کے مصطفیٰؐ کے سامنے کسی اندازِ عجز کی ہم کرتے خوش رہے اپنا دم نکلا کیا مشکل کشا کے سامنے آتے ہی حیدرؑ کے دین ہوئے ملک اب نہیں کچھ بولتے شیرِ خدا کے سامنے اے تسکین، تیرے خدا کے سامنے [چند مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اے مرکزِ پاس زندہ باد اے منبر کے پرچم کرمیں بہاری / در لکھنوی اے مرکزِ پاس زندہ باد، اے منبر کے پرچم زندہ باد ہر اشک پیکر کہتا ہے شبیرؑ کا ماتم زندہ باد انسان کا بھلا کیا ہے رشتے میں دشمن بھی کبھی اے نیزے پر ملنگ زندہ باد، اے شبیرؑ کا غم زندہ باد ہر قوم میں ماتم ہوتا ہے، شبیرؑ کا غم اب آتا ہے دل کھینچتے ہیں سب کے تیری طرف اے ماتم زندہ باد بندہ ہو مسلم یا مومن، چاہے غیر ہوں سب اس دکھ میں حقیقت زندہ باد، اے نعرۂ ماتم زندہ باد شبیرؑ ہوا بھارت و کشمیر و ایران کی زمیں میں پاکستان ہر ملک پہ قبضہ تیرا ہے فاتح اعظم زندہ باد [آخری اشعار جزوی طور پر غیر واضح]

119

Salam Karbala ki manzilat sabit hai har unwan se Gham-e-Ahl-e-Bait Karbala ki manzilat sabit hai har unwan se Did hai turbat se Injil se Quran se Hubb-e-Ahl-e-Bait hai Haq ko har surat pasand Khud-ba-khudi ki shan se, hawa-khudi ki shan se Madh-e-Haider, Imam-e-Shabbir, imtiyazi bala Jitne wale tujh ko karta hai bare saman se Man ne phir bhi bachaya dekhi Akbar ki jang Hum ne andaza kiya pala hai kis arman se Dast-e-matam darkhudi khol ke ab buland Hum azadaron ka maruf nahin Rizwan se Karbala walon ne duniya ko diya kya sabaq Tir-e-nifaqi, jamhon mulk-o-maidan se Jo Husain maqtal mein nadiya-e-par jari di Ziyarat ke unwan se thi maut ke unwan se (Bashukriya soz o salam o nauhakhwan Syed Abrar Husain o Zulfiqar Mukhtar) Baitha hai mushkilat ke raste mein bar ke Ustad Qamar Jalalvi Baitha hai mushkilat ke raste mein bar ke O bad-nasib, dekh Ali ko pukar ke Harb ka naqsh bhi koi Khaibar mein qatl tha Pichakna tha Zulfiqar ka sidq anar ke Khaibar ke dar ne khul ke ishara kar diya Haider hi hain quwwat-e-Parwardigar ke Rubaha jang Aun-o-Muhammad pe kehte the Ye sher jane ghunt the kis chahar ke Laila ke dil ko dekh rahe hain Shah-e-Zaman Akbar ko ran mein bheja hai gesu sanwar ke Asghar jigar ko tham ke roti hai fauj-e-Sham Tum chhe mah ke aaye ho ya tir mar ke Akbar tumhara bagh-e-jawani ujar gaya Laila ne chadar din bhi na dekhe pehnar ke Man wo Sham-e-Ghariban ki ay Qamar Tare bhi so gaye falak haj mar ke
سلام کربلا کی منزلت ثابت ہے ہر عنوان سے غمِ اہلِ بیتؑ کربلا کی منزلت ثابت ہے ہر عنوان سے دید ہے تربت سے انجیل سے قرآن سے حبِ اہل بیتؑ ہے حق کو ہر صورت پسند خودبخودی کی شان سے، ہواخودی کی شان سے مدحِ حیدرؑ، امامِ شبیرؑ، امتیازی بلا جیتنے والے تجھ کو کرتا ہے بڑے سامان سے ماں نے پھر بھی بچایا دیکھی اکبرؑ کی جنگ ہم نے اندازہ کیا پالا ہے کس ارمان سے دستِ ماتم دارخودی کھول کے اب بلند ہم عزاداروں کا معروف نہیں رضوان سے کربلا والوں نے دنیا کو دیا کیا سبق تیرِ نفاقی، جمہوں ملک و میدان سے جو حسینؑ مقتل میں نادیۂ پر جاری دی زیارت کے عنوان سے تھی موت کے عنوان سے (بشکریہ سوز و سلام و نوحہ خواں سید ابرار حسین و ذوالفقار مختار) بیٹھا ہے مشکلات کے رستے میں بار کے استاد قمر جلالوی بیٹھا ہے مشکلات کے رستے میں بار کے او بد نصیب، دیکھ علیؑ کو پکار کے حرب کا نقش بھی کوئی خیبر میں قتل تھا پچکنا تھا ذوالفقار کا صدق انار کے خیبر کے در نے کھل کے اشارہ کر دیا حیدرؑ ہی ہیں قوتِ پروردگار کے روباہ جنگ عونؑ و محمدؑ پہ کہتے تھے یہ شیر جانے گھونٹ تھے کس چہار کے لیلیٰ کے دل کو دیکھ رہے ہیں شہِ زمن اکبرؑ کو رن میں بھیجا ہے گیسو سنوار کے اصغرؑ جگر کو تھام کے روتی ہے فوجِ شام تم چھ ماہ کے آئے ہو یا تیر مار کے اکبرؑ تمہارا باغِ جوانی اجڑ گیا لیلیٰ نے چادر دن بھی نہ دیکھے پہنار کے ماں وہ شامِ غریباں کی اے قمرؔ تارے بھی سو گئے فلک حج مار کے

120

[Unwan juzwi taur par ghair wazeh] Qamar Jalalvi Munazzam kijiye ga aap pahuncha safai ke liye Ay tegh, ab aur ghar dhundo khudai ke liye Chirte hain kalla-e-azdar ko hamle mein Ali Aaj pehli mashq hai Khaibar-kushai ke liye Dekha Marhab ko Haider ne to boli Zulfiqar Hath aisa chahiye tegh-azmai ke liye Kehte the Abbas, main saqqa hun fauj-e-Shah ka Khun ke darya baha dunga tarai ke liye Ay Arabon tegh-e-Qaim zan mein ghunghat to utha Sar liye lakhon khare hain runumai ke liye Chaunk uthi thi Sakina naam sun kar Shah ka Jab kabhi roti thi Zainab apne bhai ke liye Ibn-e-Muljim ne lagai jab Ali ke sar pe tegh Arsh se utre malaik bhi duhai ke liye Kardiya kyun Ibn-e-Muljim aise Maula ko shahid Tha jo ek Mushkil-kusha sari khudai ke liye Nazar pari jo Muhammad ki Aal ki surat Maulana Riyaz-ud-Din Sarwari Nazar pari jo Muhammad ki Aal ki surat To goya dekhi Badr-e-kamal ki surat Hasan Husain ki surat mein dekh le koi Rasul-e-Pak ke husn-o-jamal ki surat Farishte aate the har roz asmanon se Zamin pe dekhne Zahra ke lal ki surat Jalal us ka hai manind-e-mehr-e-alam-tab Jamal us ka hai Badr-e-kamal ki surat Wujud-e-Sarwar-e-Alam ka aks hain Husain Nazar-nawaz hai ye itisal ki surat Mile Husain jise, Mustafa mile us ko Wisal-e-Haq hai Nabi ke wisal ki surat Husain ko to har ek gam par uruj mila Magar Yazid ne dekhi zawal ki surat Riyaz ishq-e-Husaini hai mera sarmaya Bari Husain hai mere maal ki surat Silsila naam-e-Khuda, jazba-e-imani ka Professor Maulana Zafar Jauhari Silsila naam-e-Khuda, jazba-e-imani ka Sang-e-bunyad hai Khaibar ki qurbani ka Din ke waste Allah rahe, isar-e-Husain ka Kabhi shikwa na kiya gham ki farawani ka Ya Ali jis ki zaban par ho bhala us ke liye Khauf kya zulm ka, dahshat ka, pareshani ka Karbala ho ke raha wo teri azmat pe nisar Jazba jis ne liya fitrat-e-insani ka Kaleje go the kabhi dasht-e-bala mein lekin Ek qatra bhi na pyason ko mila pani ka
[عنوان جزوی طور پر غیر واضح] قمر جلالوی منظم کیجئے گا آپ پہنچا صفائی کے لئے اے تیغ، اب اور گھر ڈھونڈو خدائی کے لئے چیرتے ہیں کلۂ اژدر کو حملے میں علیؑ آج پہلی مشق ہے خیبر کشائی کے لئے دیکھا مرحب کو حیدر نے تو بولی ذوالفقار ہاتھ ایسا چاہئے تیغ آزمائی کے لئے کہتے تھے عباسؑ، میں سقہ ہوں فوجِ شاہ کا خون کے دریا بہا دوں گا ترائی کے لئے اے عربوں تیغِ قائم زن میں گھونگھٹ تو اٹھا سر لئے لاکھوں کھڑے ہیں رونمائی کے لئے چونک اٹھی تھی سکینہؑ نام سن کر شاہ کا جب کبھی روتی تھی زینبؑ اپنے بھائی کے لئے ابنِ ملجم نے لگائی جب علیؑ کے سر پہ تیغ عرش سے اترے ملائک بھی دہائی کے لئے کردیا کیوں ابنِ ملجم ایسے مولا کو شہید تھا جو اک مشکل کشا ساری خدائی کے لئے نظر پڑی جو محمدؐ کی آل کی صورت مولانا ریاض الدین سروروی نظر پڑی جو محمدؐ کی آل کی صورت تو گویا دیکھی بدرِ کمال کی صورت حسنؑ حسینؑ کی صورت میں دیکھ لے کوئی رسولِ پاک کے حسن و جمال کی صورت فرشتے آتے تھے ہر روز آسمانوں سے زمیں پہ دیکھنے زہرا کے لال کی صورت جلال اس کا ہے مانندِ مہرِ عالم تاب جمال اس کا ہے بدرِ کمال کی صورت وجودِ سرورِ عالم کا عکس ہیں حسینؑ نظر نواز ہے یہ اتصال کی صورت ملے حسینؑ جسے، مصطفیٰ ملے اس کو وصالِ حق ہے نبی کے وصال کی صورت حسینؑ کو تو ہر اک گام پر عروج ملا مگر یزید نے دیکھی زوال کی صورت ریاضؔ عشقِ حسینی ہے میرا سرمایہ بڑی حسین ہے میرے مآل کی صورت سلسلہ نامِ خدا، جذبۂ ایمانی کا پروفیسر مولانا ظفر جوہری سلسلہ نامِ خدا، جذبۂ ایمانی کا سنگِ بنیاد ہے خیبر کی قربانی کا دین کے واسطے اللہ رہے، ایثارِ حسینؑ کا کبھی شکوہ نہ کیا غم کی فراوانی کا یا علیؑ جس کی زباں پر ہو بھلا اس کے لئے خوف کیا ظلم کا، دہشت کا، پریشانی کا کربلا ہو کے رہا وہ تری عظمت پہ نثار جذبہ جس نے لیا فطرتِ انسانی کا کلیجے گو تھے کبھی دشتِ بلا میں لیکن ایک قطرہ بھی نہ پیاسوں کو ملا پانی کا

121

[Safha 121 se jari] Aah, sunta nahin Shimr ki awaz koi Kya zamane mein yahi taur hai mehmani ka Dar ba dar, khak basar, Ahl-e-Haram hain sad haif Kuchh thikana nahin is be-sar-o-samani ka Hai Zafar shan-e-Rasul o durr-e-shahan-e-Husain Haq ada hoga yahan silsila-e-qurbani ka Har ek chiz zamane ki aani jani hai Sultan Rizvi Har ek chiz zamane ki aani jani hai Magar Husain ka paigham jawedani hai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ye Karbala ki kahani ajab kahani hai Alam ke saye mein baithe to yun hua mahsus Janab-e-Nuh ki kashti bhi badbani hai Husain ka wo muballigh jo giroh mein aaya Ajab shola-bayan us ki be-zabani hai Pyase apna lahu bhi pila gaye us ko Furat qatra-e-nadamat se pani pani hai Sinan ne sina-e-Akbar mein tut kar socha Ye naujawan bhare ghar ki naujawani hai Gale mein tauq hai, pairon mein beriyan lekin Khudai qafile walon ki sarbani hai Malaika ne bhi Sultan ko salam kiya Janab-e-Fatima Zahra ki mehrbani hai Mujrai mushtaq hain qudsi kalam aisa to ho Usman Ali Khan (Nizam Dakkan) Mujrai mushtaq hain qudsi kalam aisa to ho Bazm mein shor-e-durud uthe, salam aisa to ho Hai Ali Allah ka hamnam, naam aisa to ho Khana-zad-e-Haq hua Zul-ihtiram aisa to ho Ya Ali jab munh se nikla mushkilein asan huin Ism-e-Azam ka asar rakhta ho naam aisa to ho Jinn-o-ins-o-wahsh-o-tair-o-qudsi-o-ghilman-o-hur Sab ke sab baiat karein jis ki, Imam aisa to ho Shah-e-Mardan, Fateh-e-Khaibar, Amir-ul-Mominin Janashin-e-Hazrat-e-Khair-ul-Anam aisa to ho Asghar-o-Akbar ka jalwa dekh kar kehta tha charkh Mah-e-nau aisa to ho, mah-e-tamam aisa to ho Keh do dushmanon se lakh aisa Shah-e-din ki madh mein Ghul ho har su afrin, husn-e-kalam aisa to ho (Bashukriya sozkhwan o nauhakhwan Sanwal Agha o Balghar Nazar Naqvi) Nasiriyon ko koi kis tarah se samjhaye?! Be-shak gaye hain, aqida bura nahin rakhte (Maulana Professor Mirza Muhammad Ashfaq / Shauq Lakhnavi) Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma juzwi taur par ghair wazeh]
[صفحہ 121 سے جاری] آہ، سنتا نہیں شمر کی آواز کوئی کیا زمانے میں یہی طور ہے مہمانی کا در بہ در، خاک بسر، اہلِ حرم ہیں صد حیف کچھ ٹھکانا نہیں اس بے سر و سامانی کا ہے ظفرؔ شانِ رسول و دُرِّ شاہانِ حسینؑ حق ادا ہوگا یہاں سلسلۂ قربانی کا ہر ایک چیز زمانے کی آنی جانی ہے سلطان رضوی ہر ایک چیز زمانے کی آنی جانی ہے مگر حسینؑ کا پیغام جاودانی ہے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] یہ کربلا کی کہانی عجب کہانی ہے علم کے سائے میں بیٹھے تو یوں ہوا محسوس جنابِ نوح کی کشتی بھی بادبانی ہے حسینؑ کا وہ مبلغ جو گروہ میں آیا عجب شعلہ بیاں اس کی بے زبانی ہے پیاسے اپنا لہو بھی پلا گئے اس کو فرات قطرۂ ندامت سے پانی پانی ہے سناں نے سینۂ اکبر میں ٹوٹ کر سوچا یہ نوجوان بھرے گھر کی نوجوانی ہے گلے میں طوق ہے، پیروں میں بیڑیاں لیکن خدائی قافلے والوں کی سار بانی ہے ملائکہ نے بھی سلطان کو سلام کیا جنابِ فاطمہ زہرا کی مہربانی ہے مجرئی مشتاق ہیں قدسی کلام ایسا تو ہو عثمان علی خاں (نظام دکن) مجرئی مشتاق ہیں قدسی کلام ایسا تو ہو بزم میں شورِ درود اٹھے، سلام ایسا تو ہو ہے علیؑ اللہ کا ہم نام، نام ایسا تو ہو خانہ زادِ حق ہوا ذوالاحترام ایسا تو ہو یا علیؑ جب منہ سے نکلا مشکلیں آساں ہوئیں اسمِ اعظم کا اثر رکھتا ہو نام ایسا تو ہو جن و انس و وحش و طیر و قدسی و غلمان و حور سب کے سب بیعت کریں جس کی، امام ایسا تو ہو شاہِ مرداں، فاتحِ خیبر، امیر المؤمنین جانشینِ حضرتِ خیر الانام ایسا تو ہو اصغرؑ و اکبرؑ کا جلوہ دیکھ کر کہتا تھا چرخ ماہِ نو ایسا تو ہو، ماہِ تمام ایسا تو ہو کہہ دو دشمنوں سے لاکھ ایسا شاہِ دیں کی مدح میں غل ہو ہر سو آفرین، حسنِ کلام ایسا تو ہو (بشکریہ سوزخواں و نوحہ خواں سانول آغا و بلغر نذر نقوی) نصیریوں کو کوئی کس طرح سے سمجھائے؟! بے شک گئے ہیں، عقیدہ برا نہیں رکھتے (مولانا پروفیسر مرزا محمد اشفاق / شوق لکھنوی) التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب [اسماء جزوی طور پر غیر واضح]

122

[Safha ke balai hisse ka tasalsul] Dhal gaya hangama, khuli phir bhi rahi Asghar ki ankh [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Shah dil par tir-e-badkhun kis tarah khata taras Dil tha ahan ka, jigar faulad ka, patthar ki ankh Ay Shimr, taswir-e-mazlumi kahan tak dekhiye Shah ne waqt-e-dafn aakhir band ki Asghar ki ankh (Bashukriya shair-e-Ahl-e-Bait Syed Zeeshan Haider Zeeshan) Khair ki aisi na kisi aur ko taqdir mili [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Khair ki aisi na kisi aur ko taqdir mili Jis ko dozakh ke iwaz khuld ki jagir mili [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Is se behtar koi Quran ki na tafsir mili Tir kyun mar diya bachche ko zalim tu ne Hurmala! koi use sher ki taqsir mili? Sar pe chadar nahin, phir bhi wo nahin nange sar Jin ko parde ke liye chadar-e-Tathir mili Koi ek bar Madine mein na pehchan saka Qaid se chhut ke jab Zainab-e-dilgir mili Sab mile chhut ke zindan se Sakina ke siwa Han magar Fatima Sughra se na Shabbir mili (Bashukriya zakira o nauhakhwan Muhtarama Khair Fatima) Ho salam us pe jo qaidi bhi hai bimar bhi hai Ho salam us pe jo qaidi bhi hai bimar bhi hai Paon mein aable hain, ankhon mein khar bhi hai Puchha ek shakhs ne: ye kaun tumhara tha? Bole: Aqa bhi hai, Baba bhi hai, Sardar bhi hai Jab unhein Shimr nazar aaya to ro ro ke kaha Ye mere Baba ka qatil bhi hai, khunkhwar bhi hai Apne Baba ke chalan par main chala jata hun Warna mujh mein asar-e-Haider-e-Karrar bhi hai Kehte the tauq-e-giran aaya mere hisse mein Warna is fauj mein khanjar bhi hai, talwar bhi hai Pahunche jab Kufe ke nazdik to Zainab ne kaha Sar-e-uryan bhi hai, jalwa bhi hai, bazar bhi hai (Bashukriya sozkhwan o nauhakhwan Muhtarama Nargis Naqvi) Multafit hai meri janib rahmat-e-Dawar ki ankh [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Multafit hai meri janib rahmat-e-Dawar ki ankh Hai karam-gustar yaqinan Saqi-e-Kausar ki ankh [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Zindagi bhar phir se achchhi rahi Haider ki ankh Muztarib hui hai turbat mein Ali Asghar ki ruh Dhundti hai qaid mein Asghar ko jab madar ki ankh Sar barahna man, bahen, Sajjad kaise sar uthayen Shimr se achchhi nahin hai Abid-e-muztar ki ankh
[صفحہ کے بالائی حصے کا تسلسل] ڈھل گیا ہنگامہ، کھلی پھر بھی رہی اصغرؑ کی آنکھ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شاہؑ دل پر تیرِ بدخوں کس طرح کھاتا ترس دل تھا آہن کا، جگر فولاد کا، پتھر کی آنکھ اے شمر، تصویرِ مظلومی کہاں تک دیکھئے شہؑ نے وقتِ دفن آخر بند کی اصغرؑ کی آنکھ (بشکریہ شاعر اہل بیت سید ذیشان حیدر ذیشان) خیر کی ایسی نہ کسی اور کو تقدیر ملی [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] خیر کی ایسی نہ کسی اور کو تقدیر ملی جس کو دوزخ کے عوض خلد کی جاگیر ملی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اس سے بہتر کوئی قرآن کی نہ تفسیر ملی تیر کیوں مار دیا بچے کو ظالم تو نے حرملہ! کوئی اسے شیر کی تقصیر ملی؟ سر پہ چادر نہیں، پھر بھی وہ نہیں ننگے سر جن کو پردے کے لئے چادرِ تطہیر ملی کوئی اک بار مدینے میں نہ پہچان سکا قید سے چھوٹ کے جب زینبِ دلگیر ملی سب ملے چھوٹ کے زنداں سے سکینہؑ کے سوا ہاں مگر فاطمہ صغریٰ سے نہ شبیرؑ ملی (بشکریہ ذاکرہ و نوحہ خواں محترمہ خیر فاطمہ) ہو سلام اس پہ جو قیدی بھی ہے بیمار بھی ہے ہو سلام اس پہ جو قیدی بھی ہے بیمار بھی ہے پاؤں میں آبلے ہیں، آنکھوں میں خار بھی ہے پوچھا اک شخص نے: یہ کون تمہارا تھا؟ بولے: آقا بھی ہے، بابا بھی ہے، سردار بھی ہے جب انہیں شمر نظر آیا تو رو رو کے کہا یہ مرے بابا کا قاتل بھی ہے، خونخوار بھی ہے اپنے بابا کے چلن پر میں چلا جاتا ہوں ورنہ مجھ میں اثرِ حیدرِ کرار بھی ہے کہتے تھے طوقِ گراں آیا مرے حصے میں ورنہ اس فوج میں خنجر بھی ہے، تلوار بھی ہے پہنچے جب کوفے کے نزدیک تو زینبؑ نے کہا سرِ عریاں بھی ہے، جلوہ بھی ہے، بازار بھی ہے (بشکریہ سوزخواں و نوحہ خواں محترمہ نرجس نقوی) ملتفت ہے میری جانب رحمتِ داور کی آنکھ [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] ملتفت ہے میری جانب رحمتِ داور کی آنکھ ہے کرم گستر یقیناً ساقیِ کوثر کی آنکھ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] زندگی بھر پھر سے اچھی رہی حیدرؑ کی آنکھ مضطرب ہوئی ہے تربت میں علی اصغرؑ کی روح ڈھونڈتی ہے قید میں اصغرؑ کو جب مادر کی آنکھ سر برہنہ ماں، بہن، سجادؑ کیسے سر اٹھائیں شمر سے اچھی نہیں ہے عابدِ مضطر کی آنکھ

123

Ajal ko aisi mili zindagi Husain ke baad [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Ajal ko aisi mili zindagi Husain ke baad Ke jo fana thi baqa ban gayi Husain ke baad Wahi hai silsila-e-rahbari Husain ke baad Nabi ke baad Ali the, Ali Husain ke baad Bani hai khak-e-shifa teri khak-e-karb-o-bala Ye bartari tujhe hasil hui Husain ke baad Thi ek sar ki talab aur kaise behtar pesh Jahan mein hoga na aisa kabhi Husain ke baad Sakina hijr-e-pidar mein guzar gayi jaan se Na ji Husain ki wo ladli Husain ke baad Mujahid is mein na tha kuchh bhi ashiqi ke siwa Bani hai nusrat-e-Haq shairi Husain ke baad (Bashukriya sozkhwan Raza Ali Jafari) Mujarmi kehte the Shah kuchh nahin parwa mujh ko Mujarmi kehte the Shah kuchh nahin parwa mujh ko Nahin dete to na dein pani ye aada mujh ko Kehta tha Hurr dilawar ke khusha mera nasib Mil gaya Hazrat Shabbir sa Aqa mujh ko Sughra, Akbar se ye kehti thi ke wada karlo Lene kab aaoge wadi gayi bhaiya mujh ko Shab ko jab kan mein aai kisi bachche ki sada Boli Banu: mere Asghar ne pukara mujh ko (Bashukriya sozkhwan Zawwar Husain) Khana-e-Kaaba sa koi ghar nazar aata nahin [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Khana-e-Kaaba sa koi ghar nazar aata nahin Aur kahin koi bajuz Haider nazar aata nahin [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Un mein koi Fateh-e-Khaibar nazar aata nahin [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Kaun hai dosh-e-Payambar par nazar aata nahin Hai jawan bete ka gham, be-nur ankhen hogayin Shah-e-din ko lash-e-Akbar nazar aata nahin Ghar khali dekh kar madar se Sughra ne kaha Kya hua Amman, mera Asghar nazar aata nahin (Bashukriya sozkhwan Imran, Abu Talib o Zeeshan) Sajjad hain hamrah to Sughra hai watan mein (Izafi ashar masaib — Syed Jafar Zaidi) Sajjad hain hamrah to Sughra hai watan mein Sarwar tere pyare yahan bhi hain wahan bhi Shah hun sar-e-neza ke tan-e-be-khabar maqtal Wo Syed o Sardar yahan bhi hain wahan bhi [Do misra juzwi taur par ghair wazeh]
اجل کو ایسی ملی زندگی حسینؑ کے بعد [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] اجل کو ایسی ملی زندگی حسینؑ کے بعد کہ جو فنا تھی بقا بن گئی حسینؑ کے بعد وہی ہے سلسلۂ رہبری حسینؑ کے بعد نبیؐ کے بعد علیؑ تھے، علیؑ حسینؑ کے بعد بنی ہے خاکِ شفا تیری خاکِ کرب و بلا یہ برتری تجھے حاصل ہوئی حسینؑ کے بعد تھی ایک سر کی طلب اور کیسے بہتر پیش جہاں میں ہوگا نہ ایسا کبھی حسینؑ کے بعد سکینہؑ ہجرِ پدر میں گزر گئی جاں سے نہ جی حسینؑ کی وہ لاڈلی حسینؑ کے بعد مجاہد اس میں نہ تھا کچھ بھی عاشقی کے سوا بنی ہے نصرتِ حق شاعری حسینؑ کے بعد (بشکریہ سوزخواں رضا علی جعفری) مجرمی کہتے تھے شہؑ کچھ نہیں پروا مجھ کو مجرمی کہتے تھے شہؑ کچھ نہیں پروا مجھ کو نہیں دیتے تو نہ دیں پانی یہ اعدا مجھ کو کہتا تھا حر دلاور کہ خوشا میرا نصیب مل گیا حضرت شبیرؑ سا آقا مجھ کو صغرا، اکبرؑ سے یہ کہتی تھی کہ وعدہ کرلو لینے کب آؤ گے وادی گئی بھیا مجھ کو شب کو جب کان میں آئی کسی بچے کی صدا بولی بانو: مرے اصغرؑ نے پکارا مجھ کو (بشکریہ سوزخواں زوار حسین) خانۂ کعبہ سا کوئی گھر نظر آتا نہیں [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] خانۂ کعبہ سا کوئی گھر نظر آتا نہیں اور کہیں کوئی بجز حیدرؑ نظر آتا نہیں [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] ان میں کوئی فاتحِ خیبر نظر آتا نہیں [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] کون ہے دوشِ پیمبر پر نظر آتا نہیں ہے جواں بیٹے کا غم، بے نور آنکھیں ہوگئیں شاہِ دیں کو لاشِ اکبرؑ نظر آتا نہیں گھر خالی دیکھ کر مادر سے صغریٰ نے کہا کیا ہوا اماں، مرا اصغرؑ نظر آتا نہیں (بشکریہ سوزخواں عمران، ابو طالب و ذیشان) سجادؑ ہیں ہمراہ تو صغریٰ ہے وطن میں (اضافی اشعار مصائب — سید جعفر زیدی) سجادؑ ہیں ہمراہ تو صغریٰ ہے وطن میں سرور ترے پیارے یہاں بھی ہیں وہاں بھی شہ ہوں سرِ نیزہ کہ تنِ بے خبر مقتل وہ سید و سردار یہاں بھی ہیں وہاں بھی [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

124

Josh-e-Shah ke tarafdar yahan bhi hain wahan bhi Baqir Shahjahanpuri Jo Shah ke tarafdar yahan bhi hain wahan bhi Wo talib-e-didar yahan bhi hain wahan bhi Duniya hi nahin waqf-e-azadari-e-Sarwar Shabbir ke ghamkhwar yahan bhi hain wahan bhi Jo dar pe azan hain Husain ibn-e-Ali ke Wo log gunahgar yahan bhi hain wahan bhi Abbas ne aada se kaha tol ke talwar Hum Haq ke parastar yahan bhi hain wahan bhi Kehte hain hamein saf-shikan-o-Safdar-o-Jarrar Hum naib-e-Karrar yahan bhi hain wahan bhi Shabbir ka dar dast wahi tegh hai jis ka Mane hue sab war yahan bhi hain wahan bhi Shah ne kaha pyase nahin hum ay Umar-e-Saad Mast se anwar yahan bhi hain wahan bhi Chahen to bahe zer-e-qadam chashma-e-Kausar Hum pani ke mukhtar yahan bhi hain wahan bhi Duniya hi pe mauquf nahin asl mein Husain Baqir ke tarafdar yahan bhi hain wahan bhi [Mukhtasar qita] Piron ki ziyarat nasib hogi tumhein Dar-e-Husain pe baitho nazar jamaye hue (Bashukriya shair-e-Ahl-e-Bait Qaisar Jafari) Khub ji bhar kar jamal-e-ru-e-Akbar dekhna Syed Muhammad Suleman Shah Agraabadi (marhum) Khub ji bhar kar jamal-e-ru-e-Akbar dekhna Marne wale kya hua, kar mayassar dekhna Wo harim-e-arsh ki ye dosh-e-Payghambar ki zeb Zainab wala dast-o-paye Haider dekhna Dekhne walo waqar-e-Maryam-o-Bint-e-Asad Kaun hai Kaabe ke bahar, kaun andar dekhna Kis taajjub se shab-e-hijrat ye kehte the malak Kis ki peshani Nabi hai aur kis ka bistar dekhna Subh uth kar ek ibarat ye bhi thi khanjar ki Ru-e-Asghar dekhna ya ru-e-Akbar dekhna Sajda-e-aakhir mein Shah ke Haq se wo raz-o-niyaz Ay mere alam mein kahan ka zarb-e-khanjar dekhna Sham ke zindan mein jis par aaj hain pabandiyan Zikr hoga kal isi matam ka ghar ghar dekhna [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Phir zara daman ki janib dida-e-tar dekhna Zulm kehta hai ke waqt-e-imtihan hai ay Husain Sabr kehta hai zara mere bhi jauhar dekhna Ghaiz mein Abbas ko dekha to Sarwar ne kaha Ye mere nana ki ummat hai baradar dekhna Gah suye asman, gah ru-e-Akbar ki taraf Wo Husain ibn-e-Ali ka aah bhar kar dekhna Saya-afgan shakh-e-mazar ke sar par hai kaun Dekhna ay tabish-e-khurshid-e-mahshar dekhna (Bashukriya sozkhwan Syed Qamar Abbas Jafari)
جوشِ شہ کے طرفدار یہاں بھی ہیں وہاں بھی باقر شاہجہان پوری جو شہ کے طرفدار یہاں بھی ہیں وہاں بھی وہ طالبِ دیدار یہاں بھی ہیں وہاں بھی دنیا ہی نہیں وقفِ عزاداریِ سرور شبیرؑ کے غمخوار یہاں بھی ہیں وہاں بھی جو در پہ اذاں ہیں حسین ابنِ علیؑ کے وہ لوگ گنہگار یہاں بھی ہیں وہاں بھی عباسؑ نے اعدا سے کہا تول کے تلوار ہم حق کے پرستار یہاں بھی ہیں وہاں بھی کہتے ہیں ہمیں صف شکن و صفدر و جرار ہم نائبِ کرار یہاں بھی ہیں وہاں بھی شبیرؑ کا در دست وہی تیغ ہے جس کا مانے ہوئے سب وار یہاں بھی ہیں وہاں بھی شہؑ نے کہا پیاسے نہیں ہم اے عمرِ سعد مست سے انوار یہاں بھی ہیں وہاں بھی چاہیں تو بہے زیرِ قدم چشمۂ کوثر ہم پانی کے مختار یہاں بھی ہیں وہاں بھی دنیا ہی پہ موقوف نہیں اصل میں حسینؑ باقر کے طرفدار یہاں بھی ہیں وہاں بھی [مختصر قطعہ] پیروں کی زیارت نصیب ہوگی تمہیں درِ حسینؑ پہ بیٹھو نظر جمائے ہوئے (بشکریہ شاعر اہل بیت قیصر جعفری) خوب جی بھر کر جمالِ روئے اکبرؑ دیکھنا سید محمد سلیمان شاہ آگرآبادی (مرحوم) خوب جی بھر کر جمالِ روئے اکبرؑ دیکھنا مرنے والے کیا ہوا، کر میسر دیکھنا وہ حریمِ عرش کی یہ دوشِ پیغمبر کی زیب زینب والا دست و پائے حیدرؑ دیکھنا دیکھنے والو وقارِ مریم و بنتِ اسد کون ہے کعبے کے باہر، کون اندر دیکھنا کس تعجب سے شبِ ہجرت یہ کہتے تھے ملک کس کی پیشانی نبی ہے اور کس کا بستر دیکھنا صبح اٹھ کر ایک عبارت یہ بھی تھی خنجر کی روئے اصغرؑ دیکھنا یا روئے اکبرؑ دیکھنا سجدۂ آخر میں شہ کے حق سے وہ راز و نیاز اے مرے عالم میں کہاں کا ضربِ خنجر دیکھنا شام کے زنداں میں جس پر آج ہیں پابندیاں ذکر ہوگا کل اسی ماتم کا گھر گھر دیکھنا [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] پھر ذرا دامن کی جانب دیدۂ تر دیکھنا ظلم کہتا ہے کہ وقتِ امتحاں ہے اے حسینؑ صبر کہتا ہے ذرا میرے بھی جوہر دیکھنا غیظ میں عباسؑ کو دیکھا تو سرور نے کہا یہ مرے نانا کی امت ہے برادر دیکھنا گاہ سوئے آسماں، گہ روئے اکبرؑ کی طرف وہ حسین ابنِ علیؑ کا آہ بھر کر دیکھنا سایہ افگن شاخِ مزار کے سر پر ہے کون دیکھنا اے تابشِ خورشیدِ محشر دیکھنا (بشکریہ سوزخواں سید قمر عباس جعفری)

125

Salam us par ke jo lakht-e-dil-e-Shabbir-e-Khuda bhi hai Hazrat Kamal Ganjavi Salam us par ke jo lakht-e-dil-e-Shabbir-e-Khuda bhi hai Nawasa-e-Mustafa ka, Fatima ka ladla bhi hai Salam us par ke takmil-e-nubuwwat ka jo hasil hai Jo khud rahi nahin, jada nahin hai, ain manzil hai Salam us par ke jis ka hashr tak paigham zinda hai Lahu dene se jis ke ghairat-e-Islam zinda hai Salam us par ke jis ka faiz gauhar-bar baqi hai Wafa zinda, muhabbat surkh-ru, isar baqi hai Khuda bhi ki kaifiyat dilon par jis ne tari ki Salam us par ke jo insaniyat ki qadardani hai Salam us par ke jo insaniyat ki qadr-e-ali hai Mashiyyat ne imamat ke jise sanche mein dhala hai (Bashukriya Salim Raza, Kalim Raza aur Professor Simin Kazmi) Zikr hum karte rahenge hashr tak Shabbir ka Shair o sozkhwan Wali Jalalvi Zikr hum karte rahenge hashr tak Shabbir ka Mutabar hai ye tariqa qalb ki tathir ka Dard se na-ashna kya jane kya hai Karbala Dard wala hi karega tazkira Shabbir ka Hausla bhi kanp utha dekh kar azm-e-Husain Khun khaton mein liya jab Asghar-e-be-shir ka Apne khaton se pila kar rakh diya Shabbir-e-Yazid [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Hausla Allahu Akbar, Zainab-e-dilgir ka Haq ada karb-o-bala mein kar diya Abbas ne Quwwat-e-Haider ka aur Umm-ul-Banin ke sher ka Yaad aate hain hamein bazar, tauq-o-rasan Is liye karte hain hum matam paye zanjir ka [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Fatima Sughra khari darwaza-e-sham-o-sahar Rasta takti thi pairon Akbar-e-dilgir ka (Bashukriya sozkhwan Syed Wali Haider) Kabhi fart-e-adab mein ashk-afshani nahin jati Munawwar Abbas Shahab (Advocate) Kabhi fart-e-adab mein ashk-afshani nahin jati Hain lab khamosh lekin marsiyakhwani nahin jati Haram ki be-ridai ne liya hai intiqam aisa Yazidiyat ki pardon mein bhi uryani nahin jati Na bhare rang is mein gar lahu se Karbala wale To aaj Islam ki surat bhi pehchani nahin jati Hukumat Ahl-e-Duniya ki faqat hakim ke dam tak hai Dilon par jo hukumat ho wo sultani nahin jati Koi Haq ka mujahid sar-ba-kaf aata hai maidan mein Khule sar Sham ke balwe mein Syedani nahin jati Hazaron bandishein hoti hain matam par shahidon ke Shahab is par bhi apni marsiyakhwani nahin jati
سلام اس پر کہ جو لختِ دلِ شبیرِ خدا بھی ہے حضرت کمال گنجوی سلام اس پر کہ جو لختِ دلِ شبیرِ خدا بھی ہے نواسۂ مصطفیٰؐ کا، فاطمہؑ کا لادلا بھی ہے سلام اس پر کہ تکمیلِ نبوت کا جو حاصل ہے جو خود راہی نہیں، جادہ نہیں ہے، عین منزل ہے سلام اس پر کہ جس کا حشر تک پیغام زندہ ہے لہو دینے سے جس کے غیرتِ اسلام زندہ ہے سلام اس پر کہ جس کا فیض گوہر بار باقی ہے وفا زندہ، محبت سرخ رو، ایثار باقی ہے خدا بھی کی کیفیت دلوں پر جس نے طاری کی سلام اس پر کہ جو انسانیت کی قدردانی ہے سلام اس پر کہ جو انسانیت کی قدرِ عالی ہے مشیت نے امامت کے جسے سانچے میں ڈھالا ہے (بشکریہ سلیم رضا، کلیم رضا اور پروفیسر سیمیں کاظمی) ذکر ہم کرتے رہیں گے حشر تک شبیرؑ کا شاعر و سوزخواں ولی جلالوی ذکر ہم کرتے رہیں گے حشر تک شبیرؑ کا معتبر ہے یہ طریقہ قلب کی تطہیر کا درد سے نا آشنا کیا جانے کیا ہے کربلا درد والا ہی کرے گا تذکرہ شبیرؑ کا حوصلہ بھی کانپ اٹھا دیکھ کر عزمِ حسینؑ خون خطوں میں لیا جب اصغرِ بے شیر کا اپنے خطوں سے پلا کر رکھ دیا شبیرِ یزید [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] حوصلہ اللہ اکبر، زینبِ دلگیر کا حق ادا کرب و بلا میں کر دیا عباسؑ نے قوتِ حیدر کا اور ام البنین کے شیر کا یاد آتے ہیں ہمیں بازار، طوق و رسن اس لئے کرتے ہیں ہم ماتم پائے زنجیر کا [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] فاطمہ صغرا کھڑی دروازۂ شام و سحر راستہ تکتی تھی پیروں اکبرِ دلگیر کا (بشکریہ سوزخواں سید ولی حیدر) کبھی فرطِ ادب میں اشک افشانی نہیں جاتی منور عباس شہاب (ایڈووکیٹ) کبھی فرطِ ادب میں اشک افشانی نہیں جاتی ہیں لب خاموش لیکن مرثیہ خوانی نہیں جاتی حرم کی بے ردائی نے لیا ہے انتقام ایسا یزیدیت کی پردوں میں بھی عریانی نہیں جاتی نہ بھرے رنگ اس میں گر لہو سے کربلا والے تو آج اسلام کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی حکومت اہلِ دنیا کی فقط حاکم کے دم تک ہے دلوں پر جو حکومت ہو وہ سلطانی نہیں جاتی کوئی حق کا مجاہد سر بکف آتا ہے میدان میں کھلے سر شام کے بلوے میں سیدانی نہیں جاتی ہزاروں بندشیں ہوتی ہیں ماتم پر شہیدوں کے شہابؔ اس پر بھی اپنی مرثیہ خوانی نہیں جاتی

126

Shahon ka tazkira hai na lashkar ki baat hai Syed Jawad Hasan Shahon ka tazkira hai na lashkar ki baat hai Jo Karbala mein lut gaya us ghar ki baat hai Zikr-e-gham-e-Husain hamein kyun na ho aziz Khushnudi-e-Khuda o Payambar ki baat hai Majlis ek ehtijaj hai har zulm ke khilaf Paigham-e-adl, matam-e-Sarwar ki baat hai Hogi na Karbala ki kabhi khatm dastan Kehne ko yun to sirf bahattar ki baat hai Kis kis ko royen Ahl-e-Haram, haye kya karein Hai umr bhar ka dagh bhare ghar ki baat hai Ye imtihan-e-sabr bahut sakht hai Husain Mahshar mein be-ridai-e-khahar ki baat hai Qasid ko kya jawab dein is baat ka Husain Sughra ke khat mein shadi-e-Akbar ki baat hai [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Ye apne apne muqaddar ki baat hai (Bashukriya shair o marsiyakhwan Syed Javed Hasan) Kaho na hajat-e-zikr-e-shah badi kya hai Syed Jawad Hasan Kaho na hajat-e-zikr-e-shah badi kya hai Husain hi ne to sabit kiya Khuda kya hai Gham-e-Husain dilon ka nifaq dhota hai Bas ab na puchho ke rone ka faida kya hai Raza-e-Haq ki har ek rah mein hai naqsh-e-Husain Main Karbala se na jaun to rasta kya hai Agar Husain ki sirat pe ho amal To phir ye majlis o matam ka faida kya hai Palat na aaye jo darya se tishna-lab Abbas To kaun janta is dahr mein wafa kya hai Baqa-e-din ki zamanat hai Fatima ka pisar Nahin Husain to Islam mein dhara kya hai Rida-e-Ahl-e-Haram chhin kar na khush ho lain Wo jaan dene ko tayyar hain, rida kya hai Ye Karbala ke shahidon ne fasl kiya warna Kise khabar thi fana kya hai aur baqa kya hai (Bashukriya Maulana Doctor Syed Baqir Husain Zaidi) Salami Karbala mein kya qiyamat ki ghari hogi Purnam Allahabadi Salami Karbala mein kya qiyamat ki ghari hogi Chhuri Shabbir ki gardan pe kis dam chal rahi hogi Kaleja tham kar phir falak bhi reh gaya hoga Kaleje par Ali Akbar ke barchhi jab lagi hogi Mujhe jane do pani bhar ke, ye Abbas kehte the Gayi din ki pyasi hai Sakina ro rahi hogi Husain ibn-e-Ali ne ki hai jo bachchon ke samne mein [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Bani se besh-tar mahshar mein ummat bakhshwane ko Husain ibn-e-Ali aayenge, duniya dekhti hogi
شاہوں کا تذکرہ ہے نہ لشکر کی بات ہے سید جواد حسن شاہوں کا تذکرہ ہے نہ لشکر کی بات ہے جو کربلا میں لٹ گیا اس گھر کی بات ہے ذکرِ غمِ حسینؑ ہمیں کیوں نہ ہو عزیز خوشنودیِ خدا و پیمبر کی بات ہے مجلس اک احتجاج ہے ہر ظلم کے خلاف پیغامِ عدل، ماتمِ سرور کی بات ہے ہوگی نہ کربلا کی کبھی ختم داستان کہنے کو یوں تو صرف بہتر کی بات ہے کس کس کو روئیں اہلِ حرم، ہائے کیا کریں ہے عمر بھر کا داغ بھرے گھر کی بات ہے یہ امتحانِ صبر بہت سخت ہے حسینؑ محشر میں بے ردائیِ خواہر کی بات ہے قاصد کو کیا جواب دیں اس بات کا حسینؑ صغریٰ کے خط میں شادیِ اکبرؑ کی بات ہے [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے (بشکریہ شاعر و مرثیہ خواں سید جاوید حسن) کہو نہ حاجتِ ذکرِ شہ بدی کیا ہے سید جواد حسن کہو نہ حاجتِ ذکرِ شہ بدی کیا ہے حسینؑ ہی نے تو ثابت کیا خدا کیا ہے غمِ حسینؑ دلوں کا نفاق دھوتا ہے بس اب نہ پوچھو کہ رونے کا فائدہ کیا ہے رضائے حق کی ہر اک راہ میں ہے نقشِ حسینؑ میں کربلا سے نہ جاؤں تو راستہ کیا ہے اگر حسینؑ کی سیرت پہ ہو عمل تو پھر یہ مجلس و ماتم کا فائدہ کیا ہے پلٹ نہ آئے جو دریا سے تشنہ لب عباسؑ تو کون جانتا اس دہر میں وفا کیا ہے بقائے دین کی ضمانت ہے فاطمہؑ کا پسر نہیں حسینؑ تو اسلام میں دھرا کیا ہے ردائے اہلِ حرم چھین کر نہ خوش ہو لعین وہ جان دینے کو تیار ہیں، ردا کیا ہے یہ کربلا کے شہیدوں نے فصل کیا ورنہ کسے خبر تھی فنا کیا ہے اور بقا کیا ہے (بشکریہ مولانا ڈاکٹر سید باقر حسین زیدی) سلامی کربلا میں کیا قیامت کی گھڑی ہوگی پرنم الہ آبادی سلامی کربلا میں کیا قیامت کی گھڑی ہوگی چھری شبیرؑ کی گردن پہ کس دم چل رہی ہوگی کلیجہ تھام کر پھر فلک بھی رہ گیا ہوگا کلیجے پر علی اکبرؑ کے برچھی جب لگی ہوگی مجھے جانے دو پانی بھر کے، یہ عباسؑ کہتے تھے گئی دن کی پیاسی ہے سکینہؑ رو رہی ہوگی حسین ابنِ علیؑ نے کی ہے جو بچوں کے سامنے میں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بنی سے بیش تر محشر میں امت بخشوانے کو حسین ابنِ علیؑ آئیں گے، دنیا دیکھتی ہوگی

127

Mujrimi jis ne mere Maula ko pehchana nahin Maulana Syed Zeeshan Haider Jawadi Mujrimi jis ne mere Maula ko pehchana nahin Aisa lagta hai use Firdaus mein jana nahin Dekho fitrat aa gaya gahwara-e-Shabbir tak Kaun kehta hai farishton ne bhi pehchana nahin Ban gaye sail gadai ke sharaf ko dekh kar Warna Ahl-e-Asman ko rotiyan khana nahin Qabza-e-farzand-e-Zahra mein hai zulf-e-Mustafa Baat hai bhi ab is ko uljhana nahin De diya hai fauj-e-Hurr ko sara pani Shah ne Zalimo ab Shah ke bachchon ko tarsana nahin Kehte the Aun o Muhammad se ye man ke hausle Jang karna, par tarai ki taraf jana nahin Karbala mein sabr-e-Sarwar dekhne aao Khalil Aap ko lash-e-pisar maidan se lana nahin Yun tarap ke kehti thi qabr-e-Sakina se Rubab Sab watan jate hain beti, kya tumhein jana nahin Meri ankhon se hain ashk-e-gham-e-Sarwar nikalte hain Yawar Azmi Meri ankhon se yun ashk-e-gham-e-Sarwar nikalte hain Sadaf ke daman-e-tar se jis tarah gauhar nikalte hain Baraye bakhshish-e-ummat jahan khane ko maqtal mein Muhammad Mustafa ban kar Ali Akbar nikalte hain Kaleja kanpta hai Hurmala ka, dil dharakta hai Kaman-e-zulm ran mein torne Asghar nikalte hain Liye mashk o alam Abbas jate hain suye darya Ye manzil hai jang par ab Fateh-e-Khaibar nikalte hain Kaha Laila ne: Ya Rab khair karna mere Akbar ki Magar apne hathon mein liye khanjar nikalte hain Shah-e-din ghore baithe hain zamin mein turbat-e-Asghar Zamin se apne sar ko phorte patthar nikalte hain Chale jab jang ko Aun o Muhammad, bolin ye Zainab Wafa ke ran mein mere Hamza o Jafar nikalte hain Muhabbat Karbala walon ki bawar rang layegi Jo un ki chah mein dube lab-e-Kausar nikalte hain Maulana Syed Zeeshan Haider Jawadi Kalim Allahabadi [Mukhtasar ashar / note juzwi taur par ghair wazeh]
مجرمی جس نے میرے مولا کو پہچانا نہیں مولانا سید ذیشان حیدر جوادی مجرمی جس نے میرے مولا کو پہچانا نہیں ایسا لگتا ہے اسے فردوس میں جانا نہیں دیکھو فطرت آ گیا گہوارۂ شبیر تک کون کہتا ہے فرشتوں نے بھی پہچانا نہیں بن گئے سائل گدائی کے شرف کو دیکھ کر ورنہ اہلِ آسماں کو روٹیاں کھانا نہیں قبضۂ فرزندِ زہرا میں ہے زلفِ مصطفیٰؐ بات ہے بھی اب اس کو الجھانا نہیں دے دیا ہے فوجِ حر کو سارا پانی شاہ نے ظالمو اب شاہ کے بچوں کو ترسانا نہیں کہتے تھے عونؑ و محمدؑ سے یہ ماں کے حوصلے جنگ کرنا، پر ترائی کی طرف جانا نہیں کربلا میں صبرِ سرور دیکھنے آؤ خلیل آپ کو لاشِ پسر میدان سے لانا نہیں یوں تڑپ کے کہتی تھی قبرِ سکینہؑ سے ربابؑ سب وطن جاتے ہیں بیٹی، کیا تمہیں جانا نہیں میری آنکھوں سے ہیں اشکِ غمِ سرور نکلتے ہیں یاور اعظمی میری آنکھوں سے یوں اشکِ غمِ سرور نکلتے ہیں صدف کے دامنِ تر سے جس طرح گوہر نکلتے ہیں برائے بخششِ امت جہاں کھانے کو مقتل میں محمد مصطفیٰؐ بن کر علی اکبرؑ نکلتے ہیں کلیجہ کانپتا ہے حرملہ کا، دل دھڑکتا ہے کمانِ ظلم رن میں توڑنے اصغرؑ نکلتے ہیں لئے مشک و علم عباسؑ جاتے ہیں سوئے دریا یہ منزل ہے جنگ پر اب فاتحِ خیبر نکلتے ہیں کہا لیلیٰ نے: یا رب خیر کرنا میرے اکبر کی مگر اپنے ہاتھوں میں لئے خنجر نکلتے ہیں شہِ دیں گھوڑے بیٹھے ہیں زمیں میں تربتِ اصغر زمیں سے اپنے سر کو پھوڑتے پتھر نکلتے ہیں چلے جب جنگ کو عونؑ و محمدؑ، بولیں یہ زینبؑ وفا کے رن میں میرے حمزہؑ و جعفرؑ نکلتے ہیں محبت کربلا والوں کی باور رنگ لائے گی جو اُن کی چاہ میں ڈوبے لبِ کوثر نکلتے ہیں مولانا سید ذیشان حیدر جوادی کلیم اللہ آبادی [مختصر اشعار / نوٹ جزوی طور پر غیر واضح]

128

Ye silsila hai Ahl-e-din-e-Mustafa ke liye Professor Manzur Husain Shor Ye silsila hai Aal-e-Rasul-e-Mustafa ke liye Ali Nabi ke liye hain, Nabi Khuda ke liye Miyan-e-batil o Haq zahmat-e-tamiz bhi kar Ye regzar-e-hasti hai naqsh-e-pa ke liye Wo jis ka waqt ki tarikh mein hai naam Husain Wo istiara-e-wahdat hai Karbala ke liye Ali ka zikr ibadat hai be-raib o sujud Ke simt o jihat zaruri nahin hawa ke liye Aqida-mand ho iman ke Sham ka bazar Jawaz koi to ho khun-e-Karbala ke liye Main barahna-posh kabhi dukhtaran-e-Kufa o Sham Na thi rida to faqat bint-e-Fatima ke liye (Bashukriya salamkhwan Syed Haider Raza farzand Professor Shor) Ay azadaran-e-Sibt-e-Mustafa jite raho Shah Naqvi Ay azadaran-e-Sibt-e-Mustafa jite raho Hai tumhare sar pe Zahra ki dua, jite raho Roshni jo rang rang mein hai hubb-e-Ali Muskura kar maut ne mujh se kaha: jite raho Zindagi chhini ajal se tum ne puri se shabab Ay Habib ibn-e-Mazahir marhaba, jite raho Ay shahido tum ne din-e-Haq ko apna khun diya Ta abad ab tum ho aur qurb-e-Khuda, jite raho Ay azadaro gham-e-duniya se fursat mil gayi Hain tumhare ashk har gham ki dawa, jite raho Tum ne Asghar muskura kar maut ki aghosh mein Maqsad-e-Sarwar ko roshan kar diya, jite raho Is taraf pamaliyon ki zad pe hai Qasim ka jism Aur idhar khaime mein man ki ye dua: jite raho Bekasi se tak rahe hain lash-e-Akbar ko Husain Bhai ko lagti hai Sughra ne dua, jite raho Jahan bhi zulmat-e-batil ne sar ubhara hai Shah Naqvi Jahan bhi zulmat-e-batil ne sar ubhara hai Ali ke chand zamin ne tujhe pukara hai Shikast-e-azm na samjho Hasan ki khamoshi Bahut bare kisi tufan ka ishara hai Hamare Shimr o Shabbir ko na bhul Islam Hamare khun ne teri nafs ko ubhara hai Gham-e-Husain ko awaz do shikasta-dilo Ye gham nasibon ka sab se bara sahara hai Kaho na tegh ke nikle ko sathiyon se Husain Tumhare baad kise zindagi gawara hai Utha ke mashk chalo suye Sham ay Abbas Tumhein Sakina ne zindan se pukara hai
یہ سلسلہ ہے اہلِ دینِ مصطفیٰؐ کیلئے پروفیسر منظور حسین شور یہ سلسلہ ہے آلِ رسولِ مصطفیٰؐ کیلئے علیؑ نبی کیلئے ہیں، نبی خدا کیلئے میانِ باطل و حق زحمتِ تمیز بھی کر یہ ریگزارِ ہستی ہے نقشِ پا کیلئے وہ جس کا وقت کی تاریخ میں ہے نام حسینؑ وہ استعارۂ وحدت ہے کربلا کیلئے علیؑ کا ذکر عبادت ہے بے ریب و سجود کہ سمت و جہت ضروری نہیں ہوا کیلئے عقیدہ مند ہو ایماں کہ شام کا بازار جواز کوئی تو ہو خونِ کربلا کیلئے میں برہنہ پوش کبھی دخترانِ کوفہ و شام نہ تھی ردا تو فقط بنتِ فاطمہؑ کیلئے (بشکریہ سلام خواں سید حیدر رضا فرزند پروفیسر شور) اے عزادارانِ سبطِ مصطفیٰؐ جیتے رہو شاہ نقوی اے عزادارانِ سبطِ مصطفیٰؐ جیتے رہو ہے تمہارے سر پہ زہرا کی دعا، جیتے رہو روشنی جو رنگ رنگ میں ہے حبِ علیؑ مسکرا کر موت نے مجھ سے کہا: جیتے رہو زندگی چھینی اجل سے تم نے پوری سے شباب اے حبیب ابنِ مظاہر مرحبا، جیتے رہو اے شہیدو تم نے دینِ حق کو اپنا خون دیا تا ابد اب تم ہو اور قربِ خدا، جیتے رہو اے عزادارو غمِ دنیا سے فرصت مل گئی ہیں تمہارے اشک ہر غم کی دوا، جیتے رہو تم نے اصغرؑ مسکرا کر موت کی آغوش میں مقصدِ سرور کو روشن کر دیا، جیتے رہو اس طرف پامالیوں کی زد پہ ہے قاسمؑ کا جسم اور ادھر خیمے میں ماں کی یہ دعا: جیتے رہو بے کسی سے تک رہے ہیں لاشِ اکبرؑ کو حسینؑ بھائی کو لگتی ہے صغرا نے دعا، جیتے رہو جہاں بھی ظلمتِ باطل نے سر ابھارا ہے شاہ نقوی جہاں بھی ظلمتِ باطل نے سر ابھارا ہے علیؑ کے چاند زمیں نے تجھے پکارا ہے شکستِ عزم نہ سمجھو حسنؑ کی خاموشی بہت بڑے کسی طوفان کا اشارہ ہے ہمارے شمر و شبیر کو نہ بھول اسلام ہمارے خون نے تیری نفس کو ابھارا ہے غمِ حسینؑ کو آواز دو شکستہ دلو یہ غم نصیبوں کا سب سے بڑا سہارا ہے کہو نہ تیغ کے نکلے کو ساتھیوں سے حسینؑ تمہارے بعد کسے زندگی گوارا ہے اٹھا کے مشک چلو سوئے شام اے عباسؑ تمہیں سکینہؑ نے زندان سے پکارا ہے

129

[Safha 129 se jari] Utho Ali se bahut raat hogayi Asghar Wo dekho khaime se man ne tumhein pukara hai Sitam ke tir se Sakina chhedne wale Ye tir tu ne Sakina ke dil pe mara hai Kis ki mayyat thi ke is rahguzar se guzre Shah Naqvi Kis ki mayyat thi ke is rahguzar se guzre Muskurate hue Shabbir jidhar se guzre Maut qadmon ke nishan dhund rahi hai ab tak Karbala wale Khuda jane kidhar se guzre Phir gaya tha kahin Shabbir ka qissa shayad Abhi rote hue kuchh log idhar se guzre Dal dijiye rukh-e-Asghar pe aba ay Shabbir Zakhm-e-gardan na kahin man ki nazar se guzre Wohi kar sakta hai andaza-e-karb-e-Akbar Pyas mein nok-e-sinan jis ke jigar se guzre Thi ye Sughra ki sada: khat mera leta jaye Karbala jate hue jo bhi idhar se guzre Karbala o Sham o Kufa ja rahe hain aaj bhi Roz-e-Ashura jinhein Shabbir ne awaz di (Shair-e-Ahl-e-Bait Syed Sardar Husain Zaidi marhum) Chhorna nahin hum ko Karbala ka gham tanha Shah Naqvi Chhorna nahin hum ko Karbala ka gham tanha Warna chal nahin sakte hum to do qadam tanha Shah ke azadaro, tum ko khauf-e-mahshar kya Zamin-e-shafaat hai ek ashk-e-gham tanha Phir koi gham-e-duniya us ko chhu nahin sakta Bakhsh de jise Malik, Karbala ka gham tanha Lut chuke haram-e-Shah ke, raat aa gayi sar par Ab to chhor dein un ko bani-e-sitam tanha Wo chale haram-e-Shah ke, nange sar suye Kufa Aage aage unton ke ek asir-e-gham tanha Barha rassiyon mein ek mashk chhoti si Tuta tuta lagta hai bachcha-e-gham tanha (Bashukriya salamkhwan Ashraf Abbas o Imtiyaz Raza Zaidi) Khak jo Marhab o Antar ko chata dete hain Maulana Professor Mirza Akhtar Naqvi Khak jo Marhab o Antar ko chata dete hain Sher ka jaam bhi qatil ko pila dete hain Hum shumar karte hain jin ki, hain Karim Ahl-e-Karam Haq pe aanch aaye to hi ghar apna luta dete hain Izzat o shohrat o iqbal o waqar o daulat Kya kahun apne ghulamon ko wo kya dete hain Jis ko hota nahin kuchh Ayah-e-Tathir ka pas Hum use Majlis-e-Sarwar se utha dete hain
[صفحہ 129 سے جاری] اٹھو علیؑ سے بہت رات ہوگئی اصغرؑ وہ دیکھو خیمے سے ماں نے تمہیں پکارا ہے ستم کے تیر سے سکینہؑ چھیدنے والے یہ تیر تو نے سکینہؑ کے دل پہ مارا ہے کس کی میت تھی کہ اس راہ گزر سے گزرے شاہ نقوی کس کی میت تھی کہ اس راہ گزر سے گزرے مسکراتے ہوئے شبیرؑ جدھر سے گزرے موت قدموں کے نشان ڈھونڈ رہی ہے اب تک کربلا والے خدا جانے کدھر سے گزرے پھر گیا تھا کہیں شبیرؑ کا قصہ شاید ابھی روتے ہوئے کچھ لوگ ادھر سے گزرے ڈال دیجئے رخِ اصغرؑ پہ عبا اے شبیرؑ زخمِ گردن نہ کہیں ماں کی نظر سے گزرے وہی کر سکتا ہے اندازۂ کربِ اکبرؑ پیاس میں نوکِ سناں جس کے جگر سے گزرے تھی یہ صغرا کی صدا: خط مرا لیتا جائے کربلا جاتے ہوئے جو بھی ادھر سے گزرے کربلا و شام و کوفہ جا رہے ہیں آج بھی روزِ عاشورہ جنہیں شبیرؑ نے آواز دی (شاعر اہل بیت سید سردار حسین زیدی مرحوم) چھوڑنا نہیں ہم کو کربلا کا غم تنہا شاہ نقوی چھوڑنا نہیں ہم کو کربلا کا غم تنہا ورنہ چل نہیں سکتے ہم تو دو قدم تنہا شاہ کے عزادارو، تم کو خوفِ محشر کیا ضامنِ شفاعت ہے ایک اشکِ غم تنہا پھر کوئی غمِ دنیا اس کو چھو نہیں سکتا بخش دے جسے مالک، کربلا کا غم تنہا لٹ چکے حرمِ شہ کے، رات آ گئی سر پر اب تو چھوڑ دیں ان کو بانیِ ستم تنہا وہ چلے حرمِ شہ کے، ننگے سر سوئے کوفہ آگے آگے اونٹوں کے ایک اسیرِ غم تنہا بارہا رسیوں میں ایک مشک چھوٹی سی ٹوٹا ٹوٹا لگتا ہے بچۂ غم تنہا (بشکریہ سلام خواں اشرف عباس و امتیاز رضا زیدی) خاک جو مرحب و عنتر کو چٹا دیتے ہیں مولانا پروفیسر مرزا اختر نقوی خاک جو مرحب و عنتر کو چٹا دیتے ہیں شیر کا جام بھی قاتل کو پلا دیتے ہیں ہم شمار کرتے ہیں جن کی، ہیں کریم اہلِ کرم حق پہ آنچ آئے تو ہی گھر اپنا لٹا دیتے ہیں عزت و شہرت و اقبال و وقار و دولت کیا کہوں اپنے غلاموں کو وہ کیا دیتے ہیں جس کو ہوتا نہیں کچھ آیۂ تطہیر کا پاس ہم اسے مجلسِ سرور سے اٹھا دیتے ہیں

130

[Safha 130 se jari] Kausar o Jannat o Tuba ki jise hoti hai fikr Dar-e-Haider ka pata us ko bata dete hain Zulm ke aage jhukate nahin sar Ahl-e-Yaqin Rah-e-ulfat mein gala apna kata dete hain Qabr mein soyenge aram se wo Ahl-e-Aza Wa Husaina ki jo raton ko sada dete hain Ahl-e-Mahshar ki jhuki jati hain ankhen ay Shauq Hashr mein ashk-e-aza aisi ziya dete hain Duniya jo dekhi din se khali Husain ne Sarfaraz Abad Duniya jo dekhi din se khali Husain ne Bunyad La Ilaha ki dali Husain ne Jannat ki arzu mein kahan ja rahe hain log Jannat to Karbala mein manga li Husain ne Takht [lafz ghair wazeh] ka takht isi waqt ho gaya Jab sanad-e-Rasul sambhali Husain ne Allah ke Nabi ko mayassar na ho sake Ansar aise paye misali Husain ne Baiat ke bhi sawal ka wazeh diya jawab Hargiz kisi ki baat na tali Husain ne Bagh-e-Iram ki hur ko to jagir bakhsh di Kehta hai kaun rakh li mali Husain ne Nazron se puchh lijiye, Rubab bhi hai gawah Chhora na ek nishan bhi sawali Husain ne Maqtal se kya uthaya Shahid-e-Rasul Lagta hai kainat utha li Husain ne Thukra ke takht chal diye is bangin ke sath Allama Irfan Haider Abidi Thukra ke takht chal diye is bangin ke sath Shahi palti reh gayi paye Husain ke sath Logo Amir-e-Sham gaya aur Hasan bacha Baiat ka muqabila na karo but-shikan ke sath Islam ki hayat ka unwan ban gaye Pichhe hue the dil ke jo tukre Husain ke sath Ummat ne khub ajr-e-risalat ada kiya Bandhe gaye the barah gale ek rasan ke sath Ye Fatima ke raj dularon se puchhiye Islam zinda rehta hai kis kis jatan ke sath Sajjad bole: kaise Sakina ko ghusl dun Chipka hua hai khun bhara karta badan ke sath Irfan wo dar badar ka bhikari nahin bana Mansub ho gaya jo dar-e-Panjtan ke sath (Bashukriya sozkhwan Palwar Abbas Zaidi baradaran o Naqvi Husain) The zist se yun hathon ko dhoye Sajjad Rahat se na ek raat bhi soye Sajjad Jab tak jiye, hanse na kisi ne dekha Paintis baras bap ko roye Sajjad
[صفحہ 130 سے جاری] کوثر و جنت و طوبیٰ کی جسے ہوتی ہے فکر درِ حیدرؑ کا پتہ اس کو بتا دیتے ہیں ظلم کے آگے جھکاتے نہیں سر اہلِ یقیں راہِ الفت میں گلا اپنا کٹا دیتے ہیں قبر میں سوئیں گے آرام سے وہ اہلِ عزا وا حسینا کی جو راتوں کو صدا دیتے ہیں اہلِ محشر کی جھکی جاتی ہیں آنکھیں اے شوق حشر میں اشکِ عزا ایسی ضیا دیتے ہیں دنیا جو دیکھی دین سے خالی حسینؑ نے سرفراز ابد دنیا جو دیکھی دین سے خالی حسینؑ نے بنیاد لا الٰہ کی ڈالی حسینؑ نے جنت کی آرزو میں کہاں جا رہے ہیں لوگ جنت تو کربلا میں منگالی حسینؑ نے تخت [لفظ غیر واضح] کا تخت اسی وقت ہو گیا جب سندِ رسولؐ سنبھالی حسینؑ نے اللہ کے نبیؐ کو میسر نہ ہو سکے انصار ایسے پائے مثالی حسینؑ نے بیعت کے بھی سوال کا واضح دیا جواب ہرگز کسی کی بات نہ ٹالی حسینؑ نے باغِ ارم کی حور کو تو جاگیر بخش دی کہتا ہے کون رکھ لی مالی حسینؑ نے نظروں سے پوچھ لیجئے، ربابؑ بھی ہے گواہ چھوڑا نہ اک نشان بھی سوالی حسینؑ نے مقتل سے کیا اٹھایا شہیدِ رسولؐ لگتا ہے کائنات اٹھالی حسینؑ نے ٹھکرا کے تخت چل دیئے اس بانگین کے ساتھ علامہ عرفان حیدر عابدی ٹھکرا کے تخت چل دیئے اس بانگین کے ساتھ شاہی پلتی رہ گئی پائے حسینؑ کے ساتھ لوگو امیرِ شام گیا اور حسنؑ بچا بیعت کا مقابلہ نہ کرو بت شکن کے ساتھ اسلام کی حیات کا عنوان بن گئے پیچھے ہوئے تھے دل کے جو ٹکڑے حسینؑ کے ساتھ امت نے خوب اجرِ رسالت ادا کیا باندھے گئے تھے بارہ گلے اک رسن کے ساتھ یہ فاطمہؑ کے راج دلاروں سے پوچھئے اسلام زندہ رہتا ہے کس کس جتن کے ساتھ سجادؑ بولے: کیسے سکینہؑ کو غسل دوں چپکا ہوا ہے خون بھرا کرتا بدن کے ساتھ عرفان وہ در بدر کا بھکاری نہیں بنا منسوب ہوگیا جو درِ پنجتن کے ساتھ (بشکریہ سوزخواں پلوار عباس زیدی برادران و نقوی حسین) تھے زیست سے یوں ہاتھوں کو دھوئے سجادؑ راحت سے نہ اک رات بھی سوئے سجادؑ جب تک جئے، ہنسے نہ کسی نے دیکھا پینتیس برس باپ کو روئے سجادؑ

131

Kya hai batayen aap ko kya kya hamare pas [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Kya hai batayen aap ko kya kya hamare pas Hai hubb-e-Panjtan ka khazana hamare pas Abbas namwar sa hai Aqa hamare pas Pyar-e-Karbala sa saja hamare pas Hum log Fatima ki duaon ka hain asar Hai kis qadar buland ye rutba hamare pas Aal-e-Nabi ka zikr ibadat se kam nahin Farsh-e-aza hai misl-e-musalla hamare pas Surat se ye zamana hamein dega kya fareb Hai sirat-e-Husain ka naqsha hamare pas Hasil hai aadmi hai Alamdar ki sada Aajao le ke kuza Sakina hamare pas Mahshar hamein jahan ki balaon ka dar nahin Nad-e-Ali ka rehta hai pahra hamare pas (Bashukriya nauhakhwan Syed Muhammad Naqsh / Alwida) Aajao imamat ki Husain baradari tak Ashraf Charchavi Aajao imamat ki Husain baradari tak Pahunchoge isi dar se Khuda aur Nabi tak Duniya to Khuda kehne lagi Maula Ali ko Tum Maula ke mafhum mein uljhe ho abhi tak Allah salamat rakhe hum Ahl-e-Aza ko Ay badi-e-dauran, teri amad ki ghari tak [Safha ke balai bayen hisse mein sabiqa kalam ka tasalsul] Jab ashk meri ankh se nikle tere gham mein [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Tufan ho, andhi ho, ajal ho ke munafiq Himmat nahin aa jaye mere ghar ki gali tak Har daur mein is ghar ke makhor rahe Ashraf Jibrail khush-atwar se farzand-e-Wali tak Zainab kamal-e-Sani-e-Qudrat ka naam hai Wahid Hasan Baqi Zainab kamal-e-Sani-e-Qudrat ka naam hai Zainab jamal-e-ru-e-mashiyyat ka naam hai Zainab jalal-e-sahib-e-ghairat ka naam hai Zainab maal-e-kar-e-sadaqat ka naam hai Zainab hai naam azm-e-risalat-maab ka Zainab hai naam dida-e-[lafz ghair wazeh] ka Zainab shuur-e-din-panahi ka naam hai Zainab shua-e-nur-e-ilahi ka naam hai Zainab Yazidiyat ki tabahi ka naam hai Zainab haqiqat ki baqa hi ka naam hai Zainab hai naam azmat-e-Aal-e-Rasul ka Zainab hai juz-e-din ke asl usul ka Zainab dil-e-Habib-e-Ilahi ka chain hai Zainab nazir-e-Fateh-e-Badr o Hunain hai Zainab Janab-e-Fatima ki nur-e-ain hai Zainab sharik-e-kar-e-Imam Husain hai
کیا ہے بتائیں آپ کو کیا کیا ہمارے پاس [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] کیا ہے بتائیں آپ کو کیا کیا ہمارے پاس ہے حبِ پنجتنؑ کا خزانہ ہمارے پاس عباسؑ نامور سا ہے آقا ہمارے پاس پیارِ کربلا سا سجا ہمارے پاس ہم لوگ فاطمہؑ کی دعاؤں کا ہیں اثر ہے کس قدر بلند یہ رتبہ ہمارے پاس آلِ نبیؐ کا ذکر عبادت سے کم نہیں فرشِ عزا ہے مثلِ مصلی ہمارے پاس صورت سے یہ زمانہ ہمیں دے گا کیا فریب ہے سیرتِ حسینؑ کا نقشہ ہمارے پاس حاصل ہے آدمی ہے علمدار کی صدا آجاؤ لے کے کوزہ سکینہؑ ہمارے پاس محشر ہمیں جہاں کی بلاؤں کا ڈر نہیں نادِ علیؑ کا رہتا ہے پہرہ ہمارے پاس (بشکریہ نوحہ خواں سید محمد نقش / الوداع) آجاؤ امامت کی حسین بارہ دری تک اشرف چارچوی آجاؤ امامت کی حسین بارہ دری تک پہنچو گے اسی در سے خدا اور نبیؐ تک دنیا تو خدا کہنے لگی مولا علیؑ کو تم مولا کے مفہوم میں الجھے ہو ابھی تک اللہ سلامت رکھے ہم اہلِ عزا کو اے بادی دوراں، تری آمد کی گھڑی تک [صفحہ کے بالائی بائیں حصے میں سابقہ کلام کا تسلسل] جب اشک مری آنکھ سے نکلے تیرے غم میں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] طوفان ہو، آندھی ہو، اجل ہو کہ منافق ہمت نہیں آ جائے مرے گھر کی گلی تک ہر دور میں اس گھر کے مخور رہے اشرف جبرئیل خوش اطوار سے فرزندِ ولی تک زینبؑ کمالِ صانعِ قدرت کا نام ہے وحید حسن باقی زینبؑ کمالِ صانعِ قدرت کا نام ہے زینبؑ جمالِ روئے مشیت کا نام ہے زینبؑ جلالِ صاحبِ غیرت کا نام ہے زینبؑ مآلِ کارِ صداقت کا نام ہے زینبؑ ہے نام عزمِ رسالت مآب کا زینبؑ ہے نام دیدۂ [لفظ غیر واضح] کا زینبؑ شعورِ دین پناہی کا نام ہے زینبؑ شعاعِ نورِ الٰہی کا نام ہے زینبؑ یزیدیت کی تباہی کا نام ہے زینبؑ حقیقت کی بقا ہی کا نام ہے زینبؑ ہے نام عظمتِ آلِ رسولؐ کا زینبؑ ہے جزوِ دین کے اصل اصول کا زینبؑ دلِ حبیبِ الٰہی کا چین ہے زینبؑ نظیرِ فاتحِ بدر و حنین ہے زینبؑ جنابِ فاطمہؑ کی نورِ عین ہے زینبؑ شریکِ کارِ امام حسینؑ ہے

132

[Zainab — jari] Zainab Husainiyat ki mukammal kitab hai Zainab Yazidiyat ka mudallal jawab hai Zainab hai gulistan-e-risalat ki pasban Zainab hai Mustafa ki shariat ki pasban Zainab hai karwan-e-hidayat ki pasban Zainab hai har Ali ki nubuwwat ki pasban Zainab ki walida se risalat ke sath sath Zainab rahegi zinda imamat ke sath sath Kuchh bhi juz Aal-e-Payambar nahin dekha jata Kausar Naqvi Kuchh bhi juz Aal-e-Payambar nahin dekha jata Un ke sail se koi zar nahin dekha jata Kaise hum dekh saken naqsh-e-kaf-e-paye Husain Hum se to sar-e-Sarwar nahin dekha jata Asr-e-Ashur bhi Shabbir ka nara hai wohi Din ho mushkil mein to lashkar nahin dekha jata Khalq se kehta hai maqtal mein ye andaz-e-Husain Shauq-e-sajda ho to khanjar nahin dekha jata Mere tiron mein ankhon se hain ansu jari Shah se Zainab ko khule sar nahin dekha jata Jab se turbat mein sula aaye hain Asghar ko Husain Man se gahwara-e-Asghar nahin dekha jata Khinchti hui zamin pe jo zanjir-e-pa chali Khinchti hui zamin pe jo zanjir-e-pa chali Likhti hui mazalim-e-jaur o jafa chali Manzar manzar ke ahliyya ki nazar dekhne lagi Zainab maqam-e-sabr mein wo rasta chali Faryad kar rahi thi rasan pesh-e-Karbala Jab tir ho ke zinat-e-Mustafa chali Jab Hurmala ne tir kaman se [lafz ghair wazeh] kiya Navak ke sath janib-e-Asghar qaza chali Donon ko parda-poshi-e-ummat ka dhyan tha Bhai tha be-kafan to bahen be-rida chali Darwaza-e-Karbala koi Zainab se puchh le Kis kis ko sath layi thi aur le ke kya chali Ek dopehar mein lut gaya kunba-e-Batul ka Ay Karbala ke dasht, ye kaisi hawa chali Jalte hue khiyam, wo bechargi ki sham Abbas tum kahan ho, bahen be-rida chali (Bashukriya Alhaj Shabbir Shah o Anwar Nizam-ud-Din) Shah-e-din ka naam lijiye khanda-peshani ke sath Qamar Bahari Shah-e-din ka naam lijiye khanda-peshani ke sath Karbala ka zikr kijiye ashk-afshani ke sath Waqiat-e-Karbala kuchh aur ubhrenge abhi Khun-e-nahaq chhup nahin sakta hai asani ke sath
[زینبؑ — جاری] زینبؑ حسینیت کی مکمل کتاب ہے زینبؑ یزیدیت کا مدلل جواب ہے زینبؑ ہے گلستانِ رسالت کی پاسباں زینبؑ ہے مصطفیٰؐ کی شریعت کی پاسباں زینبؑ ہے کاروانِ ہدایت کی پاسباں زینبؑ ہے ہر علیؑ کی نبوت کی پاسباں زینبؑ کی والدہ سے رسالت کے ساتھ ساتھ زینبؑ رہے گی زندہ امامت کے ساتھ ساتھ کچھ بھی جز آلِ پیمبرؐ نہیں دیکھا جاتا کوثر نقوی کچھ بھی جز آلِ پیمبرؐ نہیں دیکھا جاتا ان کے سائل سے کوئی زر نہیں دیکھا جاتا کیسے ہم دیکھ سکیں نقشِ کفِ پائے حسینؑ ہم سے تو سرِ سرور نہیں دیکھا جاتا عصرِ عاشور بھی شبیرؑ کا نعرہ ہے وہی دین ہو مشکل میں تو لشکر نہیں دیکھا جاتا خلق سے کہتا ہے مقتل میں یہ اندازِ حسینؑ شوقِ سجدہ ہو تو خنجر نہیں دیکھا جاتا میرے تیروں میں آنکھوں سے ہیں آنسو جاری شہ سے زینبؑ کو کھلے سر نہیں دیکھا جاتا جب سے تربت میں سلا آئے ہیں اصغرؑ کو حسینؑ ماں سے گہوارۂ اصغر نہیں دیکھا جاتا کھنچتی ہوئی زمین پہ جو زنجیرِ پا چلی کھنچتی ہوئی زمین پہ جو زنجیرِ پا چلی لکھتی ہوئی مظالمِ جور و جفا چلی منظر منظر کے اہلیا کی نظر دیکھنے لگی زینبؑ مقامِ صبر میں وہ راستہ چلی فریاد کر رہی تھی رسن پیشِ کربلا جب تیر ہو کے زینتِ مصطفیٰؐ چلی جب حرملہ نے تیر کماں سے [لفظ غیر واضح] کیا ناوک کے ساتھ جانبِ اصغرؑ قضا چلی دونوں کو پردہ پوشیِ امت کا دھیان تھا بھائی تھا بے کفن تو بہن بے ردا چلی دروازۂ کربلا کوئی زینبؑ سے پوچھ لے کس کس کو ساتھ لائی تھی اور لے کے کیا چلی اک دوپہر میں لٹ گیا کنبۂ بتولؑ کا اے کربلا کے دشت، یہ کیسی ہوا چلی جلتے ہوئے خیام، وہ بیچارگی کی شام عباسؑ تم کہاں ہو، بہن بے ردا چلی (بشکریہ الحاج شبیر شاہ و انور نظام الدین) شاہِ دیں کا نام لیجئے خندہ پیشانی کے ساتھ قمر بہاری شاہِ دیں کا نام لیجئے خندہ پیشانی کے ساتھ کربلا کا ذکر کیجئے اشک افشانی کے ساتھ واقعاتِ کربلا کچھ اور ابھریں گے ابھی خونِ ناحق چھپ نہیں سکتا ہے آسانی کے ساتھ

133

[Safha 133 se jari] Gardish-e-dauran ki zanjirein abhi kat jayengi Ya Ali keh kar to dekho, josh-e-iman ke sath Hum ghulaman-e-Ali ko khauf-e-mahshar kis liye Ya Ali keh kar guzar jayenge asani ke sath Bhul sakta hi nahin Islam ehsan-e-Husain Mit nahin sakta gham-e-Shabbir asani ke sath Marhaba sabr-e-Husain ibn-e-Ali, sad marhaba Dil ke tukre kar diye Quran asani ke sath Har amal Shabbir ka tafsir-e-Quran ban gaya Har amal marbut tha Ayat-e-Qurani ke sath Madh-e-Ahl-e-Bait karne ko to karta hai Qamar Ilm o fan ke aitiraf-e-[lafz ghair wazeh] ke sath Chali hai rasm-e-sadaqat Husain ke ghar se Syed Aqil Abbas Jafari Chali hai rasm-e-sadaqat Husain ke ghar se Jahan ne payi ye daulat Husain ke ghar se Qiyam-e-Haq ke liye jaan tak luta dena Pari hai ye bhi riwayat Husain ke ghar se Jo tujh ko naz hai Islam par to sun waiz Tujhe mili hai ye nemat Husain ke ghar se Janab-e-Hurr hi nahin, hum ne kitne logon ki Badalti dekhi hai qismat Husain ke ghar se Yazid kya tere ajdad ne bataya na tha Ishq hai khwahish-e-baiat Husain ke ghar se Main tegh ki tarah ghira hun Yazidiyon mein Aqil Ye pesh mein bhi rakhta hun nisbat Husain ke ghar se Karbala walon ke jaise imtihan hote nahin Akhtar Husainpuri Karbala walon ke jaise imtihan hote nahin Is qadar zulm o sitam ay asman hote nahin Yaad aata hai hamein karb-o-bala ka saniha Be-sabab hum raat din waqf-e-fughan hote nahin Jaan de di Shah ne lekin baiat-e-fasiq na ki Din ke Shabbir jaise pasban hote nahin Karbala jannat-nishan Shabbir ke dam se hui Ret ke maidan warna gulistan hote nahin Bakhsh de huron ki khatayen, tuhfa-e-jannat bhi de Hazrat Shabbir jaise mezban hote nahin Bhar liya mashkein na Kausar par Abbas ne Pyas mein aise wafa ke pasban hote nahin Shimr se kehta koi Abid ko mat beri pehna Basta-e-zanjir aise natawan hote nahin Yun zaifi mein jawan ho kar lare Muslim Habib Aise to ahd-e-jawani mein jawan hote nahin
[صفحہ 133 سے جاری] گردشِ دوراں کی زنجیریں ابھی کٹ جائیں گی یا علیؑ کہہ کر تو دیکھو، جوشِ ایماں کے ساتھ ہم غلامانِ علیؑ کو خوفِ محشر کس لئے یا علیؑ کہہ کر گزر جائیں گے آسانی کے ساتھ بھول سکتا ہی نہیں اسلام احسانِ حسینؑ مٹ نہیں سکتا غمِ شبیر آسانی کے ساتھ مرحبا صبرِ حسین ابنِ علیؑ، صد مرحبا دل کے ٹکڑے کر دیئے قرآن آسانی کے ساتھ ہر عمل شبیرؑ کا تفسیرِ قرآن بن گیا ہر عمل مربوط تھا آیاتِ قرآنی کے ساتھ مدحِ اہل بیت کرنے کو تو کرتا ہے قمر علم و فن کے اعترافِ [لفظ غیر واضح] کے ساتھ چلی ہے رسمِ صداقت حسینؑ کے گھر سے سید عقیل عباس جعفری چلی ہے رسمِ صداقت حسینؑ کے گھر سے جہاں نے پائی یہ دولت حسینؑ کے گھر سے قیامِ حق کیلئے جان تک لٹا دینا پڑی ہے یہ بھی روایت حسینؑ کے گھر سے جو تجھ کو ناز ہے اسلام پر تو سن واعظ تجھے ملی ہے یہ نعمت حسینؑ کے گھر سے جنابِ حر ہی نہیں، ہم نے کتنے لوگوں کی بدلتی دیکھی ہے قسمت حسینؑ کے گھر سے یزید کیا ترے اجداد نے بتایا نہ تھا عشق ہے خواہشِ بیعت حسینؑ کے گھر سے میں تیغ کی طرح گھرا ہوں یزیدیوں میں عقیل یہ پیش میں بھی رکھتا ہوں نسبت حسینؑ کے گھر سے کربلا والوں کے جیسے امتحاں ہوتے نہیں اختر حسین پوری کربلا والوں کے جیسے امتحاں ہوتے نہیں اس قدر ظلم و ستم اے آسماں ہوتے نہیں یاد آتا ہے ہمیں کرب و بلا کا سانحہ بے سبب ہم رات دن وقفِ فغاں ہوتے نہیں جان دے دی شہؑ نے لیکن بیعتِ فاسق نہ کی دین کے شبیرؑ جیسے پاسباں ہوتے نہیں کربلا جنت نشاں شبیرؑ کے دم سے ہوئی ریت کے میدان ورنہ گلستاں ہوتے نہیں بخش دے حوروں کی خطائیں، تحفۂ جنت بھی دے حضرت شبیرؑ جیسے میزباں ہوتے نہیں بھر لیا مشکیں نہ کوثر پر عباسؑ نے پیاس میں ایسے وفا کے پاسباں ہوتے نہیں شمر سے کہتا کوئی عابد کو مت بیڑی پہنا بستہ زنجیر ایسے ناتواں ہوتے نہیں یوں ضعیفی میں جواں ہو کر لڑے مسلم حبیب ایسے تو عہدِ جوانی میں جواں ہوتے نہیں

134

Ghuli hai tishna-labi ki kitab pani mein Rehan Azmi Ghuli hai tishna-labi ki kitab pani mein Wafa dikha gayi Khaibar ka bab pani mein Jalal-e-Hazrat Abbas, tegh o mashk o alam Chamak rahe hain kai aftab pani mein Sawar pyasa raha, rahwar pyasa raha Agarche dub chuki thi rikab pani mein Bula bula ke shahidon ke naam par pani Nikali khub ye rah-e-sawab pani mein [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Gham-e-Husain ke taza gulab pani mein Agar Husain na hote to mil gaya hota Tamam kar-e-risalat-maab pani mein Pahunchta hai dil-e-khun ho ke ankhon se Najane dekhti kya hain Rubab pani mein Ajab shahadat-e-Shabbir ka hai pas-manzar Sawal dasht mein dekha, jawab pani mein Lab-e-Sakina se jo pyas ban ke ubhra tha Simat ke aa gaya wo iztirab pani mein Laga ke bandish-e-ab-e-rawan Shah-e-din par Adu ki hogi mitti kharab pani mein Bajuz shujaat-e-Abbas namwar, Rehan Likha hai kis ne wafa ka nisab pani mein Mujrai kehte hain Shabbir ka shaida mujh ko Rehan Azmi Mujrai kehte hain Shabbir ka shaida mujh ko Hashr ki dhup ka phir kya raha khatra mujh ko Kehti thi Aun o Muhammad se ye Bint-e-Zahra Pi liya pani to dikhlana na chehra mujh ko Bole Abbas: sharminda hun bachchon se bahut Janib-e-khaima na le jaye Aqa mujh ko Lash-e-Akbar pe ye farmate the ro kar Shabbir Zakhm dikhlate ho, dikhlana tha sehra mujh ko Banu kehti thin: buri sans ruki jati hai Mar dalega ye sahra, hawa jalta mujh ko Qaid-khane mein Sakina ka ye bayan tha: Baba Aaye dasta hai zindan ka andhera mujh ko Aa ke rauze pe Muhammad ke pukarin Zainab Dar badar aap ki ummat ne phera mujh ko (Bashukriya sozkhwan Waqar Husain o Naqvi baradaran) Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma juzwi taur par ghair wazeh]
گھلی ہے تشنہ لبی کی کتاب پانی میں ریحان اعظمی گھلی ہے تشنہ لبی کی کتاب پانی میں وفا دکھا گئی خیبر کا باب پانی میں جلالِ حضرت عباسؑ، تیغ و مشک و علم چمک رہے ہیں کئی آفتاب پانی میں سوار پیاسا رہا، راہوار پیاسا رہا اگرچہ ڈوب چکی تھی رکاب پانی میں بلا بلا کے شہیدوں کے نام پر پانی نکالی خوب یہ راہِ ثواب پانی میں [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] غمِ حسینؑ کے تازہ گلاب پانی میں اگر حسینؑ نہ ہوتے تو مل گیا ہوتا تمام کارِ رسالت مآب پانی میں پہنچتا ہے دلِ خوں ہو کے آنکھوں سے نجانے دیکھتی کیا ہیں ربابؑ پانی میں عجب شہادتِ شبیرؑ کا ہے پس منظر سوال دشت میں دیکھا، جواب پانی میں لبِ سکینہؑ سے جو پیاس بن کے ابھرا تھا سمٹ کے آ گیا وہ اضطراب پانی میں لگا کے بندشِ آبِ رواں شہِ دیں پر عدو کی ہوگی مٹی خراب پانی میں بجز شجاعتِ عباسؑ نامور، ریحان لکھا ہے کس نے وفا کا نصاب پانی میں مجرئی کہتے ہیں شبیرؑ کا شیدا مجھ کو ریحان اعظمی مجرئی کہتے ہیں شبیرؑ کا شیدا مجھ کو حشر کی دھوپ کا پھر کیا رہا خطرہ مجھ کو کہتی تھی عونؑ و محمدؑ سے یہ بنتِ زہرا پی لیا پانی تو دکھلانا نہ چہرہ مجھ کو بولے عباسؑ: شرمندہ ہوں بچوں سے بہت جانبِ خیمہ نہ لے جائے آقا مجھ کو لاشِ اکبرؑ پہ یہ فرماتے تھے رو کر شبیرؑ زخم دکھلاتے ہو، دکھلانا تھا سہرا مجھ کو بانو کہتی تھیں: بری سانس رکی جاتی ہے مار ڈالے گا یہ صحرا، ہوا جلتا مجھ کو قید خانے میں سکینہؑ کا یہ بیاں تھا: بابا آئے ڈستا ہے زندان کا اندھیرا مجھ کو آ کے روضے پہ محمدؐ کے پکاریں زینبؑ درد بدر آپ کی امت نے پھیرا مجھ کو (بشکریہ سوزخواں وقار حسین و نقوی برادران) التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب [اسماء جزوی طور پر غیر واضح]

135

Kahan wo fikr-e-duniya koi daman-gir rakhte hain Syed Aqil Abbas Jafari Kahan wo fikr-e-duniya koi daman-gir rakhte hain Ke apne hath mein jo daman-e-Shabbir rakhte hain Shab-e-Ashur ye kuchh chadaron se hua roshan Andhere mein bhi kuchh chehre ajab tanwir rakhte hain Nazar aati nahin lekin rag-o-pay mein utarti hai Ajab talwar hai jo Asghar-e-be-shir rakhte hain Unhein be-maqna o chadar karega kya bhala koi Jo sar par sayaban-e-chadar-e-Tathir rakhte hain Zamin Hazrat Musa mein rakha hai qadam lekin Na mansab se gharaz, na khwahish-e-jagir rakhte hain (Bashukriya sozkhwan Aftab Zahra / Mona Begum Syed Ali Husain) Husain karb-o-bala ko bana ke soye hain Zafar Abbas Zafar Husain karb-o-bala ko bana ke soye hain Madina chhor ke jangal mein aa ke soye hain Isi ke waste mangi thi muhlat ek shab Husain Haq ka muqaddar jaga ke soye hain Jo sath le ke gaye dagh-e-matam-e-Shabbir Chiragh apni lahad mein jala ke soye hain Sakina pas na bhula na god-e-madar ki Kahan ye Asghar-e-nadan ja ke soye hain Zaban-e-khushk se manga tha pyas mein pani Mila hai tir magar muskura ke soye hain Utha na [lafz ghair wazeh] un yatim bachchon ko Tamanche Shimr ke masum kha ke soye hain Lahu bhi tar na hui, haye bekasi Husain Par ki lash pe ansu baha ke soye hain (Bashukriya sozkhwan Syed Azadar Husain Kazmi) Ye matam ki sada zinda rahegi Suhail Shah Ye matam ki sada zinda rahegi Hamein karb-o-bala zinda rakhegi Alam ke saye mein aaja ke tujh ko [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ali ke ishq mein mar jaye jo bhi Use us ki qaza zinda rakhegi Aza Shabbir ki marne na degi Dua-e-Sayyida zinda rakhegi Main duniya se chala jaunga lekin Mujhe Shabbir ki aza zinda rakhegi Hamesha qaid-khane ki faza ko Sakina ki buka zinda rakhegi Suhail apne kafan mein sath le ja Tujhe khak-e-shifa zinda rakhegi (Bashukriya salamkhwan Anees Haider Naqvi)
کہاں وہ فکرِ دنیا کوئی دامن گیر رکھتے ہیں سید عقیل عباس جعفری کہاں وہ فکرِ دنیا کوئی دامن گیر رکھتے ہیں کہ اپنے ہاتھ میں جو دامنِ شبیرؑ رکھتے ہیں شبِ عاشور یہ کچھ چادروں سے ہوا روشن اندھیرے میں بھی کچھ چہرے عجب تنویر رکھتے ہیں نظر آتی نہیں لیکن رگ و پے میں اترتی ہے عجب تلوار ہے جو اصغرِ بے شیر رکھتے ہیں انہیں بے مقنع و چادر کرے گا کیا بھلا کوئی جو سر پر سایبانِ چادرِ تطہیر رکھتے ہیں زمین حضرت موسیٰ میں رکھا ہے قدم لیکن نہ منصب سے غرض، نہ خواہشِ جاگیر رکھتے ہیں (بشکریہ سوزخواں آفتاب زہرا / مونا بیگم سید علی حسین) حسینؑ کرب و بلا کو بنا کے سوئے ہیں ظفر عباس ظفر حسینؑ کرب و بلا کو بنا کے سوئے ہیں مدینہ چھوڑ کے جنگل میں آ کے سوئے ہیں اسی کے واسطے مانگی تھی مہلت ایک شب حسینؑ حق کا مقدر جگا کے سوئے ہیں جو ساتھ لے کے گئے داغِ ماتمِ شبیر چراغ اپنی لحد میں جلا کے سوئے ہیں سکینہؑ پاس نہ بھولا نہ گودِ مادر کی کہاں یہ اصغرؑ نادان جا کے سوئے ہیں زبانِ خشک سے مانگا تھا پیاس میں پانی ملا ہے تیر مگر مسکرا کے سوئے ہیں اٹھا نہ [لفظ غیر واضح] ان یتیم بچوں کو طمانچے شمر کے معصوم کھا کے سوئے ہیں لہو بھی تر نہ ہوئی، ہائے بے کسی حسینؑ پر کی لاش پہ آنسو بہا کے سوئے ہیں (بشکریہ سوزخواں سید عزادار حسین کاظمی) یہ ماتم کی صدا زندہ رہے گی سہیل شاہ یہ ماتم کی صدا زندہ رہے گی ہمیں کرب و بلا زندہ رکھے گی علم کے سائے میں آجا کہ تجھ کو [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] علیؑ کے عشق میں مر جائے جو بھی اسے اس کی قضا زندہ رکھے گی عزا شبیرؑ کی مرنے نہ دے گی دعائے سیدہؑ زندہ رکھے گی میں دنیا سے چلا جاؤں گا لیکن مجھے شبیرؑ کی عزا زندہ رکھے گی ہمیشہ قید خانے کی فضا کو سکینہؑ کی بکا زندہ رکھے گی سہیل اپنے کفن میں ساتھ لے جا تجھے خاکِ شفا زندہ رکھے گی (بشکریہ سلام خواں انیس حیدر نقوی)

136

Karbala ki sher-dil khatun Zainab assalam [Shair ka naam juzwi taur par ghair wazeh] Karbala ki sher-dil khatun Zainab, assalam Assalam ay Sani-e-Zahra, ay khub-ru nek-naam Dard-e-bedari [misra juzwi taur par ghair wazeh] al-aman Aur kitni gham Karbala se Kufa aur Kufa se Sham Sham ke bazar mein pahuncha jo lut kar qafila Kya qiyamat thi, tamashe dekhte khas o aam Chhin gayi sar se rida, bazu bandhe aur ankh nam Sabr o zabt-e-Zainab-e-dilgir ka hai kya maqam Ay sharik-e-kar-e-Haq, ay hami-e-din-e-Nabi Ay Muhammad ki nawasi, tujh pe hon lakhon salam Kis tarah tere masaib ka bayan shuru se ho Jab jigar phatta ho in azkar se ay nek-naam (Bashukriya salamkhwan Syed Baqir Husain Azmi) Har samt jahan mein hai shohra-e-Ali Akbar ka Shair o sozkhwan Kashif Zaidi Har samt jahan mein hai shohra-e-Ali Akbar ka Rutba hai khalaeq mein aala Ali Akbar ka Shabbir thamate the Abbas ke jhule ko Abbas jhulate hain jhula Ali Akbar ka Shabbir ke [lafz ghair wazeh], neza na laga zalim Hai phul se bhi khub-tar sina Ali Akbar ka Sarwar ne zaban khinchi jab sina-e-Akbar se To sath kaleja bhi aaya Ali Akbar ka Faryad thi Sughra ki: imdad karo Baba Uthta nahin sine se lasha Ali Akbar ka Puchha gaya jab Shah se: kyun gham hai magar Maula Farmaya: uthaya tha lasha Ali Akbar ka Kaunain ki shahzadi deti hai dua Kashif Zainab ko jo deta hai pursa Ali Akbar ka Ahl-e-Kufa ne dagha Muslim se be-taqsir ki Ahl-e-Kufa ne dagha Muslim se be-taqsir ki Khud likha: baiat karenge Hazrat Shabbir ki Kis qadar zulm tha dushman-e-Payambar ke khilaf Ek [lafz ghair wazeh] par charhai lashkar-e-be-pir ki Zakhm khate jate the aur karte jate the dua Khair ho ay Malik-e-kaun-o-makan Shabbir ki Baad-e-qatl-e-Hazrat Muslim har ek be-din ne Chhini thi phir tak amez wo tadbir ki Dar pe latkaya sar-e-Muslim tamashe ke liye Lash khinchi har gali kuche mein be-taqsir ki (Bashukriya sozkhwan Arif Husain o Athar Jafari)
کربلا کی شیر دل خاتون زینبؑ السلام [شاعر کا نام جزوی طور پر غیر واضح] کربلا کی شیر دل خاتون زینبؑ، السلام السلام اے ثانیِ زہرا، اے خوبرو نیک نام دردِ بیداری [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] الامان اور کتنی غم کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام شام کے بازار میں پہنچا جو لٹ کر قافلہ کیا قیامت تھی، تماشے دیکھتے خاص و عام چھین گئی سر سے ردا، بازو بندھے اور آنکھ نم صبر و ضبطِ زینبِ دلگیر کا ہے کیا مقام اے شریکِ کارِ حق، اے حامیِ دینِ نبیؐ اے محمدؐ کی نواسی، تجھ پہ ہوں لاکھوں سلام کس طرح تیرے مصائب کا بیاں شروع سے ہو جب جگر پھٹتا ہو ان اذکار سے اے نیک نام (بشکریہ سلام خواں سید باقر حسین اعظمی) ہر سمت جہاں میں ہے شہرۂ علی اکبرؑ کا شاعر و سوزخواں کاشف زیدی ہر سمت جہاں میں ہے شہرۂ علی اکبرؑ کا رتبہ ہے خلائق میں اعلیٰ علی اکبرؑ کا شبیرؑ تھماتے تھے عباسؑ کے جھولے کو عباسؑ جھلاتے ہیں جھولا علی اکبرؑ کا شبیرؑ کے [لفظ غیر واضح]، نیزہ نہ لگا ظالم ہے پھول سے بھی خوب تر سینہ علی اکبرؑ کا سرور نے زباں کھینچی جب سینۂ اکبر سے تو ساتھ کلیجہ بھی آیا علی اکبرؑ کا فریاد تھی صغریٰ کی: امداد کرو بابا اٹھتا نہیں سینے سے لاشہ علی اکبرؑ کا پوچھا گیا جب شہؑ سے: کیوں غم ہے مگر مولا فرمایا: اٹھایا تھا لاشہ علی اکبرؑ کا کونین کی شہزادی دیتی ہے دعا کاشف زینبؑ کو جو دیتا ہے پرسہ علی اکبرؑ کا اہلِ کوفہ نے دغا مسلمؑ سے بے تقصیر کی اہلِ کوفہ نے دغا مسلمؑ سے بے تقصیر کی خود لکھا: بیعت کریں گے حضرت شبیرؑ کی کس قدر ظلم تھا دشمنِ پیغمبرؐ کے خلاف ایک [لفظ غیر واضح] پر چڑھائی لشکرِ بے پیر کی زخم کھاتے جاتے تھے اور کرتے جاتے تھے دعا خیر ہو اے مالکِ کون و مکاں شبیرؑ کی بعدِ قتلِ حضرت مسلمؑ ہر اک بے دین نے چھینی تھی پھر تک آمیز وہ تدبیر کی در پہ لٹکایا سرِ مسلمؑ تماشے کیلئے لاش کھینچی ہر گلی کوچے میں بے تقصیر کی (بشکریہ سوزخواں عارف حسین و اطہر جعفری)

137

Ay chand-e-Karbala ke tu ne to dekhe honge Syed Sibt-e-Jafar Ay chand-e-Karbala ke tu ne to dekhe honge Utre the is zamin par arsh-e-barin ke tare Ay chand jalwa-gar hai matam ka chand yahan par Khairat-e-roshni ki le lijiyo yahan se Ay chand is zamin par rakho hamesha thandak Sote jo hain yahan par Zahra ke hain ye pyare Tasnim o Salsabil o Kausar ke hain ye malik Mare gaye jo pyase is nahr ke kinare Hurr aur Habib jaise janbaz aur [lafz ghair wazeh] Mare gaye yahin par Ansar-e-Shah-e-din ke Mare gaye yahin par be-dardi o sitam se Muslim ke donon pyare, Zainab ke donon bete Pyas ho rahi thi Qasim ki lash ran mein Abbas aur Sarwar the un ke ghore Bazu kate yahin par Abbas-e-bawafa ke Izn-e-wafa na paya, pani bhi la na paye Is sarzamin pe guzra Sarwar pe bhi sadma Sine pe khai barchhi shakl-e-Mustafa ne Pani pilane laye ek mah-liqa ko Sarwar Kya zabh Hurmala ne tir-e-sitam laga ke Gardan chhiri par ki, bazu chhida pidar ka Donon tarap tarap kar pyase jahan se guzre Is ran mein ek bachchi Baba ko dhundti thi Khare hue pare the jab sar-burida lashe Phir bhi tu ne dekha wo gham-rasida bachchi Sine pe so rahi thi be-sar pidar se lipte Bazu bandhe yahin par pahle pahal Haram ke Is sarzamin se nikle Sajjad sar jhukaye Shahzada jahan hi malik hai Karbala ka Kis ki majal aaye jab tak na wo bulaye Pahunche hain Karbala mein jo log Sibt-e-Jafar Ay kash phir muqaddar un ko ye din dikhaye (Daur-e-Karbala ke mauqa par pahunche chand ko dekh kar kahe gaye ashar) Bain [Is hisse ki mutaddid satrein juzwi taur par ghair wazeh] Kahin baton mein soz na ho, kahan sauda sai [Matn juzwi taur par ghair wazeh]
اے چاندِ کربلا کے تو نے تو دیکھے ہوں گے سید سبط جعفر اے چاندِ کربلا کے تو نے تو دیکھے ہوں گے اترے تھے اس زمیں پر عرشِ بریں کے تارے اے چاند جلوہ گر ہے ماتم کا چاند یہاں پر خیراتِ روشنی کی لے لیجیو یہاں سے اے چاند اس زمیں پر رکھو ہمیشہ ٹھنڈک سوتے جو ہیں یہاں پر زہرا کے ہیں یہ پیارے تسنیم و سلسبیل و کوثر کے ہیں یہ مالک مارے گئے جو پیاسے اس نہر کے کنارے حر اور حبیب جیسے جانباز اور [لفظ غیر واضح] مارے گئے یہیں پر انصارِ شاہِ دیں کے مارے گئے یہیں پر بے دردی و ستم سے مسلمؑ کے دونوں پیارے، زینبؑ کے دونوں بیٹے پیاس ہو رہی تھی قاسمؑ کی لاش رن میں عباسؑ اور سرور تھے ان کے گھوڑے بازو کٹے یہیں پر عباسؑ باوفا کے اذنِ وفا نہ پایا، پانی بھی لا نہ پائے اس سرزمیں پہ گزرا سرورؑ پہ بھی صدمہ سینے پہ کھائی برچھی شکلِ مصطفیٰؐ نے پانی پلانے لائے اک ماہ لقا کو سرورؑ کیا ذبح حرملہ نے تیرِ ستم لگا کے گردن چھڑی پر کی، بازو چھدا پدر کا دونوں تڑپ تڑپ کر پیاسے جہاں سے گزرے اس رن میں ایک بچی بابا کو ڈھونڈتی تھی کھڑے ہوئے پڑے تھے جب سر بریدہ لاشے پھر بھی تو نے دیکھا وہ غم رسیدہ بچی سینے پہ سو رہی تھی بے سر پدر سے لپٹے بازو بندھے یہیں پر پہلے پہل حرم کے اس سرزمیں سے نکلے سجادؑ سر جھکائے شہزادہ جہاں ہی مالک ہے کربلا کا کس کی مجال آئے جب تک نہ وہ بلائے پہنچے ہیں کربلا میں جو لوگ سبط جعفر اے کاش پھر مقدر ان کو یہ دن دکھائے (دورِ کربلا کے موقع پر پہنچے چاند کو دیکھ کر کہے گئے اشعار) بین [اس حصے کی متعدد سطریں جزوی طور پر غیر واضح] کہیں باتوں میں سوز نہ ہو، کہاں سودا سائی [متن جزوی طور پر غیر واضح]

138

Karbala ki khak par kya aadmi sajde mein hai Iftikhar Arif Karbala ki khak par kya aadmi sajde mein hai Maut ruswa ho chuki hai, zindagi sajde mein hai Ye jo mizhgan sar jhukti hain [misra juzwi taur par ghair wazeh] Aisa lagta hai yahan pyasa koi sajde mein hai Nok-e-neza par bhi hoti hai tilawat baad-e-asr Mushaf-e-natiq, ye fakhr-e-aadmi sajde mein hai Wo jo ek sajda-e-Ali ka bojh raha tha waqt-e-fajr Fatima ka lal shayad ab isi sajde mein hai Sunnat-e-Payambar-e-Khatam hai sajde ka ye tul Kal Nabi sajde mein the, ab ek nawasa sajde mein hai Wo jo Ashura ki shab gul ho gaya tha dil-chiragh Ab qiyamat tak isi ki roshni sajde mein hai Hashr tak jis ki qasam khate rahenge Ahl-e-Haq Ek nafs-e-mutmain is wadi-e-sajde mein hai Is pe hairat kya, laraz uthi zamin-e-Karbala Rakib-e-dosh-e-Payambar aakhri sajde mein hai (Bashukriya sozkhwan baradaran Kazim o Abbas) Khuda-shinasi o khud-agahi Husain se hai Anwar Turabi Khuda-shinasi o khud-agahi Husain se hai Ke aadmi ba-Khuda aadmi Husain se hai Jala gaya hai bahattar chiragh-e-ilm o amal Jahan mein char taraf roshni Husain se hai Usul-e-din ka tahaffuz, furu-e-din ki baqa Jahan mein kal ki tarah aaj bhi Husain se hai Jahan se farq-e-halal o haram uth jata Ye waqfiyat-e-amr o nahi Husain se hai Mite na hum to azadari ke sabab na mite Hamari zist ka unwan hi Husain se hai Husain ke liye jina, Husain par marna Hayat o maut ki wabastagi Husain se hai Yazid-e-asr ko khamosh hum na kar paye Jhuki hain gardanein, sharmindagi Husain se hai Rahe nasib, asar shair-e-Husain pe ho Tamam shohrat o izzat teri Husain se hai (Bashukriya Sheikh Zahir Sultan Haidari) Chhor kar batil ka dar tujh pe khule dar sainkron Tahir Nasir Ali (Lahore) Chhor kar batil ka dar tujh pe khule dar sainkron Khari qismat pe qurban hain muqaddar sainkron Rehte hain mahfuz har gham se gham-e-Shah ke tufail Matam-e-Shabbir se abad hain ghar sainkron Muskura kar takht-e-shahi ko ulat kar rakh diya Jo kiya Asghar ne kar sakte na lashkar sainkron
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے افتخار عارف کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے موت رسوا ہوچکی ہے، زندگی سجدے میں ہے یہ جو مژگاں سر جھکتی ہیں [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] ایسا لگتا ہے یہاں پیاسا کوئی سجدے میں ہے نوکِ نیزہ پر بھی ہوتی ہے تلاوت بعدِ عصر مصحفِ ناطق، یہ فخرِ آدمی سجدے میں ہے وہ جو اک سجدۂ علیؑ کا بوجھ رہا تھا وقتِ فجر فاطمہؑ کا لال شاید اب اسی سجدے میں ہے سنتِ پیغمبرِ خاتم ہے سجدے کا یہ طول کل نبیؐ سجدے میں تھے، اب ایک نواسہ سجدے میں ہے وہ جو عاشورہ کی شب گل ہوگیا تھا دل چراغ اب قیامت تک اسی کی روشنی سجدے میں ہے حشر تک جس کی قسم کھاتے رہیں گے اہلِ حق ایک نفسِ مطمئن اس وادیِ سجدے میں ہے اس پہ حیرت کیا، لرز اٹھی زمینِ کربلا راکبِ دوشِ پیغمبرؐ آخری سجدے میں ہے (بشکریہ سوزخواں برادران کاظم و عباس) خدا شناسی و خود آگہی حسینؑ سے ہے انور ترابی خدا شناسی و خود آگہی حسینؑ سے ہے کہ آدمی بخدا آدمی حسینؑ سے ہے جلا گیا ہے بہتر چراغِ علم و عمل جہاں میں چار طرف روشنی حسینؑ سے ہے اصولِ دین کا تحفظ، فروعِ دین کی بقا جہاں میں کل کی طرح آج بھی حسینؑ سے ہے جہاں سے فرقِ حلال و حرام اٹھ جاتا یہ واقفیتِ امر و نہی حسینؑ سے ہے مٹے نہ ہم تو عزاداری کے سبب نہ مٹے ہماری زیست کا عنوان ہی حسینؑ سے ہے حسینؑ کے لئے جینا، حسینؑ پر مرنا حیات و موت کی وابستگی حسینؑ سے ہے یزیدِ عصر کو خاموش ہم نہ کر پائے جھکی ہیں گردنیں، شرمندگی حسینؑ سے ہے رہے نصیب، اثر شاعرِ حسین پہ ہو تمام شہرت و عزت تری حسینؑ سے ہے (بشکریہ شیخ ظہیر سلطان حیدری) چھوڑ کر باطل کا در تجھ پہ کھلے در سینکڑوں طاہر ناصر علی (لاہور) چھوڑ کر باطل کا در تجھ پہ کھلے در سینکڑوں کھڑی قسمت پہ قربان ہیں مقدر سینکڑوں رہتے ہیں محفوظ ہر غم سے غمِ شہ کے طفیل ماتمِ شبیرؑ سے آباد ہیں گھر سینکڑوں مسکرا کر تختِ شاہی کو الٹ کر رکھ دیا جو کیا اصغرؑ نے کر سکتے نہ لشکر سینکڑوں

139

[Safha 139 se jari] Sirf Tahir hi nahin hai in ghamon mein nauhakhwan Kar diye paida gham-e-Shah ne sukhanwar sainkron Rubai Syed Zeeshan Haider Zeeshan Dushwar yahi kam ye karta hoga Haq baat pe kal kan to dharta hoga Jannat ke talabgar ye sare hain lekin Shabbir ka matam unhein karta hoga [Qita] Khanjar pe kar raha tha tilawat tera Imam Duniya ko mojiza ye dikhaya Husain ne Qanun-e-Haq mein [lafz ghair wazeh] hidayat Husain hain Raz-e-chiragh-e-kufr bujhaya Husain ne (Makhuz az taalluq-e-zindan: Hazrat Zair Lakhnavi) Allama Talib Jauhari Muddazillahu Majlis ki niyat aati ilm ki darwazon se Danai ne sare sanche tor diye nadani ke Qita / Pir Nasir-ud-Din Golra Sharif Ye bacha to hi barf tha sar-e-maqtal lekin Roshni asl mein thi Ahmad-e-Mukhtar ke sath Karbala maqtulon ne ise paband hun Waqt kya khak chalega teri raftar ke sath [Ek sher juzwi taur par ghair wazeh] Aa ke milte hain is Sham darbar ke sath Husain jab ke chale baad dopehar ran ko Husain jab chale baad dopehar ran ko Na tha koi ke jo thame rikab-e-tausan ko Sakina thame khari thin qaba ke daman ko Husain chupke khare the jhukaye gardan ko Na aasra tha koi Shah-e-Karbalai ko Faqat bahen ne kiya tha sawar bhai ko Pukarte the Haram ro ke haye faryad Tumhari bibiyan jangal mein hongi barbad Koi milon, koi nauhagar, koi nashad Kahin zamin pe bazu kate aur kahin Sajjad Pukarte the Haram Shah namdar chale Khud aap marne chale aur hum ko mar chale Wo fikr o yas ka alam, wo bekasi ka hujum Wo sar jhukaye hue Shah-e-bekas o mazlum Wo shor-e-nala o matam, wo aurad ki rusum Qadam se Shah ke lipti hain Zainab o Kulsum Kabhi tarapte hain bachche, kabhi bilakte hain Husain pas se ek ek ke rukhsat hain Koi ye kehti hai Khuda ko kis pe chhor chale Kisi ka shohar hai, dukhtar ko kis pe chhor chale Kisi ka tifl hai, kamsin ko kis pe chhor chale Koi pukarti hai ghar ko kis pe chhor chale Zara mariz liye ghar ko kya sambhalega Huzur ab mere bachche ko kaun palega
[صفحہ 139 سے جاری] صرف طاہر ہی نہیں ہے ان غموں میں نوحہ خواں کردیے پیدا غمِ شہ نے سخنور سینکڑوں رباعی سید ذیشان حیدر ذیشان دشوار یہی کام یہ کرتا ہوگا حق بات پہ کل کان تو دھرتا ہوگا جنت کے طلبگار یہ سارے ہیں لیکن شبیرؑ کا ماتم انہیں کرتا ہوگا [قطعہ] خنجر پہ کر رہا تھا تلاوت تیرا امام دنیا کو معجزہ یہ دکھایا حسینؑ نے قانونِ حق میں [لفظ غیر واضح] ہدایت حسینؑ ہیں رازِ چراغِ کفر بجھایا حسینؑ نے (ماخوذ از تعلقِ زندان: حضرت زائر لکھنوی) علامہ طالب جوہری مدظلہ مجلس کی نیت آتی علم کی دروازوں سے دانائی نے سارے سانچے توڑ دیے نادانی کے قطعہ / پیر نصیر الدین گولڑہ شریف یہ بچا تو ہی برف تھا سرِ مقتل لیکن روشنی اصل میں تھی احمدِ مختار کے ساتھ کربلا مقتولوں نے اسے پابند ہوں وقت کیا خاک چلے گا تری رفتار کے ساتھ [ایک شعر جزوی طور پر غیر واضح] آ کے ملتے ہیں اس شام دربار کے ساتھ حسینؑ جب کہ چلے بعد دوپہر رن کو حسینؑ جب چلے بعد دوپہر رن کو نہ تھا کوئی کہ جو تھامے رکابِ توسن کو سکینہؑ تھامے کھڑی تھیں قبا کے دامن کو حسینؑ چپکے کھڑے تھے جھکائے گردن کو نہ آسرا تھا کوئی شاہِ کربلائی کو فقط بہن نے کیا تھا سوار بھائی کو پکارتے تھے حرم رو کے ہائے فریاد تمہاری بیبیاں جنگل میں ہوں گی برباد کوئی ملوں، کوئی نوحہ گر، کوئی ناشاد کہیں زمین پہ بازو کٹے اور کہیں سجادؑ پکارتے تھے حرم شاہ نامدار چلے خود آپ مرنے چلے اور ہم کو مار چلے وہ فکر و یاس کا عالم، وہ بے کسی کا ہجوم وہ سر جھکائے ہوئے شاہِ بے کس و مظلوم وہ شورِ نالہ و ماتم، وہ اوراد کی رسوم قدم سے شاہ کے لپٹی ہیں زینبؑ و کلثومؑ کبھی تڑپتے ہیں بچے، کبھی بلکتے ہیں حسینؑ پاس سے اک اک کے رخصت ہیں کوئی یہ کہتی ہے خدا کو کس پہ چھوڑ چلے کسی کا شوہر ہے، دختر کو کس پہ چھوڑ چلے کسی کا طفل ہے، کمسن کو کس پہ چھوڑ چلے کوئی پکارتی ہے گھر کو کس پہ چھوڑ چلے ذرا مریض لئے گھر کو کیا سنبھالے گا حضور اب مرے بچے کو کون پالے گا

140

No transliteration available for this page.

مراثی ضروری نوٹ ☆ اگر اختصار مقصود ہو تو ایسے بند چھوڑے جا سکتے ہیں کہ جن پر × کا نشان بنا ہوا ہے۔ ☆ اگر مختصر مرثیہ پڑھنا ہو تو وہاں پر ختم کر دیں جہاں مطلع / مصرعۂ اولیٰ کے بعد ........ کا نشان بنا ہوا ہے۔ قائم اگر مرثیہ کو طول دینا ہو تو اس نشان کو نظر انداز کر کے مرثیہ کو آخر / اختتام تک پڑھا جائے۔ گویانش کا نشان کا مطلب یہ ہے کہ حسبِ ضرورت اس مقام پر مرثیہ ختم کر دیں یا آگے بڑھ جائیں۔ ☆ “اور” جہاں کھینچ کر پڑھنا ہے وہاں مد کی علامت اور جہاں کو کھینچ بغیر یعنی مختصر پڑھنا ہے وہاں ساکن “^” کی علامت موجود ہے۔

141

Ghar se jab bahr-e-safar Syed-e-Alam nikle 1 Ghar se jab bahr-e-safar Syed-e-Alam nikle Sar jhukaye hue ba-dida-e-nam hum nikle Khwaish o farzand pare bandhe ke baham nikle Ro ke farmaya ke is shahr se ab hum nikle Raat se ghar se Zahra ki sada aati hai Dekhein qismat hamein dasht mein le jati hai 2 Dard kya tha sar-e-nau ke qamar, Shahzada-e-Imam Phir taslim mujhe mufassal bab salam Izn pa jo gaye qabr ke nazdik Imam Arz ki: aaya hun aaj aakhri rukhsat ko ghulam Ye makan hum se ab ay Shah-e-Zulmanan chhutta hai Aaj Hazrat ke nawase se watan chhutta hai 3 Ankhon se sab hain gharon mein, mujhe aata nahin chain Sakht afat mein hai ab aap ka ye nur-e-ain Gher lega ye jab log Haram karte hain bain Nanhe bachchon ko bhala le ke kidhar jaye Husain Shahr mein chain na jangal mein aman milti hai Dekhiye qabr-e-musafir ko kahan milti hai 4 Ye bayan kar ke jo taswir se pahle Sarwar Yun mili qabr ke tharrai zaraih aur Aati turbat se ye awaz: Habib-e-Dawar Teri ghurbat mein sadqe tere mazlum pisar Koi samjha na meri god ka pala tujh ko Haye aada ne Madine se nikala tujh ko 5 Gayi din se teri madar nahin qabr mein chain Aati thi mashki o mere pas tir karti hain Ghar mera lagta hai faryad-e-Rasul-us-Saqalain Subh ko apna watan chhor ke jata hai Husain Kehte aaunga na qabr se sardaron ki main Apne bete ko akela to na chhorungi main
گھر سے جب بہر سفر سیدِ عالم نکلے 1 گھر سے جب بہر سفر سیدِ عالم نکلے سر جھکائے ہوئے بادیدۂ نم ہم نکلے خویش و فرزند پڑے باندھے کے باہم نکلے رو کے فرمایا کہ اس شہر سے اب ہم نکلے رات سے گھر سے زہرا کی صدا آتی ہے دیکھیں قسمت ہمیں دشت میں لے جاتی ہے 2 درد کیا تھا سرِ نو کے قمر، شہزادۂ امام پھر تسلیم مجھے مفصل باب سلام اذن پا جو گئے قبر کے نزدیک امام عرض کی: آیا ہوں آج آخری رخصت کو غلام یہ مکاں ہم سے اب اے شہِ ذوالمنن چھوٹتا ہے آج حضرت کے نواسے سے وطن چھوٹتا ہے 3 آنکھوں سے سب ہیں گھروں میں، مجھے آتا نہیں چین سخت آفت میں ہے اب آپ کا یہ نورِ عین گھیر لے گا یہ جب لوگ حرم کرتے ہیں بین ننھے بچوں کو بھلا لے کے کدھر جائے حسین شہر میں چین نہ جنگل میں امان ملتی ہے دیکھئے قبرِ مسافر کو کہاں ملتی ہے 4 یہ بیاں کر کے جو تصویر سے پہلے سرور یوں ملی قبر کہ تھرائی ضرائح اور آتی تربت سے یہ آواز: حبیبِ داور تیری غربت میں صدقے تیرے مظلوم پسر کوئی سمجھا نہ مری گود کا پالا تجھ کو ہائے اعدا نے مدینے سے نکالا تجھ کو 5 گئی دن سے تیری مادر نہیں قبر میں چین آتی تھی مشکی و مرے پاس تیر کرتی ہیں گھر مرا لگتا ہے فریادِ رسولؐ الثقلین صبح کو اپنا وطن چھوڑ کے جاتا ہے حسین کہتے آؤں گا نہ قبر سے سرداروں کی میں اپنے بیٹے کو اکیلا تو نہ چھوڑوں گی میں

142

[Ghar se jab bahr-e-safar Syed-e-Alam nikle — jari] 6 The pukare ke Khuda Hafiz o Nasir Amman Aap se hota hai rukhsat ye musafir Amman Muddat-e-zist koi dam mein hai aakhir Amman Ab nahin aa ke rahunga yahan phir Amman Samjhe the hum tum ko le ek hi ja hongi Kya qiyamat hai ke qabrein bhi juda hongi 7 Ye bayan kar ke chale wan se Shah-e-kaun-o-makan Lab pe kis chehra pe chhai thi to ankh the rawan Log sar pit ke is dam hue yun girya-kunan Jaise tabut ke jis tarah se ho shor-e-fughan Ghul tha ay Syed-e-zi-jah, Khuda ko saunpa Ay Madine ke shahanshah, Khuda ko saunpa Jati hai bahar aaj Madine ke chaman se 1 Jati hai bahar aaj Madine ke chaman se Hai bughz laimon ko Shahzada-e-Zaman se Tang aaye hain Shabbir ab aada ke chalan se Karte hain biyaban ki taraf koch watan se Farmate hain ye manzil aakhir ka safar hai Madfun musafir hun kahan, kis ko khabar hai 2 Ab main rah-e-majbur mein ghar chhor raha hun Aram, ye shahr-e-Khabir chhor raha hun Sughra ko bhi ba-dida-e-tar chhor raha hun Har chand hai bimar magar chhor raha hun Ahbab ki furqat ka qalaq sath hai mere Lekin ye hasrat hai ke Haq sath hai mere 3 Farmaya ye rukhsat kar ke suye qabr-e-Payambar Nana mujhe rauze se chhurate hain sitamgar Rah rah ke kahin sochta hun badal manzar Aisa na ho kat jaye Madine mein mera sar Khun mera Madine mein jo bah jayega Nana Is shahr ki tauqir mein farq aayega Nana
[گھر سے جب بہر سفر سیدِ عالم نکلے — جاری] 6 تھے پکارے کہ خدا حافظ و ناصر اماں آپ سے ہوتا ہے رخصت یہ مسافر اماں مدتِ زیست کوئی دم میں ہے آخر اماں اب نہیں آ کے رہوں گا یہاں پھر اماں سمجھے تھے ہم تم کو لے ایک ہی جا ہوں گی کیا قیامت ہے کہ قبریں بھی جدا ہوں گی 7 یہ بیاں کر کے چلے واں سے شہِ کون و مکاں لب پہ کس چہرہ پہ چھائی تھی تو آنکھ تھے رواں لوگ سر پیٹ کے اس دم ہوئے یوں گریہ کناں جیسے تابوت کے جس طرح سے ہو شورِ فغاں غل تھا اے سیدِ ذی جاہ، خدا کو سونپا اے مدینے کے شہنشاہ، خدا کو سونپا جاتی ہے بہار آج مدینے کے چمن سے 1 جاتی ہے بہار آج مدینے کے چمن سے ہے بغض لئیموں کو شہزادۂ زمن سے تنگ آئے ہیں شبیرؑ اب اعدا کے چلن سے کرتے ہیں بیاباں کی طرف کوچ وطن سے فرماتے ہیں یہ منزل آخر کا سفر ہے مدفون مسافر ہوں کہاں، کس کو خبر ہے 2 اب میں رہِ مجبور میں گھر چھوڑ رہا ہوں آرام، یہ شہرِ خبیر چھوڑ رہا ہوں صغریٰ کو بھی بادیدۂ تر چھوڑ رہا ہوں ہر چند ہے بیمار مگر چھوڑ رہا ہوں احباب کی فرقت کا قلق ساتھ ہے میرے لیکن یہ حسرت ہے کہ حق ساتھ ہے میرے 3 فرمایا یہ رخصت کر کے سوئے قبرِ پیغمبر نانا مجھے روضے سے چھڑاتے ہیں ستمگر راہ رہ کے کہیں سوچتا ہوں بادل منظر ایسا نہ ہو کٹ جائے مدینے میں مرا سر خون میرا مدینے میں جو بہ جائے گا نانا اس شہر کی توقیر میں فرق آئے گا نانا

143

[Jati hai bahar aaj Madine ke chaman se — jari] 4 Phir suye Baqi rukh-e-purnur pheraya Ashk ankhon se bahe, lab ne jhukaya Hujre ke liye sar adab apna jhukaya Ro ro ke ye Khatun-e-Qiyamat ko sunaya Amman tera ghar hota hai barbad khabar le Sar pe pari hai Zainab-e-nashad khabar le 5 Aqa se tu ne tha bare naz se pala Aada ne use aaj musibat mein hai dala Hota hai juda mujh se tera munis-e-wala Ab kaun karega tere madfan pe ujala Jangal mein jo phir jaun khabar lene na aana Khanjar ke tale god mein sar lene ko aana 6 Ghamkon ke phir awaz ye di ruh-e-Husain ko Bhulai na bhula dena muhabbat ke chalan ko Jangal se chala jaun jo main shahr, lekin ko Aada se bacha lena zara aa ke bahen ko Amman ne bahut chume hain Shabbir ke bazu Bandhe na koi Zainab-e-dilgir ke bazu 7 Bas kar ye sukhan kanp gayi Zainab-e-muztar Farmaya ye kya keh rahe hain Sibt-e-Payambar Jurat hai kisi ki jo talwar kare mujh par Abbas sa jari hai Zainab ka baradar Shah bole bahen agar dua na honge Is waqt tere sher tere pas na honge 8 Abbas guzar jayenge hath apne kata kar Katwaye Ali Akbar pe honge zamin par Chhir jayega barchhi ki ani se dil-e-Akbar Ek tir se ho jayenge be-jan Ali Asghar Khun-e-Aun o Muhammad ka bhi bah jayega ran mein Main ek bachta rahunga bahen na guman mein
[جاتی ہے بہار آج مدینے کے چمن سے — جاری] 4 پھر سوئے بقیع رخِ پُرنور پھیرایا اشک آنکھوں سے بہے، لب نے جھکایا حجرے کے لئے سر ادب اپنا جھکایا رو رو کے یہ خاتونِ قیامت کو سنایا اماں ترا گھر ہوتا ہے برباد خبر لے سر پہ پڑی ہے زینبِ ناشاد خبر لے 5 آقا سے تو نے تھا بڑے ناز سے پالا اعدا نے اسے آج مصیبت میں ہے ڈالا ہوتا ہے جدا مجھ سے ترا مونسِ والا اب کون کرے گا ترے مدفن پہ اجالا جنگل میں جو پھر جاؤں خبر لینے نہ آنا خنجر کے تلے گود میں سر لینے کو آنا 6 غمکوں کے پھر آواز یہ دی روحِ حسینؑ کو بھلائی نہ بھلا دینا محبت کے چلن کو جنگل سے چلا جاؤں جو میں شہر، لیکن کو اعدا سے بچا لینا ذرا آ کے بہن کو اماں نے بہت چومے ہیں شبیرؑ کے بازو باندھے نہ کوئی زینبِ دلگیر کے بازو 7 بس کر یہ سخن کانپ گئی زینبِ مضطر فرمایا یہ کیا کہہ رہے ہیں سبطِ پیغمبر جرأت ہے کسی کی جو تلوار کرے مجھ پر عباسؑ سا جری ہے زینبؑ کا برادر شہ بولے بہن اگر دعا نہ ہوں گے اس وقت ترے شیر ترے پاس نہ ہوں گے 8 عباسؑ گزر جائیں گے ہاتھ اپنے کٹا کر کٹوائے علی اکبرؑ پہ ہوں گے زمیں پر چھڑ جائے گا برچھی کی انی سے دلِ اکبر اک تیر سے ہو جائیں گے بے جاں علی اصغرؑ خونِ عون و محمدؑ کا بھی بہ جائے گا رن میں میں ایک بچتا رہوں گا بہن نہ گمان میں

144

Jab chale Yasrib se Sibt-e-Mustafa suye Iraq 1 Jab chale Yasrib se Sibt-e-Mustafa suye Iraq Thi dar-o-diwar se paida sada-e-alwida Jadd ke rauze par gaye rukhsat ko ba-sad ishtiyaq Arz ki: Nana! banate hain mujhe Ahl-e-Nifaq Ho gaya daryaft ye khat ke qarine se mujhe Karte hain zalim juda is dam Madine se mujhe 2 Dekhna ye mausam gaya, ye bachche natawan Dhup ki shiddat, ye registan aur jalti zamin Ab watan mein apne zinda wapas aane ke nahin Aap ka rauza kahin hoga mera madfan kahin Tawaqqa ummat ne dala sar-e-neza hum chale Fatima Sughra rahi marqad ke saye ke tale 3 Apni bachchiyon pe bitenge sare ranj-o-sitam Main chala hun is kushtan mein dekhiye qismat ka gham Ye safar aur sath bachcha, log dushman, mulk ghair Kijiye jo zarra-nawaz hai ye bachchiyon ki khair Dekhiye Haq mein mere kya marzi-e-Ghaffar hai Fatima Sughra Khuda ke ghar mein yahan bimar hai 4 Hai safar garmi ka aur bachche mere hamrah hain Gale se nazuk magar kahin ye khushk o mehr o mah hain Manzilon darya nahin hain aur na kunwen chah hain Dar-pesh tadfin o ibtida dushmani badkhwah hain Amman, agar ghurbat hai aur Khaliq ki zat-e-pak hai Wadi-e-wahshat hai aur sahra-e-afatnak hai 5 Qurb-e-sar hue itne mein aai ye sada Kya karun Shabbir dil sine mein ghabra ho gaya Gosha-e-marqad mein Muslim sa tanha hun para Kya karun kuchh bas nahin hai jo raza-e-Kibriya Is safar mein tujh ko chhorunga ay dil-e-Zahra Pitta rota chalunga Karbala mein hamrah tera 6 Ay mere lakht-e-jigar, isi jagah hai Karbala Rijat uthate hain jis ja, ba-Khuda Hazrat Adam ne thokar khai, khun pa se baha Aa gaya tha wan mazalim mein safina-e-Nuh ka Mor o afat wo ja ay mere dilkhwah hai Aur khususan wo jagah teri to wada-gah hai
جب چلے یثرب سے سبطِ مصطفیٰؐ سوئے عراق 1 جب چلے یثرب سے سبطِ مصطفیٰؐ سوئے عراق تھی در و دیوار سے پیدا صدائے الوداع جد کے روضے پر گئے رخصت کو باصد اشتیاق عرض کی: نانا! بناتے ہیں مجھے اہلِ نفاق ہوگیا دریافت یہ خط کے قرینے سے مجھے کرتے ہیں ظالم جدا اس دم مدینے سے مجھے 2 دیکھنا یہ موسم گیا، یہ بچے ناتواں دھوپ کی شدت، یہ ریگستان اور جلتی زمیں اب وطن میں اپنے زندہ واپس آنے کے نہیں آپ کا روضہ کہیں ہوگا مرا مدفن کہیں توقع امت نے ڈالا سرِ نیزہ ہم چلے فاطمہ صغریٰ رہی مرقد کے سائے کے تلے 3 اپنی بچیوں پہ بیتیں ہیں سارے رنج و ستم میں چلا ہوں اس کشتن میں دیکھئے قسمت کا غم یہ سفر اور ساتھ بچا، لوگ دشمن، ملک غیر کیجئے جو ذرّہ نواز ہے یہ بچیوں کی خیر دیکھئے حق میں مرے کیا مرضیِ غفار ہے فاطمہ صغریٰ خدا کے گھر میں یہاں بیمار ہے 4 ہے سفر گرمی کا اور بچے مرے ہمراہ ہیں گلے سے نازک مگر کہیں یہ خشک و مہر و ماہ ہیں منزلوں دریا نہیں ہیں اور نہ کنویں چاہ ہیں درپیش تدفین و ابتدا دشمنی بدخواہ ہیں اماں، اگر غربت ہے اور خالق کی ذات پاک ہے وادیِ وحشت ہے اور صحراے آفت ناک ہے 5 قربِ سر ہوئے اتنے میں آئی یہ صدا کیا کروں شبیر دل سینے میں گھبرا ہو گیا گوشۂ مرقد میں مسلمؑ سا تنہا ہوں پڑا کیا کروں کچھ بس نہیں ہے جو رضائے کبریا اس سفر میں تجھ کو چھوڑوں گا اے دلِ زہرا پیٹتا روتا چلوں گا کربلا میں ہمراہ ترا 6 اے مرے لختِ جگر، اسی جگہ ہے کربلا رجعت اٹھاتے ہیں جس جا، بہ خدا حضرت آدم نے ٹھوکر کھائی، خون پا سے بہا آ گیا تھا واں مظالم میں سفینۂ نوح کا مور و آفات وہ جا اے مرے دل خواہ ہے اور خصوصاً وہ جگہ تیری تو وعدہ گاہ ہے

145

[Jab chale Yasrib se Sibt-e-Mustafa suye Iraq — jari] 7 Gham se ye baten hui har ek ki halat tabah Thi sada-e-Wa Husaina nala-e-faryad o aah Is taraf behta tha girya, is taraf rote the Shah Dam ba dam marqad bhi ek man ki hasrat ki nigah Haye jab rukhsat hue qabr-e-Rasulullah se Dur tak dekha kiye mur mur ke Hazrat rah se 8 Rukhsat-e-qabr-e-athar se dil hua gham ka shikar Aaye man ki qabr par rukhsat ko rote zar zar Sar-e-madar pe jhuka milne ko jism be-qarar Fatima Zahra ki turbat kanp uthi ek bar Sare Ansar o Quraysh is waqt bhi khone lage Do din jite karte the sab ke jeb rone lage Jab hua Yusuf-e-Zahra ka safar Yasrib se 1 Jab hua Yusuf-e-Zahra ka safar Yasrib se Chand Haider ka chala waqt-e-sahar Yasrib se Sath rahi hue sab khwish o pisar Yasrib se Nikle mazlum-e-Shah-e-din o bashar Yasrib se Qaid-e-har dil, turbat-e-Zahra chhuti Ghar buzurgon ka chhuta, Fatima Sughra chhuti 2 Sughra kehti thi na gham kijiye bimari ka Paon par girti hun main, mujh ko na chhoro Baba Hath mein jorti hun ay mere achchhe Baba Rahm kijiye meri halat pe ye hun nidhal Achchhi main hun to hun man se rawana Baba Ya mil duniya se guzar jaun to jana Baba 3 Keh ke ye Shah se munh pher ke wo rone lagi Baat se ban na chala, ashkon se munh dhone lagi Yas jane se hui jaan-e-hazin khone lagi Haram-e-Shah mein faryad o buka hone lagi Un ko aram na tha bekas o tanha ke liye Mana ko aaye the jo log Sughra ke liye
[جب چلے یثرب سے سبطِ مصطفیٰؐ سوئے عراق — جاری] 7 غم سے یہ باتیں ہوئی ہر ایک کی حالت تباہ تھی صدائے وا حسینا نالۂ فریاد و آہ اس طرف بہتا تھا گریہ، اس طرف روتے تھے شاہ دم بہ دم مرقد بھی اک ماں کی حسرت کی نگاہ ہائے جب رخصت ہوئے قبرِ رسول اللہ سے دور تک دیکھا کئے مڑ مڑ کے حضرت راہ سے 8 رخصتِ قبرِ اطہر سے دل ہوا غم کا شکار آئے ماں کی قبر پر رخصت کو روتے زار زار سرِ مادر پہ جھکا ملنے کو جسم بے قرار فاطمہ زہرا کی تربت کانپ اٹھی ایک بار سارے انصار و قریش اس وقت بھی کھونے لگے دو دن جیتے کرتے تھے سب کے جیب رونے لگے جب ہوا یوسفِ زہرا کا سفر یثرب سے 1 جب ہوا یوسفِ زہرا کا سفر یثرب سے چاند حیدر کا چلا وقتِ سحر یثرب سے ساتھ راہی ہوئے سب خویش و پسر یثرب سے نکلے مظلومِ شہِ دین و بشر یثرب سے قیدِ ہر دل، تربتِ زہرا جھوٹی گھر بزرگوں کا جھوٹی، فاطمہ صغرا جھوٹی 2 صغرا کہتی تھی نہ غم کیجئے بیماری کا پاؤں پر گرتی ہوں میں، مجھ کو نہ چھوڑو بابا ہاتھ میں جوڑتی ہوں اے مرے اچھے بابا رحم کیجئے مری حالت پہ یہ ہوں نڈھال اچھی میں ہوں تو ہوں ماں سے روانہ بابا یا مل دنیا سے گزر جاؤں تو جانا بابا 3 کہہ کے یہ شاہ سے منہ پھیر کے وہ رونے لگی بات سے بن نہ چلا، اشکوں سے منہ دھونے لگی یاس جانے سے ہوئی جان حزین کھونے لگی حرم شاہ میں فریاد و بکا ہونے لگی ان کو آرام نہ تھا بے کس و تنہا کیلئے منع کو آئے تھے جو لوگ صغرا کیلئے

146

[Jab hua Yusuf-e-Zahra ka safar Yasrib se — jari] 4 Bole peshani pe munh rakh ke Imam-e-do-jahan Kya khafa ho gayi Baba se tum ay rahat-e-jan Ja ke Kufe mein agar maut ne di hum ko aman Wada karte hain ke hum tum ko bula lenge wahan Der mein pahunche sawari to na ghabrana tum Sath nani ke meri jaan chali aana tum 5 Baten karte the ye Sughra se Shah-e-kaun-o-makan Aaye jo itne mein mushkil-e-Rasul-e-do-jahan Dekh kar bhai ko boli wo baad aah o fughan Aao bhaiya Ali Akbar main tumhare qurban Apna kuchh bas nahin Baba to hamein chhor chale Tum bhi kya khuye-nashad se munh mor chale 6 Hum to mehman koi din ke hain na jao bhai Ab yaqin hai ke hamein aa ke na pao bhai Lo mujhe zulf-e-kamsin ko sogwar bhai Khun khayen main zara pas to aao bhai Ek hijr mein duniya se safar karte hain Koi hasrat to ye reh jaye ke hum marte hain 7 Khak par gir ke tarasne lagi wo khasta-jigar Ruye-bimar ko sine se laga kar Sarwar Dil jo bhar aaya Sakina ka pukari ro kar Apna kuchh bas nahin Allah tumhein bhai Zof ke gham se baad ruh wam jate hain Lo bahen aap ke gale mein lo kam dam jate hain [Bashukriya sozkhwan Professor Syed Ali Zakir o Tanzim Naqvi]
[جب ہوا یوسفِ زہرا کا سفر یثرب سے — جاری] 4 بولے پیشانی پہ منہ رکھ کے امامِ دو جہاں کیا خفا ہو گئی بابا سے تم اے راحتِ جاں جا کے کوفے میں اگر موت نے دی ہم کو اماں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تم کو بلا لیں گے وہاں دیر میں پہنچے سواری تو نہ گھبرانا تم ساتھ نانی کے مری جان چلی آنا تم 5 باتیں کرتے تھے یہ صغرا سے شہِ کون و مکاں آئے جو اتنے میں مشکلِ رسولِ دو جہاں دیکھ کر بھائی کو بولی وہ بعد آہ و فغاں آؤ بھیا علی اکبر میں تمہارے قرباں اپنا کچھ بس نہیں بابا تو ہمیں چھوڑ چلے تم بھی کیا خوئے ناشاد سے منہ موڑ چلے 6 ہم تو مہماں کوئی دن کے ہیں نہ جاؤ بھائی اب یقیں ہے کہ ہمیں آ کے نہ پاؤ بھائی لو مجھے زلفِ کمسن کو سگوار بھائی خون کھائیں میں ذرا پاس تو آؤ بھائی اک ہجر میں دنیا سے سفر کرتے ہیں کوئی حسرت تو یہ رہ جائے کہ ہم مرتے ہیں 7 خاک پر گر کے ترسنے لگی وہ خستہ جگر روئے بیمار کو سینے سے لگا کر سرور دل جو بھر آیا سکینہؑ کا پکاری رو کر اپنا کچھ بس نہیں اللہ تمہیں بھائی ضعف کے غم سے بعد روح وام جاتے ہیں لو بہن آپ کے گلے میں لو کم دم جاتے ہیں [بشکریہ سوزخواں پروفیسر سید علی ذاکر و تنظیم نقوی]

147

Pahli manzil jo Madine se hui shuru tum ko 1 Pahli manzil jo Madine se hui shuru tum ko Yaad sab karne lage Fatima muztar ko Dard-e-ghurbat ne jo betab kiya ghar bhar ko Kaha sab ne ye Maula ke Ali Akbar ko Shah se puchh ke phir shahr mein jao bhaiya Dil tarapta hai bahen ko meri lao bhaiya 2 Pyas us ke nahin wan koi bhi pani ke siwa Kaun uthayega use kaun pilayega dawa Zof se rukhsat use pahle hi na hoti zara Aao bhi ab to nahin khulti hui Sughra Nana ek dam Khuda us se hua hawangi Baithi rahun ko thakate hue roi hongi 3 Sun ke ye Shah se ja kar Ali Akbar ne kaha Khaime mein furqat-e-Sughra se ek hashr bapa Goya kisi Bibi ko rukhsat nahin rone se zara Hal-e-ghurbat mutaghayyar hai magar sab se hua Hukm farmayen to bimar ko dekh aaun main Masmat par to use sath yahan laun main 4 Ro ke Akbar se ye kehne lagi Bint-e-Haider Kehiyo Sughra se na ghabraye ye aakhir-e-safar Phuphi qurban ho mat ghabra zara ro ro kar Amman dua kijiyo Allah ye sham o sahar Kuchh na pardesiyon pe rah mein afat aaye Safar kuze se khair salamat aaye 5 Sun chuke sab ke jo Akbar ye payam-e-khana Charh ke shab div-e-falak tez pe Shah-e-sharir rah Bani Hashim ke halqe mein jo pahuncha wo mah Ja ke Sughra ko kisi ne khabar di nagah Karbala mubarak ho ke mushkil Shabbir aaya Ab na roo tumhein lene Ali Akbar aaya 6 Puchh kar ankhon se ansu wohi kehne Sughra Main ye na kehti ke nawas ke mujh ko Baba Aap ke didar ke jo chhoron se aate dekha Hath phailaye kaha aao main sadqe bhaiya Apne Baba ki muhabbat ke main qurban gayi Tum mujhe lene ko aaye ho main pehchan gayi
پہلی منزل جو مدینے سے ہوئی شروع تم کو 1 پہلی منزل جو مدینے سے ہوئی شروع تم کو یاد سب کرنے لگے فاطمہؑ مضطر کو دردِ غربت نے جو بے تاب کیا گھر بھر کو کہا سب نے یہ مولا کے علی اکبرؑ کو شاہ سے پوچھ کے پھر شہر میں جاؤ بھیا دل تڑپتا ہے بہن کو مری لاؤ بھیا 2 پیاس اس کے نہیں واں کوئی بھی پانی کے سوا کون اٹھائے گا اسے کون پلائے گا دوا ضعف سے رخصت اسے پہلے ہی نہ ہوتی ذرا آؤ بھی اب تو نہیں کھلتی ہوئی صغرا نانا ایک دم خدا اس سے ہوا ہواں گی بیٹھی رہوں کو تھکاتے ہوئے روئی ہوں گی 3 سن کے یہ شاہ سے جا کر علی اکبرؑ نے کہا خیمے میں فرقتِ صغرا سے اک حشر بپا گویا کسی بی بی کو رخصت نہیں رونے سے ذرا حالِ غربت متغیر ہے مگر سب سے ہوا حکم فرمائیں تو بیمار کو دیکھ آؤں میں معصمت پر تو اسے ساتھ یہاں لاؤں میں 4 رو کے اکبر سے یہ کہنے لگی بنتِ حیدرؑ کہیو صغرا سے نہ گھبرائے یہ آخرِ سفر پھوپھی قربان ہو مت گھبرا ذرا رو رو کر اماں دعا کیجیو اللہ یہ شام و سحر کچھ نہ پردیسوں پہ راہ میں آفت آئے سفر کوزے سے خیر سلامت آئے 5 سن چکے سب کے جو اکبرؑ یہ پیامِ خانہ چڑھ کے شب دیو فلک تیز پہ شاہِ شریر راہ بنی ہاشم کے حلقے میں جو پہنچا وہ ماہ جا کے صغرا کو کسی نے خبر دی ناگاہ کربلا مبارک ہو کہ مشکل شبیر آیا اب نہ روؤ تمہیں لینے علی اکبرؑ آیا 6 پوچھ کر آنکھوں سے آنسو وہی کہنے صغرا میں یہ نہ کہتی کہ نواس کے مجھ کو بابا آپ کے دیدار کے جو چھوڑوں سے آتے دیکھا ہاتھ پھیلائے کہا آؤ میں صدقے بھیا اپنے بابا کی محبت کے میں قربان گئی تم مجھے لینے کو آئے ہو میں پہچان گئی

148

[Pahli manzil jo Madine se hui shuru tum ko — jari] 7 Ye jo Akbar ne suna bhar ke dam-e-sard kaha Abhi Baba ne bulaya nahin tum ko Sughra Hai faqat mujh ko tasalli ko tumhari bheja Is pe phir hai ye Nana tumhein hue khafa Tum to chup, ye safar aur hi saman ka hai Sath le jane mein nuqsan meri jaan ka hai 8 Der tak bhai bahen rone lage mil mil kar Arz ki ro ke kabhi kehti nahin tum ko khahar Muntazir huega manzil pe tumhara lashkar Sun ke ye us se hue amada-e-Akbar Jis tarah hogi Akbar se dilgir juda Ho kisi bhai se is tarah na bahen juda Muslim ke yatimon ko jo malun ne paya 1 Muslim ke yatimon ko jo malun ne paya Pichhle hue ranjish unhein laya lab-e-darya Ro kar kaha bachchon ne: hamein qatl na karna Allah ke jo ghar ko tu kya hath lagayega Bachche hain musafir hain aur azad watan hain Ye kya hai saza hum ko giraftar bhi hain 2 Kar rahm sitamgar khushi pe hamari Royega sila is ka tujhe Khaliq-e-Bari Le aa ke ye zalim hamein ab karne ke zari Chal kar sar-e-darbar hamein bech le bari Pach jayenge hum zillat o zabuni ke khumar Gar qatl kiya hum ko to pachhtayega zalim 3 Ye sun ke barha jo shaqi wo khinche hue talwar Pahlu mein baradar ke baradar gira ek bar Wo sine pe ek tifl ke aakhir hua sawar Jab halq pe bachche ke rakha khanjar khunkhwar Ek hashr bapa ho gaya khanjar ke chale par Bhai ne gala rakh diya bhai ke gale par 4 Is par bhi na pasija na dil Haris-e-khunkhwar Sar kat liya roye wo dil angar Aur donon ke tan phenk diye nahr mein ek bar Darya ki tarai se hue hath numudar Sar niche, ankhon se Shabbir nazar aaye Aghosh mein Muslim ke wo dilgir nazar aaye
[پہلی منزل جو مدینے سے ہوئی شروع تم کو — جاری] 7 یہ جو اکبرؑ نے سنا بھر کے دمِ سرد کہا ابھی بابا نے بلایا نہیں تم کو صغرا ہے فقط مجھ کو تسلی کو تمہاری بھیجا اس پہ پھر ہے یہ نانا تمہیں ہوئے خفا تم تو چپ، یہ سفر اور ہی سامان کا ہے ساتھ لے جانے میں نقصان مری جان کا ہے 8 دیر تک بھائی بہن رونے لگے مل مل کر عرض کی رو کے کبھی کہتی نہیں تم کو خواہر منتظر ہوئے گا منزل پہ تمہارا لشکر سن کے یہ اس سے ہوئے آمادۂ اکبر جس طرح ہوگی اکبرؑ سے دلگیر جدا ہو کسی بھائی سے اس طرح نہ بہن جدا مسلم کے یتیموں کو جو ملعون نے پایا 1 مسلم کے یتیموں کو جو ملعون نے پایا پچھلے ہوئے رنجش انہیں لایا لبِ دریا رو کر کہا بچوں نے: ہمیں قتل نہ کرنا اللہ کے جو گھر کو تو کیا ہاتھ لگائے گا بچے ہیں مسافر ہیں اور آزاد وطن ہیں یہ کیا ہے سزا ہم کو گرفتار بھی ہیں 2 کر رحم ستمگار خوشی پہ ہماری روئے گا صلہ اس کا تجھے خالقِ باری لے آ کے یہ ظالم ہمیں اب کرنے کے زاری چل کر سرِ دربار ہمیں بیچ لے باری پچ جائیں گے ہم ذلت و زبونی کے خمار گر قتل کیا ہم کو تو پچھتائے گا ظالم 3 یہ سن کے بڑھا جو شقی وہ کھینچے ہوئے تلوار پہلو میں برادر کے برادر گرا اک بار وہ سینے پہ ایک طفل کے آخر ہوا سوار جب حلق پہ بچے کے رکھا خنجر خونخوار اک حشر بپا ہوگیا خنجر کے چلے پر بھائی نے گلا رکھ دیا بھائی کے گلے پر 4 اس پر بھی نہ پسیجا نہ دل حارثِ خونخوار سر کاٹ لیا روئے وہ دل انگار اور دونوں کے تن پھینک دیئے نہر میں اک بار دریا کی ترائی سے ہوئے ہاتھ نمودار سر نیچے، آنکھوں سے شبیرؑ نظر آئے آغوش میں مسلمؑ کے وہ دلگیر نظر آئے

149

Is darja be-qarar the Sultan-e-bahr-o-bar 1 Is darja be-qarar the Sultan-e-bahr-o-bar Nikle the jab zaman-e-Hajj mein bahr-e-safar Har har ke dekhte the suye Kaaba nazar Tha rukh qalb-e-Shah pe mabud ka is qadar Kehte the wada ghar ka bara ishtiyaq hai Lekin firaq-e-Hajj bhi mere dil ko shaq hai 2 Majbur ho ke jata hun ay Rab Zulminan Warna main chhorta na mazar-e-Shah-e-Zaman Man ki lahad na chhorta, na marqad-e-Hasan Kar sakti hain ye fan jo hota ye be-watan Hota nasib-e-qurb-e-Rasul-e-Zaman ka bhi Madar ki bhi lahad ka, mazar-e-Hasan ka bhi 3 Razi magar hun main teri marzi pe ay Khuda Jo dard se mujhe ye masaib uthaunga Teri hi zat par mujhe takiya raha sada Ab tujh se chahta hun ye quwwat bhi kar ata Kat jayegi har marhala sabr o raza ke sath Meri zaban pe ye rahe har bala ke sath 4 Iza ho rah mein kahin ya tangi-e-safar Har waqt mein tujhi pe rahe bas meri nazar Mutlaq bura ho na mujhe lakhon khatar Ho jaye ye bhi teri hi nusrat se jang sar Hasrat ye hai ke sajde mein gardan agar kate Ummat ki maghfirat ki dua mein ye sar kate 5 Gardan Saghir ki barf, tir ho to kya Manzar-e-ajal jo Akbar dilgir ho to kya Abbas sa jari, pir-e-muammar ho to kya Neze ki nok par sar-e-Shabbir ho to kya Pyase shahid shahr pe mehman tamam hon Ummat ki maghfirat ke saman tamam hon 6 Afsos ki jagah hai jo aisa ho badshah Rehne na paye ghar mein wo ummat ka khairkhwah Har ja hon qatl ke liye amada rusiyah Haye aman na khana-e-majbur mein bhi aah Aise sitam hon jis pe wo majbur kya kare Kyun kar na Hajj ko chhor ke karb-o-bala chale (Bashukriya sozkhwan Akbar Husain Zaidi o Dilbar Zaidi)
اس درجہ بے قرار تھے سلطانِ بحر و بر 1 اس درجہ بے قرار تھے سلطانِ بحر و بر نکلے تھے جب زمانِ حج میں بہرِ سفر ہر ہر کے دیکھتے تھے سوئے کعبہ نظر تھا رخ قلبِ شاہ پہ معبد کا اس قدر کہتے تھے وعدہ گھر کا بڑا اشتیاق ہے لیکن فراقِ حج بھی مرے دل کو شاق ہے 2 مجبور ہو کے جاتا ہوں اے رب ذوالمنن ورنہ میں چھوڑتا نہ مزارِ شہِ زمن ماں کی لحد نہ چھوڑتا، نہ مرقدِ حسنؑ کر سکتی ہیں یہ فن جو ہوتا یہ بے وطن ہوتا نصیبِ قربِ رسولؐ زمن کا بھی مادر کی بھی لحد کا، مزارِ حسنؑ کا بھی 3 راضی مگر ہوں میں تری مرضی پہ اے خدا جو درد سے مجھے یہ مصائب اٹھاؤں گا تیری ہی ذات پر مجھے تکیہ رہا صدا اب تجھ سے چاہتا ہوں یہ قوت بھی کر عطا کٹ جائے گی ہر مرحلہ صبر و رضا کے ساتھ میری زباں پہ یہ رہے ہر بلا کے ساتھ 4 ایذا ہو راہ میں کہیں یا تنگیِ سفر ہر وقت میں تجھی پہ رہے بس مری نظر مطلق برا ہو نہ مجھے لاکھوں خطر ہوجائے یہ بھی تیری ہی نصرت سے جنگ سر حسرت یہ ہے کہ سجدے میں گردن اگر کٹے امت کی مغفرت کی دعا میں یہ سر کٹے 5 گردن صغیر کی برف، تیر ہو تو کیا منظرِ اجل جو اکبرؑ دلگیر ہو تو کیا عباسؑ سا جری، پیرِ معمر ہو تو کیا نیزے کی نوک پر سرِ شبیرؑ ہو تو کیا پیاسے شہید شہر پہ مہمان تمام ہوں امت کی مغفرت کے ساماں تمام ہوں 6 افسوس کی جگہ ہے جو ایسا ہو بادشاہ رہنے نہ پائے گھر میں وہ امت کا خیر خواہ ہر جا ہوں قتل کے لئے آمادہ روسیاہ ہائے اماں نہ خانۂ مجبور میں بھی آہ ایسے ستم ہوں جس پہ وہ مجبور کیا کرے کیونکر نہ حج کو چھوڑ کے کرب و بلا چلے (بشکریہ سوزخواں اکبر حسین زیدی و دلبر زیدی)

150

Muztar the shab-e-hashtum Zi-l-Hijja ko Shabbir 1 Muztar the shab-e-hashtum Zi-l-Hijja ko Shabbir Tha qasd-e-musammam ke suye Kufa hon rahgir Karte the kabhi pas se dar ro ke ye taqrir Ab yahan se kahan dekhne jati hai taqdir Phir kar jo watan jayen to jana na milega Ab hum ko bajuz qabr thikana na milega 2 The Sibt-e-Nabi koch ki tadbir mein is raat Aa ke jo Ibn-e-Hanafiya ne mulaqat Bhai se baghal-gir hue Shah-e-khush-auqat Ki arz Muhammad ne ke ay Qibla-e-Hajat Kufe ki taraf jane mein andesha-e-jan hai Kahin main kahun ke buzurgon ka khayal hai 3 Hazrat ne kaha hota hun nachar rawana Bhata hai kis ke apna watan chhor ke jana Main bekas o mazlum hun, dushman hai zamana Ab to hai Madine mein na ghar mein thikana Hasir hai koi, dar pe azar hai koi Hamid hai na koi, na madadgar hai koi 4 Munh ponchh liya sun ke Muhammad ne ye taqrir Ro ro ke kaha gar hai yahi khwahish-e-taqdir Namon ko chhorun yaqin ay Hazrat Shabbir Turbat se Haram mein rahen wo sahib-e-Tathir Pardes mein kya jane kya jaur o jafa ho Dar hai kahin Zainab na giraftar-e-bala ho 5 Zainab ki asiri ka sukhan sunte hi ek bar Ghabra gaya dil, rone lage Syed-e-Abrar Kehti thi ye taqrir jo sab Zainab-e-nachar Muslim se Muhammad ko pukari ye dil-zar Ki tum ne sifarish meri kya aa baradar Bhai se chhurate ho mujhe wah baradar 6 Ye keh ke jo roi Asadullah ki pyari Ibn-e-Hanafiya ke bhi ansu hue jari Hazrat ne kaha bhai se ba-girya o zari Bahnein meri qaidi hon ye hai marzi-e-Bari Kat kar sar-e-Shabbir to neze pe alam ho Pichhe gale sar qafila-e-Ahl-e-Haram ho
مضطر تھے شبِ ہشتم ذی الحجہ کو شبیرؑ 1 مضطر تھے شبِ ہشتم ذی الحجہ کو شبیرؑ تھا قصد مصمم کہ سوئے کوفہ ہوں رہ گیر کرتے تھے کبھی پاس سے در رو کے یہ تقریر اب یہاں سے کہاں دیکھنے جاتی ہے تقدیر پھر کر جو وطن جائیں تو جانا نہ ملے گا اب ہم کو بجز قبر ٹھکانا نہ ملے گا 2 تھے سبطِ نبی کوچ کی تدبیر میں اس رات آ کے جو ابنِ حنفیہ نے ملاقات بھائی سے بغل گیر ہوئے شاہِ خوش اوقات کی عرض محمد نے کہ اے قبلۂ حاجات کوفے کی طرف جانے میں اندیشۂ جاں ہے کہیں میں کہوں کہ بزرگوں کا خیال ہے 3 حضرت نے کہا ہوتا ہوں ناچار روانہ بھاتا ہے کس کے اپنا وطن چھوڑ کے جانا میں بے کس و مظلوم ہوں، دشمن ہے زمانہ اب تو ہے مدینے میں نہ گھر میں ٹھکانا حاصر ہے کوئی، در پہ آزار ہے کوئی حامد ہے نہ کوئی، نہ مددگار ہے کوئی 4 منہ پونچھ لیا سن کے محمد نے یہ تقریر رو رو کے کہا گر ہے یہی خواہشِ تقدیر ناموں کو چھوڑوں یقین اے حضرت شبیرؑ تربت سے حرم میں رہیں وہ صاحبِ تطہیر پردیس میں کیا جانے کیا جور و جفا ہو ڈر ہے کہیں زینبؑ نہ گرفتارِ بلا ہو 5 زینبؑ کی اسیری کا سخن سنتے ہی اک بار گھبرا گیا دل، رونے لگے سیدِ ابرار کہتی تھی یہ تقریر جو سب زینبِ ناچار مسلم سے محمد کو پکاری یہ دل زار کی تم نے سفارش مری کیا آ برادر بھائی سے چھڑاتے ہو مجھے واہ برادر 6 یہ کہہ کے جو روئی اسد اللہ کی پیاری ابنِ حنفیہ کے بھی آنسو ہوئے جاری حضرت نے کہا بھائی سے با گریہ و زاری بہنیں مری قیدی ہوں یہ ہے مرضیِ باری کٹ کر سرِ شبیرؑ تو نیزے پہ علم ہو پیچھے گلے سر قافلۂ اہلِ حرم ہو

151

[Muztar the shab-e-hashtum Zi-l-Hijja ko Shabbir — jari] 7 Ye sab to mere sath hain afat ke safar mein Faqat Sughra ko main chhor aaya hun ghar mein Hai us ki judai se ajab dard jigar mein Dar hai kahin mar jaye na wo hijr-e-pidar mein Roye to mere sar ki qasam dijiyo bhai Bimar ko sine se laga lijiyo bhai 8 Sughra ka suna naam to Banu pe ye kari Keh dijiyo madar tumhein bhuli nahin pyari Bahnon ko kabhi hai ath pe yaad tumhari Asghar meri godi mein kiya karta hai zari Raton ko jo tere gham mein nahin soti hai garan Jab zikr tera hota hai tab roti hai garan Syed Muhammad Raza Yas Hai pyas aur lab-e-darya khara hai Wafadari ki goya intiha hai Na ho mahsus pani ki kami tak Jari ne aise mashkiza bhara hai Bashukriya sozkhwan Zahur Haider Rizvi / Imtiyaz Raza Watan se chhut ke koi khasta-jan shahid na ho 1 Watan se chhut ke koi khasta-jan shahid na ho Koi musafir be-khanaman shahid na ho Kisi ke ghar pe koi mehman shahid na ho Shahid ho to wo tishna-dahan shahid na ho Safar mein maut ka aana bari musibat hai Jo lash dafn na ho aur bhi qiyamat hai 2 Hua ye zulm zamane mein do gharibon par Wo ek bekas o muztar hai Fatima ka pisar Aur ek Muslim-e-be-par, gharib o khasta-jigar Koi na un ka muin tha na aap ka yawar Faqat ye tha ke Shah-e-mashriqain bhi bichhre Paraye des mein do nur-e-ain bhi bichhre 3 Munim khana pani the Muslim par gham Unhein bhi qatl kiya zalimon ne babe sitam Ye inqilab, ye rang-e-dui ka alam Aman ki fikr mein dar dar phire Safir-e-Haram Barhi jo pyas bahut qasr aa ke baith gaye Qarib-e-shab dar-e-Taua pe aa ke baith gaye
[مضطر تھے شبِ ہشتم ذی الحجہ کو شبیرؑ — جاری] 7 یہ سب تو مرے ساتھ ہیں آفت کے سفر میں فقط صغرا کو میں چھوڑ آیا ہوں گھر میں ہے اس کی جدائی سے عجب درد جگر میں ڈر ہے کہیں مر جائے نہ وہ ہجرِ پدر میں روئے تو مرے سر کی قسم دیجیو بھائی بیمار کو سینے سے لگا لیجیو بھائی 8 صغرا کا سنا نام تو بانو پہ یہ کاری کہہ دیجیو مادر تمہیں بھولی نہیں پیاری بہنوں کو کبھی ہے آٹھ پہ یاد تمہاری اصغرؑ مری گودی میں کیا کرتا ہے زاری راتوں کو جو ترے غم میں نہیں سوتی ہے گراں جب ذکر ترا ہوتا ہے تب روتی ہے گراں سید محمد رضا یاس ہے پیاس اور لبِ دریا کھڑا ہے وفاداری کی گویا انتہا ہے نہ ہو محسوس پانی کی کمی تک جری نے ایسے مشکیزہ بھرا ہے بشکریہ سوزخواں ظہور حیدر رضوی / امتیاز رضا وطن سے چھوٹ کے کوئی خستہ جاں شہید نہ ہو 1 وطن سے چھوٹ کے کوئی خستہ جاں شہید نہ ہو کوئی مسافر بے خانماں شہید نہ ہو کسی کے گھر پہ کوئی مہماں شہید نہ ہو شہید ہو تو وہ تشنہ دہاں شہید نہ ہو سفر میں موت کا آنا بڑی مصیبت ہے جو لاش دفن نہ ہو اور بھی قیامت ہے 2 ہوا یہ ظلم زمانے میں دو غریبوں پر وہ ایک بے کس و مضطر ہے فاطمہؑ کا پسر اور ایک مسلمِ بے پر، غریب و خستہ جگر کوئی نہ ان کا معین تھا نہ آپ کا یاور فقط یہ تھا کہ شہِ مشرقین بھی بچھڑے پرائے دیس میں دو نورِ عین بھی بچھڑے 3 منعم خانہ پانی تھے مسلم پر غم انہیں بھی قتل کیا ظالموں نے بابے ستم یہ انقلاب، یہ رنگِ دوئی کا عالم اماں کی فکر میں در در پھرے سفیرِ حرم بڑھی جو پیاس بہت قصر آ کے بیٹھ گئے قریبِ شب درِ طوعہ پہ آ کے بیٹھ گئے

152

[Watan se chhut ke koi khasta-jan shahid na ho — jari] 4 Makan se nikli jo Taua to boli ghabra kar Ke aap kaun hain, baithe hain kis liye dar par Bali zaban se kaha ek gharib hun, khahar Pila de aap mujhe bahr-e-Saqi-e-Kausar Ye sun ke nazr-e-Imam le aai Mahal mein ja ke wo pani ka jaam le aai 5 Wo aab pi ke bhi uthe na jab to us ne kaha Ke pani pi chuke ab ghar ko jao bahr-e-Khuda Pir karne ko Muslim ke phirte hain aada Ayal, qabr mein honge kidhar gaye kis ja Ghazab hai phir jo gharibon ke dil ko gul na pare Talash mein koi Bibi kahin nikal na pare 6 Ye sun ke aah bhari aur kaha ba-dida-e-tar Na baithe tere dar pe kahin jo hota ghar Kahan ayal, jinhein fikr hogi ay khahar Yahan bahen hai na bhai na zauja o dukhtar Na jane wo bhi koi gham mein hain ke chaman se hain Husain hum se juda, hum juda Husain se hain 7 Ye naam sun ke pukari wo ashiq-e-Zahra Husain aap ke kya hain, kaha mere Maula Wo boli naam o nasab kuchh bataiye lala Kaha ke mard-e-gharib-ul-watan ka naam hi kya Watan wohi hai jahan Ahl-e-Bait rehte hain Mujhe Husain ka adna ghulam kehte hain 8 Ye sun ke us ne tartab kar kaha shiddat-e-gham Ye khaksar bhi hai ek kaniz-e-Shah-e-Umam Chhupao mujh se na lillah hal-e-dard o alam Bata do naam, tumhein jaan-e-Fatima ki qasam Kaha Haram se jo chhuta wo be-nasib hun main Wakil-e-Sibt-e-Nabi Muslim-e-gharib hun main Bashukriya sozkhwan Ahliyat Sultana Rizvi Hazrat Shadan Dehlavi Baithi hui diwar uthani hogi Gir pari hui dastar uthani hogi Haq bhik nahin jo apni se mil jaye Is ke liye talwar uthani hogi Bashukriya sozkhwan Chaudhry Sajid Husain Zaidi o Naib
[وطن سے چھوٹ کے کوئی خستہ جاں شہید نہ ہو — جاری] 4 مکان سے نکلی جو طوعہ تو بولی گھبرا کر کہ آپ کون ہیں، بیٹھے ہیں کس لئے در پر بلی زباں سے کہا اک غریب ہوں، خواہر پلا دے آپ مجھے بہرِ ساقیِ کوثر یہ سن کے نذرِ امام لے آئی محل میں جا کے وہ پانی کا جام لے آئی 5 وہ آب پی کے بھی اٹھے نہ جب تو اس نے کہا کہ پانی پی چکے اب گھر کو جاؤ بہرِ خدا پیر کرنے کو مسلم کے پھر تے ہیں اعدا عیال، قبر میں ہوں گے کدھر گئے کس جا غضب ہے پھر جو غریبوں کے دل کو گل نہ پڑے تلاش میں کوئی بی بی کہیں نکل نہ پڑے 6 یہ سن کے آہ بھری اور کہا بدیدۂ تر نہ بیٹھے تیرے در پہ کہیں جو ہوتا گھر کہاں عیال، جنہیں فکر ہوگی اے خواہر یہاں بہن ہے نہ بھائی نہ زوجہ و دختر نہ جانے وہ بھی کوئی غم میں ہیں کہ چمن سے ہیں حسینؑ ہم سے جدا، ہم جدا حسینؑ سے ہیں 7 یہ نام سن کے پکاری وہ عاشقِ زہرا حسینؑ آپ کے کیا ہیں، کہا مرے مولا وہ بولی نام و نسب کچھ بتائیے لالا کہا کہ مردِ غریب الوطن کا نام ہی کیا وطن وہی ہے جہاں اہل بیت رہتے ہیں مجھے حسینؑ کا ادنیٰ غلام کہتے ہیں 8 یہ سن کے اس نے ترتب کر کہا شدتِ غم یہ خاکسار بھی ہے اک کنیزِ شاہِ امم چھپاؤ مجھ سے نہ للہ حالِ درد و الم بتا دو نام، تمہیں جانِ فاطمہؑ کی قسم کہا حرم سے جو چھوٹا وہ بے نصیب ہوں میں وکیلِ سبطِ نبی مسلمِ غریب ہوں میں بشکریہ سوزخواں اہلیت سلطانہ رضوی حضرت شاداں دہلوی بیٹھی ہوئی دیوار اٹھانی ہوگی گر پڑی ہوئی دستار اٹھانی ہوگی حق بھیک نہیں جو اپنی سے مل جائے اس کے لئے تلوار اٹھانی ہوگی بشکریہ سوزخواں چوہدری ساجد حسین زیدی و نائب

153

Insan ke liye maut hai gham-e-be-watani ka 1 Insan ke liye maut hai gham-e-be-watani ka Jan-kah hai andoh o alam be-watani ka Sadma nahin kuchh maut se kam be-watani ka Afat hai qiyamat hai sitam be-watani ka Kanton ke alam Syed Sajjad se puchho Iza-e-safar Muslim-e-nashad se puchho 2 Ki takht-e-duniya lainon ne ghar mein bula ke Sab phir gaye jin logon ke dawe the wafa ke Lakhon hain adu jayen kidhar jaan bacha ke Afat mein giraftar hue Kufe mein aa ke Yawar nahin, hamdam nahin, ghamkhwar nahin hai Zer-e-gham mein hain aur koi madadgar nahin hai 3 Munh kar ke suye charkh kaha shukr Khudaya Rahat hai ye bande ne jo kuchh zulm uthaya Gham ye hai ke hai dur Yadullah ka jaya Shimr ke hathon se kafan hum ne na paya Duniya se suye khuld koi dam mein safar hai Yan hum pe jo kuchh ban gayi kya un ko khabar hai 4 Ye kehte the Muslim ke lainon ne talwar Ek sang-e-sitam is lab-e-majruh pe mara Rish aur gareban mein lahu bhar gaya sara Jab hal ye pahuncha to kaha jang ka yara Aada se kaha dil mein zara rahm ko ja do Khush aata hai pani, mujhe thora sa pila do 5 Tab sunte the kis ne ye sukhan zulm ke bani Be-qatl ki tadbir mein wo dushman-e-jani Le aai zaifa unhein ek jaam mein pani Qismat ne magar chhin na di tishna-dahani Tuti hui thi us ki zaban, khushk gulu tha Us pani ko munh se jo lagata to lahu tha 6 Bachpan ka jis bewafa par ba-dida-e-giryan Ek jaam zaifa ne diya phir unhein is aan Pine bhi na paya tha koi ghunt wo zishan Pani mein juda ho ke gire gauhar-e-dandan Farmaya ke sabit hua pyase hi marenge Ab Saqi-e-Kausar hamein sairab karenge
انسان کیلئے موت ہے غمِ بے وطنی کا 1 انسان کیلئے موت ہے غم بے وطنی کا جاں کاہ ہے اندوہ و الم بے وطنی کا صدمہ نہیں کچھ موت سے کم بے وطنی کا آفت ہے قیامت ہے ستم بے وطنی کا کانٹوں کے الم سید سجادؑ سے پوچھو ایذائے سفر مسلمِ ناشاد سے پوچھو 2 کی تختِ دنیا لئینوں نے گھر میں بلا کے سب پھر گئے جن لوگوں کے دعوے تھے وفا کے لاکھوں ہیں عدو جائیں کدھر جان بچا کے آفت میں گرفتار ہوئے کوفے میں آ کے یاور نہیں، ہمدم نہیں، غم خوار نہیں ہے زیرِ غم میں ہیں اور کوئی مددگار نہیں ہے 3 منہ کر کے سوئے چرخ کہا شکر خدایا راحت ہے یہ بندے نے جو کچھ ظلم اٹھایا غم یہ ہے کہ ہے دور یداللہ کا جایا شمر کے ہاتھوں سے کفن ہم نے نہ پایا دنیا سے سوئے خلد کوئی دم میں سفر ہے یاں ہم پہ جو کچھ بن گئی کیا ان کو خبر ہے 4 یہ کہتے تھے مسلم کہ لعینوں نے تلوار اک سنگِ ستم اس لبِ مجروح پہ مارا ریش اور گریباں میں لہو بھر گیا سارا جب حال یہ پہنچا تو کہا جنگ کا یارا اعدا سے کہا دل میں ذرا رحم کو جا دو خوش آتا ہے پانی، مجھے تھوڑا سا پلا دو 5 تب سنتے تھے کس نے یہ سخن ظلم کے بانی بے قتل کی تدبیر میں وہ دشمنِ جانی لے آئی ضعیفہ انہیں اک جام میں پانی قسمت نے مگر چھین نہ دی تشنہ دہانی ٹوٹی ہوئی تھی اس کی زباں، خشک گلو تھا اس پانی کو منہ سے جو لگاتا تو لہو تھا 6 بچپن کا جس بے وفا پر بادیدہ گریاں اک جام ضعیفہ نے دیا پھر انہیں اس آن پینے بھی نہ پایا تھا کوئی گھونٹ وہ ذیشان پانی میں جدا ہو کے گرے گوہرِ دنداں فرمایا کہ ثابت ہوا پیاسے ہی مریں گے اب ساقیِ کوثر ہمیں سیراب کریں گے

154

[Insan ke liye maut hai gham-e-be-watani ka — jari] 7 Dushman to kai the ye be-yar o madadgar Barchhi kabhi parti thi, kabhi parti thi talwar Andoh pe andoh the, azar pe azar Kis yas se ek ek ka munh takte the har bar Bazu ko sitamgar jo bandhe the rasan se Fawwara-e-khun chhupta tha har zakhm-e-badan se 8 Alqissa lab-e-bam jo laye unhein saffak Tar ansuon se ho gaya Muslim ka rukh-e-pak Faryad suye Kaaba ye ki ba-dil-e-ghamnak Roi ba-qad ek ay Mursal-e-Syed-e-Laulak Kurbat hai sar-e-khalq se ghamkhwar tumhara Mauquf hai ab hashr pe didar tumhara Iftikhar Arif Wohi pyas hai, wohi dasht hai, wohi gharana hai Mashkiza se tir ka rishta bahut purana hai Iltimas Fatiha baraye Syed Mir Istibar Husain urf Ali Kausar Kufe mein dakhila hai Safir-e-Imam ka 1 Kufe mein dakhila hai Safir-e-Imam ka Tazim se khamida hai sar khas o aam ka Ghar ghar mein ghulghula hai durud o salam ka Jo shakhs hai, mujassama hai ehtiram ka Baiat ka qasd hai jo Imam-e-Arab ke sath Muslim ke hath chumte hain sab adab ke sath 2 Tanhai ki jang dushmanon ke dil hila gayi Pandrah sau surmaon, jawanon ko kha gayi Ibn-e-Ziyad ko jo madad ki sada gayi Chehre pe rusiyah ke zardi si chha gayi Bola charho chhaton na Sham ke sher par Phir Kufa ke war karo is diler par 3 Amada marne hue magar wo nabakar Kothon se phenkne lage patthar sitam-shiar Karte the dur dur se tegh o tabar ke war Angare marte the kahin chhup kar Ahl-e-Nar Kha kha ke zakhm nar-e-Ali barhte jate the Muslim jhar karte hue barhte jate the
[انسان کیلئے موت ہے غمِ بے وطنی کا — جاری] 7 دشمن تو کئی تھے یہ بے یار و مددگار برچھی کبھی پڑتی تھی، کبھی پڑتی تھی تلوار اندوہ پہ اندوہ تھے، آزار پہ آزار کس یاس سے اک ایک کا منہ تکتے تھے ہر بار بازو کو ستمگار جو باندھے تھے رسن سے فوارۂ خون چھپتا تھا ہر زخمِ بدن سے 8 القصہ لبِ بام جو لائے انہیں سفاک تر آنسوؤں سے ہوگیا مسلمؑ کا رخ پاک فریاد سوئے کعبہ یہ کی با دلِ غم ناک روئی بقد اک اے مرسلِ سید لولاک کربت ہے سرِ خلق سے غم خوار تمہارا موقوف ہے اب حشر پہ دیدار تمہارا افتخار عارف وہی پیاس ہے، وہی دشت ہے، وہی گھرانا ہے مشکیزہ سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے التماس فاتحہ برائے سید میر اصطبار حسین عرف علی کوثر کوفے میں داخلہ ہے سفیرِ امام کا 1 کوفے میں داخلہ ہے سفیرِ امام کا تعظیم سے خمیدہ ہے سر خاص و عام کا گھر گھر میں غلغلہ ہے درود و سلام کا جو شخص ہے، مجسمہ ہے احترام کا بیعت کا قصد ہے جو امامِ عرب کے ساتھ مسلمؑ کے ہاتھ چومتے ہیں سب ادب کے ساتھ 2 تنہائی کی جنگ دشمنوں کے دل ہلا گئی پندرہ سو سورماؤں، جوانوں کو کھا گئی ابن زیاد کو جو مدد کی صدا گئی چہرے پہ روسیاہ کے زردی سی چھا گئی بولا چڑھو چھتوں نہ شام کے شیر پر پھر کوفہ کے وار کرو اس دلیر پر 3 آمادہ مرنے ہوئے مگر وہ نابکار کوٹھوں سے پھینکنے لگے پتھر ستم شعار کرتے تھے دور دور سے تیغ و تبر کے وار انگارے مارتے تھے کہیں چھپ کر اہلِ نار کھا کھا کے زخم نارِ علیؑ بڑھتے جاتے تھے مسلمؑ جھاڑ کرتے ہوئے بڑھتے جاتے تھے

155

[Kufe mein dakhila hai Safir-e-Imam ka — jari] 4 Karte hi un pe karne lage bad-shiar war Afsos ek jism, jis mein hazar war Mazlum par jo ho rahe the bar bar war Ghash aa gaya, sahe na gaye be-shumar war Dushman the gher kar, chahne wale na the qarib Ho kar qarib god ke piyale na the qarib 5 Pate hi hukm-e-hakim badkar o bad-amal Balaye bam le gaye Hazrat ko chand mein Chhat se zamin pe phenk diya aah sar ke bal Pahunche idhar zamin pe, idhar aa gayi ajal Sar nazr kar ke Ibn-e-Ziyad-e-sharir ko Malun khinche phirte the lash-e-Safir ko Dard Asadi Kehti hai dur sar arsh dastan-e-Husain Pahunch gaya hai kahan se kahan jahan-e-Husain! Hanif Asadi Kahin se rahm chali, ibtida kisi ne bhi ki! Husain sabr o tahammul ki intiha hai Iltimas Fatiha baraye Syed Zafar Abbas ibn Mazhar Husain Naqvi Shah ne jab chand-e-Muharram ka safar mein dekha 1 Shah ne jab chand-e-Muharram ka safar mein dekha Manzar-e-qatl raqam ek satr mein dekha Mil janin falak zulm sar mein dekha Maut ko lut bachate hue ghar mein dekha Mar gayi khun-e-shafaq qalb ko barmane lagi Sham-e-Ashur ki taswir nazar aane lagi 2 Aab ko rok ke parhne lage riwayat ki dua Zindagi bhar se zarani thi ye basharat ki dua Wasiyat-e-rizq ka mafhum na sehat ki dua Haq se ki arz: main karta hun shahadat ki dua Sabr wo bakhsh ke ta roz-e-jaza masum rahe Hashr tak naam mera Syed-e-Mazlum rahe 3 Kuchh bhare waste aisa ho mubarak ye mah Sadqe Islam pe ho jaun, mile izzat o jah Fidya-e-rah-e-raza de laqab ay Bar Ilah Khun mein rang gharq ho, mushkil mein safina ho tabah Qaid hon Ahl-e-Haram, ghar ki safai ho jaye Sab sitam hon magar ummat ki bhalai ho jaye
[کوفے میں داخلہ ہے سفیرِ امام کا — جاری] 4 کرتے ہی ان پہ کرنے لگے بد شعار وار افسوس ایک جسم، جس میں ہزار وار مظلوم پر جو ہو رہے تھے بار بار وار غش آ گیا، سہے نہ گئے بے شمار وار دشمن تھے گھیر کر، چاہنے والے نہ تھے قریب ہو کر قریب گود کے پیالے نہ تھے قریب 5 پاتے ہی حکمِ حاکم بدکار و بد عمل بالائے بام لے گئے حضرت کو چند میں چھت سے زمیں پہ پھینک دیا آہ سر کے بل پہنچے ادھر زمیں پہ، ادھر آگئی اجل سر نذر کر کے ابنِ زیادِ شریر کو ملعون کھینچے پھرتے تھے لاشِ سفیر کو درد اسعدی کہتی ہے دور سر عرش داستانِ حسینؑ پہنچ گیا ہے کہاں سے کہاں جہانِ حسینؑ! حنیف اسعدی کہیں سے رحم چلی، ابتدا کسی نے بھی کی! حسینؑ صبر و تحمل کی انتہا ہے التماس فاتحہ برائے سید ظفر عباس ابن مظہر حسین نقوی شہ نے جب چاند محرم کا سفر میں دیکھا 1 شہ نے جب چاندِ محرم کا سفر میں دیکھا منظرِ قتل رقم ایک سطر میں دیکھا مل جنیں فلک ظلم سر میں دیکھا موت کو لوٹ بچاتے ہوئے گھر میں دیکھا مرگئی خونِ شفق قلب کو برمانے لگی شامِ عاشور کی تصویر نظر آنے لگی 2 آب کو روک کے پڑھنے لگے روایت کی دعا زندگی بھر سے زرانی تھی یہ بشارت کی دعا وصیتِ رزق کا مفہوم نہ صحت کی دعا حق سے کی عرض: میں کرتا ہوں شہادت کی دعا صبر وہ بخش کہ تا روزِ جزا معصوم رہے حشر تک نام مرا سیدِ مظلوم رہے 3 کچھ بھرے واسطے ایسا ہو مبارک یہ ماہ صدقے اسلام پہ ہوجاؤں، ملے عزت و جاہ فدیۂ راہِ رضا دے لقب اے بار الٰہ خوں میں رنگ غرق ہو، مشکل میں سفینہ ہو تباہ قید ہوں اہلِ حرم، گھر کی صفائی ہوجائے سب ستم ہوں مگر امت کی بھلائی ہوجائے

156

[Shah ne jab chand-e-Muharram ka safar mein dekha — jari] 4 Qatl ho jab mera Akbar na jalal aaye mujhe Sab azizon ke kahin sar na khayal aaye mujhe Khun mein dube Ali Akbar na jalal aaye mujhe Tarpe hathon pe jo Asghar na jalal aaye mujhe Phul Zahra ka mera shukr baja laun main Aap munh hi madh ke dho ke duaon mein 5 Nikle Amman jo zaban pyas se bahar nikle Samne ankhon ke jaan-e-Ali Akbar nikle Par gulu munh se na ay Khaliq-e-Akbar nikle Tham lun dil jo bahen ghar se tarap kar nikle Jo satayen na daraun, na saza dun un ko Dagh par dagh wo dein aur main dua dun un ko 6 Shah ne farmaya ke mahshar mein ye iqrar bhi hai Darj fard-e-shuhada Qaim nachar bhi hai Fauj ka zikr bhi hai, naam Alamdar bhi hai Marne walon mein Ali Akbar Jarrar bhi hai Imtihan ka koi gosha na falak chhorega Mera Asghar bhi meri god mein dam torega [Makhaz: Shah ne jab chand-e-Muharram ka safar mein dekha / Nasim Amrohvi] Ay Ahl-e-Aza phir alam o gham ke din aaye 1 Ay Ahl-e-Aza phir alam o gham ke din aaye Phir girya o shewan o matam ke din aaye Phir bekasi-e-Shah-e-do-alam ke din aaye Phir aai qiyamat ke Muharram ke din aaye Phir khun-e-jigar mahw hue aah o buka mein Phir Fatima betab hain pyaron ki aza mein 2 Is gham se ghar abad hue Ahl-e-Aza ke Har samt ye julus hain shahr bhar dusra ke Qurban ata-e-pisar-e-Sher-e-Khuda ke Rauze se chale aate hain ghar pe Zahra ke Ankhon se na kyun gham ho giryan hamara Zahra ka jigar-band hai mehman hamara 3 Hoga na hua yun kisi dilgir ka matam Akbar ka bhi gham, kisi be-shir ka matam Qasim ka alam, bazu-e-Shabbir ka matam Ke qata ka matam, kabhi zanjir ka matam Masruf-e-aza qalb bhi hai, ruh bhi, tan bhi Rote hain use roz o shab jis ko bahen bhi
[شہ نے جب چاند محرم کا سفر میں دیکھا — جاری] 4 قتل ہو جب مرا اکبرؑ نہ جلال آئے مجھے سب عزیزوں کے کہیں سر نہ خیال آئے مجھے خون میں ڈوبے علی اکبرؑ نہ جلال آئے مجھے تڑپے ہاتھوں پہ جو اصغرؑ نہ جلال آئے مجھے پھول زہرا کا مرا شکر بجا لاؤں میں آپ منہ ہی مدح کے دھو کے دعاؤں میں 5 نکلے اماں جو زباں پیاس سے باہر نکلے سامنے آنکھوں کے جانِ علی اکبرؑ نکلے پر گلو منہ سے نہ اے خالقِ اکبر نکلے تھام لوں دل جو بہن گھر سے تڑپ کر نکلے جو ستائیں نہ ڈراؤں، نہ سزا دوں ان کو داغ پر داغ وہ دیں اور میں دعا دوں ان کو 6 شہ نے فرمایا کہ محشر میں یہ اقرار بھی ہے درج فردِ شہدا قائمؑ ناچار بھی ہے فوج کا ذکر بھی ہے، نام علمدار بھی ہے مرنے والوں میں علی اکبرؑ جرار بھی ہے امتحان کا کوئی گوشہ نہ فلک چھوڑے گا میرا اصغرؑ بھی مری گود میں دم توڑے گا [ماخذ: شہ نے جب چاند محرم کا سفر میں دیکھا / نسیم امروہوی] اے اہلِ عزا پھر الم و غم کے دن آئے 1 اے اہلِ عزا پھر الم و غم کے دن آئے پھر گریہ و شیون و ماتم کے دن آئے پھر بے کسیِ شاہِ دو عالم کے دن آئے پھر آئی قیامت کہ محرم کے دن آئے پھر خونِ جگر محو ہوئے آہ و بکا میں پھر فاطمہؑ بیتاب ہیں پیاروں کی عزا میں 2 اس غم سے گھر آباد ہوئے اہلِ عزا کے ہر سمت یہ جلوس ہیں شہر بھر دوسرا کے قربان عطائے پسرِ شیرِ خدا کے روضے سے چلے آتے ہیں گھر پہ زہرا کے آنکھوں سے نہ کیوں غم ہو گریاں ہمارا زہرا کا جگر بند ہے مہمان ہمارا 3 ہوگا نہ ہوا یوں کسی دلگیر کا ماتم اکبرؑ کا بھی غم، کسی بے شیر کا ماتم قاسمؑ کا الم، بازوئے شبیرؑ کا ماتم کہ قطع کا ماتم، کبھی زنجیر کا ماتم مصروفِ عزا قلب بھی ہے، روح بھی، تن بھی روتے ہیں اسے روز و شب جس کو بہن بھی

157

[Ay Ahl-e-Aza phir alam o gham ke din aaye — jari] 4 Wo Shah bara jis ko lainon ne sataya Wo jis ne dam-e-zabh bhi pani nahin paya Wo jis ki jabin par na masaib mein bal aaya Wo jis ne jawan lal ke lashe ko uthaya Wo Sher-e-Batul-e-Azra se jo bhala tha Sajde mein ye tegh-e-jafa jis ka gala tha 5 Wo jis ki bahen dekh ke Zahra thi ye manzar Neze se nikal aai thi ek bar tarap kar Chillati thi sar pit ke wo bekas o muztar Jald aao yahan mere Qaim, mere Akbar Abbas, meri man ki kamai ko bachalo Ay Aun o Muhammad mere bhai ko bachalo [Ay Ahl-e-Aza phir alam o gham ke din aaye / Nasim Amrohvi] Bashukriya salamkhwan Syed Asad Jamal Rizvi Charchavi Falak ke raston ka un ko kya pata Karbala jana nahin, aata nahin Jafar Husain Jafar Wo dar hai ke Ibn-e-Nagi mere Ali ka Jis dar ke bhikari hain shahanshah o ghani tak Hazrat ko hua mah-e-Muharram jo safar mein 1 Hazrat ko hua mah-e-Muharram jo safar mein Ek dagh para aur bhi Sughra ke jigar mein Nani se kaha marti hun duri-e-pidar mein Ashur ki bhi Eid na hogi mere ghar mein Kya janti thi aise khanjar jayenge Baba Wo din bhi kabhi hoga ke phir aayenge Baba 2 Kyun Nani Rajab tha ke sidhare the safar ko Pure pichhe mahine hue duri-e-pidar ko Hajj karke phir aaye Ahl-e-Watan khair se ghar ko Phir Qibla o Kaaba se kahiye ke idhar ko Zahra ka qamar suye Madina nahin aaya Is chand ki ruyat ka mahina nahin aaya 3 Paida hue Asghar to payam-e-ajal aaya Afsos ke jhule mein bahen ne na jhulaya Bhaiya ko na ji bhar ke gale se bhi lagaya Panjre to kabhi khwab mein bhi munh na dikhlaya Dakhil Shah ne din ab bhi ghar mein hue Nani Asghar tujhe mahine ke safar mein hue Nani
[اے اہلِ عزا پھر الم و غم کے دن آئے — جاری] 4 وہ شاہ بڑا جس کو لعینوں نے ستایا وہ جس نے دمِ ذبح بھی پانی نہیں پایا وہ جس کی جبیں پر نہ مصائب میں بل آیا وہ جس نے جواں لال کے لاشے کو اٹھایا وہ شیرِ بتولِ عذرا سے جو بھلا تھا سجدے میں یہ تیغِ جفا جس کا گلا تھا 5 وہ جس کی بہن دیکھ کے زہرا تھی یہ منظر نیزے سے نکل آئی تھی اک بار تڑپ کر چلاتی تھی سر پیٹ کے وہ بے کس و مضطر جلد آؤ یہاں مرے قائم، مرے اکبر عباسؑ، مری ماں کی کمائی کو بچالو اے عونؑ و محمدؑ مرے بھائی کو بچالو [اے اہل عزا پھر الم و غم کے دن آئے / نسیم امروہوی] بشکریہ سلام خواں سید اسد جمال رضوی چارچوی فلک کے راستوں کا ان کو کیا پتہ کربلا جانا نہیں، آتا نہیں جعفر حسین جعفر وہ در ہے کہ ابنِ نگی مرے علیؑ کا جس در کے بھکاری ہیں شہنشاہ و غنی تک حضرت کو ہوا ماہِ محرم جو سفر میں 1 حضرت کو ہوا ماہِ محرم جو سفر میں اک داغ پڑا اور بھی صغرا کے جگر میں نانی سے کہا مراتی ہوں دوریِ پدر میں عاشور کی بھی عید نہ ہوگی مرے گھر میں کیا جانتی تھی ایسے خنجر جائیں گے بابا وہ دن بھی کبھی ہوگا کہ پھر آئیں گے بابا 2 کیوں نانی رجب تھا کہ سدھارے تھے سفر کو پورے پیچھے مہینے ہوئے دوریِ پدر کو حج کرکے پھر آئے اہلِ وطن خیر سے گھر کو پھر قبلہ و کعبہ سے کہیے کہ ادھر کو زہرا کا قمر سوئے مدینہ نہیں آیا اس چاند کی رویت کا مہینہ نہیں آیا 3 پیدا ہوئے اصغرؑ تو پیامِ اجل آیا افسوس کہ جھولے میں بہن نے نہ جھلایا بھیا کو نہ جی بھر کے گلے سے بھی لگایا پنجرے تو کبھی خواب میں بھی منہ نہ دکھلایا داخل شہ نے دین اب بھی گھر میں ہوئے نانی اصغرؑ تجھے مہینے کے سفر میں ہوئے نانی

158

[Hazrat ko hua mah-e-Muharram jo safar mein — jari] 4 Garmi se kunwen khushk hue jate hain Nani Puchhiye koi pardesiyon se tishna-zabani Wo boli: main darti hun ye kehte hue Nani Jholiyon ka na sukha ho kahin rah mein pani Fateh ko jo puchho to ye irsat Shah de hai Baba ko mere pyas ki bardasht nahin hai 5 Baba ye kehne khair se Ya Rab ye mahina Is khadshe se har waqt dharakta jata hai sina Baba se mere Kufiyon ke dil mein hai kina Hazrat se larai ka kahin ho na qarina Kufe ki taraf se jo hawa aati hai Nani Sab ke liye rone ki sada aati hai Nani [Hazrat ko hua mah-e-Muharram jo safar mein] Waqar Mohsin Ajal ko hogi aakhir ko mat maqtal mein Husain bant rahe the hayat maqtal mein Wohi kiya jo kaha tha Rasul-e-Akram ne Rakhi Husain ne Nana ki baat maqtal mein Bashukriya sozkhwan Hashim Mahmud Zaidi o Bashir Alvi Jis ghari nahr pe khaime Shah-e-wala ke hue 1 Jis ghari nahr pe khaime Shah-e-wala ke hue Aur sitamgar ba-zam lab-e-darya ke hue Shah par gham ye jafakaron se farmate hue Dushman-e-jan mere ghar se mujhe bulwaye hue Tum ye pani Muhammad ka nawasa mar jaye Tum hi munsif ho, jo mehman ho wo pyasa mar jaye 2 Main na aata tha, Madine se bulaya tum ne Rauza-e-Ahmad-e-Mursal ko chhuraya tum ne Kufa o sahra bhi ye darya bhi dikhaya tum ne Haif hai tarik-e-duniya ko sataya tum ne Rukh idhar kar jo kiya main ne to munh morte ho Ek duaiya ke wade ye mujhe chhorte ho 3 Shah se tab ye darushti se lainon ne kaha Muhlat ek shab ki bhala dene mein nuqsan tha kya Par hamein hukm hai darya se utha dene ka Jo ke farmaya hai hakim use layenge baja Jald saman karo khaimon ke uthwane ka Aap ka uzr koi pesh nahin jane ka
[حضرت کو ہوا ماہِ محرم جو سفر میں — جاری] 4 گرمی سے کنویں خشک ہوئے جاتے ہیں نانی پوچھئے کوئی پردیسیوں سے تشنہ زبانی وہ بولی: میں ڈرتی ہوں یہ کہتے ہوئے نانی جھولیوں کا نہ سوکھا ہو کہیں راہ میں پانی فاتح کو جو پوچھو تو یہ ارثت شہ دے ہے بابا کو مرے پیاس کی برداشت نہیں ہے 5 بابا یہ کہنے خیر سے یارب یہ مہینہ اس خدشے سے ہر وقت دھڑکتا جاتا ہے سینہ بابا سے مرے کوفیوں کے دل میں ہے کینہ حضرت سے لڑائی کا کہیں ہو نہ قرینہ کوفے کی طرف سے جو ہوا آتی ہے نانی سب کیلئے رونے کی صدا آتی ہے نانی [حضرت کو ہوا ماہ محرم جو سفر میں] وقار محسن اجل کو ہوگی آخر کو مات مقتل میں حسینؑ بانٹ رہے تھے حیات مقتل میں وہی کیا جو کہا تھا رسولِ اکرمؐ نے رکھی حسینؑ نے نانا کی بات مقتل میں بشکریہ سوزخواں ہاشم محمود زیدی و بشیر علوی جس گھڑی نہر پہ خیمے شاہِ والا کے ہوئے 1 جس گھڑی نہر پہ خیمے شہ والا کے ہوئے اور ستمگر بزعم لبِ دریا کے ہوئے شاہ پر غم یہ جفا کاروں سے فرماتے ہوئے دشمنِ جاں مرے گھر سے مجھے بلوائے ہوئے تم یہ پانی محمدؐ کا نواسہ مر جائے تم ہی منصف ہو، جو مہماں ہو وہ پیاسا مر جائے 2 میں نہ آتا تھا، مدینے سے بلایا تم نے روضۂ احمدِ مرسلؐ کو چھڑایا تم نے کوفہ و صحرا بھی یہ دریا بھی دکھایا تم نے حیف ہے تارکِ دنیا کو ستایا تم نے رخ ادھر کر جو کیا میں نے تو منہ موڑتے ہو اک دعائیہ کے وعدے یہ مجھے چھوڑتے ہو 3 شاہ سے تب یہ درشتی سے لعینوں نے کہا مہلت اک شب کی بھلا دینے میں نقصان تھا کیا پر ہمیں حکم ہے دریا سے اٹھا دینے کا جو کہ فرمایا ہے حاکم اسے لائیں گے بجا جلد سامان کرو خیموں کے اٹھوانے کا آپ کا عذر کوئی پیش نہیں جانے کا

159

[Jis ghari nahr pe khaime Shah-e-wala ke hue — jari] 4 Abdida ho lainon se ye bole Shabbir Aa chuke ab to dikha hamein jo kuchh taqdir Khayenge shauq se tegh o tabar o shamshir o tir Par Khuda is ka hai shahid ke main hun be-taqsir Nahr ke garmi ke mausam mein uthate ho mujhe Kya milega tumhein nahaq jo satate ho mujhe Haftum mah-e-Muharram ki hui jabke sahar 1 Haftum mah-e-Muharram ki hui jabke sahar Aur namaz-e-sahari se hue farigh Sarwar Di khabardar ne jamiat-e-aada ki khabar Shah ne kaha apni Khuda par hai nazar Aane do aate hain jo tegh o sipar bandhe hue Baithe hain marne pe hum bhi kamar bandhe hue 2 Shab-e-hashtum se nam tak rahe sunte yahi hal Har taraf se chale aate hain urte Ahl-e-Zalal Yan tarte the pare Shah ke pyase atfal Ahl-e-Ismat ko tha gham bekasi-e-Shah ka malal Kehte the sab hain adu, dost na aaya koi Sibt-e-Ahmad ki madad karne na paya koi 3 Subh-e-qatl-e-Shah-e-Mazlum numayan hui jab Uth ke Sajjad se ki Shah ne poshak talab Munh pe rumal liye roi thi baithi Zainab Duri baithi hui bhaiya na kahin ki rahi ab Gar qadam aap ne khaime se nikala bhai Phir raha kaun mera puchhne wala bhai
[جس گھڑی نہر پہ خیمے شاہِ والا کے ہوئے — جاری] 4 آبدیدہ ہو لعینوں سے یہ بولے شبیرؑ آچکے اب تو دکھا ہمیں جو کچھ تقدیر کھائیں گے شوق سے تیغ و تبر و شمشیر و تیر پر خدا اس کا ہے شاہد کہ میں ہوں بے تقصیر نہر کے گرمی کے موسم میں اٹھاتے ہو مجھے کیا ملے گا تمہیں ناحق جو ستاتے ہو مجھے ہفتم ماہِ محرم کی ہوئی جبکہ سحر 1 ہفتم ماہِ محرم کی ہوئی جبکہ سحر اور نمازِ سحری سے ہوئے فارغ سرورؑ دی خبردار نے جمعیتِ اعدا کی خبر شہ نے کہا اپنی خدا پر ہے نظر آنے دو آتے ہیں جو تیغ و سپر باندھے ہوئے بیٹھے ہیں مرنے پہ ہم بھی کمر باندھے ہوئے 2 شبِ ہشتم سے نم تک رہے سنتے یہی حال ہر طرف سے چلے آتے ہیں اڑتے اہلِ ضلال یاں ترتے تھے پڑے شاہ کے پیاسے اطفال اہلِ عصمت کو تھا غم بیکسیِ شہ کا ملال کہتے تھے سب ہیں عدو، دوست نہ آیا کوئی سبطِ احمدؐ کی مدد کرنے نہ پایا کوئی 3 صبحِ قتلِ شہِ مظلوم نمایاں ہوئی جب اٹھ کے سجادؑ سے کی شاہ نے پوشاک طلب منہ پہ رومال لئے روئی تھی بیٹھی زینبؑ دوری بیٹھی ہوئی بھیا نہ کہیں کی رہی اب گر قدم آپ نے خیمے سے نکالا بھائی پھر رہا کون مرا پوچھنے والا بھائی [اشتہار] ملک و ملت کے بہتر مستقبل کے لئے مخیر پاک و ہند میں 1912ء سے قائم و سرگرمِ عمل قدیم ترین معتبر و فعال قومی، رفاہی ادارے انجمن وظیفۂ سادات و مومنین پاکستان (رجسٹرڈ) سے ہر ممکن تعاون کیجئے مرکزی دفتر: 11 میسن روڈ، لاہور فون: 042-7351631 علاقائی دفتر: رضویہ امام بارگاہ، ناظم آباد، کراچی فون: 6686981 شعبۂ واپسی وظائف: رضویہ امام بارگاہ، ناظم آباد، کراچی فون: 6767002 www.wazifasadaat.com

160

[Safha 160 se jari] 4 Shah rone lage Zainab ko jo dekha betab Shimr bazu ne kiya Shah se ro kar ye khitab Haq mein laundi ke hai kya hukm ye arz Janab Aap farmayen to pitun ghore ki rikab Yun guzara hai mujhe faqa pe faqa Sahib Aap ke dam se main rehti hun ilaqa Sahib 5 Ro ke farmane laga Haider-e-Karrar ka lal Ran mein jab hogi teri mere jadd ki hilal Bazu tujh ko hai aish apni tabahi ka khayal Jo meri bahnon ka ahwal wohi tera hal Bida hota hai tujhe aur mujhe be-sar hona Bint-e-Zahra ki itaat se na bahar hona [Makhaz: Jis ghari nahr pe khaime Shah-e-wala ke hue] Jis dam suni Imam-e-Umam ne sada-e-Hurr 1 Jis dam suni Imam-e-Umam ne sada-e-Hurr Sine pe hath mar ke chillaye haye Hurr Ro kar kaha rafiqon se dekho wafa-e-Hurr Farsh-e-aza Haram ne bichhai baraye Hurr Pahunchi jo Shah ne aah, dil-e-be-qarar se Niklin turbat ke Fatima Zahra mazar se 2 Daure idhar se ran ki taraf Syed-e-Umam Aaye Najaf se Haider-e-Safdar ba-chashm-e-nam Awaz di Nabi ne ke rakh lo mere Haram Jis waqt pahunche Shah to wo torta tha dam Sar god mein jo rakhte wo bahut se ghabra gaye Maula se apne daur ke Hazrat lipat gaye 3 Zanu pe rakh liya sar-e-Hurr aur ye kaha Bhai milta aaya hai aahon mein zara Ankhen qadam pe mal ke ye bola wo bawafa Maula hazar jaan se main aap par fida Jin ke liye zamin pe malak sar jhukate hain Wo log khuld se mere lene ko aate hain [Bashukriya sozkhwan / hawala juzwi taur par ghair wazeh]
[صفحہ 160 سے جاری] 4 شاہ رونے لگے زینبؑ کو جو دیکھا بے تاب شمر بازو نے کیا شاہ سے رو کر یہ خطاب حق میں لونڈی کے ہے کیا حکم یہ عرض جناب آپ فرمائیں تو پیٹوں گھوڑے کی رکاب یوں گزارا ہے مجھے فاقہ پہ فاقہ صاحب آپ کے دم سے میں رہتی ہوں علاقہ صاحب 5 رو کے فرمانے لگا حیدرِ کرار کا لال رن میں جب ہوگی تری مرے جد کی ہلال بازو تجھ کو ہے عیش اپنی تباہی کا خیال جو مری بہنوں کا احوال وہی تیرا حال بیدہ ہوتا ہے تجھے اور مجھے بے سر ہونا بنتِ زہرا کی اطاعت سے نہ باہر ہونا [ماخذ: جس گھڑی نہر پہ خیمے شاہِ والا کے ہوئے] جس دم سنی امام امم نے صدائے حر 1 جس دم سنی امام امم نے صدائے حر سینے پہ ہاتھ مار کے چلائے ہائے حر رو کر کہا رفیقوں سے دیکھو وفائے حر فرشِ عزا حرم نے بچھائی برائے حر پہنچی جو شہ نے آہ، دل بے قرار سے نکلیں تربت کے فاطمہ زہرا مزار سے 2 دوڑے ادھر سے رن کی طرف سیدِ امم آئے نجف سے حیدرِ صفدر بہ چشمِ نم آواز دی نبیؐ نے کہ رکھ لو مرے حرم جس وقت پہنچے شاہ تو وہ توڑتا تھا دم سر گود میں جو رکھتے وہ بہت سے گھبرا گئے مولا سے اپنے دوڑ کے حضرت لپٹ گئے 3 زانو پہ رکھ لیا سرِ حر اور یہ کہا بھائی ملتا آیا ہے آہوں میں ذرا آنکھیں قدم پہ مل کے یہ بولا وہ باوفا مولا ہزار جان سے میں آپ پر فدا جن کے لئے زمین پہ ملک سر جھکاتے ہیں وہ لوگ خلد سے مرے لینے کو آتے ہیں [بشکریہ سوزخواں / حوالہ جزوی طور پر غیر واضح]

161

[Jis dam suni Imam-e-Umam ne sada-e-Hurr — jari] 4 Zanu pe sar hai aap ke ya Shah-e-bahr-o-bar Mahbub-e-Kibriya hain idhar Sher-e-Haq idhar Hain kaun ye muazzam, pahlu mein nauhagar Shah ne kaha ke ro rahi hain Amman bahr-e-sar Tu hashr tak Imam-e-do-alam ke sath hai Matam tera Husaini ke matam ke sath hai 5 Ye sun ke ghash ho gaya is dam jari ka hal Zanu-e-Shah-e-din pe kiya Hurr ne intiqal Khaime ke dar pe lash ko laya Ali ka lal Sab bibiyan ne khol diye sar ke bal Zainab yun roti thin fidai ke waste Jaise bahen tarapti hai bhai ke waste [Makhaz: Jis dam suni Imam-e-Umam ne sada-e-Hurr] Baqi jo rafiq-e-Shah-e-din reh gaye do char 1 Baqi jo rafiq-e-Shah-e-din reh gaye do char Hasrat se unhein dekhte the Syed-e-Abrar Ki barh ke Habib ibn-e-Mazahir ne ye guftar Ye pir ghulam ab hai ijazat ka talabgar Bande ko bhi marne ki raza dijiye Aqa Firdaus ke raste pe laga dijiye Aqa 2 Shabbir ne sine se lagaya kabhi bari Rukhsat jo kiya ankhon se ansu hue jari Ghar ke dar-e-khaime se Zainab ye pukari Logo kaho maidan mein chali kis ki sawari Ab kaun bachayega Shah-e-jinn-o-bashar ko Sab chhor chale jate hain Zahra ke pisar ko 3 Ye sunte hi kohram hua Ahl-e-Haram mein Pahuncha wo jari sher sa maidan-e-sitam mein Qatil tha lab-e-ishq Shahanshah-e-Umam mein Betab tha Maula ki judai ke alam mein Sina tha jari ka tir o tabar ki janib Phir phir ke nazar karta tha Shabbir ki janib [Iltimas Fatiha / hawala safha mein]
[جس دم سنی امام امم نے صدائے حر — جاری] 4 زانو پہ سر ہے آپ کے یا شاہِ بحر و بر محبوبِ کبریا ہیں ادھر شیرِ حق ادھر ہیں کون یہ معظّم، پہلو میں نوحہ گر شہ نے کہا کہ رو رہی ہیں اماں بہرِ سر تو حشر تک امامِ دو عالم کے ساتھ ہے ماتم ترا حسینی کے ماتم کے ساتھ ہے 5 یہ سن کے غش ہوگیا اس دم جری کا حال زانوئے شاہ دیں پہ کیا حر نے انتقال خیمے کے در پہ لاش کو لایا علیؑ کا لال سب بیبیاں نے کھول دیئے سر کے بال زینبؑ یوں روتی تھیں فدائی کے واسطے جیسے بہن تڑپتی ہے بھائی کے واسطے [ماخذ: جس دم سنی امام امم نے صدائے حر] باقی جو رفیقِ شاہِ دیں رہ گئے دوچار 1 باقی جو رفیقِ شہِ دیں رہ گئے دوچار حسرت سے انہیں دیکھتے تھے سیدِ ابرار کی بڑھ کے حبیب ابن مظاہر نے یہ گفتار یہ پیر غلام اب ہے اجازت کا طلبگار بندے کو بھی مرنے کی رضا دیجئے آقا فردوس کے رستے پہ لگا دیجئے آقا 2 شبیرؑ نے سینے سے لگایا کبھی باری رخصت جو کیا آنکھوں سے آنسو ہوئے جاری گھر کے درِ خیمے سے زینبؑ یہ پکاری لوگو کہو میدان میں چلی کس کی سواری اب کون بچائے گا شہِ جن و بشر کو سب چھوڑ چلے جاتے ہیں زہرا کے پسر کو 3 یہ سنتے ہی کہرام ہوا اہلِ حرم میں پہنچا وہ جری شیر سا میدانِ ستم میں قاتل تھا لبِ عشق شہنشاہِ امم میں بے تاب تھا مولا کی جدائی کے الم میں سینہ تھا جری کا تیر و تبر کی جانب پھر پھر کے نظر کرتا تھا شبیرؑ کی جانب [التمـاس فاتحہ / حوالہ صفحہ میں]

162

[Baqi jo rafiq-e-Shah-e-din reh gaye do char — jari] 4 Bairun mein jo dikhlai jawanon ki shujaat Ghabrane lage adu, badan ghat gayi taqat Dam charh gaya garmi se hui pyas ki shiddat Dil se kaha ab alam-e-fani se hai rukhsat Na lashkar-e-aada ko, na Shabbir ko dekha Kis yas se mur kar rukh-e-Shabbir ko dekha 5 Sine chhida tiron se hua farq do para Rag rag jo kisi phir na raha zabt ka yara Shiraza-e-ajza-e-badan khul gaya sara Girte hue ghore se ye Hazrat ko pukara Yan aap ka aana meri bakhshish ki sanad hai Ay Sher-e-Ilahi ke pisar, waqt-e-madad hai 6 Nagah safein chir ke aaye Shah-e-zishan Dekha ke wo mazlum koi dam ka hai mehman Lashe se lipat kar ye pukare baad-e-afghan Ay dost mere, teri muhabbat pe main qurban Dikhla do mujhe zakhm kahan khaye hain bhai Sine se lipat jao ke hum aaye hain bhai [Makhaz: Baqi jo rafiq-e-Shah-e-din reh gaye do char] Haftum se ta dahum jo hua qafile ka hal 1 Haftum se ta dahum jo hua qafile ka hal Tahrir kar sake ye qalam ko nahin majal Dard ho gaya jo taat-e-batil ka tha sawal Anboh-e-ashqiya mein ghira tha Nabi ka lal Lekin sukun-e-qalb mein koi khalal na tha Lab khushk the, jabin-e-imamat pe bal na tha 2 Zainab ke ladlon ne bhi jauhar dikha diye Do bachchiyon ne lashon ke pushte laga diye Jo nur-e-bati the wo ran se bhaga diye Duniya ko jan-nisari ke raste bata diye Kya jante paon Salil-e-Khalil ki mauj mein Aakhir shahid ho gaye dushman ki fauj mein 3 Zahra ummat fariq-e-adalat pe be-qarar Koi ilaj aur na dawaon ka ikhtiyar Bhuk labon pe bas yahi aata tha bar bar Ay kash is jihad mein ho jate hum shikar Do gam uth ke chalne ke qabil nahin hain hum Daur-e-sitam badalne ke qabil nahin hain hum
[باقی جو رفیقِ شاہِ دیں رہ گئے دوچار — جاری] 4 بیرون میں جو دکھلائی جوانوں کی شجاعت گھبرانے لگے عدو، بدن گھٹ گئی طاقت دم چڑھ گیا گرمی سے ہوئی پیاس کی شدت دل سے کہا اب عام فانی سے ہے رخصت نہ لشکرِ اعدا کو، نہ شبیرؑ کو دیکھا کس یاس سے مڑ کر رخِ شبیرؑ کو دیکھا 5 سینے چھدا تیروں سے ہوا فرق دو پارا رگ رگ جو کسی پھر نہ رہا ضبط کا یارا شیرازۂ اجزائے بدن کھل گیا سارا گرتے ہوئے گھوڑے سے یہ حضرت کو پکارا یاں آپ کا آنا مری بخشش کی سند ہے اے شیرِ الٰہی کے پسر، وقتِ مدد ہے 6 ناگاہ صفیں چیر کے آئے شہِ ذیشان دیکھا کہ وہ مظلوم کوئی دم کا ہے مہمان لاشے سے لپٹ کر یہ پکارے بعدِ افغان اے دوست مرے، تیری محبت پہ میں قربان دکھلادو مجھے زخم کہاں کھائے ہیں بھائی سینے سے لپٹ جاؤ کہ ہم آئے ہیں بھائی [ماخذ: باقی جو رفیقِ شاہ دیں رہ گئے دوچار] ہفتم سے تا دہم جو ہوا قافلے کا حال 1 ہفتم سے تا دہم جو ہوا قافلے کا حال تحریر کر سکے یہ قلم کو نہیں مجال درد ہوگیا جو طاعتِ باطل کا تھا سوال انبوهِ اشقیا میں گھرا تھا نبیؐ کا لال لیکن سکونِ قلب میں کوئی خلل نہ تھا لب خشک تھے، جبینِ امامت پہ بل نہ تھا 2 زینبؑ کے لاڈلوں نے بھی جوہر دکھا دیئے دو بچیوں نے لاشوں کے پشتے لگا دیئے جو نورِ بتی تھے وہ رن سے بھگا دیئے دنیا کو جاں نثاری کے رستے بتا دیئے کیا جنتے پاؤں سلیلِ خلیل کی موج میں آخر شہید ہوگئے دشمن کی فوج میں 3 زہرا امت فریقِ عدالت پہ بے قرار کوئی علاج اور نہ دواؤں کا اختیار بھوک لبوں پہ بس یہی آتا تھا بار بار اے کاش اس جہاد میں ہو جاتے ہم شکار دو گام اٹھ کے چلنے کے قابل نہیں ہیں ہم دورِ ستم بدلنے کے قابل نہیں ہیں ہم

163

[Haftum se ta dahum jo hua qafile ka hal — jari] 4 Gahwara-e-Rubab mein Asghar the nala-kash Tha zard mahtab ki surat wo mahwash Bachche ko puchhe sine ke aate the ghash pe ghash Faryad kar rahi thi Sakina ke al-atash Sab kuchh Imam dekh rahe the sukun se Tar thi aba-e-pak shahidon ke khun se 5 Aaya khayal Ahl-e-Arab ka hai ye shiar Bachchon ko dushmanon mein nahin karte hain shikar Shayad pasijen dekh ke Asghar ka hal-e-zar Bachche ko le ke god mein nikle wo zi-waqar Awaz di ke Sham ki faujo, zara suno Apne Nabi ki Aal ka tum majra suno 6 Main kaun hun Nabi ka nawasa, Ali ka lal Baiat karun main zulm o sitam ki hai ye muhal Dushman samajh ke mujh se ho amada-e-qital Lekin hai chhe mah ke bachche pe bahut malal Ek aakhri sawal hai is ka jawab do Mujh ko nahin to is ko hi ek jura-e-ab do 7 Aaya sawal-e-ab ka, ek tir se jawab Paida hua zamin ki fazaon mein iztirab Be-shir ka lahu hua unwan-e-inqilab Zalim ko apne zulm pe aane laga hijab Mazlum mein Saghir ke paikan tha hua Maqtul-e-dushman-e-pak ye masum tha hua 8 Dekha khud apni ankh se Ansar ka lahu Ragti mein jazb paya Alamdar ka lahu Qasim ka khun, Akbar-e-khuddar ka lahu Zainab ke lal, Jafar-e-Tayyar ka lahu Shish-mah ka bhi god mein khun ghul baha Itna sukun barh gaya jitna lahu baha [Makhaz: Haftum se ta dahum jo hua qafile ka hal] Akhtar Yashi Pyason ka mojiza ye nahin hai to phir hai kya Darya hai pas, sahil-e-darya ko pyas hai Qatil yaqin hai ruh-e-rawan-e-muhabbat Lekin Yazidiyat to mukammal qiyas hai [Iltimas Surah Fatiha]
[ہفتم سے تا دہم جو ہوا قافلے کا حال — جاری] 4 گہوارۂ رباب میں اصغرؑ تھے نالہ کش تھا زرد ماہتاب کی صورت وہ ماہ وش بچے کو پوچھے سینے کے آتے تھے غش پہ غش فریاد کر رہی تھی سکینہؑ کہ العطش سب کچھ امام دیکھ رہے تھے سکون سے تر تھی عبائے پاک شہیدوں کے خون سے 5 آیا خیال اہلِ عرب کا ہے یہ شعار بچوں کو دشمنوں میں نہیں کرتے ہیں شکار شاید پسیجیں دیکھ کے اصغرؑ کا حالِ زار بچے کو لے کے گود میں نکلے وہ ذی وقار آواز دی کہ شام کی فوجو، ذرا سنو اپنے نبیؐ کی آل کا تم ماجرا سنو 6 میں کون ہوں نبیؐ کا نواسہ، علیؑ کا لال بیعت کروں میں ظلم و ستم کی ہے یہ محال دشمن سمجھ کے مجھ سے ہو آمادۂ قتال لیکن ہے چھ ماہ کے بچے پہ بہت ملال اک آخری سوال ہے اس کا جواب دو مجھ کو نہیں تو اس کو ہی اک جرعۂ آب دو 7 آیا سوال آب کا، اک تیر سے جواب پیدا ہوا زمیں کی فضاؤں میں اضطراب بے شیر کا لہو ہوا عنوانِ انقلاب ظالم کو اپنے ظلم پہ آنے لگا حجاب مظلوم میں صغیر کے پیکاں تھا ہوا مقتولِ دشمنِ پاک یہ معصوم تھا ہوا 8 دیکھا خود اپنی آنکھ سے انصار کا لہو رگتی میں جذب پایا علمدار کا لہو قاسمؑ کا خون، اکبرِ خوددار کا لہو زینبؑ کے لال، جعفرِ طیار کا لہو شش ماہ کا بھی گود میں خون گھل بہا اتنا سکون بڑھ گیا جتنا لہو بہا [ماخذ: ہفتم سے تا دہم جو ہوا قافلے کا حال] اختر یاشی پیاسوں کا معجزہ یہ نہیں ہے تو پھر ہے کیا دریا ہے پاس، ساحلِ دریا کو پیاس ہے قاتل یقیں ہے روحِ روانِ محبت لیکن یزیدیت تو مکمل قیاس ہے [التمـاس سورۃ فاتحہ]

164

Muslim ke lal jabke Shahid-e-jafa hue 1 Muslim ke lal jabke Shahid-e-jafa hue Dasht-e-fana se rahi-e-mulk-e-baqa hue Ghurbat mein wo yatim jo nazr-e-qaza hue Zainab bhi roin, Shah bhi mahw-e-buka hue Do tir-e-gham dilon pe yakayak jo chal gaye Bahr-e-raza Ali ke nawase pighal gaye 2 Betab ho ke aaye wo ghazi jo man ke pas Zainab zaban-e-hal se bolin ba-dard o yas Kyun bad-hawas aaye ho, chehre hain kyun udas Kya dekh kar larai ko tari hua hiras Zan se phir hai kaun tumhare marne mein Nana ki dhak baithi hai sare zamane mein 3 Kya kya guzar gaye Shah-e-din pe gham o mihan Chhore musafirat mein rafiqan-e-be-watan Nazr-e-khizan hua mere man-jaye ka chaman Muslim ke lal mare gaye, lut gayi bahen Kis kis shahid ke liye ansu bahaoge Ab kis ki lash dekh ke marne ko jaoge 4 Ye zikr tha ke Shah khud aaye bahen ke pas Baithe wo sar jhuka ke Shah-e-be-watan ke pas Bachche bhi roye baithe the Shah-e-Zaman ke pas Nazdik tha ke aayen kaleje dahan ke pas Ankhon se yun dileran ne daman bhigoye the Be-chain jis tarah gham-e-Zahra mein roye the 5 Kehte the Shah tishna-dahan, kya kare Husain Ay Bint-e-Shah-e-Qila-shikan, kya kare Husain Lutta hai hurmaton ka chaman, kya kare Husain Laila kuchh batao bahen, kya kare Husain Puchho ke kyun ye rote hain, kyun haye haye hai Ro dein unhein Husain, tumhari ye raye hai 6 Mujh se phiri hai sari Khudai, main kya karun Kyun kar laraun teri kamai, main kya karun Do phul nasib mein hai judai, main kya karun Aqa se qaul hari hun bhai, main kya karun Laila ru na bheje hadiya-e-faqir ka Deti hun wasta main Janab-e-Amir ka
مسلمؑ کے لال جبکہ شہیدِ جفا ہوئے 1 مسلمؑ کے لال جبکہ شہیدِ جفا ہوئے دشتِ فنا سے راہیِ ملکِ بقا ہوئے غربت میں وہ یتیم جو نذرِ قضا ہوئے زینبؑ بھی روئیں، شاہؑ بھی محوِ بکا ہوئے دو تیرِ غم دلوں پہ یکایک جو چل گئے بہرِ رضا علیؑ کے نواسے پگھل گئے 2 بیتاب ہو کے آئے وہ غازی جو ماں کے پاس زینبؑ زبانِ حال سے بولیں بہ درد و یاس کیوں بدحواس آئے ہو، چہرے ہیں کیوں اداس کیا دیکھ کر لڑائی کو طاری ہوا ہراس زن سے پھر ہے کون تمہارے مرنے میں نانا کی دھاک بیٹھی ہے سارے زمانے میں 3 کیا کیا گزر گئے شہؑ دیں پہ غم و محن چھوڑے مسافرت میں رفیقان بے وطن نذرِ خزاں ہوا مرے ماں جائے کا چمن مسلمؑ کے لال مارے گئے، لٹ گئی بہن کس کس شہید کے لئے آنسو بہاؤ گے اب کس کی لاش دیکھ کے مرنے کو جاؤ گے 4 یہ ذکر تھا کہ شاہؑ خود آئے بہن کے پاس بیٹھے وہ سر جھکا کے شہِ بے وطن کے پاس بچے بھی روئے بیٹھے تھے شاہِ زمن کے پاس نزدیک تھا کہ آئیں کلیجے دہن کے پاس آنکھوں سے یوں دلیران نے دامن بھگوئے تھے بے چین جس طرح غمِ زہرا میں روئے تھے 5 کہتے تھے شاہؑ تشنہ دہن، کیا کرے حسینؑ اے بنتِ شاہِ قلعہ شکن، کیا کرے حسینؑ لٹتا ہے حرمتوں کا چمن، کیا کرے حسینؑ لیلہ کچھ بتاؤ بہن، کیا کرے حسینؑ پوچھو کہ کیوں یہ روتے ہیں، کیوں ہائے ہائے ہے رو دیں انہیں حسینؑ، تمہاری یہ رائے ہے 6 مجھ سے پھری ہے ساری خدائی، میں کیا کروں کیونکر لڑاؤں تیری کمائی، میں کیا کروں دو پھول نصیب میں ہے جدائی، میں کیا کروں آقا سے قول ہاری ہوں بھائی، میں کیا کروں لیلہ رُو نہ بھیجے ہدیۂ فقیر کا دیتی ہوں واسطہ میں جنابِ امیر کا

165

[Muslim ke lal jabke Shahid-e-jafa hue — jari] 7 Zahra ne kaha na roo bahen, shor o shain se Mera to chain bas hai tumhare hi chain se Duniya bhari hai Fatima ke nur-e-ain se Han lo kabhi tum chhuraogi kis Husain se Tum jaogi ye lal to sab jaan khoyenge Ye be-khushi tumhari to un ko bhi royenge 8 Beti ne Fatima ki kiya shukr-e-Kirdigar Taslim kar ke Shah ko uthe donon gul-izar Zainab ne barh ke unhein sanware ba-sad waqar Bandhe amame, saf kiye chehron ka ghubar Janbazon ne kamar jo kasi jhum jhum ke Madar balayen lene lagi munh ko chum ke 9 Bolin ke jao, hashr bapa kar ke aaiye Shahzadon ke khun mein safein bhar ke aaiye Munh pher ke na sane madar ke aaiye Sher-e-shaqi ko mar ke, ya mar ke aaiye Bahra ho jaye lakh sipah-e-kasir ka Khanjar to barh ke chhin hi lena sharir ka 10 Marne ke jaoge to sada dungi main tumhein Kausar-e-Imam-e-din se bula dungi main tumhein Do ro ke beton pe ye dua dungi main tumhein Bahr-e-kafan khud apni rida dungi main tumhein Ay dilbaran-e-Jafar-e-Tayyar alwida Bachche pukare Madar-e-ghamkhwar alwida [Makhaz: Muslim ke lal jabke Shahid-e-jafa hue / Nasim Amrohvi] Javed Manzar Karbala Haq o sadaqat ka sila deti hai Jo bhatakte hain unhein rah dikha deti hai Hum gunah o dar-e-aulad-e-Ali hain Manzar Ye gadai hamein har dukh ki dawa deti hai [Bashukriya sozkhwan o khatib Kashif Husain Zaidi o Athar Raza baradaran] Waqia-e-shan-e-imamat bar Ali ki shamshir Syed Arif Imam Waqia shan-e-imamat hai Ali ki shamshir Katib-e-sar-e-halakat hai Ali ki shamshir Qati-e-rag-e-jahalat hai Ali ki shamshir Bas adalat hi adalat hai Ali ki shamshir Nasab o naam ki jurat ko ye samjhati hai Khutbe mein is ki nazar dur talak jati hai
[مسلمؑ کے لال جبکہ شہیدِ جفا ہوئے — جاری] 7 زہرا نے کہا نہ روؤ بہن، شور و شین سے میرا تو چین بس ہے تمہارے ہی چین سے دنیا بھری ہے فاطمہؑ کے نورِ عین سے ہاں لو کبھی تم چھڑاؤ گی کس حسینؑ سے تم جاؤ گی یہ لال تو سب جان کھوئیں گے یہ بے خوشی تمہاری تو ان کو بھی روئیں گے 8 بیٹی نے فاطمہؑ کی کیا شکرِ کردگار تسلیم کر کے شہؑ کو اٹھے دونوں گل عذار زینبؑ نے بڑھ کے انہیں سنواریں بہ صد وقار باندھے عمامے، صاف کئے چہروں کا غبار جانبازوں نے کمر جو کسی جھوم جھوم کے مادر بلائیں لینے لگی منہ کو چوم کے 9 بولیں کہ جاؤ، حشر بپا کر کے آئیے شہزادوں کے خوں میں صفیں بھر کے آئیے منہ پھیر کے نہ سانے مادر کے آئیے شیرِ شقی کو مار کے، یا مر کے آئیے بہرا ہو جائے لاکھ سپاہِ کثیر کا خنجر تو بڑھ کے چھین ہی لینا شریر کا 10 مرنے کے جاؤ گے تو صدا دوں گی میں تمہیں کوثرِ امام دیں سے بلا دوں گی میں تمہیں دو رو کے بیٹوں پہ یہ دعا دوں گی میں تمہیں بہرِ کفن خود اپنی ردا دوں گی میں تمہیں اے دلبرانِ جعفرِ طیار الوداع بچے پکارے مادرِ غمخوار الوداع [ماخذ: مسلم کے لال جبکہ شہید جفا ہوئے / نسیم امروہوی] جاوید منظر کربلا حق و صداقت کا صلہ دیتی ہے جو بھٹکتے ہیں انہیں راہ دکھا دیتی ہے ہم گناہ و درِ اولادِ علیؑ ہیں منظر یہ گدائی ہمیں ہر دکھ کی دوا دیتی ہے [بشکریہ سوزخواں و خطیب کاشف حسین زیدی و اطہر رضا برادران] واقعۂ شان امامت بر علیؑ کی شمشیر سید عارف امام واقعہ شانِ امامت ہے علیؑ کی شمشیر کاتبِ سرِ ہلاکت ہے علیؑ کی شمشیر قاطعِ رگِ جہالت ہے علیؑ کی شمشیر بس عدالت ہی عدالت ہے علیؑ کی شمشیر نسب و نام کی جرات کو یہ سمجھاتی ہے خطبے میں اس کی نظر دور تلک جاتی ہے

166

Ran mein Zainab ki jo aghosh ke pale aaye 1 Ran mein Zainab ki jo aghosh ke pale aaye Donon kis shan se talwar sambhale aaye Ghore chakate bulate hue bhale aaye Qatl karne ko sawaron ke risale aaye Ja pare sher chhuti hui talwaron mein Ghir gaye donon jari lakh sitamgaron mein 2 Kahan do tifl-e-saghir aur kahan lakh adu Lare is darja ke shal ho gaye donon bazu Barchhiyan marin lainon ne jo pa kar qabu Dagmagane lage rahwaron pe wo tishna-gulu Misl-e-gul dub gaye khun mein jame un ke Munh pe sehre hue kat kat ke amame un ke 3 Zof se sar ne pe jhuk jhuk ke jo jhukai bar Ghul machane lage maidan mein tab zulm-shiar Lo mubarak ho ke mare gaye ye sina-figar Kehte hain ghoron se Hazrat ki bahen ke dildar Ghore ke tapon mein badan zakhm bahut khaye hain Paon donon ke rikabon se nikal aaye hain 4 Di ye Hazrat ne sada tham ke hathon se jigar Char ankhen meri tum se nahin hoti hain khahar Ahl-e-kis ran mein ghul karte hain khush ho ho kar Tukre teghon se hue Zainab ke pyaron ke paikar Nahin malum wo marne mein kahan hain khahar Bhai se ankhon se mamun ki nihan hain khahar 5 Abhi Zainab se ye kehte the Shah-e-karb-o-bala Aur khari hathon se sar pitti thi wo dukhi man Itne mein bhanjon ki aai ye Hazrat ko sada Lo ghulamon ki khabar ay Khalifa-e-Sher-e-Khuda Tum se hum donon ke mar gaye ki tayyari hai Ay madadgar-e-jahan, waqt-e-madadgari hai 6 Ye sada sunte hi daure gaye ran mein Sher-e-din Na falak sar jhukta tha aur na ankhon se zamin Biyaban se tegh jo baithi aage se lain Khun mein ghaltan nazar aaye unhein wo mah-jabin Khak par gir ke ba-sad dard pukare Shabbir Haye ay bhanjo, qurban tumhare Shabbir
رن میں زینبؑ کی جو آغوش کے پالے آئے 1 رن میں زینبؑ کی جو آغوش کے پالے آئے دونوں کس شان سے تلوار سنبھالے آئے گھوڑے چکاتے بلاتے ہوئے بھالے آئے قتل کرنے کو سواروں کے رسالے آئے جا پڑے شیر چھٹی ہوئی تلواروں میں گھر گئے دونوں جری لاکھ ستمگاروں میں 2 کہاں دو طفل صغیر اور کہاں لاکھ عدو لڑے اس درجہ کہ شل ہوگئے دونوں بازو برچھیاں ماریں لعینوں نے جو پا کر قابو ڈگمگانے لگے رہواروں پہ وہ تشنہ گلو مثلِ گل ڈوب گئے خون میں جامے ان کے منہ پہ سہرے ہوئے کٹ کٹ کے عمامے ان کے 3 ضعف سے سر نے پہ جھک جھک کے جو جھکائی بار غل مچانے لگے میدان میں تب ظلم شعار لو مبارک ہو کہ مارے گئے یہ سینہ فگار کہتے ہیں گھوڑوں سے حضرت کی بہن کے دلدار گھوڑے کے ٹاپوں میں بدن زخم بہت کھائے ہیں پاؤں دونوں کے رکابوں سے نکل آئے ہیں 4 دی یہ حضرت نے صدا تھام کے ہاتھوں سے جگر چار آنکھیں مری تم سے نہیں ہوتی ہیں خواہر اہلِ کس رن میں غل کرتے ہیں خوش ہو ہو کر ٹکڑے تیغوں سے ہوئے زینبؑ کے پیاروں کے پیکر نہیں معلوم وہ مرنے میں کہاں ہیں خواہر بھائی سے آنکھوں سے ماموں کی نہاں ہیں خواہر 5 ابھی زینبؑ سے یہ کہتے تھے شہؑ کرب و بلا اور کھڑی ہاتھوں سے سر پیٹتی تھی وہ دکھی ماں اتنے میں بھانجوں کی آئی یہ حضرت کو صدا لو غلاموں کی خبر اے خلیفۂ شیرِ خدا تم سے ہم دونوں کے مرگئے کی تیاری ہے اے مددگار جہاں، وقتِ مددگاری ہے 6 یہ صدا سنتے ہی دوڑے گئے رن میں شیر دیں نہ فلک سر جھکتا تھا اور نہ آنکھوں سے زمیں بیاباں سے تیغ جو بیٹھی آگے سے لعیں خون میں غلطاں نظر آئے انہیں وہ ماہ جبیں خاک پر گر کے بصد درد پکارے شبیرؑ ہائے اے بھانجو، قربان تمہارے شبیرؑ

167

[Ran mein Zainab ki jo aghosh ke pale aaye — jari] 7 Kabhi ghar ke Muhammad ke qarin jate the Aun ke pas kabhi rote hue aate the Khun-bhari zulfein kabhi chehre se sarkate the Zakhmi bazu ko bula kar kabhi chaunkate the Kabhi chillate the: kyun ghash mein ho, taslim karo Utho ay bhanjo hum aaye hain tazim karo 8 Sun ke mamun ki sada hosh mein donon aaye Dekh kar Shah ka munh qadmon pe sar niche laye Bhar ke ashk ankhon mein ye baat zaban par laye Shukr sad shukr ke Haq ne ye qadam dikhlaye Koi hasrat na rahi ay Shah-e-Mardan hum ko Man se milne ka faqat reh gaya arman hum ko [Makhaz: Ran mein Zainab ki jo aghosh ke pale aaye] Saqib Muzaffarpuri Jab fighar-e-waqt se insan ghabra jaye hai Karbala be-sakhta aise mein yaad aa jaye hai Ek taslim se Ali Asghar ne yun hamla kiya Ab Yazidi fauj se ghabrahat bhag jaye hai [Bashukriya sozkhwan Saqib, Mukhtar o Mansur Zaidi / Khairpur] Jab zakhm kha ke Bint-e-Ali ke pisar gire 1 Jab zakhm kha ke Bint-e-Ali ke pisar gire Jalti zamin pe tishna-jigar khun mein tar gire Ghul par gaya ke khak pe rahbar-e-qamar gire Sun kar Husain qalb o jigar tham kar gire Abbas dil pe dagh-e-alam kha ke reh gaye Jafar ke phul dasht mein murjha ke reh gaye 2 Baje baje, sipah-e-adu mein jo ek bar Deorhi pe aa ke kehne lage Akbar jalal-dar Ay Bibi, meri phuphi Amman se hoshiyar Garzon se farq-e-Aun o Muhammad hue figar Aate the hum bhi sirf khabar ke sunane ko Jate hain Shah-e-Ghariban ke lashe uthane ko 3 Khaime mein yas tarapti rahi Zainab-e-hazin Lashon pe bhanjon ke dil mein pahunche Shah-e-din Dekha ke ghash hain khak pe donon wo mah-jabin Behta hai khun, baat ki taqat zara nahin Do tha tir gir ke dilon ke hath se Qisse magar chhute nahin sheron ke hath se
[رن میں زینبؑ کی جو آغوش کے پالے آئے — جاری] 7 کبھی گھر کے محمدؑ کے قرین جاتے تھے عونؑ کے پاس کبھی روتے ہوئے آتے تھے خوں بھری زلفیں کبھی چہرے سے سرکاتے تھے زخمی بازو کو بلا کر کبھی چونکاتے تھے کبھی چلاتے تھے: کیوں غش میں ہو، تسلیم کرو اٹھو اے بھانجو ہم آئے ہیں تعظیم کرو 8 سن کے ماموں کی صدا ہوش میں دونوں آئے دیکھ کر شاہؑ کا منہ قدموں پہ سر نیچے لائے بھر کے اشک آنکھوں میں یہ بات زباں پر لائے شکر صد شکر کہ حق نے یہ قدم دکھلائے کوئی حسرت نہ رہی اے شہِ مرداں ہم کو ماں سے ملنے کا فقط رہ گیا ارماں ہم کو [ماخذ: رن میں زینب کی جو آغوش کے پالے آئے] ثاقب مظفرپوری جب فغار وقت سے انسان گھبرا جائے ہے کربلا بے ساختہ ایسے میں یاد آ جائے ہے ایک تسلیم سے علی اصغرؑ نے یوں حملہ کیا اب یزیدی فوج سے گھبراہٹ بھاگ جائے ہے [بشکریہ سوزخواں ثاقب، مختار و منصور زیدی / خیرپور] جب زخم کھا کے بنتِ علیؑ کے پسر گرے 1 جب زخم کھا کے بنتِ علیؑ کے پسر گرے جلتی زمیں پہ تشنہ جگر خوں میں تر گرے غل پڑ گیا کہ خاک پہ رہبرِ قمر گرے سن کر حسینؑ قلب و جگر تھام کر گرے عباسؑ دل پہ داغِ الم کھا کے رہ گئے جعفر کے پھول دشت میں مرجھا کے رہ گئے 2 باجے بجے، سپاہِ عدو میں جو ایک بار ڈیوڑھی پہ آ کے کہنے لگے اکبرؑ جلال دار اے بی بی، مری پھوپھی اماں سے ہوشیار گرزوں سے فرقِ عونؑ و محمدؑ ہوئے فگار آتے تھے ہم بھی صرف خبر کے سنانے کو جاتے ہیں شاہِ غریباں کے لاشے اٹھانے کو 3 خیمے میں یاس تڑپتی رہی زینبِ حزیں لاشوں پہ بھانجوں کے دل میں پہنچے شاہِ دیں دیکھا کہ غش ہیں خاک پہ دونوں وہ مہ جبیں بہتا ہے خون، بات کی طاقت ذرا نہیں دو تھا تیر گر کے دلوں کے ہاتھ سے قصے مگر چھٹے نہیں شیروں کے ہاتھ سے

168

[Jab zakhm kha ke Bint-e-Ali ke pisar gire — jari] 4 Shane badal badal ke pukare Shah-e-Khuda Mamun tumhare hosh mein aao to ek zara Puchho hal-e-dil, nate hue jaun main fida Ye sun ke donon sheron ne kholin chashm-e-wa Dekha rukh-e-Imam to ghabra ke reh gaye Yaad aa gayi wo baat ke tumhara ke reh gaye 5 Maula ne pyar se kaha: hain, ye kya kiya Farzandan hain jism kis ka tumhein zarre mein fida Shah ke qadam pakar ke kaha wo mah-liqa Dam ka hamein ye hai kahin Amman na hon khafa Zahmat hui Imam-e-falak-bargah ko Samjhein na wo ke hum ne bulaya hai Shah ko [Makhaz: Jab zakhm kha ke Bint-e-Ali ke pisar gire] Ijaz Rahmani Ay charagaro khak-e-Najaf dhund ke lao Tum se mere zakhmon ka madawa nahin hoga Nasir Turabi Naim Furat rawan hai miyan-e-dida o dil Na damanon ko khabar hai na astinon ko [Iltimas Surah Fatiha] Zainab jo nange paon khari thi qarib-e-dar 1 Zainab jo nange paon khari thi qarib-e-dar Abbas ja ke dete the ye dam ba dam khabar Roin na ab Huzur, muhim ho chuki hai sar Lakhon se lar rahe hain ghazab, aap ke pisar Zor aaj phir dikha diya Khaibar-kushai ka Ab to unhin ke hath hai maidan larai ka 2 Ye zikr tha ke bhai ko Hazrat ne di sada Abbas aao ghar gaye Zainab ke dilruba Daure sada ye sunte hi Abbas-e-bawafa Aate rah mein Ali Akbar ne ye kaha Zinda rakha falak ne, pe ansu bahane ko Chaliye Huzur jate hain lashe uthane ko 3 Pyari bahen ke bachchon ka dekha jo Shah ne hal Tan chak chak hai, gul-e-sad-barg ki misal Uljhe hain pech khaye hue gesuon ke bal Idhar hain hont chand se chehre lahu se lal Ankhen hain shash tiron se lagaye abhi dur hain Sab chhoti chhoti palken tiron se chur hain
[جب زخم کھا کے بنتِ علیؑ کے پسر گرے — جاری] 4 شانے بدل بدل کے پکارے شہِ خدا ماموں تمہارے ہوش میں آؤ تو اک ذرا پوچھو حال دل، ناتے ہوئے جاؤں میں فدا یہ سن کے دونوں شیروں نے کھولیں چشمِ وا دیکھا رخِ امام تو گھبرا کے رہ گئے یاد آگئی وہ بات کہ تمہارا کے رہ گئے 5 مولا نے پیار سے کہا: ہیں، یہ کیا کیا فرزندان ہیں جسم کس کا تمہیں ذرے میں فدا شہؑ کے قدم پکڑ کے کہا وہ مہ لقا دم کا ہمیں یہ ہے کہیں اماں نہ ہوں خفا زحمت ہوئی امامِ فلک بارگاہ کو سمجھیں نہ وہ کہ ہم نے بلایا ہے شاہ کو [ماخذ: جب زخم کھا کے بنت علی کے پسر گرے] اعجاز رحمانی اے چارہ گرو خاکِ نجف ڈھونڈ کے لاؤ تم سے مرے زخموں کا مداوا نہیں ہوگا نصیر ترابی نعیم فرات رواں ہے میانِ دیدہ و دل نہ دامنوں کو خبر ہے نہ آستینوں کو [التمـاس سورۃ فاتحہ] زینبؑ جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریبِ در 1 زینبؑ جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریبِ در عباسؑ جا کے دیتے تھے یہ دم بہ دم خبر روئیں نہ اب حضور، مہم ہوچکی ہے سر لاکھوں سے لڑ رہے ہیں غضب، آپ کے پسر زور آج پھر دکھا دیا خیبر کشائی کا اب تو انہی کے ہاتھ ہے میدان لڑائی کا 2 یہ ذکر تھا کہ بھائی کو حضرت نے دی صدا عباسؑ آؤ گھر گئے زینبؑ کے دل ربا دوڑے صدا یہ سنتے ہی عباسِ باوفا آتے راہ میں علی اکبرؑ نے یہ کہا زندہ رکھا فلک نے، پہ آنسو بہانے کو چلیے حضور جاتے ہیں لاشے اٹھانے کو 3 پیاری بہن کے بچوں کا دیکھا جو شہ نے حال تن چاک چاک ہے، گلِ صد برگ کی مثال اُلجھے ہیں پیچ کھائے ہوئے گیسوؤں کے بال ادھر ہیں ہونٹ چاند سے چہرے لہو سے لال آنکھیں ہیں شش تیرؤں سے لگائے ابھی دور ہیں سب چھوٹی چھوٹی پلکیں تیروں سے چور ہیں

169

[Zainab jo nange paon khari thi qarib-e-dar — jari] 4 Chhale ke gardanon ke tale hathon se kar Shah Munh se milao, munh ke mera hal hai tabah Ankhon mein dam tha bole kyun kar wo rashk-e-mah Rote the ghash dekh ke Abbas-e-Arsh-jah Duniya se koch karte the bachche bale hue Hathon mein the Husain ke mele magle hue 5 Kuchh kuchh abhi tha dam ke unhein le chale Imam Ek lash ko to aap liye the Shah-e-Anam Aur ek lash Hazrat Abbas nek-naam Khaima tha samne ke bizaat hui tamam Jite na pahunche haye ghazab khaima-gah mein Donon saghir mar gaye aate hi rah mein 6 Chhale ro ke Hazrat Abbas namwar Chhota tamam ho gaya ya Shah-e-bahr-o-bar Hazrat pukare hath kaleje pe mar kar Hai hai bara bhi mar gaya, viran hua ye ghar Man muntazir hai bal pareshan kiye hue Kis munh se jayen khaime mein lashe liye hue [Makhaz: Zainab jo nange paon khari thi qarib-e-dar] Rukhsat hua Husain se jab naujawan pisar 1 Rukhsat hua Husain se jab naujawan pisar Kuchh dur sath sath chale Shah-e-bahr-o-bar Tarik tha zamana kuchh aata na tha nazar Patti bandhi thi shafqat-e-fitri ki ankh par Har ran ki bhi nigah thi Shah-e-mashriqain ko Ruh-e-Khalil dekh rahi thi Husain ko 2 Larta raha jawan pisar dekhte rahe Talwar pe sitamgar ko sar dekhte rahe Baran-e-tegh o tir o tabar dekhte rahe Dil thar thar larazta tha magar dekhte rahe Akbar pe war parte the jab fauj-e-Sham ke Reh jate the Husain kaleje ko tham ke 3 Hasrat se ran mein jang-e-pisar dekhte the Shah Zainab khari thin khaime ke dar par ba-ashk o aah Dil par the hath, chehra-e-Shabbir par nigah Puchhti thin ru-e-Shah mein ahwal-e-razm-gah Jab dekhti thin bhai ko khush, muskurati thin Parti thi jab jabin pe shikan, kanp jati thin
[زینبؑ جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریبِ در — جاری] 4 چھلے کے گردنوں کے تلے ہاتھوں سے کر شہؑ منہ سے ملاؤ، منہ کہ مرا حال ہے تباہ آنکھوں میں دم تھا بولے کیوں کر وہ رشکِ ماہ روتے تھے غش دیکھ کے عباسِ عرش جاہ دنیا سے کوچ کرتے تھے بچے بلے ہوئے ہاتھوں میں تھے حسینؑ کے میلے مگلے ہوئے 5 کچھ کچھ ابھی تھا دم کہ انہیں لے چلے امام اک لاش کو تو آپ لئے تھے شہِ انام اور ایک لاش حضرت عباسؑ نیک نام خیمہ تھا سامنے کہ بضاعت ہوئی تمام جیتے نہ پہنچے ہائے غصب خیمہ گاہ میں دونوں صغیر مر گئے آتے ہی راہ میں 6 چھلے رو کے حضرت عباسؑ نامور چھوٹا تمام ہوگیا یا شاہِ بحر و بر حضرت پکارے ہاتھ کلیجے پہ مار کر ہے ہے بڑا بھی مرگیا ویراں ہوا یہ گھر ماں منتظر ہے بال پریشاں کئے ہوئے کس منہ سے جائیں خیمے میں لاشے لئے ہوئے [ماخذ: زینب جو ننگے پاؤں کھڑی تھی قریب در] رخصت ہوا حسینؑ سے جب نوجوان پسر 1 رخصت ہوا حسینؑ سے جب نوجوان پسر کچھ دور ساتھ ساتھ چلے شاہِ بحر و بر تاریک تھا زمانہ کچھ آتا نہ تھا نظر پٹی بندی تھی شفقتِ فطری کی آنکھ پر ہر رن کی بھی نگہ تھی شہِ مشرقین کو روحِ خلیل دیکھ رہی تھی حسینؑ کو 2 لڑتا رہا جوان پسر دیکھتے رہے تلوار پہ ستمگر کو سر دیکھتے رہے بارانِ تیغ و تیر و تبر دیکھتے رہے دل تھر تھر لرزتا تھا مگر دیکھتے رہے اکبرؑ پہ وار پڑتے تھے جب فوجِ شام کے رہ جاتے تھے حسینؑ کلیجے کو تھام کے 3 حسرت سے رن میں جنگِ پسر دیکھتے تھے شاہؑ زینبؑ کھڑی تھیں خیمے کے در پر باشک و آہ دل پر تھے ہاتھ، چہرۂ شبیرؑ پر نگاہ پوچھتی تھیں روئے شاہ میں احوالِ رزم گاہ جب دیکھتی تھیں بھائی کو خوش، مسکراتی تھیں پڑتی تھی جب جبیں پہ شکن، کانپ جاتی تھیں

170

[Rukhsat hua Husain se jab naujawan pisar — jari] 4 Hathon se dil ko tham ke ran ki taraf chalin Jate the thar tharaye idhar khud bhi Shah-e-din Dam torta tha ran mein jahan Akbar-e-hazin Zainab wahan Husain se pahle pahunch gayin Aaye nazar jo zakhm-e-tan-e-pash pash par Tira ke gir parin Ali Akbar ki lash par 5 Khaime mein lash aai to mahshar hua bapa Lekin itna keh sakin aaya ye kya hua Abid the ghash mein chaunk pare, hosh aa gaya Dekhi jo lash ho gaye phir ghash mein mubtala Mur kar nazar mariz pe dali Husain ne Kuchh soch kar nigah jhuka li Husain ne 6 Shayad diyar-e-Sham ka manzar nazar mein tha Zanjiron ke tauq ka lashkar nazar mein tha Mazlum qaidiyon ka muqaddar nazar mein tha Be-asra bahen ka khula sar nazar mein tha Bazu pe rassiyon ki girti jati thi Gardanon ki sain sain ki awaz aati thi [Makhaz: Rukhsat hua Husain se jab naujawan pisar / Shaiq Naqvi] Akbar ki lash jabke na pai Husain ne 1 Akbar ki lash jabke na pai Husain ne Thokar har ek gam pe khai Husain ne Gir kar zamin pe khak urai Husain ne Dil tham kar ye baat sunai Husain ne Ankhon se sujhta nahin mujh dil malul ko Ay zalimo, dikha do Shahid-e-Rasul ko 2 Kyun kar dikhaun tum ko jo dil ka hai mere hal Mehman ke ranj o gham ka tumhein chahiye khayal Bazu pakar ke le chalo jis ja hai mera lal Ghurbat pe meri rahm karo ay Zuljalal Manzar hun shakl us ki dikha do Husain ko Farzand-e-naujawan se mila do Husain ko 3 Ay fauj-e-zulm baz ke dilbar ko kya kiya Kis ko tishna-kam ko be-par ko kya kiya Ay zalimo, zaif-e-Payambar ko kya kiya Milta nahin batao Ali Akbar ko kya kiya Raste to do, bata ke bhatakta hun rah mein Kis ne gira diya mere Yusuf ko chah mein
[رخصت ہوا حسینؑ سے جب نوجوان پسر — جاری] 4 ہاتھوں سے دل کو تھام کے رن کی طرف چلیں جاتے تھے تھر تھرائے ادھر خود بھی شاہِ دیں دم توڑتا تھا رن میں جہاں اکبرِ حزیں زینبؑ وہاں حسینؑ سے پہلے پہنچ گئیں آئے نظر جو زخمِ تنِ پاش پاش پر تیرا کے گر پڑیں علی اکبرؑ کی لاش پر 5 خیمے میں لاش آئی تو محشر ہوا بپا لیکن اتنا کہہ سکیں آیا یہ کیا ہوا عابدؑ تھے غش میں چونک پڑے، ہوش آگیا دیکھی جو لاش ہوگئے پھر غش میں مبتلا مڑ کر نظر مریض پہ ڈالی حسینؑ نے کچھ سوچ کر نگاہ جھکالی حسینؑ نے 6 شاید دیارِ شام کا منظر نظر میں تھا زنجیروں کے طوق کا لشکر نظر میں تھا مظلوم قیدیوں کا مقدر نظر میں تھا بے آسرا بہن کا کھلا سر نظر میں تھا بازو پہ رسیوں کی گرتی جاتی تھی گردنوں کی سائیں سائیں کی آواز آتی تھی [ماخذ: رخصت ہوا حسین سے جب نوجوان پسر / شائق نقوی] اکبرؑ کی لاش جبکہ نہ پائی حسینؑ نے 1 اکبرؑ کی لاش جبکہ نہ پائی حسینؑ نے ٹھوکر ہر ایک گام پہ کھائی حسینؑ نے گر کر زمیں پہ خاک اڑائی حسینؑ نے دل تھام کر یہ بات سنائی حسینؑ نے آنکھوں سے سوجھتا نہیں مجھ دل ملول کو اے ظالمو، دکھا دو شہیدِ رسولؐ کو 2 کیوں کر دکھاؤں تم کو جو دل کا ہے مرے حال مہماں کے رنج و غم کا تمہیں چاہئے خیال بازو پکڑ کے لے چلو جس جا ہے میرا لال غربت پہ میری رحم کرو اے ذوالجلال منظر ہوں شکل اس کی دکھادو حسینؑ کو فرزندِ نوجوان سے ملادو حسینؑ کو 3 اے فوجِ ظلم باز کے دلبر کو کیا کیا کس کو تشنہ کام کو بے پر کو کیا کیا اے ظالمو، ضعیفِ پیغمبر کو کیا کیا ملتا نہیں بتاؤ علی اکبرؑ کو کیا کیا رستے تو دو، بتا کے بھٹکتا ہوں راہ میں کس نے گرا دیا مرے یوسف کو چاہ میں

171

[Akbar ki lash jabke na pai Husain ne — jari] 4 Milta nahin hai lash-e-farzand ay Karim Hai jaan-e-natawan pe ye ranj o sadma azim Ghaltan hai kis zamin pe mera gauhar-e-yatim Bakhshish pe rahm kar ke teri zat hai Rahim Phir dekh lun in ankhon se us nur-e-ain ko Pahunchte hue pisar se mila de Husain ko [Makhaz: Akbar ki lash jabke na pai Husain ne] Shahab Kazmi Shahab hum ne kiya hai ye jurm danista Jo sar kahin na jhuke bas unhein salam kiya [Bashukriya Syed Shakir Husain Rizvi Jalalpuri] Sami Taqvi Meraj ki shab jo tere qadmon se utre the Wo nur ke zarre hain fazaon mein abhi tak Zakir o shair Aal-e-Imran Shaukat Raza Shaukat Hathon o gahwar ne ko tar do Bakhshish ke tasawwur se bana jism Muhammad Isyan ki maafi mujhe matlub ho Shaukat Wo sham-e-sahar chhupa kare ism Muhammad [Iltimas Surah Fatiha] Pahunchi pisar ki lash pe jab Shah-e-bahr-o-bar 1 Pahunchi pisar ki lash pe jab Shah-e-bahr-o-bar Akbar pukare: utha Khuda Hafiz ay pidar Pahunchi jo aati tham liya hath se jigar Azurdagi le ke rakh diya Shah ke qadam pe sar Awaz ghar aaya Shah-e-wala ke samne Bete ka dam nikal gaya Baba ke samne 2 Zainab ne di sada mera pyara hai kis taraf Ay asman wo arsh ka tara hai kis taraf Ay abr-e-Sham, chand hamara hai kis taraf Ay arz-e-Karbala wo sitara hai kis taraf Hai hai sinan se jaan gayi mehman ki Mayyat hai kis taraf mere Akbar jawan ki 3 Ay khush-jamal gesuon wale kahan hai tu Hai hai meri gharibi ke pale kahan hai tu Wari kahan gaye mujhe bhale kahan hai tu Kyun kar phuphi jigar ko sambhale kahan hai tu Ghamkhwaron hain ke maut aa gayi tujhe Ay nur-e-ain kis ki nazar kha gayi tujhe
[اکبرؑ کی لاش جبکہ نہ پائی حسینؑ نے — جاری] 4 ملتا نہیں ہے لاشِ فرزند اے کریم ہے جان ناتواں پہ یہ رنج و صدمہ عظیم غلطاں ہے کس زمیں پہ مرا گوہرِ یتیم بخشش پہ رحم کر کہ تری ذات ہے رحیم پھر دیکھ لوں ان آنکھوں سے اس نورِ عین کو پہنچتے ہوئے پسر سے ملا دے حسینؑ کو [ماخذ: اکبر کی لاش جبکہ نہ پائی حسین نے] شہاب کاظمی شہاب ہم نے کیا ہے یہ جرم دانستہ جو سر کہیں نہ جھکے بس انہیں سلام کیا [بشکریہ سید شاکر حسین رضوی جلالپوری] سمیع تقوی معراج کی شب جو تیرے قدموں سے اترے تھے وہ نور کے ذرے ہیں فضاؤں میں ابھی تک ذاکر و شاعر آلِ عمران شوکت رضا شوکت ہاتھوں و گہوار نے کو تار دو بخشش کے تصور سے بنا جسم محمد عصیاں کی معافی مجھے مطلوب ہو شوکت وہ شامِ سحر چھپا کرے اسم محمد [التمـاس سورۃ فاتحہ] پہنچی پسر کی لاش پہ جب شاہِ بحر و بر 1 پہنچی پسر کی لاش پہ جب شاہِ بحر و بر اکبرؑ پکارے: اٹھا خدا حافظ اے پدر پہنچی جو آتی تھام لیا ہاتھ سے جگر آزردگی لے کے رکھا دیا شہؑ کے قدم پہ سر آواز گھر آیا شہؑ والا کے سامنے بیٹے کا دم نکل گیا بابا کے سامنے 2 زینبؑ نے دی صدا مرا پیارا ہے کس طرف اے آسماں وہ عرش کا تارا ہے کس طرف اے ابرِ شام، چاند ہمارا ہے کس طرف اے ارضِ کربلا وہ سِتارا ہے کس طرف ہے ہے سنان سے جان گئی مہمان کی میت ہے کس طرف مرے اکبر جوان کی 3 اے خوش جمال گیسوؤں والے کہاں ہے تو ہے ہے مری غریبی کے پالے کہاں ہے تو واری کہاں گئے مجھے بھالے کہاں ہے تو کیوں کر پھوپھی جگر کو سنبھالے کہاں ہے تو غمخواروں ہیں کہ موت آگئی تجھے اے نورِ عین کس کی نظر کھا گئی تجھے

172

[Pahunchi pisar ki lash pe jab Shah-e-bahr-o-bar — jari] 4 Khaime mein yas tarapti thi wo sokhta-jigar Sab bibiyan bhi murjha gayin bahr-e-sar Niklin jo le hawas idhar se wo nauhagar Aaye idhar se lash liye Shah-e-bahr-o-bar Dekha lahu rawan jo tan-e-pash pash se Syedaniyan lipat gayin Akbar ki lash se [Makhaz: Pahunchi pisar ki lash pe jab Shah-e-bahr-o-bar] Chhutna jo Shah se piri mein naujawan farzand 1 Chhutna jo Shah se piri mein naujawan farzand Husain o khush-qad o khush-ru o khush-bayan farzand Saeed o Abid o zi-jah o mehrban farzand Pidar ke tan ki tawan, sare ghar ki jaan farzand Bahar jis ki na dekhi khizan wo bagh hua Qiyamat aa gayi ghar, Shah ka be-chiragh hua 2 Badan se jaan chali jism thar tharane laga Pasina aa gaya ji Shah ka sansane laga Pisar jahan se chala tan se zor jane laga Chale jo ran ko to har gam par ghash aane laga Kabhi uthe to bhi gir ke aah baith gaye Jigar mein dard ye utha ke Shah baith gaye 3 Tha jo dard pukare ke haye haye pisar Hazar haif tujh hum jahan se jaye pisar Ye kya ke hum tak aati nahin sada-e-pisar Pidar ki zinat kahan jab nazar na aaye pisar Pisar ke dagh ne khanjar gale pe pher diya Chiragh jis mein na ho, wo ghar andher hai
[پہنچی پسر کی لاش پہ جب شاہِ بحر و بر — جاری] 4 خیمے میں یاس تڑپتی تھی وہ سوختہ جگر سب بیبیاں بھی مرجھا گئیں بہرِ سر نکلیں جو لے حواس ادھر سے وہ نوحہ گر آئے ادھر سے لاش لئے شاہِ بحر و بر دیکھا لہو رواں جو تنِ پاش پاش سے سیدانیاں لپٹ گئیں اکبرؑ کی لاش سے [ماخذ: پہنچی پسر کی لاش پہ جب شاہ بحر و بر] چھٹنا جو شاہ سے پیری میں نوجوان فرزند 1 چھٹنا جو شاہ سے پیری میں نوجوان فرزند حسینؑ و خوش قد و خوش رو و خوش بیاں فرزند سعید و عابد و ذی جاہ و مہرباں فرزند پدر کے تن کی توان، سارے گھر کی جاں فرزند بہار جس کی نہ دیکھی خزاں وہ باغ ہوا قیامت آگئی گھر، شہ کا بے چراغ ہوا 2 بدن سے جان چلی جسم تھرتھرانے لگا پسینہ آگیا جی شہ کا سنسانے لگا پسر جہاں سے چلا تن سے زور جانے لگا چلے جو رن کو تو ہر گام پر غش آنے لگا کبھی اٹھے تو بھی گر کے آہ بیٹھ گئے جگر میں درد یہ اٹھا کہ شاہ بیٹھ گئے 3 تھا جو درد پکارے کہ ہائے ہائے پسر ہزار حیف تجھ ہم جہاں سے جائے پسر یہ کیا کہ ہم تک آتی نہیں صدائے پسر پدر کی زینت کہاں جب نظر نہ آئے پسر پسر کے داغ نے خنجر گلے پہ پھیر دیا چراغ جس میں نہ ہو، وہ گھر اندھیر ہے

173

[Chhutna jo Shah se piri mein naujawan farzand — jari] 4 Khabar nahin ke tarapte ho tum kahan beta Hamari ankhon mein andher hai jahan beta Khuda na ho kabhi man bap se jawan beta Pidar pe tut para gham ka asman beta Ye dagh alam-e-piri mein de gaye hum ko Gila ye hai ke na hamrah le gaye hum ko 5 Yaqin karte hue ran mein pahunche jab Shah-e-din Talash ki pe na bete ki lash pai kahin Sitamgaron ko pukara ke tab mujh ko nahin Batao jald kahan hai hamara mah-jabin Pidar ki god ke pale ko kya kiya tum ne Hamare gesuon wale ko kya kiya tum ne 6 Ye sun ke Shah se bole wo zulm ke bani Kahe batayen kahan hai wo Yusuf-e-Sani Dam-e-aakhir bhi us ko nahin diya pani Milegi lash na ab ay Rasul ke jani Chhida hai jis ka jigar wo pisar tumhara hai Abhi to neze se us naujawan ko mara hai 7 Kaha Imam ne sar pit kar ba-hal-e-tabah Na guzre khair se ashqiya ro na Wallah Sayyida marti kha ke Akbar zi-jah Tere ke lash pe pitegi hum na mar gaye aah Dam-e-aakhir wasiyat bhi kuchh na ki Baba Hamari god mein Akbar ne jaan di Baba 8 Ye sun ke bazu-e-Nabi ki pukarin khane lagi Sakina lash pe bhai ke bilbilane lagi Zara apna khol ke Zainab bhi khak urane lagi Sada-e-shewan o matam falak pe jane lagi Pare the khak pe khaye sinan Ali Akbar Haram mein shor tha: hai hai jawan Ali Akbar [Makhaz: Chhutna jo Shah se piri mein naujawan farzand] Nafs Fatehpuri Barbad un ka ghar hua, ummat ke waste Ummat ke dil pe phir bhi un ki giran hui [Bashukriya shair Umeed Syed Adil Fatehpuri]
[چھٹنا جو شاہ سے پیری میں نوجوان فرزند — جاری] 4 خبر نہیں کہ تڑپتے ہو تم کہاں بیٹا ہماری آنکھوں میں اندھیر ہے جہاں بیٹا خدا نہ ہو کبھی ماں باپ سے جواں بیٹا پدر پہ ٹوٹ پڑا غم کا آسماں بیٹا یہ داغ عالمِ پیری میں دے گئے ہم کو گلہ یہ ہے کہ نہ ہمراہ لے گئے ہم کو 5 یقین کرتے ہوئے رن میں پہنچے جب شاہِ دیں تلاش کی پہ نہ بیٹے کی لاش پائی کہیں ستم گروں کو پکارا کہ تاب مجھ کو نہیں بتاؤ جلد کہاں ہے ہمارا ماہِ جبیں پدر کی گود کے پالے کو کیا کیا تم نے ہمارے گیسوؤں والے کو کیا کیا تم نے 6 یہ سن کے شاہ سے بولے وہ ظلم کے بانی کہے بتائیں کہاں ہے وہ یوسفِ ثانی دمِ آخر بھی اس کو نہیں دیا پانی ملے گی لاش نہ اب اے رسول کے جانی چھدا ہے جس کا جگر وہ پسر تمہارا ہے ابھی تو نیزے سے اس نوجواں کو مارا ہے 7 کہا امام نے سر پیٹ کر بحالِ تباہ نہ گزرے خیر سے اشقیا رو نہ واللہ سیدہ مارتی کھا کے اکبرؑ ذی جاہ ترے کے لاش پہ پیٹے گی ہم نہ مرگئے آہ دمِ آخر وصیت بھی کچھ نہ کی بابا ہماری گود میں اکبر نے جان دی بابا 8 یہ سن کے بازوئے نبیؐ کی پکاریں کھانے لگی سکینہؑ لاش پہ بھائی کے بیبلانے لگی ذرا اپنا کھول کے زینبؑ بھی خاک اڑانے لگی صدائے شیون و ماتم فلک پہ جانے لگی پڑے تھے خاک پہ کھائے سناں علی اکبرؑ حرم میں شور تھا: ہے ہے جوان علی اکبرؑ [ماخذ: چھٹنا جو شاہ سے پیری میں نوجوان فرزند] نفس فتح پوری بر باد ان کا گھر ہوا، امت کے واسطے امت کے دل پہ پھر بھی ان کی گراں ہوئی [بشکریہ شاعر امید سید عادل فتح پوری]

174

Jab dilbar-e-Zahra ki shahadat ka din aaya 1 Jab dilbar-e-Zahra ki shahadat ka din aaya Pardes mein mehman ko lainon ne sataya Ansar se bhai se bhatije se chhuraya Mazlum ne sabr Allah dikhaya Khinche ko tarai mein sisakte hue dekha Matam mein Sakina ko bilakte hue dekha 2 Akbar bhi chale ran ko dil-e-Shah bara bhi Shabbir bhi dekha kiye wo mah-liqa bhi Maidan mein nare bhi kiye aur dua bhi Har zakhm pe ki bakhshish-e-ummat ki dua bhi Nagah utha shor ye aflak ke upar Lo mar gayi taswir-e-Nabi khak ke upar 3 Sine pe sinan kha ke gira Bawa ka pyara Khaime ki taraf dekh ke Baba ko pukara Ya Shah-e-Huda aakhri dam hai hamara Ab Nazim-e-Firdaus hai mushtaq nazara Kausar ka khula rasta yahan kat chuka hai Lekin mere didar-e-dam ankhon mein ruka hai 4 Jate the kabhi daman-e-janib-e-Shah-e-Safdar Ghabra ke kabhi man ki taraf murte the Sarwar Tharra ke sambhalte the kabhi khate the thokar Karte the kabhi rah mein daman se ankh tar Rukh zard tha aur gesuon mein khak bhari thi Ghamnak latakta tha qaba dhalaki hui thi 5 Maqtal mein har ek lash pe jhuk jate the Sarwar Dhundun ke kehte the ye mera nahin dilbar Nagah mile khak pe ghash mein Ali Akbar Dil tham ke baithe ye shahane ko pukar kar Dilgir Rasul-us-Saqalain aaya hai beta Tazim ko utho ke Husain aaya hai beta
جب دلبرِ زہرا کی شہادت کا دن آیا 1 جب دلبرِ زہرا کی شہادت کا دن آیا پردیس میں مہماں کو لعینوں نے ستایا انصار سے بھائی سے بھتیجے سے چھڑایا مظلوم نے صبر اللہ دکھایا کھینچے کو ترائی میں سسکتے ہوئے دیکھا ماتم میں سکینہؑ کو بلکتے ہوئے دیکھا 2 اکبرؑ بھی چلے رن کو دلِ شاہ بڑا بھی شبیرؑ بھی دیکھا کئے وہ ماہ لقا بھی میدان میں نعرے بھی کئے اور دعا بھی ہر زخم پہ کی بخششِ امت کی دعا بھی ناگاہ اٹھا شور یہ افلاک کے اوپر لو مر گئی تصویرِ نبیؐ خاک کے اوپر 3 سینے پہ سناں کھا کے گرا باوا کا پیارا خیمے کی طرف دیکھ کے بابا کو پکارا یا شاہِ ہدیٰ آخری دم ہے ہمارا اب نازم فردوس ہے مشتاق نظارا کوثر کا کھلا رستہ یہاں کٹ چکا ہے لیکن مرے دیدارِ دم آنکھوں میں رکا ہے 4 جاتے تھے کبھی دامنِ جانبِ شاہِ صفدر گھبرا کے کبھی ماں کی طرف مڑتے تھے سرور تھرا کے سنبھلتے تھے کبھی کھاتے تھے ٹھوکر کرتے تھے کبھی راہ میں دامن سے آنکھ تر رخ زرد تھا اور گیسوؤں میں خاک بھری تھی غمناک لٹکتا تھا قبا ڈھلکی ہوئی تھی 5 مقتل میں ہر اک لاش پہ جھک جاتے تھے سرور ڈھونڈوں کے کہتے تھے یہ میرا نہیں دلبر ناگاہ ملے خاک پہ غش میں علی اکبرؑ دل تھام کے بیٹھے یہ شہانے کو پکار کر دلگیر رسولِ الثقلین آیا ہے بیٹا تعظیم کو اٹھو کہ حسینؑ آیا ہے بیٹا

175

[Jab dilbar-e-Zahra ki shahadat ka din aaya — jari] 6 Baba ki sada sun ke zara hosh jo aaya Tazim ko khud uth na sake hath uthaya Pyare ne sakht dard-e-jigar se jo na paya Hasrat ki nigahon se ye arman sunaya Paigham-e-wasiyat hai ajal sar pe mere hai Bola nahin jata ke sinan dil mein gari hai 7 Shah bole ishare ko main samjha mere dildar Sine tere se sina nikalega ye nachar Kya kam liya bap se aa ay mere Sardar Munh pher ke phir khak pe baithe Shah-e-Abrar Ek aah jo farzand-e-jawan khinch ke tarpa Sabir bhi kaleje se sinan khinch ke tarpa 8 Mayyat se uthe Shah-e-Huda sar ko jhukaye Sabhi ke bahen ko Haram-e-pak mein laye Phir lash uthane ke liye dasht mein aaye Dushman ko bhi Allah ye manzar na dikhaye Dilband kaleje pe sinan khaye para tha Bais ye jigar thame hue bap khara tha 9 Reti pe wo mayyat thi ke Ahmad ki nishani Kehte the lab-e-khushk ke Baba nahin pani Amman ko karta tha na wan marsiyakhwani Arman bhare lash pe roti thi jawani Dekhe ye saman koi to kis tarah nikal aaye Tir ki ankhon se bhi ansu nikal aaye [Makhaz: Jab dilbar-e-Zahra ki shahadat ka din aaya / Nasim Amrohvi] Javed Manzar Karbala Haq o sadaqat ka sila deti hai Jo bhatakte hain unhein rah dikha deti hai Hum gunahgar-e-dar-e-aulad-e-Ali hain Manzar Ye gadai hamein har dukh ki dawa deti hai Waqia-e-shan-e-imamat bar Ali ki shamshir Syed Arif Imam Waqia shan-e-imamat hai Ali ki shamshir Katib-e-sar-e-halakat hai Ali ki shamshir Qati-e-rag-e-jahalat hai Ali ki shamshir Bas adalat hi adalat hai Ali ki shamshir Nasab o naam ki jurat ko ye samjhati hai Khutbe mein is ki nazar dur talak jati hai
[جب دلبرِ زہرا کی شہادت کا دن آیا — جاری] 6 بابا کی صدا سن کے ذرا ہوش جو آیا تعظیم کو خود اٹھ نہ سکے ہاتھ اٹھایا پیارے نے سخت دردِ جگر سے جو نہ پایا حسرت کی نگاہوں سے یہ ارماں سنایا پیغامِ وصیت ہے اجل سر پہ مرے ہے بولا نہیں جاتا کہ سناں دل میں گڑی ہے 7 شہ بولے اشارے کو میں سمجھا مرے دلدار سینے ترے سے سینہ نکالے گا یہ ناچار کیا کام لیا باپ سے آ اے مرے سردار منہ پھیر کے پھر خاک پہ بیٹھے شہِ ابرار اک آہ جو فرزندِ جواں کھینچ کے تڑپا صابر بھی کلیجے سے سناں کھینچ کے تڑپا 8 میت سے اٹھے شاہِ ہدیٰ سر کو جھکائے سبھی کے بہن کو حرم پاک میں لائے پھر لاش اٹھانے کے لئے دشت میں آئے دشمن کو بھی اللہ یہ منظر نہ دکھائے دلبند کلیجے پہ سناں کھائے پڑا تھا بایس یہ جگر تھامے ہوئے باپ کھڑا تھا 9 رتی پہ وہ میت تھی کہ احمدؐ کی نشانی کہتے تھے لبِ خشک کہ بابا نہیں پانی اماں کو کرتا تھا نہ واں مرثیہ خوانی ارمان بھرے لاش پہ روتی تھی جوانی دیکھے یہ سماں کوئی تو کس طرح نکل آئے تیر کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے [ماخذ: جب دلبر زہرا کی شہادت کا دن آیا / نسیم امروہوی] جاوید منظر کربلا حق و صداقت کا صلہ دیتی ہے جو بھٹکتے ہیں انہیں راہ دکھا دیتی ہے ہم گنہگارِ درِ اولادِ علیؑ ہیں منظر یہ گدائی ہمیں ہر دکھ کی دوا دیتی ہے واقعۂ شانِ امامت بر علیؑ کی شمشیر سید عارف امام واقعہ شانِ امامت ہے علیؑ کی شمشیر کاتبِ سرِ ہلاکت ہے علیؑ کی شمشیر قاطعِ رگِ جہالت ہے علیؑ کی شمشیر بس عدالت ہی عدالت ہے علیؑ کی شمشیر نسب و نام کی جرت کو یہ سمجھاتی ہے خطبے میں اس کی نظر دور تلک جاتی ہے

176

Lash-e-Akbar ki jo maqtal se utha laye Husain 1 Lash-e-Akbar ki jo maqtal se utha laye Husain Naujawanon ko saf-e-awwal se utha laye Husain Pand-e-Sham ke balon se utha laye Husain Jan-e-qalb-e-Shabbir ko jangal se utha laye Husain Di sada lash par aan ke le jao bazu Charh gaya barchhi se Akbar ka kaleja bazu 2 Dekh le aakhri didar pisar marta hai Samne ankhon ke ye nur-e-nazar marta hai Ab koi dam mein tera rashk-e-qamar marta hai Munh se bahar hai zaban, tishna-jigar marta hai Dam hai sine mein ruka, khun se khun jari hai Haye bazu tera ghar lutne ki tayyari hai 3 Bachi khaime mein jo Hazrat ki ye purdard sada Muztarib hogi namus-e-Rasul-e-dusra Kaha thaka ke Sakina ne ke hai hai bhaiya Fizza dauri suye dar, chipak ke sar se rida Pahunchi Zainab muztar nikal aai bahar Bazu bhar ke khule sar nikal aai bahar 4 Shah ke kandhe par dekha Ali Akbar ko nidhal Hath phaila ke ye chillati ke mere lal Kya ghazab ho gaya ay bad-e-Shimr nek-khisal Ras aaya na mere bachche ko atharwan sal Ghore teghon se badan ho gaya sara hai hai Kaun tha jis ne sar-e-ran ye sher ko mara hai hai 5 Ro ke bazu se farmane lage Sarwar-e-din Sar na pito, abhi zinda hai mera mah-jabin Sans aati hai ye har dam, baz nahin Kunch-afgin hai aur hum bhi hain marne ke qarin Sab chale, ab na raha koi hamara bazu Is jawan bete ke gham ne hamein mara bazu [Makhaz: Lash-e-Akbar ki jo maqtal se utha laye Husain] Bashukriya sozkhwan Syed Zaigham Hadi o khanawada-e-Hadi Nasiri Khatm Rasula Pak hi mein munhak rahein Bibi Khadija aap ki azmat ko salam Jo mihan din ki pyas par shukr-e-Khuda kare Maula Ali ki boli Sakina hai is ka naam [Makhuz az do manqabat, Syed Zulfiqar Husain Naqvi]
لاشِ اکبرؑ کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسینؑ 1 لاشِ اکبرؑ کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسینؑ نوجوانوں کو صفِ اول سے اٹھا لائے حسینؑ پاندِ شام کے بالوں سے اٹھا لائے حسینؑ جانِ قلبِ شبیر کو جنگل سے اٹھا لائے حسینؑ دی صدا لاش پر آن کے لے جاؤ بازو چڑھ گیا برچھی سے اکبر کا کلیجہ بازو 2 دیکھ لے آخری دیدار پسر مرتا ہے سامنے آنکھوں کے یہ نورِ نظر مرتا ہے اب کوئی دم میں ترا رشکِ قمر مرتا ہے منہ سے باہر ہے زبان، تشنہ جگر مرتا ہے دم ہے سینے میں رکا، خون سے خوں جاری ہے ہائے بازو ترا گھر لٹنے کی تیاری ہے 3 بچی خیمے میں جو حضرت کی یہ پُردرد صدا مضطرب ہوگی ناموسِ رسولِ دوسرا کہا تھکا کے سکینہؑ نے کہ ہے ہے بھیا فضّہ دوڑی سوئے در، چپک کے سر سے ردا پہنچی زینبؑ مضطر نکل آئی باہر بازو بھر کے کھلے سر نکل آئی باہر 4 شاہؑ کے کاندھے پر دیکھا علی اکبرؑ کو نڈھال ہاتھ پھیلا کے یہ چلاتی کہ مرے لال کیا غضب ہوگیا اے بادِ شمر نیک خصال راس آیا نہ مرے بچے کو اٹھارواں سال گھوڑے تیغوں سے بدن ہوگیا سارا ہے ہے کون تھا جس نے سرِ رن یہ شیر کو مارا ہے ہے 5 رو کے بازو سے فرمانے لگے سرورِ دیں سر نہ پیٹو، ابھی زندہ ہے مرا ماہ جبیں سانس آتی ہے یہ ہر دم، باز نہیں کونچ افگیں ہے اور ہم بھی ہیں مرنے کے قرین سب چلے، اب نہ رہا کوئی ہمارا بازو اس جوان بیٹے کے غم نے ہمیں مارا بازو [ماخذ: لاش اکبر کی جو مقتل سے اٹھا لائے حسین] بشکریہ سوزخواں سید ضیغم ہادی و خانوادۂ ہادی ناصری ختم رسولا پاک ہی میں منہک رہیں بی بی خدیجہ آپ کی عظمت کو سلام جو محن دن کی پیاس پر شکر خدا کرے مولا علیؑ کی بولی سکینہ ہے اس کا نام [ماخوذ از دو منقبت، سید ذوالفقار حسین نقوی]

177

Phiri jo mominon ran se sawari Akbar ki 1 Phiri jo mominon ran se sawari Akbar ki Pukari walida, hum-surat-e-Payambar ki Aai khayal mein deorhi se main thi sarki Ke phir bhi dekh lun taswir apne dilbar ki Na roo ab bhi rukhsat Nabi ke Sani ko Laga rakhungi kaleje se apne jani ko 2 Kahan hai lal mera, lao pas mujh man ke Lagaun sine se pote ko Nabi Zahra ke Ye keh rahi thi ke Sibt-e-Rasul ne aa ke Lapeti lash bichhaune pe sar ko sehla ke Pukari Zainab-e-dil-khasta, pit kar sar ko Siyah Sham ne jane diya na Akbar ko 3 Ye shakl chand ki sab khun mein bhar gayi hai hai Wo shan aur wo shaukat kidhar gayi hai hai Jigar se us ke sinan yun guzar gayi hai hai Phuphi bhi bete ke badle na mar gayi hai hai Ye marne wala meri ankh ka ujala tha Chhatti ke roz use main ne pyar pala tha 4 Ye keh ke pit ke sar ko pachhar jo khai Pukari Bawa ke Akbar tumhari lash aai Jo ab to mujhe qurban hue ye dai Main dekhun tujhe bhi kaleje par kis jagah khai Gaye the achchhe aur aaye lahu-luhan hue Isi larai ki khatir the tum jawan hue 5 Main is irade ke muddat ke hogi wari Na janti thi ke hai khuld-e-barin ki tayyari Ye keh ke lash se bete ki wo falak-mari Lagi zamin pe tarapne ye nala o zari Tarapte dekh ke un ko Imam rone lage Shahid bete ka le le ke naam rone lage [Makhaz: Phiri jo mominon ran se sawari Akbar ki] Har nemat-e-Khuda rah-e-har nemat koi hasrat Naghmat-e-naat ban kar kaun-o-makan mein gunje [Shair / hawala juzwi taur par ghair wazeh] Iltimas Surah Fatiha baraye [Asma juzwi taur par ghair wazeh]
پھری جو مومنوں رن سے سواری اکبرؑ کی 1 پھری جو مومنوں رن سے سواری اکبرؑ کی پکاری والدہ، ہم صورتِ پیمبر کی آئی خیال میں ڈیوڑھی سے میں تھی سرکی کہ پھر بھی دیکھ لوں تصویر اپنے دلبر کی نہ روؤ اب بھی رخصت نبیؐ کے ثانی کو لگا رکھوں گی کلیجے سے اپنے جانی کو 2 کہاں ہے لال مرا، لاؤ پاس مجھ ماں کے لگاؤں سینے سے پوتے کو نبیؐ زہرا کے یہ کہہ رہی تھی کہ سبطِ رسولؐ نے آ کے لپائی لاش بچھونے پہ سر کو سہلا کے پکاری زینبؑ دل خستہ، پیٹ کر سر کو سیاہ شام نے جانے دیا نہ اکبرؑ کو 3 یہ شکل چاند کی سب خوں میں بھر گئی ہے ہے وہ شان اور وہ شوکت کدھر گئی ہے ہے جگر سے اس کے سناں یوں گزر گئی ہے ہے پھوپھی بھی بیٹے کے بدلے نہ مر گئی ہے ہے یہ مرنے والا مری آنکھ کا اجالا تھا چھٹی کے روز اسے میں نے پیار پالا تھا 4 یہ کہہ کے پیٹ کے سر کو پچھاڑ جو کھائی پکاری باوا کہ اکبر تمہاری لاش آئی جو اب تو مجھے قربان ہوئے یہ دائی میں دیکھوں تجھے بھی کلیجے پر کس جگہ کھائی گئے تھے اچھے اور آئے لہولہان ہوئے اسی لڑائی کی خاطر تھے تم جوان ہوئے 5 میں اس ارادے کے مدت کے ہوگی واری نہ جانتی تھی کہ ہے خلدِ بریں کی تیاری یہ کہہ کے لاش سے بیٹے کی وہ فلک ماری لگی زمیں پہ تڑپنے یہ نالہ و زاری تڑپتے دیکھ کے ان کو امام رونے لگے شہید بیٹے کا لے لے کے نام رونے لگے [ماخذ: پھری جو مومنوں رن سے سواری اکبر کی] ہر نعمتِ خدا راہِ ہر نعمت کوئی حسرت نغماتِ نعت بن کر کون و مکاں میں گونجے [شاعر / حوالہ جزوی طور پر غیر واضح] التمـاس سورۃ فاتحہ برائے [اسماء جزوی طور پر غیر واضح]

178

Jab lash-e-pisar ko uthaya Husain ne 1 Jab lash-e-pisar ko uthaya Husain ne Sine se sakht dil ko lagaya Husain ne Ankhon se bahr-e-ashk bahaya Husain ne Ro ro ke ye bahen ko sunaya Husain ne Tera alam jigar pe saghiri mein khaye hain Mayyat jawan bete ki hum le ke aaye hain 2 Ye sun ke Ahl-e-Bait mein mahshar hua ayan Daurin hawas-bakhta khaime se bibiyan Munh pe lash-e-Shah ne likhi baad-e-fughan Mayyat ye kar ke bazu marne lagin bayan Kis ne mita diya mere naam o nishan ko Kis ki nazar lagi mere Akbar jawan ko 3 Awaz ek samt se aai ba-hal-e-zar Jald aaiye Imam-e-Umam Sher-e-Kirdigar Sunte hi is sada ke hue Shah be-qarar Khaime ke dar pe aaye jo Maula-e-namdar Dekha ke ek shakhs khara be-hawas hai Nate pe wo sawar hai lekin udas hai 4 Shah ne kaha tu kaun hai ay gham ke mubtala Ye sun ke ashna nate se wo mard-e-bawafa Ki arz main hun khadim-e-aulad-e-Mustafa Shah-e-talab ne bheja hai Aqa mujhe Khuda Deta hai jaan mushkil-e-Payambar ke waste Puchhte us ne bheje hain Akbar ke waste 5 Ro kar kaha Husain ne Akbar to mar gaya Bakhche ka pyare wala jahan se guzar gaya Hum se bichhar ke aaj wo dada ke ghar gaya Piri mein wo jawan hamein barbad kar gaya Sunta hai tu jo khaime mein shughl-e-shor-o-shain ka Matam ye ho raha hai isi nur-e-ain ka 6 Daulat hamari lut gayi, uthta raha man ki Mayyat pari hai khaime mein bazu ke lal ki Khun mein bhari hai shakl mere mah-jamal ki Shadi bhi ho na pai thi is khush-khisal ki Shah-e-talab se ja ke tu izhar kijiyo In masumon par Fatiha-e-Akbar ka lijiyo
جب لاشِ پسر کو اٹھایا حسینؑ نے 1 جب لاشِ پسر کو اٹھایا حسینؑ نے سینے سے سخت دل کو لگایا حسینؑ نے آنکھوں سے بحرِ اشک بہایا حسینؑ نے رو رو کے یہ بہن کو سنایا حسینؑ نے تیرا الم جگر پہ صغیری میں کھائے ہیں میت جوان بیٹے کی ہم لے کے آئے ہیں 2 یہ سن کے اہلِ بیت میں محشر ہوا عیاں دوڑیں حواس باختہ خیمے سے بیبیاں منہ پہ لاشِ شہ نے لکھی بعدِ فغاں میت یہ کر کے بازو مرنے لگیں بیاں کس نے مٹا دیا مرے نام و نشان کو کس کی نظر لگی مرے اکبر جوان کو 3 آواز ایک سمت سے آئی بحالِ زار جلد آئیے امام امم شیرِ کردگار سنتے ہی اس صدا کے ہوئے شاہ بے قرار خیمے کے در پہ آئے جو مولائے نامدار دیکھا کہ ایک شخص کھڑا بے حواس ہے ناتے پہ وہ سوار ہے لیکن اداس ہے 4 شہؑ نے کہا تو کون ہے اے غم کے مبتلا یہ سن کے آشنا ناتے سے وہ مردِ باوفا کی عرض میں ہوں خادمِ اولادِ مصطفیٰؐ شاہِ طلب نے بھیجا ہے آقا مجھے خدا دیتا ہے جان مشکلِ پیغمبر کے واسطے پوچھتے اس نے بھیجے ہیں اکبر کے واسطے 5 رو کر کہا حسینؑ نے اکبر تو مرگیا بخچے کا پیارے والا جہاں سے گزر گیا ہم سے پچھڑ کے آج وہ دادا کے گھر گیا پیري میں وہ جوان ہمیں برباد کر گیا سنتا ہے تو جو خیمے میں شغلِ شور و شین کا ماتم یہ ہو رہا ہے اسی نورِ عین کا 6 دولت ہماری لٹ گئی، اٹھتا رہا ماں کی میت پڑی ہے خیمے میں بازو کے لال کی خوں میں بھری ہے شکل مرے مہ جمال کی شادی بھی ہو نہ پائی تھی اس خوش خصال کی شاہِ طلب سے جا کے تو اظہار کیجیو ان معصوموں پر فاتحۂ اکبر کا لیجیو

179

Pahuncha jo ran mein Sher-e-zi-jah ka pisar 1 Pahuncha jo ran mein Sher-e-zi-jah ka pisar Muhabbat tamam kar ke dua ki ye kar-o-far Azad kar di wo zik ke chhute Mamun ke sar Man sun ke boli shukr-e-Khudawand-e-bahr-o-bar Kine mein baat reh gayi wo kam ho gaya Din-e-bap ke pisar ka bara naam ho gaya 2 Baten ye ho rahi thin Haram mein ke ek bar Qasim pe mil ke tut pari fauj-e-nabakar Sine idhar udhar se hazaron hue sawar Charon taraf se parne lage tegh o neza-dar Ghar par lipe the qarib mein jo jigar the Phir wo mare the jo pichhe se dur the 3 Girne hi khak par jo hua ghash wo mah-liqa Fauj-e-adu mein fath ke bajon ka ghul hua Man ne sada suni to ye dil tham kar kaha Meri kamai nek gayi shukr-e-Kibriya Bachche pe mere se mehr hui Zuljalal ki Lo bibiyo barat charhi mere lal ki 4 Pahunche jo lash Ibn-e-Hasan par ba-hal-e-zar Dekha ke sar ko katne wale hain bad-shiar Ghusse se kanpne lage Abbas namdar Laga kar barhe saf-e-Sher-e-Kirdigar Bhai ke adu jo dar ke to naqsha badal gaya Halchal mein is yatim ka lasha kuchal gaya 5 Rote hue qarib jo aaye Shah-e-Huda Dekhe tamam uzw burida juda juda Hathon se dil pakar ke kaha Wa Muhammada Ummat ka ye suluk to dekho Shah-e-Khuda Ibn-e-Hasan ki jaan pe sadme guzar gaye Lo Nana jaan Qasim-e-nashad mar gaye [Makhaz: Pahuncha jo ran mein Sher-e-zi-jah ka pisar / Nasim Amrohvi] Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma juzwi taur par ghair wazeh]
پہنچا جو رن میں شیرِ ذی جاہ کا پسر 1 پہنچا جو رن میں شیرِ ذی جاہ کا پسر محبت تمام کر کے دعا کی یہ کر و فر آزاد کر دی وہ ذک کے چھٹے ماموں کے سر ماں سن کے بولی شکرِ خداوندِ بحر و بر کینے میں بات رہ گئی وہ کام ہوگیا دینِ باپ کے پسر کا بڑا نام ہوگیا 2 باتیں یہ ہو رہی تھیں حرم میں کہ ایک بار قاسمؑ پہ مل کے ٹوٹ پڑی فوجِ نابکار سینے ادھر ادھر سے ہزاروں ہوئے سوار چاروں طرف سے پڑنے لگے تیغ و نیزہ دار گھر پر لپے تھے قریب میں جو جگر تھے پھر وہ مارے تھے جو پیچھے سے دور تھے 3 گرنے ہی خاک پر جو ہوا غش وہ مہ لقا فوجِ عدو میں فتح کے باجوں کا غل ہوا ماں نے صدا سنی تو یہ دل تھام کر کہا میری کمائی نیک گئی شکرِ کبریا بچے پہ میرے سے مہر ہوئی ذوالجلال کی لو بی بیا برات چڑھی مرے لال کی 4 پہنچے جو لاش ابنِ حسنؑ پر بحالِ زار دیکھا کہ سر کو کاٹنے والے ہیں بد شعار غصے سے کانپنے لگے عباسؑ نامدار لگاکر بڑھے صفِ شیرِ کردگار بھائی کے عدو جو ڈر کے تو نقشہ بدل گیا ہل چل میں اس یتیم کا لاشہ کچل گیا 5 روتے ہوئے قریب جو آئے شہِ ہدیٰ دیکھے تمام عضو بریدہ جدا جدا ہاتھوں سے دل پکڑ کے کہا وا محمداؐ امت کا یہ سلوک تو دیکھو شہِ خدا ابنِ حسنؑ کی جان پہ صدمے گزر گئے لو نانا جان قاسمؑ ناشاد مر گئے [ماخذ: پہنچا جو رن میں شیر ذی جاہ کا پسر / نسیم امروہوی] التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب [اسماء جزوی طور پر غیر واضح]

180

Ghore se jabke Qasim-e-gulgun qaba gira 1 Ghore se jabke Qasim-e-gulgun qaba gira Gul par gaya neza-e-Mushkil-kusha gira Safdar jari bahadur o Sher-e-Khuda gira Khun mein naha ke lakht-e-dil-e-Mujtaba gira Girte hi fauj-e-zulm ka majma baham hua Zakhmi pe aah neza-e-fauj-e-sitam hua 2 Mara kisi ne pusht pe neza ko tan ke Khinchi sinan-e-zulm kaleje mein aan ke Koi tabar laga gaya mazlum jaan ke Tegh kisi ka chal gaya sar par jawan ke Pahlu kabhi, donon hath bhi be-kas figar the Dhar ka ek jism tha, zarb-e-hazar the 3 Hazrat ko di sada ke chacha jaan aaiye Khadim hun Huzur pe qurban aaiye Duniya mein koi dam ka hun mehman aaiye Mar katne ka hota hai saman aaiye Khudara pichhe tegh-e-do-paikar liye hue Qatil khare hain hath mein khanjar liye hue 4 Dam torne laga jo ye keh kar wo dil-figar Tifl-e-nazar ba-janib-e-aada mein ek bar Daure udhar se tegh ba-kaf Shah-e-namdar Ghoron se rondne lage lashe ko wan sawar Sab girte ghore sine pe, pur-nur ho gaya Tapon se kamsin ka badan chur ho gaya 5 Pahunche Husain lash pe jis dam ba-chashm-e-nam Atka hua tha ankhon mein Ibn-e-Hasan ka dam Sar apna pit kar ye pukare Shah-e-Umam Qasim utho ke aaye hain milne ko tum se hum Muzda na ankh Fatima ke nur-e-ain se Baten to kuchh karo dam-e-akhir Husain se 6 Kya bolte ke maut ne tha be-khabar kiya Sidhi na ankh ki, na munh apna udhar kiya Bachche ke dard ne tah-o-bala jigar kiya Bas miskin ke bagh-e-jahan se safar kiya Hazrat chale utha ke tan-e-pash-pash ko Kandha diya chacha ne bhatije ki lash ko
گھوڑے سے جب کہ قاسمؑ گلگوں قبا گرا 1 گھوڑے سے جب کہ قاسمؑ گلگوں قبا گرا مقتل پر گیا نبیرۂ مشکل کشا گرا صفدر جری بہادر و شیرِ خدا گرا خون میں نہا کے نخلِ رسولِ مجتبیٰ گرا کرتے ہی فوجِ ظلم کا مجمع بہم ہوا زخمی پہ آہ نعرۂ فوجِ ستم ہوا 2 دم توڑنے لگا جو یہ کہہ کر وہ دل فگار طبلِ ظفر بجا صفِ اعدا میں ایک بار دوڑے ادھر سے تیغ بکف شاہِ نامدار گھوڑوں سے روندنے لگے لاشے کو وہ سوار سب گھیرے گھوڑے سینے پہ نور ہو گیا ٹاپوں سے مرکبوں کی بدن چور ہو گیا 3 مارا کسی نے پشت پہ نیزے کو تان کے کھینچی سنانِ ظلم کلیجے میں آن کے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تیغ کسی کا چل گیا سر پر جوان کے پہلو بھی دونوں، ہاتھ بھی، پیکر فگار تھے دولہا کا ایک جسم تھا، حربے ہزار تھے 4 پہنچے حسینؑ لاش پہ جس دم بچشمِ نم آتا ہوا تھا آنکھوں میں ابنِ حسن کا دم سر اپنا پیٹ کر یہ پکارے شہِ امم قاسمؑ اٹھو کہ آئے ہیں ملنے کو تم سے ہم موزوں نہ آ گئی فاطمہ کے نورِ عین سے باتیں تو کچھ کرو دمِ آخر حسینؑ سے 5 حضرت کو دی صدا کہ چچا جان آئیے خادم ہوا حضور پہ قربان آئیے دنیا میں کوئی دم کا ہوں مہمان آئیے کفن کا ہوتا ہے سامان آئیے جلاد کھینچے تیغ دو پیکر لئے ہوئے قاتل کھڑے ہیں ہاتھ میں خنجر لئے ہوئے 6 کیا بولتے کہ موت نے تھا بے خبر کیا سیدھی نہ آنکھ کی، نہ منہ اپنا ادھر کیا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بس مسکرا کے باغِ جہاں سے سفر کیا حضرت چلے اٹھا کے تنِ پاش پاش کو کاندھا دیا چچا نے بھتیجے کی لاش کو

181

Qarib-e-lashe Qasim jo pahunche Sarwar-e-din 1 Qarib-e-lashe Qasim jo pahunche Sarwar-e-din To aise hal mein aaya nazar wo jism-e-hazin Ke thori der to aa hi saka na dil ko yaqin Kahin tha pichhla hua jism, dast-o-pa the kahin Ek aah bhar ke Shah-e-din zamin pe baith gaye Jahan khare the zaar zaar roye, wahin pe baith gaye 2 Pahlu pe Qasim ki bandish thi, dil mein hashr bapa Uthaye barh ke zamin se kate hue aaza Na jane kaise tan-e-muntashir ko jama kiya Aba pe rakh ke uthaya janaza-e-Qasim ka Larazte hathon pe jaise pahar uthaye hue Chale Husain suye khaima sar jhukaye hue 3 Agar ye sochte jate the dil mein Sibt-e-Nabi Haram mein bhatije ki jab le ke lash Qasim ki Ba-jaye lash wo dekhen gi khun-bhari gathri Pisar ko dekh ke man par ye kya saman hoga Hai ghair hal bura, man ka hal kya hoga [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 4 Haram mein pahunche to dekha ke hashr hai barpa Bilak rahi hai Sakina, khamosh hai Kubra Qarib ke man ne Sarwar ko dekha ba-dard-o-yas Jigar ko tham ke bolin ye kya hua bhaiya Main ye to janti thi sar katayenge Qasim Ye kya khabar thi ke yun wapas aayenge Qasim 5 Kaha Imam ne Bhabhi, na mujh se is ka malal Hua shahidon mein mumtaz aap ka ye lal Nahin hai qismat-e-Qasim ka ye faqat ahwal Hamari lash bhi hogi isi tarah pamal Wohi hamari bhi hogi jo un ki halat hai Husain ho ke Hasan, sab ki ek qismat hai 6 Khuda ka shukr karo, lash-e-Qasim aa to gayi Hamari lash to aayegi bhi na ran se koi Phir is pe hoga ye tarz-e-sitam bhi ay Bhabhi Ke fauj le gi libas-e-badan bhi ay Bhabhi Jangal hi hoga, dhoop bhi hogi, kari hogi Hamari lash yunhi dasht mein pari hogi
[عنوان جزوی طور پر غیر واضح: قریب لاشِ قاسم جو پہنچے ...] 1 قریب لاشِ قاسم جو پہنچے سرورِ دیں تو ایسے حال میں آیا نظر وہ جسمِ حزیں کہ تھوڑی دیر تو آیا سکوں نہ دل کو یقیں کہیں تھا کچلا ہوا جسم، دست و پا تھے کہیں اک آہ بھر کے شہِ دیں زمیں پہ بیٹھ گئے جہاں گھوڑے تھے لرز کر وہیں پہ بیٹھ گئے 2 حرم میں پہنچے تو دیکھا کہ حشر ہے برپا بلک رہی ہے سکینہؑ، خموش ہے کبریٰ [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] میں یہ تو جانتی تھی سر کٹائیں گے قاسمؑ یہ کیا خبر تھی کہ یوں واپس آئیں گے قاسمؑ 3 لبوں پہ صبر کی بندش تھی، دل میں حشر بپا اٹھائے بڑھ کے زمیں سے کٹے ہوئے اعضا نہ جانے کیسے تنِ منتشر کو جمع کیا عبا پہ رکھ کے اٹھایا جنازۂ قاسم کا لرزتے ہاتھوں پہ جیسے پہاڑ اٹھائے ہوئے چلے حسینؑ سوئے خیمہ سر جھکائے ہوئے 4 کہا امام نے بھابھی، نہ مجھ سے اس کا ملال ہوا شہیدوں میں ممتاز آپ کا یہ لال نہیں ہے قسمتِ قاسمؑ ہی جسم کا یہ حال ہماری لاش بھی ہوگی اسی طرح پامال وہی ہماری بھی ہوگی جوان کی حالت ہے حسینؑ ہو کہ حسنؑ، سب کی ایک قسمت ہے 5 مگر یہ سوچتے جاتے تھے دل میں سبطِ نبیؐ میں جب چلا تھا تو خیمے کے در پہ تھیں بھابھی حرم میں پہنچوں گا جب لے کے لاشِ قاسم کی بچائے لاش وہ دیکھیں گی خون بھری [غیر واضح] پسر کو دیکھ کے یوں پامال کیا ہوگا ہے غیر حال برا، ماں کا حال کیا ہوگا 6 خدا کا شکر کرو، لاشِ قاسم آ تو گئی ہماری لاش تو لائے گا بھی نہ رن سے کوئی پھر اس پہ ہوگا یہ طرفہ ستم بھی اے بھابھی کہ فوج لے گی لباسِ بدن بھی فوجِ شقی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] ہماری لاش یوں ہی دشت میں پڑی ہوگی

182

Mashk bhar kar suye khaima jo Alamdar chale 1 Mashk bhar kar suye khaima jo Alamdar chale Rokne ke liye rasta sitam-izhar chale Ye ba-surat jo urate hue rahwar chale Tegh barsate hue lakh sitamgar chale Ab laren ya alam-o-mashk sambhalen Abbas Ya ke lein ghore ki, ya tegh nikalen Abbas 2 Baye lakhon wo shaqi aur wo tanha Jarrar Us dil-e-angaar ke sath bari jurat ke nisar Us tarah mashk ko danton mein dabaya ek bar Jis tarah sher-e-ghazabnak ke munh mein ho shikar War parte hain to ye sar ko jhuka lete hain Mashk ko sina-e-zakhmi se chhupa lete hain 3 Ran mein kehte hain ke ya Haider-e-Safdar aao Bani-e-jaur ke lashkar se mujhe aaj bachao Phir farmate hain ay Shamiyo, lashkar na charhao Sar mera kat lo, par mashk ko nawak na lagao Qatl ke baad bhi Abbas ko iza dena Par Sakina ki amanat use pahuncha dena 4 The isi tarah suye khaima dilawar rawan Yak-ba-yak chashm-e-mubarak mein gira ek paikan Tir kha kar abhi sambhla bhi na tha Sher-e-Zaman Nagahan mashk chhidi, sar pe laga gurz-e-giran Khun behta raha jab tak to na zinhār gire Beh gaya aab to bar-khak Alamdar gire 5 Munh se be-sakhta nikli ye gham-angez sada Assalam ay jigar-o-jaan-e-Batul-e-Azra Assalam ay pisar-e-badshah-e-uqda-kusha Assalam ay mere bhai, Rasul-e-do-sara Chhor ke Syed-e-wala ke qadam jate hain Ab Sakina se khabardar ke hum jate hain 6 Ye sada sunte hi daure gaye ran mein Shah-e-din Na falak sujhta tha aur na ankhon se zamin Biyaban mein khun mein ghaltan nazar aaye mah-jabin Khak par gir ke ba-sad dard pukare Shabbir Haye ay bhai, qurban tumhare Shabbir [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh]
مشک بھر کر سوئے خیمہ جو علمدار چلے 1 مشک بھر کر سوئے خیمہ جو علمدار چلے روکنے کیلئے رستہ ستم اطوار چلے یہ خبر سرعت جو اڑاتے ہوئے رہوار چلے شیر برساتے ہوئے لاکھ ستمگار چلے اب لڑیں یا علم و مشک سنبھالیں عباسؑ ایک میں گھوڑے کی یا تیر نکالیں عباسؑ 2 تھے اسی طرح سوئے خیمہ شبیر رواں یک بیک چشمِ مبارک میں گرا ایک پیکاں تیر کھا کر ابھی سنبھلا بھی نہ تھا شیرِ ژیاں ناگہاں مشک چھدی، سر پہ لگا گرزِ گراں خون بہتا رہا جب تک تو نہ رہوار گرے بہہ گیا آب تو ریتی پہ علمدار گرے 3 ہائے لاکھوں وہ مشکی اور وہ تنہا جری اے دل افگار کے تھے بری جرأت کے نثار اس طرح مشک کو دانتوں میں دبایا اک بار جس طرح شیرِ غضبناک کے منہ میں ہو شکار وار پڑتے ہیں تو یہ سر کو جھکا لیتے ہیں مشک کو سینۂ زخمی سے چھپا لیتے ہیں 4 منہ سے بے ساختہ نکلی یہ غم انگیز صدا السلام اے جگر و جانِ بتولِ عذرا السلام اے پسرِ بادشہِ عقدہ کشا السلام اے عمرِ باغِ رسولِ دوسرا چھوڑ کے سیدِ والا کے قدم جاتے ہیں اب سکینہؑ سے خبردار کہ ہم جاتے ہیں 5 رن میں کہتے ہیں کہ یا حیدرِ صفدر آؤ بچی مر جائے گی، مشک بھرے کو تیروں سے بچاؤ کبھی فرماتے ہیں اے شامیوں گھیر نہ ڈالو سرِ راہ کاٹ لو پر مشک کو تاوک نہ لگاؤ قتل کے بعد بھی عباس کو اتنا دینا یہ سکینہ کی امانت اسے پہنچا دینا 6 یہ صدا سنتے ہی مولا نے جگر کو تھاما [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] غش جو آیا علی اکبرؑ نے پدر کو تھاما دوڑنے اٹھے کہ مسافر کی کمر کو تھاما روئے فرمایا ابھی تم بھی مجھے چھوڑ چلے ہائے پردیس میں کس کی کمر توڑ چلے

183

[Mashk bhar kar suye khaima jo Alamdar chale — jari] 7 Ay mere quwwat-e-bazu, mere Baba ke nishan Abhi zinda ho ke jannat mein gaye bhai jaan Hosh jab aaya to bole ke main aap pe qurban Ab bhatije ki taslim, Imam-e-do-jahan Nahr par aane ki taklif jo farmai hai Aap ke sath Sakina to nahin aai hai 8 Bole Shabbir, wo khaime pe kari roti hai Aap ki yaad mein betab hai, jaan khoti hai Dam-ba-dam pyas ki iza jo hawa hoti hai Nahr ko takti hai aur ankhon se nahr roti hai Bole Abbas ke khadim pe taras khaiye ga Ab meri lash ko khaime mein na le jaiye ga Jab hue bazu-e-Abbas qalam darya par 1 Jab hue bazu-e-Abbas qalam darya par Gir ke thanda hua Hazrat ka alam darya par Gharq-e-khun ho gaya wo bahr-e-karam darya par Ghul tha zakhmi hua Saqqa-e-Haram darya par Mashk danton mein pakre hue yun lata hai Dahan-e-sher mein jis tarah shikar aata hai 2 Shor ki amad hai, jigar-soz atash se hai kabab Hain jo be-dast, khari nahin paon mein rikab Pyase bachchon ke liye sine mein dil hai betab Shab bhi hai ke kahin mashk se zaya na ho aab Tir-e-badim jo kamanon se chale aate hain Ya Ali kehte hain aur mashk pe jhuk jate hain 3 Gir ke munh se ye sukhan kehte the bar-e-digar Ya Ali bachche bachayen, kas-o-muztar ki khabar Ay Sher-e-uqda-kusha, badshah-e-jinn-o-bashar Chahta hun main ke is mashk ko pahunche na zarar Aap ke bachche ka saqqa hun, madad lazim hai Aap ki beti ka saqqa hun, madad lazim hai 4 Aap se kehte the Abbas ye ba-chashm-e-pur-ab Yaan se le chal mujhe ay Sarwar-e-ali-janab Pyasa hun, darya mein jo be-ab to hoga be-ab Kahin aisa na ho sari meri mehnat ho kharab Haye kya jaye, kya bachchon ki halat hogi Gayi pani Sakina to qiyamat hogi
[مشک بھر کر سوئے خیمہ جو علمدار چلے — جاری] 7 اے مرے قوتِ بازو، مرے بابا کے نشاں ابھی زندہ ہو کہ جنت میں گئے بھائی جان کس کے یہ ہوں جو آیا، تو کہاں میں قرباں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شہر پر آنے کی تکلیف جو فرمائی ہے آپ کے ساتھ سکینہ تو نہیں آئی ہے 8 بولے شبیرؑ، وہ [غیر واضح] پہ کھڑی روتی ہے آپ کی یاد میں بیتاب ہے، جاں کھوتی ہے دم بہ دم پیاس کی ایذا جو ہوا ہوتی ہے نہر کو تکتی ہے اور اشکوں سے منہ دھوتی ہے بولے عباسؑ کہ خادم پہ ترس کھائیے گا اب مری لاش کو خیمے میں نہ لے جائیے گا [ماخذ: مشک بھر کر سوئے خیمہ جو علمدار چلے / نسیم امروہوی] جب ہوئے بازوئے عباسؑ قلم دریا پر 1 جب ہوئے بازوئے عباسؑ قلم دریا پر گر کے ٹھنڈا ہوا حضرت کا علم دریا پر غرقِ خوں ہوگیا وہ بحرِ کرم دریا پر غل تھا زخمی ہوا سقائے حرم دریا پر مشک دندانوں میں پکڑے ہوئے یوں لاتا ہے دہنِ شیر میں جس طرح شکار آتا ہے 2 غش کی آمد ہے، جگر سوزِ عطش سے ہے کباب ہیں جو بے دست، تھرتھرتی نہیں پاؤں میں رکاب پیاسے بچوں کے لئے سینے میں دل ہے بیتاب خیمے ہی سے کر کہیں مشک سے ضائع نہ ہو آب تیرِ پیہم جو کمانوں سے چلے آتے ہیں یا علیؑ کہتے ہیں اور مشک پہ جھک جاتے ہیں 3 کر کے منہ نہر سے [غیر واضح] کہتے تھے بارِ دیدہ تر یا علیؑ بھیجئے مجھ بے کس و مضطر کی خبر اے شہِ عقدہ کشا، بادشہِ جن و بشر چاہتا ہوں میں کہ اس مشک کو پہنچے نہ ضرر آپ کے بچے کا شیدا ہوں، مدد لازم ہے آپ کی بیٹی کا سقّا ہوں، مدد لازم ہے

184

Tegh ka war jo Abbas ke shane pe laga 1 Tegh ka war jo Abbas ke shane pe laga Kat ke bazu-e-Alamdar zamin par aaya Dusre hath mein mashkize ko aakhir thama Aur ghore ki bhi raftaar ko kuchh tez kiya Yaad aane lagi bachchon ki ankhon pas bahut Abdida hue is sadme se Abbas bahut 2 Dafta dusre bazu pe bhi ek war laga Aur wo hath bhi shane se qalam ho ke gira Mashk ko danton se Abbas jari ne thama Fasla khaima-e-athar ka na kam hota tha Keh rahe the ye fars se Khudara jaldi Mujh ko tu khidmat-e-Shabbir mein pahuncha jaldi 3 Nagahan mashk pe aa kar laga ek tir-e-jafa Atash-e-pas pani wo zamin pe sara baha Behte pani ko Alamdar ne ba-hasrat dekha Aur is sadme se Abbas ka dil tut gaya Tuti umid jo pyason ki, baad-e-yas gire Zarb ek gurz ki sar pe pari, Abbas gire Mirza Asadullah Khan Ghalib Ye ijtihad ajab hai ke ek dushman-e-din Ali se aa ke lare aur khata nahin us ki Hakim Momin Khan Momin Musaddiq hua Ayat-e-Baiat ka Yazid Farzand-e-Yadullah se baiat mange
[جب ہوئے بازوئے عباسؑ قلم دریا پر — جاری] 4 آپ سے کہتے تھے عباسؑ یہ باچشمِ پرآب یاں سے لے چل مجھے اے [غیر واضح] پیاسے ہوں گے جو سیراب تو ہوگا ثواب کہیں ایسا نہ ہو ساری مری محنت ہو خراب ہائے کیا جانیے کیا بچوں کی حالت ہوگی مر گئی پیاسی سکینہؑ تو قیامت ہوگی [ماخذ: جب ہوئے بازوئے عباسؑ قلم دریا پر] مرزا اسد اللہ خاں غالب یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں علیؑ سے آگے گزرے اور [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] حکیم مومن خاں مومن مصداق ہوا آیۂ [غیر واضح] کا یزید فرزندِ یداللہ سے بیعت مانگی؟! تیغ کا وار جو عباس کے شانے پہ لگا 1 تیغ کا وار جو عباسؑ کے شانے پہ لگا کٹ کے بازوئے علمدار زمیں پر آیا دوسرے ہاتھ میں مشک کو آخر تھاما اور گھوڑے کی بھی رفتار کو کچھ تیز کیا یاد آنے لگی بچوں کی انہیں پیاس بہت آبدیدہ ہوئے اس صدمے سے عباسؑ بہت 2 دفعتاً دوسرے بازو پہ بھی اک وار لگا اور وہ ہاتھ بھی شانے سے قلم ہو کے گرا مشک کو دانتوں سے عباسؑ جری نے تھاما فاصلہ خیمۂ اطہر کا نہ کم ہوتا تھا کہہ رہے تھے یہ فرس سے کہ خدارا جلدی مجھ کو تو خدمتِ شبیرؑ میں پہنچا جلدی 3 ناگہاں مشک پہ آ کر لگا اک تیرِ جفا آخرش بہہ گیا پانی وہ زمیں پہ سارا بہتے پانی کو دلاور نے بہ حسرت دیکھا اور اس صدمے سے عباسؑ کا دل ٹوٹ گیا ٹوٹی امید جو پیاسوں کی [غیر واضح] ضرب اک گرز لگی، گھوڑے سے عباس گرے

185

[Tegh ka war jo Abbas ke shane pe laga — jari] 4 Girte hi khak pe Ghazi ne kaha aur koi Imdad-e-lakht-e-dil-e-uqda-kusha aur koi Imdad ay pisar-e-Sher-e-Khuda aur koi Ho karam mujh pe ab ay Shah-e-Huda aur koi Khaliq-e-kul ka ye ehsan hua hai Aqa Ye ghulam aap pe qurban hua hai Aqa 5 Husain ke Abbas ki awaz chale Shah-e-Huda Rah mein dast-e-burida jo mile un ko liya Kabhi sine se lagaya, kabhi un ko chuma Aye Abbas ke nazdik Imam-e-do-sara Khak aur khun mein ghaltan nazar aaye Abbas Phir bhi mutlaq na pareshan nazar aaye Abbas 6 Shah darya mein baithe gaye jalti hui reti par Apne zanu pe rakha pyar se Abbas ka sar Ankh se khinch ke ek tir ko bole Sarwar Bhai ko chhor ke tum bandhte ho rukhsat safar Aaj pardes mein taqdir hamein lut gayi Zor-e-bazu ka gaya aur kamar tut gayi Jab zanu-e-Husain pe Abbas mar gaye 1 Jab zanu-e-Husain pe Abbas mar gaye Sadme gham ke Sibt-e-Nabi par guzar gaye Khanjar-e-alam ke dil se jigar tak utar gaye Chillate the ke sher hamare kidhar gaye Wa hasrata ke mashk-o-alam bekar ho gaye Kis ke liye ye kate hue hath bekar ho gaye 2 Akbar ne ro ke arz ye ki ay Shah-e-Zaman Rone se ab milenge na Hazrat ke bhai jaan Le chaliye ghar mein lash-e-Alamdar-e-naujawan Aisa na ho ke gir paren khaime se bibiyan Darya pe nange sar kahin Bint-e-Ali na aaye Bachchon ke sath le ke Sakina chali na aaye 3 Chadar utha ke walon se Imam-e-Umam chale Farmaya lo Karim nigehban, hum chale Akbar to aage le ke wo pur-khun alam chale Sar nange pichhe Syed-e-Alam chale Jangal mein shor-e-nala-o-faryad-o-aah tha Hazrat ke pichhe Sibt-e-Alamdar Shah tha
[تیغ کا وار جو عباس کے شانے پہ لگا — جاری] 4 گرے ہی خاک پہ غازی نے کہا اور کوئی المدد لختِ دلِ عقدہ کشا اور کوئی المدد اے پسرِ شیرِ خدا اور کوئی ہو کرم مجھ پہ اب اے شاہِ ہدیٰ اور کوئی خالقِ کل کا یہ احسان ہوا ہے آقا یہ غلام آپ پہ قربان ہوا ہے آقا 5 سن کے عباسؑ کی آواز چلے شاہِ ہدیٰ راہ میں دستِ بریدہ جو ملے ان کو لیا کبھی سینے سے لگایا کبھی ان کو چوما آئے عباسؑ کے نزدیک امامِ دوسرا خاک اور خون میں غلطاں نظر آئے عباسؑ پھر بھی مطلق نہ پریشاں نظر آئے عباسؑ 6 شاہِ دیں بیٹھ گئے جلتی ہوئی ریتی پر اپنے زانو پہ رکھا پیار سے عباسؑ کا سر آنکھ سے کھینچ کے اک تیر کو بولے سرور بھائی کو چھوڑ کے تم باندھتے ہو رختِ سفر آج پردیس میں تقدیر ہمیں لوٹ گئی زورِ بازو کا گھٹا اور کمر ٹوٹ گئی جب زانوئے حسینؑ پہ عباسؑ مر گئے 1 جب زانوئے حسینؑ پہ عباسؑ مر گئے صدمے غضب کے سبطِ نبیؐ پر گزر گئے خنجر الم کے دل سے جگر تک اتر گئے چلاتے تھے کہ شیر ہمارے کدھر گئے وا حسرتا کہ پشت و پناہ ہوگئے سر کیسے پیٹیں، ہاتھ تو بے کار ہوگئے 2 اکبرؑ نے رو کے عرض یہ کی اے شہِ زماں رونے سے اب ملیں گے یہ حضرت کے بھائی جان لے چلئے گھر میں لاشِ علمدارِ نوجوان ایسا نہ ہو نکل پڑیں خیمے سے بیبیاں دریا پہ ننگے سر کہیں بنتِ علی نہ آئے بچوں کو ساتھ لے کے سکینہؑ چلی نہ آئے 3 چاروں طرف کے والوں سے امامِ امم چلے فرمایا لو کریم نگہباں ہم چلے اکبرؑ تو آگے آگے، وہ پرخوں علم چلے سر ننگے پیچھے سیدِ عالی ہم چلے جنگل میں شورِ نالہ و فریاد و آہ تھا حضرت کے پیچھے [غیر واضح] علمدارِ شاہ تھا

186

[Jab zanu-e-Husain pe Abbas mar gaye — jari] 4 Samjhe ye sab ke bazu-e-Abbas kat gaye Sayyidaniyon ke tan se lahu aur ghat gaye Bachchon ke nanhe nanhe jigar gham se phat gaye Rang ur gaye, alam se kaleje ulat gaye Har dil pe barq-e-ranj-o-gham-o-yas gir pari Khaime ke dar pe zauja-e-Abbas gir pari 5 Zainab se ro ke kehne lage Sarwar-e-Zaman Le kar nishan ko jaye kahan ab ye be-watan Ab to na fauj hai na Alamdar-e-saf-shikan Ghar lut gaya, alam ko barhao ab ay bahen Lo ye nishani-e-Sher-e-dildar sambhalo Bachcha alam ka khun lo, panchhe utar lo 6 Chhota ye kya kehta tha ansu baha baha Baba hamare ghar mein kab aayenge ay chacha Aaya alam, phir un ke na aane ki wajah kya Chhute se ro ke sab ye boli Sakina Amman ki mang ujri, sadme guzar gaye Bhai samajhiye, khabar nahin Baba to mar gaye Shabbir jabke ran se chale suye khaima-gah 1 Shabbir jabke ran se chale suye khaima-gah Mashk-o-alam ko tham ke uthaya ye Shah-e-din Dil tham kar kahe bazu-e-bekas ki nigah Sar ta qadam Husain hain ek musht-e-girah Le kar tabarrukat-e-Alamdar-e-Karbala Suye khiyam jata hai salar-e-Karbala 2 Girte sambhalte aa hi gaya khaima-e-Haram Wo rang-e-Husain ke barhte hue qadam Zainab khari hai khaime ke dar par ba-chashm-e-nam Shabbir keh rahe hain bahen laut aaye hum Zainab hamara bhai khafa hum se ho gaya Sher-e-Khuda ka sher tarai mein so gaya 3 Sar pit ke ye kehti thi Zainab jigar-figar Abbas mere sher, kahan ho bahen nisar Tum ho hifazat-e-Haram-e-Shah ke zimmedar Khaime mein kitni der se karti hun intizar Bachche ye keh rahe hain, ay Imam aap donon Bhai tumhi batao, main unhein kya jawab dun
[جب زانوئے حسینؑ پہ عباسؑ مر گئے — جاری] 4 سمجھے یہ سب کہ بازوئے عباس کٹ گئے سیدانیوں کے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بچوں کے ننھے ننھے جگر غم سے پھٹ گئے رنگ اڑ گئے، الم سے کلیجے الٹ گئے ہر دل پہ برقِ رنج و غم و یاس گر پڑی خیمے کے در پہ زوجۂ عباس گر پڑی 5 زینبؑ سے رو کے کہنے لگے سرورِ زمن لے کر نشان کو جائے کہاں اب یہ بے وطن اب تو نہ فوج ہے نہ علمدارِ صف شکن گھر لٹ گیا، علم کو بڑھاؤ اب اے بہن لو یہ نشانیِ شیرِ ذوالجلال سنبھالو [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 6 چھوٹا یہ [غیر واضح] سے کہتا تھا آنسو بہا بہا بابا ہمارے گھر میں کب آئیں گے اے چچا آیا علم، پھر ان کے نہ آنے کی وجہ کیا چھوٹے سے رو کے سب بڑوں نے بھائی نے کہا آقا کی مانگ آج بھی صدمے گزر گئے بیٹا تمہیں خبر نہیں، بابا تو مر گئے شبیرؑ جبکہ رن سے چلے سوئے خیمہ گاہ 1 شبیرؑ جبکہ رن سے چلے سوئے خیمہ گاہ مشک و علم کو جھک کے اٹھایا بہ اشک و آہ دل تھام کر کئے ہوئے بازو پہ کی نگاہ سر تا قدم حسینؑ ہیں اک مستقل کراہ لے کر تبرکاتِ علمدارِ کربلا سوئے خیام جاتا ہے سالارِ کربلا 2 گرتے سنبھلتے آ ہی گیا خیمۂ حرم وہ رک گئے حسینؑ کے بڑھتے ہوئے قدم زینبؑ کھڑی ہے خیمے کے در پر بچشمِ نم شبیرؑ کہہ رہے ہیں بہن لوٹ آئے ہم زینبؑ، ہمارا بھائی خفا ہم سے ہوگیا شیرِ خدا کا شیر ترائی میں سو گیا 3 سر پیٹ کے یہ کہتی تھی زینبؑ جگر فگار عباسؑ میرے شیر، کہاں ہو، بہن نثار تم ہو حفاظتِ حرمِ شاہ کے ذمہ دار بھیا میں کس کی دیر سے کرتی ہوں انتظار بچے یہ کہہ رہے ہیں ہمیں جامِ آب دو بھیا تم ہی بتاؤ انہیں کیا جواب دوں

187

[Shabbir jabke ran se chale suye khaima-gah — jari] 4 Ye raat ke andhere, ye sahra, abhi bhi jao Jangal mein hum gharib hain tanha, abhi bhi jao Bhaiya bilak rahi hai Sakina, abhi bhi jao Kya aaj raat doge na pahra, abhi bhi jao Kehte the har bala se mujhe tum bachao ge Kya qaid ho ke jaungi, us waqt aaoge Likha hai jab koi hami na Shah-e-din ka raha 1 Likha hai jab koi hami na Shah-e-din ka raha Aur aap zulm ki faujon mein rah gaye tanha Hujum-e-yas ne charon taraf se gher liya To nagahan dar-e-khaima se aai ran mein sada Khabar lo jald Shabbir, Karbala-e-Zahra hai Tumhare bachche ko jhule mein nind aai hai 2 Ye sun ke khaime ki janib gaye Imam-e-Huda Qarib jhule ke pahunche to ro ke farmaya Maaf kijiye, pidar ko ay beta Ke ek pani ka qatra tumhein pila na saka Khuda gawah bahut tum se sharm-sar hun main Yaqin karo Ali Asghar, ke be-qarar hun main 3 Ye keh ke roye bahut aur pisar ko pyar kiya Utha ke jhule se Hazrat ne apna mah-liqa Palak pare the jo chehre pe ashk-bar, hata Wo muskura ke bachche ne munh ko khol diya Tari jo ashkon ki pani to muskurane laga Zaban-e-khushk ko honton pe wo phirane laga
[شبیرؑ جبکہ رن سے چلے سوئے خیمہ گاہ — جاری] 4 یہ رات کے اندھیرے، یہ صحرا، اب آ بھی جاؤ جنگل میں ہم غریب ہیں تنہا، اب آ بھی جاؤ بیٹھی بلک رہی ہے سکینہؑ، اب آ بھی جاؤ کیا آج رات دو گے نہ پہرا، اب آ بھی جاؤ کہتے تھے ہر بلا سے مجھے تم بچاؤ گے کیا قید ہو کے جاؤں گی، اس وقت آؤ گے [ماخذ: شبیرؑ جبکہ رن سے چلے سوئے خیمہ گاہ] حضرت امام شافعیؒ کفانی فی فضل مولانا علیؑ وقوع الشک فیہ انہ اللہ ومات الشافعی و لیس یدری علی ربہ ام ربہ اللہ لکھا ہے جب کوئی حامی نہ شاہِ دیں کا رہا 1 لکھا ہے جب کوئی حامی نہ شاہِ دیں کا رہا اور آپ ظلم کی فوجوں میں رہ گئے تنہا ہجومِ یاس نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو ناگہاں درِ خیمے سے آئی رن میں صدا خبر لو جلد شہِ کربلا، زبانی ہے تمہارے بچے کو جھولے میں نیزہ آئی ہے 2 یہ سن کے خیمے کی جانب گئے امامِ ہدیٰ قریب جھولے کے پہنچے تو رو کے فرمایا معاف کیجیو کس پدر کو اے بیٹا کہ ایک پانی کا قطرہ تمہیں پلا نہ سکا خدا گواہ بہت تم سے شرمسار ہوں میں یقین کرو علی اصغرؑ کہ بے قرار ہوں میں 3 یہ کہہ کے روئے بہت اور پسر کو پیار کیا اٹھایا جھولے سے حضرت نے اپنا ماہ لقا پلک پڑے تھے جو چہرے پہ اشکِ شاہِ ہدیٰ وہ سمجھا پانی ہے، بچے نے منہ کو کھول دیا تری جو اشکوں کی پانی تو مسکرانے لگا زبانِ خشک کو ہونٹوں پہ وہ پھرانے لگا

188

[Likha hai jab koi hami na Shah-e-din ka raha — jari] 4 Kaha Husain ne pani tumhein pila laun main Chalun Nana ki ummat ke pas le jaun main Sitamgaron ko ye halat tumhari dikhlaun main Saghir jaan ke shayad taras dilaun main Dahan ko khol ke sukhi zaban dikhla dena Ke tin roz se pyasa hun ye jata dena 5 Gharz wida kiya aur Shah-e-Anam chale Sitamgaron ki taraf Shah-e-tishna-kam chale Pisar ko hathon pe rakhte hue Imam chale Qadam qadam pe udhar maut ke payam chale Tamam pyason mein pyara jo shamil tha pisar Husain doshala se saya kiye the Asghar par 6 Bhare se fauj ke nagah Hurmala nikla Kaman-e-dosh se chhote se tir le ke chala Gulu-e-lakht-e-dil-e-Shah bala ka tha nishan Kaman mein tir ko jora shaqi ne aur kaha Husain ab wo pilata hun aap Sarwar ko Ke ta-ba-hashr lagegi na pyas kamsin ko 7 Ye keh ke tir ko chhora, udhar ye hal hua Ke halq chhid gaya, masum khun mein lal hua Dahan se khun ugalne laga, nidhal hua Ek aah halki si ki aur intiqal hua Pidar ne pas se thami si jaan ko dekha Kabhi zamin ko, kabhi asman ko dekha Shuruaat Balgrami Qaid-khane mein Sakina ehtijaj karegi Ab zamin khul jayegi, zindagi rah ho jayegi
[لکھا ہے جب کوئی حامی نہ شاہِ دیں کا رہا — جاری] 4 کہا حسینؑ نے پانی تمہیں پلا لائیں چلو گے نانا کی امت کے پاس لے جائیں ستم گروں کو یہ حالت تمہاری دکھلائیں صغیر جان کے شاید وہ رحم کھائیں دہن کو کھول کے سوکھی زبان دکھا دینا کہ تین روز سے پیاسا ہوں، یہ جتا دینا 5 غرض وداع کیا اور شہِ امام چلے ستمگروں کی طرف شاہِ تشنہ کام چلے پسر کو ہاتھوں پہ رکھے ہوئے امام چلے قدم قدم پہ ادھر موت کے پیام چلے تمام پیاسوں میں پیارا جو تھا یہ پسر حسینؑ ڈھال سے سایہ کئے تھے اصغر پر 6 خیمے سے فوج کے ناگاہ حرملہ نکلا کمان دوش سے، چلے سے تیر لے کے چلا [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] حسینؑ! اب وہ بتاتا ہوں آپ سرورؑ ان کو کہ تا بہ حشر لگے گی نہ پیاس کس کو 7 یہ کہہ کے تیر کو جوڑا، ادھر یہ حال ہوا کہ حلق چھد گیا، معصوم خون میں لال ہوا دہن سے خون اگلنے لگا، نڈھال ہوا اک آہ ماں کی، اور انتقال ہوا پدر نے پیاس سے تسلی جان کو دیکھا کبھی زمیں کو، کبھی آسماں کو دیکھا سید ہاشم رضا [دو اشعار جزوی طور پر غیر واضح] ڈاکٹر کربلائی پسرِ شہِ والا کا [غیر واضح] کر دیا جائے سب چاک گریباں ہوں، ماتم بھی کیا جائے شہرت بلگرامی قید خانہ میں سکینہؑ کا انتقال ہوگیا اب ترے قتل خانہ کی زینت رہا ہوجائے گی

189

Momino be-kas-o-be-yar hai Mazlum Husain 1 Momino be-kas-o-be-yar hai Mazlum Husain Takht-e-afat mein giraftar hai Mazlum Husain Dil-shikasta, jigar-afgar hai Mazlum Husain Kya sar-e-asr-e-lachar hai Mazlum Husain Tir kari hain lage zakhmon pe shamshiron ke Nezon ke zakhmon mein paiwast hain phal tiron ke 2 Kya wahi hai ke gussa nahin aata hai zara Kya karega ke sabr karte hain ummat pe fida Kya mahal hai ke har zakhm pe hai shukr-e-Khuda Kya shujaat hai ke lakhon mein khare hain tanha Tir bhi tir se bhi sine pe liye jate hain Par dua Nana ki ummat ko diye jate hain 3 Yun to yaan ek se ek zulm hua hai barpa Tin sadmon mein magar zabt ka yara na raha Ek jawan us ka bhatija tha Hasan ka beta Shab ko wo dulha bana, subh shahidon mein mila Us ke marne ki khabar bibiyon ne jab pai thi Man dahan ko liye sar nange nikal aai thi 4 Dusra gham hai ye ek bhai tha us ka Safdar Jab se wo mar gaya sidhi nahin hoti hai kamar Ab bhi rota hai use haye baradar keh kar Be-kafan lash wo us ki hai pari darya par Abhi wo lash ajab dard se tharai thi Larki ek haye chacha keh ke jo chillai thi 5 Tisra hadisa main kya kahun, bahut hai jigar Us ka ek beta tha atharah baras ka Akbar Barchhiyon se abhi mara gaya wo rashk-e-qamar Haif se dafn hui raat ko jis ki madar Gham agar main use kya kyun na roun kar dekha Chashm-e-aflak ne Zainab ko khule sar dekha
مومنو بے کس و بے یار ہے مظلوم حسینؑ 1 مومنو بے کس و بے یار ہے مظلوم حسینؑ تختِ آفت میں گرفتار ہے مظلوم حسینؑ داخلِ خیمہ جگر افگار ہے مظلوم حسینؑ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تیرِ کاری ہیں لگے زخموں پہ شمشیروں کے نیزوں کے زخموں میں پیوست ہیں پھل تیروں کے 2 دوسرا غم ہے یہ، اک بھائی تھا اس کا صفدر جب سے وہ مر گیا سیدھی نہیں ہوتی ہے کمر اب بھی روتا ہے اسے ہائے برادر کہہ کر بے کفن لاش وہ اس کی ہے پڑی دریا پر ابھی وہ لاش عجب درد سے تھرائی تھی لڑکی اک ہائے چچا کہہ کے جو چلائی تھی 3 کیا رحیمی ہے کہ غصہ نہیں آتا ہے ذرا کیا کریمی ہے کہ سر کرتے ہیں امت پہ فدا کیا تحمل ہے کہ ہر زخم پہ ہے شکر خدا کیا شجاعت ہے کہ لاکھوں میں کھڑے ہیں تنہا تیر بھی، نیزے بھی سینے پہ لئے جاتے ہیں پر دعا نانا کی امت کو دیئے جاتے ہیں 4 تیرا حادثہ میں کیا کہوں، پڑھتا ہے جگر اس کا اک بیٹا تھا اٹھارہ برس کا اکبر برچھیوں سے ابھی مارا گیا وہ رشکِ قمر حیف سے دفن ہوئی راحت کو جس کی مادر غمِ اکبر میں اسے کیا کہوں، کیوں کر دیکھا چشمِ افلاک نے زینبؑ کو کھلے سر دیکھا 5 یوں تو یاں ایک سے اک ظلم ہوا تھا پہ ہوا تین صدموں میں مگر ضبط کا یارا نہ رہا اک جوان اس کا بھتیجا تھا حسنؑ کا بیٹا شب کو وہ دولہا بنا، صبح شہیدوں میں ملا اس کے مرنے کی خبر بیوؤں نے جب پائی تھی ماں دہن کو لئے سر ننگے نکل آئی تھی [ماخذ: مومنو بے کس و بے یار ہے مظلوم حسینؑ / میر انیس]

190

Reti pe barchhi khaye para tha jo nur-e-ain 1 Reti pe barchhi khaye para tha jo nur-e-ain Baithe the dil ko pakre hue Shah-e-mashriqain Nagah ek kaniz pukari ba-shor-o-shain Dam torta hai pyas se be-shir, ya Husain Lillah jald khaime mein tashrif laiye Bazu ka lal rooth gaya hai, manaiye 2 Baghal par gaya ke Asghar-e-be-shir alwida Ay nur-e-ain, Hazrat-e-be-shir alwida Man al-firaq kehti thi, hamshir alwida Qismat pukari ay har do sher alwida Aal-e-Nabi ko hijr ke sadme bare hue Bachche bhi shor-o-shain ke qarib aa khare hue 3 Abbas ke pisar ne pukara zubani Mere chacha Husain ka pyara dulara hai Jata hai Shah ka raj-dulara, dahai hai Aqa pichhor raha hai hamara, dahai hai Kehta hai dil ke sath chalo, tir khaiyo Baba ye keh gaye the ke chacha sambhaliyo 4 Man boli aisi fal nahin sab pe late hain Wari na yun kaho, mujhe waswase aate hain Aqa tumhare pyas bujhane ko jate hain Bachchon pe to jahan mein sabhi rahm khate hain Kyun kar kahun ke un pe shaqi hath uthayenge Masum jaan kar bhi na pani pilayenge 5 Asghar ko le ke dasht mein aaye Shah-e-Huda Bachche ka munh dikha ke ye faujon ko di nida Ye be-zaban rahm ke qabil nahin hai kya Do din se is kali ko bhi pani nahin mila Bachche pe dhal hai, ise thora sa aab do Surat sawab hai, ise thora sa aab do 6 Zalim ne Hurmala se ishara mein kuchh kaha Hansta hua wo shum kamin-gah ko chala Bachche ko le ke pichhe hate Shah-e-Karbala Nagah zamin kanp gayi, asman hila Waan tir-e-gham laga ke wo saffak hat gaya Yaan hathon pe bachcha ulat gaya
ریتی پہ برچھی کھائے پڑا تھا جو نورِ عین 1 ریتی پہ برچھی کھائے پڑا تھا جو نورِ عین بیٹھے تھے دل کو پکڑے ہوئے شاہِ مشرقین ناگاہ اک کنیز پکاری بہ شور و شین دم توڑتا ہے پیاس سے بے شیر یا حسینؑ للّٰہ جلد خیمے میں تشریف لائیے بانو کا لال روٹھ گیا ہے، منائیے 2 ماں بولی ایسی فال نہیں لب پہ لاتے ہیں واری نہ ہوں، کیوں مجھے وسواس آتے ہیں آقا تمہارے پیاس بجھانے کو جاتے ہیں بچوں پہ تو جہاں میں بھی رحم کھاتے ہیں کیوں کر کہوں کہ ان پہ شقی ہاتھ اٹھائیں گے معصوم جان کر بھی نہ پانی پلائیں گے 3 غل پڑ گیا کہ اصغرِ بے شیر الوداع اے نورِ عین حضرتِ شبیر الوداع ماں اضطراب کہتی تھی ہائے الوداع قسمت پکاری اے پدرِ پیر الوداع آئی بچی کو حجر کے صدمے بڑے ہوئے بچے بھی شور و شین کے قریب آ کھڑے ہوئے 4 اصغرؑ نے رو کے دشت میں آئے شہِ ہدیٰ بچے کا منہ دکھا کے یہ فوجوں کو دی ندا بے زبانِ رحم کے قابل نہیں ہے کیا دو دن سے اس کلی کو بھی پانی نہیں ملا بچہ نڈھال ہے، اسے تھوڑا سا آب دو صورتِ سوال ہے، اسے تھوڑا سا آب دو 5 عباس کے پسر نے پکارا دہائی ہے مرنے چلا حسینؑ کا پیارا، دہائی ہے جاتا ہے ششماہ کا راج دلارا، دہائی ہے آقا بچھڑ رہا ہے ہمارا، دہائی ہے کہتا ہے دل کہ ساتھ چلو، تیر کھائیو بابا یہ کہہ گئے تھے کہ جھولا جھلائیو 6 ظالم نے حملے سے اشاروں میں کچھ کہا ہنستا ہوا وہ شوم کمیں گاہ کو چلا بچے کو لے کے پیچھے ہٹے شاہِ کربلا ناگہ زمیں کانپ گئی، آسماں ہلا واں تیرِ غم لگا کہ وہ سفاک ہٹ گیا یاں ہاتھوں پہ [غیر واضح] یہ بچہ الٹ گیا

191

[Reti pe barchhi khaye para tha jo nur-e-ain — jari] 7 Bazu chhida Husain ka, be-shir ka gala Ek aah bhar ke rah gaye Mazlum-e-Karbala Bete ki samt dekh ke bole ke main fida Lo meri jaan, pyas bhi khulq tar hua [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Gahware se Husain jo Asghar ko le chale 1 Gahware se Husain jo Asghar ko le chale Hathon pe rakh ke fidwa-e-Dawar ko le chale Bahon mein Sham ke mah-e-anwar ko le chale [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Farigh abhi nahin hui Akbar ke dagh se Kuchh roshni hai ghar mein mere is chiragh se 2 Bazu ke is bayan se ghabraye Shah-e-din Aakhir qarib fauj ke aaye Shah-e-din Bachche ko rakh ke hathon pe chillaye Shah-e-din Yaro samajh lo jo samjhaye Shah-e-din Mujh ko to khayal chahiye kis ki jaan ka Talwar kya qasur hai is be-zaban ka 3 Ye sun ke Hurmala ne uthaya kaman ko Tanka khata Shabbir ne masum si jaan ko [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Chillai maut, haye na khincho kaman ko Bachche ne tham ke hathon ye jaan di [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh]
[ریتی پہ برچھی کھائے پڑا تھا جو نورِ عین — جاری] 7 بازو چھدا حسینؑ کا، بے شیر کا گلا اک آہ بھر کے رہ گئے مظلومِ کربلا بچے کی سمت دیکھ کے بولے کہ میں فدا لو میری جان، پیاس بھی حلق تر ہوا چونکو تو تیر کھینچ لیں ہم منہ پہ پھیر کے اے لال اف نہ کیجیو، لوٹے ہو شیر کے [ماخذ: ریتی پہ برچھی کھائے پڑا تھا جو نورِ عین / تسلیم امروہوی] گہوارے سے حسینؑ جو اصغر کو لے چلے 1 گہوارے سے حسینؑ جو اصغرؑ کو لے چلے ہاتھوں پہ رکھ کے فدیۂ داور کو لے چلے بادل میں شام کے مہِ انور کو لے چلے خالی ماں، کہاں مرے دلبر کو لے چلے فارغ ابھی نہیں ہوئی اکبر کے داغ سے کچھ روشنی ہے گھر میں مرے اس چراغ سے 2 بانو کے اس بیان سے گھبرائے شاہِ دیں آخر قریبِ فوج کے لے آئے شاہِ دیں بچے کو رکھ کے ہاتھوں پہ چلائے شاہِ دیں یا رب سمجھ لو جو تمہیں سمجھائے شاہِ دیں کچھ تو خیال چاہے کسی کی جان کا بتلاؤ کیا قصور ہے اس بے زبان کا 3 یہ سن کے حرملہ نے اٹھایا کمان کو تاکا خطا شعار نے ننھی سی جان کو مارا خدنگ شاہ کے ابرو کمان کو ہے ہے، ملا بازو کے نام و نشان کو پائی موت ہائے، نہ پہنچا کو اماں دی بچے نے ہم ہم کے ہاتھوں پہ جان دی [اس صفحے پر ایصالِ ثواب و ادارہ جاتی متن بھی درج ہے]

192

[Gahware se Husain jo Asghar ko le chale — jari] 4 Shah ne suye Shimr zaban se na kuchh kaha Chand apna zer-e-khak chhupaya baad-e-buka Turbat se uth ke aap ne khaime ka rukh kiya Lekin qadam na aage ko uthte the mutlaqa Kehte the kya kahunga jo bachche ko man legi Bazu zarur nishani wale ko le gi 5 Pahunche gharz ke ta dar-e-khaima ba-hal-e-zar Aai jo Banu dekh ke Shah ko ba-dard bar bar Gardan jhuka ke kehne lage Shah-e-namdar Lo Sher-e-Banu, qismat ka bhi mazar Taswur par gaya hai dil-e-dardnak mein Bazu ye teri kali khili aaj khak mein Pahunche jo qatl-gah mein Shah-e-falak-janab 1 Pahunche jo qatl-gah mein Shah-e-falak-janab Lalkar kar sipah-e-ahl-e-jafa se kiya khitab Pani ka mangta nahin ab Ibn-e-Bu-Turab [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Deta hai jo samjho kisi se sawal hai Manzur be-zaban ka bas izhar-e-hal hai 2 Do ek qadam ki jo na ho taklif nagawar Ankhon se apni dekh lo ahwal-e-shir-khwar Aage barhe jo un mein the dana wo hoshiyar Chadar ulat di Shah ne chehre se ek bar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Bujhte hue chiragh ki lau par nazar pari 3 Bole Husain, dekh chuke? Wo pukare han Farmaya phir husainiyat, Islam hai kahan Hum kis ke mehman hain, ye kis ke mehman Talib nahin surahi-o-sagar ke be-zaban Mashhur un ke ghar ki qanaat hai khalq mein Do char qatre pani ke manga do halq mein
[گہوارے سے حسینؑ جو اصغر کو لے چلے — جاری] 4 بچے نے سوئے شمر زباں سے نہ کچھ کہا چاند اپنا زیرِ خاک چھپایا بعدِ بکا غربت سے اٹھ کے آپ نے خیمے کا رخ کیا لیکن قدم نہ آگے کو اٹھتے تھے مطلقا کہتے تھے کیا کہوں گا جو بچے کو ماں لگے گی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 پہنچے غرض کہ تا درِ خیمہ بحالِ زار آئی جو بانو، دیکھ کے شرمائے بار بار گردن جھکا کے کہنے لگے شاہِ نامدار لو شیر بانو، بن گیا اصغر کا بھی مزار ناسور پڑ گیا ہے دلِ دردناک میں بازو تری کمائی چلی آج خاک میں اعجاز رحمانی [چار اشعار جزوی طور پر غیر واضح] پہنچے جو قتل گاہ میں شاہِ فلک جناب 1 پہنچے جو قتل گاہ میں شاہِ فلک جناب للکار کر سپہِ اہلِ جفا سے کیا خطاب پانی کا مانگتی نہیں اب ابنِ بوتراب استغفراللہ، آلِ نبیؐ اور سوالِ آب رہتا ہے جو سخنوں کو اسی سے سوال ہے منظور بے زبانی کا بس اظہارِ حال ہے 2 دو اک قدم کی جو نہ ہو تکلیف ناگوار آنکھوں سے اپنی دیکھ لو احوالِ شیر خوار آگے بڑھے جو آن میں تھے دانا وہ ہوشیار چادر الٹ دی شاہ نے چہرے سے ایک بار [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 3 بولے حسینؑ: دیکھ چکے؟ وہ پکارے ہاں فرمایا پھر محبتِ اسلام ہے کہاں ہم کس کے مہماں ہیں، یہ کس کے ہیں مہماں طالب نہیں [غیر واضح] و ساغر کے بے زباں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] دو چار قطرے پانی کے [غیر واضح] حلق میں

193

[Pahunche jo qatl-gah mein Shah-e-falak-janab — jari] 4 Itrat ne bhi yaad dilaya, ye pani gaye se ab Tar ho gayi hai zaban aur lab se lab Puri ye bat keh na chuke the Shah-e-Arab Nakhne lage pe tir laga aa ke be-ghazab Fawwara-e-khun ka zakhm se gardan ke beh gaya Chalta piya tha doodh, lahu ban ke beh gaya 5 Gir ke ye paon nanhe ke angur-e-gul pare Munh se, ankhon se ansu nikal pare [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Shah bole qadar barh gayi mujh dil-malon ki Nazr-e-Husain aap Khuda ne qabuli ki Banu pichhle par Asghar ke liye roti hai 1 Bazu pichhle par Asghar ke liye roti hai Ek wo jati hai, khalq-e-Khuda soti hai Sar ko bhi pit-ti hai, jaan ko bhi khoti hai Ye ajab gham hai ke taskin nahin hoti hai Pite pite be-hosh jo ho jati hai Ali Asghar, Ali Asghar ki sada aati hai 2 Kabhi kone mein wo munh dhanp ke chillati hai Aur kabhi sahn mein ghabra ke nikal aati hai Kochh pakre hue har ek taraf jati hai Dhundhti hai magar Asghar ko nahin pati hai Kis ko awaz de, jise [lafz ghair wazeh] Dil tarapta hai, Khuda, sine mein hai dard juda 3 Kabhi kehti hai ke ghar mein mere andhiyara hai Ali Asghar ki judai ne mujhe mara hai Haye main ghar mein hun, jangal mein mera pyara hai Mehrbani jo kare maut to chhutkara hai Ab talak raton ko hum nala-o-faryad karein Ya Ilahi, Ali Asghar mujhe ab yaad karein
[پہنچے جو قتل گاہ میں شاہِ فلک جناب — جاری] 4 اتنے بھی یاد آتے رہے پانی گلے سے اب تالو سے لگی ہے زبان اور لب سے لب پوری یہ بات کہہ نہ چکے تھے شہِ عرب تھے گلے پہ تیر لگا، آگے ہے غضب فوارۂ خون کا زخم سے گردن کے بہہ گیا جتنا پیا تھا دودھ، لبوں کے بہہ گیا 5 [ابتدائی مصرع جزوی طور پر غیر واضح] منہ سے انگوٹھے، آنکھ سے آنسو نکل پڑے ہو ہو کے ڈھیلے جوشِ بازو نکل پڑے حیدرِ جاں سے کھول کے گیسو نکل پڑے شہ بولے قدر بڑھی مجھ دلِ ملول کی نذرِ حسینؑ آپ خدا نے قبول کی [ماخذ: پہنچے جو قتل گاہ میں شاہِ فلک جناب] بانو جھولے پر اصغر کے لئے روتی ہے 1 بانو جھولے پر اصغر کے لئے روتی ہے ایک وہ جاتی ہے، خلقِ خدا سوتی ہے سر کو بھی پیٹی ہے، جاں کو بھی کھوتی ہے یہ عجب غم ہے کہ تسکین نہیں ہوتی ہے پیٹے پیٹے بے ہوش جو ہو جاتی ہے علی اصغرؑ، علی اصغرؑ کی صدا آتی ہے 2 کبھی کونے میں وہ [غیر واضح] کے چلاتی ہے اور کبھی صحن میں گھبرا کے نکل آتی ہے لوٹ پکڑے ہوئے ہر ایک طرف جاتی ہے ڈھونڈتی ہے مگر اصغر کو نہیں پاتی ہے [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 3 کبھی کہتی ہے کہ گھر میں مرے اندھیرا ہے علی اصغرؑ کی جدائی نے مجھے مارا ہے ہائے میں گھر میں ہوں، جنگل میں مرا پیارا ہے مہربانی جو کرے موت تو چھٹکارا ہے اب تلک راتوں کو ہم ناز و فریاد کریں یا الٰہی علی اصغرؑ مجھے اب یاد کریں [اس صفحے پر راجہ محمود آباد کا ایک نثری اقتباس بھی درج ہے]

194

[Banu pichhle par Asghar ke liye roti hai — jari] 4 God chhila ke bhi kehti hai, dilbar aaja Ruh be-chain hai, aaja Ali Asghar aaja Dil tarapta hai mera, god ke andar aaja Fatima ke liye aaja, mere Haider aaja Bund pani ke liye haye teri jaan gayi Aa main sadqe gayi, wari gayi, qurban gayi 5 Khalq sab soti hai raton ko gharon mein apne Hum agar lete hain karwat to qasam lo hum se Nind aati mujhe, pahlu mein agar tum hote Tum to ay lakht-e-jigar god mein marqad ki gaye Yaad is palne wali ki bhulai tum ne Yaqini bap ki ay lal bhulai tum ne Imam-e-Pak ko jab ashqiya ne gher liya 1 Imam-e-Pak ko jab ashqiya ne gher liya Musafiron ko sipah-e-jafa ne gher liya Nabi ke lal ko fauj-e-dagha ne gher liya Ali ke chand ko kali ghata ne gher liya Sitam shuru hue, subh ka jawab mila Ghazab hai saton tarikh se na aab mila 2 Wo qatl-e-aab, wo Sadat par hujum-e-alam Nabi ki Aal mein wo shor-e-al-atash baham Wo fikr-o-yas, wo andoh, wo Imam-e-Umam Wo Shah ko shauq-e-ibadat, wo zulm-e-fauj-e-sitam Mana na chain unhein ta Imam sahib-e-asr Bas ek raat ki muhlat mili musafir ko 3 Aziz-o-yawar-o-nasir jo chand the hamrah Sab ko jama kiya Shah ne gham mein ek jagah Zuhair, Qain-o-Burair-o-Habib aur agah Janab-e-Akbar-o-Abbas-o-Qasim zi-jah Suye Imam jo sab yaar-o-aqraba aaye To uth ke baithe bimar-e-Karbala aaye
[بانو جھولے پر اصغر کے لئے روتی ہے — جاری] 4 گودِ جھولا کے کبھی کہتی ہے دلبر آجا روح بے چین ہے، آجا علی اصغرؑ آجا دل تڑپتا ہے مرا، گود کے اندر آجا فاطمہؑ کے لئے آجا، بچے حیدر آجا بوند پانی کے لئے ہائے تری جان گئی آہ میں صدمے گئی، واری گئی، قربان گئی 5 خلق سب سوتی ہے راتوں کو گھروں میں اپنے ہم اگر لیٹے ہوں، کروٹ تو غم کو ہم سے نیند آتی مجھے پہلو میں اگر تم ہوتے تم تو اے لختِ جگر گور میں مرقد کے گئے یاد اس پیاسے والی کی بھلائی تم نے یقیں بابا کی اے لال بھلائی تم نے [ماخذ: بانو جھولے پر اصغر کے لئے روتی ہے] [اس صفحے پر شاعر و سوزخواں ماجد رضا عابدی کا مختصر اقتباس بھی درج ہے] امام پاک کو جب اشقیا نے گھیر لیا 1 امام پاک کو جب اشقیا نے گھیر لیا مسافروں کو سپاہِ جفا نے گھیر لیا نبیؐ کے لال کو فوجِ دغا نے گھیر لیا علیؑ کے چاند کو کالی گھٹا نے گھیر لیا ستم شروع ہوئے، صبح کا جواب ملا غضب ہے، ساتویں تاریخ سے نہ آب ملا 2 وہ قحطِ آب، وہ سادات پر ہجومِ الم نبیؐ کی آل میں وہ شورِ العطش پیہم وہ فکر و یاس، وہ اندوہ، وہ امامِ امم وہ تشنہ کوش عبادت، وہ ظلمِ فوجِ ستم ملا نہ چین انہیں تک امامِ صابر کو بس ایک رات کی مہلت ملی مسافر کو 3 عزیز و یاور و ناصر جو چند تھے ہمراہ سبھوں کو جمع کیا شہ نے با غم و آہ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جنابِ اکبرؑ و عباسؑ و قاسمؑ ذی جاہ سوئے امام جو سب یار و اقربا آئے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

195

[Imam-e-Pak ko jab ashqiya ne gher liya — jari] 4 Jab aa ke baith gaye sab wo Zahid-o-Abrar Pukare Shah-e-Huda, ghair se nahin bedar Main us dar se jo falak se hun nachar Phire hain Aal-e-Habib-e-Khuda se zulm-shiar Ye sangdil na jawanon se munh ko morenge Kisi tarah ye sitamgar na mujh ko chhorenge 5 Main un ke shar se aman paun, ghair mumkin hai Watan mein aana pas, ghair mumkin hai Yahan se paon bhi [lafz ghair wazeh], ghair mumkin hai Main kal ko qatl se bach jaun, ghair mumkin hai Khuda se sabr-o-raza ka hai khwastgar Husain Bas ek raat ka mehman hai be-diyar Husain 6 Laga main kis ki ranj-o-alam ko rehne do Faqat musafir-e-rah-e-adam ko rehne do Tum rasida-o-paye-kar ko rehne do Na tum raho, na Ali ke Haram ko rehne do Hamare baad ye nachar dar-badar na phirein Rasulzadiyan Kufe mein nange sar na phirein Kitab mein hai shab-e-Ashur ka ye hal likha 1 Kitab mein hai shab-e-Ashur ka ye hal likha Haram-sara mein the Imam-e-Huda Kabhi tha shugh-e-tilawat, kabhi ye Haq se dua Ilahi sabr ki taqat ho mere dil ko ata Ilahi Ahmad-e-Mursal se surkh-ru rakhna Is imtihan mein pyase ki aabru rakhna 2 Ilahi duaon mein guzri jo raat ek pahar To aaye khaima-e-Ansar-e-Pak par Sarwar Shigaf-e-dar se ye dekha ke jama hain Safdar Habib kehte hain ye [lafz ghair wazeh] Ali ke doston, kal roz-e-razm-kari hai Nabi ki Aal pe ye waqt jaan-nisari hai 3 Ye hal dekh ke shukr-e-Khuda bajalaye Bahaduron ki tamanna pe tir-e-gham khaye [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Bahen ka pyar jo dekha to gham se tharraye Khud apne pyaron ko rukhsat-e-gham pinaya hai Abhi se rozan gulon ko kafan pinaya hai
[امام پاک کو جب اشقیا نے گھیر لیا — جاری] 4 جب آ کے بیٹھ گئے سب وہ زاہد و ابرار پکارے شاہِ ہدیٰ، غور سے سنیں دیندار میں اس دیار سے جو [غیر واضح] ہوں ناچار پھر رہے ہیں آلِ حبیبِ خدا سے ظلم شعار یہ سنگدل نہ جانوں سے منہ کو موڑیں گے کسی طرح یہ ستمگر نہ مجھ کو چھوڑیں گے 5 میں ان کے شر سے اماں پاؤں غیر ممکن ہے وطن میں آ کے پہنچاؤں غیر ممکن ہے یہاں سے پاؤں بھی [غیر واضح] غیر ممکن ہے میں کل کو قتل سے بچ جاؤں غیر ممکن ہے خدا سے صبر و رضا کا ہے خواستگار حسینؑ بس ایک رات کا مہماں ہے بے دیار حسینؑ 6 [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] فقط مسافرِ راہِ عدم کو رہنے دو ستم رسیدہ و پابندِ غم کو رہنے دو نہ تم رہو، نہ علیؑ کے حرم کو رہنے دو ہمارے بعد یہ ناچار در بدر نہ پھریں رسول زادیاں کوفے میں ننگے سر نہ پھریں [ماخذ: امام پاک کو جب اشقیا نے گھیر لیا / نسیم امروہوی] کتب میں ہے شبِ عاشور کا یہ حال لکھا 1 کتب میں ہے شبِ عاشور کا یہ حال لکھا حرم سرا میں خطبے پہ تھے امامِ ہدیٰ کبھی تھا شغلِ تلاوت، کبھی یہ حق سے دعا الٰہی صبر کی طاقت ہو میرے دل کو عطا الٰہی احمدِ مرسلؐ سے سرخ رو رکھنا اس امتحان میں پیاسے کی آبرو رکھنا 2 الٰہی دعاؤں میں گزری جو رات ایک پہر تو آئے خیمۂ انصارِ پاک پر سرور شگافِ در سے یہ دیکھا کہ جمع ہیں صفدر حبیب کہتے ہیں یہ تیغ میں کھڑے ہو کر علیؑ کے دوستو کل روزِ رستگاری ہے نبیؐ کی آل پہ یہ وقتِ جاں نثاری ہے 3 یہ حال دیکھ کے شکرِ خدا بجا لائے بہادروں کی تمنا پہ تیرِ غم کھائے دلوں سے خیمۂ شبیرؑ کی طرف آئے بہن کا پیار جو دیکھا تو غم سے تھرائے خود اپنے پیاروں کو رخصت بہن بنایا ہے ابھی سے دونوں گلوں کو کفن پہنایا ہے

196

[Kitab mein hai shab-e-Ashur ka ye hal likha — jari] 4 Ye keh rahi hain ke nusrat mein jad-o-jahd karna Main wari, pyari, Saif-e-Safdar karna Kari utha ke apni kali ko [lafz ghair wazeh] Bahaduro, mere man-jaye ki madad karna Wo kya ghulam jise ulfat-e-Imam nahin Jo ran mein kam na aaye to man se kam nahin 5 Jo kam aaoge tum to dua mein dun gi Jo phir ke aaye to surat bhi na dekhun gi Tamam umr kabhi tum se main na bolun gi Qasam se kehti hun, hargiz na doodh bakhshun gi Main shad hun gi jo barbaad kar ke aaoge Jo man ko chahte ho tum to mar ke aaoge 6 Bahen ki chah pe ro kar barhe Shah-e-zijahan Ye dar se parda-e-Shabbir ka hal dekha aah Ke donon pahluon mein hain Hasan ke nur-e-nigah Idhar hain Qasim, udhar hain Abdullah Ye keh rahi hain ke beta ghar gaye hain afat mein Main wari, jaan larana chacha ki nusrat mein 7 Main sadqe tum pe, bara Haq-shinas wala hai Hasan ke baad unhi ne to ghar sambhala hai Kabhi na mujh ko, na tum ko alam mein dala hai Pidar ki tarah bari shafqaton se pala hai Chacha ke paon pe sadaqon ka khun bah jaye [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh]
[کتب میں ہے شبِ عاشور کا یہ حال لکھا — جاری] 4 یہ کہہ رہی ہیں کہ نصرت میں جد و کد کرنا میں واری، پیرویِ ضیغمِ صفدر کرنا کری اٹھا کے اپنی کی بلا کو رد کرنا بہادرو، مرے ماں جائے کی مدد کرنا وہ کیا غلام جسے الفتِ امام نہیں جو رن میں کام نہ آئے تو ماں سے کام نہیں 5 جو کام آؤ گے تم تو دعائیں میں دوں گی جو پھر کے آئے تو صورت بھی نہ دیکھوں گی تمام عمر کبھی تم سے میں نہ بولوں گی قسم سے کہتی ہوں ہرگز نہ دودھ بخشوں گی میں شاہ ہوں گی جو برباد کر کے آؤ گے جو ماں کو چاہنے ہو تم تو مر کے آؤ گے 6 بہن کی چاہ پہ رو کر بڑھے شہِ ذی جاہ یہ در سے پیادہ شبیر کا حال دیکھا آہ کہ دونوں پہلوؤں میں ہیں حسنؑ کے نورِ نگاہ ادھر ہیں قاسمؑ مظفر، ادھر ہیں عبداللہ یہ کہہ رہے ہیں کہ [غیر واضح] گھر گئے ہیں آفت میں میں واری جان لڑانا چچا کی نصرت میں 7 میں صدقے تم پہ، بڑا حقِ شاہِ والا ہے حسنؑ کے بعد انہی نے تو گھر سنبھالا ہے کبھی نہ مجھ کو نہ تم کو الم میں ڈالا ہے پدر کی طرح بڑی شفقتوں سے پالا ہے چچا کے پاؤں پہ دونوں کا خون بہہ جائے الٰہی کل زینبؑ زندہ کی بات رہ جائے [ماخذ: کتب میں ہے شبِ عاشور کا یہ حال لکھا / نسیم امروہوی] [صفحے کے نچلے حصے میں ایصالِ ثواب کے اسماء درج ہیں]

197

Likha hai jab shab-e-Ashur guzri ek pahar 1 Likha hai jab shab-e-Ashur guzri ek pahar Husain aaye suye khaima Ali Akbar Shigaf-e-dar se ye dekha ke wo mah-e-anwar Furugh-e-husn se dulha bana hai bistar par Habib pas se man bar bar dekhti hai Utha ke shama, rukh-e-gulzar dekhti hai 2 Ye dekhte hi kaleja pe tir-e-gham khaye Khuda ye sa'at-e-Sham ko bhi na dikhaye Wahan se khaima-e-Abbas ki taraf aaye Jari ki chah pe khud alam se tharraye Kabhi Husain ke sadme se aah bharte hain Kabhi khiyam ko [lafz ghair wazeh] karte hain 3 Jari ke samne Kulsum jaan khoti hain Kisi khayal mein ankhon se nahr ko dhoti hain Rida ko ankhon se dam-ba-dam bhigoti hain Qarib baithi hui zar zar roti hain Wo ranj-o-gham hai ke halat tabah karti hain Falak ko dekh ke har bar aah karti hain 4 Wo keh rahe hain ke khahar, ye marne ka [lafz ghair wazeh] Hazrat apni taraf se mujhe fida kijiye Nasib ka na falak se koi gila kijiye Pisar samajh ke mujhe Haq ada kijiye Sibt-e-Rasul Imam hain Abbas Har ek aziz ka un ke ghulam hain Abbas 5 Bahen ki shan pe ro kar nishan abr-e-bahar Husain walon se chale suye khaima-e-bimar Qarib ja ke pukare ke ay mere dildar Rasul-e-Pak ki masnad ke malik-o-mukhtar Utho ke meri shahadat qarib aa pahunche Gala katane ki sa'at qarib aa pahunche 6 Wo ro ke bole ke hai ye kya Baba Hamari zist mein Hazrat ye na ho Khuda Baba Mariz kyun na ho qurban, main fida Baba Qarib-e-marg hun, marne se khauf kya Baba Husain bole kahin wo bhi din ye chadhta hai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh]
لکھا ہے جب شبِ عاشور گزری ایک پہر 1 لکھا ہے جب شبِ عاشور گزری ایک پہر حسینؑ آئے سوئے خیمۂ علی اکبرؑ شگافِ در سے یہ دیکھا کہ وہ مہِ انور فروغِ حسن سے دولہا بنا ہے بستر پر عجیب یاس سے ماں بار بار دیکھتی ہے اٹھا کے شمع، رخِ گل عذار دیکھتی ہے 2 یہ دیکھتے ہی کلیجے پہ تیرِ غم کھائے خدا یہ سانحہ دشمن کو بھی نہ دکھلائے وہاں سے خیمۂ عباسؑ کی طرف آئے جری کی چاہ پہ فرطِ الم سے چلائے کبھی حسینؑ کے صدمے سے آہ بھرتے ہیں کبھی [غیر واضح] کو مقتل سے صاف کرتے ہیں 3 جری کے سامنے کلثومؑ جان کھوتی ہیں کسی خیال میں اشکوں سے منہ کو دھوتی ہیں ردا کو آنسوؤں سے دم بہ دم بھگوتی ہیں قریب بیٹھی ہوئی زار زار روتی ہیں وہ رنج و غم ہے کہ حالت تباہ کرتی ہیں فلک کو دیکھ کے ہر بار آہ کرتی ہیں 4 وہ کہہ رہے ہیں کہ خواہر یہ یوں بکا کیجئے حضور اپنی طرف سے مجھے فدا کیجئے نصیب کا نہ فلک سے کوئی گلہ کیجئے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سبطِ رسولِ امام ہے عباسؑ ہر ایک عزیز کا ان کے غلام ہے عباسؑ 5 بہن کی شان پہ رو کر نشانِ ابرِ بہار حسینؑ واں سے چلے سوئے خیمۂ بیمار قریب جا کے پکارے کہ اے مرے دلدار رسولِ پاک کی مسند کے مالک و مختار [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 6 وہ رو کے بولے کمر سے ہے یہ کیا بابا ہماری زیست میں حضرت یہ جفا بابا مرض کیوں نہ ہو قربان، میں فدا بابا قسم [غیر واضح] ہوں، مرنے سے خوف کیا بابا [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

198

[Likha hai jab shab-e-Ashur guzri ek pahar — jari] 7 Tumhein to kal se bara ranj-o-gham uthana hai Haram ke sath alam par alam uthana hai Sambhal sambhal ke har ek ja qadam uthana hai Jo hum se uth na saka wo sitam uthana hai Batao tauq-e-gulu tir kaun pahnayega Jo tum na hoge to zanjir kaun sahega 8 Jo beriyan samne aaye to sar jhuka lena Khushi se tauq-e-giran ko gale laga lena Jo taziyana bhi marein shaqi to kha lena Magar shariat-e-Islam ko bacha lena Bas Fatima ki hayat-e-dawam rah jaye Wo kijiye jo Muhammad ka naam rah jaye Kufe ko chala Qasid-e-Sughra jo watan se 1 Kufe ko chala Qasid-e-Sughra jo watan se Le rah-e-masafat ke bare ranj-o-mehn se Nagah guzar jab hua us zulm ke ban se [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Wahan dekha ke kuchh lashe bare khun mein tar hain Zakhmi hain badan aur tanon par nahin sar hain 2 Dil mein ye laga sochne wo Qasid-e-ghamkhwar Kufe hi ki janib to gaye the Shah-e-Abrar Aqa ki mere khair ho, achchhe nahin asar Haider ke gharane ke nishan sab hain namudar Kuchh un ko qarabat bhi Husain aur Hasan se Sadat ki khushbu chali aati hai badan se 3 Rota hua wo lashe Sarwar pe jo pahuncha Faryad ki hai hai mere Aqa, mere Aqa Kis tarah lainon ne tumhein gher ke mara Is tarah ke hain zakhm ke dekha nahin jata Kaise kamre the Rasul-e-Arabi ke Kis zulm se mara hai nawase ko Nabi ke
[لکھا ہے جب شبِ عاشور گزری ایک پہر — جاری] 7 تمہیں تو کل سے بڑا رنج و غم اٹھانا ہے حرم کے ساتھ الم پر الم اٹھانا ہے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جو ہم سے اٹھ نہ سکا وہ تم اٹھانا ہے بتاؤ طوقِ گلوگیر کون پہنے گا جو تم نہ ہوگے تو زنجیر کون پہنے گا 8 جو بیڑی سامنے آئے تو سر جھکا لینا خوشی سے طوقِ گراں کو گلے لگا لینا جو تازیانے بھی ماریں شقی تو کھا لینا مگر شریعتِ اسلام کو بچا لینا پسِ فنا بھی حیاتِ دوام رہ جائے وہ کیجیو کہ محمدؐ کا نام رہ جائے [ماخذ: لکھا ہے جب شب عاشور گزری ایک پہر / نسیم امروہوی] کوفہ کو چلا قاصدِ صغرا جو وطن سے 1 کوفہ کو چلا قاصدِ صغرا جو وطن سے طے راہِ مسافت کی بڑے رنج و محن سے ناگاہ گزر جب ہوا اس ظلم کے بن سے جس کاں میں ندا آئی شہِ کرب و محن سے واں دیکھا کہ کچھ لاشے بڑے خون میں تر ہیں زخمی ہیں بدن اور سروں پر نہیں سر ہیں 2 دل میں یہ لگا سوچنے وہ قاصدِ غم خوار کوفے ہی کی جانب تو گئے تھے شہِ ابرار آقا کی مرے خیر ہو، اچھے نہیں آثار حیدر کے گھرانے کے نشاں سب ہیں نمودار کچھ ان کو قرابت بھی حسینؑ اور حسنؑ سے سادات کی خوشبو چلی آتی ہے بدن سے 3 روتا ہوا وہ لاشِ سرور پر جو پہنچا فریاد تھی ہے ہے مرے آقا، مرے آقا کس طرح لعینوں نے تمہیں گھیر کے مارا اس طرح کے ہیں زخم کہ دیکھا نہیں جاتا کیسے گلہ لوگ تھے رسولِ عربیؐ کے کس ظلم سے مارا ہے نواسے کو نبیؐ کے

199

[Kufe ko chala Qasid-e-Sughra jo watan se — jari] 4 Kisi apne Nabi-zade ki kya izzat-o-tauqir Sar ta qadam khun mein bhari chand si taswir Kasrat se hain zakhm-e-tir-o-khanjar-o-shamshir Nezon pe to neza hai, pare tiron pe hain tir Ye gul-sa badan ghoron se pamal kiya hai Hai hai mere Aqa, tera kya hal kiya hai 5 Sughra ka ajab hal hai furqat mein tumhari Ye zof ki shiddat hai ke ghash rehta hai tari Jab ankh khuli ro ke ye nadan pukari Kya aai safar se mere Baba ki sawari Dam tan se nikal jayega us ranj-o-gham mein Kya janti, ab aayenge Shabbir watan mein 6 Phir pas se sar rakh diya lashe ke qadam par Nauha tha ke hai hai Asadullah ke dilbar Sughra jo tumhein puchhe to main kya kahun ja kar Us ko ye sunana ke ab aate hain Sarwar Ye keh dun ke sar tan se utara gaya Sughra Pardes mein Baba tera mara gaya Sughra Imtihan-gah mein pahunche jo Shah-e-jinn-o-bashar 1 Imtihan-gah mein pahunche jo Shah-e-jinn-o-bashar Zulm kya kya na hue Karb-o-bala mein aakar Aa gaya aakhri manzil pe shahadat ka safar Sab khun baha gaya, ab rah gaye tanha Sarwar Bap ke waste beti ka ariza laya Ek qasid sar-e-maqtal khat-e-Sughra laya 2 Khat mein likha tha ke bas ab jald hi bulwaein mujhe Yaad mein Babi Sakina ki na tarpayein mujhe Furqat-e-Asghar-e-nadan mein na rulwayein mujhe Baba jaan, bhai se keh dijiye ke wo le jayein mujhe Bap ka wali samajhta hai jo halat hogi Us ghari kaifiyat-e-zabt qiyamat hogi 3 Khat padha, sabr kiya, dil se lagaya khat ko Qabr-e-Asghar pe rakha, baithe, uthaya khat ko Lash-e-Akbar pe gaye, parh ke sunaya khat ko Ek pal bhi na nigahon se hataya khat ko Khat se Sughra ki jo taswir ubhar aati thi Zabt karne pe bhi ek aah nikal jati thi
[کوفہ کو چلا قاصدِ صغرا جو وطن سے — جاری] 4 کسی اپنے نبی زادے کی کیا عزت و توقیر سر تا قدم خون میں بھری چاند سی تصویر کثرت سے ہیں زخمِ تبر و خنجر و شمشیر نیزوں پہ تو نیزے ہیں پڑے، تیروں پہ ہیں تیر یہ گل سا بدن گھوڑوں سے پامال کیا ہے ہے ہے مرے آقا، ترا کیا حال کیا ہے 5 صغرا کا عجب حال ہے فرقت میں تمہاری یہ ضعف کی شدت ہے کہ غش رہتا ہے طاری جب آنکھ کھلی رو کے یہ نانی کو پکاری کیا آئی سفر سے مرے بابا کی سواری دم تن سے نکل جائے گا اس رنج و محن میں کیا جانئے کب آئیں گے شبیرؑ وطن میں 6 پھر یاس سے سر رکھ دیا لاشے کے قدم پر نوحہ تھا کہ ہے ہے اسد اللہ کے دلبر صغرا جو تمہیں پوچھے تو میں کیا ہوں جا کر اس کو یہ سنانا ہے کہ اب آتے ہیں سرور یہ کہہ دوں کہ سرِ تن سے اتارا گیا صغرا پردیس میں بابا ترا مارا گیا صغرا [ماخذ: کوفہ کو چلا قاصدِ صغرا جو وطن سے] امتحان گاہ میں پہنچے جو شہِ جن و بشر 1 امتحان گاہ میں پہنچے جو شہِ جن و بشر ظلم کیا کیا نہ سے کرب و بلا میں آ کر آ گیا آخری منزل پہ شہادت کا سفر سب کا خون بہہ گیا، اب رہ گئے تنہا سرور باپ کے واسطے بیٹی کا عریضہ لایا ایک قاصد سرِ مقتل خطِ صغرا لایا 2 خط میں لکھا تھا کہ بس اب جلدی بلوائیں مجھے یاد میں بابی سکینہ کی نہ تڑپائیں مجھے فرقتِ اصغرِ ناداں میں نہ رلوائیں مجھے بابا جان، بھائی سے کہہ دیں کہ وہ لے جائیں مجھے باپ کا دل ہی سمجھتا ہے جو حالت ہوگی اس گھڑی کیفیتِ ضبط قیامت ہوگی 3 خط پڑھا، صبر کیا، دل سے لگایا خط کو قبرِ اصغر پہ رکھا، بیٹھے، اٹھایا خط کو لاشِ اکبر پہ گئے، پڑھ کے سنایا خط کو ایک پل بھی نہ نگاہوں سے ہٹایا خط کو خط سے صغرا کی جو تصویر ابھر آتی تھی ضبط کرنے پہ بھی اک آہ نکل جاتی تھی

200

[Safha 200 se jari] 7 Aah bhar kar ye kiya Qasid-e-Sughra se kalam Shukr ye bhai, ke pahunchaya hamein ye paigham Meri bachchi ko ye ahwal bata dena tamam Ab ye Akhtar hain na Akbar, ye musibat ki hai sham Ab Sakina se bhi bichhrenge wo saat aai Hum pe ye aur qayamat pe qayamat aai Imtihan-gah mein pahunche jo Shah-e-jinn-o-bashar Taslim Ain Nasim (Bashukriya sozkhwan Syed Baqir Husain Rizvi) Guldasta (Jebi Basta) Baraye Sozkhwani Sarparast: Hazrat Shadan Dehlavi Paya gulha-e-aza ka ye Husaini guldasta Mil gaya Gulshan-e-Firdaus ka sidha rasta Sozkhwan sab hue musht-kash-e-Sibt-e-Jafar Sozkhwanon ko diya us ne ye jebi basta Abbas ko Husain jo darya pe ro chuke 1 Abbas ko Husain jo darya pe ro chuke Bhai se apne hath lab-e-nahr dho chuke Yan tak ke qatl Akbar-o-Asghar bhi ho chuke Jitne ye jo pale the wo mitti mein so chuke The nauhagar har ek tan-e-pash-pash par Qasim ki lash par kabhi Asghar ki lash par 2 Lashkar mein tha ye ghul ke dilawar ko mar lo Han shahsawar-e-dosh-e-Payambar ko mar lo Syed ko be-diyar ko muztar ko mar lo Sab mar chuke hain ab Shah-e-Safdar ko mar lo Teghon mein tegh-e-zulm bhi tez-e-jafa bhi hai Kehte hain Shah-e-Huda, meri kuchh khata bhi hai 3 Rahm ab karo main be-kas-o-tanha hun zalimo Guzre hain tin roz ke pyasa hun zalimo Syed hun aur Imam tumhara hun zalimo Socho zara main kis ka nawasa hun zalimo Hoga bhala na sabir-o-shakir ko mar kar Pachhtaoge gharib musafir ko mar kar
[صفحہ 200 سے جاری] 7 آہ بھر کر یہ کیا قاصدِ صغرا سے کلام شکر یہ بھائی، کہ پہنچایا ہمیں یہ پیغام میری بچی کو یہ احوال بتا دینا تمام اب یہ اختر ہیں نہ اکبر، یہ مصیبت کی ہے شام اب سکینہؑ سے بھی بچھڑیں گے وہ ساعت آئی ہم پہ یہ اور قیامت پہ قیامت آئی امتحان گاہ میں پہنچے جو شہِ جن و بشر تسلیم آئین نسیم (بشکریہ سوز خواں سید باقر حسین رضوی) گلدستہ (جیبی بستہ) برائے سوزخوانی سرپرست: حضرت شاداں دہلوی پایا گلہائے عزا کا یہ حسین گلدستہ مل گیا گلشن فردوس کا سیدھا رستہ سوزخواں سب ہوئے مشت کشِ سبط جعفر سوزخوانوں کو دیا اس نے یہ جیبی بستہ عباس کو حسین جو دریا پہ رو چکے 1 عباس کو حسینؑ جو دریا پہ رو چکے بھائی سے اپنے ہاتھ لبِ نہر دھو چکے یاں تک کہ قتل اکبرؑ و اصغرؑ بھی ہو چکے جتنے یہ جو پلے تھے وہ مٹی میں سو چکے تھے نوحہ گر ہر ایک تنِ پاش پاش پر قاسمؑ کی لاش پر کبھی اصغرؑ کی لاش پر 2 لشکر میں تھا یہ غل کہ دلاور کو مار لو ہاں شہسوارِ دوشِ پیمبرؐ کو مار لو سید کو بے دیار کو مضطر کو مار لو سب مر چکے ہیں اب شہِ صفدر کو مار لو تیغیں میں تیغِ ظلم بھی تیز جفا بھی ہے کہتے ہیں شہِ ہدا، مری کچھ خطا بھی ہے 3 رحم اب کرو میں بے کس و تنہا ہوں ظالمو گزرے ہیں تین روز کہ پیاسا ہوں ظالمو سید ہوں اور امام تمہارا ہوں ظالمو سوچو ذرا میں کس کا نواسا ہوں ظالمو ہوگا بھلا نہ صابر و شاکر کو مار کر پچھتاؤ گے غریب مسافر کو مار کر

201

Abbas ko Husain jo darya pe ro chuke — jari 4 Tum nazar se tum ko agar qatl hi mera Sun lo ye ek wasiyat aakhir meri zara Bachchon pe rahm kijiyo ab qaum-e-be-haya Zahra se kam nahin meri bahnon ka martaba Marne ke baad mujh pe ye ehsan kijiyo Zainab ke sar se na balwe mein chadar na lijiyo 5 Is aan mein hue Shah-e-be-kas pe itne war Jitne bache the tir badan se ho gaye wo par Tarpe zamin pe gir ke Imam-e-falak-waqar Faryad Fatima se bara Arsh-e-Kirdigar Tarpa zamin pe jism-e-Shah-e-Mashriqain ka Ghul tha ke jald kat lo ab sar Husain ka 6 Nagah pakar ke tegh barha Shimr bad-shiar Quran par shaqi ne rakha paye nabakar Sar nange ghar se nikli Sakina jigar-figar Dekhi gale pe bap ke jis dam chhuri ki dhar Chillati thi are Shah-e-wala ko chhor de Sar mera kat le, mere Baba ko chhor de 7 [Ibtidai misra juzwi taur par ghair wazeh] Faryad ko yatim ki sunta tha par wo kab Khanjar gale pe rakh diya Hazrat ke be-ghazab Sukhi zaban dikha ke kaha Shah ne ye tab Zalim, Sakina khaime mein jaye to zabh kar Pani zara sa mujh ko pila le to zabh kar 8 Hazrat to pani pani pukara kiye idhar Kanta kiya gale ko idhar Shimr bad-guhar Dauri nikal ke khaime se Zainab barahna sar Chalti thi do qadam kabhi girti thi khak par Kehti thi aao kis se main ab iltija karun Lashkar hai gher mera, are logo main kya karun Abbas ko Husain jo darya pe ro chuke
عباس کو حسین جو دریا پہ رو چکے — جاری 4 تم نظر سے تم کو اگر قتل ہی مرا سن لو یہ ایک وصیت آخر مری ذرا بچوں پہ رحم کیجیو اب قوم بے حیا زہرا سے کم نہیں مری بہنوں کا مرتبہ مرنے کے بعد مجھ پہ یہ احسان کیجیو زینب کے سر سے نہ بلوے میں چادر نہ لیجیو 5 اس آن میں ہوئے شہِ بے کس پہ اتنے وار جتنے بچے تھے تیر بدن سے ہوگئے وہ پار تڑپے زمیں پہ گر کے امام فلک وقار فریاد فاطمہ سے بڑا عرشِ کردگار تڑپا زمیں پہ جسمِ شہِ مشرقین کا غل تھا کہ جلد کاٹ لو اب سر حسینؑ کا 6 ناگہ پکڑ کے تیغ بڑها شمر بد شعار قرآن پر شقی نے رکھا پائے نابکار سر ننگے گھر سے نکلی سکینہؑ جگر فگار دیکھی گلے پہ باپ کے جس دم چھری کی دھار چلاتی تھی ارے شہِ والا کو چھوڑ دے سر میرا کاٹ لے، مرے بابا کو چھوڑ دے 7 [ابتدائی مصرع جزوی طور پر غیر واضح] فریاد کو یتیم کی سنتا تھا پر وہ کب خنجر گلے پہ رکھ دیا حضرت کے بے غضب سوکھی زباں دکھا کے کہا شاہ نے یہ تب ظالم، سکینہ خیمے میں جائے تو ذبح کر پانی ذرا سا مجھ کو پلا لے تو ذبح کر 8 حضرت تو پانی پانی پکارا کئے ادھر کانٹا کیا گلے کو ادھر شمر بدگہر دوڑی نکل کے خیمے سے زینبؑ برہنہ سر چلتی تھی دو قدم کبھی گرتی تھی خاک پر کہتی تھی آؤ کس سے میں اب التجا کروں لشکر ہے گھیر مرا ارے لوگو میں کیا کروں عباس کو حسین جو دریا پہ رو چکے

202

Jab ran mein Sibt-e-Ahmad Mukhtar ghir gaya 1 Jab ran mein Sibt-e-Ahmad Mukhtar ghir gaya Syed, gharib-o-be-kas-o-be-yar ghir gaya Hath Haram ka qafila salar ghir gaya Lashkar tamam ho gaya sardar ghir gaya Ghul tha aman do na Shah-e-Mashriqain ko Nokon se barchhiyon ki gira do Husain ko 2 Jis waqt tha ye hashr, ye matam, ye shor-o-shar Aa pahunchi ek musafir-e-ghurbat-zada idhar Nikla tha ghar se shauq-e-Najaf mein wo khush-sair Chhore hue watan se guzra tha sal bhar Be-khanuman ko ishq-e-Khuda ke Wali ka tha Mushtaq wo ziyarat-e-qabr-e-Ali ka tha 3 Pahuncha jo Karbala mein to dekha ye us ne hal Tanha khara hai ek musafir lahu mein lal Faujein sitam ki gird hain amada-e-qital Chalte hain tir, pani ka karta hai jab sawal Az-bas ke Ahl-e-Dard tha betab ho gaya Pani ke mangne pe jigar aab ho gaya 4 Sina laga laraz ke wo zi-qadr-o-nek-naam Allah kis qadar hai pur-ashob ye maqam Darya Khuda ne khalq kiye bahr-e-faiz-e-aam Marta hai be-ajal ye sitam-kash ye tishna-kam In se bashar dare, jinhein khauf-e-Khuda nahin Jaldi nikal chalo, ye thehrne ki ja nahin 5 Do char gam chal ke ye socha wo namwar Mazlum ki dua mein hai har tarah ka asar Wallah barguzida-e-Haq hai ye khush-sair Kar lijiye iltimas-e-dua hath bandh kar Tinon mein us ke pas chalo jo Khuda kare Asan ho mushkilein jo ye be-kas dua kare 6 Aaya jo kan pata hua wo Shah-e-din ke pas Ki arz Assalam Alaik ay falak-asas Maula jawab dijiye ye bole pur-dard-o-yas Aata hua kidhar se tera ay Khuda-shinas Arz us ne ki ghulam-e-Shah-e-Zulfiqar hun Be-kas hun, be-nawa hun, gharib-ud-diyar hun
جب رن میں سبط احمد مختار گھِر گیا 1 جب رن میں سبطِ احمدؐ مختار گھِر گیا سید، غریب و بے کس و بے یار گھِر گیا ہاتھ حرم کا قافلہ سالار گھِر گیا لشکر تمام ہوگیا سردار گھِر گیا غل تھا امان دو نہ شہِ مشرقین کو نوکوں سے برچھیوں کی گرا دو حسینؑ کو 2 جس وقت تھا یہ حشر، یہ ماتم، یہ شور و شر آ پہنچی اک مسافرِ غربت زدہ ادھر نکلا تھا گھر سے شوقِ نجف میں وہ خوش سیر چھوڑے ہوئے وطن سے گزرا تھا سال بھر بے خانماں کو عشقِ خدا کے ولی کا تھا مشتاق وہ زیارتِ قبرِ علیؑ کا تھا 3 پہنچا جو کربلا میں تو دیکھا یہ اُس نے حال تنہا کھڑا ہے ایک مسافر لہو میں لال فوجیں ستم کی گرد ہیں آمادۂ قتال چلتے ہیں تیر، پانی کا کرتا ہے جب سوال از بس کہ اہلِ درد تھا بیتاب ہوگیا پانی کے مانگنے پہ جگر آب ہوگیا 4 سینے لگا لرز کے وہ ذی قدر و نیک نام اللہ کس قدر ہے پُر آشوب یہ مقام دریا خدا نے خلق کئے بہرِ فیضِ عام مرتا ہے بے اجل یہ ستم کش یہ تشنہ کام ان سے بشر ڈرے، جنہیں خوفِ خدا نہیں جلدی نکل چلو، یہ ٹھہرنے کی جا نہیں 5 دو چار گام چل کے یہ سوچا وہ نامور مظلوم کی دعا میں ہے ہر طرح کا اثر واللہ برگزیدۂ حق ہے یہ خوش سیر کر لیجئے التماسِ دعا ہاتھ باندھ کر تینوں میں اس کے پاس چلو جو خدا کرے آساں ہو مشکلیں جو یہ بے کس دعا کرے 6 آیا جو کان پاتا ہوا وہ شاہِ دیں کے پاس کی عرض السلام علیک اے فلک اساس مولا جواب دیجیے یہ بولے پُر درد و یاس آتا ہوا کدھر سے ترا اے خدا شناس عرض اس نے کی غلامِ شہِ ذوالفقار ہوں بے کس ہوں بے نوا ہوں غریب الدیار ہوں

203

Jab ran mein Sibt-e-Ahmad Mukhtar ghir gaya — jari 7 Arz us ne ki Husain se aur hai ye iltija Kijiye utha ke hath mere Haq mein ye dua Pahuncha de mujh ko qabr-e-Ali par mera Khuda Maula ne asman ki taraf dekh kar kaha Jis ko nahin zawal wo daulat nasib ho Ya Rab ise Ali ki ziyarat nasib ho 8 Taslim ki jo us ne to bole Shah-e-Anam Qabr-e-Nabi pe ja ke ye kehna pas az salam Aate hain aap dard-o-musibat mein sab ke kam Be-kas-o-gharib bhi hai aap ka ghulam Tanha hun dushmanon mein khabar aa ke lijiye Hangam-e-zabh god mein sar aa ke lijiye 9 Sun kar ye muzda se bola na jayega ab ghulam Bas ji chuka bahut, yahi marne ka hai maqam Ab dekhiye raza ke barhun khinch kar husam Wo kam chahiye ke rahe ta-ba-hashr naam Didar ho na tark-e-rifaqat karunga main Ab mar ke Sher-e-Haq ki ziyarat karunga main 10 Qadmon pe lot kar ye pukara wo dardnak Izhar-e-ism-e-aqdas-e-aala mein kya hai pak Batlaiye ke jis se mera dil hai chak chak Chup ho gaye to pichhe us ke Imam-e-Pak Ye to na kahiye ke Shah-e-Mashriqain hun Maula ne sar jhuka ke kaha main Husain hun Jab ran mein Sibt-e-Ahmad Mukhtar ghir gaya
جب رن میں سبط احمد مختار گھِر گیا — جاری 7 عرض اس نے کی حسینؑ سے اور ہے یہ التجا کیجئے اٹھا کے ہاتھ مرے حق میں یہ دعا پہنچا دے مجھ کو قبرِ علیؑ پر مرا خدا مولا نے آسماں کی طرف دیکھ کر کہا جس کو نہیں زوال وہ دولت نصیب ہو یارب اسے علیؑ کی زیارت نصیب ہو 8 تسلیم کی جو اس نے تو بولے شہِ انام قبرِ نبیؐ پہ جا کے یہ کہنا پس از سلام آتے ہیں آپ درد و مصیبت میں سب کے کام بے کس و غریب بھی ہے آپ کا غلام تنہا ہوں دشمنوں میں خبر آ کے لیجئے ہنگامِ ذبح گود میں سر آ کے لیجئے 9 سن کر یہ مژدہ سے بولا نہ جائے گا اب غلام بس جی چکا بہت، یہی مرنے کا ہے مقام اب دیکھئے رضا کہ بڑھوں کھینچ کر حسام وہ کام چاہئے کہ رہے تا بہ حشر نام دیدار ہوں نہ ترکِ رفاقت کروں گا میں اب مر کے شیرِ حق کی زیارت کروں گا میں 10 قدموں پہ لوٹ کر یہ پکارا وہ دردناک اظہارِ اسمِ اقدسِ اعلیٰ میں کیا ہے پاک بتلائیے کہ جس سے مرا دل ہے چاک چاک چپ ہو گئے تو پیچھے اس کے امامِ پاک یہ تو نہ کہئے کہ شہِ مشرقین ہوں مولا نے سر جھکا کے کہا میں حسینؑ ہوں جب رن میں سبط احمد مختار گھِر گیا

204

Jab qatl ran mein ho chuka lashkar Husain ka 1 Jab qatl ran mein ho chuka lashkar Husain ka Baqi raha na nasir-o-yawar Husain ka Dushman jo tha har ek sitamgar Husain ka Ghul par gaya ke kat lo ab sar Husain ka Pyase pe abr-e-Sham ke lashkar ka chha gaya Mazlum Ahl-e-Zulm ke narghe mein aa gaya 2 Kehta tha koi tir lagao Husain ko Talwaron se lahu mein dubao Husain ko Kehta tha Shimr gher ke lao Husain ko Ghore se jald niche girao Husain ko Kya pichhe dekhte ho, munh is tishna-kam ka Sar kat lo Husain alaihissalam ka 3 Jab tir aa ke lagta tha jism-e-Husain par Jaise ko thakte jate the munh pher pher kar Kehte the dil se ro ke Shahanshah-e-bahr-o-bar Zainab kahin na khaime se nikle barahna sar Bazu ko ay Karim mere gham mein sabr de Zainab ko ay Khuda mere matam mein sabr de 4 Zainab ne apne bhai ki jab ye suni sada Ghabra ke aai deorhi pe wo gham ki mubtala Dekha ke Shah ko ghere hain sab fauj-e-ashqiya Ummat ki maghfirat ki hain Shah karte dua Koi qarib aa ke hai shamshir marta Aur jism-e-pak pe hai koi tir marta 5 Zainab pukarin tir pe mujh pe lagao tum Bhai ke badle khun mein mujh ko dubao tum Neze pe kat kar mere sar ko charhao tum Farzand-e-Fatima pe na ab hath uthao tum Pani ko tin roz se mahrum hai Husain Syed hai be-gunah hai mazlum hai Husain Jab qatl ran mein ho chuka lashkar Husain ka Azmat Balgrami Kar ke wuzu nazar ne sharab-e-tahur se Dekha jamal-e-ru-e-Muhammad ghurur se Tahzib-o-fan, tamaddun-o-akhlaq-o-agahi Sibtain ke bhik mang rahe hain huzur se
جب قتل رن میں ہو چکا لشکر حسینؑ کا 1 جب قتل رن میں ہو چکا لشکر حسینؑ کا باقی رہا نہ ناصر و یاور حسینؑ کا دشمن جو تھا ہر ایک ستمگر حسینؑ کا غل پڑ گیا کہ کاٹ لو اب سر حسینؑ کا پیاسے پہ ابرِ شام کے لشکر کا چھا گیا مظلوم اہلِ ظلم کے نرغے میں آ گیا 2 کہتا تھا کوئی تیر لگاؤ حسینؑ کو تلواروں سے لہو میں ڈباؤ حسینؑ کو کہتا تھا شمر گھیر کے لاؤ حسینؑ کو گھوڑے سے جلد نیچے گراؤ حسینؑ کو کیا پیچھے دیکھتے ہو، منہ اس تشنہ کام کا سر کاٹ لو حسینؑ علیہ السلام کا 3 جب تیر آ کے لگتا تھا جسمِ حسینؑ پر جیسے کو تھکتے جاتے تھے منہ پھیر پھیر کر کہتے تھے دل سے رو کے شہنشاہِ بحر و بر زینبؑ کہیں نہ خیمے سے نکلے برہنہ سر بازو کو اے کریم مرے غم میں صبر دے زینبؑ کو اے خدا مرے ماتم میں صبر دے 4 زینبؑ نے اپنے بھائی کی جب یہ سنی صدا گھبرا کے آئی ڈیوڑھی پہ وہ غم کی مبتلا دیکھا کہ شہ کو گھیرے ہیں سب فوجِ اشقیا امت کی مغفرت کی ہیں شہ کرتے دعا کوئی قریب آ کے ہے شمشیر مارتا اور جسمِ پاک پہ ہے کوئی تیر مارتا 5 زینبؑ پکاریں تیر پہ مجھ پہ لگاؤ تم بھائی کے بدلے خون میں مجھ کو ڈباؤ تم نیزے پہ کاٹ کر مرے سر کو چڑھاؤ تم فرزندِ فاطمہؑ پہ نہ اب ہاتھ اٹھاؤ تم پانی کو تین روز سے محروم ہے حسینؑ سید ہے بے گناہ ہے مظلوم ہے حسینؑ جب قتل رن میں ہو چکا لشکر حسینؑ کا عظمت بلگرامی کرکے وضو نظر نے شرابِ طہور سے دیکھا جمالِ روئے محمدؐ غرور سے تہذیب و فن، تمدن و اخلاق و آگہی سبطین کے بھیک مانگ رہے ہیں حضور سے

205

Jab aakhri salam ko khaime mein aaye Shah 1 Jab aakhri salam ko khaime mein aaye Shah Rukhsat kiya har ek ko ba-hasrat-e-nigah Kubra pe aur Sakina pe hasrat se ki nigah Farmaya sabr de tumhein Khaliq-e-mehr-o-mah De kar dilasa aaye jo Sajjad ke qarib Dekha para hai ghash mein wo bazu ka mah-jabin 2 Bazu hila ke bole Shahanshah-e-namdar Ghaflat ka waqt ye nahin utho pidar-nisar Zainab ki aur bazu ki chadar se hoshiyar Ghabra ke uthe Syed-e-Sajjad ek bar Dekha zamana hota hai khali Husain se Beriyon mein hashr barpa hai Zainab ke bain se 3 Puchha pidar se aaye hain tanha Shah-e-Umam Na saya-e-alam hai na Abbas zi-hasham Kis hadise mein hogi Maula ki pusht kham Chehre pe khun kya hai aur chashm kyun hai nam Qasim kahan hain Akbar zi-shan kya hue Shah ne kaha ke sab rah-e-Haq mein fida hue (Darogha Amir Muhammad Rizvi ... [hawala juzwi taur par ghair wazeh]) 4 Ummat ne Nana jaan ki barbad kar diya Tanha pidar hai khalq hai aur khanjar-e-jafa Kuchh der baad khaime jalayenge ashqiya Chhinenge sar se Zainab-o-Kulsum ki rida Ab tum Imam-e-Asr ho himmat se kam lo Tufan-e-ranj mein aas ki kashti tham lo 5 Maula ke is bayan pe mahshar bapa hua Ahl-e-Haram mein rone ka ek ghulghula utha Dauri Sakina aan ke daman pakar liya Boli na ran ko jao Payambar ka wasta Qurban jaun kis ke main sine pe soungi Baba jo tum na hoge to raton ko roungi 6 Munh chum kar Husain ne godi mein le liya Daman se ashk ponchh ke bole Shah-e-Huda Bhai ka saya sar pe tumhare rakhe Khuda Man bap kis ke zinda rahe hain yahan sada [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Nani ko lene aayenge hum qaid-e-Sham mein Jab aakhri salam ko khaime mein aaye Shah
جب آخری سلام کو خیمے میں آئے شاہ 1 جب آخری سلام کو خیمے میں آئے شاہ رخصت کیا ہر ایک کو باحسرتِ نگاہ کبرا پہ اور سکینہؑ پہ حسرت سے کی نگاہ فرمایا صبر دے تمہیں خالقِ مہر و ماہ دے کر دلاسا آئے جو سجادؑ کے قریب دیکھا پڑا ہے غش میں وہ بازو کا مہ جبیں 2 بازو ہلا کے بولے شہنشاہِ نامدار غفلت کا وقت یہ نہیں اٹھو پدر نثار زینبؑ کی اور بازو کی چادر سے ہوشیار گھبرا کے اٹھے سیدِ سجادؑ ایک بار دیکھا زمانہ ہوتا ہے خالی حسینؑ سے بیڑیوں میں حشر برپا ہے زینبؑ کے بین سے 3 پوچھا پدر سے آئے ہیں تنہا شہِ امم نہ سایۂ علم ہے نہ عباسؑ ذی حشم کس حادثے میں ہوگی مولا کی پشت خم چہرے پہ خون کیا ہے اور چشم کیوں ہے نم قاسمؑ کہاں ہیں اکبرؑ ذیشان کیا ہوئے شہ نے کہا کہ سب رہِ حق میں فدا ہوئے (داروغہ امیر محمد رضوی ... [حوالہ جزوی طور پر غیر واضح]) 4 امت نے نانا جان کی برباد کردیا تنہا پدر ہے خلق ہے اور خنجرِ جفا کچھ دیر بعد خیمے جلائیں گے اشقیا چھینیں گے سر سے زینبؑ و کلثومؑ کی ردا اب تم امامِ عصر ہو ہمت سے کام لو طوفانِ رنج میں آس کی کشتی تھام لو 5 مولا کے اس بیان پہ محشر بپا ہوا اہلِ حرم میں رونے کا اک غلغلہ اٹھا دوڑی سکینہؑ آن کے دامن پکڑ لیا بولی نہ رن کو جاؤ پیمبرؐ کا واسطہ قربان جاؤں کس کے میں سینے پہ سوؤں گی بابا جو تم نہ ہوگے تو راتوں کو روؤں گی 6 منہ چوم کر حسینؑ نے گودی میں لے لیا دامن سے اشک پونچھ کے بولے شہِ ہدیٰ بھائی کا سایہ سر پہ تمہارے رکھے خدا ماں باپ کس کے زندہ رہے ہیں یہاں سدا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] نانی کو لینے آئیں گے ہم قید شام میں جب آخری سلام کو خیمے میں آئے شاہ

206

Jab Mariya ke dasht mein warid hua wo lashkar 1 Jab Mariya ke dasht mein warid hua wo lashkar Maidan mein akele the khare Sibt-e-Payambar Sar ta ba qadam khun mein aluda the Sarwar Aur ek pyas thi bhari zakhmon ke andar Is pyas mein munh astinon se dhote the Maula Ek chhoti si turbat pe khare rote the Maula 2 The lash par abhi giryan Shah-e-Abrar Jo Zafar-e-jinn samne se aa gaya yakbar Shah ne kaha ay shakhs khabardar khabardar Phailay hain pare yan mere sab yawar-o-ansar Ye phul hain sab bagh-e-Shah-e-Haq-o-bashar ke Lashe nahin tukre hain ye Zahra ke jigar ke 3 Pehchan ke hain lashe jo the mazlum ke yawar Ye un ke hain lashe jo pyase hue be-sar Tukre hue teghon se yahan Qasim-e-muztar Ay shakhs yahan dafn hue hain Ali Asghar Zainab ke yahan rud ke pale ka hai lasha Is ja pe mere gesuon wale ka hai lasha 4 Shah ne kaha tu kaun hai, kya naam hai tera Yan kis liye tu aaya hai, matlab hai tera kya Har chand ke be-kas hun, main zakhmi hun sarapa Lekin mujhe majbur to hargiz na samajhna Sab mar gaye, is par nahin nachar abhi hun Be-kas hun magar kul ka madadgar abhi hun 5 Ki arz ye Zafar ne ke ay Syed-e-wala Tera to madadgar hai wo Khaliq-e-Yakta Tu kul ka madadgar hai parwa se tujhe kya Par kijiye manzur meri arz ay Aqa Lute na koi Aal-e-Rasul-e-Arabi ko Khaime ki nigahbani ka do izn bhi mujh ko 6 Ye baat jo Shabbir ko Zafar ne sunai Rone lage wo ba-dida-e-giryan-o-bukai Yaad aa gayi namus ki us waqt tabahi Kehne laga Zafar se wo Khaliq ka fidai Muhtaj-e-Haram honge ek ek rida ke Sadat ki izzat hai bas ab aage Khuda ke
جب ماریہ کے دشت میں وارد ہوا وہ لشکر 1 جب ماریہ کے دشت میں وارد ہوا وہ لشکر میدان میں اکیلے تھے کھڑے سبطِ پیمبرؐ سر تا بہ قدم خون میں آلودہ تھے سرورؑ اور ایک پیاس تھی بھری زخموں کے اندر اس پیاس میں منہ آستینوں سے دھوتے تھے مولا اک چھوٹی سی تربت پہ کھڑے روتے تھے مولا 2 تھے لاش پر ابھی گریاں شہِ ابرار جو زعفرِ جن سامنے سے آ گیا یکبار شہ نے کہا اے شخص خبردار خبردار پھیلے ہیں پڑے یاں مرے سب یاور و انصار یہ پھول ہیں سب باغِ شہِ حق و بشر کے لاشے نہیں ٹکڑے ہیں یہ زہرا کے جگر کے 3 پہچان کے ہیں لاشے جو تھے مظلوم کے یاور یہ ان کے ہیں لاشے جو پیاسے ہوئے بے سر ٹکڑے ہوئے تیغوں سے یہاں قاسمِ مضطر اے شخص یہاں دفن ہوئے ہیں علی اصغرؑ زینبؑ کے یہاں رود کے پالے کا ہے لاشہ اس جا پہ مرے گیسوؤں والے کا ہے لاشہ 4 شہ نے کہا تو کون ہے، کیا نام ہے تیرا یاں کس لئے تو آیا ہے، مطلب ہے ترا کیا ہر چند کہ بے کس ہوں، میں زخمی ہوں سراپا لیکن مجھے مجبور تو ہرگز نہ سمجھنا سب مر گئے، اس پر نہیں ناچار ابھی ہوں بے کس ہوں مگر کُل کا مددگار ابھی ہوں 5 کی عرض یہ زعفر نے کہ اے سیدِ والا تیرا تو مددگار ہے وہ خالقِ یکتا تو کل کا مددگار ہے پروا سے تجھے کیا پر کیجئے منظور مری عرض اے آقا لوٹے نہ کوئی آلِ رسولِ عربی کو خیمے کی نگہبانی کا دو اذن بھی مجھ کو 6 یہ بات جو شبیرؑ کو زعفر نے سنائی رونے لگے وہ بادیدۂ گریاں و بکائی یاد آگئی ناموس کی اس وقت تباہی کہنے لگا زعفر سے وہ خالق کا فدائی محتاجِ حرم ہوں گے اک ایک ردا کے سادات کی عزت ہے بس اب آگے خدا کے

207

Jab Mariya ke dasht mein warid hua wo lashkar — jari 7 Ay bhai karun kya mujhe khaime ka nigahban Zainab ko to jana hai abhi ba-sar-e-uryan Ahl-e-Haram-e-Shah ko hai dekhna zindan Chale hain abhi khaima-e-shahana wo dauran Qaid hongi sab Itrat-e-Sultan-e-Madina Zalim ke tamanche bhi khayegi Sakina Jab Mariya ke dasht mein warid hua wo lashkar (Bashukriya ... [hawala juzwi taur par ghair wazeh]) Raza Allahabadi Raza hai jis pe tasadduq mata-e-kaun-o-makan Ek aise gham se meri zindagi ibarat hai (Bashukriya sozkhwan Natiq Ali Naqvi Adabi) Iltimas-e-Fatiha baraye isal-e-sawab Sozkhwan Mujahid Husain Rizvi / Urdawi Allahabadi [Naam/nisbat juzwi taur par ghair wazeh] Jab Karbala mein Shah ka lashkar hua shahid 1 Jab Karbala mein Shah ka lashkar hua shahid Akbar hua shahid aur Asghar hua shahid Abbas aur Qasim-e-muztar hua shahid Tanha Husain reh gaye sab ghar hua shahid Zafar se baat jinn ne ye ba-shor-o-shain ki Ab tak khabar nahin tujhe Aqa Husain ki 2 Phir se Sakina lab pe zaban pani to hai Akbar to khaye zakhm-e-sinan pani to hai Asghar hua qatl, nishan pani to hai Wan Aqa tera pyasa hai yan pani to hai Kis munh se pesh-e-Fatima hashr mein aayega Us din bata ke kaun tujhe bakhshwayega 3 Zafar ne puchha mujh ko ye kyun kar hui khabar Bola wo jinn ye chand adab hath bandh kar Ek din hua tha mera Najaf ki taraf guzar Pahuncha jo main qabr-e-Janab-e-Amir par Dekha zarih-e-Shah-e-Najaf tharthara rahi hai Haye Husain pyare ki awaz aa rahi hai
جب ماریہ کے دشت میں وارد ہوا وہ لشکر — جاری 7 اے بھائی کروں کیا مجھے خیمے کا نگہباں زینبؑ کو تو جانا ہے ابھی با سرِ عریاں اہلِ حرمِ شاہؑ کو ہے دیکھنا زنداں چلے ہیں ابھی خیمۂ شاہانہ وہ دوراں قید ہوں گی سب عترتِ سلطانِ مدینہ ظالم کے طمانچے بھی کھائے گی سکینہؑ جب ماریہ کے دشت میں وارد ہوا وہ لشکر (بشکریہ ... [حوالہ جزوی طور پر غیر واضح]) رضا اللہ آبادی رضا ہے جس پہ تصدق متاعِ کون و مکاں اک ایسے غم سے مری زندگی عبارت ہے (بشکریہ سوز خواں ناطق علی نقوی ادبی) التماس فاتحہ برائے ایصال ثواب سوزخواں مجاہد حسین رضوی / اردوی الہ آبادی [نام/نسبت جزوی طور پر غیر واضح] جب کربلا میں شاہ کا لشکر ہوا شہید 1 جب کربلا میں شاہ کا لشکر ہوا شہید اکبرؑ ہوا شہید اور اصغرؑ ہوا شہید عباسؑ اور قاسمِ مضطر ہوا شہید تنہا حسینؑ رہ گئے سب گھر ہوا شہید زعفر سے بات جن نے یہ با شور و شین کی اب تک خبر نہیں تجھے آقا حسینؑ کی 2 پھر سے سکینہؑ لب پہ زباں پانی تو ہے اکبرؑ تو کھائے زخمِ سناں پانی تو ہے اصغرؑ ہوا قتل، نشاں پانی تو ہے واں آقا تیرا پیاسا ہے یاں پانی تو ہے کس منہ سے پیشِ فاطمہؑ حشر میں آئے گا اس دن بتا کہ کون تجھے بخشوائے گا 3 زعفر نے پوچھا مجھ کو یہ کیونکر ہوئی خبر بولا وہ جن یہ چند ادب ہاتھ باندھ کر اک دن ہوا تھا میرا نجف کی طرف گزر پہنچا جو میں قبرِ جنابِ امیرؑ پر دیکھا ضریحِ شاہِ نجف تھرتھرا رہی ہے ہے ہے حسینؑ پیارے کی آواز آ رہی ہے

208

Jab Karbala mein Shah ka lashkar hua shahid — jari 4 [Pehla misra juzwi taur par ghair wazeh] Ki arz hath bandh kar ay Naib-e-Rasul Rauze mein kyun mazar ke kyun aap hain malul Banda bhi muttali ho meri arz ho qubul Aai nida ke Shah-e-Zaman qatl hota hai Mera Husain tishna-dahan qatl hota hai 5 Ye sunte hi zarih se ankhon ko wo mila Betab ho ke dasht-e-bala ki taraf chala Dekha jo us ne naqsha-e-maidan-e-Karbala Lashkar hai sar kataye para, khun mein bhara Hasrat se Shah-e-lashon pe karte nigah hain Khaime mein Ahl-e-Bait hain, narghe mein Shah hain 6 Sibt-e-Nabi pe us ne jo ki ghaur se nigah [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Munh chumte hain, gah gala chumte hain aah Har martaba ye kehte hain jo marzi-e-Ilah Wo thi lash sine se apne lagate hain Bachche ki qabr Sibt-e-Payambar banate hain 7 Talwar se jo khod chuke qabr, Shah-e-din Amama apna phar ke Sardar-e-Mominin Kafnane ko uthaya hathon pe naznin Karta utara dafn kiya apna mah-jabin Paiwand-e-khak jigar-e-use Shah ne kar diya Karta khilona nanhi si turbat pe rakh diya 8 Phir sitam ne zinat ka naqsha bigar ke Ek man ki hasraton ke chaman ko ujar ke Kata qaza ne nakhl-e-tamanna ukhar ke Kas kar ye zikr-e-gham se hun tukre pahar ke Thi kisi qabr khod ke Asghar ko gar ke Shabbir uth khare hue daman ko jhar ke Jab Karbala mein Shah ka lashkar hua shahid
جب کربلا میں شاہ کا لشکر ہوا شہید — جاری 4 [پہلا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کی عرض ہاتھ باندھ کر اے نائبِ رسولؐ روضے میں کیوں مزار کے کیوں آپ ہیں ملول بندہ بھی مطلع ہو مری عرض ہو قبول آئی ندا کہ شاہِ زمن قتل ہوتا ہے میرا حسینؑ تشنہ دہن قتل ہوتا ہے 5 یہ سنتے ہی ضریح سے آنکھوں کو وہ ملا بیتاب ہو کے دشتِ بلا کی طرف چلا دیکھا جو اس نے نقشۂ میدانِ کربلا لشکر ہے سر کٹائے پڑا، خون میں بھرا حسرت سے شاہِ لاشوں پہ کرتے نگاہ ہیں خیمے میں اہل بیت ہیں، نرغے میں شاہ ہیں 6 سبطِ نبیؐ پہ اس نے جو کی غور سے نگاہ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] منہ چومتے ہیں، گاہ گلا چومتے ہیں آہ ہر مرتبہ یہ کہتے ہیں جو مرضیِ الٰہ وہ تھی لاش سینے سے اپنے لگاتے ہیں بچے کی قبر سبطِ پیمبر بناتے ہیں 7 تلوار سے جو کھود چکے قبر، شاہِ دیں عمامہ اپنا پھاڑ کے سردارِ مومنین کفنانے کو اٹھایا ہاتھوں پہ نازنین کرتا اتارا دفن کیا اپنا مہ جبیں پیوندِ خاک جگرے اسے شہؑ نے کردیا کرتا کھلونا ننھی سی تربت پہ رکھ دیا 8 پھر ستم نے زینت کا نقشہ بگاڑ کے اک ماں کی حسرتوں کے چمن کو اجاڑ کے کاتا قضا نے نخلِ تمنا اکھاڑ کے کس کر یہ ذکرِ غم سے ہوں ٹکڑے پہاڑ کے تھی کسی قبر کھود کے اصغر کو گاڑ کے شبیرؑ اٹھ کھڑے ہوئے دامن کو جھاڑ کے جب کربلا میں شاہ کا لشکر ہوا شہید

209

Jab hui zuhr talak qatl sipah-e-Shabbir 1 Jab hui zuhr talak qatl sipah-e-Shabbir Bajuz Asghar na raha nur-e-nigah-e-Shabbir Thi faqat ruh-e-Ali, pusht-panah-e-Shabbir Haq se kehte the ke tu hi gawah-e-Shabbir Sar fida kar ke sharik-e-shuhada hota hun Aaj main teri amanat se ada hota hun 2 Ab na Qasim mera baqi hai na Akbar baqi Na Alamdar salamat hai na lashkar baqi Bhanje bete bhatije na baradar baqi Ab faqat sar mera baqi hai aur Asghar baqi Qatl Asghar ho, mera sar bhi juda ho jaye Bas amanat se bhi Shabbir ada ho jaye 3 Ya Khuda tujh pe main sadqe mera lashkar bhi nisar Dil fida, jaan fida, ruh fida, sar bhi nisar Ali Akbar bhi nisar aur Ali Asghar bhi nisar Tujh pe Baqir bhi fida, Abid-e-muztar bhi nisar Main ne jo kuchh tere darbar se paya Maula Sab teri rah mein khush ho ke lutaya Maula 4 Wo kaise ye dhere hath pare hain Akbar Hai wo Abbas dilawar, wo Hasan ka dilbar Ek ek pyare ko qurban kiya gin gin kar Ki amanat mein khayanat na zara ay Dawar Tu ne daulat bhi jo mujh khak-nashin ko saunpi Wo amanat teri bande ne zamin ko saunpi 5 Banda-parwar main hun ek abd-e-gharib-o-ahqar Be-kas-o-be-pidar-o-be-watan-o-be-yawar Manzil-e-mulk-e-adam mein tu mera ho rahbar Na to is rah se agah, na manzil ki khabar Shauq bhi raub bhi mujh ko teri dargah ka hai Samna banda-e-nachiz ko Allah ka hai 6 Nagahan aai ye awaz-e-Khuda-e-kaunain Bas mere banda-e-be-kas, mere mazlum Husain Shukr wo karta hai tu aaj baad-e-shewan-o-shain Mujh ko sharm aati hai ay Fatima ke nur-e-ain Tishna-kami mein nahin kam lab-e-darya se Afarin ay mere chauthe pahar ke pyase Jab hui zuhr talak qatl sipah-e-Shabbir Mirza Dabir
جب ہوئی ظہر تلک قتل سپاہِ شبیرؑ 1 جب ہوئی ظہر تلک قتل سپاہِ شبیرؑ بجز اصغرؑ نہ رہا نورِ نگاہِ شبیرؑ تھی فقط روحِ علیؑ، پشت پناہِ شبیرؑ حق سے کہتے تھے کہ تو ہی گواہِ شبیرؑ سر فدا کر کے شریکِ شہدا ہوتا ہوں آج میں تیری امانت سے ادا ہوتا ہوں 2 اب نہ قاسمؑ مرا باقی ہے نہ اکبر باقی نہ علمدار سلامت ہے نہ لشکر باقی بھانجے بیٹے بھتیجے نہ برادر باقی اب فقط سر مرا باقی ہے اور اصغر باقی قتل اصغرؑ ہو، مرا سر بھی جدا ہوجائے بس امانت سے بھی شبیرؑ ادا ہوجائے 3 یا خدا تجھ پہ میں صدقے مرا لشکر بھی نثار دل فدا، جان فدا، روح فدا، سر بھی نثار علی اکبرؑ بھی نثار اور علی اصغرؑ بھی نثار تجھ پہ باقرؑ بھی فدا، عابدِ مضطر بھی نثار میں نے جو کچھ ترے دربار سے پایا مولا سب تری راہ میں خوش ہو کے لٹایا مولا 4 وہ کیسے یہ ڈھیرے ہاتھ پڑے ہیں اکبرؑ ہے وہ عباسؑ دلاور وہ حسنؑ کا دلبر ایک ایک پیارے کو قربان کیا گن گن کر کی امانت میں خیانت نہ ذرا اے داور تو نے دولت بھی جو مجھ خاک نشیں کو سونپی وہ امانت تری بندے نے زمیں کو سونپی 5 بندہ پرور میں ہوں اک عبدِ غریب و احقر بے کس و بے پدر و بے وطن و بے یاور منزلِ ملکِ عدم میں تو مرا ہو رہبر نہ تو اس راہ سے آگاہ نہ منزل کی خبر شوق بھی رعب بھی مجھ کو تری درگاہ کا ہے سامنا بندۂ ناچیز کو اللہ کا ہے 6 ناگہاں آئی یہ آوازِ خدائے کونین بس مرے بندۂ بے کس مرے مظلوم حسینؑ شکر وہ کرتا ہے تو آج بعد شیون و شین مجھ کو شرم آتی ہے اے فاطمہؑ کے نورِ عین تشنہ کامی میں نہیں کام لبِ دریا سے آفرین اے مرے چوتھے پہر کے پیاسے جب ہوئی ظہر تلک قتل سپاہِ شبیرؑ مرزا دبیر

210

Aqraba kat gaye jab Shah ke bari bari 1 Aqraba kat gaye jab Shah ke bari bari Aur adam chale ke is Shah ne ki tayyari Khaime ka parda utha Zainab-e-Ulya ek bari Dekh maqtal ki taraf karne lagin yun zari Khuld ke koch mein hum ko nahin bulate ho Qafile walo hamein chhore chale jate ho 2 Haye Shah ka na raha koi bhi yawar baqi Na Alamdar rahe aur na lashkar baqi Na rahe Qasim Jarrar na Akbar baqi Hai faqat Sibt-e-Nabi ka sar-e-anwar baqi Hum to baqi hain gham-o-ranj uthane ke liye Maut ne chhora hamein ashk bahane ke liye 3 Haye Shabbir ke marne ki hai ab tayyari Zakhm par zakhm lage hain tan-e-Shah par kari Bhuk mein pyas mein ghash aate hain sau sau bari [Chautha misra juzwi taur par ghair wazeh] Apni pyari pe sharminda pisar hota hai Qatl ab samne bete ke pidar hota hai 4 Haye Baba ko mere koi bacha le aa kar Pher de un ke gale par mere koi khanjar Baad Baba ke pisar ka nahin jina behtar Bap to qatl ho jata rahe ye khasta-jigar Ahl-e-Bait-e-Nabawi par ye jafaen hongi Balwa-e-aam mein sar par na ridaen hongi Aqraba kat gaye jab Shah ke bari bari
اقربا کٹ گئے جب شاہؑ کے باری باری 1 اقربا کٹ گئے جب شاہؑ کے باری باری اور عدم چلے کی اس شاہؑ نے کی تیاری خیمے کا پردہ اٹھا زینبِ العلیا اک باری دیکھ مقتل کی طرف کرنے لگیں یوں زاری خلد کے کوچ میں ہم کو نہیں بلاتے ہو قافلے والو ہمیں چھوڑے چلے جاتے ہو 2 ہائے شہؑ کا نہ رہا کوئی بھی یاور باقی نہ علمدار رہے اور نہ لشکر باقی نہ رہے قاسمؑ جرار نہ اکبرؑ باقی ہے فقط سبطِ نبیؐ کا سرِ انور باقی ہم تو باقی ہیں غم و رنج اٹھانے کیلئے موت نے چھوڑا ہمیں اشک بہانے کیلئے 3 ہائے شبیرؑ کے مرنے کی ہے اب تیاری زخم پر زخم لگے ہیں تنِ شہ پر کاری بھوک میں پیاس میں غش آتے ہیں سو سو باری [چوتھا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اپنی پیاری پہ شرمندہ پسر ہوتا ہے قتل اب سامنے بیٹے کے پدر ہوتا ہے 4 ہائے بابا کو مرے کوئی بچا لے آ کر پھیر دے ان کے گلے پر مرے کوئی خنجر بعد بابا کے پسر کا نہیں جینا بہتر باپ تو قتل ہو جاتا رہے یہ خستہ جگر اہلِ بیتِ نبوی پر یہ جفائیں ہوں گی بلوہ عام میں سر پر نہ ردائیں ہوں گی اقربا کٹ گئے جب شاہؑ کے باری باری

211

Jab khatima ba-khair hua fauj-e-Shah ka 1 Jab khatima ba-khair hua fauj-e-Shah ka Gardan pe sar qalam gaya pyasi sipah ka Ghar lut gaya Janab-e-Risalat-panah ka Khak ur rahi thi, hal ye tha bargah ka Wo bhai, wo rafiq, na wo nur-e-ain the Zakhmiyon mein dushmanon ke akele Husain the 2 Pur-khun hain, uthte hue kapre, badan chak Chadar siyah, ek gareban, hazar chak Dil bhi jigar bhi sina pur-khun bhi dardnak Be-kas, bahen ke hal pe roye Imam-e-Pak Farmaya khun mein Akbar mere ro nahaye hain Hum un ki lash chhor ke rukhsat ko aaye hain 3 Abbas ab kahan hain kahan Akbar Husain Aada ko barh ke rokne wala koi nahin Khaime tak aa na jaye kahin fauj-e-Ahl-e-Kin Rukhsat karo Husain ko ay Zainab-e-hazin La do Rasul-e-Pak ka rakht-e-kohan hamein Pehna do apne hath se Zainab kafan hamein 4 Wo boli meri jaan nikal le to jaiye Khanjar ajal ka halq pe chal le to jaiye Muztar hai ji bahen ka sambhal le to jaiye Achchha zara Sakina behal le to jaiye Balon pe khak ura ke munh ankhon se dhoti hun Man jaye bhai main tujhe ji bhar ke ro lun 5 Dekha ye keh ke Bani Sakina ko yas se Lipti wo daur kar Shah-e-gardun-asas se Taqat na thi kalam ki har chand pyas se Boli wo tishna-kam Shah-e-Haq-shinas se Kya is bala ke ban se natija safar ka hai Sadqe gayi batao irada kidhar ka hai 6 Farmaya Shah ne han ye safar na-guzir hai Aao gale lago ke ye waqt-e-akhir hai Ab arzu-e-qurb-e-Khuda-e-Qadir hai Tanha hain hum, sipah-e-mukhalif kasir hai Tay ho ye marhala jo inayat Khuda kare Jis ka na koi dost ho, Bibi wo kya kare Jab khatima ba-khair hua fauj-e-Shah ka
جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہؑ کا 1 جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہؑ کا گردن پہ سر قلم گیا پیاسی سپاہ کا گھر لٹ گیا جنابِ رسالت پناہؑ کا خاک اڑ رہی تھی حال یہ تھا بارگاہ کا وہ بھائی، وہ رفیق، نہ وہ نورِ عین تھے زخمیوں میں دشمنوں کے اکیلے حسینؑ تھے 2 پُر خون ہیں، اٹھتے ہوئے کپڑے، بدن چاک چادر سیاہ، ایک گریباں، ہزار چاک دل بھی جگر بھی سینہ پرخون بھی دردناک بے کس، بہن کے حال پہ روئے امام پاک فرمایا خون میں اکبرؑ مرے رو نہائے ہیں ہم اُن کی لاش چھوڑ کے رخصت کو آئے ہیں 3 عباسؑ اب کہاں ہیں کہاں اکبرؑ حسینؑ اعدا کو بڑھ کے روکنے والا کوئی نہیں خیمے تک آ نہ جائے کہیں فوجِ اہلِ کین رخصت کرو حسینؑ کو اے زینبؑ حزیں لا دو رسولِ پاک کا رختِ کہن ہمیں پہنا دو اپنے ہاتھ سے زینبؑ کفن ہمیں 4 وہ بولی میری جان نکل لے تو جائیے خنجر اجل کا حلق پہ چل لے تو جائیے مضطر ہے جی بہن کا سنبھل لے تو جائیے اچھا ذرا سکینہؑ بہل لے تو جائیے بالوں پہ خاک اڑا کے منہ آنکھوں سے دھوتی ہوں مان جائے بھائی میں تجھے جی بھر کے رو لوں 5 دیکھا یہ کہہ کے بانی سکینہؑ کو یاس سے لپٹی وہ دوڑ کر شہِ گردوں اساس سے طاقت نہ تھی کلام کی ہر چند پیاس سے بولی وہ تشنہ کام شہِ حق شناس سے کیا اس بلا کے بن سے نتیجہ سفر کا ہے صدقہ گئی بتاؤ ارادہ کدھر کا ہے 6 فرمایا شہؑ نے ہاں یہ سفر ناگزیر ہے آؤ گلے لگو کہ یہ وقتِ اخیر ہے اب آرزوئے قربِ خدائے قدیر ہے تنہا ہیں ہم، سپاہ مخالف کثیر ہے طے ہو یہ مرحلہ جو عنایت خدا کرے جس کا نہ کوئی دوست ہو، بی بی وہ کیا کرے جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہؑ کا

212

Jab khatima ba-khair hua fauj-e-Shah ka — jari 7 Ye keh ke pyari beti se, dekha idhar udhar Puchha kidhar hain bazu-e-nashad-o-nauhagar Fizza ne arz ki ke udhar baithi hain sar Rukhsat ki bhi Huzur ki un ko nahin khabar Lab par ghari ghari Ali Akbar ka naam hai Chaliye zara ke kam ab un ka tamam hai 8 Sun kar sada Husain ki chaunki wo nauhagar Ki arz sar jhuka ke qadam par ba-chashm-e-tar Tanha Huzur aaye hain bandhe hue kamar Sahib kahan hai maqtul wala mera pisar Aisa nahin jo dukh mein juda houn bap se Apne murad wale ko lungi main aap se 9 Ay jaan-e-Fatima mera pyara kidhar gaya Aqan ki zindagi ka sahara kidhar gaya Wo tin din ki pyas ka mara kidhar gaya Syedaniyon ki ankh ka tara kidhar gaya Baten ye sun ke kehne lage Shah-e-bahr-o-bar Ya Rab juda na ho kisi man se jawan pisar Jab khatima ba-khair hua fauj-e-Shah ka Jis dam nagin-e-khatam-e-Payambaran gira 1 Jis dam nagin-e-khatam-e-Payambaran gira Raunaq uthi zamin se, Imam-e-Zaman gira Girne pe sab guruh liye barchhiyan gira Haye na un jafaon pe bhi asman gira Zahra se puchhiye ye talluq nur-e-ain ka Putla zamin ka aur tarapna Husain ka 2 Zainab ka wo tarapna, wo ghabrana yas ka Wo thartharana dil ka, wo urna hawas ka Kehna palak palak ke ye kalima-e-hiras ka Ay Shimr, wasta Ali Asghar ki pyas ka Lillah tin roz ke pyase ko chhor de Sadqa Nabi ka un ke nawase ko chhor de 3 Tum ja Khuda ko man, Habib-e-Khuda ko man Zahra ko man, Hazrat-e-Mushkil-kusha ko man Saugand-e-fakhr-o-Fateh-e-Aal-e-Aba ko man Apni Rasulzadi ki tu iltija ko man Sare buzurg mar gaye mujh bad-nasib ke Mera koi nahin hai siwa is gharib ke
جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہؑ کا — جاری 7 یہ کہہ کے پیاری بیٹی سے، دیکھا ادھر ادھر پوچھا کدھر ہیں بازوئے ناشاد و نوحہ گر فضّہ نے عرض کی کہ ادھر بیٹھی ہیں سر رخصت کی بھی حضور کی اُن کو نہیں خبر لب پر گھڑی گھڑی علی اکبرؑ کا نام ہے چلیے ذرا کہ کام اب اُن کا تمام ہے 8 سن کر صدا حسینؑ کی چونکی وہ نوحہ گر کی عرض سر جھکا کے قدم پر بچشمِ تر تنہا حضور آئے ہیں باندھے ہوئے کمر صاحب کہاں ہے مقتول والا مرا پسر ایسا نہیں جو دکھ میں جدا ہوؤں باپ سے اپنے مراد والے کو لوں گی میں آپ سے 9 اے جانِ فاطمہؑ مرا پیارا کدھر گیا آقاں کی زندگی کا سہارا کدھر گیا وہ تین دن کی پیاس کا مارا کدھر گیا سیدانیوں کی آنکھ کا تارا کدھر گیا باتیں یہ سن کے کہنے لگے شاہِ بحر و بر یارب جدا نہ ہو کسی ماں سے جوان پسر جب خاتمہ بخیر ہوا فوجِ شاہؑ کا جس دم نگیںِ خاتمِ پیغمبراں گرا 1 جس دم نگیںِ خاتمِ پیغمبراں گرا رونق اٹھی زمیں سے، امامِ زماں گرا گرنے پہ سب گروہ لئے برچھیاں گرا ہے ہے نہ اُن جفاؤں پہ بھی آسماں گرا زہرا سے پوچھئے یہ تعلق نورِ عین کا پتلا زمیں کا اور تڑپنا حسینؑ کا 2 زینبؑ کا وہ تڑپنا، وہ گھبرانا یاس کا وہ تھرتھرانا دل کا، وہ اڑنا حواس کا کہنا پلک پلک کے یہ کلمۂ ہراس کا اے شمر، واسطہ علی اصغرؑ کی پیاس کا للّٰہ تین روز کے پیاسے کو چھوڑ دے صدقہ نبیؐ کا اُن کے نواسے کو چھوڑ دے 3 تم جا خدا کو مان، حبیبِ خدا کو مان زہرا کو مان، حضرتِ مشکل کشا کو مان سوگندِ فخر و فاتحِ آلِ عبا کو مان اپنی رسول زادی کی تو التجا کو مان سارے بزرگ مر گئے مجھ بدنصیب کے میرا کوئی نہیں ہے سوا اس غریب کے

213

Jis dam nagin-e-khatam-e-Payambaran gira — jari 4 Ay Shimr main gale se laga lun to zabh kar Bhai se mil ke khaime mein ja lun to zabh kar Kuchh dard apne dil ka suna lun to zabh kar Syed ko qibla-ru main lita lun to zabh kar Pani to bhul ke pyase ko ay bad-khisal de Hai waqt-e-zabh ankhon pe kapra to dal de 5 Ay Shimr tujh ko Khaliq-e-Akbar ka wasta Ay Shimr tujh ko Ruh-e-Payambar ka wasta Ay Shimr tujh ko Haider-e-Safdar ka wasta Ay Shimr tujh ko nanhe se Asghar ka wasta Lillah na zabh Shah-e-Mashriqain ko Main bhik mangti hun mujhe de Husain ko 6 Ye kehte kehte sust hui, dam ukhar gaya Sar pit-ti ye reh gayi, sar-e-Shah ka kat gaya Yun lash par giri ke jigar sab ka phat gaya Banhein gale mein dal ke lashe lipat gaya Man ki tarah thi ashiq-e-Shah-e-Zaman bahen Ye bhai bhai kehti thi lashe pe bahen 7 Ye din wo hai ke qatl hue Sarwar-e-Zaman Balwe mein be-rida hui sheron ki bahen Duba lahu mein aaj Sakina ka pairahan Shahzadiyan ke shane mein bandhi gayi rasan Ye din hai rukhsat-e-Shah-e-Aali-maqam ka Matam karo Husain alaihissalam ka 8 Madfun hue na Shah-e-Zaman, wa musibata Mumkin hua na ghusl-o-kafan, wa musibata Bhai ko ro saki na bahen, wa musibata Kaise uthaye ranj-o-mihan, wa musibata Gham aaj tak hai khalq mein taza Husain ka Utha na Karbala mein janaza Husain ka Jis dam nagin-e-khatam-e-Payambaran gira
جس دم نگیںِ خاتمِ پیغمبراں گرا — جاری 4 اے شمر میں گلے سے لگالوں تو ذبح کر بھائی سے مل کے خیمے میں جالوں تو ذبح کر کچھ درد اپنے دل کا سنالوں تو ذبح کر سید کو قبلہ رو میں لٹالوں تو ذبح کر پانی تو بھول کے پیاسے کو اے بد خصال دے ہے وقتِ ذبح آنکھوں پہ کپڑا تو ڈال دے 5 اے شمر تجھ کو خالقِ اکبر کا واسطہ اے شمر تجھ کو روحِ پیمبرؐ کا واسطہ اے شمر تجھ کو حیدرِ صفدرؑ کا واسطہ اے شمر تجھ کو ننھے سے اصغرؑ کا واسطہ للّٰہ نہ ذبح شہِ مشرقین کو میں بھیک مانگتی ہوں مجھے دے حسینؑ کو 6 یہ کہتے کہتے سست ہوئی دم اکھڑ گیا سر پیٹتی یہ رہ گئی سرِ شہ کا کٹ گیا یوں لاش پر گری کہ جگر سب کا پھٹ گیا بانہیں گلے میں ڈال کے لاشے لپٹ گیا ماں کی طرح تھی عاشقِ شاہِ زمن بہن یہ بھائی بھائی کہتی تھی لاشے پہ بہن 7 یہ دن وہ ہے کہ قتل ہوئے سرورِ زمن بلوے میں بے ردا ہوئی شیروں کی بہن ڈوبا لہو میں آج سکینہؑ کا پیرہن شہزادیاں کے شانے میں باندھی گئی رسن یہ دن ہے رخصتِ شہِ عالی مقام کا ماتم کرو حسینؑ علیہ السلام کا 8 مدفون ہوئے نہ شاہِ زمن، وا مصیبتا ممکن ہوا نہ غسل و کفن، وا مصیبتا بھائی کو رو سکی نہ بہن، وا مصیبتا کیسے اٹھائے رنج و محن، وا مصیبتا غم آج تک ہے خلق میں تازہ حسینؑ کا اٹھا نہ کربلا میں جنازہ حسینؑ کا جس دم نگیں خاتم پیغمبراں گرا

214

Pyasa hai kai din se Yadullah ka jani 1 Pyasa hai kai din se Yadullah ka jani Kehte hain kuchh aur munh se nikal jata hai pani Zakhmi ko na hoti hai bahut tishna-dahani Ek bund bhi dete nahin wo zulm ke bani Tanha ko hain shamshir pe shamshir lagate Wo kehta hai pani do, ye hain tir lagate 2 Kehta hai koi Qasim be-par ko nikalo Kehta hai koi apne baradar ko nikalo Nahin koi kehta hai ke Akbar ko nikalo Phir tir se maren Ali Asghar ko nikalo Arse mein bahut hath aap ko milte nahin dekha Maidan mein Zainab ko nikalte nahin dekha 3 Farmate the Shah lashe Akbar pe ye ja kar Baba ki madad karne ko utho Ali Akbar Sunte ho mujhe kehte hain kya kya ye sitamgar Dekho hain sitamon se hamein karte hain be-par Tole hue shamshir har ek dushman-e-din hai Allah to ek sar pe hai aur koi nahin hai 4 Shah lash-e-Alamdar se farmate the ro ro Abbas Ali jald madad karne ko utho Talwaren lagate hain hamein zalim bad-khu Ay rahat-e-jaan bhai ki mazlumi ko dekho Is dam koi hamdam hai na yawar hai hamara Khanjar to hazaron hain aur ek sar hai hamara 5 Shah ne kaha ghore se ke ay asp-e-wafadar Jao to abhi ke ab hota hai be-sar tera sawar Hamdam mere ab bazu-e-be-kas se khabardar Le jaiyo jis samt chali jaye wo nachar Jaan apni na tu tir-e-Shah-e-jinn-o-bashar de Ja Ahl-e-Haram ko mere marne ki khabar de 6 Puchhe mujhe Baba Sakina to sunana Bibi tera Baba hua Jannat ko rawana Hoga na ab Syed-e-Mazlum ka aana Raton ko na nind aaye to ansu na bahana Hum to rah-e-Mabud mein ab marte hain Bibi Bin bap ke bachche nahin zinda rehte hain Bibi Pyasa hai kai din se Yadullah ka jani Mir Anees
پیاسا ہے کئی دن سے یداللہؑ کا جانی 1 پیاسا ہے کئی دن سے یداللہؑ کا جانی کہتے ہیں کچھ اور منہ سے نکل جاتا ہے پانی زخمی کو نہ ہوتی ہے بہت تشنہ دہانی ایک بوند بھی دیتے نہیں وہ ظلم کے بانی تنہا کو ہیں شمشیر پہ شمشیر لگاتے وہ کہتا ہے پانی دو، یہ ہیں تیر لگاتے 2 کہتا ہے کوئی قاسمؑ بے پر کو نکالو کہتا ہے کوئی اپنے برادر کو نکالو نہیں کوئی کہتا ہے کہ اکبرؑ کو نکالو پھر تیر سے ماریں علی اصغرؑ کو نکالو عرصہ ہوا ہاتھ آپ کو ملتے نہیں دیکھا میدان میں زینبؑ کو نکلتے نہیں دیکھا 3 فرماتے تھے شہِ لاشے اکبرؑ پہ یہ جا کر بابا کی مدد کرنے کو اٹھو علی اکبرؑ سنتے ہو مجھے کہتے ہیں کیا کیا یہ ستمگر دیکھو ہیں ستموں سے ہمیں کرتے ہیں بے پر تولے ہوئے شمشیر ہر اک دشمنِ دیں ہے اللہ تو اک سر پہ ہے اور کوئی نہیں ہے 4 شہؑ لاشِ علمدار سے فرماتے تھے رو رو عباسؑ علی جلد مدد کرنے کو اٹھو تلواریں لگاتے ہیں ہمیں ظالم بدخو اے راحتِ جاں بھائی کی مظلومی کو دیکھو اس دم کوئی ہمدم ہے نہ یاور ہے ہمارا خنجر تو ہزاروں ہیں اور اک سر ہے ہمارا 5 شہؑ نے کہا گھوڑے سے کہ اے اسپِ وفادار جاؤ تو ابھی کہ اب ہوتا ہے بے سر ترا سوار ہمدم مرے اب بازوئے بے کس سے خبردار لے جائیو جس سمت چلی جائے وہ ناچار جان اپنی نہ تو تیرِ شہِ جن و بشر دے جا اہلِ حرم کو مرے مرنے کی خبر دے 6 پونچھے مجھے بابا سکینہؑ تو سنانا بی بی ترا بابا ہوا جنت کو روانہ ہوگا نہ اب سیدِ مظلوم کا آنا راتوں کو نہ نیند آئے تو آنسو نہ بہانا ہم تو رہِ معبود میں اب مرتے ہیں بی بی بن باپ کے بچے نہیں زندہ رہتے ہیں بی بی پیاسا ہے کئی دن سے یداللہؑ کا جانی میر انیس

215

Luta gaya jo Aal-e-Muhammad ka karwan 1 Luta gaya jo Aal-e-Muhammad ka karwan Afsurda-o-malul Haram mein thin bibiyan Uthta tha dil se Zainab-e-maghmum ka dhuan Tanha zamin par the Imam-e-falak-nishan Saye mein sabr-o-zabt-o-raza ke dhale hue Chehre pe khak-e-turbat-e-Asghar male hue 2 Yun ho rahi thi Ruh-e-Payambar se guftagu Nana Khuda ne aaj kiya mujh ko surkh-ru Islam ko mitane lage din ke adu Batil ke dil mein reh gayi nayab arzu Kya aakhirin hai chehra-e-Haq dekhiye Gul-rang hai zamin ka waraq dekhiye 3 Is ka nahin malal ke khud tishna-lab hain hum Sahil pe hai gira hua Abbas ka alam Tarikh-e-rozgar pe hai khun se raqam Saqqa-e-Ahl-e-Bait ke bazu hue qalam Reti pe ek nishan-e-wafa sabt reh gaya Pani ke sath khun-e-Alamdar beh gaya 4 Akbar ke zakhm-e-sine se ubla tha jo lahu Us ne barhai aap ke waris ki aabru Aisi jawan maut ke rone lage adu Aisi ajal ki hogi farishton ko arzu Rishta Khuda se aur rag-e-gardan kati hui Kya saj rahi thin khak se zulfein ati hui 5 Kis shan se shahid hua Qasim jawan Naushah jaise koi chala ho suye jinan Sehre ke phul husn-e-amal ke fasana-khwan Ek ek zakhm, zauq-e-shahadat ki dastan Islam sarbuland hua, is inhaq mein Apna shabab aap milaya hai khak mein 6 Dekha hai sab ne Aun-o-Muhammad ka shauq-e-jang Kaisi shahid hone ki donon mein thi umang Donon ki ek shan thi, donon ka ek dhang Donon jama gaye dil-e-batil pe apna rang Donon se maut aa ke ham-aghosh ho gayi [Aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh]
لوٹا گیا جو آلِ محمدؐ کا کارواں 1 لوٹا گیا جو آلِ محمدؐ کا کارواں افسردہ و ملول حرم میں تھیں بیبیاں اٹھتا تھا دل سے زینبؑ مغزوم کا دھواں تنہا زمین پر تھے امام فلک نشاں سائے میں صبر و ضبط و رضا کے ڈھلے ہوئے چہرے پہ خاکِ تربتِ اصغرؑ ملے ہوئے 2 یوں ہو رہی تھی روحِ پیمبرؐ سے گفتگو نانا خدا نے آج کیا مجھ کو سرخ رو اسلام کو مٹانے لگے دین کے عدو باطل کے دل میں رہ گئی نایاب آرزو کیا آخریں ہے چہرۂ حق دیکھیے گل رنگ ہے زمین کا ورق دیکھیے 3 اس کا نہیں ملال کہ خود تشنہ لب ہیں ہم ساحل پہ ہے گرا ہوا عباسؑ کا علم تاریخ روزگار پہ ہے خون سے رقم سقائے اہل بیت کے بازو ہوئے قلم ریتی پہ اک نشانِ وفا ثبت رہ گیا پانی کے ساتھ خونِ علمدار بہہ گیا 4 اکبرؑ کے زخمِ سینے سے ابلا تھا جو لہو اس نے بڑھائی آپ کے وارث کی آبرو ایسی جوان موت کہ رونے لگے عدو ایسی اجل کی ہوگی فرشتوں کو آرزو رشتہ خدا سے اور رگِ گردن کٹی ہوئی کیا سج رہی تھیں خاک سے زلفیں اٹی ہوئی 5 کس شان سے شہید ہوا قاسمؑ جواں نوشاہ جیسے کوئی چلا ہو سوئے جناں سہرے کے پھول حسنِ عمل کے فسانہ خواں اک ایک زخم، ذوقِ شہادت کی داستاں اسلام سربلند ہوا، اس انہاک میں اپنا شباب آپ ملایا ہے خاک میں 6 دیکھا ہے سب نے عونؑ و محمدؑ کا شوقِ جنگ کیسی شہید ہونے کی دونوں میں تھی امنگ دونوں کی ایک شان تھی، دونوں کا ایک ڈھنگ دونوں جما گئے دلِ باطل پہ اپنا رنگ دونوں سے موت آ کے ہم آغوش ہوگئی [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

216

Luta gaya jo Aal-e-Muhammad ka karwan — jari 7 Go tishna-kam tha mera shish-maha ghamgin jaan Lab the jo khushk khushk to sukhi hui zaban Us ne bhi muskura ke diya apna imtihan [Chautha misra juzwi taur par ghair wazeh] Ab hashr tak wo reh na sakegi sukun se Jitni zamin tar hui Asghar ke khun se 8 Wo aap ke nawase ke ansar-e-jaan-nisar Thi jin ke dam se gulshan-e-Islami bahar Sab ho gaye shahid paye izzat-o-waqar Duniya na payegi bhi aise wafa-shiar Qurbani un ki dahr mein khali na jayegi Gard un ke naam pe bhi dali na jayegi 9 Ay meri dil-figar bahen ay mere Haram Pichhe hate na rah-e-raza se kabhi qadam Achchha bas ab supurd-e-Khuda, ja rahe hain hum Kuchh aur zulm dhayenge ye bani-e-sitam Lutenge mere baad ye khaime jalayenge Khakistar-e-khiyam hawa mein urayenge 10 Ay zindagi ki wadi-e-purkhar, alwida Ay roz-e-tabnak-o-shab-e-tar, alwida Ay tishna-lab Sakina tumhein pyar, alwida Kar tu faza ho Abid bimar, alwida Awaz degi Fatima ke nur-e-ain ko Layegi ab zamin kahan se Husain ko Luta gaya jo Aal-e-Muhammad ka karwan Ata Akbarabadi
لوٹا گیا جو آلِ محمدؐ کا کارواں — جاری 7 گو تشنہ کام تھا مرا ششماہہ غمگیں جاں لب تھے جو خشک خشک تو سوکھی ہوئی زباں اس نے بھی مسکرا کے دیا اپنا امتحاں [چوتھا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اب حشر تک وہ رہ نہ سکے گی سکون سے جتنی زمین تر ہوئی اصغر کے خون سے 8 وہ آپ کے نواسے کے انصارِ جاں نثار تھی جن کے دم سے گلشنِ اسلامی بہار سب ہوگئے شہید پئے عزت و وقار دنیا نہ پائے گی بھی ایسے وفا شعار قربانی ان کی دہر میں خالی نہ جائے گی گرد ان کے نام پہ بھی ڈالی نہ جائے گی 9 اے میری دل فگار بہن اے مرے حرم پیچھے ہٹے نہ راہِ رضا سے کبھی قدم اچھا بس اب سپردِ خدا، جا رہے ہیں ہم کچھ اور ظلم ڈھائیں گے یہ بانیِ ستم لوٹیں گے میرے بعد یہ خیمے جلائیں گے خاکسترِ خیام، ہوا میں اڑائیں گے 10 اے زندگی کی وادیِ پرخار، الوداع اے روزِ تابناک و شبِ تار، الوداع اے تشنہ لب سکینہؑ تمہیں پیار، الوداع کر تو فضا ہو عابد بیمار، الوداع آواز دے گی فاطمہؑ کے نورِ عین کو لائے گی اب زمین کہاں سے حسینؑ کو لوٹا گیا جو آل محمد کا کارواں عطا اکبر آبادی

217

Gharat-e-khaima-e-Sarwar ko jab aaye aada 1 Gharat-e-khaima-e-Sarwar ko jab aaye aada Thin talwaren liye be-adab aaye aada Shor bibiyon mein hua, hai ghazab aaye aada Koi waris na raha, sar pe ab aaye aada Ab kis ki hai, kaun aah bachaye hum ko In jafakaron se Allah bachaye hum ko 2 Ba-bayan karti thin faryad ke hum lutte hain Ay Khuda tere Payambar ke Haram lutte hain Aaj be-jurm ye paband-e-alam lutte hain Yun musafir kabhi pardes mein kam lutte hain Aag parde ki qanaton mein laga di, haye haye Mimbar-e-Ahmad-e-Mukhtar jala di, haye haye 3 Thi yahan Aal-e-Nabi mein ye fughan-o-zari Itne mein rakh huin jal ke qanatein sari Nikle maidan mein ghabra ke Haram ek bari Barchhiyan tane hue gird the un ke nari Zarra sine mein kisi Bibi ki sans atki thi Larkhara kar koi bachche ke liye gir pari thi 4 Pani gharat se jo aada ne faraghat ek bar Umar-e-Saad se ek Shami ne ye ki guftar Lut chuki Badshah-e-kaun-o-makan ki sarkar Koi shai lashkariyon ne ab nahin chhori zinhar Haram-e-Shah mein ab aur to kya baqi hai Sar pe bibiyon ke bas ek rida baqi hai 5 Shimr bola ke ridaon ko bhi lo jald utar Nahin hakim ke gunahgaron ko parda darkar Sar barahna rahen namus-e-Rasul-e-Mukhtar Be-kasaon ko jo hon unt karo un pe sawar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Jitna ro ro ke ye chillayen saza hai in ki 6 Sar-e-Zainab se rida lene lage jab azlam Thartharai thi zamin, palta tha Arsh-e-Azam Ro ke wo kehti thi ay zalim zara ki qasam Maryam-o-Hajra se martaba mera nahin kam Ghazab-e-Haq se kahan bach ke nikal paoge Aah ek aisi karungi ke jal jaoge
غارت خیمۂ سرور کو جب آئے اعداء 1 غارتِ خیمۂ سرور کو جب آئے اعداء تھی تلواریں لئے بے ادب آئے اعداء شور بیبوں میں ہوا، ہے غضب آئے اعداء کوئی وارث نہ رہا، سر پہ اب آئے اعداء اس اب کس کی ہے کون آہ بچائے ہم کو ان جفا کاروں سے اللہ بچائے ہم کو 2 با بیان کرتی تھیں فریاد کہ ہم لٹتے ہیں اے خدا تیرے پیمبر کے حرم لٹتے ہیں آج بے جرم یہ پابندِ الم لٹتے ہیں یوں مسافر کبھی پردیس میں کم لٹتے ہیں آگ پردے کی قناتوں میں لگا دی، ہے ہے منبرِ احمدِ مختار جلا دی، ہے ہے 3 تھی یہاں آلِ نبیؐ میں یہ فغان و زاری اتنے میں راکھ ہوئیں جل کے قناتیں ساری نکلے میدان میں گھبرا کے حرم اک باری برچھیاں تانے ہوئے گرد تھے اُن کے ناری ذرّے سینے میں کسی بی بی کی سانس اٹکی تھی لڑکھڑا کر کوئی بچے کیلئے گر پڑی تھی 4 پانی غارت سے جو اعداء نے فراغت اکبار عمرِ سعد سے اک شامی نے یہ کی گفتار لٹ چکی بادشہ کون و مکاں کی سرکار کوئی شے لشکریوں نے اب نہیں چھوڑی زینہار حرمِ شاہؑ میں اب اور تو کیا باقی ہے سر پہ بیبیوں کے بس ایک ردا باقی ہے 5 شمر بولا کہ رداؤں کو بھی لو جلد اتار نہیں حاکم کے گنہگاروں کو پردہ درکار سر برہنہ رہیں ناموسِ رسولِ مختار بے کساؤ کہ جو ہوں اونٹ کرو ان پہ سوار [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جتنا رو رو کے یہ چلائیں سزا ہے ان کی 6 سرِ زینبؑ سے ردا لینے لگے جب اظلم تھرتھرائی تھی زمیں، پلٹا تھا عرشِ اعظم رو کے وہ کہتی تھی اے ظالم ذرا کی قسم مریم و ہاجرہ سے مرتبہ میرا نہیں کم غضب حق سے کہاں بچ کے نکل پاؤ گے آہ اک ایسی کروں گی کہ جل جاؤ گے

218

Gharat-e-khaima-e-Sarwar ko jab aaye aada — jari 7 Chhor do gosha-e-chadar ko mere pas na aao Bint-e-Zahra hun Nabi-zadi hun mujh ko na satao [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Tum ko lazim tha ba-izzat hamein parde mein bithao Lut kar zer-o-zabar phir mujhe dukh dete ho Ek rida baqi hai us ko bhi le lete ho 8 Chhinte ho wo rida jis mein hain sau sau paiwand Haq ko ye zulm kisi taur na hoga pasand Kahenge hashr mein qudsi ye ba-awaz buland Nange sar Fatima aati hai karo ankhen band Us ki beti ki rida chhin ke kya paoge Aaj ke zulm ki mahshar mein saza paoge 9 Us ke ye dast-e-sitam sab ne barhaya ek bar Aur rida haye ghazab li sar-e-Zainab se utar Haq se faryad jo karne lagi wo sina-figar Aai maqtal se ye awaz Imam-e-Abrar Mat karo shikwa, agar bhai hai pyara Zainab Azmata hai Khuda sabr tumhara Zainab 10 Gham na khao jo rida le gaye sar se dushman Dekh sakta hai koi nur-e-ilahi ko bahen Lakh lab pe na zinhar shikayat ka sukhan Jalti reti pe hai uryan hamara bhi badan Hai qasam tujh ko Khaliq ne banaya hum ko Na rida tum ko mayassar hai na saya hum ko Gharat-e-khaima-e-Sarwar ko jab aaye aada Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Syed Zulfiqar Husain Rizvi Ibn Syed Zahir Hasan Rizvi Syed Muhammad Mahfuz Haider Rizvi Ibn Syed Zulfiqar Husain Rizvi Syeda Tahira Banu bint Syed Amanat Ali Syeda Anees Banu bint Syed Sharaf Ali Syed Shabih-ul-Hasan Naqvi ibn Syed Zahid Husain Naqvi
غارت خیمۂ سرور کو جب آئے اعداء — جاری 7 چھوڑ دو گوشۂ چادر کو مرے پاس نہ آؤ بنتِ زہرا ہوں نبی زادی ہوں مجھ کو نہ ستاؤ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تم کو لازم تھا بہ عزت ہمیں پردہ میں بٹھاؤ لوٹ کر زیر و زبر پھر مجھے دکھ دیتے ہو ایک ردا باقی ہے اس کو بھی لے لیتے ہو 8 چھینتے ہو وہ ردا جس میں ہیں سو سو پیوند حق کو یہ ظلم کسی طور نہ ہوگا پسند کہیں گے حشر میں قدسی یہ بہ آواز بلند ننگے سر فاطمہؑ آتی ہے کرو آنکھیں بند اس کی بیٹی کی ردا چھین کے کیا پاؤ گے آج کے ظلم کی محشر میں سزا پاؤ گے 9 اس کے یہ دستِ ستم سب نے بڑھایا اکبار اور ردا ہائے غضب لی سرِ زینبؑ سے اتار حق سے فریاد جو کرنے لگی وہ سینہ فگار آئی مقتل سے یہ آواز امام ابرار مت کرو شکوہ، اگر بھائی ہے پیارا زینبؑ آزماتا ہے خدا صبر تمہارا زینبؑ 10 غم نہ کھاؤ جو ردا لے گئے سر سے دشمن دیکھ سکتا ہے کوئی نورِ الٰہی کو بہن لاکھ لب پہ نہ زینہار شکایت کا سخن جلتی ریتی پہ ہے عریاں ہمارا بھی بدن ہے قسم تجھ کو خالق نے بنایا ہم کو نہ ردا تم کو میسر ہے نہ سایہ ہم کو غارت خیمۂ سرور کو جب آئے اعداء التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصال ثواب سید ذوالفقار حسین رضوی ابن سید ظہیر حسن رضوی سید محمد محفوظ حیدر رضوی ابن سید ذوالفقار حسین رضوی سیدہ طاہرہ بانو بنت سید امانت علی سیدہ انیس بانو بنت سید شرف علی سید شبیہ الحسن نقوی ابن سید زاہد حسین نقوی

219

Jab rukhsat-e-Husain ka hangam aa gaya 1 Jab rukhsat-e-Husain ka hangam aa gaya Aaye zamin pe ghore se sajde mein sar jhuka Qatil wo astin charhata hua barha Banhein ye Ruh-e-Sayyida ne sar pe [juzwi taur par ghair wazeh] Khanjar phira to man ka kaleja ulat gaya Zahra ki god mein sar-e-Shabbir kat gaya 2 Quran ke muhafiz-o-yawar chale gaye Abbas-o-Qasim-o-Ali Akbar chale gaye Had hai ke chhe mahine ke Asghar chale gaye Ab kya raha ke Sibt-e-Payambar chale gaye Lashein pari hain ganj-e-shahidan ki khak mein Quran bikhar gaya hai biyaban ki khak mein 3 Wo janib-e-khiyam barhi fauj-e-ashqiya Sar khole sath sath chali Bint-e-Mustafa Lutne lage khiyam, saron se chhini rida Khaime se nikli Zainab-e-muztar barahna pa Aghosh mein chhupa ke Khuda ke kalam ko Bazu pakar ke le chalin bimar Imam ko 4 Zainab chali thin khaime se jab ho ke be-rida [Dusra misra juzwi taur par ghair wazeh] Ek bar suye alam-e-arwah rukh kiya Dekha ke dekhte hain idhar hi ko Mustafa [Pehla misra juzwi taur par ghair wazeh] Dekha pidar ko ankh se ansu nikal pare 5 Farmaya ro ke dekhte hain aap Ya Nabi Ummat ne jo Huzur ki izzat ki qadardani Baba sila tha kya meri khidmat ka yahi Baba mera Husain, meri kokh ujar gayi Baba qusur kya tha mere nur-e-ain ka Baba chhuri se kata gaya sar Husain ka 6 Baba adu mariz ka bistar bhi le gaye Khaime se gahwara-e-Asghar bhi le gaye Zalim yatim bachchon ke gauhar bhi le gaye Zainab ke sar se chhin ke chadar bhi le gaye Jaye kahan ke aag lagi hai khiyam mein Sar nange meri beti gayi hai balwa-e-aam mein
جب رخصت حسینؑ کا ہنگام آ گیا 1 جب رخصت حسینؑ کا ہنگام آ گیا آئے زمیں پہ گھوڑے سے سجدے میں سر جھکا قاتل وہ آستین چڑھاتا ہوا بڑھا بانہیں یہ روحِ سیدہؑ نے سر پہ [جزوی طور پر غیر واضح] خنجر پھرا تو ماں کا کلیجہ الٹ گیا زہرا کی گود میں سرِ شبیرؑ کٹ گیا 2 قرآن کے محافظ و یاور چلے گئے عباسؑ و قاسمؑ و علی اکبرؑ چلے گئے حد ہے کہ چھے مہینے کے اصغرؑ چلے گئے اب کیا رہا کہ سبطِ پیمبرؐ چلے گئے لاشیں پڑی ہیں گنجِ شہیداں کی خاک میں قرآن بکھر گیا ہے بیاباں کی خاک میں 3 وہ جانبِ خیام بڑھی فوجِ اشقیا سر کھولے ساتھ ساتھ چلی بنتِ مصطفیٰؐ لٹنے لگے خیام، سروں سے چھنی ردا خیمے سے نکلی زینبِ مضطر برہنہ پا آغوش میں چھپا کے خدا کے کلام کو بازو پکڑ کے لے چلیں بیمار امام کو 4 زینبؑ چلی تھیں خیمے سے جب ہو کے بے ردا [دوسرا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اک بار سوئے عالمِ ارواح رخ کیا دیکھا کہ دیکھتے ہیں ادھر ہی کو مصطفیٰؐ [پہلا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] دیکھا پدر کو آنکھ سے آنسو نکل پڑے 5 فرمایا رو کے دیکھتے ہیں آپ یا نبیؐ امت نے جو حضورؐ کی عزت کی قدردانی بابا صلہ تھا کیا مری خدمات کا یہی بابا مرا حسینؑ، مری کوکھ اجڑ گئی بابا قصور کیا تھا مرے نورِ عین کا بابا چھری سے کاٹا گیا سر حسینؑ کا 6 بابا عدو مریض کا بستر بھی لے گئے خیمے سے گاہوارۂ اصغرؑ بھی لے گئے ظالم یتیم بچوں کے گوہر بھی لے گئے زینبؑ کے سر سے چھین کے چادر بھی لے گئے جائے کہاں کہ آگ لگی ہے خیام میں سر ننگے میری بیٹی گئی ہے بلوائے عام میں

220

Jo Karbala mein hui Shah par jafa suniye 1 Jo Karbala mein hui Shah par jafa suniye Ba-waqt-e-asr, Shah-e-din ka majra suniye Bayan-e-himmat-o-sabr-e-Shah-e-Huda suniye Wo aah hai Malak-ul-Maut ki sada suniye Mila jo hukm ke sar se nikal jaan-e-Husain Kaha ke sakht hai Ya Rab, ye imtihan-e-Husain 2 Laga hai zakhm-e-tir, beh raha hai sar se lahu Bhare hain khun mein jaan-e-Rasul ke gesu Qarib jaye rakhun dil pe kis tarah qabu Ke is lahu mein to hai Fatima ke dudh ki bu Nida ye aai ke ankhen to dal, ankhon mein Kaha bahen ka hai is dam khayal ankhon mein 3 Nida ye aai ke gardun se khinch jaan un ki Kaha main kya karun gardan pe chal rahi hai chhuri Chhuri pakar ke ye chillati hai koi Bibi Na zabh kar mere bachche ko, main dua dungi [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ye bosa-gah-e-Risalat-Maab hai zalim 4 Baba ujar raha tha mera ghar, main pas thi Rota tha mujh pe mera muqaddar, main pas thi Jab bap se chhuta Ali Akbar, main pas thi Hansta tha tir kha ke jab Asghar, main pas thi Dekha Huzur, mujh pe jo alam guzar gaya Baba main chup rahi, mera Abbas mar gaya 5 Baba asir hai mera kunba, main kya karun Bachchon pe barhti jati hai iza, main kya karun Baba bilak rahi hai Sakina, main kya karun Baba main kya karun, mere Baba, main kya karun Kijiye dua ke sabr mujhe Kirdigar de Malik ye karb ruh ki manzil guzar de
جو کربلا میں ہوئی شاہ پر جفا سنیے 1 جو کربلا میں ہوئی شاہ پر جفا سنیے بوقتِ عصر، شہِ دیں کا ماجرا سنیے بیانِ ہمت و صبرِ شہِ ہدا سنیے وہ آہ ہے ملک الموت کی صدا سنیے ملا جو حکم کہ سر سے نکال جانِ حسینؑ کہا کہ سخت ہے یارب، یہ امتحانِ حسینؑ 2 لگا ہے زخمِ تیر، بہہ رہا ہے سر سے لہو بھرے ہیں خون میں جانِ رسولؐ کے گیسو قریب جائے رکھوں دل پہ کس طرح قابو کہ اس لہو میں تو ہے فاطمہؑ کے دودھ کی بو ندا یہ آئی کہ آنکھیں تو ڈال، آنکھوں میں کہا بہن کا ہے اس دم خیال آنکھوں میں 3 ندا یہ آئی کہ گردوں سے کھینچ جان ان کی کہا میں کیا کروں گردن پہ چل رہی ہے چھری چھری پکڑ کے یہ چلاتی ہے کوئی بی بی نہ ذبح کر مرے بچے کو، میں دعا دوں گی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] یہ بوسہ گاہِ رسالت مآب ہے ظالم 4 بابا اجڑ رہا تھا مرا گھر، میں پاس تھی روتا تھا مجھ پہ مرا مقدر، میں پاس تھی جب باپ سے چھٹا علی اکبرؑ، میں پاس تھی ہنستا تھا تیر کھا کے جب اصغرؑ، میں پاس تھی دیکھا حضور، مجھ پہ جو عالم گزر گیا بابا میں چپ رہی، مرا عباسؑ مر گیا 5 بابا اسیر ہے مرا کنبہ، میں کیا کروں بچوں پہ بڑھتی جاتی ہے ایذا، میں کیا کروں بابا بلک رہی ہے سکینہؑ، میں کیا کروں بابا میں کیا کروں، مرے بابا، میں کیا کروں کیجئے دعا کہ صبر مجھے کردگار دے مالک یہ کرب روح کی منزل گزار دے

221

[Jo Karbala mein hui Shah par jafa suniye — jari] 6 Nida ye aai ke sine se qabz kar le jaan Kaha wo dil se chhutti hai ay mere Rahman Abhi to mar ke barchhi bara hai ek shaitan Aur ab to hai chehra zanu-e-Shimr, ye Quran Ye karb hai ke rukh-e-pak zard hai Ya Rab Tere Husain ke sine mein dard hai Ya Rab 7 Nida ye aai ke mazlumiyat ke rutba-shinas Kamar se khinch le Sabir ki jaan be-waswas Kaha falak ne tarap kar ba-dard-o-hasrat-o-yas Kamar to tut gayi jab se mar gaye Abbas Nida ye aai ke un ka kamal hai chehra Kaha ke khun se Asghar ke lal hai chehra 8 Ye guftagu thi ke murjha gaya Rasul ka phul Falak se aa gaye Ruh-ul-Amin, hazin-o-malul Kaha malak ne ke munh dhanp lo baraye Rasul Pisar ki lash pe kholengi apne bal Batul Nida ye sun ke isi samt chal parin Zainab [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 9 Nasim idhar se to qudrat ki ye sada aai Idhar tarapti hui Bint-e-Murtaza aai Qarib lash jo khwahar baad-e-buka aai Akhi ke halq-e-burida se ye sada aai Koi buzurg na ab, koi khurd hai Zainab Nabi ki Aal tumhare supurd hai Zainab Professor Karrar Husain Rahma Bandagan-e-rahm-o-rukhsat apne ghar baithe rahen Karbala ek dars hai Ahl-e-Azimat ke liye Rafiq Rizvi Kyun na ho hum ko muhabbat marsiyakhwani ke sath Karbala tak aa gaye hum kitni asani ke sath
[جو کربلا میں ہوئی شاہ پر جفا سنیے — جاری] 6 ندا یہ آئی کہ سینے سے قبض کر لے جان کہا وہ دل سے چھٹتی ہے اے مرے رحمان ابھی تو مار کے برچھی بڑا ہے اک شیطان اور اب تو ہے چہرہ زانوئے شمر، یہ قرآن یہ کرب ہے کہ رخِ پاک زرد ہے یارب ترے حسینؑ کے سینے میں درد ہے یارب 7 ندا یہ آئی کہ مظلومیت کے رتبہ شناس کمر سے کھینچ لے صابر کی جان بے وسواس کہا فلک نے تڑپ کر بہ درد و حسرت و یاس کمر تو ٹوٹ گئی جب سے مر گئے عباسؑ ندا یہ آئی کہ ان کا کمال ہے چہرہ کہا کہ خون سے اصغرؑ کے لال ہے چہرہ 8 یہ گفتگو تھی کہ مرجھا گیا رسولؐ کا پھول فلک سے آگئے روح الامیں، حزیں و ملول کہا ملک نے کہ منہ ڈھانپ لو برائے رسولؐ پسر کی لاش پہ کھولیں گی اپنے بال بتولؑ ندا یہ سن کے اسی سمت چل پڑیں زینبؑ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 9 نسیم ادھر سے تو قدرت کی یہ صدا آئی ادھر تڑپتی ہوئی بنتِ مرتضیٰؑ آئی قریب لاش جو خواہر بعدِ بکا آئی اخی کے حلقِ بریدہ سے یہ صدا آئی کوئی بزرگ نہ اب، کوئی خورد ہے زینبؑ نبیؐ کی آل تمہارے سپرد ہے زینبؑ پروفیسر کرار حسین رحمہ بندگانِ رحم و رخصت اپنے گھر بیٹھے رہیں کربلا اک درس ہے اہلِ عزیمت کے لئے رفیق رضوی کیوں نہ ہو ہم کو محبت مرثیہ خوانی کے ساتھ کربلا تک آگئے ہم کتنی آسانی کے ساتھ

222

Jab ran mein qatl fauj-e-Shah-e-Karbala hui 1 Jab ran mein qatl fauj-e-Shah-e-Karbala hui Sibt-e-Rasul qatl hue, intiha hui Lekin na khatm Ahl-e-Jafa ki jafa hui Is Karbala ke baad phir ek Karbala hui Ab tak ye puchhta hai muarrikh Yazid se Rakhsh-e-Haram se thi ke Imam-e-Shahid se 2 Asghar ne kya kiya tha ke chheda gaya gala Jurm-e-Sakina kya tha ke durron ki di saza Bimar kis khata pe asir-e-jafa hua Zainab ka kya qusur tha, kyun chhin li rida Be-bas Rubab kitni thi kis dard-o-yas se Ek man ko kyun chhuraya jhule ke pas se 3 Laye gaye Haram sar-e-darbar kis liye Ruswa kiye gaye sar-e-bazar kis liye Tauq-e-giran-o-gardan-e-bimar kis liye Durron ka zulm pe israr kis liye Silsile gaye jo phul Riyaz-e-Batul ke [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 4 Allah! Baad-e-qatl-e-Shahanshah-e-ins-o-jan Kya kya na fauj-e-zulm ki thin bad-guman Wo khaime, wo dhuan, wo bachchon ki siskiyan Dil chirti wo Zainab-e-nashad ki sada Wo ek bahen se bhai ki faryad ki sada [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 5 Bhaiya tumhare baad asir-e-jafa hue Khaime jala diye gaye, hum be-rida hue Gustakh kitne aaj ye Ahl-e-Khata hue Hans hans ke puchhte hain ke Abbas kya hue Kehte hain tanz se wo dilawar kahan gaye Qasim ko kya hua, Ali Akbar kahan gaye 6 Bhaiya tumhi batao unhein kya jawab dun Bahnein roti hain, unhein kya keh ke chup karun Khud be-rida hun, kaise gharibon ke sar dhakun Bachchon ko sath le ke main kis ban mein ja chhupun Takid-e-sabr ki thi, main paband isi ki hun Lekin khayal aata hai, beti Ali ki hun
جب رن میں قتل فوجِ شہِ کربلا ہوئی 1 جب رن میں قتل فوجِ شہِ کربلا ہوئی سبطِ رسولؐ قتل ہوئے، انتہا ہوئی لیکن نہ ختم اہلِ جفا کی جفا ہوئی اس کربلا کے بعد پھر اک کربلا ہوئی اب تک یہ پوچھتا ہے مؤرخ یزید سے رخشِ حرم سے تھی کہ امامِ شہید سے 2 اصغرؑ نے کیا کیا تھا کہ چھیدا گیا گلا جرمِ سکینہؑ کیا تھا کہ دُرّوں کی دی سزا بیمار کس خطا پہ اسیرِ جفا ہوا زینبؑ کا کیا قصور تھا، کیوں چھین لی ردا بے بس رباب کتنی تھی کس درد و یاس سے اک ماں کو کیوں چھڑایا جھولے کے پاس سے 3 لائے گئے حرم سرِ دربار کس لئے رسوا کئے گئے سرِ بازار کس لئے طوقِ گراں و گردنِ بیمار کس لئے دُرّوں کا ظلم پہ اصرار کس لئے سلسلے گئے جو پھول ریاضِ بتولؑ کے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 4 اللہ! بعدِ قتلِ شہنشاہِ انس و جاں کیا کیا نہ فوجِ ظلم کی تھیں بدگماں وہ خیمے، وہ دھواں، وہ بچّوں کی سسکیاں دل چیرتی وہ زینبِ ناشاد کی صدا وہ اک بہن سے بھائی کی فریاد کی صدا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 بھیا تمہارے بعد اسیرِ جفا ہوئے خیمے جلا دیئے گئے، ہم بے ردا ہوئے گستاخ کتنے آج یہ اہلِ خطا ہوئے ہنس ہنس کے پوچھتے ہیں کہ عباسؑ کیا ہوئے کہتے ہیں طنز سے وہ دلاور کہاں گئے قاسمؑ کو کیا ہوا، علی اکبرؑ کہاں گئے 6 بھیا تمہی بتاؤ انہیں کیا جواب دوں بہنیں روتی ہیں، انہیں کیا کہہ کے چپ کروں خود بے ردا ہوں، کیسے غریبوں کے سر ڈھکوں بچوں کو ساتھ لے کے میں کس بن میں جا چھپوں تاکیدِ صبر کی تھی، میں پابند اسی کی ہوں لیکن خیال آتا ہے، بیٹی علیؑ کی ہوں

223

[Jab ran mein qatl fauj-e-Shah-e-Karbala hui — jari] 7 Jitne rahe Sakina ke gauhar, main chup rahi Jalta tha gahwara-e-Asghar, main chup rahi Khinchta raha mariz ka bistar, main chup rahi Sar se utar gayi meri chadar, main chup rahi [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Khaime to jal chuke hain, kahan le ke jaun main 8 Bhaiya kisi tarah mere Akbar ko bhej do Bhaiya Rubab roti hai, Asghar ko bhej do Abbas mere sher dilawar ko bhej do Waqt-e-madad hai Sani-e-Haider ko bhej do Shimr aa raha hai, bachchon ke kore lagayega Main kya karungi, mujh se to dekha na jayega 9 Zainab ki is sada pe qayamat hui bapa Larza hua zamin ko, falak kanpne laga Kanon mein aai Zainab-e-muztar ke ye sada Beti se jaise kehti ho ro ro ke Sayyida Zainab yahi mashiyyat-e-Dawar hai, sabr kar Ab sabr hi tere liye behtar hai, sabr kar Jab ran mein baad-e-Sham-e-Ghariban sahar hui 1 Jab ran mein baad-e-Sham-e-Ghariban sahar hui Roshan shua-e-mehr se har rahguzar hui Be-warison ki raat tarap kar basar hui Rah-e-wafa ki ek muhim aur sar hui Bhar kar nazar mein hadisa-e-Karbala barha Ab taza manzilon ki taraf qafila barha 2 Ab kaun hai jise jo sada-e-dil-e-hazin Akbar bhi dur ja chuke, Abbas bhi nahin Aakhir Nabi ki Aal ki mushkil [ghair wazeh] Durre lagate le chale bewaon ko Ahl-e-Kin Dekhi falak ne ye bhi jafa Ahl-e-Sham ki Tauq-e-giran se jakri gardan Imam ki 3 Chhote bare the ek rasan mein bandhe hue Bachche ghisat rahe the magar ro na sakte the Zalim jhatak jhatak ke asiron ko le chale Kya qahr tha, chale bhi to maqtal ki rah se Maqsad ye tha ke dil ki kharashein bhi dekh len Jate hue azizon ki lashein bhi dekh len
[جب رن میں قتل فوجِ شہِ کربلا ہوئی — جاری] 7 جتنے رہے سکینہؑ کے گوہر، میں چپ رہی جلتا تھا گہوارۂ اصغرؑ، میں چپ رہی کھنچتا رہا مریض کا بستر، میں چپ رہی سر سے اتر گئی مری چادر، میں چپ رہی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] خیمے تو جل چکے ہیں، کہاں لے کے جاؤں میں 8 بھیا کسی طرح مرے اکبرؑ کو بھیج دو بھیا رباب روتی ہے، اصغرؑ کو بھیج دو عباسؑ میرے شیر دلاور کو بھیج دو وقتِ مدد ہے ثانیِ حیدرؑ کو بھیج دو شمر آ رہا ہے، بچوں کے کوڑے لگائے گا میں کیا کروں گی، مجھ سے تو دیکھا نہ جائے گا 9 زینبؑ کی اس صدا پہ قیامت ہوئی بپا لرزہ ہوا زمیں کو، فلک کانپنے لگا کانوں میں آئی زینبِ مضطر کے یہ صدا بیٹی سے جیسے کہتی ہو رو رو کے سیدہؑ زینبؑ یہی مشیتِ داور ہے، صبر کر اب صبر ہی ترے لئے بہتر ہے، صبر کر جب رن میں بعد شامِ غریباں سحر ہوئی 1 جب رن میں بعد شامِ غریباں سحر ہوئی روشن شعاعِ مہر سے ہر رہ گزر ہوئی بے وارثوں کی رات تڑپ کر بسر ہوئی راہِ وفا کی ایک مہم اور سر ہوئی بھر کر نظر میں حادثۂ کربلا بڑھا اب تازہ منزلوں کی طرف قافلہ بڑھا 2 اب کون ہے جسے جو صدائے دلِ حزیں اکبرؑ بھی دور جا چکے، عباسؑ بھی نہیں آخر نبیؐ کی آل کی مشکل [غیر واضح] دُرّے لگاتے لے چلے بیوؤں کو اہلِ کین دیکھی فلک نے یہ بھی جفا اہلِ شام کی طوقِ گراں سے جکڑی گردن امام کی 3 چھوٹے بڑے تھے ایک رسن میں بندھے ہوئے بچے گھسٹ رہے تھے مگر رو نہ سکتے تھے ظالم جھٹک جھٹک کے اسیروں کو لے چلے کیا قہر تھا، چلے بھی تو مقتل کی راہ سے مقصد یہ تھا کہ دل کی خراشیں بھی دیکھ لیں جاتے ہوئے عزیزوں کی لاشیں بھی دیکھ لیں

224

[Jab ran mein baad-e-Sham-e-Ghariban sahar hui — jari] 4 Guzre idhar se ho ke jo ye sokhta-jigar Chala para tha lasha-e-Shah jis maqam par Zainab zamin pe gir parin ek chikh mar kar Tarpa idhar zamin pe tan-e-Shah-e-bahr-o-bar Faryad ki bahen ne jo ro kar Husain se Kaunain tharthara uthe Zainab ke bain se 5 Wo para para lash, wo dil chirti buka Wo dasht haulnak, wo [lafz ghair wazeh] hui faza Shor-e-fughan se chaunk utha dasht-e-Karbala Jaise ke zarre zarre se aati ho ye sada Bhaiya tumhare baad asir-e-jafa hue Khaime jala diye gaye, hum be-rida hue 6 Bhaiya tarap rahi thi Sakina zamin par Kanon se us ke khinche the zar jab Ahl-e-Shar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Reh reh ke man ko takti thi ya mujh pe thi nazar Hasrat se main use, wo mujhe dekhti rahi Bhaiya main kuchh na kar saki, bachchi khari rahi Jab gul chiragh-e-turbat-e-Khair-ul-Wara hua 1 Jab gul chiragh-e-turbat-e-Khair-ul-Wara hua Zahra ka lal ummat-e-jad par fida hua Sajde mein sar Imam ka tan se juda hua Faryad-e-Jibrail se arsh par bapa hua Ghul par gaya ke bhai se hamshir chhut gayi Zahra ka ghar, Rasul ki sarkar lut gayi 2 Likha hai jab shahid hue Shah-e-bahr-o-bar Nok-e-sinan pe ran mein charha be-watan ka sar Aaye Haram-sara mein sitamgar be-khatar Bazar ho gaya phir Fatima ka ghar Ghul tha har ek Bibi ki chadar utar lo Abid jo kuchh kahe to abhi sar utar lo 3 Phir to Nabi ki Aal pe kya kya jafa hui Bint-e-Ali asir hui, be-rida hui Bimar-o-khasta-hal ki achchhi dawa hui Khaime jale to aur qayamat bapa hui Banu ka shor tha na mera zakhm nikal gaya Ay mere be-zaban, tera jhula bhi jal gaya
[جب رن میں بعد شامِ غریباں سحر ہوئی — جاری] 4 گزرے ادھر سے ہو کے جو یہ سوختہ جگر چلا پڑا تھا لاشۂ شہ جس مقام پر زینبؑ زمیں پہ گر پڑیں اک چیخ مار کر تڑپا ادھر زمیں پہ تنِ شاہِ بحر و بر فریاد کی بہن نے جو رو کر حسینؑ سے کونیں تھرتھرا اٹھے زینبؑ کے بین سے 5 وہ پارہ پارہ لاش، وہ دل چیرتی بکا وہ دشت ہولناک، وہ [لفظ غیر واضح] ہوئی فضا شورِ فغاں سے چونک اٹھا دشتِ کربلا جیسے کہ ذرّے ذرّے سے آتی ہو یہ صدا بھیا تمہارے بعد اسیرِ جفا ہوئے خیمے جلا دیئے گئے، ہم بے ردا ہوئے 6 بھیا تڑپ رہی تھی سکینہؑ زمین پر کانوں سے اس کے کھینچے تھے زر جب اہلِ شر [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] رہ رہ کے ماں کو تکتی تھی یا مجھ پہ تھی نظر حسرت سے میں اسے، وہ مجھے دیکھتی رہی بھیا میں کچھ نہ کرسکی، بچی کھڑی رہی جب گل چراغِ تربتِ خیرالوریٰ ہوا 1 جب گل چراغِ تربتِ خیرالوریٰ ہوا زہرا کا لال امتِ جد پر فدا ہوا سجدے میں سر امام کا تن سے جدا ہوا فریادِ جبرئیل سے عرش پر بپا ہوا غل پڑ گیا کہ بھائی سے ہمشیر چھٹ گئی زہرا کا گھر، رسولؐ کی سرکار لٹ گئی 2 لکھا ہے جب شہید ہوئے شاہِ بحر و بر نوکِ سناں پہ رن میں چڑھا بے وطن کا سر آئے حرم سرا میں ستمگار بے خطر بازار ہوگیا پھر فاطمہؑ کا گھر غل تھا ہر ایک بی بی کی چادر اتار لو عابدؑ جو کچھ کہے تو ابھی سر اتار لو 3 پھر تو نبیؐ کی آل پہ کیا کیا جفا ہوئی بنتِ علیؑ اسیر ہوئی، بے ردا ہوئی بیمار و خستہ حال کی اچھی دوا ہوئی خیمے جلے تو اور قیامت بپا ہوئی بانو کا شور تھا نہ مرا زخم نکل گیا اے مرے بے زباں، ترا جھولا بھی جل گیا

225

[Jab gul chiragh-e-turbat-e-Khair-ul-Wara hua — jari] 4 Wo kaisi wo gharib Aal-e-Aba ki raat Aafat ka din, ghazab ka andhera, bala ki raat Pehli wo furqat-e-Shah-e-gulgun-qaba ki raat Rone ki, pitne ki, alam ki, aza ki raat Bachchon ki jaan-e-zar pe sadme hue rahe Jhulsi hui qanat mein shab bhar pare rahe 5 Muhlat jo zalimon ke sitam se mili zara Bachchon ko dhundne ko chali Bint-e-Murtaza Jab Dukhtar-e-Husain ka paya na kuchh pata Darya ki samt daur ke [lafz ghair wazeh] sada buka Khwahar pe aur taza musibat guzar gayi Abbas kuchh khabar hai, Sakina kidhar gayi 6 Ye keh ke qatl-gah mein sar ko buka gayi Suye Shahid Dukhtar-e-Khair-un-Nisa gayi Kanon mein ek yatim ki awaz aa gayi Dekha wo hal, kanp gayi, tharthara gayi Ek bachchi ek lash pe uryan hui hai Munh se na bolne ka gala kis ke ro rahi hai 7 Zainab qarib ja ke pukari ba-hal-e-zar Haye, tu kis gharib ki bachchi hai, main nisar [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Ro kar ye keh rahi hun khaime ki kainat se Baba mere bachao ko bula do Furat se 8 Sunta ye tha ke daur ke lipti ye sogwar Ro kar kaha ke ay meri bachchi tere nisar Sab ghar ko intizar hai, sab ghar ko intizar Madar bhi be-qarar hai, khwahar bhi be-qarar Mujh ko ye aas kab thi ke ab tum ko paungi Lo waris-e-ghar chalo, main thik kar sulaungi 9 Haye, ye waqt aur ye andhi, ye intishar Jangal ka bhi na khauf kiya, meri gul-izar Be-sar pare hain dasht mein lashe ba-hal-e-zar Kyun kar shanakht kar liya Baba ko, main nisar Har uzw pamal, badan pash pash hai Yan ho na ho ye [lafz ghair wazeh] ki lash hai
[جب گل چراغِ تربتِ خیرالوریٰ ہوا — جاری] 4 وہ کیسی وہ غریب آلِ عبا کی رات آفت کا دن، غضب کا اندھیرا، بلا کی رات پہلی وہ فرقتِ شہِ گلگوں قبا کی رات رونے کی، پیٹنے کی، الم کی، عزا کی رات بچوں کی جانِ زار پہ صدمے ہوئے رہے جھلسی ہوئی قنات میں شب بھر پڑے رہے 5 مہلت جو ظالموں کے ستم سے ملی ذرا بچوں کو ڈھونڈنے کو چلی بنتِ مرتضیٰؑ جب دخترِ حسینؑ کا پایا نہ کچھ پتا دریا کی سمت دوڑ کے [لفظ غیر واضح] صدا بکا خواہر پہ اور تازہ مصیبت گزر گئی عباسؑ کچھ خبر ہے، سکینہؑ کدھر گئی 6 یہ کہہ کے قتل گاہ میں سر کو بکا گئی سوئے شہید دخترِ خیر النساء گئی کانوں میں ایک یتیم کی آواز آگئی دیکھا وہ حال، کانپ گئی، تھرتھرا گئی اک بچی ایک لاش پہ عریاں ہوئی ہے منہ سے نہ بولنے کا گلا کس کے رو رہی ہے 7 زینبؑ قریب جا کے پکاری بحالِ زار ہے ہے، تو کس غریب کی بچی ہے، میں نثار [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] رو کر یہ کہہ رہی ہوں خیمے کی کائنات سے بابا مرے بچاؤ کو بلا دو فرات سے 8 سنتا یہ تھا کہ دوڑ کے لپٹی یہ سوگوار رو کر کہا کہ اے مری بچی ترے نثار سب گھر کو انتظار ہے، سب گھر کو انتظار مادر بھی بے قرار ہے، خواہر بھی بے قرار مجھ کو یہ آس کب تھی کہ اب تم کو پاؤں گی لو وارثِ گھر چلو، میں ٹھیک کر سلاؤں گی 9 ہے ہے، یہ وقت اور یہ آندھی، یہ انتشار جنگل کا بھی نہ خوف کیا، میری گلعذار بے سر پڑے ہیں دشت میں لاشے بحالِ زار کیونکر شناخت کرلیا بابا کو، میں نثار ہر عضو پامال، بدن پاش پاش ہے یاں ہو نہ ہو یہ [لفظ غیر واضح] کی لاش ہے

226

[Jab gul chiragh-e-turbat-e-Khair-ul-Wara hua — jari] 10 Us ne kaha yahi mere Baba hain, main fida Main dasht mein pukari phirti thi ja baja Baba kidhar hain, koi bata do mujhe Khuda Is lash ne pukara ke beti idhar ko aa [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Farogh-e-Sham-e-Ghariban hujum-e-afat hai 1 Farogh-e-Sham-e-Ghariban hujum-e-afat hai Qadam qadam pe naya gham, nayi musibat hai Imam hain na Alamdar, bahr-e-nusrat hai Faqat jale hue khaime hain aur Itrat hai Haram hain fikr-o-taraddud mein sar jhukaye hue Jo sarparast the sote the sar kataye hue 2 Wo dasht-e-zulm, wo tanhai, wo andheri raat Wo fikr-o-yas, wo pyaron ke dagh, wo Sadat Nabi ki ruh hifazat ko, ya Khuda ki zat Bahen se Zainab-e-dilgir ne kahi ye baat Haram mein aap rahen, bibiyon ki nusrat ko Main gird-e-khaime phirun raat bhar hifazat ko 3 Ye baat keh ke chali Bint-e-Haider-e-Karrar Zaban pe nala-o-faryad, hath mein talwar Haram-sara se jo nikli wo muztar-o-nachar To dekha aata hai khaime ki samt ek sawar Pukari Bint-e-Ali, aur samt ja bhai Ye bargah-e-Nabi hai, idhar na aa bhai
[جب گل چراغِ تربتِ خیرالوریٰ ہوا — جاری] 10 اس نے کہا یہی مرے بابا ہیں، میں فدا میں دشت میں پکاری پھرتی تھی جا بجا بابا کدھر ہیں، کوئی بتا دو مجھے خدا اس لاش نے پکارا کہ بیٹی ادھر کو آ [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] فروغِ شامِ غریباں ہجومِ آفت ہے 1 فروغِ شامِ غریباں ہجومِ آفت ہے قدم قدم پہ نیا غم، نئی مصیبت ہے امام ہیں نہ علمدار، بہرِ نصرت ہے فقط جلے ہوئے خیمے ہیں اور عترت ہے حرم ہیں فکر و تردد میں سر جھکائے ہوئے جو سرپرست تھے سوتے تھے سر کٹائے ہوئے 2 وہ دشتِ ظلم، وہ تنہائی، وہ اندھیری رات وہ فکر و یاس، وہ پیاروں کے داغ، وہ سادات نبیؐ کی روح حفاظت کو، یا خدا کی ذات بہن سے زینبؑ دلگیر نے کہی یہ بات حرم میں آپ رہیں، بیبیوں کی نصرت کو میں گردِ خیمے پھروں رات بھر حفاظت کو 3 یہ بات کہہ کے چلی بنتِ حیدرِ کرار زباں پہ نالہ و فریاد، ہاتھ میں تلوار حرم سرا سے جو نکلی وہ مضطر و ناچار تو دیکھا آتا ہے خیمے کی سمت ایک سوار پکاری بنتِ علیؑ، اور سمت جا بھائی یہ بارگاہِ نبیؐ ہے، ادھر نہ آ بھائی

227

[Farogh-e-Sham-e-Ghariban hujum-e-afat hai — jari] 4 Ruka na phir kabhi jo wo shahsawar nek-anjam Ghazab mein aa gayin sab khwahar-e-Imam [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Lagam pakri jo us sawar ne barh kar Gale mein dal din banhein sawar ne barh kar 5 Tarap ke surat-e-shakl wo jaan khone laga Jigar larazne laga, be-qarar hone laga Gham-e-Husain mein ashkon se munh ko dhone laga Kahan ke dosh pe sar zar zar rone laga Kaha na ro ke Khuda ka Wali hun ay beti Main gham-zada hun, juda Baba Ali hun ay beti 6 Pukarin haye kahan, magar khabar na mili Baba Bichhar gaya mera Akbar, khabar na mili Baba Guzar gaya Ali Asghar, khabar na mili Baba Kahan Husain ka bhi sar, khabar na mili Baba Haram ka lut gaya zewar, madad na ki tum ne Chhini ridaen, ghar madad na ki tum ne Shami jo shama-e-din-e-ilahi bujha chuke 1 Shami jo shama-e-din-e-ilahi bujha chuke Sari khiyam-e-Aal-e-Payambar jala chuke Malun sinan pe sar-e-shuhada ke charha chuke Be-din Nabi ke kunbe ko qaidi bana chuke Tha bughz aisa Aal-e-Risalat-panah se Be-warison ko le chale maqtal ki rah se 2 Jab darmiyan-e-panj shahidan hua guzar Aaye nazar azizon ke lashe lahu mein tar Sadme se be-kason ke larazne lage jigar Ankhon se Ahl-e-Bait gire kanp kanp kar Darya tha firaqi jo in dil-figaron se Lipata liya shahidon ke lashon ko sinon se 3 Lipti thi apne bete ke lashe se koi man Koi bahen thi bhai ke lashe pe nauha-khwan Darya ki samt thi koi zar-o-hazin rawan Koi akrati thi: mera bap hai kahan Ek sogwar khak urati thi dasht mein Kuchh dhundti hui chali jati thi dasht mein
[فروغِ شامِ غریباں ہجومِ آفت ہے — جاری] 4 نکا نہ پھر کبھی جو وہ شہسوار نیک انجام غضب میں آگئیں سب خواہرِ امام [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] لگام پکڑی جو اس سوار نے بڑھ کر گلے میں ڈال دیں بانہیں سوار نے بڑھ کر 5 تڑپ کے صورتِ شکل وہ جان کھونے لگا جگر لرزنے لگا، بے قرار ہونے لگا غمِ حسینؑ میں اشکوں سے منہ کو دھونے لگا کہاں کے دوش پہ سر زار زار رونے لگا کہا نہ رو کہ خدا کا ولی ہوں اے بیٹی میں غم زدہ ہوں، جدا بابا علیؑ ہوں اے بیٹی 6 پکاریں ہائے کہاں مگر خبر نہ ملی بابا بچھڑ گیا مرا اکبرؑ، خبر نہ ملی بابا گزر گیا علی اصغرؑ، خبر نہ ملی بابا کہاں حسینؑ کا بھی سر، خبر نہ ملی بابا حرم کا لٹ گیا زیور، مدد نہ کی تم نے چھینی ردائیں، گھر مدد نہ کی تم نے شامی جو شمعِ دینِ الٰہی بجھا چکے 1 شامی جو شمعِ دینِ الٰہی بجھا چکے ساری خیامِ آلِ پیمبرؐ جلا چکے ملعون ساں پہ سرِ شہدا کے چڑھا چکے بے دیں نبیؐ کے کنبے کو قیدی بنا چکے تھا بغض ایسا آلِ رسالت پناہ سے بے وارثوں کو لے چلے مقتل کی راہ سے 2 جب درمیانِ پنج شہیداں ہوا گزر آئے نظر عزیزوں کے لاشے لہو میں تر صدمے سے بے کسوں کے لرزنے لگے جگر آنکھوں سے اہل بیت گرے کانپ کانپ کر دریا تھا فراقی جو ان دل فگاروں سے لپٹا لیا شہیدوں کے لاشوں کو سینوں سے 3 لپٹی تھی اپنے بیٹے کے لاشے سے کوئی ماں کوئی بہن تھی بھائی کے لاشے پہ نوحہ خواں دریا کی سمت تھی کوئی زار و حزیں رواں کوئی اکڑاتی تھی: مرا باپ ہے کہاں اک سوگوار خاک اڑاتی تھی دشت میں کچھ ڈھونڈتی ہوئی چلی جاتی تھی دشت میں

228

[Shami jo shama-e-din-e-ilahi bujha chuke — jari] 4 Kati hui zamin jo use ek ja mili Be-tab ho ke fart-e-muhabbat se gir pari Be-sar jo dekhi lash wahan shir-khwar ki Ek bar haye munh se kaha aur ghash hui Shabbir khabar hai kaun ye aali-janab thin Asghar ki sogwar ye Umm-e-Rubab thin 5 Chalne laga jo Sham ki janib wo karwan Lashkar pe sar se uthi ye majbur-o-natawan Be-sar jo dekhi dosh pe lash-e-Shah-e-Zaman Ro kar kaha Husain, ho qurban meri jaan Saya nahin Huzur pe doshon ki umr bhar Ab main bhi zer-e-saya na baithungi umr bhar Habib Jalib Hum Ahl-e-Gham ke barhati hai hausle Jalib Ali ke naqsh-e-jigar ki ajab hikayat hai Shah Taqvi Allahabadi Dil mein khayal-e-Rauza-e-Sarwar liye hue Phirta hun sath apna muqaddar liye hue Aaj maqtal mein ajab be-sar-o-saman hain Haram 1 Aaj maqtal mein ajab be-sar-o-saman hain Haram Dil hain majruh, gale sar hain pareshan hain Haram Qatl-e-Shabbir se be-tab hain, giryan hain Haram Warison mein nahin ab koi to hairan hain Haram Zikr-e-mazlumi-e-Shah-e-Madani karte hain Kabhi aah hain to kabhi sina-zani karte hain 2 Ro ke farmati hain ye khwahar-e-Sultan-e-Anam Utho Sajjad ke ab din hua jata hai tamam Maqtal waqt hai, kuchh der mein hone ko hai sham Ab na Qasim hain, na Abbas, na Akbar, na Imam Dil pur-dard ye ek gham ki ghata chhai hai Raat hone ko hai aur Sham-e-tanhai hai 3 Kan mein ho gayi jo Sajjad ke Zainab ki sada Khol kar ankh ye ki arz baad aah-o-buka Kya kahun aap se, qabil nahin dil mera Tab zyada hai to taklif bhi hai kuchh aaj hawa Kaun mara gaya aur kaun juda hota hai Mujh ko malum nahin hai ke ye kya hota hai
[شامی جو شمعِ دینِ الٰہی بجھا چکے — جاری] 4 کٹتی ہوئی زمیں جو اسے ایک جا ملی بے تاب ہو کے فرطِ محبت سے گر پڑی بے سر جو دیکھی لاش وہاں شیر خوار کی اک بار ہائے منہ سے کہا اور غش ہوئی شبیرؑ خبر ہے کون یہ عالی جناب تھیں اصغرؑ کی سوگوار یہ امِ رباب تھیں 5 چلنے لگا جو شام کی جانب وہ کارواں لشکر پہ سر سے اٹھی یہ مجبور و ناتواں بے سر جو دیکھی دوش پہ لاشِ شہِ زماں رو کر کہا حسینؑ، ہو قربان میری جاں سایہ نہیں حضور پہ دوشوں کی عمر بھر اب میں بھی زیرِ سایہ نہ بیٹھوں گی عمر بھر حبیب جالب ہم اہلِ غم کے بڑھاتی ہے حوصلے جالب علیؑ کے نقشِ جگر کی عجب حکایت ہے شاہ تقوی اللہ آبادی دل میں خیال روضۂ سرور لئے ہوئے پھرتا ہوں ساتھ اپنا مقدر لئے ہوئے آج مقتل میں عجب بے سر و ساماں ہیں حرم 1 آج مقتل میں عجب بے سر و ساماں ہیں حرم دل ہیں مجروح، گلے سر ہیں پریشاں ہیں حرم قتلِ شبیرؑ سے بیتاب ہیں، گریاں ہیں حرم وارثوں میں نہیں اب کوئی تو حیراں ہیں حرم ذکرِ مظلومیِ شاہِ مدنی کرتے ہیں کبھی آہ ہیں تو کبھی سینہ زنی کرتے ہیں 2 رو کے فرماتی ہیں یہ خواہرِ سلطانِ انام اٹھو سجادؑ کہ اب دن ہوا جاتا ہے تمام مقتل وقت ہے، کچھ دیر میں ہونے کو ہے شام اب نہ قاسمؑ ہیں، نہ عباسؑ، نہ اکبرؑ، نہ امام دل پر درد یہ اک غم کی گھٹا چھائی ہے رات ہونے کو ہے اور شامِ تنہائی ہے 3 کان میں ہوگئی جو سجادؑ کے زینبؑ کی صدا کھول کر آنکھ یہ کی عرض بعد آہ و بکا کیا کہوں آپ سے، قابل نہیں دل میرا تب زیادہ ہے تو تکلیف بھی ہے کچھ آج ہوا کون مارا گیا اور کون جدا ہوتا ہے مجھ کو معلوم نہیں ہے کہ یہ کیا ہوتا ہے

229

[Aaj maqtal mein ajab be-sar-o-saman hain Haram — jari] 4 Sun ke ye kehne lagi Zainab shahida-jigar Le gaye lut ke asbab to sab Ahl-e-Shar Usi asbab mein wo fard bhi thi ay dilbar Sun ke kehne lage Sajjad ye ba-dida-e-tar Qatl jo hue naam un ke raqam kar lunga Fikr kuchh aur mein paband-e-alam kar lunga 5 Keh ke ye likhne lage khak pe naam-e-shuhada Yaad aaye jo wo sab karne lage aah-o-buka Dil pe ek tir laga naam jo Asghar ka likha Gham chunancha se tarpa gaye sare aaza Yaad karte the unhein jab to jigar jalta tha Tin bachchon ka kahin par na pata milta tha 6 Ro ke karne lagin Sajjad se Zainab ye kalam Jaye afsos, hai din ko ki ghari mein hai sham Dhundne bachchon ko jati hun ke ho jaye ye sham Do ijazat mujhe beta ke tumhi ab ho Imam Rasta bhul gaye hain, na idhar aayenge Dasht mein ja ke pukarungi to mil jayenge 7 Keh ke Abid se chalin khwahar-e-Sultan-e-Huda Aah-o-zar sath sar, par Fizza se kaha Wo bhi hamrah hui karti hui aah-o-buka Paon rakhti thi kahin aur kahin parta tha Ja baja dasht mein lashe jo nazar aate the Dil dharakta tha, qadam zof se tharrate the 8 Pahunchin qatl-gah, wahan paya tha jis ja ka pata Dekha us ja hai ek nur se mamur ghata Lash ek us mein pari hai, nahin sar jis ka Aur Sakina wahin baithi hui karti hai buka Ghash jo hoti hai sar-e-maut ka mil jata hai Chaunk parti hai to dil sine mein hil jata hai 9 Aain nazdik gharz Zainab shahida-jigar Baith kar le liya aghosh mein ba-dida-e-tar Bolin lipta ke kaleje se: main qurban tujh par Tu ne pehchan liya bap ka lasha kyun kar Hijr se madar-e-nashad moi jati hai Bibi ab ghar mein chalo, raat hui jati hai
[آج مقتل میں عجب بے سر و ساماں ہیں حرم — جاری] 4 سن کے یہ کہنے لگی زینبؑ شہیدہ جگر لے گئے لوٹ کے اسباب تو سب اہلِ شر اسی اسباب میں وہ فرد بھی تھی اے دلبر سن کے کہنے لگے سجادؑ یہ بادیدہ تر قتل جو ہوئے نام ان کے رقم کرلوں گا فکر کچھ اور میں پابندِ الم کرلوں گا 5 کہہ کے یہ لکھنے لگے خاک پہ نامِ شہدا یاد آئے جو وہ سب کرنے لگے آہ و بکا دل پہ اک تیر لگا نام جو اصغرؑ کا لکھا غم چنانچہ سے تڑپا گئے سارے اعضا یاد کرتے تھے انہیں جب تو جگر جلتا تھا تین بچوں کا کہیں پر نہ پتہ ملتا تھا 6 رو کے کرنے لگیں سجادؑ سے زینبؑ یہ کلام جائے افسوس، ہے دن کو کی گھڑی میں ہے شام ڈھونڈنے بچوں کو جاتی ہوں کہ ہو جائے یہ شام دو اجازت مجھے بیٹا کہ تمہی اب ہو امام راستہ بھول گئے ہیں، نہ ادھر آئیں گے دشت میں جا کے پکاروں گی تو مل جائیں گے 7 کہہ کے عابدؑ سے چلیں خواہرِ سلطانِ ہدا آہ و زار ساتھ سر، پر فضہ سے کہا وہ بھی ہمراہ ہوئی کرتی ہوئی آہ و بکا پاؤں رکھتی تھی کہیں اور کہیں پڑتا تھا جا بجا دشت میں لاشے جو نظر آتے تھے دل دھڑکتا تھا، قدم ضعف سے تھراتے تھے 8 پہنچیں قتل گہ، وہاں پایا تھا جس جا کا پتہ دیکھا اس جا ہے اک نور سے معمور گھٹا لاش اک اس میں پڑی ہے، نہیں سر جس کا اور سکینہؑ وہیں بیٹھی ہوئی کرتی ہے بکا غش جو ہوتی ہے سرِ موت کا مل جاتا ہے چونک پڑتی ہے تو دل سینے میں ہل جاتا ہے 9 آئیں نزدیک غرض زینبؑ شہیدہ جگر بیٹھ کر لے لیا آغوش میں بادیدہ تر بولیں لپٹا کے کلیجے سے: میں قرباں تجھ پر تو نے پہچان لیا باپ کا لاشہ کیوں کر ہجر سے مادرِ ناشاد موئی جاتی ہے بی بی اب گھر میں چلو، رات ہوئی جاتی ہے

230

Likhte hain rawiyan-e-jigar-soz ye kalam 1 Likhte hain rawiyan-e-jigar-soz ye kalam Jab baad-e-asr kat gaya ran mein sar-e-Imam Lashkar se Ibn-e-Saad ye bola ba-waqt-e-Sham Manzur hai hamein ke yahin aaj ho maqam Ek khaima [lafz ghair wazeh] huzur-e-nigah ho Shab-bash is mein Aal-e-Risalat-panah ho 2 Ek khaima tab alahida ran mein bapa hua Us mein hue muqim asiran-e-Karbala Taqsim fauj-e-Sham mein hone lagi ghiza Har qism ke taam muhayya the ja baja Asaish-e-taam thi har bad-khisal ko Aur faqa tera tha Muhammad ki Aal ko 3 Sardar phir gaye Umar-e-Saad se tamam Aur aa ke Ibn-e-Saad se karne lage kalam [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] 4 Wo bola kuchh kaho to sahi, main ne kya kiya Sab bole muttafiq: tujhe gharat kare Khuda Ab kya karega naam-e-Nabi tu mita diya Ya farz tujh ko Sibt-e-Payambar se bughz tha Syedaniyon se aab-o-ghiza ab jo dur hai Bechari bibiyon ka bhala kya qusur hai 5 Ye rahm hai Arab ki, hain agah is se sab Qaume Arab mein marta hai jis ka aziz jab Khana use khilate hain [lafz ghair wazeh] ke sab Arab Aur haziri bhi bhejte hain ghar mein waqt-e-shab Pyasa hai tin roz se kunba Batul ka Faqa na tuta aaj bhi Aal-e-Rasul ka 6 Ye zikr tha ke ek khabardar bola utha Han sach to hai, asiron pe ab rahm ki hai ja Jis dam main un ke khaime ke nazdik tha khara Nanhi si ek larki ne khana talab kiya Madar ne ro diya to wo be-as ho gayi Aakhir wo khane ke liye ro ro ke so gayi
لکھتے ہیں راویانِ جگر سوز یہ کلام 1 لکھتے ہیں راویانِ جگر سوز یہ کلام جب بعدِ عصر کٹ گیا رن میں سرِ امام لشکر سے ابنِ سعد یہ بولا بوقتِ شام منظور ہے ہمیں کہ یہیں آج ہو مقام اک خیمہ [لفظ غیر واضح] حضورِ نگاہ ہو شب باش اس میں آلِ رسالت پناہ ہو 2 اک خیمہ تب علاحدہ رن میں بپا ہوا اس میں ہوئے مقیم اسیرانِ کربلا تقسیم فوجِ شام میں ہونے لگی غذا ہر قسم کے طعام مہیا تھے جا بجا آسائشِ طعام تھی ہر بد خصال کو اور فاقہ تیرا تھا محمدؐ کی آل کو 3 سردار پھر گئے عمرِ سعد سے تمام اور آ کے ابنِ سعد سے کرنے لگے کلام [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 4 وہ بولا کچھ کہو تو سہی، میں نے کیا کیا سب بولے متفق: تجھے غارت کرے خدا اب کیا کرے گا نامِ نبیؐ تو مٹا دیا یا فرض تجھ کو سبطِ پیمبر سے بغض تھا سیدانیوں سے آب و غذا اب جو دور ہے بے چاری بی بیوں کا بھلا کیا قصور ہے 5 یہ رحم ہے عرب کی، ہیں آگاہ اس سے سب قومِ عرب میں مرتا ہے جس کا عزیز جب کھانا اسے کھلاتے ہیں [لفظ غیر واضح] کے سب عرب اور حاضری بھی بھیجتے ہیں گھر میں وقتِ شب پیاسا ہے تین روز سے کنبہ بتولؑ کا فاقہ نہ ٹوٹا آج بھی آلِ رسولؐ کا 6 یہ ذکر تھا کہ ایک خبردار بولا اٹھا ہاں سچ تو ہے، اسیروں پہ اب رحم کی ہے جا جس دم میں ان کے خیمے کے نزدیک تھا کھڑا ننھی سی ایک لڑکی نے کھانا طلب کیا مادر نے رو دیا تو وہ بے آس ہوگئی آخر وہ کھانے کیلئے رو رو کے سوگئی

231

[Likhte hain rawiyan-e-jigar-soz ye kalam — jari] 7 Bola Umar ye sun ke to [lafz ghair wazeh] Abbas ka to aap ko kehta hai rishtedar Us ne kaha main sab se zyada hun sharmsar Zainab ke aage sina Shimr pe hua sawar Main ne kiya shahid Shah-e-Mashriqain ko Main ne tamanche mare yatim-e-Husain ko 8 Is par Umar ne Zauja-e-Hurr ko bula liya Hamrah us ke Khwahar-e-Hashim ko bhi kiya Hashim bhi ek nadim-e-Sibt-e-Rasul tha Sath us ke auraten thin bahut ki piyadah-pa Khwano ke gird-o-pesh piyade tamam the Mashal ki roshni mein wo khwan-e-taam the 9 Mashal ki roshni pe jo Zainab ne ki nigah Bolin ke lo, phir aai hamein lutne sipah Phir is tarah pukari, hua gham se kya tabah Logo zara Khuda ke ghazab se, ye kya hai aah Koi bhi puchhta nahin is wardat ko Lutne walon ko lutne aaye ho raat ko 10 Gar aur kuchh guman ho to kar lo hamein shikar Bhaga nahin hai koi tumhara gunahgar Maujud ek ja hain tumhare qusurwar Is se to hum sabhon ko karo qatl ek bar Kal ho to lut lijiyo, ab kya zarur hai Na qaidi bhage jate hain, na subh dur hai
[لکھتے ہیں راویانِ جگر سوز یہ کلام — جاری] 7 بولا عمر یہ سن کے تو [لفظ غیر واضح] عباسؑ کا تو آپ کو کہتا ہے رشتہ دار اس نے کہا میں سب سے زیادہ ہوں شرمسار زینبؑ کے آگے سینہ شمر پہ ہوا سوار میں نے کیا شہید شہِ مشرقین کو میں نے طمانچے مارے یتیمِ حسینؑ کو 8 اس پر عمر نے زوجۂ حر کو بلا لیا ہمراہ اس کے خواہرِ ہاشم کو بھی کیا ہاشم بھی ایک ندیمِ سبطِ رسول تھا ساتھ اس کے عورتیں تھیں بہت کی پیادہ پا خوانوں کے گرد و پیش پیادے تمام تھے مشعل کی روشنی میں وہ خوانِ طعام تھے 9 مشعل کی روشنی پہ جو زینبؑ نے کی نگاہ بولیں کہ لو، پھر آئی ہمیں لوٹنے سپاہ پھر اس طرح پکاری، ہوا غم سے کیا تباہ لوگو ذرا خدا کے غضب سے، یہ کیا ہے آہ کوئی بھی پوچھتا نہیں اس واردات کو لوٹنے والوں کو لوٹنے آئے ہو رات کو 10 گر اور کچھ گماں ہو تو کرلو ہمیں شکار بھاگا نہیں ہے کوئی تمہارا گناہگار موجود ایک جا ہیں تمہارے قصوروار اس سے تو ہم سبھوں کو کرو قتل ایک بار کل ہو تو لوٹ لیجیو، اب کیا ضرور ہے نے قیدی بھاگے جاتے ہیں، نہ صبح دور ہے

232

Karbala mein Shah-e-wala ke Haram lutte hain 1 Karbala mein Shah-e-wala ke Haram lutte hain Faqa-kash, tishna-dahan, kushta-e-gham lutte hain Dasht-e-ghurbat mein giraftar-e-sitam lutte hain Shor barpa hai ye bewaon mein ke hum lutte hain Kal waris hue saman-e-giraftari hai Ya Ali aao ke ab waqt-e-madadgari hai 2 Hai ye faryad kisi ki ke baradar daudo Koi chillati hai Abbas dilawar daudo Koi kehti hai tarap kar mere dilbar daudo Man luti jati hai, daudo Ali Akbar daudo Dekho khunkhwar adu par jahan dhate hain Tegh khincho ke hamein ghar mein dafnne aate hain 3 Nanhe bachchon ka ye alam hai ke tharrate hain God mein maon ki wahshat se chhupe jate hain Nangi talwaren jo zalim unhein dikhlate hain Bas to chillate hain, ashk ankhon mein bhar late hain Na to mar sakte hain, faryad na ro sakte hain Chikh kaise hue ek ek ka munh takte hain 4 Lut chukin bibiyon ki jis waqt ridaen bhi tamam Ghul hua phunko do ab bargah-e-Shah-e-Anam Ye sada hai, ye dhuan, dil se nikalne ka maqam Atish-e-zulm se jalne lage Hazrat ke khiyam Shah ke namus-sara ek khule sar nikle Bachchon ko le ke Haram khaime se bahar nikle 5 Fauj-e-aada se bhara hai dasht-e-mazlum ka ghar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Khinchta hai koi kanon se Sakina ke gauhar Lutta hai koi be-rahm Haram ka zewar Bandhe leta hai Ruqayya ke sitamgar koi Chhinta hai sar-e-Kulsum se chadar koi Ashur Kazmi Hairat ye hai ke mere qabile ke log bhi Zulmat ko keh rahe hain "Ziya", Ya Ali madad
کربلا میں شہِ والا کے حرم لٹتے ہیں 1 کربلا میں شہِ والا کے حرم لٹتے ہیں فاقہ کش، تشنہ دہن، کشتۂ غم لٹتے ہیں دشتِ غربت میں گرفتارِ ستم لٹتے ہیں شور برپا ہے یہ بیواں میں کہ ہم لٹتے ہیں کل وارث ہوئے سامانِ گرفتاری ہے یا علیؑ آؤ کہ اب وقتِ مددگاری ہے 2 ہے یہ فریاد کسی کی کہ برادر دوڑو کوئی چلاتی ہے عباسؑ دلاور دوڑو کوئی کہتی ہے تڑپ کر مرے دلبر دوڑو ماں لٹی جاتی ہے، دوڑو علی اکبرؑ دوڑو دیکھو خونخوار عدو پر جہاں ڈھاتے ہیں تیغ کھینچو کہ ہمیں گھر میں دفننے آتے ہیں 3 ننھے بچوں کا یہ عالم ہے کہ تھراتے ہیں گود میں ماؤں کی وحشت سے چھپے جاتے ہیں ننگی تلواریں جو ظالم انہیں دکھلاتے ہیں بس تو چلاتیں ہیں، اشک آنکھوں میں بھر لاتے ہیں نہ تو مر سکتے ہیں، فریاد نہ رو سکتے ہیں چیخ کیسے ہوئے ایک ایک کا منہ تکتے ہیں 4 لوٹ چکیں بیبیوں کی جس وقت ردائیں بھی تمام غل ہوا پھونکو دو اب بارگہِ شاہِ انام یہ صدا ہے، یہ دھواں، دل سے نکلنے کا مقام آتشِ ظلم سے جلنے لگے حضرت کے خیام شہؑ کے ناموس سرا ایکہ کھلے سر نکلے بچوں کو لے کے حرم خیمے سے باہر نکلے 5 فوجِ اعدا سے بھرا ہے دشتِ مظلوم کا گھر [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کھنچتا ہے کوئی کانوں سے سکینہؑ کے گہر لوٹتا ہے کوئی بے رحم حرم کا زیور بندھے لیتا ہے رقیہ کے ستم گر کوئی چھینتا ہے سرِ کلثومؑ سے چادر کوئی عاشور کاظمی حیرت یہ ہے کہ میرے قبیلے کے لوگ بھی ظلمت کو کہہ رہے ہیں "ضیاء"، یا علیؑ مدد

233

Jabke paband-e-salasil hue bole Sajjad 1 Jabke paband-e-salasil hue bole Sajjad Sabr wo de mujhe ay Khaliq-e-kul, Rabb-e-Ibad Na dar-e-kas paun jo katon pe chala [ghair wazeh] Taziyane mujhe maren, na karun main faryad Afat-e-jad se imamat ka sila pata hai Nange sar balwe mein man bahnon ko le jata hai 2 Keh ke ye tauq ko gardan mein sambhala ek bar Aage aage chala ghere hue unton ki mahar Pichhe Syedaniyan sar khole hue zar-o-nizar Aage sar-e-Syed-e-Mazlum ka neze pe sawar Nok-e-neza se ye aai thi sada-e-masum Paye be-pardagi Zainab-o-Umm-e-Kulsum 3 Afsos hua jab ye qafila [lafz ghair wazeh] Dekha ek sher hai be-dast tarai mein para Ro ke chillaye ke ammu, hari ghurbat pe fida Haye shane bhi kate aur na pani paya Tazkira Ahl-e-Wafa tera karenge ammu Bawafa tujh ko zamane mein kahenge ammu 4 Nagahan lash-e-Sarwar ne sada di us dam Sakht manzil hai, tujhe sabr de Rabb-e-Akram Dushmanan beron ka rahe qaid mein beta har dam Mere pyare, tere sathi hi chalte hain hum Shimr zalim se Sakina ko bachana beta Meri nadan ko sine se lagana beta Jabke paband-e-salasil hue bole Sajjad (Amir Rizvi Cholsi)
جبکہ پابندِ سلاسل ہوئے بولے سجادؑ 1 جبکہ پابندِ سلاسل ہوئے بولے سجادؑ صبر وہ دے مجھے اے خالقِ کل، ربِ عباد نہ درِ کس پاؤں جو کاٹوں پہ چلا [غیر واضح] تازیانے مجھے ماریں، نہ کروں میں فریاد آفتِ جد سے امامت کا صلہ پاتا ہے ننگے سر بلوے میں ماں بہنوں کو لے جاتا ہے 2 کہہ کے یہ طوق کو گردن میں سنبھالا اک بار آگے آگے چلا گھیرے ہوئے اونٹوں کی مہار پیچھے سیدانیاں سر کھولے ہوئے زار و نزار آگے سرِ سیدِ مظلوم کا نیزے پہ سوار نوکِ نیزہ سے یہ آئی تھی صدائے معصوم پائے بے پردگی زینبؑ و ام کلثوم 3 افسوس ہوا جب یہ قافلہ [لفظ غیر واضح] دیکھا اک شیر ہے بے دست ترائی میں پڑا رو کے چلائے کہ عمو، حری غربت پہ فدا ہائے شانے بھی کٹے اور نہ پانی پایا تذکرہ اہلِ وفا تیرا کریں گے عمو باوفا تجھ کو زمانے میں کہیں گے عمو 4 ناگہاں لاشِ سرور نے صدا دی اس دم سخت منزل ہے، تجھے صبر دے ربِ اکرم دشمنان بیروں کا رہے قید میں بیٹا ہر دم میرے پیارے، ترے ساتھی ہی چلتے ہیں ہم شمر ظالم سے سکینہؑ کو بچانا بیٹا میری نادان کو سینے سے لگانا بیٹا جبکہ پابندِ سلاسل ہوئے بولے سجادؑ (امیر رضوی چولسی)

234

Jab Karbala mein izzat-e-athar lut gayi 1 Jab Karbala mein izzat-e-athar lut gayi Yani sab Aal-e-Ahmad Mukhtar lut gayi Aur bargah-e-Haider-e-Karrar lut gayi Sari Husain pyase ki sarkar lut gayi Bimar-e-lashkar-e-Umar nabakar se Sadat nikle khaime se zar-o-nizar se 2 Maqtal ke samne Haram-e-Aqa ke gir pare Aur pahluon mein bachche bhi aa ke gir pare Ek ja Syeda khak pe zar ke gir pare Abid dard-e-zof se tharra ke gir pare Aaya na koi ghash se uthane ke waste Zanjir laya Shimr pehnane ke waste 3 Abid ne ghash mein naam jo zanjir ka suna Nataqati mein dard se phir chashm wa kiya Zanjir-o-tauq dekh ke bimar ne kaha Kyun munsifo, yahi hai mere dard ki dawa Bimar-o-natawan hun main aur tishna-kam hun Logo Imam-zada hun, khud bhi Imam hun 4 Pehnate hain jo beriyan, meri khata hai kya Han Amma qatl ho gaye, main zinda reh gaya Samjha main ghanimat hi ke pehnane ka mudda Abbas ki tarah na kate hath, kyun bhala Asghar ki tarah halq na zakhmi hua mera Be-risman-o-tauq ke qabil gala mera 5 Abid ki samt roti chali Bint-e-Murtaza Dekha ke qaid ho chuka hai wo shikasta-pa Lekin gale ke band se dam hota hai khafa Bolin beta, teri asiri pe main fida Tha gham nahin na tegh se mera gala mila Ab khush hun ke wirsa-e-Shabbir Khuda mila Fahim Akhtar Kehte hain jise Shimr, wo Shimr Najaf hai Jannat to safai ilaqa hai abhi tak
جب کربلا میں عزتِ اطہار لٹ گئی 1 جب کربلا میں عزتِ اطہار لٹ گئی یعنی سب آلِ احمد مختار لٹ گئی اور بارگاہِ حیدرِ کرار لٹ گئی ساری حسینؑ پیاسے کی سرکار لٹ گئی بیمارِ لشکرِ عمر نابکار سے سادات نکلے خیمے سے، زار و نزار سے 2 مقتل کے سامنے حرمِ آقا کے گر پڑے اور پہلوؤں میں بچے بھی آ کے گر پڑے اک جا سیدہ خاک پہ زار کے گر پڑے عابدؑ و دردِ ضعف سے تھرا کے گر پڑے آیا نہ کوئی غش سے اٹھانے کے واسطے زنجیر لایا شمر پہنانے کے واسطے 3 عابدؑ نے غش میں نام جو زنجیر کا سنا ناتاقتی میں درد سے پھر چشم وا کیا زنجیر و طوق دیکھ کے بیمار نے کہا کیوں منصفو، یہی ہے مرے درد کی دوا بیمار و ناتواں ہوں میں اور تشنہ کام ہوں لوگو امام زادہ ہوں، خود بھی امام ہوں 4 پہناتے ہیں جو بیڑیاں، میری خطا ہے کیا ہاں اماں قتل ہوگئے، میں زندہ رہ گیا سمجھا میں غنیمت ہی کے پہنانے کا مدعا عباسؑ کی طرح نہ کٹے ہاتھ، کیوں بھلا اصغرؑ کی طرح حلق نہ زخمی ہوا مرا بے ریسمان و طوق کے قابل گلا مرا 5 عابدؑ کی سمت روئی چلی بنتِ مرتضیٰؑ دیکھا کہ قید ہوچکا ہے وہ شکستہ پا لیکن گلے کے بندھ سے دم ہوتا ہے خفا بولیں بیٹا، تیری اسیری پہ میں فدا تھا غم نہیں نہ تیغ سے میرا گلا ملا اب خوش ہوں کہ ورثۂ شبیرؑ خدا ملا فہیم اختر کہتے ہیں جسے شمر، وہ شمر نجف ہے جنت تو صفائی علاقہ ہے ابھی تک

235

Jab lut ke Karbala se asir-e-sitam chale 1 Jab lut ke Karbala se asir-e-sitam chale Sajjad sar barahna ba-dard-o-alam chale Rote, saron ko pitte, paband-e-gham chale Zainab ne lash-e-Shah se kaha: bhai hum chale Marne se aap ke main ye iza uthati hun Darbar mein Yazid ke sar nange jati hun 2 Haye mere musafir-e-karb-o-bala Husain Haye mere gharib, mere mubtala Husain Haye tujhe na pani ka qatra mila Husain Haye tamam tan mera lut ke hua Husain Pyase gale pe khanjar-e-bedad chal gaya Haye tarap tarap ke tera dam nikal gaya 3 Ay Nainawa, Ali ki ye bazaat tujhe mili Ay Karbala, Khuda ki amanat tujhe mili Ay khak, meri man ki riyazat tujhe mili Le ay zamin, shama-e-imamat tujhe mili Daman zara bhara, meri kashti ujar gayi Sarhad mein teri bhai se Zainab bichhar gayi 4 Ye keh ke sar ko pit ke roi wo dil-jali Aa kar Najaf se hal mera dekho Ya Ali Gardan rasan mein aap ki beti ki hai bandhi Kehte ye mare se wo ba-chashm-e-tar chali Haye main Karbala-e-Mualla mein lut gayi Pardes mein main aa ke baradar se chhut gayi 5 Mehman bula ke hum se wafa ki lainon ne Kya kya na hum pe jaur-o-jafa ki lainon ne Khinchi bhi zara na sharm-o-haya ki lainon ne Gardan jafa se shahr ki Khuda ki lainon ne Khaime jala ke Ahl-e-Sitam shad ho gaye Karbala mein Aal ke barbad ho gaye
جب لٹ کے کربلا سے اسیرِ ستم چلے 1 جب لٹ کے کربلا سے اسیرِ ستم چلے سجادؑ سر برہنہ بہ درد و الم چلے روتے، سروں کو پیٹتے، پابندِ غم چلے زینبؑ نے لاشِ شہؑ سے کہا: بھائی ہم چلے مرنے سے آپ کے میں یہ ایذا اٹھاتی ہوں دربار میں یزید کے سر ننگے جاتی ہوں 2 ہے ہے مرے مسافرِ کرب و بلا حسینؑ ہے ہے مرے غریب، مرے مبتلا حسینؑ ہے ہے تجھے نہ پانی کا قطرہ ملا حسینؑ ہے ہے تمام تن مرا لٹ کے ہوا حسینؑ پیاسے گلے پہ خنجرِ بیداد چل گیا ہے ہے تڑپ تڑپ کے ترا دم نکل گیا 3 اے نینوا، علیؑ کی یہ بضاعت تجھے ملی اے کربلا، خدا کی امانت تجھے ملی اے خاک، میری ماں کی ریاضت تجھے ملی لے اے زمین، شمعِ امامت تجھے ملی دامن ذرا بھرا، میری کشتی اجڑ گئی سرحد میں تیری بھائی سے زینبؑ بچھڑ گئی 4 یہ کہہ کے سر کو پیٹ کے روئی وہ دل جلی آ کر نجف سے حال مرا دیکھو یا علیؑ گردن رسن میں آپ کی بیٹی کی ہے بندھی کہتے یہ مارے سے وہ با چشمِ تر چلی ہے ہے میں کربلائے معلیٰ میں لٹ گئی پردیس میں میں آ کے برادر سے چھٹ گئی 5 مہمان بلا کے ہم سے وفا کی لعینوں نے کیا کیا نہ ہم پہ جور و جفا کی لعینوں نے کھینچی بھی ذرا نہ شرم و حیا کی لعینوں نے گردن جفا سے شہر کی خدا کی لعینوں نے خیمے جلا کے اہلِ ستم شاد ہوگئے کربلا میں آل کے برباد ہوگئے

236

Yun raqam karta hai ek rawi-e-maghmum-o-nigar 1 Yun raqam karta hai ek rawi-e-maghmum-o-nigar Pahuncha jab qafila Kufe mein ba-hal-e-nizar Dekhta kya hai ke sar kuchh to hain nezon pe sawar Ek sar ghore ki gardan mein bandha hai nachar Puchha kyun gardan-e-rahwar mein is ko bandha Kis khata par ise neze ke na qabil samjha 2 Jurm tha Kufa walon ko jo is ki bandha Sun ke sar pit liya aur ye Abid ne kaha Kya sunaun tujhe ahwal mein gham ka mara Yun to mashhur hai ye chand Bani Hashim ka Bhai kehte the Shahanshah-e-Madina un ko Aaj sab kehte hain Saqqa-e-Sakina un ko 3 Shimr ne [lafz ghair wazeh] tha unhein neze par Sab ne dekha phir char taraf un ki nazar [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Dusri martaba phir sar ko buland us ne kiya Phir isi tarah sar-e-pak zamin par aaya 4 Tisri martaba phir sar na zamin se utha Aaya ghabraya hua pas mere aur ye kaha Kya sabab hai jo na sar neze ke upar thehra Taziyane bhi lagata mujhe laya is ja Main ne sar rakh diya apna jo zamin ke upar Aai awaz ke sun ay mere mazlum pisar 5 Hum nahin chahte neze ki sawari beta [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sar mera rakhte hain Aqa ke barabar aada Ek ja kaise rahun jis ghulam-o-Aqa Pichhe pichhe raha karta hai ghulam Aqa ke Kaise mumkin hai barabar hon Shah-e-wala ke 6 Dusri wajah ye hai, sar jo charhe neze par Sar khule Bint-e-Ali samne aati hai nazar Kanp uthta hun main ghairat se mere rashk-e-qamar Haif hai jis ko farishton ne na dekha bahar Haye is tarah se Zainab ko khule sar dekhun Ankh jal jaye jo be-muqna-o-chadar dekhun
یوں رقم کرتا ہے اک راویِ مغموم و نگار 1 یوں رقم کرتا ہے اک راویِ مغموم و نگار پہنچا جب قافلہ کوفے میں بحالِ نزار دیکھتا کیا ہے کہ سر کچھ تو ہیں نیزوں پہ سوار ایک سر گھوڑے کی گردن میں بندھا ہے ناچار پوچھا کیوں گردنِ رہوار میں اس کو باندھا کس خطا پر اسے نیزے کے نہ قابل سمجھا 2 جرم تھا کوفہ والوں کو جو اس کی باندھا سن کے سر پیٹ لیا اور یہ عابدؑ نے کہا کیا سناؤں تجھے احوال میں غم کا مارا یوں تو مشہور ہے یہ چاند بنی ہاشم کا بھائی کہتے تھے شہنشاہِ مدینہ ان کو آج سب کہتے ہیں سقائے سکینہؑ ان کو 3 شمر نے [لفظ غیر واضح] تھا انہیں نیزے پر سب نے دیکھا پھر چار طرف ان کی نظر [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] دوسری مرتبہ پھر سر کو بلند اس نے کیا پھر اسی طرح سرِ پاک زمیں پر آیا 4 تیسری مرتبہ پھر سر نہ زمیں سے اٹھا آیا گھبرایا ہوا پاس مرے اور یہ کہا کیا سبب ہے جو نہ سر نیزے کے اوپر ٹھہرا تازیانے بھی لگاتا مجھے لایا اس جا میں نے سر رکھ دیا اپنا جو زمین کے اوپر آئی آواز کہ سن اے مرے مظلوم پسر 5 ہم نہیں چاہتے نیزے کی سواری بیٹا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سر مرا رکھتے ہیں آقا کے برابر اعدا ایک جا کیسے رہوں جس غلام و آقا پیچھے پیچھے رہا کرتا ہے غلام آقا کے کیسے ممکن ہے برابر ہوں شہِ والا کے 6 دوسری وجہ یہ ہے، سر جو چڑھے نیزے پر سر کھلے بنتِ علیؑ سامنے آتی ہے نظر کانپ اٹھتا ہوں میں غیرت سے مرے رشکِ قمر حیف ہے جس کو فرشتوں نے نہ دیکھا باہر ہائے اس طرح سے زینبؑ کو کھلے سر دیکھوں آنکھ جل جائے جو بے مقنع و چادر دیکھوں

237

Diyar-e-Kufa mein jab Aal-e-Mustafa aai 1 Diyar-e-Kufa mein jab Aal-e-Mustafa aai To ek khalq tamashe ko ja baja aai Rasul-e-Pak ki Itrat jo be-rida aai Sada-e-girya-e-Zahra-o-Murtaza aai Nida sitam tha ke raunaq-e-Nabi rasta tha Nabi ki Aal pe patthar ka menh barasta tha 2 Haram ne phaili diwar ki khabar jo suni Mila ke Shimr-e-lain ko pukarin Bint-e-Ali Hansta hai sath tu kyun, nashin yahan hain shaqi Hamein rida to utare ke hum hain Aal-e-Nabi Pukara Shimr ke sangdil: ye ho nahin sakta Tumhein nasib ho chadar, ye ho nahin sakta 3 Bahen ke Ahl-e-Haram dil pe dagh kha ke chale Isi tarah se wo nachar sar jhuka ke chale Hujum-e-aam mein dukh seh ke gham utha ke chale Lain ki bazm mein balon se munh chhupa ke chale Zarra bhar ye kya na shor-o-shar dekha Likha hai wan sar-e-Muslim lahu mein tar dekha 4 Wo farq dekh ke boli ye Zainab nachar Bare gharib baradar, main tere sar ke nisar Gham-e-Husain ke sar se huin jo ankhen char Qarib aaye the farq-e-Syed-e-Abrar Nida ye aai ke Ya Shah Assalam Alaik Ali-o-Fatima ke mah Assalam Alaik 5 Bas qaza thi in afat mein ghira Maula Ke bam se sang be-sar mara gira Maula Bandha tha paon mein rassi ka ek sira Maula Tamam shahr mein lasha ghasita phira Maula Khabar wafa ki Imam-e-Ghayur tak na gayi Huzur kya meri arzi Huzur tak na gayi 6 Main likh chuka tha ke Shabbir ki samt jayen Huzur Khuda ke waste tashrif yan na layen Huzur Sipah-e-zulm se dhoka kahin na khayen Huzur Dagha mein taq hain, koi idhar na aayen Huzur Likha tha ye bhi ke bachche buka mein par gaye hain Jo sath aaye the donon yahan bichhar gaye hain
دیارِ کوفہ میں جب آلِ مصطفیٰؐ آئی 1 دیارِ کوفہ میں جب آلِ مصطفیٰؐ آئی تو ایک خلق تماشے کو جا بجا آئی رسولِ پاکؐ کی عترت جو بے ردا آئی صدائے گریہِ زہرا و مرتضیٰؑ آئی ندا ستم تھا کہ رونقِ نبیؐ رستا تھا نبیؐ کی آل پہ پتھر کا مینہ برستا تھا 2 حرم نے پھیلی دیوار کی خبر جو سنی ملا کے شمر لعین کو پکاریں بنتِ علیؑ ہنستا ہے ساتھ تو کیوں، نشیں یہاں ہیں شقی ہمیں ردا تو اتارے کہ ہم ہیں آلِ نبیؐ پکارا شمر کے سنگدل: یہ ہو نہیں سکتا تمہیں نصیب ہو چادر، یہ ہو نہیں سکتا 3 بہن کے اہلِ حرم دل پہ داغ کھا کے چلے اسی طرح سے وہ ناچار سر جھکا کے چلے ہجومِ عام میں دکھ سہہ کے غم اٹھا کے چلے لعین کی بزم میں بالوں سے منہ چھپا کے چلے ذرہ بھر یہ کیا نہ شور و شر دیکھا لکھا ہے واں سرِ مسلمؑ لہو میں تر دیکھا 4 وہ فرق دیکھ کے بولی یہ زینبؑ ناچار برے غریب برادر، میں تیرے سر کے نثار گم حسینؑ کے سر سے ہوئیں جو آنکھیں چار قریب آئے تھے فرقِ سید ابرار ندا یہ آئی کہ یا شاہ السلام علیک علیؑ و فاطمہؑ کے ماہ السلام علیک 5 بس قضا تھی ان آفات میں گھرا مولا کہ بام سے سنگ بے سر مرا گرا مولا بندھا تھا پاؤں میں رسی کا اک سرا مولا تمام شہر میں لاشہ گھسیٹا پھرا مولا خبر وفا کی امامِ غیور تک نہ گئی حضور کیا مری عرضی حضور تک نہ گئی 6 میں لکھ چکا تھا کہ شبیرؑ کی سمت جائیں حضور خدا کے واسطے تشریف یاں نہ لائیں حضور سپاہِ ظلم سے دھوکا کہیں نہ کھائیں حضور دغا میں طاق ہیں، کوئی ادھر نہ آئیں حضور لکھا تھا یہ بھی کہ بچے بکا میں پڑ گئے ہیں جو ساتھ آئے تھے دونوں یہاں بچھڑ گئے ہیں

238

[Diyar-e-Kufa mein jab Aal-e-Mustafa aai — jari] 7 Ali ke sher dam-e-yas dhund len un ko Sar mein Sani-e-Abbas dhund len un ko Kabhi to dur kabhi pas dhund len un ko Har ek diyar mein Abbas dhund len un ko Bataiye wo mere munh mein mile ke nahin Imam-e-din ko wo bachche kahin mile ke nahin 8 Shimr Husain pukara ke haye ay bhai Ajab alam ke ye gale sunaye ay bhai Ibn-e-Ziyad ne kya qahr dhaye ay bhai Payam aap ke hum tak na aaye ay bhai Bachche talash banon mein na khaima ja pahunche Khabar nahin ke wo afat-zada kahan pahunche 9 Ghazab hua abhi kamsin wo lal aap ke the In afaton ke liye khud sawal aap ke the Husain, mah-jabin, khush-jamal aap ke the Magar watan mein jo do nau-nihal aap ke the Bala ke ban mein wo mazlum bhi shahid hue Hamare sath wo masum bhi shahid hue 10 Tumhare har mah-o-anwar ka sar sinan pe hai Mere jawan Ali Akbar ka sar sinan pe hai Saghir-sin Ali Asghar ka sar sinan pe hai Tumhare sher dilawar ka sar sinan pe hai Bahen ke ghar ko na Abbas phir sambhal sake Akhi tumhari Ruqayya ko hum na pal sake
[دیارِ کوفہ میں جب آلِ مصطفیٰؐ آئی — جاری] 7 علیؑ کے شیر دمِ یاس ڈھونڈ لیں ان کو سر میں ثانیِ عباسؑ ڈھونڈ لیں ان کو کبھی تو دور کبھی پاس ڈھونڈ لیں ان کو ہر ایک دیار میں عباسؑ ڈھونڈ لیں ان کو بتائیے وہ مرے منہ میں ملے کہ نہیں امامِ دیں کو وہ بچے کہیں ملے کہ نہیں 8 شمر حسینؑ پکارا کہ ہائے اے بھائی عجب الم کے یہ گلے سنائے اے بھائی ابنِ زیاد نے کیا قہر ڈھائے اے بھائی پیام آپ کے ہم تک نہ آئے اے بھائی بچے تلاش بنوں میں نہ خیمہ جا پہنچے خبر نہیں کہ وہ آفت زدہ کہاں پہنچے 9 غضب ہوا ابھی کمسن وہ لال آپ کے تھے ان آفتوں کے لئے خود سوال آپ کے تھے حسینؑ، ماہ جبیں، خوش جمال آپ کے تھے مگر وطن میں جو دو نونہال آپ کے تھے بلا کے بن میں وہ مظلوم بھی شہید ہوئے ہمارے ساتھ وہ معصوم بھی شہید ہوئے 10 تمہارے ہر مہ و انور کا سر سناں پہ ہے مرے جوان علی اکبرؑ کا سر سناں پہ ہے صغیر سن علی اصغرؑ کا سر سناں پہ ہے تمہارے شیر دلاور کا سر سناں پہ ہے بہن کے گھر کو نہ عباسؑ پھر سنبھال سکے اخی تمہاری رقیہ کو ہم نہ پال سکے

239

Jab Haram qila-e-Shirin ke barabar aaye 1 Jab Haram qila-e-Shirin ke barabar aaye Ghul hua lab se Maula ma lashkar aaye Kaha Shirin ne ke asbab-e-dilbar aaye Mere Maula, mere Sultan, mere Sarwar aaye Nur-e-Haq, shan-e-Khuda, qudrat-e-Bari dekho Jao logo, mere Aqa ki sawari dekho 2 Jin se roshan hai Madina, wo qamar aate hain Jin ka maidan-e-Najaf mein wo ghar aate hain Jis ke ghar arsh pe hain, wo mere ghar aate hain Ye khabar us ko na thi nezon pe sar aate hain Keh rahi thi ke chiragh-e-Haram aata hai Ay Musalmano, mubarak ho Husain aata hai 3 Tha khayal us ko ke chaugird to piyade honge Pech mein lashkar-e-Islam ke sardar honge Ghoron pe qafila Zainab ke abrar honge Parda-e-mahmal ka sambhale Ali Akbar honge Wan na mahmal thi, na hashmat thi, na zebai thi Sar-e-Shabbir ke hamrah bahen aai thi 4 Nagahan rah mein barpa hua shor-e-matam Sun ke muttafiq hua dil, mil gaye gham se qadam Dekhne ko jo gaye the Haram-e-Shah-e-Umam Wo zan-o-mard phir se khak urate baham Sakht bechaini hui talib-e-aram-e-Husain Dil pe angusht-e-shahadat se likha naam-e-Husain 5 Ek aurat ne ye bahar se nida di nagah Pare sheron, tere aram mile khak mein aah Ghar ka ghar ho gaya Khatun-e-Qiyamat ka tabah Waris-e-Aal-e-Nabi mar gaya, Inna lillah Aa ziyarat ko gaye the ke ye manzar dekha Haif sad haif ke Zainab ko khule sar dekha 6 Be-tahasha wo ye kehti hui dauri bahar Khak munh mein tere, kis munh se ye deti hai khabar Kaun Zainab jise dekha aai hai tu nange sar Wo pukari ke Husain ibn-e-Ali ki khwahar Ek faqat main hi nahin, dekh ke sab aate hain Risman bandh ke shanon mein adu laye hain
جب حرم قلعۂ شیریں کے برابر آئے 1 جب حرم قلعۂ شیریں کے برابر آئے غل ہوا لب سے مولا مع لشکر آئے کہا شیریں نے کہ اسبابِ دل بر آئے میرے مولا، مرے سلطان، مرے سرور آئے نورِ حق، شانِ خدا، قدرتِ باری دیکھو جاؤ لوگو، مرے آقا کی سواری دیکھو 2 جن سے روشن ہے مدینہ، وہ قمر آتے ہیں جن کا میدانِ نجف میں وہ گھر آتے ہیں جس کے گھر عرش پہ ہیں، وہ مرے گھر آتے ہیں یہ خبر اس کو نہ تھی نیزوں پہ سر آتے ہیں کہہ رہی تھی کہ چراغِ حرم آتا ہے اے مسلمانو، مبارک ہو حسینؑ آتا ہے 3 تھا خیال اس کو کہ چوگرد تو پیادہ ہوں گے پیچ میں لشکرِ اسلام کے سردار ہوں گے گھوڑوں پہ قافلہ زینبؑ کے ابرار ہوں گے پردۂ محمل کا سنبھالے علی اکبرؑ ہوں گے واں نہ محمل تھی، نہ حشمت تھی، نہ زیبائی تھی سرِ شبیرؑ کے ہمراہ بہن آئی تھی 4 ناگہاں راہ میں برپا ہوا شورِ ماتم سن کے متفق ہوا دل، مل گئے غم سے قدم دیکھنے کو جو گئے تھے حرمِ شاہِ امم وہ زنان و مرد پھر سے خاک اڑاتے باہم سخت بے چینی ہوئی طالبِ آرامِ حسینؑ دل پہ انگشتِ شہادت سے لکھا نامِ حسینؑ 5 ایک عورت نے یہ باہر سے ندا دی ناگاہ پڑے شیروں، ترے آرام ملے خاک میں آہ گھر کا گھر ہوگیا خاتونِ قیامت کا تباہ وارثِ آلِ نبیؐ مر گیا، انا للہ آ زیارت کو گئے تھے کہ یہ منظر دیکھا حیف صد حیف کہ زینبؑ کو کھلے سر دیکھا 6 بے تحاشا وہ یہ کہتی ہوئی دوڑی باہر خاک منہ میں ترے، کس منہ سے یہ دیتی ہے خبر کون زینبؑ جسے دیکھا آئی ہے تو ننگے سر وہ پکاری کہ حسین ابنِ علیؑ کی خواہر اک فقط میں ہی نہیں، دیکھ کے سب آتے ہیں ریسمان باندھ کے شانوں میں عدو لائے ہیں

240

[Jab Haram qila-e-Shirin ke barabar aaye — jari] 7 Jis ka Baba hai Ali Sher-e-Khuda, wo Zainab Jis ka jad Fakhr-e-Rasulan-e-Khuda, wo Zainab Jis ka ek bhai hai Shah-e-Shuhada, wo Zainab Jis pe the Shabbar-o-Shabbir fida, wo Zainab Aur Zainab tumhein hasha ye nayi azadi hai Bhai mara gaya, Allah se faryadi hai Abuzar Abid Nabi ki Aal se dil mein ghubar rakhte hain Ajib log hain phulon se khar rakhte hain Pahunch na payega hum tak kisi Yazid ka hath Hum apne gird Husaini hisar rakhte hain Bashukriya Sozkhwan Nawab Haider Husain o Iqbal Husain Rizvi Jabke Shirin ne suna Syed-e-wala aaye 1 Jabke Shirin ne suna Syed-e-wala aaye Uth ke shohar ko pukari mere Aqa aaye Le mubarak ho, Shah-e-Arab-o-Batha aaye Eid hai aaj mere ghar mere Maula aaye Qila roshan hai, Shah-e-jinn-o-bashar aate hain Arsh-e-Azam ke sitare mere ghar aate hain 2 Kasrat-e-shauq se tha dil ko na Shirin ke qarar Thi kabhi bam pe, dar par, kabhi wo khush-atwar Kam mein sath jo phirti thin kanizen do char Bolta koi to kehti thi ye us se har bar Jald dekho koi qafila ke hamari aai Zara ye shayad mere Aqa ki sawari aai 3 Auraten kehti thin sun sun ke ye Shirin ke kalam Hum ko hai shauq-e-qadam-bosi-e-[lafz ghair wazeh] Imam Kehti thi wo adab kijiyo jhuk jhuk ke salam Tum ko chhupke se bataungi main ek ek ka naam Meri Bibi hain, main qadmon pe girungi jhuk ke Hongi Zainab, wohi main gird phirungi jhuk ke
[جب حرم قلعۂ شیریں کے برابر آئے — جاری] 7 جس کا بابا ہے علیؑ شیرِ خدا، وہ زینبؑ جس کا جد فخرِ رسولانِ خدا، وہ زینبؑ جس کا اک بھائی ہے شاہِ شہدا، وہ زینبؑ جس پہ تھے شبرؑ و شبیرؑ فدا، وہ زینبؑ اور زینبؑ تمہیں حاشا یہ نئی آزادی ہے بھائی مارا گیا، اللہ سے فریادی ہے ابوذر عابد نبیؐ کی آل سے دل میں غبار رکھتے ہیں عجیب لوگ ہیں پھولوں سے خار رکھتے ہیں پہنچ نہ پائے گا ہم تک کسی یزید کا ہاتھ ہم اپنے گرد حسینی حصار رکھتے ہیں بشکریہ سوزخواں نواب حیدر حسین و اقبال حسین رضوی جب کہ شیریں نے سنا سیدِ والا آئے 1 جب کہ شیریں نے سنا سیدِ والا آئے اٹھ کے شوہر کو پکاری مرے آقا آئے لے مبارک ہو، شہِ عرب و بطحا آئے عید ہے آج مرے گھر مرے مولا آئے قلعہ روشن ہے، شہِ جن و بشر آتے ہیں عرشِ اعظم کے ستارے مرے گھر آتے ہیں 2 کثرتِ شوق سے تھا دل کو نہ شیریں کے قرار تھی کبھی بام پہ، در پر، کبھی وہ خوش اطوار کام میں ساتھ جو پھرتی تھیں کنیزیں دوچار بولتا کوئی تو کہتی تھی یہ اس سے ہر بار جلد دیکھو کوئی قافلہ کہ ہماری آئی ذرا یہ شاید مرے آقا کی سواری آئی 3 عورتیں کہتی تھیں سن سن کے یہ شیریں کے کلام ہم کو ہے شوقِ قدم بوسیِ [لفظ غیر واضح] امام کہتی تھی وہ ادب کیجیو جھک جھک کے سلام تم کو چھپکے سے بتاؤں گی میں اک ایک کا نام میری بی بی ہیں، میں قدموں پہ گروں گی جھک کے ہوں گی زینبؑ، وہی میں گردِ پھروں گی جھک کے

241

[Jabke Shirin ne suna Syed-e-wala aaye — jari] 4 Utri ye kehte hue koh se Shirin nagah Sab khushi ho gaye, pukare ke wo hai lashkar-e-Shah Gaur se tham ke jo ki char taraf us ne nigah Dur se us ko nazar aaye alam-ha-e-sipah Gham ka saman tha jidhar ankh utha kar dekha Daman-e-koh mein utarta hua lashkar dekha 5 Boli ghabra ke wo logo, koi dekho to ba-gaur Ye to hai saf sipah-e-hasad-o-kina-o-jaur Mutlaqan un mein jawanan-e-Arab ke nahin taur Fauj-e-Shimr kahan, ye to hai lashkar koi aur Un ko dikhla do mujhe jin ki talabgari hai Alam sabz hai na khaima-e-zarkari hai 6 Dil kuchh us waqt pareshan hai, Khuda khair kare Muztarib tan mein meri jaan hai, Khuda khair kare Chashm mein ashkon ka tufan hai, Khuda khair kare Ye to kuchh aur hi saman hai, Khuda khair kare Khabar-e-Sibt-e-Nabi dekhiye kya aati hai Mere kanon mein to rone ki sada aati hai 7 Sab ko tashwish hui sun ke ye Shirin ka bayan Ek kaniz us ki gayi aage the wo log jahan Sab se puchha, ye na paya alam-e-din ka nishan Chand chehre nazar aaye kai bala-e-sinan Gird-e-sawaron liye fauj-e-sitam ko dekha Nange sar qafila-e-Ahl-e-Haram ko dekha 8 Ashk ankhon mein bhare, wan se phiri wo ghamgin Aur izhar kiya aa ke ye Shirin ke qarib Aap sach kehti thin Bibi, ye to hai lashkar-e-kin Umar-e-Saad hai aur fauj-e-Yazid-e-be-din [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Kisi sardar ka sar kat ke le jate hain 9 Bibiyan khak pe baithi hain hazin-o-khun-ru Rukh hain mitti se bhare, mathe se behta hai lahu Qatl waris hue aur rone ke mane hain adu Ek rassi mein hain jakre hue donon bazu Asman palta hai in bibiyon ke nalon se Munh koi hath se dhanpe hai, koi balon se
[جب کہ شیریں نے سنا سیدِ والا آئے — جاری] 4 اتری یہ کہتے ہوئے کوہ سے شیریں ناگاہ سب خوشی ہوگئے، پکارے کہ وہ ہے لشکرِ شاہ غور سے تھم کے جو کی چار طرف اس نے نگاہ دور سے اس کو نظر آئے علم ہائے سپاہ غم کا سامان تھا جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھا دامنِ کوہ میں اترتا ہوا لشکر دیکھا 5 بولی گھبرا کے وہ لوگو، کوئی دیکھو تو بغور یہ تو ہے صاف سپاہِ حسد و کینہ و جور مطلقاً ان میں جوانانِ عرب کے نہیں طور فوجِ شمر کہاں، یہ تو ہے لشکر کوئی اور ان کو دکھلا دو مجھے جن کی طلب گاری ہے علم سبز ہے نہ خیمۂ زرکاری ہے 6 دل کچھ اس وقت پریشان ہے، خدا خیر کرے مضطرب تن میں مری جاں ہے، خدا خیر کرے چشم میں اشکوں کا طوفاں ہے، خدا خیر کرے یہ تو کچھ اور ہی ساماں ہے، خدا خیر کرے خبرِ سبطِ نبیؐ دیکھئے کیا آتی ہے میرے کانوں میں تو رونے کی صدا آتی ہے 7 سب کو تشویش ہوئی سن کے یہ شیریں کا بیان اک کنیز اس کی گئی آگے تھے وہ لوگ جہاں سب سے پوچھا، یہ نہ پایا علمِ دیں کا نشان چاند چہرے نظر آئے کئی بالائے سناں گردِ سواروں لئے فوجِ ستم کو دیکھا ننگے سر قافلۂ اہلِ حرم کو دیکھا 8 اشک آنکھوں میں بھرے، واں سے پھری وہ غمگیں اور اظہار کیا آ کے یہ شیریں کے قریب آپ سچ کہتی تھیں بی بی، یہ تو ہے لشکرِ کین عمرِ سعد ہے اور فوجِ یزیدِ بے دیں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کسی سردار کا سر کاٹ کے لے جاتے ہیں 9 بیبیاں خاک پہ بیٹھی ہیں حزیں و خوں رو رخ ہیں مٹی سے بھرے، ماتھے سے بہتا ہے لہو قتل وارث ہوئے اور رونے کے مانع ہیں عدو ایک رسی میں ہیں جکڑے ہوئے دونوں بازو آسماں پلٹا ہے ان بیبیوں کے نالوں سے منہ کوئی ہاتھ سے ڈھانپے ہے، کوئی بالوں سے

242

[Jabke Shirin ne suna Syed-e-wala aaye — jari] 10 Bibi main kya kahun, bachche kai dekhe hain gharib Ke na dushman ki bhi aulad ko ye din ho nasib Un mein ek dukhtar-e-masuma ki halat hai ajib Dekh aai hun main us ko to halakat ke qarib Kai din ka hai jo faqa to sisakti hai wo Bap ke sar ko ajab pyas se takti hai wo 11 Koi waris nahin, bas ek jawan hai bimar Tap se din raat bhadakta hai jis ka tan-e-zar Tauq gardan mein hai aur paon mein zanjir ka bar Bilakte bachchon mein aur ablon mein dasht ke khar Shan chehre se yatimi ki ayan hoti hai Haye Baba jo wo kehta hai to man roti hai Naim Meeruthi Ali, Batul, Hasan aur Husain jaan-e-Rasul Yahi hain hamil-e-Quran-o-warisan-e-Rasul Bajuz Husain nahin koi din-e-Haq ka amin Bajuz Husain nahin koi rahbar-e-din-e-Rasul Bashukriya sozkhwan Syed Akhtar Abbas o Atif Zaidi / Khairpur Amad amad Haram-e-Shah ki darbar mein hai 1 Amad amad Haram-e-Shah ki darbar mein hai Subh se jashn ka ghul Sham ke bazar mein hai Sohbat-e-aish-o-tarab majlis-e-aghyar mein hai Shor-e-faryad-o-buka Itrat-e-Athar mein hai Naubaten bajti hain, dushman to khushi hote hain Han magar Fatima-o-Sher-e-Khuda rote hain 2 Pichhe bimar ke hai qafila-e-Ahl-e-Haram Chup hain taswir se, goya ke kisi mein nahin dam Dukhtar-e-Fatima Zahra ka ajab hai alam Tharthari jism mein hai, uth nahin sakte hain qadam Ro ke farmati hain kis goshe mein jaye Zainab Hath khul jayen to munh apna chhupaye Zainab 3 Gardanen barah asiron ki hain aur ek rasan Jis tarah hote hain guldasta gul-ha-e-chaman Rishtedaran-e-Ali sab hain giraftar-e-mihan Shimr ke mare [misra juzwi taur par ghair wazeh] [Do misra juzwi taur par ghair wazeh]
[جب کہ شیریں نے سنا سیدِ والا آئے — جاری] 10 بی بی میں کیا کہوں، بچے کئی دیکھے ہیں غریب کہ نہ دشمن کی بھی اولاد کو یہ دن ہو نصیب ان میں اک دخترِ معصومہ کی حالت ہے عجیب دیکھ آئی ہوں میں اس کو تو ہلاکت کے قریب کئی دن کا ہے جو فاقہ تو سسکتی ہے وہ باپ کے سر کو عجب پیاس سے تکتی ہے وہ 11 کوئی وارث نہیں، بس ایک جواں ہے بیمار تپ سے دن رات بھڑکتا ہے جس کا تنِ زار طوق گردن میں ہے اور پاؤں میں زنجیر کا بار بلکتے بچوں میں اور آبلوں میں دشت کے خار شان چہرے سے یتیمی کی عیاں ہوتی ہے ہائے بابا جو وہ کہتا ہے تو ماں روتی ہے نعیم میرٹھی علیؑ، بتولؑ، حسنؑ اور حسینؑ جانِ رسولؐ یہی ہیں حاملِ قرآن و وارثانِ رسولؐ بجز حسینؑ نہیں کوئی دینِ حق کا امیں بجز حسینؑ نہیں کوئی رہبرِ دینِ رسولؐ بشکریہ سوزخواں سید اختر عباس و عاطف زیدی / خیرپور آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے 1 آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے صبح سے جشن کا غل شام کے بازار میں ہے صحبتِ عیش و طرب مجلسِ اغیار میں ہے شورِ فریاد و بکا عترتِ اطہار میں ہے نوبتیں بجتی ہیں، دشمن تو خوشی ہوتے ہیں ہاں مگر فاطمہؑ و شیرِ خدا روتے ہیں 2 پیچھے بیمار کے ہے قافلۂ اہلِ حرم چپ ہیں تصویر سے، گویا کہ کسی میں نہیں دم دخترِ فاطمہ زہرا کا عجب ہے عالم تھرتھری جسم میں ہے، اٹھ نہیں سکتے ہیں قدم رو کے فرماتی ہیں کس گوشے میں جائے زینبؑ ہاتھ کھل جائیں تو منہ اپنا چھپائے زینبؑ 3 گردنیں بارہ اسیروں کی ہیں اور ایک رسن جس طرح ہوتے ہیں گلدستہ گل ہائے چمن رشتہ دارانِ علیؑ سب ہیں گرفتارِ محن شمر کے مارے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

243

[Amad amad Haram-e-Shah ki darbar mein hai — jari] 4 Hai isi rassi mein tanha sa Sakina ka gulu Dam ghata jata hai, ankhon se rawan hain ansu Chak [lafz ghair wazeh] ka gareban, pareshan gesu Gal to suje hain, kanon se tapakta hai lahu Aah har gam pe sine se nikal jati hai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 5 Man se karti hai ishara wo giraftar-e-sitam Rassi kholo, kahin ghut ke nikal jaye na dam Ro ke wo kehti hai majbur hun main kushta-e-gham Haye bachchi teri qismat mein ye tha dard-o-alam Sadqe Amman, ye girah Uqda-kusha kholega Bibi is uqda-e-mushkil ko Khuda kholega 6 Man se ro ro ke wo nadan ye karti thi bayan Kis ka darbar hai, is hal se jati hun kahan Ye to keh do, kahin Baba bhi milenge Amman Kai din guzre hain, wo hain meri ankhon se nihan Bhul jayega ye sab dukh jo unhein paungi Daur kar Baba ke sine se lipat jaungi 7 Kahin darbar mein Amman wo agar mujh se mile Dekhna karti hun kaise Shimr wala se gile Wo khabar liwen na gardan meri rassi se chhile Us ko kyun kholte hain bap se bachche jo mile Wajah kya, kaun si taqsir, ye munh mora hai Siliyan khane ko aada mein mujhe chhora hai 8 Rote the sun ke Sakina ka bayan sare asir Har qadam par tha yahi shor ke hai hai Shabbir Is tarah hoti thi araish-e-darbar-e-sharir Takht par aap tha aur kursiyon pe sare amir Ek taraf lut ka sab zewar-o-zar rakha tha Aur neze pe Fatima ke lal ka sar rakha tha 9 Takht ke samne rote hue aaye jo asir Dekh kar Syed Sajjad ko bola wo sharir Sarkashi kar ke na sarbar hue mujh se Shabbir Shukr karta hun ke Khaliq ne kiya tum ko haqir Baithne ka kahin duniya mein sahara na raha Bakht uth gaye, ab zor tumhara na raha
[آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے — جاری] 4 ہے اسی رسی میں تنہا سا سکینہؑ کا گلو دم گھٹا جاتا ہے، آنکھوں سے رواں ہیں آنسو چاک [لفظ غیر واضح] کا گریباں، پریشاں گیسو گال تو سوجے ہیں، کانوں سے ٹپکتا ہے لہو آہ ہر گام پہ سینے سے نکل جاتی ہے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 ماں سے کرتی ہے اشارہ وہ گرفتارِ ستم رسی کھولو، کہیں گھٹ کے نکل جائے نہ دم رو کے وہ کہتی ہے مجبور ہوں میں کشتۂ غم ہائے بچی تری قسمت میں یہ تھا درد و الم صدقے اماں، یہ گرہ عقدہ کشا کھولے گا بی بی اس عقدۂ مشکل کو خدا کھولے گا 6 ماں سے رو رو کے وہ نادان یہ کرتی تھی بیاں کس کا دربار ہے، اس حال سے جاتی ہوں کہاں یہ تو کہہ دو، کہیں بابا بھی ملیں گے اماں کئی دن گزرے ہیں، وہ ہیں مری آنکھوں سے نہاں بھول جائے گا یہ سب دکھ جو انہیں پاؤں گی دوڑ کر بابا کے سینے سے لپٹ جاؤں گی 7 کہیں دربار میں اماں وہ اگر مجھ سے ملے دیکھنا کرتی ہوں کیسے شمر والا سے گلے وہ خبر لیویں نہ گردن مری رسی سے چھلے اس کو کیوں کھولتے ہیں باپ سے بچے جو ملے وجہ کیا، کون سی تقصیر، یہ منہ موڑا ہے سیلیاں کھانے کو اعدا میں مجھے چھوڑا ہے 8 روتے تھے سن کے سکینہؑ کا بیاں سارے اسیر ہر قدم پر تھا یہی شور کہ ہے ہے شبیرؑ اس طرح ہوتی تھی آرائشِ دربارِ شریر تخت پر آپ تھا اور کرسیوں پہ سارے امیر ایک طرف لوٹ کا سب زیور و زر رکھا تھا اور نیزے پہ فاطمہؑ کے لال کا سر رکھا تھا 9 تخت کے سامنے روتے ہوئے آئے جو اسیر دیکھ کر سید سجادؑ کو بولا وہ شریر سرکشی کر کے نہ سر بر ہوئے مجھ سے شبیرؑ شکر کرتا ہوں کہ خالق نے کیا تم کو حقیر بیٹھنے کا کہیں دنیا میں سہارا نہ رہا بخت اٹھ گئے، اب زور تمہارا نہ رہا

244

[Amad amad Haram-e-Shah ki darbar mein hai — jari] 10 Kis ke namon liye kis ka hua ghar taraj Kaun be-sar hua aur kaun hua sahib-e-taj Ek chadar ke liye kis ki bahen hai muhtaj Kaun kunba-bar hai aur kaun zabardast hai aaj Zakhm-e-khanjar se hua jo wo pidar kis ka hai Ek zara gaur se dekho to ye sar kis ka hai Jabke darbar mein namus-e-Payambar aaye 1 Jabke darbar mein namus-e-Payambar aaye Bal khole hue be-muqna-o-chadar aaye Sar ke balon se chhupaye rukh-e-anwar aaye Beriyan thame hue Abid-e-muztar aaye Tahe afat mein giraftar wo sab khush-khu the Risman ek thi aur aah kai bazu the 2 Rasan-e-zulm se chhilte the yatimon ke gale Sahme jate the khamakash mein wo nazon ke pale Man ki afat mein giraftar thin, kya zor chale Ro ke dekha kabhi Abid ko, kabhi hath male Shimr kehta tha ke hakim ka ghazab aayega Qaidiyon mein koi roya to saza payega 3 Shimr ko dekh ke bola wo Ali ka dushman Kholo de qaidiyon ki gardan-o-bazu se rasan Jab chhute band-e-rasan se wo giraftar-e-mihan Tab Sakina ne liya karte ka munh par daman Bap ke gham mein dil-e-zar jo tan mein tarpa [Aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh]
[آمد آمد حرمِ شاہ کی دربار میں ہے — جاری] 10 کس کے ناموں لئے کس کا ہوا گھر تاراج کون بے سر ہوا اور کون ہوا صاحبِ تاج ایک چادر کیلئے کس کی بہن ہے محتاج کون کنبہ بر ہے اور کون زبردست ہے آج زخمِ خنجر سے ہوا جو وہ پدر کس کا ہے اک ذرا غور سے دیکھو تو یہ سر کس کا ہے جب کہ دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے 1 جب کہ دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے بال کھولے ہوئے بے مقنع و چادر آئے سر کے بالوں سے چھپائے رخِ انور آئے بیڑیاں تھامے ہوئے عابدِ مضطر آئے تحتِ آفت میں گرفتار وہ سب خوش خو تھے ریسمان ایک تھی اور آہ کئی بازو تھے 2 رسنِ ظلم سے چھلتے تھے یتیموں کے گلے سہمے جاتے تھے کھماکش میں وہ نازوں کے پلے ماں کی آفت میں گرفتار تھیں، کیا زور چلے رو کے دیکھا کبھی عابدؑ کو، کبھی ہاتھ ملے شمر کہتا تھا کہ حاکم کا غضب آئے گا قیدیوں میں کوئی رویا تو سزا پائے گا 3 شمر کو دیکھ کے بولا وہ علیؑ کا دشمن کھولو دے قیدیوں کی گردن و بازو سے رسن جب چھٹیں بندِ رسن سے وہ گرفتارِ محن تب سکینہؑ نے لیا کرتے کا منہ پر دامن باپ کے غم میں دلِ زار جو تن میں تڑپا [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

245

[Jabke darbar mein namus-e-Payambar aaye — jari] 4 Bola hakim ke nihayat hai tujhe bap ki chah Takht ke niche ye kya tasht mein hai, kar to nigah Pas ja kar jo gayi dekhne, Banu-e-aah Khun mein duba hua us ko nazar aaya sar-e-Shah Tasht par gir ke pukari ke ye hal aap ka hai Lo phuphi jaan, yahi sar to mere bap ka hai 5 God mein le ke sar-e-Ibn-e-Ali chillai In khuli ankhon ke qurban tumhari jai Aise bhule ke na beti kabhi tumhein yaad aai Aati muddat mein ye kya shakl mujhe dikhlai Kya khushi hai, lab-e-laal to kholo Baba Kya ghazab ho gaya, kuchh munh se to bolo Baba 6 Tir is chand se mathe pe lagaya kis ne Halq par khanjar-e-bedad phiraya kis ne Khun is gardan-e-nazuk ka bahaya kis ne Chhole se rasan mein mujhe tum se chhuraya kis ne Amman sar pit-ti hain, kya unhein samjhaun main [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ghul hai darbar mein namus-e-Payambar aaye 1 Ghul hai darbar mein namus-e-Payambar aaye Faqa-kash, tishna-dahan, be-kas-o-be-par aaye Ahl-e-Bait-e-Nabawi khole hue sar aaye Samne hakim-e-be-din ke wo muztar aaye Kat kar Hazrat-e-Shabbir ka sar laye hain Abhi darbar mein namus-e-Husain aaye hain 2 Barh ke ghabra ke pukari ke are kaun Husain Bola koi ke wohi Fatima ka nur-e-ain Bibi Zainab hain idhar pit ke karti hain jo bain Aaj kya qabr mein honge Muhammad bechain Khana-e-Syed-e-Laulak mein koi na raha Haye ab Panjtan-e-Pak mein koi na raha 3 Band-e-rasan ke khare ho gaye khole sar Bal bikhraye [misra juzwi taur par ghair wazeh] Aur ye chillai hui nikli mahal se bahar Jald batlao ke shahzadiyan baithi hain kidhar Nange sar jaungi, hai hai mera Aqa na raha Kis ka parda ke Nabi-zadi ka parda na raha
[جب کہ دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے — جاری] 4 بولا حاکم کہ نہایت ہے تجھے باپ کی چاہ تخت کے نیچے یہ کیا طشت میں ہے، کر تو نگاہ پاس جا کر جو گئی دیکھنے، بانوی آہ خوں میں ڈوبا ہوا اس کو نظر آیا سرِ شاہ طشت پر گر کے پکاری کہ یہ حال آپ کا ہے لو پھوپھی جان، یہی سر تو مرے باپ کا ہے 5 گود میں لے کے سرِ ابنِ علیؑ چلائی ان کھلی آنکھوں کے قربان تمہاری جائی ایسے بھولے کہ نہ بیٹی کبھی تمہیں یاد آئی آتی مدت میں یہ کیا شکل مجھے دکھلائی کیا خوشی ہے، لبِ لعل تو کھولو بابا کیا غضب ہوگیا، کچھ منہ سے تو بولو بابا 6 تیر اس چاند سے ماتھے پہ لگایا کس نے حلق پر خنجرِ بیداد پھرایا کس نے خون اس گردنِ نازک کا بہایا کس نے چھولے سے رسن میں مجھے تم سے چھڑایا کس نے اماں سر پیٹتی ہیں، کیا انہیں سمجھاؤں میں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] غل ہے دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے 1 غل ہے دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے فاقہ کش، تشنہ دہن، بے کس و بے پر آئے اہل بیتِ نبوی کھولے ہوئے سر آئے سامنے حاکمِ بے دین کے وہ مضطر آئے کاٹ کر حضرتِ شبیرؑ کا سر لائے ہیں ابھی دربار میں ناموسِ حسینؑ آئے ہیں 2 بڑھ کے گھبرا کے پکاری کہ ارے کون حسینؑ بولا کوئی کہ وہی فاطمہؑ کا نورِ عین بی بی زینبؑ ہیں ادھر پیٹ کے کرتی ہیں جو بین آج کیا قبر میں ہوں گے محمدؐ بے چین خانۂ سیدِ لولاک میں کوئی نہ رہا ہائے اب پنجتنِ پاک میں کوئی نہ رہا 3 بندِ رسن کے کھڑے ہوگئے کھولے سر بال بکھرائے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اور یہ چلائی ہوئی نکلی محل سے باہر جلد بتلاؤ کہ شہزادیاں بیٹھی ہیں کدھر ننگے سر جاؤں گی، ہے ہے مرا آقا نہ رہا کس کا پردہ کہ نبی زادی کا پردہ نہ رہا

246

[Ghul hai darbar mein namus-e-Payambar aaye — jari] 4 [Ibtidai do misra juzwi taur par ghair wazeh] Pahunchin darbar mein jis waqt wo ba-hal-e-tabah Gir pari daur ke Shabbir ke sar par nagah Ro ke chillai ke is shakl pe qurban gayi Mere Aqa ka yahi sar hai, main pehchan gayi 5 Yak-ba-yak takht se ghabra ke utha hakim-e-Sham Dal kar Hind ke daman pe kiya us ne kalam Mujh ko ruswa kiya, aisa bhi koi karta hai kam Us ne daman ko ulat kar kaha o bad-anjam Be-rida Zainab-o-Kulsum hain, waswas nahin Pas mera hai, Nabi-zadiyon ka pas nahin 6 Kis ki beti hai ke sar par nahin jis ke chadar Ye bahu kis ki hai jo baithti hai nange sar Kis ke namus hain jo rote hain yun chilla kar Haye kyun phat ke falak gir nahin parta tujh par Tauq-o-zanjir ko aur Abid-e-dilgir ko dekh Rasan-e-zulm ko aur Shah ki hamshir ko dekh 7 Ye rasan aur ye nanha sa Sakina ka gala Koi aisi bhi badi karta hai nekon se bhala Us ki beti hai jo aghosh-e-Muhammad mein pala Kya qayamat hai, ye bachpan ye asiri ki bala Hath bandhane se hasil, zara kya lete hain Rahm karte hain yatimon pe ke dukh dete hain 8 Hind se apni tarafdari ki sun kar guftar Pas us ke gayi, chillai Sakina ek bar Tere qurban main ay Aal-e-Nabi ki ghamkhwar Khol de aa ke mere hath, hain rassi se figar Ab to wajib hai asiron pe duaen teri [Aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh] 9 Main Sakina hun Husain ibn-e-Ali ki dukhtar Be-gunah Shimr ne kata hai mere bap ka sar Haye jis sine pe soti thi main thi khugar Ghore dauraye lainon ne isi sine par Dekhiye nil hain galon pe hamare Bibi Shimr zalim ne tamanche hamein mare Bibi
[غل ہے دربار میں ناموسِ پیمبرؐ آئے — جاری] 4 [ابتدائی دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] پہنچیں دربار میں جس وقت وہ باحالِ تباہ گر پڑی دوڑ کے شبیرؑ کے سر پر ناگاہ رو کے چلائی کہ اس شکل پہ قربان گئی میرے آقا کا یہی سر ہے، میں پہچان گئی 5 یک بیک تخت سے گھبرا کے اٹھا حاکمِ شام ڈال کر ہند کے دامن پہ کیا اس نے کلام مجھ کو رسوا کیا، ایسا بھی کوئی کرتا ہے کام اس نے دامن کو الٹ کر کہا او بد انجام بے ردا زینبؑ و کلثومؑ ہیں، وسواس نہیں پاس میرا ہے، بنی زادیوں کا پاس نہیں 6 کس کی بیٹی ہے کہ سر پر نہیں جس کے چادر یہ بہو کس کی ہے جو بیٹھتی ہے ننگے سر کس کے ناموس ہیں جو روتے ہیں یوں چلا کر ہائے کیوں پھٹ کے فلک گر نہیں پڑتا تجھ پر طوق و زنجیر کو اور عابدِ دلگیر کو دیکھ رسنِ ظلم کو اور شاہ کی ہمشیر کو دیکھ 7 یہ رسن اور یہ ننھا سا سکینہؑ کا گلا کوئی ایسی بھی بدی کرتا ہے نیکوں سے بھلا اس کی بیٹی ہے جو آغوشِ محمدؐ میں پلا کیا قیامت ہے، یہ بچپن یہ اسیری کی بلا ہاتھ بندھوانے سے حاصل، ذرا کیا لیتے ہیں رحم کرتے ہیں یتیموں پہ کہ دکھ دیتے ہیں 8 ہند سے اپنی طرفداری کی سن کر گفتار پاس اس کے گئی، چلائی سکینہؑ اک بار تیرے قربان میں اے آلِ نبیؐ کی غمخوار کھول دے آ کے مرے ہاتھ، ہیں رسی سے فگار اب تو واجب ہے اسیروں پہ دعائیں تیری [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 9 میں سکینہؑ ہوں حسین ابنِ علیؑ کی دختر بے گنہ شمر نے کاٹا ہے مرے باپ کا سر ہائے جس سینے پہ سوتی تھی میں تھی خوگر گھوڑے دوڑائے لعینوں نے اسی سینے پر دیکھئے نیل ہیں گالوں پہ ہمارے بی بی شمر ظالم نے طمانچے ہمیں مارے بی بی

247

Amad hai Ahl-e-Bait-e-Payambar ki Sham mein 1 Amad hai Ahl-e-Bait-e-Payambar ki Sham mein Gesu khule hue hain aza-e-Imam mein Sar pit-ti hain Fatima Dar-us-Salam mein Zainab ye nauha karti hain balwa-e-aam mein Logo khabar karo mere Nana Rasul ko Balwe mein Shimr laya hai Bint-e-Batul ko 2 Nana teri nawasi ke sar par rida nahin Aur Ahl-e-Sham dekhte hain, kuchh haya nahin Abid gharib marta hai, shab se dawa nahin Behosh nanhe bachche hain, aab-o-ghiza nahin Dil sab ke kanpte hain, badan thartharate hain Ab samne Yazid ke Sadat jate hain 3 Hain ek rasan mein barah gale, wa musibata Rote hain gardanon ke pale, wa musibata Bas mein sitamgaron ke chale, wa musibata Khak-e-aza hain munh pe male, wa musibata Mushkil qadam uthana tha is izdeham mein Yun Itrat-e-Nabi gayi balwa-e-aam mein 4 Zainab tere unt pe ye karti thi bayan Darbar mein talab hue Sadat nagahan Unton se utarti bibiyan, keh keh ke al-aman Pesh-e-Yazid le gaye zalim kashan kashan Saman-e-jashn-e-aam tha, darbar aam tha Aur nange sar Husain ka kunba tamam tha 5 Chalaye ghore the sab Haram-e-Shah-e-Mashriqain Shimr sukut lab pe thi, [misra juzwi taur par ghair wazeh] Zainab ne dekha tasht mein nagah sar-e-Husain Be-sakhta tarap ke ye kehne lagi wo bain Haye na maut aai mujhe rah-e-Sham mein Bhaiya mera salam lo darbar-e-aam mein
آمد ہے اہل بیتِ پیمبرؐ کی شام میں 1 آمد ہے اہل بیتِ پیمبرؐ کی شام میں گیسو کھلے ہوئے ہیں عزائے امام میں سر پیٹتی ہیں فاطمہؑ دارالسلام میں زینبؑ یہ نوحہ کرتی ہیں بلوائے عام میں لوگو خبر کرو مرے نانا رسولؐ کو بلوے میں شمر لایا ہے بنتِ بتولؑ کو 2 نانا تری نواسی کے سر پر ردا نہیں اور اہلِ شام دیکھتے ہیں، کچھ حیا نہیں عابدؑ غریب مرتا ہے، شب سے دوا نہیں بے ہوش ننھے بچے ہیں، آب و غذا نہیں دل سب کے کانپتے ہیں، بدن تھرتھراتے ہیں اب سامنے یزید کے سادات جاتے ہیں 3 ہیں ایک رسن میں بارہ گلے، وا مصیبتا روتے ہیں گردنوں کے پلے، وا مصیبتا بس میں ستم گروں کے چلے، وا مصیبتا خاکِ عزا ہیں منہ پہ ملے، وا مصیبتا مشکل قدم اٹھانا تھا اس اژدحام میں یوں عترتِ نبیؐ گئی بلوائے عام میں 4 زینبؑ ترے اونٹ پہ یہ کرتی تھی بیاں دربار میں طلب ہوئے سادات ناگہاں اونٹوں سے اترتی بیبیاں، کہہ کہہ کے الاماں پیشِ یزید لے گئے ظالم کشاں کشاں سامانِ جشن عام تھا، دربار عام تھا اور ننگے سر حسینؑ کا کنبہ تمام تھا 5 چلائے گھوڑے تھے سب حرمِ شاہِ مشرقین شمر سکوت لب پہ تھی، [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] زینبؑ نے دیکھا طشت میں ناگہ سرِ حسینؑ بے ساختہ تڑپ کے یہ کہنے لگی وہ بین ہے ہے نہ موت آئی مجھے راہِ شام میں بھیا مرا سلام لو دربارِ عام میں

248

Likha hai dast-e-Bint-e-Yadullah tha bandha 1 Likha hai dast-e-Bint-e-Yadullah tha bandha Aur pas hi rasan mein Sakina ka tha gala Zainab ne ye bayan jo sar-e-Shah se kiya Dekha Sakina pyasi ne bhi sar utha utha Chashm-e-adab se bap ke sar par nigah ki Hathon se to mila nahin aur munh se aah ki 2 Chillai haye Baba, kata kab tumhara sar Sab mujh se kehte the safar mein tera pidar Haye jise lainon ne luta hamara ghar Haye jise tamanche mujhe mare be-khatar Sach hai ke bap wale ko sab pyar karte hain Yun hum se be-pidar ko giraftar karte hain 3 Baba hamare moti dila do lainon se Baba rida phuphi ki manga do lainon se Baba hamara kunba chhura do lainon se Baba achchhi ki jaan bacha do lainon se Roti hun jab to pyar se tum dekh lete ho Baba hamare hath nahin khol dete ho Ya Ali aaiye zindan mein Haram rote hain 1 Ya Ali aaiye zindan mein Haram rote hain Qatl-e-Shabbir hue kushta-e-gham rote hain Beriyan pehne asiran-e-sitam rote hain Hashr ho jata hai jab mil ke hum rote hain Sar ko jab pit ke chillate hain ay Maula Husain Dar-o-diwar se aati hai sada Haye Husain 2 Na dilasa koi de aur na koi puchhe baat Koi itna nahin jo roye zara bete ke sath Gham behtar ka hai aur pichhla pahar kali raat Hai dilase ko faqat Hazrat-e-Majbur ki zat Qaid-khane ki musibat se jo dam ghutta hai Koi uthta hai, koi khak pe gir parta hai 3 Qaida ye hai yatimon pe taras khate hain God mein lete hain, samjhate hain, behlate hain Khatirsh karte hain, rahat unhein pahunchate hain Ye tamanchon pe tamanche unhein khilwate hain Ye sitam Bint-e-Shahanshah-e-Madina ke liye Siliyan Shimr ki aur bali Sakina ke liye
لکھا ہے دستِ بنتِ یداللہ تھا بندھا 1 لکھا ہے دستِ بنتِ یداللہ تھا بندھا اور پاس ہی رسن میں سکینہؑ کا تھا گلا زینبؑ نے یہ بیاں جو سرِ شاہ سے کیا دیکھا سکینہؑ پیاسی نے بھی سر اٹھا اٹھا چشمِ ادب سے باپ کے سر پر نگاہ کی ہاتھوں سے تو ملا نہیں اور منہ سے آہ کی 2 چلائی ہائے بابا، کٹا کب تمہارا سر سب مجھ سے کہتے تھے سفر میں ترا پدر ہے ہے جسے لعینوں نے لوٹا ہمارا گھر ہے ہے جسے طمانچے مجھے مارے بے خطر سچ ہے کہ باپ والے کو سب پیار کرتے ہیں یوں ہم سے بے پدر کو گرفتار کرتے ہیں 3 بابا ہمارے موتی دلا دو لعینوں سے بابا ردا پھوپھی کی منگا دو لعینوں سے بابا ہمارا کنبہ چھڑا دو لعینوں سے بابا اچھی کی جان بچا دو لعینوں سے روتی ہوں جب تو پیار سے تم دیکھ لیتے ہو بابا ہمارے ہاتھ نہیں کھول دیتے ہو یا علیؑ آئیے زندان میں حرم روتے ہیں 1 یا علیؑ آئیے زنداں میں حرم روتے ہیں قتلِ شبیرؑ ہوئے کشتۂ غم روتے ہیں بیڑیاں پہنے اسیرانِ ستم روتے ہیں حشر ہو جاتا ہے جب مل کے ہم روتے ہیں سر کو جب پیٹ کے چلاتے ہیں اے مولا حسینؑ در و دیوار سے آتی ہے صدا ہائے حسینؑ 2 نہ دلاسا کوئی دے اور نہ کوئی پوچھے بات کوئی اتنا نہیں جو روئے ذرا بیٹے کے ساتھ غم بہتر کا ہے اور پچھلا پہر کالی رات ہے دلاسے کو فقط حضرتِ مجبور کی ذات قید خانے کی مصیبت سے جو دم گھٹتا ہے کوئی اٹھتا ہے، کوئی خاک پہ گر پڑتا ہے 3 قاعدہ یہ ہے یتیموں پہ ترس کھاتے ہیں گود میں لیتے ہیں، سمجھاتے ہیں، بہلاتے ہیں خاطرش کرتے ہیں، راحت انہیں پہنچاتے ہیں یہ طمانچوں پہ طمانچے انہیں کھلواتے ہیں یہ ستم بنتِ شہنشاہِ مدینہ کیلئے سیلیاں شمر کی اور بالی سکینہؑ کیلئے

249

[Ya Ali aaiye zindan mein Haram rote hain — jari] 4 Ya Ali aap ki poti ka ajab hai alam Kahi jati hai ke aa jaye na Shimr-e-zalim Rasan-e-zulm ki tangi se ghata jata hai dam Nanhe hathon se kare bap ka kyun kar matam Aah jab karti hai tab Arsh-e-Barin hilta hai Ya Ali aap ki poti ka gala chhilta hai Al-Abbas Fatiha Baraye sozkhwan Imami Sahib Sar apna pit ke Fizza se Hind ne puchha 1 Sar apna pit ke Fizza se Hind ne puchha Are bata to sahi kya Husain qatl hua Jise tu khwab mein Zahra ko nange sar dekha Wohi Husain, wohi hai ye Dukhtar-e-Zahra Ghazab hua, Shimr wala se chhut gayi Zainab Husain qatl hue, aah lut gayi Zainab 2 Pukari Fizza zaban band kar tu ay khush-khu Majal hai ye kisi ki jo lute Zainab ko Zara tu gaur se ay Bibi khub tum socho Husain qatl hua, Abbas jis ka bhai ho Wo Bibi qaid ho, balwe mein jaye ibrat hai Bahen Husain ki ho be-rida, qayamat hai 3 Pukari Hind ke achchha na hal batlao Main hath jorti hun, thori der tum jao Kaha kanizon se hakim talak zara jao Wahan jo tasht mein ek sar hai, us ko le aao Kaho Yazid se wapas main jald kar dungi Qasam Husain ki, is sar ko main na rakh lungi
[یا علیؑ آئیے زندان میں حرم روتے ہیں — جاری] 4 یا علیؑ آپ کی پوتی کا عجب ہے عالم کہی جاتی ہے کہ آجائے نہ شمرِ ظالم رسنِ ظلم کی تنگی سے گھٹا جاتا ہے دم ننھے ہاتھوں سے کرے باپ کا کیوں کر ماتم آہ جب کرتی ہے تب عرشِ بریں ہلتا ہے یا علیؑ آپ کی پوتی کا گلا چھلتا ہے العباس فاتحہ برائے سوزخواں امامی صاحب سر اپنا پیٹ کے فضہ سے ہند نے پوچھا 1 سر اپنا پیٹ کے فضہ سے ہند نے پوچھا ارے بتا تو سہی کیا حسینؑ قتل ہوا جسے تو خواب میں زہرا کو ننگے سر دیکھا وہی حسینؑ، وہی ہے یہ دخترِ زہرا غضب ہوا، شمر والا سے چھٹ گئی زینبؑ حسینؑ قتل ہوئے، آہ لٹ گئی زینبؑ 2 پکاری فضہ زبان بند کر تو اے خوش خو مجال ہے یہ کسی کی جو لوٹے زینبؑ کو ذرا تو غور سے اے بی بی خوب تم سوچو حسینؑ قتل ہوا، عباسؑ جس کا بھائی ہو وہ بی بی قید ہو، بلوے میں جائے عبرت ہے بہن حسینؑ کی ہو بے ردا، قیامت ہے 3 پکاری ہند کہ اچھا نہ حال بتلاؤ میں ہاتھ جوڑتی ہوں، تھوڑی دیر تم جاؤ کہا کنیزوں سے حاکم تلک ذرا جاؤ وہاں جو طشت میں اک سر ہے، اس کو لے آؤ کہو یزید سے واپس میں جلد کر دوں گی قسم حسینؑ کی، اس سر کو میں نہ رکھ لوں گی

250

[Sar apna pit ke Fizza se Hind ne puchha — jari] 4 Ye zikr tha ke kanizon ka izdeham aaya Hua ye ghul, sar-e-Sultan-e-tishna-kam aaya Pukari Bint-e-Ali, maut ka payam aaya Bahen ka naam batane sar-e-Imam aaya Kanizon ne sar-e-Sultan-e-Mashriqain rakha Huzur-e-Hind ke la kar sar-e-Husain rakha 5 Sar-e-Husain jo aaya mahal mein misl-e-mah Pukari pit ke sar Hind Bint-e-Abdullah Lo aao qaidiyo, dekho ye kis ka sar hai aah Sada di sar ne ye ijaz se ba-hal-e-tabah [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ye sar hai bhai ka, Zainab main hun, batao bahen 6 Sada ye sunte hi uthi Batul ki jai Qarib Hind ke aa kar ye baat farmai Husain mar gaye, Zainab hai qaid mein aai Chhupaun kya ke batate hain khud mujhe bhai Le Bibi Fatima ke nur-e-ain ka pursa Main tujh ko deti hun bhai Husain ka pursa Qaid-khane se jo nazdik tha hakim ka mahal 1 Qaid-khane se jo nazdik tha hakim ka mahal Sun ke awaz-e-buka Hind ko aati thi na kal Sar mein ankhon mein diya aur na laga kajal Kya suni, aaye samajh jata ho jab dil ka kanwal Kabhi raton ko na aram se wo soti thi Khwab se chaunk ke uth baithti thi, roti thi 2 Hakim-e-Sham se al-qissa ijazat le kar Qaid-khane mein gayi Hind ba-hal-e-muztar Mil gaya dil jo pari qaidiyon par us ki nazar Dekha sab bibiyon ko khak-basar, barahna sar Ye to halat hai magar shukr-e-Khuda karte hain Na shikayat hai kisi ki, na gila karte hain 3 Ek taraf khak pe leta hai koi azari Marz-e-tab ki wo shiddat hai ke mushkil hai tari Paon suje hue hain jin se lahu hai jari Hai ye zahir ke bas ab koch ki hai tayyari [Aakhri do misra juzwi taur par ghair wazeh]
[سر اپنا پیٹ کے فضہ سے ہند نے پوچھا — جاری] 4 یہ ذکر تھا کہ کنیزوں کا اژدہام آیا ہوا یہ غل، سرِ سلطانِ تشنہ کام آیا پکاری بنتِ علیؑ، موت کا پیام آیا بہن کا نام بتانے سرِ امام آیا کنیزوں نے سرِ سلطانِ مشرقین رکھا حضورِ ہند کے لا کر سرِ حسینؑ رکھا 5 سرِ حسینؑ جو آیا محل میں مثلِ ماہ پکاری پیٹ کے سر ہند بنتِ عبداللہ لو آؤ قیدیو، دیکھو یہ کس کا سر ہے آہ صدا دی سر نے یہ اعجاز سے بحالِ تباہ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] یہ سر ہے بھائی کا، زینبؑ میں ہوں، بتاؤ بہن 6 صدا یہ سنتے ہی اٹھی بتولؑ کی جائی قریب ہند کے آ کر یہ بات فرمائی حسینؑ مر گئے، زینبؑ ہے قید میں آئی چھپاؤں کیا کہ بتاتے ہیں خود مجھے بھائی لے بی بی فاطمہؑ کے نورِ عین کا پرسہ میں تجھ کو دیتی ہوں بھائی حسینؑ کا پرسہ قید خانے سے جو نزدیک تھا حاکم کا محل 1 قید خانے سے جو نزدیک تھا حاکم کا محل سن کے آوازِ بکا ہند کو آتی تھی نہ کل سر میں آنکھوں میں دیا اور نہ لگا کاجل کیا سنی، آئے سمجھ جاتا ہو جب دل کا کنول کبھی راتوں کو نہ آرام سے وہ سوتی تھی خواب سے چونک کے اٹھ بیٹھتی تھی، روتی تھی 2 حاکمِ شام سے القصہ اجازت لے کر قید خانے میں گئی ہند بہ حالِ مضطر مل گیا دل جو پڑی قیدیوں پر اس کی نظر دیکھا سب بیبیوں کو خاک بسر، برہنہ سر یہ تو حالت ہے مگر شکرِ خدا کرتے ہیں نہ شکایت ہے کسی کی، نہ گلہ کرتے ہیں 3 اک طرف خاک پہ لیٹا ہے کوئی آزاری مرضِ تب کی وہ شدت ہے کہ مشکل ہے طاری پاؤں سوجے ہوئے ہیں جن سے لہو ہے جاری ہے یہ ظاہر کہ بس اب کوچ کی ہے تیاری [آخری دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

251

[Qaid-khane se jo nazdik tha hakim ka mahal — jari] 4 Tab ki shiddat se hai bimari ki halat, taqdir Chand sa munh hai ke hai rukh-e-alam ki taswir Band ankhen hain magar lab pe hai har dam takbir Tauq gardan mein hai aur paon mein zahri zanjir Paon ke ablon mein khar ayan hain ab tak Pusht-e-bimar pe durron ke nishan hain ab tak 5 Hind ki dekh ke ulfat ye Sakina ne kaha Kholo meri na rasan, jakra hi rehne do gala Shimr zara na le aaye kahin phir is ja Kahin mujh par na kare zulm-o-sitam is se siwa Shimr ke dar se main Baba ko bhi ro sakti nahin Dar ke mare dar-e-zindan ki taraf takti nahin 6 Kan ke mere gauhar bhi nahin us ne chhore Ki samajat bhi bahut, hath bhi main ne jore Jo sitam mujh pe hue ye to bahut hain thore Samne mere, mere bhai ke mare kore Shimr ke naam se har waqt main ghabrati hun Chaunk parti hun agar raton ko so jati hun Abid ko jab Yazid se Baba ka sar mila 1 Abid ko jab Yazid se Baba ka sar mila Sar kya mila ke marham-e-zakhm-e-jigar mila Muddat ke baad bap ke sar se pisar mila Mah-e-Safar mein Sham se hukm-e-safar mila Dekha jo Ahl-e-Bait ne farq-e-Janab ko Taron ne aa ke gher liya mahtab ko 2 Bahnon ne bari bari liya god mein wo sar Zainab ne hont rakh diye bhai ke hont par Darya baha ke ashkon ke boli wo nauhagar Bhaiya, phiri hai aap ki hamshir dar-badar Jis roz se juda hui main dam se aap ke Nezon se pusht zakhmi hai, dil gham se aap ke 3 Bhaiya tumhein hamari khabar bhi hai ya nahin Bhaiya hamare sar se ridaen utar lin Bhaiya tumhari bahnein yahan rassi mein band hain Bhaiya tumhari beti ke yahan siliyan lagin [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Bhaiya hum ek rassi mein barah asir hain Bashukriya sozkhwan Ansar Husain Kazmi
[قید خانے سے جو نزدیک تھا حاکم کا محل — جاری] 4 تپ کی شدت سے ہے بیماری کی حالت، تقدیر چاند سا منہ ہے کہ ہے رخِ الم کی تصویر بند آنکھیں ہیں مگر لب پہ ہے ہر دم تکبیر طوق گردن میں ہے اور پاؤں میں زہری زنجیر پاؤں کے آبلوں میں خار عیاں ہیں اب تک پشتِ بیمار پہ دُرّوں کے نشاں ہیں اب تک 5 ہند کی دیکھ کے الفت یہ سکینہؑ نے کہا کھولو میری نہ رسن، جھکڑا ہی رہنے دو گلا شمر ذرا نہ لے آئے کہیں پھر اس جا کہیں مجھ پر نہ کرے ظلم و ستم اس سے سوا شمر کے ڈر سے میں بابا کو بھی رو سکتی نہیں ڈر کے مارے درِ زنداں کی طرف تکتی نہیں 6 کان کے میرے گہر بھی نہیں اس نے چھوڑے کی سماجت بھی بہت، ہاتھ بھی میں نے جوڑے جو ستم مجھ پہ ہوئے یہ تو بہت ہیں تھوڑے سامنے میرے، مرے بھائی کے مارے کوڑے شمر کے نام سے ہر وقت میں گھبراتی ہوں چونک پڑتی ہوں اگر راتوں کو سو جاتی ہوں عابدؑ کو جب یزید سے بابا کا سر ملا 1 عابدؑ کو جب یزید سے بابا کا سر ملا سر کیا ملا کہ مرہمِ زخمِ جگر ملا مدت کے بعد باپ کے سر سے پسر ملا ماہِ صفر میں شام سے حکمِ سفر ملا دیکھا جو اہلِ بیت نے فرقِ جناب کو تاروں نے آ کے گھیر لیا ماہتاب کو 2 بہنوں نے باری باری لیا گود میں وہ سر زینبؑ نے ہونٹ رکھ دیے بھائی کے ہونٹ پر دریا بہا کے اشکوں کے بولی وہ نوحہ گر بھیا، پھری ہے آپ کی ہمشیر در بدر جس روز سے جدا ہوئی میں دم سے آپ کے نیزوں سے پشت زخمی ہے، دل غم سے آپ کے 3 بھیا تمہیں ہماری خبر بھی ہے یا نہیں بھیا ہمارے سر سے ردائیں اتار لیں بھیا تمہاری بہنیں یہاں رسی میں بند ہیں بھیا تمہاری بیٹی کے یہاں سیلیاں لگیں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بھیا ہم ایک رسی میں بارہ اسیر ہیں بشکریہ سوزخواں انصار حسین کاظمی

252

Pahunchi jo qaid-khane mein Hind nek-sair 1 Pahunchi jo qaid-khane mein Hind nek-sair Dekha ke ek mariz para hai qarib-e-dar Rota hai wan koi to koi pitta hai sar Hathon se dil pakar ke pukari wo nauhagar Dam par bhi ban gayi magar afat ghati nahin Tab mein bhi is gharib ki beri kati nahin 2 Ansu baha ke shana hilaya jo chand bar Ek bar ghash se chaunk ke bola nahif-o-zar Be-kas ko kyun jagati hain, [lafz ghair wazeh] Kya jaan-ba-lab hua koi masum dil-figar Paida hue hain ashk bahane ke waste Uthe hain hum janaza uthane ke waste 3 Wo boli sab ki khair hai ay zar-o-natawan Main hun kaniz aap ki, madar nahin yahan Mushtaq-e-did aai hun zindan ke darmiyan Itna mujhe bataiye ay Yusuf-e-Zaman Ism-e-sharif kya hai, kaha sogwar hai Puchha pidar ka naam, kaha be-diyar hai 4 Puchha kahan lute ho, kaha Haq ki rah mein Puchha ye kab, kaha ke Muharram ke mah mein Puchha ye kyun, kaha ke muhabbaton ki chah mein Puchha pidar kahan hain, kaha qatl-gah mein Puchha jo ghar to ro ke kaha qaid-khana hai Puchha ghiza mein kya hai, kaha taziyana hai 5 Ye zikr tha ke aa gaya khuni talkh-kam Laya sinan-e-zulm pe ek farq-e-lala-fam Zindan-e-Sham nur se roshan hua tamam Is sar ne di nida: mere bimar, assalam Ghabra ke Ahl-e-Bait to tazim ko uthe Sajjad kanpte hue taslim ko uthe 6 Is sar se ro ke kehne lagi Hind bawafa Ay sar, tu bolta hai to ye bhi mujhe bata Kis ba-Khuda ki Aal hai, kya naam hai tera Kis bap ka tu lal hai, kis man ka lal Kya Dukhtar-e-Rasul ka lakht-e-jigar hai tu Qurban jaun, kya mere Aqa ka sar hai tu
پہنچی جو قید خانے میں ہند نیک سیر 1 پہنچی جو قید خانے میں ہند نیک سیر دیکھا کہ اک مریض پڑا ہے قریبِ در روتا ہے واں کوئی تو کوئی پیٹتا ہے سر ہاتھوں سے دل پکڑ کے پکاری وہ نوحہ گر دم پر بھی بن گئی مگر آفت گھٹی نہیں تپ میں بھی اس غریب کی بیڑی کٹی نہیں 2 آنسو بہا کے شانہ ہلایا جو چند بار اک بار غش سے چونک کے بولا نحیف و زار بے کس کو کیوں جگاتی ہیں، [لفظ غیر واضح] کیا جان بلب ہوا کوئی معصوم دل فگار پیدا ہوئے ہیں اشک بہانے کے واسطے اٹھے ہیں ہم جنازہ اٹھانے کے واسطے 3 وہ بولی سب کی خیر ہے اے زار و ناتواں میں ہوں کنیز آپ کی، مادر نہیں یہاں مشتاقِ دید آئی ہوں زنداں کے درمیان اتنا مجھے بتائیے اے یوسفِ زماں اسمِ شریف کیا ہے، کہا سوگوار ہے پوچھا پدر کا نام، کہا بے دیار ہے 4 پوچھا کہاں لٹے ہو، کہا حق کی راہ میں پوچھا یہ کب، کہا کہ محرم کے ماہ میں پوچھا یہ کیوں، کہا کہ محبتوں کی چاہ میں پوچھا پدر کہاں ہیں، کہا قتل گاہ میں پوچھا جو گھر تو رو کے کہا قید خانہ ہے پوچھا غذا میں کیا ہے، کہا تازیانہ ہے 5 یہ ذکر تھا کہ آگیا خونی تلخ کام لایا سنانِ ظلم پہ اک فرقِ لالہ فام زندانِ شام نور سے روشن ہوا تمام اس سر نے دی ندا: مرے بیمار، السلام گھبرا کے اہلِ بیت تو تعظیم کو اٹھے سجادؑ کانپتے ہوئے تسلیم کو اٹھے 6 اس سر سے رو کے کہنے لگی ہند باوفا اے سر، تو بولتا ہے تو یہ بھی مجھے بتا کس باخدا کی آل ہے، کیا نام ہے ترا کس باپ کا تو لال ہے، کس ماں کا لال کیا دخترِ رسولؐ کا لختِ جگر ہے تو قربان جاؤں، کیا مرے آقا کا سر ہے تو

253

[Pahunchi jo qaid-khane mein Hind nek-sair — jari] 7 Khudaya, kanp kar ye sar-e-Sarwar-e-Zaman Pyasa mera khitab hai, maqtul mera watan Nana mera Rasul hai, Baba Abul Hasan Masum mera bhai hai, qaidi meri bahen Ahmad ko rone wali ka lakht-e-jigar hun main [Aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh] 8 Ghash ho gayi ye sunte hi Hind nek-sair Zainab sar-e-afati ko pukari [lafz ghair wazeh] Naam apna kyun bata diya ay Shah-e-bahr-o-bar Is ka nahin khayal ke Zainab hai nange sar Pehchan ke jo wo mujhe chadar urhayegi Main bhi to Bint-e-Fatima hun, sharm aayegi Qaid-khane mein talatum hai ke Hind aati hai 1 Qaid-khane mein talatum hai ke Hind aati hai Dukhtar-e-Fatima ghairat se moi jati hai Ruh-e-Ghalib mein wo zindan mein ghabrati hai Be-hawasi se har ek bar ye chillati hai Asman dur, zamin sakht, kidhar jaun main [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 2 Daur-e-zindan pe hua itne mein anboh-e-kamal Bole darban ke barhe daulat-o-umr-o-iqbal Qaidiyo utho, dua de ke karo istiqbal Zan-e-hakim ka hai zindan mein nuzul-e-ijlal Tum khule sar nahin, Huzur ab tumhein chadar dengi Rahm-dil hain, abhi zindan se riha kar dengi 3 Thin kanizen zanan-e-hakim ki jalau mein jo rawan Dekhti kya hain ke ek sher hai ahan mein nihan Laghar-o-khasta-tan-o-faqa-kash-o-tishna-zaban Munh pe sili ke nishan, pusht pe durron ke nishan Saq-e-pa [lafz ghair wazeh] se zanjir mein tharrai hai Ustukhwanon ke larazne se sada aati hai
[پہنچی جو قید خانے میں ہند نیک سیر — جاری] 7 خدایا، کانپ کر یہ سرِ سرورِ زمن پیاسا مرا خطاب ہے، مقتول مرا وطن نانا مرا رسولؐ ہے، بابا ابو الحسنؑ معصوم مرا بھائی ہے، قیدی مری بہن احمدؐ کو رونے والی کا لختِ جگر ہوں میں [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 8 غش ہوگئی یہ سنتے ہی ہند نیک سیر زینبؑ سرِ آفتی کو پکاری [لفظ غیر واضح] نام اپنا کیوں بتا دیا اے شاہِ بحر و بر اس کا نہیں خیال کہ زینبؑ ہے ننگے سر پہچان کے جو وہ مجھے چادر اڑھائے گی میں بھی تو بنتِ فاطمہؑ ہوں، شرم آئے گی قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے 1 قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے دخترِ فاطمہؑ غیرت سے موئی جاتی ہے روحِ غالب میں وہ زنداں میں گھبراتی ہے بے حواسی سے ہر اک بار یہ چلاتی ہے آسماں دور، زمیں سخت، کدھر جاؤں میں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 2 دورِ زنداں پہ ہوا اتنے میں انبوہِ کمال بولے درباں کہ بڑھے دولت و عمر و اقبال قیدیو اٹھو، دعا دے کے کرو استقبال زنِ حاکم کا ہے زنداں میں نزولِ اجلال تم کھلے سر نہیں، حضور اب تمہیں چادر دیں گی رحم دل ہیں، ابھی زنداں سے رہا کر دیں گی 3 تھیں کنیزیں زنانِ حاکم کی جلو میں جو رواں دیکھتی کیا ہیں کہ اک شیر ہے آہن میں نہاں لاغر و خستہ تن و فاقہ کش و تشنہ زباں منہ پہ سیلی کے نشاں، پشت پہ دُرّوں کے نشاں ساق پا [لفظ غیر واضح] سے زنجیر میں تھرائی ہے استخوانوں کے لرزنے سے صدا آتی ہے

254

[Qaid-khane mein talatum hai ke Hind aati hai — jari] 4 Gird-e-Abid ke phiri phir wo ba-hal-e-taghayyur [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Bole wo kaun, ye chillai [lafz ghair wazeh] Assalam ay rasan-o-tauq-o-salasil ke asir Hai wasiyat ka amal marne pe tayyar hai tu Kuchh kafan ke liye rakha hai ke nadar hai tu 5 Gham na kha, gor-o-kafan main tujhe dungi Wallah Nange sar tere janaze ke chalungi hamrah Marne wale, tera kya naam hai, kis se hai nibah Bole Maula abhi paintis baras jita hai aah Naam be-kas bhi hai, qaidi bhi hai, nadar bhi hai Hal ye hai ke asiri bhi hai, azar bhi hai 6 Hind ne puchha, maraz kya hai, kaha be-pidari Ro ke boli ke dawa kya hai, kaha nauhagari Jo daryaft kiya, kehne lage dar-badari Boli leta hai khabar kaun, kaha be-khabari Aah karne ka sabab puchha to farmane lage Taziyanon ke nishan pusht pe dikhlane lage 7 Boli wo kaun se isyan pe mili ye tazir Rad ke farmaya ke kuchh bhi nahin be-taqsir Us ne munh pit liya aur kaha kis se hua asir Bole [misra juzwi taur par ghair wazeh] Kuchh kafan ke liye hamrah nahin laya hun Bap ko chhor ke be-gor-o-kafan aaya hun 8 Nishan-e-Zainab pe nazar kar ke kaha Ya Dawar Dukhtar-e-Fatima zindan mein aai kyun kar Dekha Banu ko to kehne lagi ho kar shashdar Koi shahzadi hai Iran ki ye nange sar Qudrat-e-Khaliq-e-Qayyum nazar aati hai Koi Zainab, koi Kulsum nazar aati hai Bashukriya sozkhwan Jafar Raza o Ahmad Ali Jafari
[قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے — جاری] 4 گردِ عابدؑ کے پھری پھر وہ بحالِ تغیر [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بولے وہ کون، یہ چلائی [لفظ غیر واضح] السلام اے رسن و طوق و سلاسل کے اسیر ہے وصیت کا عمل مرنے پہ تیار ہے تو کچھ کفن کے لئے رکھا ہے کہ نادار ہے تو 5 غم نہ کھا، گور و کفن میں تجھے دوں گی واللہ ننگے سر تیرے جنازے کے چلوں گی ہمراہ مرنے والے، ترا کیا نام ہے، کس سے ہے نباہ بولے مولا ابھی پینتیس برس جیتا ہے آہ نام بے کس بھی ہے، قیدی بھی ہے، نادار بھی ہے حال یہ ہے کہ اسیری بھی ہے، آزار بھی ہے 6 ہند نے پوچھا، مرض کیا ہے، کہا بے پدری رو کے بولی کہ دوا کیا ہے، کہا نوحہ گری جو دریافت کیا، کہنے لگے در بدری بولی لیتا ہے خبر کون، کہا بے خبری آہ کرنے کا سبب پوچھا تو فرمانے لگے تازیانوں کے نشاں پشت پہ دکھلانے لگے 7 بولی وہ کون سے عصیاں پہ ملی یہ تعزیر رد کے فرمایا کہ کچھ بھی نہیں بے تقصیر اس نے منہ پیٹ لیا اور کہا کس سے ہوا اسیر بولے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کچھ کفن کے لئے ہمراہ نہیں لایا ہوں باپ کو چھوڑ کے بے گور و کفن آیا ہوں 8 نشانِ زینبؑ پہ نظر کر کے کہا یا داور دخترِ فاطمہؑ زندان میں آئی کیوں کر دیکھا بانوں کو تو کہنے لگی ہوکر ششدر کوئی شہزادی ہے ایران کی یہ ننگے سر قدرتِ خالقِ قیوم نظر آتی ہے کوئی زینبؑ، کوئی کلثومؑ نظر آتی ہے بشکریہ سوزخواں جعفر رضا و احمد علی جعفری

255

Qaid-khane mein Sakina ko jo lai taqdir 1 Qaid-khane mein Sakina ko jo lai taqdir Ro ro kehne lagi haye mere Baba Shabbir Kyun nahin lene khabar, aaj hui hun main asir Aao ab meri tumhari hai mulaqat-e-akhir Nisf-e-shab tak bhi yahan jina hai dushwar mera Dekho ab aan ke kis aakhri didar mera 2 Hath ab malti hun aur hath nahin aate tum Jaan jati hai meri aur nahin aate tum Kya khata meri jo tashrif nahin late tum Qaidiyon ko bhi nahin qaid se chhurwate tum Kis se dukhra hum kahen, basti hai sitamgaron ki Koi sunta nahin faryad gunahgaron ki 3 Kehti thi Banu se ro ro ke kahan hain Baba Pas un ke mujhe bhijwa do jahan hain Baba Mere aram hain Baba, meri jaan hain Baba Kyun meri ankhon se is waqt nihan hain Baba Kyun Sakina se juda hone ki tadbir hui Kya gunah mujh se hua, koi taqsir hui 4 Banu godi mein liya, kar gayi diye lori Aur thapak kar lagi kehne wo nasibon phuti So meri ladli, so ja meri qaidi bachchi So meri tishna-jigar, so meri bholi pyasi So ja ay furqat-e-Shabbir mein rone wali So meri Shah ki aghosh mein sone wali 5 Thi jo jagi hui bachchi wo kai raton ki So gayi khwab mein, Baba ki nazar shakl pari Dekhte hi wo unhein khwab mein qadmon pe giri Shah ne godi mein uthaya to yahi kehne lagi [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sadqe main aur meri jaan bhi tum par Baba 6 Khub pani meri khatir gaye lene ghar se Mujh pe kya kya hua is arse mein aur tum na phire Shah ne gham ke lab sine se lipta ke use Kaha ay jaan meri, tujh pe ye Baba sadqe Jo sitam mujh pe hua kya tujhe taqrir karun Tu bhi dilgir hai, ab kya tujhe dilgir karun
قید خانے میں سکینہؑ کو جو لائی تقدیر 1 قید خانے میں سکینہؑ کو جو لائی تقدیر رو رو کہنے لگی ہے ہے مرے بابا شبیرؑ کیوں نہیں لینے خبر، آج ہوئی ہوں میں اسیر آؤ اب میری تمہاری ہے ملاقاتِ اخیر نصف شب تک بھی یہاں جینا ہے دشوار مرا دیکھو اب آن کے کس آخری دیدار مرا 2 ہاتھ اب ملتی ہوں اور ہاتھ نہیں آتے تم جان جاتی ہے مری اور نہیں آتے تم کیا خطا میری جو تشریف نہیں لاتے تم قیدیوں کو بھی نہیں قید سے چھڑواتے تم کس سے دکھڑا ہم کہیں، بستی ہے ستمگاروں کی کوئی سنتا نہیں فریاد گنہگاروں کی 3 کہتی تھی بانوں سے رو رو کے کہاں ہیں بابا پاس اُن کے مجھے بھجوا دو جہاں ہیں بابا مرے آرام ہیں بابا، مری جاں ہیں بابا کیوں مری آنکھوں سے اس وقت نہاں ہیں بابا کیوں سکینہؑ سے جدا ہونے کی تدبیر ہوئی کیا گنہ مجھ سے ہوا، کوئی تقصیر ہوئی 4 بانوں گودی میں لیا، کر گئی دیئے لوری اور تھپک کر لگی کہنے وہ نصیبوں پھوٹی سو مری لاڈلی، سو جا مری قیدی بچی سو مری تشنہ جگر، سو مری بھولی پیاسی سو جا اے فرقتِ شبیرؑ میں رونے والی سو مری شاہ کی آغوش میں سونے والی 5 تھی جو جاگی ہوئی بچی وہ کئی راتوں کی سو گئی خواب میں، بابا کی نظر شکل پڑی دیکھتے ہی وہ انہیں خواب میں قدموں پہ گری شہ نے گودی میں اٹھایا تو یہی کہنے لگی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] صدقے میں اور مری جان بھی تم پر بابا 6 خوب پانی مری خاطر گئے لینے گھر سے مجھ پہ کیا کیا ہوا اس عرصہ میں اور تم نہ پھرے شاہ نے غم کے لب سینے سے لپٹا کے اسے کہا اے جان مری، تجھ پہ یہ بابا صدقے جو ستم مجھ پہ ہوا کیا تجھے تقریر کروں تو بھی دلگیر ہے، اب کیا تجھے دلگیر کروں

256

[Qaid-khane mein Sakina ko jo lai taqdir — jari] 7 Aisi kuchh ban gayi mujh par ke na aaya tujh pas Main juda tujh se bhi hunga, na ab tu ho udas Dekh munh bap ka, wo kehne lagi ba-sad-yas Aap ke qadmon se aati hai mujhe khun ki bas Khun se peshani ke bhar jane ka bais kya hai Surkh khat halq pe Baba tere ye kaisa hai Qaid-khane mein Sakina ko jo lai taqdir Agha Shorish Kashmiri Aghaz-e-Haram hai ke hangam-e-dua hai Islam khud apnon ki shaqawat mein ghira hai Har daur mein hoti rahi taqat ki parastish Har daur Yazidon ka tarafdar raha hai Bashukriya Sozkhwan Zilli Hasan o Baqir Naqvi o Mustafa Jafari Sar-e-Husain jo zindan-e-Sham mein aaya 1 Sar-e-Husain jo zindan-e-Sham mein aaya To barh ke bhai ko hamshir ne salam kiya Daur nala-o-shewan se aisa hashr utha Haram bhi rote the, Maula ka sar bhi rota tha Mili ye khwab ki tabir qaid-khane mein Bapa thi Majlis-e-Shabbir qaid-khane mein 2 Sakina boli suno hal-e-be-kasan Baba Chale gaye the mujhe chhor kar kahan Baba Hain ghash mein Abid-e-bimar-o-natawan Baba Gale mein tauq hai, paon mein beriyan Baba Sitamgaron ko hamara khayal koi nahin Nabi ki Aal ka pursan-e-hal koi nahin 3 Phuphi ki pusht pe durron ke hain nishan Baba Bandhi hai meri bhi gardan mein risman Baba Utar gaye mere kanon ki baliyan Baba Mere shafiq pidar, mere mehrban Baba Zamin puchhti thi aur na asman hum ko Sitamgaron ne phiraya kahan kahan hum ko
[قید خانے میں سکینہؑ کو جو لائی تقدیر — جاری] 7 ایسی کچھ بن گئی مجھ پر کہ نہ آیا تجھ پاس میں جدا تجھ سے بھی ہوں گا، نہ اب تو ہو اداس دیکھ منہ باپ کا، وہ کہنے لگی باصد یاس آپ کے قدموں سے آتی ہے مجھے خون کی باس خوں سے پیشانی کے بھر جانے کا باعث کیا ہے سرخ خط حلق پہ بابا ترے یہ کیسا ہے قید خانے میں سکینہؑ کو جو لائی تقدیر آغا شورش کاشمیری آغازِ حرم ہے کہ ہنگامِ دعا ہے اسلام خود اپنوں کی شقاوت میں گھرا ہے ہر دور میں ہوتی رہی طاقت کی پرستش ہر دور یزیدوں کا طرف دار رہا ہے بشکریہ سوزخواں ظلی حسن و باقر نقوی و مصطفیٰ جعفری سرِ حسینؑ جو زندانِ شام میں آیا 1 سرِ حسینؑ جو زندانِ شام میں آیا تو بڑھ کے بھائی کو ہمشیر نے سلام کیا دور نالہ و شیون سے ایسا حشر اٹھا حرم بھی روتے تھے، مولا کا سر بھی روتا تھا ملی یہ خواب کی تعبیر قید خانے میں بپا تھی مجلسِ شبیرؑ قید خانے میں 2 سکینہؑ بولی سنو حالِ بے کساں بابا چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر کہاں بابا ہیں غش میں عابدِ بیمار و ناتواں بابا گلے میں طوق ہے، پاؤں میں بیڑیاں بابا ستم گروں کو ہمارا خیال کوئی نہیں بنی کی آل کا پرسان حال کوئی نہیں 3 پھوپھی کی پشت پہ دُرّوں کے ہیں نشاں بابا بندھی ہے میری بھی گردن میں ریسمان بابا اتر گئے مرے کانوں کی بالیاں بابا مرے شفیق پدر، میرے مہرباں بابا زمین پوچھتی تھی اور نہ آسمان ہم کو ستم گروں نے پھرایا کہاں کہاں ہم کو

257

[Sar-e-Husain jo zindan-e-Sham mein aaya — jari] 4 Lagaya bap ke sar ko gale se beti ne [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Wo tin aaj Sakina ke lab par aa hi gaye Sunaya hal-e-zabun khub apna ro ro ke Yazidiyat se sitam fash kar gayi bachchi Tarap tarap ke asiri mein mar gayi bachchi 5 Yazid kanp utha is khabar ke pane se Ye thik mangi taawun ki is gharane se Janaza bachchi ka uthe na qaid-khane se Badal na jaye faza lash bahar aane se Ye saniha bhi ho tarikh-e-nau-e-insan mein Bahen ko dafn kare bhai kuchh zindan mein 6 Larazte hathon se turbat bhai Abid ne Bahen ki chhoti si mayyat uthai Abid ne Zamin mein shama ki biza'at chhupai Abid ne Jigar ko tham ke di ye duhai Abid ne Ek ehtijaj hai har daur har zamane mein Jo ek chhoti si turbat hai qaid-khane mein Sar-e-Husain jo zindan-e-Sham mein aaya Shadan Dehlavi Sakina Sham ke zindan mein thi alam se nidhal 1 Sakina Sham ke zindan mein thi alam se nidhal Kabhi chacha ka tasawwur, kabhi pidar ka khayal Kabhi Rubab se baten, kabhi phuphi se maqaal Kabhi khamosh, kabhi Abid-e-hazin se sawal Chacha kab aayenge darya se laut kar bhaiya Yahan se nahr ka hai kis qadar safar bhaiya 2 Main Karbala mein rahi muntazir, nahin aaye Lain le gaye, mere magar nahin aaye Jala diye gaye hum sab ke ghar, nahin aaye Sadaen deti rahi main magar nahin aaye Hawa-e-sard tarai mein jab chali hogi Thake hue the bahut, nind aa gayi hogi 3 Tarapti rehti thi masum yun hi Sham-o-sahar Tasalliyan use dete the Abid-e-muztar Rubab roti thin bachchi ki bholi baton par Nigah-e-yas se takti thin Zainab be-par Payam-e-marg bani dil ki be-kali aakhir Chacha ke pas bachchi chali gayi aakhir
[سرِ حسینؑ جو زندانِ شام میں آیا — جاری] 4 لگایا باپ کے سر کو گلے سے بیٹی نے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] وہ تین آج سکینہؑ کے لب پر آ ہی گئے سنایا حالِ زبوں خوب اپنا رو رو کے یزیدیت سے ستم فاش کر گئی بچی تڑپ تڑپ کے اسیری میں مر گئی بچی 5 یزید کانپ اٹھا اس خبر کے پانے سے یہ ٹھیک مانگی تعاون کی اس گھرانے سے جنازہ بچی کا اٹھنے نہ قید خانے سے بدل نہ جائے فضا لاش باہر آنے سے یہ سانحہ بھی ہو تاریخِ نوعِ انساں میں بہن کو دفن کرے بھائی کچھ زنداں میں 6 لرزتے ہاتھوں سے تربت بھائی عابدؑ نے بہن کی چھوٹی سی میت اٹھائی عابدؑ نے زمیں میں شمع کی بضاعت چھپائی عابدؑ نے جگر کو تھام کے دی یہ دہائی عابدؑ نے اک احتجاج ہے ہر دور ہر زمانے میں جو ایک چھوٹی سی تربت ہے قید خانے میں سرِ حسینؑ جو زندانِ شام میں آیا شاداں دہلوی سکینہؑ شام کے زندان میں تھی الم سے نڈھال 1 سکینہؑ شام کے زنداں میں تھی الم سے نڈھال کبھی چچا کا تصور، کبھی پدر کا خیال کبھی ربابؑ سے باتیں، کبھی پھوپھی سے مقال کبھی خموش، کبھی عابدِ حزیں سے سوال چچا کب آئیں گے دریا سے لوٹ کر بھیا یہاں سے نہر کا ہے کس قدر سفر بھیا 2 میں کربلا میں رہی منتظر، نہیں آئے لعین لے گئے، میرے مگر نہیں آئے جلا دیئے گئے ہم سب کے گھر، نہیں آئے صدائیں دیتی رہی میں مگر نہیں آئے ہوائے سرد ترائی میں جب چلی ہوگی تھکے ہوئے تھے بہت، نیند آگئی ہوگی 3 تڑپتی رہتی تھی معصوم یوں ہی شام و سحر تسلیاں اسے دیتے تھے عابدِ مضطر ربابؑ روتی تھیں بچی کی بھولی باتوں پر نگاہِ یاس سے تکتی تھیں زینبؑ بے پر پیامِ مرگ بنی دل کی بے کلی آخر چچا کے پاس بچی چلی گئی آخر

258

[Sakina Sham ke zindan mein thi alam se nidhal — jari] 4 Ye zakhm taza jo Ahl-e-Haram ke dil pe laga To qaid-khane mein ek hashr ho gaya barpa Qarib ke janib Abid, Rubab ne dekha Bas itna keh sakin: haye, ye kya hua beta [Aakhri do misra juzwi taur par ghair wazeh] 5 Qarib ke aain Zainab, Rubab, Bint-e-Ali Kaha ke bachchi ko de dijiye mujhe Bhabhi Khuda ki marzi mein insan ka dakhl kya Bibi Ye roz roz ki izaon se bhi chhut gayi Na din ko tarpegi ab aur na shab ko royegi Jahan mein bap ke sine se lag ke soyegi 6 Qarib ke bole ye Abid: bahen Khuda Hafiz Milenge hashr mein ay khasta-tan Khuda Hafiz Meri gharib, meri kam-sukhan, Khuda Hafiz Imam-e-Sayyida, gharib-ul-watan, Khuda Hafiz Bahen ko ghusl-o-kafan tak na de saka bhai Tujhe to ilm hai majbur tha tera bhai Zindan mein jabke Dukhtar-e-Shabbir mar gayi 1 Zindan mein jabke Dukhtar-e-Shabbir mar gayi Duniya se Fatima safar-e-khuld kar gayi Sine ke dil pe dagh-e-judai ka dhar gayi Ghul par gaya Husain ki ashiq guzar gayi Jannat basai dekh ke duniya ke bagh ko Taza kiya hai phir Ali Asghar ke dagh ko 2 Bazu hila ke Banu ne nala kiya Bibi pidar ke sar se uthao to sar zara Baten abhi to karti thin ansu baha baha Sakit hai [misra juzwi taur par ghair wazeh] Munh dekhte hi zinat ka naqsha badal gaya Kis waqt sans ruk gayi, kab dam nikal gaya 3 Lo hath jorti hai ye man ay Sakina jaan Mujh ko bula lo tum ho jahan ay Sakina jaan Dhundun nikal ke tum ko kahan ay Sakina jaan Aur to qabr hai ye makan ay Sakina jaan Main chahti hun maut se badtar hayat ko Ab kaun soyega mere pahlu mein raat ko
[سکینہؑ شام کے زندان میں تھی الم سے نڈھال — جاری] 4 یہ زخم تازہ جو اہلِ حرم کے دل پہ لگا تو قید خانے میں اک حشر ہوگیا برپا قریب کے جانب عابدؑ، ربابؑ نے دیکھا بس اتنا کہہ سکیں: ہے ہے، یہ کیا ہوا بیٹا [آخری دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 قریب کے آئیں زینبؑ، ربابؑ، بنتِ علیؑ کہا کہ بچی کو دے دیجئے مجھے بھابھی خدا کی مرضی میں انساں کا دخل کیا بی بی یہ روز روز کی ایذاؤں سے بھی چھوٹ گئی نہ دن کو تڑپے گی اب اور نہ شب کو روئے گی جہاں میں باپ کے سینے سے لگ کے سوئے گی 6 قریب کے بولے یہ عابدؑ: بہن خدا حافظ ملیں گے حشر میں اے خستہ تن خدا حافظ مری غریب، مری کم سخن، خدا حافظ امامِ سیدہ، غریب الوطن، خدا حافظ بہن کو غسل و کفن تک نہ دے سکا بھائی تجھے تو علم ہے مجبور تھا ترا بھائی زندان میں جب کہ دخترِ شبیرؑ مر گئی 1 زندان میں جب کہ دخترِ شبیرؑ مر گئی دنیا سے فاطمہؑ سفرِ خلد کر گئی سینے کے دل پہ داغِ جدائی کا دھر گئی غل پڑ گیا حسینؑ کی عاشق گزر گئی جنت بسائی دیکھ کے دنیا کے باغ کو تازہ کیا ہے پھر علی اصغرؑ کے داغ کو 2 بازو ہلا کے بانو نے نالہ کیا بی بی پدر کے سر سے اٹھاؤ تو سر ذرا باتیں ابھی تو کرتی تھیں آنسو بہا بہا ساکت ہے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] منہ دیکھتے ہی زینت کا نقشہ بدل گیا کس وقت سانس رک گئی، کب دم نکل گیا 3 لو ہاتھ جوڑتی ہے یہ ماں اے سکینہؑ جاں مجھ کو بلا لو تم ہو جہاں اے سکینہؑ جاں ڈھونڈوں نکل کے تم کو کہاں اے سکینہؑ جاں اور تو قبر ہے یہ مکان اے سکینہؑ جاں میں چاہتی ہوں موت سے بدتر حیات کو اب کون سوئے گا مرے پہلو میں رات کو

259

[Zindan mein jabke Dukhtar-e-Shabbir mar gayi — jari] 4 Bachchi pe man tujhe kidhar ab dhundne ko jaye Ay gham-rasida, tu ne qayamat ke dukh uthaye Chhut kar pidar se ghariyan kahan mein tamanche khaye Bibi rasan-bandi teri gardan mein haye haye [Aakhri do misra juzwi taur par ghair wazeh] 5 Qurban jaun, qaidi dil, man Afat mein baad Sibt-e-Nabi mubtala hai man Majbur hai, gharib hai, be-dast-o-pa hai man Bibi ko de kahan se kafan, be-rida hai man Pehle se khak mein hai badan sab utha hua Le jao qabr mein yahi karta phata hua 6 Iza se gham se ranj uthane se chhut gayin Kunbe se kya ke sare zamane se chhut gayin Har subh-o-sham ashk bahane se chhut gayin Achchha hua ke ghariyan khane se chhut gayin Nind ur gayi thi logon ki bachchi ke bain se Ab to Yazid raat ko soyega chain se Zindan mein jabke Dukhtar-e-Shabbir mar gayi Sar jo Shabbir ka zindan mein laye khuddam 1 Sar jo Shabbir ka zindan mein laye khuddam Bhai ke sar ko kiya Zainab-e-muztar ne salam Tha giraftar-e-salasil jo zamane ka Imam Utha tazim ko le kar Shah-e-Mazlum ka naam Tasht halqe mein liye kasrat-e-gham rone lage Sar-e-Shabbir ko dekha to Haram rone lage 2 Sab ne matam kiya mil kar, hui Majlis barpa Chum kar sar ko aqidat se ye Zainab ne kaha Dukh uthaye hain bahut tum se bichhar kar bhaiya Apni aghosh mein sar Baba Sakina ne liya Dur rehte the bhi ruke hi kahan the ansu Sar-e-Shabbir ki ankhon se rawan the ansu 3 Hal kehne ka ye lamha jo Sakina ko mila Sar-e-Shabbir ko sine se laga kar ye kaha Chhor kar hum ko gaye aap kahan ay Baba Aap ke baad sitam tute hain hum par kya kya Mere rukhsar pe jo nil ayan hain Baba Ye mere munh pe tamanchon ke nishan hain Baba
[زندان میں جب کہ دخترِ شبیرؑ مر گئی — جاری] 4 بچی پہ ماں تجھے کدھر اب ڈھونڈنے کو جائے اے غم رسیدہ، تو نے قیامت کے دکھ اٹھائے چھٹ کر پدر سے گھڑیاں کہاں میں طمانچے کھائے بی بی رسن بندی تری گردن میں ہائے ہائے [آخری دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 قربان جاؤں، قیدی دل، ماں آفت میں بعد سبطِ نبیؐ مبتلا ہے ماں مجبور ہے، غریب ہے، بے دست و پا ہے ماں بی بی کو دے کہاں سے کفن، بے ردا ہے ماں پہلے سے خاک میں ہے بدن سب اٹھا ہوا لے جاؤ قبر میں یہی کرتا پھٹا ہوا 6 ایذا سے غم سے رنج اٹھانے سے چھٹ گئیں کنبے سے کیا کہ سارے زمانے سے چھٹ گئیں ہر صبح و شام اشک بہانے سے چھٹ گئیں اچھا ہوا کہ گھڑیاں کھانے سے چھٹ گئیں نیند اڑ گئی تھی لوگوں کی بچی کے بین سے اب تو یزید رات کو سوئے گا چین سے زندان میں جب کہ دخترِ شبیرؑ مر گئی سر جو شبیرؑ کا زندان میں لائے خدام 1 سر جو شبیرؑ کا زندان میں لائے خدام بھائی کے سر کو کیا زینبِ مضطر نے سلام تھا گرفتارِ سلاسل جو زمانے کا امام اٹھا تعظیم کو لے کر شہِ مظلوم کا نام طشتِ حلقے میں لئے کثرتِ غم رونے لگے سرِ شبیرؑ کو دیکھا تو حرم رونے لگے 2 سب نے ماتم کیا مل کر، ہوئی مجلس برپا چوم کر سر کو عقیدت سے یہ زینبؑ نے کہا دکھ اٹھائے ہیں بہت تم سے بچھڑ کر بھیا اپنی آغوش میں سر بابا سکینہؑ نے لیا دور رہتے تھے بھی رکے ہی کہاں تھے آنسو سرِ شبیرؑ کی آنکھوں سے رواں تھے آنسو 3 حال کہنے کا یہ لمحہ جو سکینہؑ کو ملا سرِ شبیرؑ کو سینے سے لگا کر یہ کہا چھوڑ کر ہم کو گئے آپ کہاں اے بابا آپ کے بعد ستم ٹوٹے ہیں ہم پر کیا کیا مرے رخسار پہ جو نیل عیاں ہیں بابا یہ مرے منہ پہ طمانچوں کے نشاں ہیں بابا

260

[Sar jo Shabbir ka zindan-e-Sham mein aaya — jari] 4 Aap maidan ko sidhare to bara zulm hua Aag khaimon mein lagi, jal gaya saman sara Chhin gaye mere gauhar, jal gaya mera karta Roti phirti thi main is dasht-e-bala mein tanha Na diya hum ko kisi ne bhi sahara Baba Puchhta koi na tha hal hamara Baba 5 Rote rote hui khamosh Sakina ek bar Kaha Zainab ne ke main teri musibat ke nisar Aa meri god mein aaja, meri pyari dildar Par Sakina na hili apni jagah se zinhar Chal basi bap se wo bap ki pyari bachchi Chal basi Sham ke zindan mein dulari bachchi 6 [Ye band safhe ke matn mein juzwi taur par ghair wazeh hai] 7 Kanpte hathon se Abid ne banai turbat Dafn ki is mein Husain ibn-e-Ali ki daulat Na kisi aur ne dekhi kahin aisi ghurbat Dil bhar aaya to hui had se zyada riqqat Bachchi ke hal pe sab kushta-e-gham rote the Qabr halqe mein liye Ahl-e-Haram rote the 8 Qaid se ho ke riha jab ye Madine pahunche Man ke kanon mein Sakina ke sukhan gunjte the Jo sitam bachchi pe tute wo bhulaye na gaye Roti phirti thi wo mazlum yahi keh keh ke Ho ke jab Sham ke zindan se hawa aati hai Ay Sakina tere rone ki sada aati hai Sar jo Shabbir ka zindan mein laye khuddam (Bashukriya sozkhwan Syed Kazim Raza o Tanwir Bayanvi)
[سر جو شبیرؑ کا زندانِ شام میں آیا — جاری] 4 آپ میدان کو سدھارے تو بڑا ظلم ہوا آگ خیموں میں لگی، جل گیا ساماں سارا چھن گئے میرے گہر، جل گیا میرا کرتا روتی پھرتی تھی میں اس دشتِ بلا میں تنہا نہ دیا ہم کو کسی نے بھی سہارا بابا پوچھتا کوئی نہ تھا حال ہمارا بابا 5 روتے روتے ہوئی خاموش سکینہؑ اک بار کہا زینبؑ نے کہ میں تیری مصیبت کے نثار آ مری گود میں آجا، مری پیاری دلدار پر سکینہؑ نہ ملی اپنی جگہ سے زنهار چل بسی باپ سے وہ باپ کی پیاری بچی چل بسی شام کے زنداں میں دلاری بچی 6 [یہ بند صفحہ کے متن میں جزوی طور پر غیر واضح ہے] 7 کانپتے ہاتھوں سے عابدؑ نے بنائی تربت دفن کی اس میں حسین ابنِ علیؑ کی دولت نہ کسی اور نہ دیکھی کہیں ایسی غربت دل بھر آیا تو ہوئی حد سے زیادہ رقت بچی کے حال پہ سب کشتۂ غم روتے تھے قبر حلقے میں لئے اہلِ حرم روتے تھے 8 قید سے ہو کے رہا جب یہ مدینے پہنچے ماں کے کانوں میں سکینہؑ کے سخن گونجتے تھے جو ستم بچی پہ ٹوٹے وہ بھلائے نہ گئے روتی پھرتی تھی وہ مظلوم یہی کہہ کہہ کے ہو کے جب شام کے زنداں سے ہوا آتی ہے اے سکینہؑ ترے رونے کی صدا آتی ہے سر جو شبیرؑ کا زندان میں لائے خدام (بشکریہ سوزخواں سید کاظم رضا و تنویر بیانوی)

261

Jab qaid se asir riha ho gaye tamam 1 Jab qaid se asir riha ho gaye tamam Qabr-e-Sakina par gaye rote hue Imam Matam-kunan the sath mein Ahl-e-Haram tamam Ahista aa rahi thin Rubab-e-khajista-kam Chhoti si qabr samne nazron ke phir gayi Ek aah-e-sard khinch ke marqad pe gir gayi 2 Bolin utho ke qafila tayyar ho chuka Jata hai ab watan ko tumhara ye qafila Beta tumhein [juzwi taur par ghair wazeh] ka arman tha bara Jab tum nahin to ghar se mujhe wasta kya Tere baghair ghar ko main hargiz na jaungi Bin kafan qabr pe ansu bahaungi 3 Rote hue pidar se Haram uth khare hue Boli Rubab: jati hun hukm-e-Imam se Ro kar kaha ye Zainab-e-aali-maqam ne Qurban jaun, shikwa na kijiyo Husain se Ay Ahl-e-Sham wasta Rabb-e-Karim ka Pichhe khayal rakhna hamari yatim ka 4 Al-qissa ho ke Karb-o-bala mein jo phir aaye Zainab ke ghar gayin, bhai ki qabr par Is tarah nahin karti thin wo sokhta-jigar Bhai ki gor ujar gayi, bhaiya karo nazar Tum ko khabar hai hum pe jo afat guzar gayi Qaid-e-sitam mein bali Sakina bhi mar gayi 5 Bhaiya tumhare baad wo afat pari idhar Asghar ka sar bhi kat liya qabr khod kar Khanjar gale pe jab wo chalata tha bad-guhar Hum dekhte the aur [juzwi taur par ghair wazeh] jigar Ye dekh kar Rubab ki halat tabah thi Ankhon se ashk behte the aur lab pe aah thi 6 Sar le ke jab shaqi wo wahan se chala gaya Dauri Rubab gor mein, lasha utha liya Aur chumti thi halq-e-burida ko barha [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Nale hi karte karte wo khamosh ho gayi Lasha liye wo gor mein behosh ho gayi
جب قید سے اسیر رہا ہوگئے تمام 1 جب قید سے اسیر رہا ہوگئے تمام قبرِ سکینہؑ پر گئے روتے ہوئے امام ماتم کناں تھے ساتھ میں اہلِ حرم تمام آہستہ آ رہی تھیں ربابِ خجستہ کام چھوٹی سی قبر سامنے نظروں کے پھر گئی اک آہِ سرد کھینچ کے مرقد پہ گر گئی 2 بولیں اٹھو کہ قافلہ تیار ہوچکا جاتا ہے اب وطن کو تمہارا یہ قافلہ بیٹا تمہیں [جزوی طور پر غیر واضح] کا ارمان تھا بڑا جب تم نہیں تو گھر سے مجھے واسطہ کیا تیرے بغیر گھر کو میں ہرگز نہ جاؤں گی بن کفن قبر پہ آنسو بہاؤں گی 3 روتے ہوئے پدر سے حرم اٹھ کھڑے ہوئے بولی رباب: جاتی ہوں حکمِ امام سے رو کر کہا یہ زینبِ عالی مقام نے قربان جاؤں، شکوہ نہ کیجیو حسینؑ سے اے اہلِ شام واسطہ ربِ کریم کا پیچھے خیال رکھنا ہماری یتیم کا 4 القصة ہو کے کرب و بلا میں جو پھر آئے زینبؑ کے گھر گئیں، بھائی کی قبر پر اس طرح نہیں کرتی تھیں وہ سوختہ جگر بھائی کی گور اجڑ گئی، بھیا کرو نظر تم کو خبر ہے ہم پہ جو آفت گزر گئی قیدِ ستم میں بالی سکینہؑ بھی مر گئی 5 بھیا تمہارے بعد وہ آفت پڑی ادھر اصغرؑ کا سر بھی کاٹ لیا قبر کھود کر خنجر گلے پہ جب وہ چلاتا تھا بدگہر ہم دیکھتے تھے اور [جزوی طور پر غیر واضح] جگر یہ دیکھ کر ربابؑ کی حالت تباہ تھی آنکھوں سے اشک بہتے تھے اور لب پہ آہ تھی 6 سر لے کے جب شقی وہ وہاں سے چلا گیا دوڑی ربابؑ گور میں، لاشہ اٹھا لیا اور چومتی تھی حلقِ بریدہ کو بارہا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] نالے ہی کرتے کرتے وہ خاموش ہو گئی لاشہ لئے وہ گور میں بے ہوش ہو گئی

262

Husain be-kas-o-be-par ka aaj chehlum hai 1 Husain be-kas-o-be-par ka aaj chehlum hai Tamam Fatima ke ghar ka aaj chehlum hai Pyase Sibt-e-Payambar ka aaj chehlum hai Ali ke ghar mein bahattar ka aaj chehlum hai Na Fatima na Payambar hain Bagh-e-Rizwan mein Wo qatl-gah mein rote hain aur ye zindan mein 2 Imam-e-be-kas-o-be-ashna ka chehlum hai Shahid-e-zulm-o-jafa ka chehlum hai Ali-o-Fatima ke dilruba ka chehlum hai Nabi ke ghar mein Shah-e-Karbala ka chehlum hai Haram mein ghul hai ke Abbas, Karbala ke liye Zara sa pani to bhijwa do Fatiha ke liye 3 Shahid-e-khanjar-o-tir-o-sinan ka chehlum hai Gharib-o-be-kas-o-be-khanuman ka chehlum hai Zabih-e-asr-o-Imam-e-Zaman ka chehlum hai Bahen to qaid hai aur bhai jaan ka chehlum hai Ajib fikr mein baithi bahen Husain ki hai Na Fatiha ki ijazat na shor-o-shain ki hai Husain be-kas-o-be-par ka aaj chehlum hai (Nasim) Chehlum jo Karbala mein bahattar (72) ka ho chuka 1 Chehlum jo Karbala mein bahattar ka ho chuka [Dusra misra juzwi taur par ghair wazeh] Aur Fatiha-e-Husain ke lashkar ka ho chuka Qabron pe shor-e-Aal-e-Payambar ka ho chuka Matam mein tin roz rahe shor-o-shain se Roye lipat lipat ke mazar-e-Husain se 2 Misl-e-chiragh, gor-e-ghariban pe dil jalaye Phulon ke badle qabron pe lakht-e-jigar charhaye Pyaron ki bu, duaon ke saman jo yaad aaye Be-sakhta pukare kaleja pakar ke haye [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Laya jo tha Madine se hum ko wo kya hua 3 Hazrat ki qabr mil gayi Zainab ke bain se [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Chale watan ko qabr-e-Shah-e-Mashriqain se Abid ne puchha, kyun phuphi Amman qubul hai Wo bolin ikhtiyar hai kya, han qubul hai
حسینؑ بے کس و بے پر کا آج چہلم ہے 1 حسینؑ بے کس و بے پر کا آج چہلم ہے تمام فاطمہؑ کے گھر کا آج چہلم ہے پیاسے سبطِ پیمبرؐ کا آج چہلم ہے علیؑ کے گھر میں بہتر کا آج چہلم ہے نہ فاطمہؑ نہ پیمبرؐ ہیں باغِ رضواں میں وہ قتل گاہ میں روتے ہیں اور یہ زنداں میں 2 امامِ بے کس و بے آشنا کا چہلم ہے شہیدِ ظلم و جفا کا چہلم ہے علیؑ و فاطمہؑ کے دلربا کا چہلم ہے نبیؐ کے گھر میں شہِ کربلا کا چہلم ہے حرم میں غل ہے کہ عباسؑ، کربلا کے لئے ذرا سا پانی تو بھجوا دو فاتحہ کے لئے 3 شہیدِ خنجر و تیر و سنان کا چہلم ہے غریب و بے کس و بے خانماں کا چہلم ہے ذبیحِ عصر و امامِ زماں کا چہلم ہے بہن تو قید ہے اور بھائی جان کا چہلم ہے عجیب فکر میں بیٹھی بہن حسینؑ کی ہے نہ فاتحہ کی اجازت نہ شور و شین کی ہے حسینؑ بے کس و بے پر کا آج چہلم ہے (نسیم) چہلم جو کربلا میں بہتر (72) کا ہوچکا 1 چہلم جو کربلا میں بہتر (72) کا ہوچکا [دوسرا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اور فاتحِ حسینؑ کے لشکر کا ہوچکا قبروں پہ شورِ آلِ پیمبرؐ کا ہوچکا ماتم میں تین روز رہے شور و شین سے روئے لپٹ لپٹ کے مزارِ حسینؑ سے 2 مثلِ چراغ، گورِ غریباں پہ دل جلائے پھولوں کے بدلے قبروں پہ لختِ جگر چڑھائے پیاروں کی بو، دعاؤں کے ساماں جو یاد آئے بے ساختہ پکارے کلیجہ پکڑ کے ہائے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] لایا جو تھا مدینے سے ہم کو وہ کیا ہوا 3 حضرت کی قبر مل گئی زینبؑ کے بین سے [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] چلے وطن کو قبرِ شہِ مشرقین سے عابدؑ نے پوچھا، کیوں پھوپھی اماں قبول ہے وہ بولیں اختیار ہے کیا، ہاں قبول ہے

263

[Chehlum jo Karbala mein bahattar (72) ka ho chuka — jari] 4 Aaye the kis tarah se watan, kis tarah chale [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sote the qabr mein jo, khaye hue gale Ye waqt wo tha, phir the sab ankhen male tale Abid se baton hi mein [juzwi taur par ghair wazeh] Kuchh khak-e-pak le lo ke Sughra tale 5 Ay Karbala-e-Sarwar-e-Zahra, alwida Ay qatl-gah-e-Hazrat Shabbir, alwida Ay qabr-e-Ibn-e-Sahib-e-Tathir, alwida Ay bhai jaan jaan-e-Zainab, alwida Kya gham-nasib hai ye nawasi Rasul ki Tum ne na sanwari hamari qubul ki Chehlum jo Karbala mein bahattar ka ho chuka Shair-e-Pakistan Sahba Akhtar [Taarufi/ishtihari matn safhe par maujud hai; chand alfaz ghair wazeh] Sham se jab Ahl-e-Bait gham-zada giryan chale 1 Sham se jab Ahl-e-Bait gham-zada giryan chale Yani suye Karbala chak-gareban chale Le ke shahidon ke sar, be-sar-o-saman chale Karte hue ye bayan bal-afshan chale Aaj hai chehlum Wallah Hazrat Shabbir ka Tishnagan-e-kushta-e-khanjar-o-taqdir ka 2 Rah mein un se koi puchhta gar aan kar Kis ke ho namon tum, kis ke ho gharib-jigar Kis ne hai luta tumhein, kis ne kiya be-pidar Kehte the Ahl-e-Haram un se yun ba-chashm-e-tar Tum se bayan kya karen apne hum ahwal ko Dafn hain karne chale Fatima ke lal ko 3 Wo jo Haram-e-muhtaram Shah ke ba-sad buka Manzilein tay karte haye, pahunche dar-e-Karbala Dur se wo qatl-gah un ko dikhai diya Ro ke ye kehne lage Hazrat Zain-ul-Aba Unton se utro ke ab karte hue shor-o-shain Rote chalo piyada-pa [juzwi taur par ghair wazeh] Husain
[چہلم جو کربلا میں بہتر (72) کا ہوچکا — جاری] 4 آئے تھے کس طرح سے وطن، کس طرح چلے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سوتے تھے قبر میں جو، کھائے ہوئے گلے یہ وقت وہ تھا، پھر تھے سب آنکھیں ملے تلے عابدؑ سے باتوں ہی میں [جزوی طور پر غیر واضح] کچھ خاک پاک لے لو کہ صغریٰ تلے 5 اے کربلائے سرورِ زہرا، الوداع اے قتل گاہِ حضرت شبیرؑ، الوداع اے قبرِ ابنِ صاحبِ تطہیر، الوداع اے بھائی جان جانِ زینبؑ، الوداع کیا غم نصیب ہے یہ نواسی رسولؐ کی تم نے نہ سنواری ہماری قبول کی چہلم جو کربلا میں بہتر کا ہوچکا شاعرِ پاکستان صہبا اختر [تعارفی/اشتہاری متن صفحہ پر موجود ہے؛ چند الفاظ غیر واضح] شام سے جب اہلِ بیت غم زدہ گریان چلے 1 شام سے جب اہلِ بیت غم زدہ گریان چلے یعنی سوئے کربلا چاک گریبان چلے لے کے شہیدوں کے سر، بے سر و ساماں چلے کرتے ہوئے یہ بیاں بال افشاں چلے آج ہے چہلم واللہ حضرت شبیرؑ کا تشنگانِ کشتۂ خنجر و تقدیر کا 2 راہ میں ان سے کوئی پوچھتا گر آن کر کس کے ہو ناموں تم، کس کے ہو غریب جگر کس نے ہے لوٹا تمہیں، کس نے کیا بے پدر کہتے تھے اہلِ حرم ان سے یوں باچشمِ تر تم سے بیاں کیا کریں اپنے ہم احوال کو دفن ہیں کرنے چلے فاطمہؑ کے لال کو 3 وہ جو حرمِ محترم شاہ کے باصد بکا منزلیں طے کرتے ہائے، پہنچے درِ کربلا دور سے وہ قتل گاہ ان کو دکھائی دیا رو کے یہ کہنے لگے حضرت زین العبا اونٹوں سے اترو کہ اب کرتے ہوئے شور و شین روتے چلو پیادہ پا [جزوی طور پر غیر واضح] حسینؑ

264

[Sham se jab Ahl-e-Bait gham-zada giryan chale — jari] 4 Hazrat Sajjad se sun ke Haram ye kalam Pitte rote hue unton se utre tamam Aaye jo lashon ke pas, haye wo nashad-kam Sar ko lage pitne, warison se le ke naam Chadaren sar se utar ansu bahane lage Hathon se is ban ki khak sar pe urane lage 5 Hazrat Sajjad ne dekhi ke ye majra Bibiyon ko sath le, khub sa matam kiya Sar jo shahidon ke the, bich mein un ko rakha Sina-o-sar pit kar, ro ro ye nauha parha Zahra ke masum ka aaj hai chaliswan Syed-e-Mazlum ka aaj hai chaliswan 6 Wo jo hai Ibn-e-Hasan, Shah ka aali-nasab Biyah ke din haye haye, qatl hua tishna-lab Shadi ka jora jo tha mil gaya mitti mein sab Us ka bhi chehlum hai aaj, haye sitam hai ghazab Akbar-o-Asghar ka bhi aaj hai chaliswan Shah ke lashkar ka bhi aaj hai chaliswan Sham se jab Ahl-e-Bait gham-zada giryan chale Pahunche asir-e-Sham se chhut kar jo Karbala 1 Pahunche asir-e-Sham se chhut kar jo Karbala Tabir ho chuka tha har ek sakht marhala Utra jo bar-e-sar se to yaad aaye aqraba Ek ek marne wala nigahon mein phir gaya Dil mein khatte hue the jo arman ubal pare Ashkon ke sath dil ke bhi tukre nikal pare 2 Koi turbat pe boli ke Akbar kahan ho tum Chillati koi: Qasim-e-be-par kahan ho tum Ek man sadaen deti hai: Asghar kahan ho tum Zainab pukarin: Abid-e-muztar kahan ho tum Beta na dil pe bas hai na qabu hai sabr par Lillah le chalo mujhe bhai ki qabr par 3 Boli lipat ke qabr se: bhaiya main aa gayi Bhaiya sita, main Sham talak be-rida gayi Bhaiya Sakina hum se nigahen phira gayi Nikli na qaid-khane se, maut us ko kha gayi Bachchi to ro chuki bhi bahut, thak ke so gayi Lekin wo man ki god jo viran ho gayi
[شام سے جب اہلِ بیت غم زدہ گریان چلے — جاری] 4 حضرت سجادؑ سے سن کے حرم یہ کلام پیٹتے روتے ہوئے اونٹوں سے اترے تمام آئے جو لاشوں کے پاس، ہائے وہ ناشاد کام سر کو لگے پیٹنے، وارثوں سے لے کے نام چادریں سر سے اتار آنسو بہانے لگے ہاتھوں سے اس بن کی خاک سر پہ اڑانے لگے 5 حضرت سجادؑ نے دیکھی کے یہ ماجرا بیبیوں کو ساتھ لے، خوب سا ماتم کیا سر جو شہیدوں کے تھے، بیچ میں ان کو رکھا سینہ و سر پیٹ کر، رو رو یہ نوحہ پڑھا زہرا کے معصوم کا آج ہے چالیسواں سیدِ مظلوم کا آج ہے چالیسواں 6 وہ جو ہے ابنِ حسنؑ، شاہ کا عالی نسب بیاہ کے دن ہائے ہائے، قتل ہوا تشنہ لب شادی کا جوڑا جو تھا مل گیا مٹی میں سب اس کا بھی چہلم ہے آج، ہائے ستم ہے غضب اکبرؑ و اصغرؑ کا بھی آج ہے چالیسواں شاہ کے لشکر کا بھی آج ہے چالیسواں شام سے جب اہلِ بیت غم زدہ گریان چلے پہنچے اسیرِ شام سے چھوٹ کر جو کربلا 1 پہنچے اسیرِ شام سے چھوٹ کر جو کربلا تعبیر ہوچکا تھا ہر اک سخت مرحلہ اترا جو بارِ سر سے تو یاد آئے اقربا اک ایک مرنے والا نگاہوں میں پھر گیا دل میں کھٹے ہوئے تھے جو ارمان ابل پڑے اشکوں کے ساتھ دل کے بھی ٹکڑے نکل پڑے 2 کوئی تربت پہ بولی کہ اکبرؑ کہاں ہو تم چلاتی کوئی: قاسمِ بے پر کہاں ہو تم اک ماں صدائیں دیتی ہے: اصغرؑ کہاں ہو تم زینبؑ پکاریں: عابدِ مضطر کہاں ہو تم بیٹا نہ دل پہ بس ہے نہ قابو ہے صبر پر للّٰہ لے چلو مجھے بھائی کی قبر پر 3 بولی لپٹ کے قبر سے: بھیا میں آگئی بھیا ستا، میں شام تلک بے ردا گئی بھیا سکینہؑ ہم سے نگاہیں پھرا گئی نکلی نہ قید خانے سے، موت اس کو کھا گئی بچی تو رو چکی بھی بہت، تھک کے سو گئی لیکن وہ ماں کی گود جو ویران ہو گئی

265

[Pahunche asir-e-Sham se chhut kar jo Karbala — jari] 4 Bhaiya zara Rubab ki halat to dekhiye Kaisi udas udas hai surat to dekhiye Dil khun, zaban khamosh, ye himmat to dekhiye Har gam marg-e-taza, qayamat to dekhiye Dukhiya pe kaise kaise masaib guzar gaye Waris bhi sar se uth gaya, bachche bhi mar gaye 5 Is waqt kuchh ajib tha alam Rubab par Gardan jhukaye baithi thi duniya se be-khabar Shana hila ke bola jo Zainab pe chashm-e-tar Yak-lakht jaise chaunk uthi, dekha utha ke sar Bas itna keh saki ke bahut din guzar gaye Aaye the sath bap ke Asghar kidhar gaye 6 Is nala-e-Rubab pe mahshar bapa hua Ashur ka saman tha nazar mein khincha hua Har ankh mein tha chehra-e-Asghar basa hua Godi mein jaise bap ka munh dekhta hua Qabr-e-Husain karb se tharra ke reh gayi Parchhain jaise maut ki lehra ke reh gayi Jab chhut ke qaid-e-Sham se Sajjad ghar chale 1 Jab chhut ke qaid-e-Sham se Sajjad ghar chale Raste mein Karbala ne sada di ke idhar chale Dasht-e-bala mein chhor ke lash-e-pidar chale Abid na chahte the ke jayen, magar chale Paiham dua thi taqat-e-zabt-e-fughan rahe Sughra zarur puchhegi Baba kahan rahe 2 Zar zar ke sochte the use kya batayenge Kaise kahenge: Bibi ab Akbar na aayenge Tum bhi bhula do, hum bhi unhein bhul jayenge Waqt aayega to khud tumhein Baba batayenge Keh den abhi Rubab se aage na aaiye Bachchi machal na jaye ke Asghar ko laiye 3 Umm-ul-Banin puchhengi apne jari ka hal Kis shan se lara sar-e-maidan Ali ka lal Kitna parega jang ka Ghazi ki kya sawal Un ko to sirf aab-rasani ka tha khayal Izn-e-difa mila hi kahan is dilir ko Zanjir se Imam ne pakra tha sher ko
[پہنچے اسیرِ شام سے چھوٹ کر جو کربلا — جاری] 4 بھیا ذرا ربابؑ کی حالت تو دیکھئے کیسی اداس اداس ہے صورت تو دیکھئے دل خون، زباں خموش، یہ ہمت تو دیکھئے ہر گام مرگ تازہ، قیامت تو دیکھئے دکھیا پہ کیسے کیسے مصائب گزر گئے وارث بھی سر سے اٹھ گیا، بچے بھی مر گئے 5 اس وقت کچھ عجیب تھا عالم ربابؑ پر گردن جھکائے بیٹھی تھی دنیا سے بے خبر شانہ ہلا کے بولا جو زینبؑ پہ چشم تر یک لخت جیسے چونک اٹھی، دیکھا اٹھا کے سر بس اتنا کہہ سکی کہ بہت دن گزر گئے آئے تھے ساتھ باپ کے اصغرؑ کدھر گئے 6 اس نالۂ رباب پہ محشر بپا ہوا عاشور کا سماں تھا نظر میں کھنچا ہوا ہر آنکھ میں تھا چہرۂ اصغرؑ بسا ہوا گودی میں جیسے باپ کا منہ دیکھتا ہوا قبرِ حسینؑ کرب سے تھرا کے رہ گئی پرچھائیں جیسے موت کی لہرا کے رہ گئی جب چھوٹ کے قیدِ شام سے سجادؑ گھر چلے 1 جب چھوٹ کے قیدِ شام سے سجادؑ گھر چلے رستے میں کربلا نے صدا دی کہ ادھر چلے دشتِ بلا میں چھوڑ کے لاشِ پدر چلے عابدؑ نہ چاہتے تھے کہ جائیں، مگر چلے پیہم دعا تھی طاقتِ ضبطِ فغاں رہے صغرا ضرور پوچھے گی بابا کہاں رہے 2 زر زر کے سوچتے تھے اسے کیا بتائیں گے کیسے کہیں گے: بی بی اب اکبرؑ نہ آئیں گے تم بھی بھلادو، ہم بھی انہیں بھول جائیں گے وقت آئے گا تو خود تمہیں بابا بتائیں گے کہہ دیں ابھی ربابؑ سے آگے نہ آئیے بچی مچل نہ جائے کہ اصغرؑ کو لائیے 3 ام البنینؑ پوچھیں گی اپنے جری کا حال کس شان سے لڑا سرِ میدان علیؑ کا لال کتنا پڑے گا جنگ کا غازی کی کیا سوال ان کو تو صرف آب رسانی کا تھا خیال اذنِ دفاع ملا ہی کہاں اس دلیر کو زنجیر سے امام نے پکڑا تھا شیر کو

266

[Jab chhut ke qaid-e-Sham se Sajjad ghar chale — jari] 4 Mil jati is jari ko agar jang ki raza Dam bhar mein faisla tha kul fauj-e-Sham ka Pani gaye the lene, so wo bhi na mil saka Mashkiza wapas aaya to rangin tha ja baja Wada tha bhar ke lane ka pura bhi kar diya Mashkiza Sakina mein khun apna bhar diya 5 Dekha jo ye Sakina ne, aaye nahin chacha Mashkiza wapas aaya hai aur wo bhi khun bhara Ye hadisa kaleje ka nasur ban gaya Zindan mein bhi bachchi hi ka din raat zikr tha Samjhaya har tarah, na magar be-kali gayi Aakhir chacha ke pas bhatiji chali gayi Jab chhut ke qaid-e-Sham se Sajjad ghar chale Saril Shah Har ghari rehte hain har ranj-o-bala se mahfuz Ghar mein Maula ka aza-khana sajane wale Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma safhe par darj hain] Chhut kar jab aaya Sham se kunba Rasul ka 1 Chhut kar jab aaya Sham se kunba Rasul ka Maghrib ke zarre zarre ne ek zakhm-e-nau diya Aaye jo Ibn-e-Jafar-e-Tayyar ba-safa Ek tir sa kaleje mein Abid ke gar gaya Zainab to dur hat gayin, munh ko chhupa liya Abid ne apne pas chacha ko bitha liya 2 Abid ne aah bhar ke suye khaima ki nazar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Jafar ke sher ne jo suni aah-e-pur-asar Hath apna pyar se rakha Abid ki pusht par Farmaya: yun tarap ke na aah-o-fughan karo Beta jo dukh uthaye hain mujh se bayan karo 3 Abid ka dil bhar aaya, chacha se lipat gaye Phuphi jo thin pusht ke sab zakhm phat gaye Sine laga lahu to jhuk kar simat gaye Ghabra ke Ibn-e-Jafar-e-Tayyar hat gaye Bole ye zakhm kaise hain, kya majra hua Abid Khuda ke waste bolo ye kya hua
[جب چھوٹ کے قیدِ شام سے سجادؑ گھر چلے — جاری] 4 مل جاتی اس جری کو اگر جنگ کی رضا دم بھر میں فیصلہ تھا کل فوجِ شام کا پانی گئے تھے لینے، سو وہ بھی نہ مل سکا مشکیزہ واپس آیا تو رنگیں تھا جا بجا وعدہ تھا بھر کے لانے کا پورا بھی کر دیا مشکیزہ سکینہؑ میں خون اپنا بھر دیا 5 دیکھا جو یہ سکینہؑ نے، آئے نہیں چچا مشکیزہ واپس آیا ہے اور وہ بھی خون بھرا یہ حادثہ کلیجے کا ناسور بن گیا زنداں میں بھی بچی ہی کا دن رات ذکر تھا سمجھایا ہر طرح، نہ مگر بے کلی گئی آخر چچا کے پاس بھتیجی چلی گئی جب چھوٹ کے قید شام سے سجاد گھر چلے سرِیل شاہ ہر گھڑی رہتے ہیں ہر رنج و بلا سے محفوظ گھر میں مولا کا عزا خانہ سجانے والے التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصال ثواب [اسماء صفحہ پر درج ہیں] چھٹ کر جب آیا شام سے کنبہ رسولؐ کا 1 چھٹ کر جب آیا شام سے کنبہ رسولؐ کا مغرب کے ذرے ذرے نے اک زخم نو دیا آئے جو ابنِ جعفرِ طیار باصفا اک تیر سا کلیجے میں عابدؑ کے گر گیا زینبؑ تو دور ہٹ گئیں، منہ کو چھپا لیا عابدؑ نے اپنے پاس چچا کو بٹھا لیا 2 عابدؑ نے آہ بھر کے سوئے خیمہ کی نظر [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جعفر کے شیر نے جو سنی آہِ پُر اثر ہاتھ اپنا پیار سے رکھا عابدؑ کی پشت پر فرمایا: یوں تڑپ کے نہ آہ و فغاں کرو بیٹا جو دکھ اٹھائے ہیں مجھ سے بیاں کرو 3 عابدؑ کا دل بھر آیا، چچا سے لپٹ گئے پھوپھی جو تھیں پشت کے سب زخم پھٹ گئے سینے لگا لہو تو جھک کر سمٹ گئے گھبرا کے ابنِ جعفرِ طیار ہٹ گئے بولے یہ زخم کیسے ہیں، کیا ماجرا ہوا عابدؑ خدا کے واسطے بولو یہ کیا ہوا

267

[Chhut kar jab aaya Sham se kunba Rasul ka — jari] 4 Kya baad-e-qatl-e-Shah bhi tum par hue sitam Mahfuz to rahe Shah-e-Mazlum ke Haram Ye to Habib, Ahl-e-Arab mein hai kam se kam Bachchon ko, auraton ko samajhte hain muhtaram Kya lut gaya tha khaima bhi Aal-e-Rasul ka Be-parda to hua nahin kunba Batul ka 5 Abid ne aah bhar ke kaha: kuchh na puchhiye Jo soch bhi na sakte the, aise sitam hue Bargashta is qadar tha zamana Husain se Auron ka zikr kya, Ali Asghar na bach sake Haq-e-wafa ada kiya bachchon ne aap ke Dada ka raub-dab tha, tewar the bap ke 6 Kis shan se lare wo dilawar na puchhiye Kis tarah war karte the jam kar na puchhiye Marub un se kitna tha lashkar na puchhiye Kya keh rahe the Qasim-o-Akbar na puchhiye Har ek ki zaban pe sada marhaba ki thi Fursat na di ajal ne, ye marzi Khuda ki thi 7 Un par hi kya, ajal to bhare ghar ko kha gayi Qasim ko kha gayi, Ali Akbar ko kha gayi Abbas jaise sher dilawar ko kha gayi Had ho gayi ke Sibt-e-Payambar ko kha gayi Sab qabr mein chale gaye sone ke waste Main hi bacha hun kunba ko rone ke waste 8 Kaise kahun, bacha na rahe jab Shah-e-Umam Be-warison pe tore gaye kis qadar sitam Bazar mein phiraye gaye nange sar Haram Duniya ura rahi thi mazaq aur chup the hum Kya hal dard, munh se tumhein dekh lijiye Durron ke zakhm pusht pe hain, dekh lijiye 9 Darbar mein gaye to qayamat guzar gayi Majma mein Aal-e-Pak-e-Nabi nange sar gayi Tane the, mazhake the, jahan tak nazar gayi Hum dhundte the maut bajaye kidhar gayi Qaidi the sar jhukaye khamida khare hue Chhote bare the ek rasan mein bandhe hue
[چھٹ کر جب آیا شام سے کنبہ رسولؐ کا — جاری] 4 کیا بعدِ قتلِ شاہ بھی تم پر ہوئے ستم محفوظ تو رہے شہِ مظلوم کے حرم یہ تو حبیب، اہلِ عرب میں ہے کم سے کم بچوں کو، عورتوں کو سمجھتے ہیں محترم کیا لٹ گیا تھا خیمہ بھی آلِ رسولؐ کا بے پردہ تو ہوا نہیں کنبہ بتولؑ کا 5 عابدؑ نے آہ بھر کے کہا: کچھ نہ پوچھئے جو سوچ بھی نہ سکتے تھے، ایسے ستم ہوئے برگشتہ اس قدر تھا زمانہ حسینؑ سے اوروں کا ذکر کیا، علی اصغرؑ نہ بچ سکے حقِ وفا ادا کیا بچوں نے آپ کے دادا کا رعب داب تھا، تیور تھے باپ کے 6 کس شان سے لڑے وہ دلاور نہ پوچھئے کس طرح وار کرتے تھے جم کر نہ پوچھئے مرعوب ان سے کتنا تھا لشکر نہ پوچھئے کیا کہہ رہے تھے قاسمؑ و اکبرؑ نہ پوچھئے ہر ایک کی زباں پہ صدا مرحبا کی تھی فرصت نہ دی اجل نے، یہ مرضی خدا کی تھی 7 ان پر ہی کیا، اجل تو بھرے گھر کو کھا گئی قاسمؑ کو کھا گئی، علی اکبرؑ کو کھا گئی عباسؑ جیسے شیر دلاور کو کھا گئی حد ہوگئی کہ سبطِ پیمبرؐ کو کھا گئی سب قبر میں چلے گئے سونے کے واسطے میں ہی بچا ہوں کنبہ کو رونے کے واسطے 8 کیسے کہوں، بچا نہ رہے جب شہرِ امم بے وارثوں پہ توڑے گئے کس قدر ستم بازار میں پھرائے گئے ننگے سر حرم دنیا اڑا رہی تھی مذاق اور چپ تھے ہم کیا حال درد، منہ سے تمہیں دیکھ لیجئے دُرّوں کے زخم پشت پہ ہیں، دیکھ لیجئے 9 دربار میں گئے تو قیامت گزر گئی مجمع میں آلِ پاکِ نبیؐ ننگے سر گئی طعنہ تھے، مضحکے تھے، جہاں تک نظر گئی ہم ڈھونڈتے تھے موت بجائے کدھر گئی قیدی تھے سر جھکائے خمیدہ کھڑے ہوئے چھوٹے بڑے تھے ایک رسن میں بندھے ہوئے

268

Jab afaton ke giraftar qaid se chhute 1 Jab afaton ke giraftar qaid se chhute Imam-e-din ke azadar qaid se chhute Amir-o-muztar-o-nachar qaid se chhute Janab-e-Abid-e-bimar qaid se chhute Buka ka izn jo paya to dil ko chain mila Husain to na mile par sar-e-Husain mila 2 Qayamat aai ke Shah-e-Huda ka sar aaya Bichharen khain pisar ne, bahen ne ghash khaya Salam kar ke mariz-e-alam ye chillaya Bahut dinon mein asiron ko yaad farmaya Firaq-e-Shah mein qaidi kari uthate the Ghiza ke badle faqat taziyane khate the 3 Mariz-e-hijr ne kya kya na shor-o-shar dekha Huzur ke sar-e-pur-khun ko neze par dekha Hujum-e-aam-e-Haram ke idhar udhar dekha Asiron ko sar-e-bazar nange sar dekha Kharabe mein ye musibat guzri Baba Tumhari ladli ghut ghut ke mar gayi Baba 4 Haram jo qabr-e-Sakina pe nauhagar aaye Hujum-e-yas mein zindan se chhut kar aaye Sar-e-Husain ko le kar wo nange sar aaye Nida ye di ke Sakina utho, pidar aaye Imam-e-Pak ke sar ki [juzwi taur par ghair wazeh] lo Bibi Husain lene ko khud aaye hain, chalo Bibi 5 [Ye band juzwi taur par ghair wazeh] Safar ka qasd hai Asghar ke gham mein marti hun Tumhari qabr Khuda ke supurd karti hun Jab afaton ke giraftar qaid se chhute (Nasim Amrohvi) Tajammul Lakhnavi Tum shafaat jo karoge to malak puchhenge Hum bhi ho jayen khare saf mein gunahgaron ki? Samar Hoshangabadi Hum hi keh aaye the ye Katib-e-Taqdir se pahle Koi nemat na likh duniya gham-e-Shabbir se pahle
جب آفتوں کے گرفتار قید سے چھوٹے 1 جب آفتوں کے گرفتار قید سے چھوٹے امامِ دیں کے عزادار قید سے چھوٹے امیر و مضطر و ناچار قید سے چھوٹے جنابِ عابدِ بیمار قید سے چھوٹے بکا کا اذن جو پایا تو دل کو چین ملا حسینؑ تو نہ ملے پر سرِ حسینؑ ملا 2 قیامت آئی کہ شاہِ ہدیٰ کا سر آیا بچھاڑیں کھائیں پسر نے، بہن نے غش کھایا سلام کر کے مریضِ الم یہ چلایا بہت دنوں میں اسیروں کو یاد فرمایا فراقِ شاہ میں قیدی کڑی اٹھاتے تھے غذا کے بدلے فقط تازیانے کھاتے تھے 3 مریضِ ہجر نے کیا کیا نہ شور و شر دیکھا حضور کے سرِ پُرخوں کو نیزے پر دیکھا ہجومِ عامِ حرم کے ادھر اُدھر دیکھا اسیروں کو سرِ بازار ننگے سر دیکھا خرابے میں یہ مصیبت گزری بابا تمہاری لاڈلی گھٹ گھٹ کے مر گئی بابا 4 حرم جو قبرِ سکینہؑ پہ نوحہ گر آئے ہجومِ یاس میں زنداں سے چھوٹ کر آئے سرِ حسینؑ کو لے کر وہ ننگے سر آئے ندا یہ دی کہ سکینہؑ اٹھو، پدر آئے امامِ پاک کے سر کی [جزوی طور پر غیر واضح] لو بی بی حسینؑ لینے کو خود آئے ہیں، چلو بی بی 5 [یہ بند جزوی طور پر غیر واضح] سفر کا قصد ہے اصغرؑ کے غم میں مرتی ہوں تمہاری قبر خدا کے سپرد کرتی ہوں جب آفتوں کے گرفتار قید سے چھوٹے (نسیم امروہوی) تجمل لکھنوی تم شفاعت جو کرو گے تو ملک پوچھیں گے ہم بھی ہو جائیں کھڑے صف میں گنہگاروں کی؟ ثمر ہوشنگ آبادی ہم ہی کہہ آئے تھے یہ کاتبِ تقدیر سے پہلے کوئی نعمت نہ لکھ دنیا غمِ شبیرؑ سے پہلے

269

Watan mein jab Haram-e-Shah-e-namdar aaye 1 Watan mein jab Haram-e-Shah-e-namdar aaye Malul-o-muztar-o-betab-o-be-qarar aaye Janab-e-Abid-e-bimar ashkbar aaye Nabi ki qabr-e-mutahhar pe sogwar aaye Buka se Rauza-e-Aali-Waqar hilne laga Fughan wo ki ke Nabi ka mazar hilne laga 2 Koi pukari ke Nana falak-satai hun Main Shimr se yahan aane mein thartharai hun Ye nazr aap ke rauze pe le ke aai hun Ke Ibn-e-Sher-e-Khuda ki nishani lai hun Achchhi ki lash pe main Karbala mein ro aai Tumhare lal ko dasht-e-bala mein kho aai 3 Kisi ka ghul tha ke bazar mein gayi Nana [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ghazab hai Majlis-e-[ghair wazeh] mein gayi Nana Yazid-e-nahs ke darbar mein gayi Nana [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Hazar nariyon ne mujh ko nange sar dekha 4 Safar mein Qasim-e-be-par bhi mar gaye Sughra Phuphi ke donon wo dilbar bhi mar gaye Sughra Mere jawan Ali Akbar bhi mar gaye Sughra Tumhare nanhe baradar bhi mar gaye Sughra Nabi ka lal bhi, sab aqraba bhi qatl hue Ali ke sher tumhare chacha bhi qatl hue Watan mein jab Haram-e-Shah-e-namdar aaye (Nasim Amrohvi)
وطن میں جب حرمِ شاہِ نامدار آئے 1 وطن میں جب حرمِ شاہِ نامدار آئے ملول و مضطر و بیتاب و بے قرار آئے جنابِ عابدِ بیمار اشکبار آئے نبیؐ کی قبرِ مطہر پہ سوگوار آئے بکا سے روضۂ عالی وقار ہلنے لگا فغان وہ کی کہ نبیؐ کا مزار ہلنے لگا 2 کوئی پکاری کہ نانا فلک ستائی ہوں میں شمر سے یہاں آنے میں تھرتھرائی ہوں یہ نذر آپ کے روضے پہ لے کے آئی ہوں کہ ابنِ شیرِ خدا کی نشانی لائی ہوں اچھی کی لاش پہ میں کربلا میں رو آئی تمہارے لال کو دشتِ بلا میں کھو آئی 3 کسی کا غل تھا کہ بازار میں گئی نانا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] غضب ہے مجلسِ [غیر واضح] میں گئی نانا یزیدِ نحس کے دربار میں گئی نانا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] ہزار ناریوں نے مجھ کو ننگے سر دیکھا 4 سفر میں قاسمِ بے پر بھی مر گئے صغرا پھوپھی کے دونوں وہ دلبر بھی مر گئے صغرا مرے جوان علی اکبرؑ بھی مر گئے صغرا تمہارے ننھے برادر بھی مر گئے صغرا نبیؐ کا لال بھی، سب اقربا بھی قتل ہوئے علیؑ کے شیر تمہارے چچا بھی قتل ہوئے وطن میں جب حرمِ شاہ نامدار آئے (نسیم امروہوی)

270

Yasrib se Karbala ke musafir qarib hain 1 Yasrib se Karbala ke musafir qarib hain Lut kar phire watan ko, ajab gham-nasib hain Is hal se Habib-e-Khuda ke Habib hain Be-kas hain, sogwar, Imam-e-Gharib hain Hazrat ke baad chain ki shaklein bigar gayin Shahzadiyan ghazab ki tabahi mein par gayin 2 Sab shahr mein ajib talatum hai ja baja Sughra ko fart-e-gham se nahin hosh dast-o-pa Leti hui hai sahn mein munh par liye rida Sine mein dil dharakne laga jab chali hawa Kehti hai khalq se isi hasrat mein jayenge Kyun dil bhi, hamare musafir bhi aayenge 3 Uthi ye keh ke ashiq-e-Sultan-e-Namdar Lekin qadam qadam pe giri wo nahif-o-zar Be-ikhtiyar nafas ke ye chillai ek bar Lo Nani, main to jaan hun, tum ghar se hoshiyar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Lo tum pe main fida, mere Baba Husain aaye 4 Sughra idhar se chiti chiti ba-chashm-e-tar Umm-ul-Banin bhi hathon se thame hue jigar Puchha kidhar hain khwahar-e-Sultan-e-bahr-o-bar Fizza ne barh ke Hazrat Zainab ko di khabar Zauja-e-Rasul-e-Pak ki tashrif lai hain Umm-ul-Banin bhi aai hain, Sughra bhi aai hain 5 Matam ki saf ke pas jo pahunchi wo nek-naam Rone lagin pukar ke Syedaniyan tamam Kulsum barh gayin paye tazim chand gam Uthin ek aah khinch ke Zainab paye salam Girne lagin to bazu-e-Fizza pakar liya Sughra ko dekhte hi kaleja pakar liya 6 Sughra ke munh ko dekh ke rote the sab ke sab Pyare ke naam pidar puchhti thi jab Kehti thi mil ke hath: ghazab ho gaya ghazab Beti, bahut udas hai, Baba bula lo ab Riqqat hui, na zabt kanizon se hat sakin Sughra se uth ke Hazrat Zainab lipat gayin (Bashukriya sozkhwan Huzur Baradaran o Zuhur Baradaran)
یثرب سے کربلا کے مسافر قریب ہیں 1 یثرب سے کربلا کے مسافر قریب ہیں لٹ کر پھرے وطن کو، عجب غم نصیب ہیں اس حال سے حبیبِ خدا کے حبیب ہیں بے کس ہیں، سوگوار، امامِ غریب ہیں حضرت کے بعد چین کی شکلیں بگڑ گئیں شہزادیاں غضب کی تباہی میں پڑ گئیں 2 سب شہر میں عجیب تلاطم ہے جا بجا صغرا کو فرطِ غم سے نہیں ہوش دست و پا لیٹی ہوئی ہے صحن میں منہ پر لئے ردا سینے میں دل دھڑکنے لگا جب چلی ہوا کہتی ہے خلق سے اسی حسرت میں جائیں گے کیوں دل بھی، ہمارے مسافر بھی آئیں گے 3 اٹھی یہ کہہ کے عاشقِ سلطانِ نامدار لیکن قدم قدم پہ گری وہ نحیف و زار بے اختیار نفس کے یہ چلائی ایک بار لو نانی، میں تو جاں ہوں، تم گھر سے ہوشیار [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] لو تم پہ میں فدا، مرے بابا حسینؑ آئے 4 صغرا ادھر سے چیتی چیتی بہ چشمِ تر ام البنینؑ بھی ہاتھوں سے تھامے ہوئے جگر پوچھا کدھر ہیں خواہرِ سلطانِ بحر و بر فضہ نے بڑھ کے حضرت زینبؑ کو دی خبر زوجہ رسولِ پاک کی تشریف لائی ہیں ام البنینؑ بھی آئی ہیں، صغرا بھی آئی ہیں 5 ماتم کی صف کے پاس جو پہنچی وہ نیک نام رونے لگیں پکار کے سیدانیاں تمام کلثومؑ بڑھ گئیں پئے تعظیم چند گام اٹھیں اک آہ کھینچ کے زینبؑ پئے سلام گرنے لگیں تو بازوئے فضہ پکڑ لیا صغرا کو دیکھتے ہی کلیجہ پکڑ لیا 6 صغرا کے منہ کو دیکھ کے روتے تھے سب کے سب پیارے کے نام پدر پوچھتی تھی جب کہتی تھی مل کے ہاتھ: غضب ہوگیا غضب بیٹی، بہت اداس ہے، بابا بلا لو اب رقت ہوئی، نہ ضبط کنیزوں سے ہٹ سکیں صغرا سے اٹھ کے حضرت زینبؑ لپٹ گئیں (بشکریہ سوزخواں حضور برادران و ظہور برادران)

271

Likha hai chhut ke Yasrib mein jab Haram aaye 1 Likha hai chhut ke Yasrib mein jab Haram aaye Saron ko pitte ba-sad gham-o-alam aaye Bapa tha ghul, Haram-e-Syed-e-Umam aaye Bayan karte the Sajjad ro ke: hum aaye Tamam kunbe ko maqtal mein kho ke aaye hain Bajaye takhta bahattar ke dagh laye hain 2 Madine walo, hamein Karbala ne lut liya Yatim main hua, Baba hue shahid-e-jafa Hue asir-e-sitam, Ahl-e-Bait-e-wala Bahen pe, mujh pe, ta-Sham le gaye aada Jo thamta to jafa ashkar hoti thi Ke pusht durron se meri figar hoti thi 3 Gaye Rasul ke rauze pe jis ghari Sajjad Lipat ke qabr-e-mubarak se tab ye ki faryad Khabar hai aap ko bhi hum pe kya hui bedad Ke dopahar mein hua sara ghar ka ghar barbad Tumhari Aal pe ranj-o-alam kasir hue Husain qatl hue aur Haram asir hue 4 Chale makan ko rote Imam-e-jinn-o-bashar Tamam qafila tha sath sath nauhagar Daur-e-gham hua, dekha jo Khana-e-Sarwar Udasi chhai hai, khak ur rahi hai deorhi par Ye ghair hal hua, gham se jaan khone lage Imam dekh ke sunsan ghar ko rone lage 5 Gharz utar chuke naqon se jabke Ahl-e-Haram Bichhai bibiyon ne ghar mein tab saf-e-matam Kaha ye Fatima Sughra ne: kyun na ho mujhe gham Mili na aa ke Sakina bhi mujh se haye sitam Pukari Banu: wo ji se guzri Sughra Sakina Sham ke zindan mein mar gayi Sughra 6 Khusus Hazrat Zainab ki thi ajib halat Kabhi na baithne, rone se hoti thi fursat Ghiza bhi tark hui, taq hui taqat Kisi se milti na thin aap gham ki shiddat Yahi tha wird-e-zaban: tum kidhar gaye bhai Main aah jiti rahi aur mar gaye bhai
لکھا ہے چھوٹ کے یثرب میں جب حرم آئے 1 لکھا ہے چھوٹ کے یثرب میں جب حرم آئے سروں کو پیٹتے باصد غم و الم آئے بپا تھا غل، حرمِ سیدِ امم آئے بیاں کرتے تھے سجادؑ رو کے: ہم آئے تمام کنبے کو مقتل میں کھو کے آئے ہیں بجائے تختہ بہتر (72) کے داغ لائے ہیں 2 مدینے والو، ہمیں کربلا نے لوٹ لیا یتیم میں ہوا، بابا ہوئے شہیدِ جفا ہوئے اسیرِ ستم، اہل بیتِ والا بہن پہ، مجھ پہ، تا شام لے گئے اعدا جو تھمتا تو جفا آشکار ہوتی تھی کہ پشت دُرّوں سے میری فگار ہوتی تھی 3 گئے رسولؐ کے روضے پہ جس گھڑی سجادؑ لپٹ کے قبرِ مبارک سے تب یہ کی فریاد خبر ہے آپ کو بھی ہم پہ کیا ہوئی بیداد کہ دوپہر میں ہوا سارا گھر کا گھر برباد تمہاری آل پہ رنج و الم کثیر ہوئے حسینؑ قتل ہوئے اور حرم اسیر ہوئے 4 چلے مکان کو روتے امامِ جن و بشر تمام قافلہ تھا ساتھ ساتھ نوحہ گر دور غم ہوا، دیکھا جو خانۂ سرور اداسی چھائی ہے، خاک اڑ رہی ہے ڈیوڑھی پر یہ غیر حال ہوا، غم سے جان کھونے لگے امام دیکھ کے سنسان گھر کو رونے لگے 5 غرض اتر چکے ناقوں سے جبکہ اہلِ حرم بچھائی بی بیوں نے گھر میں تب صفِ ماتم کہا یہ فاطمہ صغرا نے: کیوں نہ ہو مجھے غم ملی نہ آ کے سکینہؑ بھی مجھ سے ہائے ستم پکاری بانو: وہ جی سے گزری صغرا سکینہؑ شام کے زندان میں مر گئی صغرا 6 خصوص حضرت زینبؑ کی تھی عجیب حالت کبھی نہ بیٹھنے، رونے سے ہوتی تھی فرصت غذا بھی ترک ہوئی، طاق ہوئی طاقت کسی سے ملتی نہ تھیں آپ غم کی شدت یہی تھا وردِ زباں: تم کدھر گئے بھائی میں آہ جیتی رہی اور مر گئے بھائی

272

Malik-e-saltanat-e-Kufa jo Mukhtar hue 1 Malik-e-saltanat-e-Kufa jo Mukhtar hue Intiqam-e-shuhada lene ko tayyar hue Jitne qatil the Shah-e-din ke giraftar hue [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Us ne chun chun ke har ek bani-e-shar ko mara Khuli-o-Shimr-o-Sinan aur Umar ko mara 2 Ek din Kufe ke bazar mein ye shor hua Ho gayi Syed Sajjad ki maqbul dua Hurmala qaid hua, shukr-e-Khudawand-e-Ali Laye Mukhtar ke aage jo use Ahl-e-Wafa Puchha kyun Arsh-e-Mualla ko hilaya zalim Tir-e-Masum ko kyun tu ne lagaya zalim 3 Jo sitam tu ne kiye un ka mujhe hal suna Hathon ko jor ke ye us sitam-ara ne kaha Tir mujhe the mere tarkash mein watan se jo chala Tin tiron ne to ki ran mein nishane se khata Hun muqir, Aal-e-Payambar ko rulaya main ne Tin tiron ko nishane pe lagaya main ne 4 Ek to mashk ko jab le ke Alamdar chala Surat-e-sher, suye Syed-e-Abrar chala Mashk ko danton mein pakre hue Jarrar chala Kat gaye shane, jo talwar ka ek war chala Meri bedad se bachchon ne na paya pani Tir ek mar ke sab main ne bahaya pani 5 Dusre tir ka ab hal main karta hun bayan Laye Asghar ko jo maidan mein Shah-e-do-jahan Is qadar pyas ki shiddat thi ke ainthi thi zaban Us ko hathon pe utha kar ye kiya Shah ne bayan Tum to khauf-e-ghazab-e-Khaliq-e-Qahhar nahin Main khatawar hun, bachche to khatawar nahin 6 Gar yaqin aayega un ko ke ho tum tishna-dahan Rahm shayad unhein aa jaye, ye hai mujh ko guman Jis ghari ro ke ye bachche se kaha Shah ne bayan Sab ne dekha ke nikali Ali Asghar ne zaban Jitne murdar the munh ashkon se sab dhone lage Fauj mein jitne sipahi the wo sab rone lage
مالکِ سلطنتِ کوفہ جو مختار ہوئے 1 مالکِ سلطنتِ کوفہ جو مختار ہوئے انتقامِ شہدا لینے کو تیار ہوئے جتنے قاتل تھے شہِ دیں کے گرفتار ہوئے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اس نے چن چن کے ہر اک بانیِ شر کو مارا خولی و شمر و سنان اور عمر کو مارا 2 ایک دن کوفہ کے بازار میں یہ شور ہوا ہوگئی سید سجادؑ کی مقبول دعا حرملہ قید ہوا، شکرِ خداوندِ علیؑ لائے مختار کے آگے جو اسے اہلِ وفا پوچھا کیوں عرشِ معلیٰ کو ہلایا ظالم تیرِ معصوم کو کیوں تو نے لگایا ظالم 3 جو ستم تو نے کئے ان کا مجھے حال سنا ہاتھوں کو جوڑ کے یہ اس ستم آراء نے کہا تیر مجھے تھے مرے ترکش میں وطن سے جو چلا تین تیروں نے تو کی رن میں نشانے سے خطا ہوں مقر، آلِ پیمبرؐ کو رلایا میں نے تین تیروں کو نشانے پہ لگایا میں نے 4 ایک تو مشک کو جب لے کے علمدار چلا صورتِ شیر، سوئے سیدِ ابرار چلا مشک کو دانتوں میں پکڑے ہوئے جرار چلا کٹ گئے شانے، جو تلوار کا اک وار چلا میری بیداد سے بچوں نے نہ پایا پانی تیر اک مار کے سب میں نے بہایا پانی 5 دوسرے تیر کا اب حال میں کرتا ہوں بیاں لائے اصغرؑ کو جو میدان میں شاہِ دو جہاں اس قدر پیاس کی شدت تھی کہ اینٹھی تھی زباں اس کو ہاتھوں پہ اٹھا کر یہ کیا شہ نے بیاں تم تو خوفِ غضبِ خالقِ قہار نہیں میں خطاوار ہوں، بچے تو خطاوار نہیں 6 گر یقین آئے گا ان کو کہ ہو تم تشنہ دہاں رحم شاید انہیں آجائے، یہ ہے مجھ کو گماں جس گھڑی رو کے یہ بچے سے کہا شہ نے بیاں سب نے دیکھا کہ نکالی علی اصغرؑ نے زباں جتنے مردار تھے منہ اشکوں سے سب دھونے لگے فوج میں جتنے سپاہی تھے وہ سب رونے لگے

273

[Malik-e-saltanat-e-Kufa jo Mukhtar hue — jari] 7 Jab Ibn-e-Saad ne lashkar mein talatum dekha Aaya ghabraya hua pas mere aur ye kaha Jald kar kam tamam is ka, na kar der zara Main ne ek tir-e-seh-pahlu jo idhar ko phenka Mere ek tir ne donon ko barabar tora Bazu-e-Shah, gulu-e-Ali Asghar tora 8 Jab gulu-e-Ali Asghar pe para mera tir Gir para Shah ke hathon se ye larazta be-shir Dekh kar charkh ko kis yas se roye Shabbir Aur ro kar kaha Hazrat ne ke ay Rabb-e-Qadir Naujawanon ka to fidya hua Akbar mera Shiaon ke bachchon pe qurban hai Asghar mera Malik-e-saltanat-e-Kufa jo Mukhtar hue Husain, Sibt-e-Rasul-e-Zaman, salam alaik 1 Husain, Sibt-e-Rasul-e-Zaman, salam alaik Husain, dilbar-e-Khair-e-Sukhan, salam alaik Bare Imam-e-gharib-ul-watan, salam alaik Shahid-e-be-madad-o-be-kafan, salam alaik Ada ye aakhri khidmat karo azadaro Nabi ke lal ko rukhsat karo azadaro 2 Husain aaj tumhein kainat roti hai Tumhari tishna-labi par Furat roti hai Sahar ka chak-gareban hai, raat roti hai Tumhari maut pe ab tak hayat roti hai Tumhare gham mein zamana udas hai Maula Har ek tajziya-khana udas hai Maula 3 Husain tum ho zamane mein Fateh-e-Azam Tumhi ne din-e-Payambar kiya hai mustahkam Tumhari zat hui wajah-e-khilqat-e-Adam Na hote tum to na hota koi Khuda ki qasam Salam tum pe tumhare wafa-shiaron par Salam khun mein dube hue sitaron par
[مالکِ سلطنتِ کوفہ جو مختار ہوئے — جاری] 7 جب ابنِ سعد نے لشکر میں تلاطم دیکھا آیا گھبرایا ہوا پاس مرے اور یہ کہا جلد کر کام تمام اس کا، نہ کر دیر ذرا میں نے اک تیر سہ پہلو جو ادھر کو پھینکا میرے اک تیر نے دونوں کو برابر توڑا بازوئے شاہ، گلوئے علی اصغرؑ توڑا 8 جب گلوئے علی اصغرؑ پہ پڑا میرا تیر گر پڑا شاہ کے ہاتھوں سے یہ لرزتا بے شیر دیکھ کر چرخ کو کس یاس سے روئے شبیرؑ اور رو کر کہا حضرت نے کہ اے رب قدیر نوجوانوں کا تو فدیہ ہوا اکبرؑ میرا شیعوں کے بچوں پہ قربان ہے اصغرؑ میرا مالکِ سلطنتِ کوفہ جو مختار ہوئے حسینؑ، سبطِ رسولِ زمن، سلام علیک 1 حسینؑ، سبطِ رسولِ زمن، سلام علیک حسینؑ، دلبرِ خیرِ سخن، سلام علیک برے امامِ غریب الوطن، سلام علیک شہیدِ بے مدد و بے کفن، سلام علیک ادا یہ آخری خدمت کرو عزادارو نبیؐ کے لال کو رخصت کرو عزادارو 2 حسینؑ آج تمہیں کائنات روتی ہے تمہاری تشنہ لبی پر فرات روتی ہے سحر کا چاک گریباں ہے، رات روتی ہے تمہاری موت پہ اب تک حیات روتی ہے تمہارے غم میں زمانہ اداس ہے مولا ہر ایک تجزیہ خانہ اداس ہے مولا 3 حسینؑ تم ہو زمانے میں فاتحِ اعظم تمہی نے دینِ پیمبرؐ کیا ہے مستحکم تمہاری ذات ہوئی وجہِ خلقتِ آدم نہ ہوتے تم تو نہ ہوتا کوئی خدا کی قسم سلام تم پہ تمہارے وفا شعاروں پر سلام خون میں ڈوبے ہوئے ستاروں پر

274

[Husain, Sibt-e-Rasul-e-Zaman, salam alaik — jari] 4 Salam un pe jo zor-e-amal dikha ke gaye Dil-e-Yazid ki sab hasratein mita ke gaye Ajal ke samne maqtal mein muskura ke gaye Wo khud to so gaye, duniya magar jaga ke gaye Andheri raat mein sinon ke dagh roshan the Pari thin khak pe lashein, chiragh roshan the 5 Aa gayi Ali ke chaman ki bahar maqtal mein Zamin thi khun se sab lala-zar maqtal mein Kisi ka dil tha sinan se figar maqtal mein Ajal ne chhin liya shir-khwar maqtal mein Salam kashti-e-ummat bachane walon par Salam Sibt-e-Payambar ke nau-nihalon par 6 Salam us pe ke jis ke the sher ke tewar Zamana jis ko samajhta tha Sani-e-Haider Dikha diya ye Sakina ki mashk ko bhar kar Ke hashr tak mera qabza rahega darya par Husain aaye to bhai ki lash ko dekha Qarib-e-nahr tan-e-pash-pash ko dekha 7 Yatim-o-be-kas-o-Qaim bin Hasan pe salam Libas-e-aqd jo pehna tha us kafan pe salam [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Jahan buland the nale, us anjuman pe salam Khizan ke rang mein dubi hui baharen hain Ke jis ke sehre ki lariyan lahu ki dharen hain 8 [Pehla misra juzwi taur par ghair wazeh] Jo aag khaimon mein bharki thi wo bujha na sake Kisi ko bahr-e-madad dasht mein bula na sake Luta ke ghar ko bhi apne watan mein ja na sake Salam un pe ke chehron pe jis ke gesu the Salam un pe ke jin ke tan mein bazu the Husain, Sibt-e-Rasul-e-Zaman, salam alaik
[حسینؑ، سبطِ رسولِ زمن، سلام علیک — جاری] 4 سلام ان پہ جو زورِ عمل دکھا کے گئے دلِ یزید کی سب حسرتیں مٹا کے گئے اجل کے سامنے مقتل میں مسکرا کے گئے وہ خود تو سوگئے، دنیا مگر جگا کے گئے اندھیری رات میں سینوں کے داغ روشن تھے پڑی تھیں خاک پہ لاشیں، چراغ روشن تھے 5 آ گئی علیؑ کے چمن کی بہار مقتل میں زمین تھی خون سے سب لالہ زار مقتل میں کسی کا دل تھا سنان سے فگار مقتل میں اجل نے چھین لیا شیر خوار مقتل میں سلام کشتیِ امت بچانے والوں پر سلام سبطِ پیمبرؐ کے نونہالوں پر 6 سلام اس پہ کہ جس کے تھے شیر کے تیور زمانہ جس کو سمجھتا تھا ثانیِ حیدرؑ دکھا دیا یہ سکینہؑ کی مشک کو بھر کر کہ حشر تک مرا قبضہ رہے گا دریا پر حسینؑ آئے تو بھائی کی لاش کو دیکھا قریب نہر تنِ پاش پاش کو دیکھا 7 یتیم و بے کس و قائم بن حسنؑ پہ سلام لباسِ عقد جو پہنا تھا اس کفن پہ سلام [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جہاں بلند تھے نالے، اس انجمن پہ سلام خزاں کے رنگ میں ڈوبی ہوئی بہاریں ہیں کہ جس کے سہرے کی لڑیاں لہو کی دھاریں ہیں 8 [پہلا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جو آگ خیموں میں بھڑکی تھی وہ بجھا نہ سکے کسی کو بہرِ مدد دشت میں بلا نہ سکے لٹا کے گھر کو بھی اپنے وطن میں جا نہ سکے سلام ان پہ کہ چہروں پہ جس کے گیسو تھے سلام ان پہ کہ جن کے تن میں بازو تھے حسینؑ، سبطِ رسولِ زمن، سلام علیک

275

Wa hasrata ke Shah ka matam hua tamam 1 Wa hasrata ke Shah ka matam hua tamam Aai khizan, bahar ka mausam hua tamam Jis ki khushi dilon ko thi wo gham hua tamam Par pito momino ke Muharram hua tamam Aai agar ajal to ye matam ye gham kahan Ye Majlisein to hashr talak hain, ye hum kahan 2 Kal hongi Majlisein, na ye shewan na ye fughan Insan honge, taziya-dari ke sab makan Ashra hua tamam, chale Shah-e-ins-o-jan Rukhsat talab hai tum se tumhara ye mehman Rukhsat karo gham se lipat kar Husain ko [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 3 Ay be-diyar-o-be-sar-o-saman, alwida Ay Shia'an-e-Pak ke mehman, alwida Ay do jahan ke Syed-o-Sultan, alwida Ay Bint-e-Mustafa ke dil-o-jan, alwida Aah-o-buka se hum kabhi ghafil na honge Jab tak jiyenge aap ki ghurbat pe royenge 4 Ro kar kaho ke ay Shah-e-zi-jah, alwida Be-kas Husain, gul ke Shahanshah, alwida Din ke chiragh, Fatima ke mah, alwida Ay ummat-e-Nabi ke hawa-khwah, alwida Maula ajal ke hath se muhlat jo payenge Phir agle sal bazm mein rone ko aayenge 5 Ay nur-e-chashm-e-Ahmad-e-Mukhtar, alwida Ay yadgar-e-Haider-e-Karrar, alwida Ay Sayyida Batul ke dildar, alwida Ay ummat-e-Rasul ke ghamkhwar, alwida Adab-e-taziyat na ada hum se ho sake Hasrat rahi ke haye na ji bhar ke ro sake Wa hasrata ke Shah ka matam hua tamam (Mir Wajih) (Bashukriya sozkhwan Manzar Zaidi o Sahiban-e-Khana)
واحسرتا کہ شاہ کا ماتم ہوا تمام 1 واحسرتا کہ شاہ کا ماتم ہوا تمام آئی خزاں، بہار کا موسم ہوا تمام جس کی خوشی دلوں کو تھی وہ غم ہوا تمام پر پیٹو مومنو کہ محرم ہوا تمام آئی اگر اجل تو یہ ماتم یہ غم کہاں یہ مجلسیں تو حشر تلک ہیں، یہ ہم کہاں 2 کل ہوں گی مجلسیں، نہ یہ شیون نہ یہ فغاں انسان ہوں گے، تعزیہ داری کے سب مکاں عشرہ ہوا تمام، چلے شاہِ انس و جاں رخصت طلب ہے تم سے تمہارا یہ مہماں رخصت کرو غم سے لپٹ کر حسینؑ کو [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 3 اے بے دیار و بے سر و ساماں، الوداع اے شیعیانِ پاک کے مہماں، الوداع اے دو جہاں کے سید و سلطان، الوداع اے بنتِ مصطفیٰؐ کے دل و جاں، الوداع آہ و بکا سے ہم کبھی غافل نہ ہوں گے جب تک جئیں گے آپ کی غربت پہ روئیں گے 4 رو کر کہو کہ اے شہِ ذی جاہ، الوداع بے کس حسینؑ، گل کے شہنشاہ، الوداع دین کے چراغ، فاطمہؑ کے ماہ، الوداع اے امتِ نبیؐ کے ہوا خواہ، الوداع مولا اجل کے ہاتھ سے مہلت جو پائیں گے پھر اگلے سال بزم میں رونے کو آئیں گے 5 اے نورِ چشمِ احمدِ مختار، الوداع اے یادگارِ حیدرِ کرار، الوداع اے سیدہ بتولؑ کے دلدار، الوداع اے امتِ رسولؐ کے غمخوار، الوداع آدابِ تعزیت نہ ادا ہم سے ہو سکے حسرت رہی کہ ہائے نہ جی بھر کے رو سکے واحسرتا کہ شاہ کا ماتم ہوا تمام (میر وجیہ) (بشکریہ سوزخواں منظر زیدی و صاحبانِ خانہ)

276

Han dosto koi na hua ab shor-o-shain mein 1 Han dosto koi na hua ab shor-o-shain mein Zainab bhi hain aza-e-Shah-e-Mashriqain mein Phat jaye dil, wo dard hai duniya ke bain mein Lo Fatima bhi aa gayin Bazm-e-Husain mein Chehre pe khak, bal pareshan kiye hue Godi mein ek tha sa lasha liye hue 2 Goya ye keh rahi hain Batul-e-falak-maqam Ay be-watan ke taziya-daro, mera salam Matlab ye hai ke aaj Majalis huin tamam Rukhsat talab hain Ahl-e-Aza, Madar-e-Imam Dil par hujum hai gham-o-ranj-o-malal ka Pursa Batul-e-Pak ko do un ke lal ka 3 Ro lo ke ab ye tazkira-e-gham bhi khatm hai Faiz-e-aza-e-Sarwar-e-Alam bhi khatm hai Matam karo ke aaj ye matam bhi khatm hai Majlis bhi, marsiya bhi, Muharram bhi khatm hai Haider bhi sab ke sath mein ansu bahate hain Han ab Husain taziya-khane se jate hain 4 Ay rone walo, ankhon se darya-e-khun bahao Matam karo Husain ka aur sar pe khak urao Farsh-e-aza lapet ke rakho, alam barhao Das din ka mehman chala, taziye uthao Ashkon ko nazr de ke Imam-e-Anam ko Rukhsat karo Husain alaihissalam ko 5 Ro kar kaho ke ay Shah-e-Abrar, alwida Ay karwan-e-dard ke salar, alwida Ay ummat-e-Rasul ke ghamkhwar, alwida Karbala-jawan-pisar ke azadar, alwida Kya jane agle sal jiyenge, marenge hum Par qabr mein bhi taziya-dari karenge hum 6 Ay be-diyar-o-be-sar-o-saman, alwida Ay ummat-e-Rasul ke mehman, alwida Haider ki ruh, Fatima ki jaan, alwida Ay Mustafa ki god ke Quran, alwida Ashre ke khatm hote hi hum se bichhar gaye Maula tumhare taziya-khane ujar gaye Han dosto koi na hua ab shor-o-shain mein (Nasim Amrohvi)
ہاں دوستو کوئی نہ ہوا اب شور و شین میں 1 ہاں دوستو کوئی نہ ہوا اب شور و شین میں زینبؑ بھی ہیں عزائے شہِ مشرقین میں پھٹ جائے دل، وہ درد ہے دنیا کے بین میں لو فاطمہؑ بھی آگئیں بزمِ حسینؑ میں چہرے پہ خاک، بال پریشاں کئے ہوئے گودی میں ایک تھا سا لاشہ لئے ہوئے 2 گویا یہ کہہ رہی ہیں بتولِ فلک مقام اے بے وطن کے تعزیہ دارو، مرا سلام مطلب یہ ہے کہ آج مجالس ہوئیں تمام رخصت طلب ہیں اہلِ عزا، مادرِ امام دل پر ہجوم ہے غم و رنج و ملال کا پرسہ بتولِ پاک کو دو ان کے لال کا 3 رو لو کہ اب یہ تذکرۂ غم بھی ختم ہے فضلِ عزائے سرورِ عالم بھی ختم ہے ماتم کرو کہ آج یہ ماتم بھی ختم ہے مجلس بھی، مرثیہ بھی، محرم بھی ختم ہے حیدرؑ بھی سب کے ساتھ میں آنسو بہاتے ہیں ہاں اب حسینؑ تعزیہ خانے سے جاتے ہیں 4 اے رونے والو، آنکھوں سے دریائے خوں بہاؤ ماتم کرو حسینؑ کا اور سر پہ خاک اڑاؤ فرشِ عزا لپیٹ کے رکھو، علم بڑھاؤ دس دن کا مہمان چلا، تعزیے اٹھاؤ اشکوں کو نذر دے کے امامِ انام کو رخصت کرو حسینؑ علیہ السلام کو 5 رو کر کہو کہ اے شہِ ابرار، الوداع اے کاروانِ درد کے سالار، الوداع اے امتِ رسولؐ کے غمخوار، الوداع کربل جوان پسر کے عزادار، الوداع کیا جانے اگلے سال جئیں گے، مریں گے ہم پر قبر میں بھی تعزیہ داری کریں گے ہم 6 اے بے دیار و بے سر و ساماں، الوداع اے امتِ رسولؐ کے مہماں، الوداع حیدرؑ کی روح، فاطمہؑ کی جان، الوداع اے مصطفیٰؐ کی گود کے قرآں، الوداع عشرے کے ختم ہوتے ہی ہم سے بچھڑ گئے مولا تمہارے تعزیہ خانے اجڑ گئے ہاں دوستو کوئی نہ ہوا اب شور و شین میں (نسیم امروہوی)

277

Man ka jo saya Fatima ke sar se uth gaya 1 Man ka jo saya Fatima ke sar se uth gaya Aram, chain us ke muqaddar se uth gaya Mahol jo khushi ka tha wo ghar se uth gaya Goya qarar-e-Bait-e-Payambar se uth gaya Man Fatima ko chahne wali jo mar gayi Sadme utha utha ke Khadija guzar gayi 2 Thi umr-e-Fatima ki bahut kam, bahut hi kam Sin char sal ka tha ke tuta ye koh-e-gham Kehti thi apne bap se ro kar ye dam-ba-dam Kaise bichhar ke Amman se kaise jiyenge hum Sabr-o-qarar se hamein mahrum kar gayin Zinda rahenge kaise ke Amman to mar gayin 3 Hone lagi nidhal jo gham se wo dil-malul Hath us ke sar pe pher ke kehne lage Rasul Panjab Khuda hai, ye sadma karo qubul Is gham pe sabr karna bhi is gham ka hai usul Har sadma-e-azim pe ansu bahane hain Duniya mein tum ko aur bahut gham uthane hain 4 Tum ko khabar nahin hai ke kamsin ho tum abhi Kaise baghair man ke guzarti hai zindagi Hamdard-o-ghamgusar bhi hota nahin koi Har mor par satati hai reh reh ke be-kasi Jab zindagi mein ranj-o-alam yaad aate hain Har ek qadam pe man ke karam yaad aate hain 5 Tay ho chuka jo ghusl-o-kafan ka bhi marhala Tayyar ho gaya jo janaza Khadija ka Beti ne man ka aakhri didar kar liya Zahra ka gham, Rasul se dekha na ja saka Fart-e-alam se Zahra ki halat bigar gayi Is kamsini mein man se ye bachchi bichhar gayi Man ka jo saya Fatima ke sar se uth gaya Shadan Dehlavi
ماں کا جو سایہ فاطمہؑ کے سر سے اٹھ گیا 1 ماں کا جو سایہ فاطمہؑ کے سر سے اٹھ گیا آرام، چین اس کے مقدر سے اٹھ گیا ماحول جو خوشی کا تھا وہ گھر سے اٹھ گیا گویا قرارِ بیتِ پیمبرؐ سے اٹھ گیا ماں فاطمہؑ کو چاہنے والی جو مر گئی صدمے اٹھا اٹھا کے خدیجہؑ گزر گئی 2 تھی عمرِ فاطمہؑ کی بہت کم، بہت ہی کم سن چار سال کا تھا کہ ٹوٹا یہ کوہِ غم کہتی تھی اپنے باپ سے رو کر یہ دم بدم کیسے بچھڑ کے اماں سے کیسے جئیں گے ہم صبر و قرار سے ہمیں محروم کر گئیں زندہ رہیں گے کیسے کہ اماں تو مر گئیں 3 ہونے لگی نڈھال جو غم سے وہ دل ملول ہاتھ اس کے سر پہ پھیر کے کہنے لگے رسولؐ پنجاب خدا ہے، یہ صدمہ کرو قبول اس غم پہ صبر کرنا بھی اس غم کا ہے اصول ہر صدمۂ عظیم پہ آنسو بہانے ہیں دنیا میں تم کو اور بہت غم اٹھانے ہیں 4 تم کو خبر نہیں ہے کہ کمسن ہو تم ابھی کیسے بغیر ماں کے گزارتی ہے زندگی ہمدرد و غمگسار بھی ہوتا نہیں کوئی ہر موڑ پر ستاتی ہے رہ رہ کے بے کسی جب زندگی میں رنج و الم یاد آتے ہیں ہر اک قدم پہ ماں کے کرم یاد آتے ہیں 5 طے ہوچکا جو غسل و کفن کا بھی مرحلہ تیار ہوگیا جو جنازہ خدیجہؑ کا بیٹی نے ماں کا آخری دیدار کرلیا زہرا کا غم، رسولؐ سے دیکھا نہ جا سکا فرطِ الم سے زہرا کی حالت بگڑ گئی اس کمسنی میں ماں سے یہ بچی بچھڑ گئی ماں کا جو سایہ فاطمہؑ کے سر سے اٹھ گیا شاداں دہلوی

278

Aaya Bahisht-e-Qurb-e-Nabi ka dam-e-wisal 1 Aaya Bahisht-e-Qurb-e-Nabi ka dam-e-wisal Shiddat se tab ki ab mere Maula ka hai ye hal Ghatta hai jism, zof-o-naqahat bhi hai kamal Paiham maraz ka hai ye ishara bahr-e-malal Rukhsat hain ab jahan se Baba-e-Fatima Hum bhi sharik-e-gham hain tere haye Fatima 2 Beti ke the ye bain ke Baba kidhar gaye Meraj ko sidhare ke Khaliq ke ghar gaye Jannat basai aur mujhe barbad kar gaye Aao Hasan Husain ke Nana guzar gaye Gardish ka rukh ghazab hai, buri samt phir para Dard-o-musibat walo, falak mujh pe gir para 3 Ay mere Fateh-kash mere Nana, Baba jaan Bahnon, be-kason ke madadgar Baba jaan Haye ujar gayi meri sarkar Baba jaan Bachche tarap rahe hain, karo pyar Baba jaan Baba mere Husain ko gale se lagaiye Baba Husain rota hai, uth kar manaiye 4 Kha kar pachharen roti thin Bibi jo zar zar Paiham sada ye aati thi kanon mein bar bar Zahra mere kaleje ke tukre, tere nisar Nana ke donon raj-dularon se hoshiyar Mere Hasan Husain ki shadi rachaiyo Sehre bandhen to meri bhi turbat pe laiyo Aaya Bahisht-e-Qurb-e-Nabi ka dam-e-wisal (Nasim Amrohvi)
آیا بہشتِ قربِ نبیؐ کا دمِ وصال 1 آیا بہشتِ قربِ نبیؐ کا دمِ وصال شدت سے تب کی اب مرے مولا کا ہے یہ حال گھٹتا ہے جسم، ضعف و نقاہت بھی ہے کمال پیہم مرض کا ہے یہ اشارہ بہرِ ملال رخصت ہیں اب جہاں سے بابائے فاطمہؑ ہم بھی شریکِ غم ہیں ترے ہائے فاطمہؑ 2 بیٹی کے تھے یہ بین کہ بابا کدھر گئے معراج کو سدھارے کہ خالق کے گھر گئے جنت بنائی اور مجھے برباد کر گئے آؤ حسنؑ حسینؑ کہ نانا گزر گئے گردش کا رخ غضب ہے، بری سمت پھر پڑا درد و مصیبت والو، فلک مجھ پہ گر پڑا 3 اے میرے فاتح کش مرے نانا، بابا جان بہنوں، بے کسوں کے مددگار بابا جان ہے ہے اجڑ گئی میری سرکار بابا جان بچے تڑپ رہے ہیں، کرو پیار بابا جان بابا مرے حسینؑ کو گلے سے لگائیے بابا حسینؑ روتا ہے، اٹھ کر منائیے 4 کھا کر پچھاڑیں روتی تھیں بی بی جو زار زار پیہم صدا یہ آتی تھی کانوں میں بار بار زہرا مرے کلیجے کے ٹکڑے، ترے نثار نانا کے دونوں راج دلاروں سے ہوشیار میرے حسنؑ حسینؑ کی شادی رچائیو سہرے بندھیں تو میری بھی تربت پہ لائیو آیا بہشتِ قربِ نبیؐ کا دمِ وصال (نسیم امروہوی)

279

Bimar jabke Ahmad-e-Mukhtar ho gaye 1 Bimar jabke Ahmad-e-Mukhtar ho gaye Dushman zyada dar-pay-e-azar ho gaye Zahr-e-sitam se maut ke asar ho gaye Sadme utha ke jine se bezar ho gaye Ghul tha jahan se Naib-e-Dawar ka koch hai Afsos, suye khuld Payambar ka koch hai 2 Shafqat se Fatima ko bulaya Rasul ne Samjha ke apne pas bithaya Rasul ne Jab daman-e-Batul ko paya Rasul ne [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sar rakh ke apna zanu-e-dukhtar pe so gaye Rawi ka hai ye qaul ke behosh ho gaye 3 Hosh aaya to bulaya Hasan aur Husain ko Liptaya apne sine se har nur-e-ain ko Nana ke gham mein khoya nawason ne chain ko Ro ro ke ye sunaya Shah-e-Mashriqain ko Afsos aaj dagh-e-judai dikhaoge Sunte hain hum ye sab se, hamein chhor jaoge 4 Sar pit pit rone lagi haye Fatima Boli ke kis tarah na alam khaye Fatima [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Afsos apne bap se chhut jaye Fatima Is gham se aas tut gayi dil-malul ki Afat mein mubtala hui beti Rasul ki 5 Ro ro Hasan Husain ye kehte the bar bar Ab kaun zanuon pe bitha kar karega pyar Nana gale lagao, nawase hain be-qarar Rone jinhein na dete the, ab hain wo ashkbar Kya kya gham-o-malal na ghar dil mein kar gaye Jo naz uthane wale hamare the, mar gaye 6 Rone se Ahl-e-Bait ke tha hashr ashkar Dil Wa Muhammada ki sada se hue figar Ghar mein to sab Aziz-e-Payambar the ashkbar Darwaze pe khare hue rote the jaan-nisar Sine bhare the ranj se, matam ko hath the Jibrail ashkbar farishton ke sath the
بیمار جب کہ احمدِ مختارؐ ہوگئے 1 بیمار جب کہ احمدِ مختارؐ ہوگئے دشمن زیادہ درپے آزار ہوگئے زہرِ ستم سے موت کے آثار ہوگئے صدمے اٹھا کے جینے سے بے زار ہوگئے غل تھا جہاں سے نائبِ داور کا کوچ ہے افسوس، سوئے خلد پیمبرؐ کا کوچ ہے 2 شفقت سے فاطمہؑ کو بلایا رسولؐ نے سمجھا کے اپنے پاس بٹھایا رسولؐ نے جب دامنِ بتولؑ کو پایا رسولؐ نے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سر رکھ کے اپنا زانوئے دختر پہ سوگئے راوی کا ہے یہ قول کہ بے ہوش ہوگئے 3 ہوش آیا تو بلایا حسنؑ اور حسینؑ کو لپٹایا اپنے سینے سے ہر نورِ عین کو نانا کے غم میں کھویا نواسوں نے چین کو رو رو کے یہ سنایا شہِ مشرقین کو افسوس آج داغِ جدائی دکھاؤ گے سنتے ہیں ہم یہ سب سے، ہمیں چھوڑ جاؤ گے 4 سر پیٹ پیٹ رونے لگی ہائے فاطمہؑ بولی کہ کس طرح نہ الم کھائے فاطمہؑ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] افسوس اپنے باپ سے چھٹ جائے فاطمہؑ اس غم سے آس ٹوٹ گئی دل ملول کی آفت میں مبتلا ہوئی بیٹی رسولؐ کی 5 رو رو حسنؑ حسینؑ یہ کہتے تھے بار بار اب کون زانوؤں پہ بٹھا کر کرے گا پیار نانا گلے لگاؤ، نواسے ہیں بے قرار رونے جنہیں نہ دیتے تھے، اب ہیں وہ اشکبار کیا کیا غم و ملال نہ گھر دل میں کر گئے جو ناز اٹھانے والے ہمارے تھے، مر گئے 6 رونے سے اہل بیت کے تھا حشر آشکار دل وا محمداؐ کی صدا سے ہوئے فگار گھر میں تو سب عزیزِ پیمبرؐ تھے اشکبار دروازے پہ کھڑے ہوئے روتے تھے جاں نثار سینے بھرے تھے رنج سے، ماتم کو ہاتھ تھے جبرئیل اشکبار فرشتوں کے ساتھ تھے

280

Ay anbiyo roo ke ye fasl-e-aza hai 1 Ay anbiyo roo ke ye fasl-e-aza hai Is mah-e-Safar mein safar-e-Khair-ul-Wara hai Sadat mein faryad hai, shewan hai, buka hai Ashur-e-Muharram se fuzun hashr bapa hai Ek aur qayamat bhi isi roz hui hai [Misra juzwi taur par ghair wazeh] 2 Is chand ne do dagh diye Aal-e-Aba ko Shah ko kabhi roo, kabhi [ghair wazeh] ko Sadat ko rahat hai na Ashab-e-Safa ko Zahra ko na taskin, na aram Khuda ko Rukh zard hai Mahbub-e-Ilahi ko, ye tab hai Khurshid ki hiddat hai to bijli ki tap hai 3 Wo naz ke asar, wo Kaunain ka Hadi Is dhyan mein betab [matn juzwi taur par ghair wazeh] [Matn juzwi taur par ghair wazeh] Ya hum Mursal aap pe taslim Khuda ho Bahr ke liye aai jo Hazrat ki raza ho 4 Mahbub pyar kiya jo sitamgar-o-kabir ne Samjhaya zabt kar ke Janab-e-Amir ne Tadbir-e-ghusl-e-Shah-e-Umam ki, wazir ne Tanha yan ko ashiq-e-Rabb-e-Qadir ne Go hal-e-gham se ghair tha zauj-e-Batul ka Kafnaya ke khud janaza uthaya Rasul ka Pyar jabke Ahmad-e-Mukhtar ho gaye Iqbal Kazmi Gham tere ke alam ko Abbas ne uthaya Abbas ke alam ko duniya utha rahi hai Ijaz Aslam Sidq-e-dil se aa gaya jo bhi dar-e-Shabbir par Hum bhi us ke ho gaye, wo bhi hamara ho gaya Bashukriya Sozkhwan Pir Syed Mazhar Husain Shah Jalali Qalandari Iltimas-e-Fatiha baraye Syed Raza Zaidi Walida Imtiaz Raza Bu Turab Scholarship
اے انبیؤ روؤ کہ یہ فصلِ عزا ہے 1 اے انبیؤ روؤ کہ یہ فصلِ عزا ہے اس ماہِ صفر میں سفرِ خیر الوریٰ ہے سادات میں فریاد ہے، شیون ہے، بکا ہے عاشورِ محرم سے فزوں حشر بپا ہے اک اور قیامت بھی اسی روز ہوئی ہے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 2 اس چاند نے دو داغ دیے آلِ عبا کو شہ کو کبھی روؤ، کبھی [غیر واضح] کو سادات کو راحت ہے نہ اصحابِ صفا کو زہرا کو نہ تسکین، نہ آرام خدا کو رخ زرد ہے محبوبِ الٰہی کو، یہ تب ہے خورشید کی حدت ہے تو بجلی کی تپ ہے 3 وہ نزع کے آثار، وہ کونین کا ہادی اس دھیان میں بیتاب [متن جزوی طور پر غیر واضح] [متن جزوی طور پر غیر واضح] یا ہم مرسل آپ پہ تسلیم خدا ہو بحر کے لئے آئی جو حضرت کی رضا ہو 4 محبوب پیار کیا جو ستمگر و کبیر نے سجھایا ضبط کر کے جنابِ امیرؑ نے تقدیرِ غسلِ شاہِ امم کی، وزیر نے تنہا یاں کو عاشقِ ربِ قدیر نے گو حال غم سے غیر تھا زوجِ بتولؑ کا کفنایا کے خود جنازہ اٹھایا رسولؐ کا پیار جب کہ احمدِ مختار ہوگئے اقبال کاظمی غم تیرے کے علم کو عباسؑ نے اٹھایا عباسؑ کے علم کو دنیا اٹھا رہی ہے اعجاز اسلم صدق دل سے آگیا جو بھی درِ شبیرؑ پر ہم بھی اُس کے ہوگئے وہ بھی ہمارا ہوگیا بشکریہ سوزخواں پیر سید مظہر حسین شاہ جلالی قلندری التماس فاتحہ برائے سید رضا زیدی والدہ امتیاز رضا بوتراب اسکالرشپ

281

[Ay anbiyo roo ke ye fasl-e-aza hai — jari] 5 Zahra ne kaha haif hai ay banda-e-Ghaffar Kya tu bashar hai ke murawwat nahin zinhar Hazrat ka ye alam hai, tujhe hujjat-e-didar Tab yun wo pukara ke kahan chal gaya ek bar Bola na gaya Dukhtar-e-Mahbub-e-Khuda se Khud hum Rasul chaunk pare us ki sada se 6 Bole meri dildar, Khuda Hafiz-o-Nasir Ay bap ki ghamkhwar, Khuda Hafiz-o-Nasir Ay dukhtar-e-nachar, Khuda Hafiz-o-Nasir Rukhsat hai ye pyar, Khuda Hafiz-o-Nasir Kya Sabir-o-Shakir hai Khuda tujh ko jaza de Ay bap ki shahzadi, use aane ki raza de 7 Phir sher ne kai bar kaha shukr Khudaya Aakhir Malak-ul-Maut ko nazdik bulaya Qudsi ne jo gustakh farudon ghumaya Phir dukhtar-e-nashad ne dam tan mein na paya Sar pit ke chillai ke faryad Khudai Main lut gayi logo, mere Baba ne qaza ki Ay anbiyo roo ke ye fasl-e-aza hai (Bashukriya salam-o-nauha-o-sozkhwan Razi Rizvi) Tanha yaad mein Nabi ki jo Zahra ka ghair hal 1 Tha yaad mein Nabi ki jo Zahra ka ghair hal Ankhon mein uthte baithte aate the dil ke hal Haider sharik-e-gham the aur atfal khurd-sal Un ke siwa kisi ko na tha un ka kuchh khayal Roti thin sar pit ke mazar-e-Rasul par Tuti thi ek qayamat-e-kubra Batul par 2 Nauha parha jo yaad mein Baba ki subh-o-sham Laye Ali ke pas shikayat ye khas-o-aam Roti hain raat din jo Batul-e-falak-maqam Din bhar ke kam, raat ki nindein huin haram Kitne hi is se barh ke bhi maghmum hote hain Marte hain sab ke bap, kahin yun bhi rote hain 3 Sun kar Madine walon ka ye dil-shikan payam The Sabir-o-Halim magar ro diye Imam Ja kar Haram-sara mein sunaye jo ye kalam Ek aah bhar ke reh gayin Bint-e-Shah-e-Anam Itna kaha Huzur, kuchh un ke kabhi na the Mere hi bap the wo, kisi ke Nabi na the
اے انبیؤ روؤ کہ یہ فصلِ عزا ہے — جاری 5 زہرا نے کہا حیف ہے اے بندۂ غفار کیا تو بشر ہے کہ مروّت نہیں زنهار حضرت کا یہ عالم ہے، تجھے حجت دیدار تب یوں وہ پکارا کہ کہاں چل گیا اک بار بولا نہ گیا دخترِ محبوبِ خدا سے خود ہم رسولؐ چونک پڑے اس کی صدا سے 6 بولے مری دلدار، خدا حافظ و ناصر اے باپ کی غم خوار، خدا حافظ و ناصر اے دخترِ ناچار، خدا حافظ و ناصر رخصت ہے یہ پیار، خدا حافظ و ناصر کیا صابر و شاکر ہے خدا تجھ کو جزا دے اے باپ کی شہزادی، اسے آنے کی رضا دے 7 پھر شیر نے کئی بار کہا شکر خدایا آخر ملک الموت کو نزدیک بلایا قدسی نے جو گستاخ فرودوں گھمایا پھر دخترِ ناشاد نے دم تن میں نہ پایا سر پیٹ کے چلائی کہ فریاد خدائی میں لٹ گئی لوگو، مرے بابا نے قضا کی اے انبیؤ روؤ کہ یہ فصلِ عزا ہے (بشکریہ سلام و نوحہ و سوز خواں رضی رضوی) تنہا یاد میں نبیؐ کی جو زہرا کا غیر حال 1 تھا یاد میں نبیؐ کی جو زہرا کا غیر حال آنکھوں میں اٹھتے بیٹھتے آتے تھے دل کے حال حیدرؑ شریکِ غم تھے اور اطفال خورد سال ان کے سوا کسی کو نہ تھا ان کا کچھ خیال روتی تھیں سر پیٹ کے مزارِ رسولؐ پر ٹوٹی تھی اک قیامت کبریٰ بتولؑ پر 2 نوحہ پڑھا جو یاد میں بابا کی صبح و شام لائے علیؑ کے پاس شکایت یہ خاص و عام روتی ہیں رات دن جو بتولؑ فلک مقام دن بھر کے کام رات کی نیندیں ہوئیں حرام کتنے ہی اس سے بڑھ کے بھی مغموم ہوتے ہیں مرتے ہیں سب کے باپ کہیں یوں بھی روتے ہیں 3 سن کر مدینے والوں کا یہ دل شکن پیام تھے صابر و حلیم مگر رو دیئے امام جا کر حرم سرا میں سنائے جو یہ کلام اک آہ بھر کے رہ گئیں بنتِ شہِ انام اتنا کہا حضور، کچھ ان کے کبھی نہ تھے میرے ہی باپ تھے وہ کسی کے نبیؐ نہ تھے

282

Tanha yaad mein Nabi ki jo Zahra ka ghair hal — jari 4 Ja kar ye un se kahiye ke Zahra hai gham-nasib Rone se rokte ho, na royegi ye gharib Wo chal basa jo tha mere har dard ka tabib Tum ghar na chhoro, meri hi rukhsat hai ab qarib Rona hai nagawar to kal jaungi kahin Bachchon ko le ke shab mein nikal jaungi kahin 5 Is guftagu ke baad ye mamul ho gaya Ta-Sham ghar mein rone lagin Bint-e-Mustafa Royen yahan zarur magar ghont kar gala Parh kar Isha [lafz ghair wazeh] mein aain baad-e-buka Hathon bhi sari raat kiya aur bain bhi Sab roye bibiyan bhi, Hasan bhi, Husain bhi 6 Wapas gayin jo ghar to huin sahib-e-farash Ubhre tasawwurat-o-khayalat-e-dil-kharash Rehlat karungi main to jab uthegi meri lash Bachchon ke nanhe nanhe jigar honge pash pash Sab bibiyan bhi baith ke ansu bahayengi Phir kahengi wo bal to ye khak urayengi 7 Baad az dua jo khat-e-wasiyat raqam kiya Zikr zikr ke har maqam pe Ya Ali ne ki buka Tahrir kar ke phir [matn juzwi taur par ghair wazeh] Yaqin parh ke [matn juzwi taur par ghair wazeh] Fizza qarib ke roi ke Ya Ali guzar kahin Bachchon ko palne bhi na payenge mar kahin 8 Sab ghar mein aa gaye ye sun kar shor-o-shain Turbat-e-zamin pe Zainab-o-Kulsum kar ke bain Ro ro ke man ki lash se lipte Hasan Husain Masjid se aa gaye bal bikhre Shah-e-Hunain Ghul par gaya ke haye Madina ujar gaya Ahmad ke Ahl-e-Bait mein kohram par gaya Tanha yaad mein Nabi ki jo Zahra ka ghair hal Nasim Amrohvi
تنہا یاد میں نبیؐ کی جو زہرا کا غیر حال — جاری 4 جا کر یہ اُن سے کہیے کہ زہرا ہے غم نصیب رونے سے روکتے ہو، نہ روئے گی یہ غریب وہ چل بسا جو تھا مرے ہر درد کا طبیب تم گھر نہ چھوڑو، میری ہی رخصت ہے اب قریب روتا ہے ناگوار تو کل جاؤں گی کہیں بچوں کو لے کے شب میں نکل جاؤں گی کہیں 5 اس گفتگو کے بعد یہ معمول ہوگیا تا شام گھر میں رونے لگیں بنتِ مصطفیٰؐ روئیں یہاں ضرور مگر گھونٹ کر گلا پڑھ کر عشا [لفظ غیر واضح] میں آئیں بعدِ بکا ہاتھوں بھی ساری رات کیا اور بین بھی سب روئے بیبیاں بھی، حسنؑ بھی، حسینؑ بھی 6 واپس گئیں جو گھر تو ہوئیں صاحبِ فراش ابھرے تصورات و خیالاتِ دل خراش رحلت کروں گی میں تو جب اٹھے گی میری لاش بچوں کے ننھے ننھے جگر ہوں گے پاش پاش سب بیبیاں بھی بیٹھ کے آنسو بہائیں گے پھر کہیں گی وہ بال تو یہ خاک اڑائیں گے 7 بعد از دعا جو خطِ وصیت رقم کیا ذکر ذکر کے ہر مقام پہ یا علیؑ نے کی بکا تحریر کر کے پھر [متن جزوی طور پر غیر واضح] یقین پڑھ کے [متن جزوی طور پر غیر واضح] فضہ قریب کے روئی کہ یا علیؑ گزر کہیں بچوں کو پالنے بھی نہ پائیں گے مر کہیں 8 سب گھر میں آگئے یہ سن کر شور و شین تربتِ زمیں پہ زینبؑ و کلثومؑ کر کے بین رو رو کے ماں کی لاش سے لپٹے حسنؑ حسینؑ مسجد سے آگئے بال بکھرے شہِ حنین غل پڑ گیا کہ ہائے مدینہ اجڑ گیا احمدؐ کے اہل بیت میں کہرام پڑ گیا تنہا یاد میں نبیؐ کی جو زہرا کا غیر حال نسیم امروہوی

283

Baba ko rote rote jo Zahra guzar gayin 1 Baba ko rote rote jo Zahra guzar gayin Ghul par gaya ke Bint-e-Nabi koch kar gayin Faqon ke ranj seh ke Huzur par gayin Mahbub-e-Kibriya ki azadar mar gayin Ansaron mein baras ne ye afat dikhai hai Aal-e-Nabi ko charkh ne luta, duhai hai 2 Syedain ghar mein aaye jo betab-o-be-qarar Amman se puchhne lage Amman ka hal-e-zar Wo boli nind aa gayi hai shukr-e-Kirdigar Khana to jald kha lo ke bhuke ho, main nisar Bole ke chain dega zamana to khayenge Amman hamein khilayengi khana to khayenge 3 Ye sun ke be-qarar hui wo jigar-figar Chadar zamin pe phenk ke chillai bar bar Bachche hain un ko khabar de ay mere Kirdigar Ab wo khilane wali kahan pe, main nisar Pyaron tumhari palne wali guzar gayi Khaoge kis ke hath se, Amman to mar gayi 4 Sher-e-Khuda the muztar-o-maghmum ek taraf Sar pit-ti thin Zainab-o-Kulsum ek taraf Bachchon se the dil ko Syed-e-Mazlum ek taraf [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Haider qarib aaye to ek khat nazar para Tarpe kuchh is tarah ke amama utar para 5 Likha tha ye ke aakhri zahmat qubul ho Ya Shah, tum Wasi-e-Janab-e-Rasul ho Sidq-e-Huzur ka mera maqsad husul ho Munh se na keh saki ke hazin-o-malul ho Meri wasiyatein na faramosh kijiyo Itna hai ke aap mujhe ghusl dijiyo 6 Duwam ye hai ke shab mein janaza uthaiyo Murde ka saya bhi na kisi ko dikhaiyo Yan tak ke qabr bhi na kisi ko bataiyo Na jagah nishan liye ka banaiyo Suwam ye hai ke pas-e-yatimon ka kijiyo Shafqat se boliyo, bhi ghari na dijiyo
بابا کو روتے روتے جو زہرا گزر گئیں 1 بابا کو روتے روتے جو زہرا گزر گئیں غل پڑ گیا کہ بنتِ نبیؐ کوچ کر گئیں فاقوں کے رنج سہہ کے حضور پر گئیں محبوبِ کبریا کی عزادار مر گئیں انصاروں میں برس نے یہ آفت دکھائی ہے آلِ نبیؐ کو چرخ نے لوٹا، دہائی ہے 2 سیدین گھر میں آئے جو بیتاب و بے قرار اماں سے پوچھنے لگے اماں کا حالِ زار وہ بولی نیند آگئی ہے شکرِ کردگار کھانا تو جلد کھالو کہ بھوکے ہو، میں نثار بولے کہ چین دے گا زمانہ تو کھائیں گے اماں ہمیں کھلائیں گی کھانا تو کھائیں گے 3 یہ سن کے بے قرار ہوئی وہ جگر فگار چادر زمیں پہ پھینک کے چلائی بار بار بچے ہیں ان کو خبر دے اے مرے کردگار اب وہ کھلانے والی کہاں پہ، میں نثار پیاروں تمہاری پالنے والی گزر گئی کھاؤ گے کس کے ہاتھ سے، اماں تو مر گئی 4 شیرِ خدا تھے مضطر و مغموم اک طرف سر پیٹتی تھیں زینبؑ و کلثومؑ اک طرف بچوں سے تھے دل کو سیدِ مظلوم اک طرف [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] حیدرؑ قریب آئے تو اک خط نظر پڑا تڑپے کچھ اس طرح کہ عمامہ اتر پڑا 5 لکھا تھا یہ کہ آخری زحمت قبول ہو یا شاہؑ، تم وصیِ جنابِ رسولؐ ہو صدقِ حضور کا مرا مقصد حصول ہو منہ سے نہ کہہ سکی کہ حزیں و ملول ہو میری وصیتیں نہ فراموش کیجیو اتنا ہے کہ آپ مجھے غسل دیجیو 6 دوم یہ ہے کہ شب میں جنازہ اٹھائیو مردے کا سایہ بھی نہ کسی کو دکھائیو یاں تک کہ قبر بھی نہ کسی کو بتائیو نے جگہ نشان لئے کا بنائیو سوم یہ ہے کہ پاسِ یتیموں کا کیجیو شفقت سے بولیو، بھی گھڑی نہ دیجیو

284

Baba ko rote rote jo Zahra guzar gayin — jari 7 Turbat ka ye pas kiya Bu Turab ne Zahra ko shab mein dafn kiya dil-kabab ne Ghairon se qabr ko bhi chhupaya Janab ne Par kya khun kiya qalb-e-be-hijab ne Yun Zainab zamin se jahan ki nazar phiri Madar to shab ko dafn hui, wo [lafz ghair wazeh] phiri Asif Abidi Baraye madhat-e-Haider hayat chhoti hai Hayat kya hai ke ye kainat chhoti hai Ali ko Mazhar-e-Yazdan kahun to dil ye kahe Ba-etibar-e-aqidat ye baat chhoti hai (Bashukriya soz-o-salam khwan Husain Taqvi o Qasim Ali) Jab khalq se waqt-e-safar Fatima aaya 1 Jab khalq se waqt-e-safar Fatima aaya Tab Zainab-o-Shabbir ko pas apne bulaya Roin bahut aur bete ko sine se lagaya Zainab ke diya hath mein hath aur ye sunaya Ay Zainab ye kis bari daulat se khabardar Mahbub-e-Ummi ki amanat se khabardar 2 Beti, ise Zahra ne bare dukh se hai pala Ye ruh mere jism ki hai, gesuon wala Tujh se ise ankhon ki ziya ghar ka ujala Mujh se kabhi garm hawa mein na nikala Soti hun to pahle ise sine pe sula kar Jagi bhi jo baithi hun to godi mein bula kar 3 Ay ladli, is lal ka dushman hai zamana Shabbir ko mere nazar-e-bad se bachana Taklif bhi sehna, lahu bhi uthana Sadqe gayi, madar ki wasiyat na bhulana Har ranj mein is bhai ke kam aati rehna Jaye ye jidhar sath chali jati rehna
بابا کو روتے روتے جو زہرا گزر گئیں — جاری 7 تربت کا یہ پاس کیا بوترابؑ نے زہرا کو شب میں دفن کیا دل کباب نے غیروں سے قبر کو بھی چھپایا جناب نے پر کیا خون کیا قلبِ بے حجاب نے یوں زینبؑ زمین سے جہاں کی نظر پھری مادر تو شب کو دفن ہوئی، وہ [لفظ غیر واضح] پھری آصف عابدی برائے مدحتِ حیدرؑ حیات چھوٹی ہے حیات کیا ہے کہ یہ کائنات چھوٹی ہے علیؑ کو مظہرِ یزداں کہوں تو دل یہ کہے بہ اعتبارِ عقیدت یہ بات چھوٹی ہے (بشکریہ سوز و سلام خواں حسین تقوی و قاسم علی) جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہؑ آیا 1 جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہؑ آیا تب زینبؑ و شبیرؑ کو پاس اپنے بلایا روئیں بہت اور بیٹے کو سینے سے لگایا زینبؑ کے دیا ہاتھ میں ہاتھ اور یہ سنایا اے زینبؑ یہ کس بری دولت سے خبردار محبوبِ امی کی امانت سے خبردار 2 بیٹی، اسے زہرا نے بڑے دکھ سے ہے پالا یہ روح مرے جسم کی ہے، گیسوؤں والا تجھ سے اسے آنکھوں کی ضیا گھر کا اجالا مجھ سے کبھی گرم ہوا میں نہ نکالا سوتی ہوں تو پہلے اسے سینے پہ سلا کر جاگی بھی جو بیٹھی ہوں تو گودی میں بلا کر 3 اے لاڈلی، اس لال کا دشمن ہے زمانہ شبیرؑ کو میرے نظرِ بد سے بچانا تکلیف بھی سہنا، لہو بھی اٹھانا صدقے گئی، مادر کی وصیت نہ بھلانا ہر رنج میں اس بھائی کے کام آتی رہنا جائے یہ جدھر ساتھ چلی جاتی رہنا

285

Jab khalq se waqt-e-safar Fatima aaya — jari 4 Bhar roin bahut dil ke lage beton se Zahra Farmaya tumhein duniya se aah na dekha Fizza se kaha qabr-e-Nabi par unhein le ja Royen na mere samne ye, un ko tu behla Ay Fizza, abhi ranj unhein hone na dena Pyaron ko meri lash pe bhi rone na dena 5 Ye keh ke kiya band dar-e-hujra-e-athar Sab khurd-o-kalan rone lage aan ke bahar Awaz Nabi kalima-e-tayyiba ki thi ghar Phir kuchh na sada aai, kaha sab ne ye ro kar Lo uth gayi duniya se Sani bhi Nabi ki Rehlat hui phir aaj Rasul-e-Madani ki Jab khalq se waqt-e-safar Fatima aaya Mir Anees (Bashukriya sozkhwan Syed Wajahat Husain Kowanda) Syed Tahawwur Ali Jafari Amrohvi Bunyad La Ilaha ki hai marja-e-Imam Zat-e-Husain Pak hai ek marja-e-Imam Islam ki baqa ke liye zinda hain Husain Dete rahenge ta-ba-abad aman ka payam Rawi bayan karta hai Zahra ka majra 1 Rawi bayan karta hai Zahra ka majra Jab rafta rafta Sayyida ka ariza barha Phir sahib-e-farash hui wa musibata Taqat rahi na jism-e-mubarak mein mutlaqa Aisa maraz barha ke ajal sar pe aa gayi Ek roz Murtaza rukh-e-Zahra pe chha gayi 2 Zainab sirhane baith ke karne lagi buka Haye main kya karun, meri Amman ko kya hua Jhuk jhuk ke iztirab se deti thi ye sada Man mujh se ranj mein bhi na khidmat ye kya kiya Kya jane ruh-e-gham se kyun kar nikal gayi Amman tumhare chehre ki rangat badal gayi 3 Uthiye, mujhe sine ko pas bula kar bithaiye Kya nauha kijiyega, main laun bataiye Bhai gaye hain der se, un ko bulaiye Rone ko qabr-e-Ahmad-e-Mursal pe jaiye Ammi bhi nind hoti hai bedar huiye Ghar hai udas, uthiye bimar huiye
جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہؑ آیا — جاری 4 بھر روئیں بہت دل کے لگے بیٹوں سے زہرا فرمایا تمہیں دنیا سے آہ نہ دیکھا فضہ سے کہا قبر نبیؐ پر انہیں لے جا روئیں نہ مرے سامنے یہ ان کو تو بہلا اے فضہ، ابھی رنج انہیں ہونے نہ دینا پیاروں کو بری لاش پہ بھی رونے نہ دینا 5 یہ کہہ کے کیا بندِ درِ حجرۂ اطہر سب خود و کلاں رونے لگے آن کے باہر آواز نبیؐ کلمۂ طیبہ کی تھی گھر پھر کچھ نہ صدا آئی، کہا سب نے یہ رو کر لو اٹھ گئی دنیا سے ثانی بھی نبیؐ کی رحلت ہوئی پھر آج رسولِ مدنیؐ کی جب خلق سے وقتِ سفر فاطمہؑ آیا میر انیس (بشکریہ سوزخواں سید وجاہت حسین کووندہ) سید تہوّر علی جعفری امروہوی بنیاد لا الٰہ کی ہے مرجعِ امام ذاتِ حسینؑ پاک ہے اک مرجعِ امام اسلام کی بقا کے لئے زندہ ہیں حسینؑ دیتے رہیں گے تا بہ ابد امن کا پیام راوی بیان کرتا ہے زہرا کا ماجرا 1 راوی بیان کرتا ہے زہرا کا ماجرا جب رفتہ رفتہ سیدہؑ کا عارضہ بڑھا پھر صاحبِ فراش ہوئی وا مصیبتا طاقت رہی نہ جسمِ مبارک میں مطلقا ایسا مرض بڑھا کہ اجل سر پہ آگئی اک روز مرتضیٰؑ رخِ زہرا پہ چھا گئی 2 زینبؑ سرہانے بیٹھ کے کرنے لگی بکا ہے ہے میں کیا کروں، مری اماں کو کیا ہوا جھک جھک کے اضطراب سے دیتی تھی یہ صدا ماں مجھ سے رنج میں بھی نہ خدمت یہ کیا کیا کیا جانے روحِ غم سے کیوں کر نکل گئی اماں تمہارے چہرے کی رنگت بدل گئی 3 اٹھئے، مجھے سینے کو پاس بلا کر بٹھائیے کیا نوحہ کیجئے گا، میں لاؤں بتائیے بھائی گئے ہیں دیر سے، ان کو بلائیے رونے کو قبرِ احمدِ مرسلؐ پہ جائیے امی بھی نیند ہوتی ہے بیدار ہوئیے گھر ہے اداس، اٹھئے بیمار ہوئیے

286

Rawi bayan karta hai Zahra ka majra — jari 4 Shahzadi aaye itne mein ba-hal-e-dardnak Dil ho gaya Husain ka sadme se chak chak Daure Hasan mile hue apni jabin pe khak Bole Ali se ho ke hum chup be-bak Jo qabr ho gaya wo kahin keh gaya zaban se Baba chalo ke uth gayin Amman jahan se Duniya se jab guzar gayin Zahra jigar-figar 1 Duniya se jab guzar gayin Zahra jigar-figar Chhai sar ko pit ke Zainab ke gham mein tar Hasan aap ke milega hamein kis tarah qarar Ab kaun hai hamara bajuz Shah-e-Zulfiqar Rukh-e-dam mein gham ki ghata dil pe chhai hai Hum lut gaye Rasul-e-Khuda ki duhai hai 2 Itne mein aaye pitte sar ko Hasan Husain Man se lipat ke kehte the donon ye shor-o-shain Amman uthao sar ko ke aaye hain nur-e-ain Ay Amman jaan hum ko kahin ek pal bhi chain Pehle hi hum dukhi hain na hum ko rulaiye Nana ki tarah hum ko na yun chhor jaiye 3 Man se lipat ke karte the Husain jab ye bain Nagah aaye rote hue Shah-e-Mashriqain Dekha ke ghash hain Fatima Zahra ke nur-e-ain De kar dilasa bachchon ko bole Shah-e-Hunain Pyaron na roo, jaan meri nikli jati hai Sun lo sada Batul ke rone ki aati hai
راوی بیان کرتا ہے زہرا کا ماجرا — جاری 4 شہزادی آئے اتنے میں با حال دردناک دل ہوگیا حسینؑ کا صدمے سے چاک چاک دوڑے حسنؑ ملے ہوئے اپنی جبیں پہ خاک بولے علیؑ سے ہو کے ہم چپ بے باک جو قبر ہوگیا وہ کہیں کہہ گیا زبان سے بابا چلو کہ اٹھ گئیں اماں جہان سے دنیا سے جب گزر گئیں زہرا جگر فگار 1 دنیا سے جب گزر گئیں زہرا جگر فگار چھائی سر کو پیٹ کے زینبؑ کے غم میں تار حسنؑ آپ کے ملے گا ہمیں کس طرح قرار اب کون ہے ہمارا بجز شاہِ ذوالفقار رخِ دام میں غم کی گھٹا دل پہ چھائی ہے ہم لٹ گئے رسولِ خدا کی دہائی ہے 2 اتنے میں آئے پیٹتے سر کو حسنؑ حسینؑ ماں سے لپٹ کے کہتے تھے دونوں یہ شور و شین اماں اٹھاؤ سر کو کہ آئے ہیں نورِ عین اے اماں جان ہم کو کہیں ایک پل بھی چین پہلے ہی ہم دکھی ہیں نہ ہم کو رلائیے نانا کی طرح ہم کو نہ یوں چھوڑ جائیے 3 ماں سے لپٹ کے کرتے تھے حسینؑ جب یہ بین ناگاہ آئے روتے ہوئے شاہِ مشرقین دیکھا کہ غش ہیں فاطمہ زہرا کے نورِ عین دے کر دلاسا بچوں کو بولے شہِ حنین پیاروں نہ روؤ، جان مری نکلی جاتی ہے سن لو صدا بتولؑ کے رونے کی آتی ہے

287

Duniya se jab guzar gayin Zahra jigar-figar — jari 4 Zahra ko ghusl de chukin jab Zainab Haram Aa kar kafan pehnane lage Badshah-e-Din Aaye Hasan Husain bhi rote hue qarib Man ke gale lipat gaye donon wo naznin Anzar se Batul ne dil ko sambhal kar Le lin balayen, hath kafan se nikal kar 5 Zainab ki bholi baton pe muztar the Murtaza Amman ne bachchon ko gale se lagaya Bachche ghar se the, lash ki balin pe baithe Aur sar rakha qadmon pe man ke Husain ka Sab ro rahe the dekh ke mayyat Batul ki Duniya se uth rahi thi nishani Rasul ki Duniya se aaj rehlat Bint-e-Rasul hai 1 Duniya se aaj rehlat-e-Bint-e-Rasul hai Shab-e-ajal mein Ismat-e-Kubra ka phul hai Dukhtar-e-Nabi, razi hai, mahv-e-malul hai Hasnain-o-Murtaza se wada-e-Batul hai Mitti se lag ke Zainab-o-Kulsum roti hain Is kamsini mein bachchiyan be-man ki hoti hain 2 Zainab ka hal ye hai ke ansu to hain rawan Kulsum ko bhi deti hain paiham tasalliyan Farma rahi hain chhoti bahen se ke meri jaan Rehti nahin jahan mein hamesha kisi ki man Be-bas hamein chhor ke giryan chali gayin Allah ne bula liya, Amman chali gayin 3 Zainab ki bholi baton pe muztar the Murtaza Amman ne bachchon ko gale se lagaya Bachche ghar se the, lash ki balin pe baithe Aur sar rakha qadmon pe man ke Husain ka Sab ro rahe the dekh ke mayyat Batul ki Duniya se uth rahi thi nishani Rasul ki 4 Mayyat ke pas baithe ke bole ye Murtaza Tujh sambhalo dil ko ke ye sabr ki hai ja Ab ehtimam karna hai mayyat ke ghusl ka Uthna ke sath mujh mein jao parha Khuda Tamil ho wasiyat-e-Bint-e-Rasul ki Anjam den hum aakhri khidmat Batul ki 5 Allah kitne zulm hue hain Batul par Tamarr raha hai karb se tarikh ka jigar Rote taraste guzri hai Bibi ki umr bhar Ashr har ek shab gayi qayamat har ek sahar Shahzadi kaise zakhmon ki tere dawa karun Ansu baha raha hun, ghulam aur kya karun Duniya se aaj rehlat Bint-e-Rasul hai
دنیا سے جب گزر گئیں زہرا جگر فگار — جاری 4 زہرا کو غسل دے چکیں جب زینبؑ حرم آ کر کفن پہنانے لگے بادشاہِ دین آئے حسنؑ حسینؑ بھی روتے ہوئے قرین ماں کے گلے لپٹ گئے دونوں وہ نازنین انظار سے بتولؑ نے دل کو سنبھال کر لے لیں بلائیں، ہاتھ کفن سے نکال کر 5 زینبؑ کی بھولی باتوں پہ مضطر تھے مرتضیٰؑ اماں نے بچوں کو گلے سے لگایا بچے گھر سے تھے، لاش کی بالیں پہ بیٹھے اور سر رکھا قدموں پہ ماں کے حسینؑ کا سب رو رہے تھے دیکھ کے میت بتولؑ کی دنیا سے اٹھ رہی تھی نشانی رسولؐ کی دنیا سے آج رحلت بنتِ رسولؐ ہے 1 دنیا سے آج رحلتِ بنتِ رسولؐ ہے شب اجل میں عصمتِ کبریٰ کا پھول ہے دخترِ نبیؐ، رضی ہے، محوِ ملول ہے حسنینؑ و مرتضیٰ سے وداعِ بتولؑ ہے مٹی سے لگ کے زینبؑ و کلثومؑ روتی ہیں اس کمسنی میں بچیاں بے ماں کی ہوتی ہیں 2 زینبؑ کا حال یہ ہے کہ آنسو تو ہیں رواں کلثومؑ کو بھی دیتی ہیں پیہم تسلیاں فرما رہی ہیں چھوٹی بہن سے کہ میری جان رہتی نہیں جہاں میں ہمیشہ کسی کی ماں بے بس ہمیں ہم کو چھوڑ کے گریاں چلی گئیں اللہ نے بلا لیا، اماں چلی گئیں 3 زینبؑ کی بھولی باتوں پہ مضطر تھے مرتضیٰؑ اماں نے بچوں کو گلے سے لگایا بچے گھر سے تھے، لاش کی بالیں پہ بیٹھے اور سر رکھا قدموں پہ ماں کے حسینؑ کا سب رو رہے تھے دیکھ کے میت بتولؑ کی دنیا سے اٹھ رہی تھی نشانی رسولؐ کی 4 میت کے پاس بیٹھے کے بولے یہ مرتضیٰؑ تجھ سنبھالو دل کو کہ یہ صبر کی ہے جا اب اہتمام کرنا ہے میت کے غسل کا اٹھنا کے ساتھ مجھ میں جاؤ پڑھا خدا تعمیل ہو وصیتِ بنتِ رسولؐ کی انجام دیں ہم آخری خدمت بتولؑ کی 5 اللہ کتنے ظلم ہوئے ہیں بتولؑ پر تمر رہا ہے کرب سے تاریخ کا جگر روتے ترسنے گزری ہے بی بی کی عمر بھر عشر ہر ایک شب گئی قیامت ہر ایک سحر شہزادی کیسے زخموں کی تیرے دوا کروں آنسو بہا رہا ہوں، غلام اور کیا کروں دنیا سے آج رحلت بنت رسول ہے

288

Tanha jo ran mein reh gaya Zahra ka gul-badan 1 Tanha jo ran mein reh gaya Zahra ka gul-badan Ek huk dil mein uthi jo yaad aa gaya watan Sine mein aa gayi sar ko jhukaye Sher-e-Zaman Zainab se bole lao hamara wo pairahan Saughat Amman jaan ki pehnna chahiye hamein Hum marne ja rahe hain kafan chahiye hamein 2 Bibiyon bahen ne le ke kiya aur tar tar Pehna kafan samajh ke use Shah ne ek bar Zainab se bole chadar-o-bazu pe kisi pyar Ay meri Sayyida, mere bachchon se hoshiyar Ab hum hain aur khanjar-e-qatil ki dhar hai Zainab mere payam ki tu zimmedar hai 3 Bhar is taraf to bhai bahen mein ye guftagu Karta tha ghusl-e-bandi idhar lashkar-e-adu Rukhsat talab idhar the Shah-e-sokhta-gulu Kehte the ay bahen meri bas ye hai arzu Sine pe sone wali na roye hamare baad Pahlu mein apni man ke wo soye hamare baad 4 Is guftagu ko bali Sakina ne jab suna Ek tir sa kaleje ko chhu kar guzar gaya Nanhe se hath jor ke boli wo mah-liqa Kya is khayal se nahin laye the Karbala Mil jaye ka falak mein abhi itna rone ki Jin aap ke faqat main lahad hi mein sone ki Zakhmi hue jo Haider-e-Safdar namaz mein 1 Zakhmi hue jo Haider-e-Safdar namaz mein Shamshir-e-zulm chal gayi sar par namaz mein Gulgun hui jabin-e-munawwar namaz mein Sar ta qadam lahu se hue tar namaz mein Sadma hua ye sun ke saghir-o-kabir ko Zakhmi kiya namaz mein kul ke Amir ko 2 Lo momino Imam ki rehlat qarib hai Hangam-e-hashr waqt-e-qayamat qarib hai Aqa ki hum ghulamon se rukhsat qarib hai Bagh-e-jahan se Jannat qarib hai Sadme se Haq do us malak jaan khoyenge Aqa hamare mar gaye ye keh ke royenge Asir Faizabadi Asir-e-biwi fikr-e-Mustafa hai yahi Chiragh-e-ilm jalate raho Ali ki tarah Majlis-e-gham mein khari rahi hain Zahra Kaun aata hai mere lal ko rone ke liye
تنہا جو رن میں رہ گیا زہرا کا گل بدن 1 تنہا جو رن میں رہ گیا زہرا کا گل بدن اک ہوک دل میں اٹھی جو یاد آگیا وطن سینے میں آگئی سر کو جھکائے شیرِ زمن زینبؑ سے بولے لاؤ ہمارا وہ پیرہن سوغات اماں جان کی پہننا چاہئے ہمیں ہم مرنے جارہے ہیں کفن چاہئے ہمیں 2 بیبوں بہن نے لے کے کیا اور تار تار پہننا کفن سمجھ کے اسے شہ نے ایک بار زینبؑ سے بولے چادر و بازو پہ کسی پیار اے میری سیدہ، مرے بچوں سے ہوشیار اب ہم ہیں اور خنجرِ قاتل کی دھار ہے زینبؑ مرے پیام کی تو ذمہ دار ہے 3 بھر اس طرف تو بھائی بہن میں یہ گفتگو کرتا تھا غسلِ بندی ادھر لشکرِ عدو رخصت طلب ادھر تھے شہِ سوختہ گلو کہتے تھے اے بہن مری بس یہ ہے آرزو سینے پہ سونے والی نہ روئے ہمارے بعد پہلو میں اپنی ماں کے وہ سوئے ہمارے بعد 4 اس گفتگو کو بالی سکینہؑ نے جب سنا اک تیر سا کلیجے کو چھو کر گزر گیا ننھے سے ہاتھ جوڑ کے بولی وہ مہ لقا کیا اس خیال سے نہیں لائے تھے کربلا مل جائے کا فلک میں ابھی اتنا رونے کی جن آپ کے فقط میں لحد ہی میں سونے کی زخمی ہوئے جو حیدر صفدر نماز میں 1 زخمی ہوئے جو حیدرِ صفدر نماز میں شمشیرِ ظلم چل گئی سر پر نماز میں گلگوں ہوئی جبیں منور نماز میں سر تا قدم لہو سے ہوئے تر نماز میں صدمہ ہوا یہ سن کے صغیر و کبیر کو زخمی کیا نماز میں کل کے امیر کو 2 لو مومنو امام کی رحلت قریب ہے ہنگامِ حشر وقتِ قیامت قریب ہے آقا کی ہم غلاموں سے رخصت قریب ہے باغِ جہاں سے جنت قریب ہے صدمے سے حق دو اُس ملک جان کھوئیں گے آقا ہمارے مر گئے یہ کہہ کے روئیں گے اسیر فیض آبادی اسیرِ بیوی فکرِ مصطفیٰؐ ہے یہی چراغِ علم جلاتے رہو علیؑ کی طرح مجلسِ غم میں کھڑی رہی ہیں زہرا کون آتا ہے مرے لال کو رونے کے لئے

289

Unniswin (19) se aap ka matam hai Ya Ali 1 Unniswin se aap ka matam hai Ya Ali Khun ho gaye dilon ka ye alam hai Ya Ali Daftar-e-jahan ka waraq-e-matam hai Ya Ali Mah-e-Siyam, mah-e-Muharram hai Ya Ali Maula ki nazr ko magar ashk laye hain Ye rozadar aap ke rone ko aaye hain 2 Ghar mein Khuda ke qatl hua rozadar, haye Haye Imam, haye Shah-e-Zulfiqar, haye Ay razdar-e-Haq, Shah-e-taat-guzar, haye Maula Haram mein hai to Najaf mein mazar, haye Ye bandagi-shiar Janab-e-Amir ke Nikle to ghar se Khaliq-e-Qadir ke 3 Laya tha zahr mein jo jafa puchha ke tegh Maula gire zamin pe masjid mein kha ke tegh Ghul par gaya ke sar pe lagi Murtaza ke tegh Khai Khuda ke sher ne ghar mein Khuda ke tegh Gehra hai zakhm, farq-e-Imam-e-Hijaz par Sar se tapak raha hai lahu jaye-namaz par 4 Sher-e-Khuda jo hathon se thame the apna sar Khun donon kuhniyon se tapakta tha khak par Bhaga jo Ibn-e-Muljim-e-bad-khu-o-bad-guhar Pichha use Ali ke muhibbon ne daur kar Laye jo hath bandh ke Maula ke samne Qatil ye muskura ke nazar ki Imam ne 5 Farmaya main ne kaun si thi teri khata Yadash kisi ki jahan mein main ne kya Kya main bura Imam tha ay baghi-e-jafa Roya wo sar jhuka ke to Maula ne ye kaha Is roi mein bhi sab ne marzi-e-Khuda hun main Bandho na is ke hath ke Mushkil-kusha hun main 6 Laye Amir ko jo ghar mein to ghash the Imam-e-Pak Karte the aah aah ba-awaz-e-dardnak Chehra lahu mein tar tha, khare the sab Husain-e-Pak Zahra ki betiyon ne urai saron pe khak Dekha jo sar ka zakhm, jigar tharthara gaya Abbas Namdar ki man ko ghash aa gaya Unniswin (19) se aap ka matam hai Ya Ali
انیسویں (19) سے آپ کا ماتم ہے یا علیؑ 1 انیسویں (19) سے آپ کا ماتم ہے یا علیؑ خون ہوگئے دلوں کا یہ عالم ہے یا علیؑ دفترِ جہاں کا ورقِ ماتم ہے یا علیؑ ماہِ صیام، ماہِ محرم ہے یا علیؑ مولا کی نذر کو مگر اشک لائے ہیں یہ روزہ دار آپ کے رونے کو آئے ہیں 2 گھر میں خدا کے قتل ہوا روزہ دار، ہائے ہے ہے امام، ہائے شہِ ذوالفقار، ہائے اے رازدارِ حق، شہِ طاعت گزار، ہائے مولا حرم میں ہے تو نجف میں مزار، ہائے یہ بندگی شعار جنابِ امیرؑ کے نکلے تو گھر سے خالقِ قدیر کے 3 لایا تھا زہر میں جو جفا پوچھا کے تیغ مولا گرے زمین پہ مسجد میں کھا کے تیغ غل پڑ گیا کہ سر پہ لگی مرتضیٰؑ کے تیغ کھائی خدا کے شیر نے گھر میں خدا کے تیغ گہرا ہے زخم، فرقِ امامِ حجاز پر سر سے ٹپک رہا ہے لہو جائے نماز پر 4 شیرِ خدا جو ہاتھوں سے تھامے تھے اپنا سر خون دونوں کہنیوں سے ٹپکتا تھا خاک پر بھاگا جو ابنِ ملجمِ بدخو و بدگہر پیچھا اسے علیؑ کے محبوں نے دوڑ کر لائے جو ہاتھ باندھ کے مولا کے سامنے قاتل یہ مسکرا کے نظر کی امام نے 5 فرمایا میں نے کون سی تھی تیری خطا یادش کسیوں کی جہاں میں میں نے کیا کیا میں برا امام تھا اے باغیِ جفا رویا وہ سر جھکا کے تو مولا نے یہ کہا اس روئی میں بھی سب نے مرضیِ خدا ہوں میں باندھو نہ اس کے ہاتھ کہ مشکل کشا ہوں میں 6 لائے امیر کو جو گھر میں تو غش تھے امام پاک کرتے تھے آہ آہ بہ آوازِ دردناک چہرہ لہو میں تر تھا، کھڑے تھے سب حسینؑ پاک زہرا کی بیٹیوں نے اڑائی سروں پہ خاک دیکھا جو سر کا زخم، جگر تھرتھرا گیا عباسؑ نامدار کی ماں کو غش آ گیا انیسویں (19) سے آپ کا ماتم ہے یا علیؑ

290

Ikkiswin (21) ki raat qayamat ki raat thi 1 Ikkiswin ki raat qayamat ki raat thi Sadat par bala ki musibat ki raat thi Ashr ki [lafz ghair wazeh] ke shahadat ki raat thi Beton se Bu Turab ki rukhsat ki raat thi Kehte the dil do nim hai, aisa khatar hai aaj Bezar rah-e-khalq se apna safar hai aaj 2 Shabbar mere yatimon ko shafqat se paliyo Tum apne Nana jaan ke ghar ko sambhaliyo Shahr par bala koi aaye to taliyo Dekho kari nigah bhi is par na daliyo Is ka lihaz chahiye tum ko ke dard hai Beta mera Husain tumhare supurd hai 3 Ay mere jaan-nashin mere dildar alwida Ay nur-e-ain Ahmad-e-Mukhtar alwida Ay Nabi tumhein Rasul ki sarkar alwida Ay ummat-e-Rasul ke ghamkhwar alwida Shabbar jo mere dost hain un sab se hoshiyar Mazlum-e-Karbala meri Zainab se hoshiyar 4 Gham par gaya ke Syed-e-Abrar mar gaye Lo jaan-nashin-e-Ahmad-e-Mukhtar mar gaye Dushman-e-Rasul-e-Pak ke sardar mar gaye Matam karo ke Haider-e-Karrar mar gaye Roin jo bibiyan to sar pitne lagin Abbas nanhe hathon se sar pitne lage 5 Ye keh ke gham se jaan jo hone laga taghayyur Bistar pe aakhir ke baith gaye Shah-e-dilgir Bole Husain se ye Imam-e-falak-sair Beta bara alam hai ke Abbas hai saghir Ab aap ke supurd mera ladla Imam hai Bhai na janiyo, ye tumhara ghulam hai 6 Kyun kar bayan kijiye wo hashr ka saman Bete idhar tarapte the, us samt bibiyan Har su kahin buka, kahin shewan, kahin fughan Bikhra ke bal Zainab-e-muztar ka ye bayan Baba akhir shab mein tumhein kidhar kiya Haye mah-e-Siyam mein azm-e-safar kiya
اکیسویں (21) کی رات قیامت کی رات تھی 1 اکیسویں کی رات قیامت کی رات تھی سادات پر بلا کی مصیبت کی رات تھی عشر کی [لفظ غیر واضح] کہ شہادت کی رات تھی بیٹوں سے بوترابؑ کی رخصت کی رات تھی کہتے تھے دل دو نیم ہے، ایسا خطر ہے آج بے زار راہِ خلق سے اپنا سفر ہے آج 2 شبرؑ مرے یتیموں کو شفقت سے پاليو تم اپنے نانا جان کے گھر کو سنبھاليو شہر پر بلا کوئی آئے تو ٹاليو دیکھو کڑی نگاہ بھی اس پر نہ ڈاليو اس کا لحاظ چاہئے تم کو کہ درد ہے بیٹا مرا حسینؑ تمہارے سپرد ہے 3 اے میرے جانشین مرے دلدار الوداع اے نورِ عین احمدِ مختار الوداع اے نبیؐ تمہیں رسولؐ کی سرکار الوداع اے امتِ رسولؐ کے غمخوار الوداع شبرؑ جو میرے دوست ہیں ان سب سے ہوشیار مظلومِ کربلا مری زینبؑ سے ہوشیار 4 غم پڑ گیا کہ سیدِ ابرار مر گئے لو جانشینِ احمدِ مختار مر گئے دشمنِ رسولِ پاک کے سردار مر گئے ماتم کرو کہ حیدرِ کرار مر گئے روئیں جو بیبیاں تو سر پیٹنے لگیں عباسؑ ننھے ہاتھوں سے سر پیٹنے لگے 5 یہ کہہ کے غم سے جان جو ہونے لگا تغیر بستر پہ آخر کے بیٹھ گئے شاہِ دلگیر بولے حسینؑ سے یہ امامِ فلک سیر بیٹا بڑا الم ہے کہ عباسؑ ہے صغیر اب آپ کے سپرد مرا لاڈلا امام ہے بھائی نہ جانيو، یہ تمہارا غلام ہے 6 کیوں کر بیان کیجئے وہ حشر کا سماں بیٹے ادھر تڑپتے تھے، اُس سمت بیبیاں ہر سو کہیں بکا، کہیں شیون، کہیں فغاں بکھرا کے بال زینبؑ مضطر کا یہ بیاں بابا اخیر شب میں تمہیں کدھر کیا ہے ہے مہِ صیام میں عزمِ سفر کیا

291

Ikkiswin (21) ki raat qayamat ki raat thi — jari 7 Beti ko phir gale se laga lo to jaiyo Zain-e-Aba ke tauq barha lo to jaiyo Sohbat to ho chuki hai, kaha lo to jaiyo Baba namaz-e-Eid parha lo to jaiyo Kyun chup ho ay Imam-e-Hijazi, jawab do Dar par pukarte hain namazi, jawab do Ikkiswin ki raat qayamat ki raat thi Nasim Amrohvi Nash-e-Shabbir pe ye soch raha hai Islam Faida kya hua kafir ko Musalman kar ke?! Professor Mirza Muhammad Ishtiaq Shauq Lakhnavi Sajjad ke jo hathon mein dali thi zulm ne Meri bhi nasl tak wohi zanjir aati hai (Makhuz az Gham-e-Shabbir ...) Ay rozadaro aao buka ke ye roz hain 1 Ay rozadaro aah-o-buka ke ye roz hain Sadat par nuzul-e-bala ke ye roz hain Sar-taj-e-Awsiya ki aza ke ye roz hain Tum se wada-e-Sher-e-Khuda ke ye roz hain Zakhmi hua Imam tumhara namaz mein Zalim ne rozadar ko mara namaz mein 2 Mah-e-mubarak-e-Ramazan aur Khuda ka ghar Tazka wo nur ka, wo Shab-e-Qadr ki sahar Pesh-e-Khuda wo masjid mein Sher-e-Khuda ka sar Aur haye tegh-e-zulm ki zarbat wo farq par Fawware khun ke zakhm-e-jabin se bahaye Sajde mein aap Rabb-e-Ala ko kaha kahiye 3 Masjid jo pahunche daur ke Husain khun-sifat Dauri hui lahu mein munaqqash Bani ki zat Mathe pe khun, bap ka matam kiya ye baat Haye uthaya qibla-e-Kaaba pe kisi ne hath Rulaya Nana jaan ko Dar-us-Salam mein Jin bap ka kiya tumhein mah-e-Siyam mein
اکیسویں (21) کی رات قیامت کی رات تھی — جاری 7 بیٹی کو پھر گلے سے لگا لو تو جائیو زینِ ابا کے طوق بڑھا لو تو جائیو صحبت تو ہو چکی ہے، کہا لو تو جائیو بابا نمازِ عید پڑھا لو تو جائیو کیوں چپ ہو اے امامِ حجازی، جواب دو در پر پکارتے ہیں نمازی، جواب دو اکیسویں کی رات قیامت کی رات تھی نسیم امروہوی ناشِ شبیرؑ پہ یہ سوچ رہا ہے اسلام فائدہ کیا ہوا کافر کو مسلماں کر کے؟! پروفیسر مرزا محمد اشتیاق شوق لکھنوی سجادؑ کے جو ہاتھوں میں ڈالی تھی ظلم نے میری بھی نسل تک وہی زنجیر آتی ہے (ماخوذ از غمِ شبیرؑ ...) اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیں 1 اے روزہ دارو آہ و بکا کے یہ روز ہیں سادات پر نزولِ بلا کے یہ روز ہیں سر تاجِ اوصیا کی عزا کے یہ روز ہیں تم سے وداعِ شیرِ خدا کے یہ روز ہیں زخمی ہوا امام تمہارا نماز میں ظالم نے روزہ دار کو مارا نماز میں 2 ماہِ مبارکِ رمضان اور خدا کا گھر تزکا وہ نور کا، وہ شبِ قدر کی سحر پیشِ خدا وہ مسجد میں شیرِ خدا کا سر اور ہائے تیغِ ظلم کی ضربت وہ فرق پر فوارے خون کے زخمِ جبیں سے بہائے سجدے میں آپ ربِ العلیٰ کو کہا کہیے 3 مسجد جو پہنچے دوڑ کے حسینؑ خوں صفات دوڑی ہوئی لہو میں منقش بنی کی ذات ماتھے پہ خون، باپ کا ماتم کیا یہ بات ہے ہے اٹھایا قبلۂ کعبہ پہ کسی نے ہاتھ رولایا نانا جان کو دارالسلام میں جن باپ کا کیا تمہیں ماہِ صیام میں

292

Ay rozadaro aao buka ke ye roz hain — jari 4 Bandha Hasan ne zakhm-e-sar-e-Shah-e-Zuljalal Bole Ali ke aur kis ko dar hai mal Shabbar ne jab [lafz ghair wazeh] to kiya phir wohi malal Phir pukht bandh kar ye pukara wo khush-khisal Ab dard kaisa ay Asad-e-Zuljalal hai Hathon se sar pakar ke kaha wohi hal hai 5 Pahunchi jo lash-e-Shahr-e-Mardan qarib-e-dar Be-sakhta nikal pari Zainab barahna sar [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Sine munh mein tukre kaleje ke aate hain Nana bula rahe hain, so duniya se jate hain Ay rozadaro aao buka ke ye roz hain Imam Shafii [Arabi ashar / matn juzwi taur par ghair wazeh] Hazrat Khwaja Nizam-ud-Din Auliya [Mukhtasar iqtibas juzwi taur par ghair wazeh] Kya Sibt-e-Mustafa ki shahadat ki raat thi 1 Kya Sibt-e-Mustafa ki shahadat ki raat thi Afat ki raat thi, wo musibat ki raat thi Alam ke Badshah ki rehlat ki raat thi Zahra Murtaza pe qayamat ki raat thi Guzri falak mein Fatima ke nur-e-ain ko Phir huzn mein nind na aai Husain ko 2 Kaise lagaye the Haram ne idhar udhar Bazu ko koi thamta tha aur koi sar Farmaya tasht lao, hua zahr kargar [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sine munh mein tukre kaleje ke aate hain Nana bula rahe hain, so duniya se jate hain 3 Fizza ne ja ke di Shah-e-zi-jah ko khabar Dar-e-fana se aap ke bhai ka hai safar Daure Husain chak-gareban, barahna sar Dekha tarap rahe hain Shahanshah-e-bahr-o-bar Girne lage zamin pe jigar gham se phat gaya Bhaiya ke hath bhai se bhai lipat gaya
اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیں — جاری 4 باندھا حسنؑ نے زخمِ سرِ شاہِ ذوالجلال بولے علیؑ کہ اور کس کو در ہے مال شبرؑ نے جب [لفظ غیر واضح] تو کیا پھر وہی ملال پھر پخت باندھ کر یہ پکارا وہ خوش خصال اب دور کیسا اے اسدِ ذوالجلال ہے ہاتھوں سے سر پکڑ کے کہا وہی حال ہے 5 پہنچی جو لاشِ شہرِ مرداں قریبِ در بے ساختہ نکل پڑی زینبؑ برہنہ سر [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سینہ منہ میں ٹکڑے کلیجے کے آتے ہیں نانا بلا رہے ہیں، سو دنیا سے جاتے ہیں اے روزہ دارو آؤ بکا کے یہ روز ہیں امام شافعیؒ [عربی اشعار / متن جزوی طور پر غیر واضح] حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ [مختصر اقتباس جزوی طور پر غیر واضح] کیا سبطِ مصطفیٰؐ کی شہادت کی رات تھی 1 کیا سبطِ مصطفیٰؐ کی شہادت کی رات تھی آفت کی رات تھی، وہ مصیبت کی رات تھی عالم کے بادشاہ کی رحلت کی رات تھی زہرا مرتضیٰؑ پہ قیامت کی رات تھی گزری فلک میں فاطمہؑ کے نورِ عین کو پھر حزن میں نیند نہ آئی حسینؑ کو 2 کیسے لگائے تھے حرم نے ادھر ادھر بازو کو کوئی تھامتا تھا اور کوئی سر فرمایا طشت لاؤ، ہوا زہر کارگر [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سینہ منہ میں ٹکڑے کلیجے کے آتے ہیں نانا بلا رہے ہیں، سو دنیا سے جاتے ہیں 3 فضہ نے جا کے دی شہِ ذی جاہ کو خبر دارِ فنا سے آپ کے بھائی کا ہے سفر دوڑے حسینؑ چاک گریباں، برہنہ سر دیکھا تڑپ رہے ہیں شہنشاہِ بحر و بر گرنے لگے زمیں پہ جگر غم سے پھٹ گیا بھیا کے ہاتھ بھائی سے بھائی لپٹ گیا

293

Kya Sibt-e-Mustafa ki shahadat ki raat thi — jari 4 Dekha ke tasht Bint-e-Ali ne kiya maqal Qurban jaun, dekho ye hai bachchi ka hal Ummid ab nahin ke bache Fatima ka lal Faryad hai, tabah hui Mustafa ki Aal Ek aan dur se nahin bhai sambhalte hain Reh reh ke ab kaleje ke tukre nikalte hain 5 Bhai ka hal dekh ke utha jigar mein dard Lote zamin par ke bhari gesuon mein gard Tar tha badan pasine mein aur hath paon sard Un ka to rang sabz tha aur un ka rang zard Ishq tha hum mein, ankhon se ansu nikalte the Jhuk jhuk ke munh ko bhai ke qadmon se milte the 6 Har dam lipat ke bhai se ba-chashm-e-ashkbar Kehte the ke aap ki ghurbat ke main nisar Shabbar gale ko chum ke kehte the bar bar Main tum pe sadqe ay mere Nana ki yadgar Mujh se zyada zulm-o-sitam pe honge Hum qabr mein tumhari musibat pe royenge Kya Sibt-e-Mustafa ki shahadat ki raat thi Nasim Amrohvi Sharbat-e-talkh se Shabbir ne wo kulfat pai 1 Sharbat-e-talkh se Shabbir ne wo kulfat pai Jaise dil par Shah-e-Masum ne barchhi khai Khana-e-Bint-e-Nabi mein ye qayamat aai Bhai ke samne dam tor raha tha bhai Ruh-e-Zahra ki tarapti bhi Nabi rote the Arsh pe Shah-e-Husain ibn-e-Ali rote the 2 Ro ke Shabbir lagaye mere pyare bhai Na to Nana hain na Baba hain hamare bhai Ab agar aap bhi duniya se sidhare bhai Phir chhamega ye hazin, kis ke sahare bhai Dekhain jaan hai jahan, munh ko na more jao Is bhare waqt mein tanha to na chhore jao 3 Ro ke bole ye Hasan: jaan-e-pidar main qurban Dil tarapta hai ke tumhein dekhun tanha ho yahan Hai magar maut se majbur jahan mein insan Khwab mein aai thin Jannat se abhi to Amman Aao bhai se milo Zainab maghmum bahen Lo Khuda Hafiz-o-Nasir meri Kulsum bahen
کیا سبطِ مصطفیٰؐ کی شہادت کی رات تھی — جاری 4 دیکھا کے طشت بنتِ علیؑ نے کیا مقال قربان جاؤں، دیکھو یہ ہے بچی کا حال امید اب نہیں کہ بچے فاطمہؑ کا لال فریاد ہے، تباہ ہوئی مصطفیٰؐ کی آل اک آن دور سے نہیں بھائی سنبھلتے ہیں رہ رہ کے اب کلیجے کے ٹکڑے نکلتے ہیں 5 بھائی کا حال دیکھ کے اٹھا جگر میں درد لوٹے زمین پر کے بھری گیسوؤں میں گرد تر تھا بدن پسینے میں اور ہاتھ پاؤں سرد ان کا تو رنگ سبز تھا اور ان کا رنگ زرد عشق تھا ہم میں، آنکھوں سے آنسو نکلتے تھے جھک جھک کے منہ کو بھائی کے قدموں سے ملتے تھے 6 ہر دم لپٹ کے بھائی سے با چشمِ اشکبار کہتے تھے کہ آپ کی غربت کے میں نثار شبرؑ گلے کو چوم کے کہتے تھے بار بار میں تم پہ صدقے اے مرے نانا کی یادگار مجھ سے زیادہ ظلم و ستم پہ ہوں گے ہم قبر میں تمہاری مصیبت پہ روئیں گے کیا سبطِ مصطفیٰؐ کی شہادت کی رات تھی نسیم امروہوی شربتِ تلخ سے شبیرؑ نے وہ کلفت پائی 1 شربتِ تلخ سے شبیرؑ نے وہ کلفت پائی جیسے دل پر شہِ معصوم نے برچھی کھائی خانۂ بنتِ نبیؐ میں یہ قیامت آئی بھائی کے سامنے دم توڑ رہا تھا بھائی روحِ زہرا کی تڑپتی بھی نبیؐ روتے تھے عرش پہ شاہِ حسین ابن علیؑ روتے تھے 2 رو کے شبیرؑ لگائے مرے پیارے بھائی نہ تو نانا ہیں نہ بابا ہیں ہمارے بھائی اب اگر آپ بھی دنیا سے سدھارے بھائی پھر چمٹے گا یہ حزیں، کس کے سہارے بھائی دیکھیں جان ہے جہاں، منہ کو نہ موڑے جاؤ اس بھرے وقت میں تنہا تو نہ چھوڑے جاؤ 3 رو کے بولے یہ حسنؑ: جان پدر میں قربان دل تڑپتا ہے کہ تمہیں دیکھوں تنہا ہو یہاں ہے مگر موت سے مجبور جہاں میں انسان خواب میں آئی تھیں جنت سے ابھی تو اماں آؤ بھائی سے ملو زینبؑ مغموم بہن لو خدا حافظ و ناصر مری کلثومؑ بہن

294

Sharbat-e-talkh se Shabbir ne wo kulfat pai — jari 4 Kehte kehte ye sukhan, rukh pe zardi chhai Nigah-e-yas ne bahnon pe qayamat dhai Hath phaila ke barhin ke jo mere bhai Abhi milne bhi na payin ke hichki aai Tasht ki samt jo munh uth ke jhukaya afsos Ghatte ho ho ke kaleje se nikal aaya afsos 5 Lakht-e-dil munh se ugalne lage paiham jo Husain Pit kar rone lagi ye bhi bahen, wo bhi bahen Sar jhukaye hue rote the Shah-e-tishna-dahan Bhar gaya chhote bare sab ke [lafz ghair wazeh] Dil sadme pas ke kitna koi kyun kar gine Aai awaz-e-jigar ke hain bahattar tukre 6 Ghar se Masum ka tabut jo bahar nikla Jama Ahl-e-Aza bhi gale sar nikla Rukh kiye ye jo suye qabr-e-Payambar nikla Tab mein un ki wahan fitna-e-mahshar nikla Kuchh kiya shor ke soyenge na sone denge Qabr-e-Ahmad ke qarib dafn na hone denge 7 Le chale ghar ko jo wapas wo janaza nashad Qabr-e-Ahmad pe Bani sab ne ki faryad Ya Nabi ummat-e-marhum ki dekho bedad Kya bura lal Hasan tha, na tumhari aulad Dil mein Zahra ke lagi khao pare hain Baba Tir sab mere kaleje mein gare hain Baba 8 Le ke tabut ko kunba jo lipat kar aaya Pit kar Zainab-o-Kulsum ne ghash khaya Kis ko gardun ne bajuz in ye din dikhlaya Arsh tharane laga, ruh-e-Amman chillaya Aao ay Amman, ek gham taza dekho Ghar mein aaya hai jo wapas wo janaza dekho Sharbat-e-talkh se Shabbir ne wo kulfat pai
شربتِ تلخ سے شبیرؑ نے وہ کلفت پائی — جاری 4 کہتے کہتے یہ سخن، رخ پہ زردی چھائی نگہِ یاس نے بہنوں پہ قیامت ڈھائی ہاتھ پھیلا کے بڑھیں کہ جو مرے بھائی ابھی ملنے بھی نہ پائیں کہ ہچکی آئی طشت کی سمت جو منہ اٹھ کے جھکایا افسوس گھٹتے ہو ہو کے کلیجے سے نکل آیا افسوس 5 لختِ دل منہ سے اگلنے لگے پیہم جو حسینؑ پیٹ کر رونے لگی یہ بھی بہن، وہ بھی بہن سر جھکائے ہوئے روتے تھے شہِ تشنہ دہن بھر گیا چھوٹے بڑے سب کے [لفظ غیر واضح] دل صدمے پاس کے کتنا کوئی کیونکر گنے آئی آوازِ جگر کے ہیں بہتر (72) ٹکڑے 6 گھر سے معصوم کا تابوت جو باہر نکلا جمع اہلِ عزا بھی گلے سر نکلا رخ کئے یہ جو سوئے قبرِ پیمبرؐ نکلا تاب میں ان کی وہاں فتنۂ محشر نکلا کچھ کیا شور کہ سوئیں گے نہ سونے دیں گے قبرِ احمدؐ کے قرین دفن نہ ہونے دیں گے 7 لے چلے گھر کو جو واپس وہ جنازہ ناشاد قبرِ احمدؐ پہ بنی سب نے کی فریاد یا نبیؐ امتِ مرحوم کی دیکھو بیداد کیا برا لال حسنؑ تھا، نہ تمہاری اولاد دل میں زہرا کے لگی کھاؤ پڑے ہیں بابا تیر سب میرے کلیجے میں گڑے ہیں بابا 8 لے کے تابوت کو کنبہ جو لپٹ کر آیا پیٹ کر زینبؑ و کلثومؑ نے غش کھایا کس کو گردوں نے بجز ان یہ دن دکھلایا عرش تھرنے لگا، روحِ اماں چلایا آؤ اے امنو، اک غم تازہ دیکھو گھر میں آیا ہے جو واپس وہ جنازہ دیکھو شربتِ تلخ سے شبیرؑ نے وہ کلفت پائی

295

Jis dam Hasan ka zahr se tukre jigar hua 1 Jis dam Hasan ka zahr se tukre jigar hua Sipara dil ka aahon se zer-o-zabar hua Gham ka jo Ruh-e-Pak pe zahir asar hua Hal us Imam-e-Pak ka ek dam digar hua Rahat mein farq aur shakl mein khalal para Kaf kar kaleja tasht ke andar nikal para 2 Farmate the Hasan ke bulao Husain ko Tham tham ke hum ye hukm kar, lao Husain ko Bhai ka hal-e-zar sunao Husain ko Tukre mere jigar ke dikhao Husain ko Keh do ke jald aaiye, rehlat ka waqt hai Sun jaiye kuchh aap ke wasiyat ka waqt hai 3 Aaye Husain itne mein ba-chashm-e-ashkbar Chhupate the ke aap ki ghurbat ke main nisar Shabbar gale ko chum ke kehte the bar bar Main tum pe sadqe ay mere Nana ki yadgar Mujh se zyada zulm-o-sitam pe honge Hum qabr mein tumhari musibat pe royenge 4 Bhara tha Ahl-e-Bait-e-Payambar mein shor-o-shain Baithin pachharen khak pe khati thin kar ke bain Sine pe hath mar ke chillate the Husain Ab uth gaya zamane se hum be-kason ka chain Bazu hamara chhut gaya, wa musibata Bap aaj hum se chhut gaya, wa musibata 5 Bhaiya tumhari god mein niklega mera dam Tum doge hum ko ghusl-o-kafan jab marenge hum Hoga tumhare pas na koi bajuz alam Qatil sirhane hoga ya khanjar-e-sitam Shabbar to baad-e-marg bhi rahat se soyega Lasha tumhara ghoron se pamal hoyega Bashukriya sozkhwan Jawad Husain o Muhammad Ali o Haider Ali Zaidi Qaisar Barahvi Ehsas-e-gham-o-dard mein dhal jata hai Insaf ka waraq ruh par charh jata hai Jab kehta hai ghurbat ki kahani koi Muslim ke yatimon ka khayal aata hai
جس دم حسنؑ کا زہر سے ٹکڑے جگر ہوا 1 جس دم حسنؑ کا زہر سے ٹکڑے جگر ہوا سپارہ دل کا آہوں سے زیر و زبر ہوا غم کا جو روحِ پاک پہ ظاہر اثر ہوا حال اس امامِ پاک کا اک دم دگر ہوا راحت میں فرق اور شکل میں خلل پڑا کف کر کلیجہ طشت کے اندر نکل پڑا 2 فرماتے تھے حسنؑ کہ بلاؤ حسینؑ کو تھام تھام کے ہم یہ حکم کر، لاؤ حسینؑ کو بھائی کا حالِ زار سناؤ حسینؑ کو تکڑے مرے جگر کے دکھاؤ حسینؑ کو کہہ دو کہ جلد آئیے، رحلت کا وقت ہے سن جائیے کچھ آپ کے وصیت کا وقت ہے 3 آئے حسینؑ اتنے میں با چشمِ اشکبار چھپاتے تھے کہ آپ کی غربت کے میں نثار شبرؑ گلے کو چوم کے کہتے تھے بار بار میں تم پہ صدقے اے مرے نانا کی یادگار مجھ سے زیادہ ظلم و ستم پہ ہوں گے ہم قبر میں تمہاری مصیبت پہ روئیں گے 4 بھرا تھا اہل بیتِ پیمبرؐ میں شور و شین بیٹھیں بچھاڑیں خاک پہ کھاتی تھیں کر کے بین سینے پہ ہاتھ مار کے چلاتے تھے حسینؑ اب اٹھ گیا زمانے سے ہم بے کسوں کا چین بازو ہمارا چھٹ گیا، وا مصیبتا باپ آج ہم سے چھٹ گیا، وا مصیبتا 5 بھیا تمہاری گود میں نکلے گا میرا دم تم دو گے ہم کو غسل و کفن جب مریں گے ہم ہوگا تمہارے پاس نہ کوئی بجز الم قاتل سرہانے ہوگا یا خنجرِ ستم شبرؑ تو بعدِ مرگ بھی راحت سے سوئے گا لاشہ تمہارا گھوڑوں سے پامال ہوئے گا بشکریہ سوزخواں جواد حسین و محمد علی و حیدر علی زیدی قیصر بارہوی احساسِ غم و درد میں ڈھل جاتا ہے انصاف کا ورقِ روح پر چڑھ جاتا ہے جب کہتا ہے غربت کی کہانی کوئی مسلم کے یتیموں کا خیال آتا ہے

296

Zahr-e-dagha se ghair jo hal Hasan hua 1 Zahr-e-dagha se ghair jo hal Hasan hua Jigar par Zainab-e-muztar ke chal gaya Kulsum ro ke kehne lagin Wa Muhammada Abbas ne bhi chak-gareban kiya Taghayyur khwab soch ke betab hote hain Shabbir ka hal dekh ke Shabbir rote hain 2 Dard-e-jigar barha to pukare Shah-e-Zaman Kehti hui kam kam ke utha lao ay bahen Zainab ne laye samne jis dam rakha kafan Khaye hue kaleje ko us par jhuke Hasan Kat kat ke qalb-e-Syed-e-wala nikal para Taqut-e-badan ke munh se kaleja nikal para 3 Zainab ke bain sun ke mukhatab hue Imam Dar-e-fana mein zist ki muddat hui tamam Jana hai mujh ko Nana ki khidmat mein la-kalam Rona likha hai tere muqaddar mein subh-o-sham Bibi na ro ke puchhta hai dil tere bain se Tujh ko abhi bichharna hai bhai Husain se 4 Pesh-e-nazar hai marka-e-dasht-e-Karbala Kam aayenge Husain ke jab khwesh-o-aqraba Dekhegi tu Husain ka kata hua gala Khaime jalenge aur chhinegi teri rida Tu sar barahna jayegi bazar-e-Sham mein Balwe ka shor hoga tujhe darbar-e-aam mein 5 Ye baat sun ke ro diye Mazlum-e-Karbala Shabbir ko Hasan ne gale se laga liya Taskin de ke phir ye pukare Shah-e-Huda Roo na tum ke hai yahi Mabud ki raza Bhai tumhari tarah mera bakht to nahin Ashur se Husain ka ye din sakht to nahin 6 Ek baat tum se kehta hun ay mere sogwar Hasrat ye hai ke Nana ke pahlu mein ho mazar Lekin agar ho ummat-e-Ahmad ko nagawar Tum ko hai mere Haq ki qasam Shah-e-Namdar Larna na tum kisi se ke taqsir-e-sabr ho Manzur hai ke pahlu-e-madar mein qabr ho Zahr-e-dagha se ghair jo hal Hasan hua
زہرِ دغا سے غیر جو حال حسنؑ ہوا 1 زہرِ دغا سے غیر جو حال حسنؑ ہوا جگر پر زینبؑ مضطر کے چل گیا کلثومؑ رو کے کہنے لگیں وا محمداؐ عباسؑ نے بھی چاک گریباں کیا تغیر خواب سوچ کے بے تاب ہوتے ہیں شبیرؑ کا حال دیکھ کے شبیرؑ روتے ہیں 2 دردِ جگر بڑھا تو پکارے شہِ زمن کہتی ہوئی کم کم کہ اٹھا لاؤ اے بہن زینبؑ نے لائے سامنے جس دم رکھا کفن کھائے ہوئے کلیجے کو اس پر جھکے حسنؑ کٹ کٹ کے قلبِ سیدِ والا نکل پڑا طاقوتِ بدن کے منہ سے کلیجہ نکل پڑا 3 زینبؑ کے بین سن کے مخاطب ہوئے امام دارِ فنا میں زیست کی مدت ہوئی تمام جانا ہے مجھ کو نانا کی خدمت میں لا کلام روتا لکھا ہے تیرے مقدر میں صبح و شام بی بی نہ رو کہ پوچھتا ہے دل تیرے بین سے تجھ کو ابھی بچھڑنا ہے بھائی حسینؑ سے 4 پیشِ نظر ہے معرکۂ دشتِ کربلا کام آئیں گے حسینؑ کے جب خویش و اقربا دیکھے گی تو حسینؑ کا کٹا ہوا گلا خیمے جلیں گے اور چھنے گی تیری ردا تو سر برہنہ جائے گی بازارِ شام میں بلوے کا شور ہوگا تجھے دربارِ عام میں 5 یہ بات سن کے رو دیئے مظلومِ کربلا شبیرؑ کو حسنؑ نے گلے سے لگا لیا تسکین دے کے پھر یہ پکارے شہِ ہدیٰ روؤ نہ تم کہ ہے یہی معبود کی رضا بھائی تمہاری طرح مرا بخت تو نہیں عاشور سے حسینؑ کا یہ دن سخت تو نہیں 6 اک بات تم سے کہتا ہوں اے میرے سوگوار حسرت یہ ہے کہ نانا کے پہلو میں ہو مزار لیکن اگر ہو امتِ احمدؐ کو ناگوار تم کو ہے میرے حق کی قسم شاہِ نامدار لڑنا نہ تم کسی سے کہ تقصیرِ صبر ہو منظور ہے کہ پہلوئے مادر میں قبر ہو زہرِ دغا سے غیر جو حال حسنؑ ہوا

297

Zahr-e-dagha se ghair jo hal Hasan hua — jari 7 Nagah Ahl-e-Bait mein matam bapa hua Zahra ka lal rahi-e-mulk-e-baqa hua Ghul par gaya Husain, Hasan se juda hua Zainab tarap ke kehti thin logo ye kya hua Mayyat ke gird muztar-o-dilgir rote the Qasim ko le ke god mein Shabbir rote the 8 Jis dam Hasan ko ro chuke namus-e-Mustafa Ghusl-o-kafan se ho ke farigh Shah-e-Huda Le kar janaza [misra juzwi taur par ghair wazeh] Itrat-e-Nabi ki samt chale khwesh-o-aqraba Aurat ek aai lashkar-e-atish-nishan liye Har lashkari tha hath mein tir-o-kaman liye 9 Ay momino! Asar ko batao mujhe Khuda Ghar se nikal ke koi janaza bhi hai bhala Lekin Hasan ke sath Madine mein jo hua Rawi ne is tarah se hai tarikh mein likha Bahattar is qadar the badan mein Hasan ke tir Bhai bahen nikal rahe the badan ke tir Zahr-e-dagha se ghair jo hal Hasan hua (Bashukriya sozkhwan Masud Husain Rizvi o Javed Balgrami) Kafan pehna ke jo Shabbar ko le chale Shabbir 1 Kafan pehna ke jo Shabbar ko le chale Shabbir Rawan the sath Bani Hashim aur amir-o-faqir Har ek nauha-kunan, sab ka hal dilgir Hazaron Ahl-e-Wafa, nala-kash hazin, dilgir Sar apna pitta har ek nauhagar hamrah Jigar ke tukre liye tasht mein [lafz ghair wazeh] hamrah 2 Irada tha ke ho qabr Nabi ke pas mazar Hazar haif na razi hue magar ashrar Lagaye tir Hasan ke janaze par ek bar Kai khadang dar aaye kafan mein aakhir kar Bala ke rishte mein ek roz aayenge nawak Wahan Husain ki mayyat uthayenge nawak 3 Kisi tarah se na baz aaye jab jafaju dur Kiya Baqi mein madfun lasha-e-Shabbar Hai ab ye arz Musalmanon se sunen yaksar Hai arzu ke shafaat karenge Payambar Tarah tarah ka sitam Aal par kiya tum ne Yahi tha ajr-e-risalat jo kuchh diya tum ne
زہرِ دغا سے غیر جو حال حسنؑ ہوا — جاری 7 ناگاہ اہل بیت میں ماتم بپا ہوا زہرا کا لال راہیِ ملکِ بقا ہوا غل پڑ گیا حسینؑ، حسنؑ سے جدا ہوا زینبؑ تڑپ کے کہتی تھیں لوگو یہ کیا ہوا میت کے گرد مضطر و دلگیر روتے تھے قاسمؑ کو لے کے گود میں شبیرؑ روتے تھے 8 جس دم حسنؑ کو رو چکے ناموسِ مصطفیٰؐ غسل و کفن سے ہو کے فارغ شہِ ہدیٰ لے کر جنازہ [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] عترتِ نبیؐ کی سمت چلے خویش و اقربا عورت اک آئی لشکرِ آتش نشاں لئے ہر لشکری تھا ہاتھ میں تیر و کماں لئے 9 اے مومنو! اثر کو بتاؤ مجھے خدا گھر سے نکل کے کوئی جنازہ بھی ہے بھلا لیکن حسنؑ کے ساتھ مدینے میں جو ہوا راوی نے اس طرح سے ہے تاریخ میں لکھا بہتر اس قدر تھے بدن میں حسنؑ کے تیر بھائی بہن نکال رہے تھے بدن کے تیر زہرِ دغا سے غیر جو حال حسنؑ ہوا (بشکریہ سوزخواں مسعود حسین رضوی و جاوید بلگرامی) کفن پہنا کے جو شبرؑ کو لے چلے شبیرؑ 1 کفن پہنا کے جو شبرؑ کو لے چلے شبیرؑ رواں تھے ساتھ بنی ہاشم اور امیر و فقیر ہر ایک نوحہ کناں، سب کا حال دلگیر ہزاروں اہلِ وفا، نالہ کش حزیں، دلگیر سر اپنا پیٹتا ہر ایک نوحہ گر ہمراہ جگر کے ٹکڑے لئے طشت میں [لفظ غیر واضح] ہمراہ 2 ارادہ تھا کہ ہو قبر نبیؐ کے پاس مزار ہزار حیف نہ راضی ہوئے مگر اشرار لگائے تیر حسنؑ کے جنازے پر اک بار کئی خدنگ در آئے کفن میں آخر کار بلا کے رشت میں ایک روز آئیں گے ناوک وہاں حسینؑ کی میت اٹھائیں گے ناوک 3 کسی طرح سے نہ باز آئے جب جفاجو دور کیا بقیع میں مدفون لاشۂ شبر ہے اب یہ عرض مسلمانوں سے سنیں یکسر ہے آرزو کہ شفاعت کریں گے پیغمبر طرح طرح کا ستم آل پر کیا تم نے یہی تھا اجرِ رسالت جو کچھ دیا تم نے

298

Kafan pehna ke jo Shabbar ko le chale Shabbir — jari 4 Nabi ki beti ko rakha khafa, ye ajr diya Ali ko masjid mein zakhmi kiya, ye ajr diya Hasan ko zahr-e-halahal diya, ye ajr diya Husain zabh hue be-khata, ye ajr diya Nabi ka hashr ke din jabke samna hoga Batao sar ko gareban mein dekho kya hoga Kafan pehna ke jo Shabbar ko le chale Shabbir Nasim Lakhnavi Han dosto ye waqt hai andoh-o-mihan ka 1 Han dosto ye waqt hai andoh-o-mihan ka Matam hai magar band Shah-e-Qila-shikan ka Zahra ne kiya chak gareban, Hasan ka Sar khol do ab uthta hai tabut-e-Hasan ka Haider bhi buka karte hain, Zahra-o-Nabi bhi Abbas bhi rote hain, Husain ibn-e-Ali bhi 2 Shabbir ne sar pit ke ye shor machaya Main kya karun logo, mujhe qismat ne sataya Be-rahmon ne bhaiya ko mere zahr pilaya Kis tarah bachega Asadullah ka jaya Bas ho gaya malum ke saman hain safar ke Dekho to kafan bhar gaya tukron se jigar ke 3 Shabbir tarapne lage dastar phenk kar Nazdik tha zamin se nikal jaye bhar kar Bahnein jo baradar ke liye roin palat kar Nale the ke sinon pe giri barq tarap kar Zainab ka ye nauha tha ke ye kya hua logo Man-jaya mera nek-o-tanha hua logo
کفن پہنا کے جو شبرؑ کو لے چلے شبیرؑ — جاری 4 نبیؐ کی بیٹی کو رکھا خفا، یہ اجر دیا علیؑ کو مسجد میں زخمی کیا، یہ اجر دیا حسنؑ کو زہرِ ہلاہل دیا، یہ اجر دیا حسینؑ ذبح ہوئے بے خطا، یہ اجر دیا نبیؐ کا حشر کے دن جب کہ سامنا ہوگا بتاؤ سر کو گریباں میں دیکھو کیا ہوگا کفن پہنا کے جو شبرؑ کو لے چلے شبیرؑ نسیم لکھنوی ہاں دوستو یہ وقت ہے اندوہ و محن کا 1 ہاں دوستو یہ وقت ہے اندوہ و محن کا ماتم ہے مگر بند شہِ قلعہ شکن کا زہرا نے کیا چاک گریباں، حسنؑ کا سر کھول دو اب اٹھتا ہے تابوتِ حسنؑ کا حیدرؑ بھی بکا کرتے ہیں، زہرا و نبیؐ بھی عباسؑ بھی روتے ہیں، حسین ابن علیؑ بھی 2 شبیرؑ نے سر پیٹ کے یہ شور مچایا میں کیا کروں لوگو، مجھے قسمت نے ستایا بے رحموں نے بھیا کو مرے زہر پلایا کس طرح بچے گا اسد اللہ کا جایا بس ہوگیا معلوم کہ سامان ہیں سفر کے دیکھو تو کفن بھر گیا ٹکڑوں سے جگر کے 3 شبیرؑ تڑپنے لگے دستار پھینک کر نزدیک تھا زمین سے نکل جائے بھر کر بہنیں جو برادر کے لئے روئیں پلٹ کر نالے تھے کہ سینوں پہ گری برق تڑک کر زینبؑ کا یہ نوحہ تھا کہ یہ کیا ہوا لوگو ماں جایا مرا نیک و تنہا ہوا لوگو

299

Han dosto ye waqt hai andoh-o-mihan ka — jari 4 Qasim ka bhi tha sogwar, gareban phata hai Haider ke muhibbon mein bhi ek hashr bapa hai Dushman bhi tarapte hain, wo faryad-o-buka hai Tabut-e-Hasan Rauza-e-Ahmad ko chala hai Matam mein nahin hosh bacha ab to kisi ke Amame nahin sar pe Husain ibn-e-Ali ke 5 Hamrah hain Ansar-o-Muhajir bhi khule sar Zainab bhi hain, Kulsum bhi, uthe hue chadar Nagah pukari koi Bibi ye tarap kar Ay momino rahm karo mere pisar par Mayyat pe sunen hain ye tum charkh-e-kohan ke Ab tir baraste hain janaze pe Hasan ke Han dosto ye waqt hai andoh-o-mihan ka Nasim Amrohvi Shahid Jafar Tu Nafs-e-Khuda hai ke Nusairi ka Khuda hai Is ramz ko samjha na kisi ne bhi abhi tak Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Hazrat Syed Mubarak Husain Ilahi, Allah maghfirat farmaye Hasan (Bashukriya ...) Dushman Muawiya hua Shah-e-Hasan ka jab 1 Dushman Muawiya hua Shah-e-Hasan ka jab Sakit wo chand roz raha phir kiya ghazab Marwan tha Madine ka hakim, adu-e-Rab Bhijwaya us ko zahr, likhe waqiat sab Takid ki ke bughz hai Shabbar ki zat se Khilwao ye zahr Dukhtar-e-Ashas ke hath se 2 Is qahr ka wo zahr tha, afat ka tha asar Dam bhar mein tukre tukre hua Shah ka jigar Ghul par gaya Hasan ka zamane se hai safar Haider ka sabz-posh tarapta hai farsh par Zahra ki betiyon pe musibat phir aai hai Ghar lut raha hai, azim-e-Firdaus bhai hai 3 Chillate the Husain ke haye, hua ye kya Zainab pukarti thi are kis ne ki dagha Nagah tasht Sibt-e-Nabi ne talab kiya Qay hogi shuru, aziyat hui siwa Ansu ye silkon, Shah-e-nek-khu ke sath Girne lage kaleje ke tukre lahu ke sath
ہاں دوستو یہ وقت ہے اندوہ و محن کا — جاری 4 قاسمؑ کا بھی تھا سوگوار، گریبان پھٹا ہے حیدرؑ کے محبوں میں بھی اک حشر بپا ہے دشمن بھی تڑپتے ہیں، وہ فریاد و بکا ہے تابوتِ حسنؑ روضۂ احمدؐ کو چلا ہے ماتم میں نہیں ہوش بچا اب تو کسی کے عمامے نہیں سر پہ حسین ابن علیؑ کے 5 ہمراہ ہیں انصار و مہاجر بھی کھلے سر زینبؑ بھی ہیں، کلثومؑ بھی، اٹھے ہوئے چادر ناگاہ پکاری کوئی بی بی یہ تڑپ کر اے مومنو رحم کرو میرے پسر پر میت پہ سنیں ہیں یہ تم چرخِ کہن کے اب تیر برستے ہیں جنازے پہ حسنؑ کے ہاں دوستو یہ وقت ہے اندوہ و محن کا نسیم امروہوی شاہد جعفر تو نفسِ خدا ہے کہ نصیری کا خدا ہے اس رمز کو سمجھا نہ کسی نے بھی ابھی تک التماس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب حضرت سید مبارک حسین الٰہی، اللہ مغفرت فرمائے حسنؑ (بشکریہ ...) دشمن معاویہ ہوا شاہِ حسنؑ کا جب 1 دشمن معاویہ ہوا شاہِ حسنؑ کا جب ساکت وہ چند روز رہا پھر کیا غضب مروان تھا مدینے کا حاکم، عدوئے رب بھجوایا اس کو زہر، لکھے واقعات سب تاکید کی کہ بغض ہے شبرؑ کی ذات سے کھلواؤ یہ زہر دخترِ اشعث کے ہاتھ سے 2 اس قہر کا وہ زہر تھا، آفت کا تھا اثر دم بھر میں ٹکڑے ٹکڑے ہوا شاہ کا جگر غل پڑ گیا حسنؑ کا زمانے سے ہے سفر حیدرؑ کا سبز پوش تڑپتا ہے فرش پر زہرا کی بیٹیوں پہ مصیبت پھر آئی ہے گھر لٹ رہا ہے، عازمِ فردوس بھائی ہے 3 چلاتے تھے حسینؑ کہ ہے ہے، ہوا یہ کیا زینبؑ پکارتی تھی ارے کس نے کی دغا ناگاہ طشت سبطِ نبیؐ نے طلب کیا قے ہوگی شروع، اذیت ہوئی سوا آنسو یہ سلکوں، شہِ نیک خو کے ساتھ گرنے لگے کلیجے کے ٹکڑے لہو کے ساتھ

300

Dushman Muawiya hua Shah-e-Hasan ka jab — jari 3 Ghash mein Hasan the hue hoshiyar nagahan Phailaye hath ankhon se ansu hue rawan Phir apne sine se karte hue fughan Donon Rasul ke roye ye keh ke nauha-khwan Betab sab ke dil hue dard-e-judai se Shabbar ne raz-e-dil jo kaha chhote bhai se 4 Baad is ke kalima parhne lage Shah-e-nek-naam Dekha rukh-e-Husain ko aur ho gaye tamam Shabbar bibiyon ne khol diye gesu-e-tamam Mayyat ke gird, Ahl-e-Haram kar rahe the matam Shah par tarahhum ne ghar lutaya hua tha Ruh-e-Fatima sajda-e-aza karti thi 5 Saman-e-dafn paya jo Masum ne kiya Ghusl-o-kafan baradar-e-Mazlum ko diya Qabr se mate phir jab nur-e-Nabi ka [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Turbat mein walidain se ghurbat hui mila Dilband-e-Bu Turab ko farsh-e-zamin mila 6 Chala Nabi ke rauze mein wo marqad-e-Hasan Roka mukhalifon ne hue barh ke tana-zan Shimr ka jaan-nashin jo hua, un se hum-sukhan Farmaya phir zalimon ne is pe zulm Tabut pe tiron se wo nawak guzar gaye Ghusl aa gaya Husain ko lekin Shabbar gaye 7 Yaad aa gayi wasiyat-e-maqtul-e-be-gunah Wan se janaza le ke Baqi mein aaye Shah Parh kar namaz rone lage Fatimiya Allah Khodi gayi lahad to kiya sab ne shor-o-aah Paiwast the janaza-e-Shah-e-Zaman mein tir Hathon pe lash uthai to nikle kafan mein tir 8 Duniya zamin mein chand Payambar ka nagahan Ruh-e-Rasul karne lagi nala-o-fughan Bete ye sadma hone ko nikle lahad se man [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Turbat mein walidain se ghurbat hui mila Dilband-e-Bu Turab ko farsh-e-zamin mila
دشمن معاویہ ہوا شاہِ حسنؑ کا جب — جاری 3 غش میں حسنؑ تھے ہوئے ہشیار ناگہاں پھیلائے ہاتھ آنکھوں سے آنسو ہوئے رواں پھر اپنے سینے سے کرتے ہوئے فغاں دونوں رسولؐ کے روئے یہ کہہ کے نوحہ خواں بیتاب سب کے دل ہوئے دردِ جدائی سے شبرؑ نے رازِ دل جو کہا چھوٹے بھائی سے 4 بعد اس کے کلمہ پڑھنے لگے شاہ نیک نام دیکھا رخِ حسینؑ کو اور ہوگئے تمام شبرؑ بیبیوں نے کھول دیئے گیسوئے تمام میت کے گرد، اہلِ حرم کر رہے تھے ماتم شہ پر ترحم نے گھر لٹایا ہوا تھا روحِ فاطمہؑ سجدۂ عزا کرتی تھی 5 سامانِ دفن پایا جو معصوم نے کیا غسل و کفن برادرِ مظلوم کو دیا قبر سے مٹے پھر جب نورِ نبیؐ کا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تربت میں والدین سے غربت ہوئی مِلا دل بند بوترابؑ کو فرشِ زمیں ملا 6 چلا نبیؐ کے روضے میں وہ مرقدِ حسنؑ روکا مخالفوں نے ہوئے بڑھ کے طعنہ زن شمر کا جانشیں جو ہوا، اُن سے ہم سخن فرمایا پھر ظالموں نے اس پہ ظلم تابوت پہ تیروں سے وہ ناوک گزر گئے غسل آ گیا حسینؑ کو لیکن شبرؑ گئے 7 یاد آ گئی وصیتِ مقتولِ بے گناہ واں سے جنازہ لے کے بقیعہ میں آئے شاہ پڑھ کر نماز رونے لگے فاطمیہ اللہ کھودی گئی لحد تو کیا سب نے شور و آہ پیوست تھے جنازۂ شاہِ زمن میں تیر ہاتھوں پہ لاش اٹھائی تو نکلے کفن میں تیر 8 دنیا زمین میں چاند پیمبرؐ کا ناگہاں روحِ رسولؐ کرنے لگی نالہ و فغاں بیٹے یہ صدمہ ہونے کو نکلے لحد سے ماں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تربت میں والدین سے غربت ہوئی ملا دل بند بوترابؑ کو فرشِ زمیں ملا

301

Jis dam janaza-e-pisar-e-Shah-e-La Fata 1 Jis dam janaza-e-pisar-e-Shah-e-La Fata Pahuncha qarib-e-marqad-e-Payambar-e-Khuda Ye sun ke matlab-e-Shabbir khul gaya [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Zainab kinar-e-Shah-e-Rusul ke mazar par Manzur hai ye Haq ko ke mar kar qarar ho 2 Az-bas ke nasl-e-Fatima se tha unhein inad Bas mustaid ho gaye sab bar-sar-e-fasad Mahbub-e-Haq ke rauze pe aaye wo bad-nihad Bole ke puri hone na denge ye murad Ye ghar hamare mulk ka hai aur mal ka Hissa nahin hai is mein Muhammad ki Aal ka 3 Barham hue ye sun ke Imam-e-falak-janab Chhiraya jism-e-ghaiz se ankhen huin pur-ab Farmaya doge hashr mein kya Haq ko tum jawab Hai kuchh bhi pas Ahmad-o-Zahra-o-Bu Turab Aur un ki qabr, haye Nabi ke qarib ho Pahlu Rasul ka na Hasan ko nasib ho 4 Tabut par jo aane lage tir nagahan Amada barz hue Shah-e-ins-o-jan Aai nida-e-ghaib ke ay Shah-e-be-kasan Sar pit-ti hai Fatima Zahra baad-e-fughan Jannat mein is alam se Muhammad ki qabr hai Ay Sher-e-Haq ke lal, ye hangam-e-sabr hai 5 Zahra ke ghar mein shor-e-qayamat bapa hua Darbar par aa gayi Dukhtar-e-Haider barahna-pa Bikhre hue the bal, gareban phata hua Ek ek se ye kehti thi ansu baha baha Qissa hai aaj Fatima ke nur-e-ain ko Allah koi ja ke sambhale Husain ko 6 Ja kar kahe ye koi ke ay Shah-e-Namdar Sadqe Nabi ki ruh ka kuchh na karzar Baba ka sabr yaad karo tum pe main nisar Haye na pahunchti ka banao wahan mazar Aram do Habib-e-Khuda ke Habib ko Pahlu mein man ke dafn karo is gharib ko
جس دم جنازۂ پسرِ شاہِ لافتیٰ 1 جس دم جنازۂ پسرِ شاہِ لافتیٰ پہنچا قریبِ مرقدِ پیغمبرِ خدا یہ سن کے مطلبِ شبیرؑ کھل گیا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] زینبؑ کنارِ شاہِ رسل کے مزار پر منظور ہے یہ حق کو کہ مر کر قرار ہو 2 از بس کہ نسلِ فاطمہؑ سے تھا انہیں عناد بس مستعد ہوگئے سب بر سرِ فساد محبوبِ حق کے روضے پہ آئے وہ بد نہاد بولے کہ پوری ہونے نہ دیں گے یہ مراد یہ گھر ہمارے ملک کا ہے اور مال کا حصہ نہیں ہے اس میں محمدؐ کی آل کا 3 برہم ہوئے یہ سن کے امامِ فلک جناب چھرا یا جسمِ غیظ سے آنکھیں ہوئیں پر آب فرمایا دوگے حشر میں کیا حق کو تم جواب ہے کچھ بھی پاس احمد و زہرا و بوترابؑ اور ان کی قبر، ہائے نبیؐ کے قریب ہو پہلو رسولؐ کا نہ حسنؑ کو نصیب ہو 4 تابوت پر جو آنے لگے تیر ناگہاں آمادہ برز ہوئے شاہِ انس و جاں آئی ندائے غیب کہ اے شاہِ بے کساں سر پیٹتی ہے فاطمہ زہرا بعدِ فغاں جنت میں اس الم سے محمدؐ کی قبر ہے اے شیرِ حق کے لال، یہ ہنگامِ صبر ہے 5 زہرا کے گھر میں شورِ قیامت بپا ہوا دربار پر آ گئی دخترِ حیدرؑ برہنہ پا بکھرے ہوئے تھے بال، گریباں پھٹا ہوا اک ایک سے یہ کہتی تھی آنسو بہا بہا قصہ ہے آج فاطمہؑ کے نورِ عین کو اللہ کوئی جا کے سنبھالے حسینؑ کو 6 جا کر کہے یہ کوئی کہ اے شاہِ نامدار صدقے نبیؐ کی روح کا کچھ نہ کارزار بابا کا صبر یاد کرو تم پہ میں نثار ہے ہے نہ پہنچتی کا بناؤ وہاں مزار آرام دو حبیبِ خدا کے حبیب کو پہلو میں ماں کے دفن کرو اس غریب کو

302

Para hai ghash mein Husain gharib ka jani 1 Para hai ghash mein Husain gharib ka jani Minare mein khun-e-zulm-o-jaur ke pani Dam-e-namaz jo chaunka ye Haider-e-Sani Wuzu ke waste uth kar talab kiya pani Jo pani aaya to munh ansuon se dhone lage Phir nigahon mein Baba ki pyas, rone lage 2 Tartib ke dil ne kaha haye Syed-e-khush-khu Yahi to hai na mera tin din jo bahr-e-wuzu Isi ki chah mein Kausar ko chal diye Amru Isi ki waste ammu ke kat gaye bazu Yahi to wo hai jo be-shir ne na paya tha Isi ko mang ke gardun pe tir khaya tha 3 Arz kam aaye musalle pe aur parhi wo namaz Ke jis ke baad thi qad-e-wisal naz-o-niyaz Har ek zikr tawil aur har ek sujud daraz Pukarta tha ye Ruh-e-Husain sajda-nawaz Mujhe bhi naz hai jis par yahi wo taat hai Ye aakhri mere Sajjad ki ibadat hai 4 Hui tamam jo aakhir namaz-e-jaan-e-Rasul Dua-o-hamd ke lab par tha husn-e-qubul Diya jo shukr ke sajde ko Haq ki yaad mein tul To ek umr ka yaad aaya sajda-e-maqbul Uthe jo rote hue to sajda-gah Sajjad Kaha Husain Husain aur mar gaye Sajjad 5 Uthai daur ke Baqir ne lash ro ro kar Tamam bibiyan matam mein pitne lagin sar Takht Bani Hashim mein ghul macha ghar ghar Utha jahan se azadar-e-Sibt-e-Payambar Chhuta wo Aal se jo aasra tha ghurbat ka Bujha chiragh-e-shab-e-Karbala ki turbat ka 6 Nabi-o-Haider-o-Zahra ki ruh hai nashad Husain ka hai ye nauha ke haye ay Sajjad Batul kehti hain ro ro ke Ya Khuda faryad Sagi dabr mein kya kya sitam-garan aulad Jafa se qatl kiya jabr-o-qahr se mara Mere mariz ko zalim ne zahr se mara Para hai ghash mein Husain gharib ka jani Nasim Amrohvi
پڑا ہے غش میں حسینؑ غریب کا جانی 1 پڑا ہے غش میں حسینؑ غریب کا جانی منارے میں خونِ ظلم و جور کے پانی دمِ نماز جو چونکا یہ حیدرِ ثانی وضو کے واسطے اٹھ کر طلب کیا پانی جو پانی آیا تو منہ آنسوؤں سے دھونے لگے پھر نگاہوں میں بابا کی پیاس، رونے لگے 2 ترتیب کے دل نے کہا ہائے سیدِ خوش خو یہی تو ہے نہ مرا تین دن جو بہر وضو اسی کی چاہ میں کوثر کو چل دیئے عمرو اسی کی واسطے عمو کے کٹ گئے بازو یہی تو وہ ہے جو بے شیر نے نہ پایا تھا اسی کو مانگ کے گردوں پہ تیر کھایا تھا 3 عرض کم آئے مصلے پہ اور پڑھی وہ نماز کہ جس کے بعد تھی قدِ وصال ناز و نیاز ہر ایک ذکر طویل اور ہر اک سجود دراز پکارتا تھا یہ روحِ حسینؑ سجدہ نواز مجھے بھی ناز ہے جس پر یہی وہ طاعت ہے یہ آخری مرے سجادؑ کی عبادت ہے 4 ہوئی تمام جو آخر نمازِ جانِ رسولؐ دعا و حمد کے لب پر تھا حسنِ قبول دیا جو شکر کے سجدے کو حق کی یاد میں طول تو ایک عمر کا یاد آیا سجدۂ مقبول اٹھے جو روتے ہوئے تو سجدہ گہ سجادؑ کہا حسینؑ حسینؑ اور مر گئے سجادؑ 5 اٹھائی دوڑ کے باقرؑ نے لاش رو رو کر تمام بیبیاں ماتم میں پیٹنے لگیں سر تخت بنی ہاشم میں غل مچا گھر گھر اٹھا جہاں سے عزادارِ سبطِ پیغمبر چھٹا وہ آل سے جو آسرا تھا غربت کا بجھا چراغِ شبِ کربلا کی تربت کا 6 نبیؐ و حیدرؑ و زہرا کی روح ہے ناشاد حسینؑ کا ہے یہ نوحہ کہ ہائے اے سجادؑ بتولؑ کہتی ہیں رو رو کے یا خدا فریاد سگی دبر میں کیا کیا ستم گراں اولاد جفا سے قتل کیا جبر و قہر سے مارا مرے مریض کو ظالم نے زہر سے مارا پڑا ہے غش میں حسینؑ غریب کا جانی نسیم امروہوی

303

Jab Abid-e-be-kas ko payam-e-ajal aaya 1 Jab Abid-e-be-kas ko payam-e-ajal aaya Duniya-e-dagha-baz ki niyyat mein khalal aaya Wo zahr diya jis se sukun mein khalal aaya Manind-e-Hasan kat ke kaleja nikal aaya Zalim ne mariz-e-shab-e-dilgir ko mara Shimr ki tarah dilbar-e-Shabbir ko mara 2 Aulad-e-Payambar pe musibat ka ye din hai Pyase ke azadar ki rehlat ka ye din hai Mazlum ke dilbar ki shahadat ka ye din hai Ashur ke baad aur musibat ka ye din hai Is gham se jigar chak hai Zahra-o-Nabi ka Uthta hai azadar-e-Husain ibn-e-Ali ka 3 Wo zahr se dam-e-Abid nagin ka akarna Sajjad dil-figar ka Baqir se bichharna Bigri hui taqdir gharibon ki bigarna Ujra hua ghar-e-Fatima Zahra ka ujarna Darya hua darbar Wali ibn-e-Wali ka Bujhta hai chiragh aaj Husain ibn-e-Ali ka 4 Al-qissa wuzu kar ke musalle pe jab aaye Dahshat se badan kanp gaya ashk bahaye Sajjad phir sajde mein na aaye Pal pal gaya gardun jo lab-e-pak hilaye Awaz ye aai thi [ghair wazeh] ki bala ki Ye taat-e-akhir hai mere Zain-ul-Aba ki 5 Wo nisf-e-shab aur razi-e-taqdir ka sajda Nur-e-nazar-e-kushta-e-Shabbir ka sajda Paigham-e-ajal tha ke wo dilgir ka sajda Jis tarah kare Ashur ko Shabbir ka sajda Uthe jo musalle se to ghash karne lage Sajjad Haye mere Baba kaha aur mar gaye Sajjad Zahid Taqvi Zahid main yahan Nad-e-Ali parhta hun din mein Awaz pahunch jati hai Abbas Ali tak [Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab]
جب عابدؑ بے کس کو پیامِ اجل آیا 1 جب عابدؑ بے کس کو پیامِ اجل آیا دنیائے دغا باز کی نیت میں خلل آیا وہ زہر دیا جس سے سکوں میں خلل آیا مانندِ حسنؑ کٹ کے کلیجہ نکل آیا ظالم نے مریضِ شبِ دلگیر کو مارا شمر کی طرح دلبرِ شبیرؑ کو مارا 2 اولادِ پیمبرؐ پہ مصیبت کا یہ دن ہے پیاسے کے عزادار کی رحلت کا یہ دن ہے مظلوم کے دلبر کی شہادت کا یہ دن ہے عاشور کے بعد اور مصیبت کا یہ دن ہے اس غم سے جگر چاک ہے زہرا و نبیؐ کا اٹھتا ہے عزادارِ حسین ابنِ علیؑ کا 3 وہ زہر سے دمِ عابدؑ نگیں کا اکڑنا سجادؑ دل افگار کا باقرؑ سے بچھڑنا بگڑی ہوئی تقدیر غریبوں کی بگڑنا اجڑا ہوا گھرِ فاطمہ زہرا کا اجڑنا دریا ہوا دربار ولی ابنِ ولیؑ کا بجھتا ہے چراغ آج حسین ابنِ علیؑ کا 4 القصہ وضو کر کے مصلے پہ جب آئے دہشت سے بدن کانپ گیا اشک بہائے سجادؑ پھر سجدے میں نہ آئے پل پل گیا گردوں جو لب پاک ہلائے آواز یہ آئی تھی [غیر واضح] کی بلا کی یہ طاعتِ آخر ہے مرے زین العبا کی 5 وہ نصف شب اور راضیِ تقدیر کا سجدہ نورِ نظرِ کشتۂ شبیرؑ کا سجدہ پیغامِ اجل تھا کہ وہ دلگیر کا سجدہ جس طرح کرے عاشور کو شبیرؑ کا سجدہ اٹھے جو مصلے سے تو غش کرنے لگے سجادؑ ہے ہے مرے بابا کہا اور مر گئے سجادؑ زاہد تقوی زاہد میں یہاں نادِ علیؑ پڑھتا ہوں دن میں آواز پہنچ جاتی ہے عباسؑ علیؑ تک [التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب]

304

Bal bikhra den ghulaman-e-Rasul-e-do-jahan 1 Bal bikhra den ghulaman-e-Rasul-e-do-jahan Baqir-e-ilm ki rehlat ka sunata hun bayan Tha jo Zaid ibn-e-Hasan masnad-e-jad ka khwan Mil gaya ja ke Khalifa se shaqi-e-dauran Sham se khub ye saughat wo pur-fan laya Nazr ko zahr-bhare zin ka tausun laya 2 Jaise hi rakhsh pe aswar hue Shah-e-Zaman Asar-e-zahr se larzane laga gul sa badan Boli qismat ke nawase ko mila wirs-e-Hasan Dafatan kanp gaya Bint-e-Nabi ka madfan Aai awaz ke phir khasta-jigar ko luta Charkh ne phir mere Shabbir ke ghar ko luta 3 Zamin par zahr se utre to charhate pe qadam Bole Jafar se ke bachche ke nahin hain ab hum Kis ke ye ghar mein bacha hasrat hua wo hum Surat-e-Zainab-o-Kulsum tarapte the Haram Shor tha khalq se Maula-e-man jate hain Aaj phir Fatima ke ghar se Husain jate hain 4 Tire din jo kiya zahr ne had darja nidhal Bole ye Jafar-e-Sadiq se ke ay waris-e-Aal Azim-e-khuld hai ye Abd-e-Khuda, ay khush-khisal Ab zara jam-e-aram utha lo mere lal Ay chadar-e-kafan mujh ko pehnana beta Pas Baba ke meri qabr banana beta 5 Hashr barpa hai Madine mein qayamat hai qarib Baqir-e-ilm-e-Nabi ka dam-e-rehlat hai qarib Fatima pit-ti hain sar ko, wo afat hai qarib Ruh-e-Shabbir tarapti hai, shahadat hai qarib Kaaba rone ke liye Aal ke ghar aa pahuncha Asar-e-zahr-e-dagha ta-ba-jigar aa pahuncha
بال بکھرا دیں غلامانِ رسولِ دو جہاں 1 بال بکھرا دیں غلامانِ رسولِ دو جہاں باقرؑ علم کی رحلت کا سناتا ہوں بیاں تھا جو زید ابنِ حسن مسندِ جد کا خواں مل گیا جا کے خلیفہ سے شقی دوراں شام سے خوب یہ سوغات وہ پر فن لایا نذر کو زہر بھرے زین کا توسن لایا 2 جیسے ہی رخش پہ اسوار ہوئے شاہِ زمن اثرِ زہر سے لرزانے لگا گل سا بدن بولی قسمت کہ نواسے کو ملا ورثِ حسنؑ دفعتاً کانپ گیا بنتِ نبیؐ کا مدفن آئی آواز کہ پھر خستہ جگر کو لوٹا چرخ نے پھر مرے شبیرؑ کے گھر کو لوٹا 3 زمین پر زہر سے اترے تو چڑھاتے پہ قدم بولے جعفرؑ سے کہ بچے کے نہیں ہیں اب ہم کس کے یہ گھر میں بچا حسرت ہوا وہ ہم صورتِ زینبؑ و کلثومؑ تڑپتے تھے حرم شور تھا خلق سے مولاۓ من جاتے ہیں آج پھر فاطمہؑ کے گھر سے حسینؑ جاتے ہیں 4 تیرے دن جو کیا زہر نے حد درجہ نڈھال بولے یہ جعفرؑ صادقؑ سے کہ اے وارثِ آل عازمِ خلد ہے یہ عبدِ خدا، اے خوش خصال اب ذرا جامِ آرام اٹھالو مرے لال ای چادرِ کفن مجھ کو پہنانا بیٹا پاس بابا کے مری قبر بنانا بیٹا 5 حشر برپا ہے مدینے میں قیامت ہے قریب باقرؑ علمِ نبیؐ کا دمِ رحلت ہے قریب فاطمہؑ پیٹتی ہیں سر کو، وہ آفت ہے قریب روحِ شبیرؑ تڑپتی ہے، شہادت ہے قریب کعبہ رونے کے لئے آل کے گھر آ پہنچا اثرِ زہرِ دغا تا بہ جگر آ پہنچا

305

Bal bikhra den ghulaman-e-Rasul-e-do-jahan — jari 6 Madar-e-Jafar-e-Sadiq thin bikhre hue bal Bain karti thin, tarap kar Haram-e-nek-khisal Bibiyan deti thin har su dam-e-ranj-o-malal Rote the wo jinhein Ashura ka malum tha hal Pisar jo dete wo maqtal mein pyase sote the Tifl tak siliyon ke dar se nahin rote the 7 Dafn kar ke jo Baqi se phire Ahl-e-Aza Marqad-e-Hazrat Baqir se utha shor-e-buka Ro ke ye keh ke gaye mil ke Shabbir-o-bala Mere Asghar ke pahunchte hi teri gardan ke Khuda Asar-e-zulm-e-gale se ye ayan hai ab tak Rasan-e-zulm se chhilne ka nishan hai ab tak Hashr barpa hai Madine mein qayamat hai qarib 1 Hashr barpa hai Madine mein qayamat hai qarib Baqir-e-ilm-e-Nabi ka dam-e-rehlat hai qarib Fatima pit-ti hain sar ko, wo afat hai qarib Ruh-e-Shabbir tarapti hai, shahadat hai qarib Kaaba rone ke liye Aal ke ghar aa pahuncha Asar-e-zahr-e-dagha ta-ba-jigar aa pahuncha 2 Lo ye kaun aaye ke zurriyat ko dam ankhon mein laga Kis ki taslim ko ye hath utha Baqir ka Kaun ye Bibi hain karti hui ankhen jo buka Ghar mein sab rone lage, Aal mein kohram macha Shabbar-o-Haider-o-Zahra-o-Nabi rote hain Apne pote ko Husain ibn-e-Ali rote hain
بال بکھرا دیں غلامانِ رسولِ دو جہاں — جاری 6 مادرِ جعفر صادقؑ تھیں بکھرے ہوئے بال بین کرتی تھیں، تڑپ کر حرمِ نیک خصال بیبیاں دیتی تھیں ہر سو دمِ رنج و ملال روتے تھے وہ جنہیں عاشورا کا معلوم تھا حال پسر جو دیتے وہ مقتل میں پیاسے سوتے تھے طفل تک سیلیوں کے ڈر سے نہیں روتے تھے 7 دفن کر کے جو بقیع سے پھرے اہلِ عزا مرقدِ حضرت باقرؑ سے اٹھا شورِ بکا رو کے یہ کہہ کے گئے مل کے شبیرؑ و بلا میرے اصغرؑ کے پہنچتے ہی تری گردن کے خدا اثرِ ظلمِ گلے سے یہ عیاں ہے اب تک رسنِ ظلم سے چھلنے کا نشاں ہے اب تک حشر برپا ہے مدینے میں قیامت ہے قریب 1 حشر برپا ہے مدینے میں قیامت ہے قریب باقرؑ علمِ نبیؐ کا دمِ رحلت ہے قریب فاطمہؑ پیٹتی ہیں سر کو، وہ آفت ہے قریب روحِ شبیرؑ تڑپتی ہے، شہادت ہے قریب کعبہ رونے کے لئے آل کے گھر آ پہنچا اثرِ زہرِ دغا تا بہ جگر آ پہنچا 2 لو یہ کون آئے کہ زریت کو دم آنکھوں میں لگا کس کی تسلیم کو یہ ہاتھ اٹھا باقرؑ کا کون یہ بی بی ہیں کرتی ہوئی آنکھیں جو بکا گھر میں سب رونے لگے، آل میں کہرام مچا شبرؑ و حیدرؑ و زہرا و نبیؐ روتے ہیں اپنے پوتے کو حسین ابنِ علیؑ روتے ہیں

306

Hashr barpa hai Madine mein qayamat hai qarib — jari 3 Madar-e-Jafar-e-Sadiq thin bikhre hue bal Bain karti thin, tarap kar Haram-e-nek-khisal Bibiyan deti thin har su dam-e-ranj-o-malal Rote the wo jinhein Ashura ka malum tha hal Pisar jo dete wo maqtal mein pyase sote the Tifl tak siliyon ke dar se nahin rote the 4 Dafn kar ke jo Baqi se phire Ahl-e-Aza Marqad-e-Hazrat Baqir se utha shor-e-buka Ro ke ye keh ke gaye mil ke Shabbir-o-bala Mere Asghar ke pahunchte hi teri gardan ke Khuda Asar-e-zulm-e-gale se ye ayan hai ab tak Rasan-e-zulm se chhilne ka nishan hai ab tak Qaul-e-Sadiq hai sunen dil se ghulaman-e-Husain 1 Qaul-e-Sadiq hai sunen dil se ghulaman-e-Husain Jo bhi gham mein mere Dada ke kare shewan-o-shain Ya zilale ko parhe hali Imam Husain Ya ho surat se ye izhar ke dil hai bechain Ajr-e-irfan-e-imamat ye yaqinan samjhenge Mere Nana use Firdaus-e-Barin bakhshenge 2 Is riwayat ka Majlis mein hua jab charcha Ja baja hone lagi Majlis-e-Shabbir bapa Apni naqshon ko jahan chhorte the Ahl-e-Aza Baith jate the wahan chikh ke aa kar Maula Baba dekhiye bazm mein ghamkhwaron ki Saf karte hue ankhen, azadaron ki 3 In Majalis ke jo Mansur ko pahunche akhbar Jazba-e-qatl-e-Shah-e-Pak hua, phir bedar Talab agar aap the ek hujre mein aur chand Ansar Aag lagwa di wahan charon taraf se ek bar Par gaya ghul, phir Sahib-e-Meraj chala Haye ghar-e-Fatima teri bar aaj chala
حشر برپا ہے مدینے میں قیامت ہے قریب — جاری 3 مادرِ جعفر صادقؑ تھیں بکھرے ہوئے بال بین کرتی تھیں، تڑپ کر حرمِ نیک خصال بیبیاں دیتی تھیں ہر سو دمِ رنج و ملال روتے تھے وہ جنہیں عاشورا کا معلوم تھا حال پسر جو دیتے وہ مقتل میں پیاسے سوتے تھے طفل تک سیلیوں کے ڈر سے نہیں روتے تھے 4 دفن کر کے جو بقیع سے پھرے اہلِ عزا مرقدِ حضرت باقرؑ سے اٹھا شورِ بکا رو کے یہ کہہ کے گئے مل کے شبیرؑ و بلا میرے اصغرؑ کے پہنچتے ہی تری گردن کے خدا اثرِ ظلمِ گلے سے یہ عیاں ہے اب تک رسنِ ظلم سے چھلنے کا نشاں ہے اب تک قولِ صادقؑ ہے سنیں دل سے غلامانِ حسینؑ 1 قولِ صادقؑ ہے سنیں دل سے غلامانِ حسینؑ جو بھی غم میں مرے دادا کے کرے شیون و شین یا زلالے کو پڑھے حالی امام حسینؑ یا ہو صورت سے یہ اظہار کہ دل ہے بے چین اجرِ عرفانِ امامت یہ یقیناً سمجھیں گے میرے نانا اسے فردوسِ بریں بخشیں گے 2 اس روایت کا مجلس میں ہوا جب چرچا جا بجا ہونے لگی مجلسِ شبیرؑ بپا اپنی نقشوں کو جہاں چھوڑتے تھے اہلِ عزا بیٹھ جاتے تھے وہاں چیخ کے آ کر مولا بابا دیکھئے بزم میں غم خواروں کی صاف کرتے ہوئے آنکھیں، عزاداروں کی 3 ان مجالس کے جو منصور کو پہنچے اخبار جذبۂ قتلِ شہؑ پاک ہوا، پھر بیدار طلب اگر آپ تھے اک حجرے میں اور چند انصار آگ لگوا دی وہاں چاروں طرف سے اک بار پر گیا غل، پھر صاحبِ معراج چلا ہائے گھرِ فاطمہؑ تیری بار آج چلا

307

Qaul-e-Sadiq hai sunen dil se ghulaman-e-Husain — jari 4 Aag bujh jane ki hakim ne khabar jab suni Mushtail atish-e-bughz aur hui aur honi Shahr ko ek aur kam-abadi ki dali baithi Chand dane jo kiye nosh qayamat aai Khun ke sath ragon mein sifat mil gaya Gul-badan mein asar-e-zahr-e-dagha phail gaya 5 Sab azizon ko kiya bahr-e-wasiyat jo talab Naza ka waqt tha manzar dekh ke rone lage sab Shah ne farmaya ke hum khalq se jane ko hain ab Tum ko mahfuz rahe taat-e-Khaliq ka adab Bas yahi sab ki muawin sar-e-mahshar hogi Ye taqwa ki to shafaat na mayassar hogi 6 Dusre ye ke rahe yaad mere jad ki aza Shimr ke gham mein bhi khol ke rote rehna Dekh kar Musa Kazim ki taraf phir ye kaha Al-firaq ay mere dildar, Khuda ko saunpa Lo Batul aain, Rasul-us-Saqalain aa pahunche Wo Ali aaye, wo Shabbar, wo Husain aa pahunche 7 Assalam ay mere Nana mere Dada pe fida Assalam ay meri Dadi jigar-khez wara Assalam ay hadaf-e-gham-e-Husain Sibt-e-Khuda Assalam ay Shah-e-Mazlum, Gharib-ul-Ghuraba Keh ke ye uth gaye duniya se hamare Jafar Haye Shabbir kaha, aur sidhare Jafar 8 Fatima ro ke pukarin: mere pyare bete Baat bhi karne na paye ke sidhare bete Tha mere lal ka gham, dam se tumhare bete Majlisein hongi yahan kis ke sahare bete Lo Arsh aata hai sambhalo mujhe sone wale Alwida ay mere Mazlum ke rone wale
قولِ صادقؑ ہے سنیں دل سے غلامانِ حسینؑ — جاری 4 آگ بجھ جانے کی حاکم نے خبر جب سنی مشتعل آتشِ بغض اور ہوئی اور ہونی شہر کو اک اور کم آبادی کی ڈالی بیٹھی چند دانے جو کئے نوش قیامت آئی خون کے ساتھ رگوں میں صفت مل گیا گل بدن میں اثرِ زہر دغا پھیل گیا 5 سب عزیزوں کو کیا بہرِ وصیت جو طلب نزع کا وقت تھا منظر دیکھ کے رونے لگے سب شہؑ نے فرمایا کہ ہم خلق سے جانے کو ہیں اب تم کو محفوظ رہے طاعتِ خالق کا ادب بس یہی سب کی معاون سرِ محشر ہوگی یہ تقویٰ کی تو شفاعت نہ میسر ہوگی 6 دوسرے یہ کہ رہے یاد مرے جد کی عزا شمر کے غم میں بھی کھول کے روتے رہنا دیکھ کر موسیٰ کاظمؑ کی طرف پھر یہ کہا الفراق اے مرے دلدار، خدا کو سونپا لو بتولؑ آئیں، رسولؐ الثقلین آ پہنچے وہ علیؑ آئے، وہ شبرؑ، وہ حسینؑ آ پہنچے 7 السلام اے مرے نانا مرے دادا پہ فدا السلام اے مری دادی جگر خیز ورا السلام اے ہدفِ غمِ حسینؑ سبطِ خدا السلام اے شہِ مظلوم، غریب الغربا کہہ کے یہ اٹھ گئے دنیا سے ہمارے جعفرؑ ہائے شبیرؑ کہا، اور سدھارے جعفرؑ 8 فاطمہؑ رو کے پکاریں: مرے پیارے بیٹے بات بھی کرنے نہ پائے کہ سدھارے بیٹے تھا مرے لال کا غم، دم سے تمہارے بیٹے مجلسیں ہوں گی یہاں کس کے سہارے بیٹے لو عرش آتا ہے سنبھالو مجھے سونے والے الوداع اے مرے مظلوم کے رونے والے

308

Qatl-e-Kazim ka diya hukm jo Abbasi ne 1 Qatl-e-Kazim ka diya hukm jo Abbasi ne Sar khule Rauza-e-Aqdas se Payambar nikle Murtaza aaye tarap kar Najaf-e-Ashraf se Bal bikhraye Khalifa ke mahal mein pahunche Khwab mein us ne Shab-e-Uqda-kusha ko dekha Aur rote hue Mahbub-e-Khuda ko dekha 2 Nim-khwabi mein Muhammad ki suni ye faryad Kya yahi meri risalat ka sila hai jallad Ho chuka zulm se ummat ke mera ghar barbad Kab talak aakhir ye sitam jhelegi meri aulad Riyatein sare zamane ki, zamane ke liye Reh gayi Aal meri thokaren khane ke liye 3 Zulm kya kya meri Zahra pe hua, sabr kiya Par ye Haider ke chali tegh-e-jafa, sabr kiya Mere Shabbar ko diya zahr-e-dagha, sabr kiya Mere Shabbir ka sar kat liya, sabr kiya Kya isi ajr ke qabil thi hidayat meri Sar-e-bazar phirai gayi Itrat meri 4 Tang-o-tarik wo hujra, wo Muhammad ka qamar Roshni ka na jahan dakhl, hawa ka na guzar Basti hoti thi na Sham aur na aati thi sahar Gulshan-e-Sham ke zindan-e-juda se barh kar Wan sitam chand giraftaron pe dhate the Yahan sab ek hi qaidi pe sitam dhate the 5 Be-kasi un ki raqam karte hain yun Ibn-e-Hajar Zahr Baghdad se mara gaya jaan-e-Shabbar Tin din farsh pe tarpa ye Muhammad ka jigar Beriyan pehne hue qaid se nikla mar kar Ghar ko baithe rahe dafn ko hamal aaye Haye Baghdad ye lashe ko yunhi dal aaye 6 Aur bhi hukm sitamgar se farmaya ye ghazab Ek takhte pe rakha lasha-e-Sultan-e-Arab Khinchte phirte rahe kocha kocha use jab Fatima ro ke pukarin ye ba-sad ranj-o-taab Haye tarik hai ab sara jahan nazron mein Phir gaya lasha-e-Muslim ka saman nazron mein
قتلِ کاظمؑ کا دیا حکم جو عباسی نے 1 قتلِ کاظمؑ کا دیا حکم جو عباسی نے سر کھلے روضۂ اقدس سے پیمبرؐ نکلے مرتضیٰؑ آئے تڑپ کر نجفِ اشرف سے بال بکھرائے خلیفہ کے محل میں پہنچے خواب میں اس نے شبِ عقدہ کشا کو دیکھا اور روتے ہوئے محبوبِ خدا کو دیکھا 2 نیم خوابی میں محمدؐ کی سنی یہ فریاد کیا یہی میری رسالت کا صلہ ہے جلاد ہو چکا ظلم سے امت کے مرا گھر برباد کب تک آخر یہ ستم جھیلے گی میری اولاد رایتیں سارے زمانے کی، زمانے کے لئے رہ گئی آل مری ٹھوکریں کھانے کے لئے 3 ظلم کیا کیا مری زہرا پہ ہوا، صبر کیا پر یہ حیدر کے چلی تیغِ جفا، صبر کیا میرے شبرؑ کو دیا زہرِ دغا، صبر کیا میرے شبیرؑ کا سر کاٹ لیا، صبر کیا کیا اسی اجر کے قابل تھی ہدایت میری سرِ بازار پھرائی گئی عترت میری 4 تنگ و تاریک وہ حجرہ، وہ محمدؐ کا قمر روشنی کا نہ جہاں دخل، ہوا کا نہ گزر بستی ہوتی تھی نہ شام اور نہ آتی تھی سحر گلشنِ شام کے زنداں جدا سے بڑھ کر واں ستم چند گرفتاروں پہ ڈھاتے تھے یہاں سب ایک ہی قیدی پہ ستم ڈھاتے تھے 5 بے کسی ان کی رقم کرتے ہیں یوں ابن حجر زہر بغداد سے مارا گیا جانِ شبر تین دن فرش پہ تڑپا یہ محمدؐ کا جگر بیڑیاں پہنے ہوئے قید سے نکلا مر کر گھر کو بیٹھے رہے دفن کو حمل آئے ہائے بغداد یہ لاشے کو یوں ہی ڈال آئے 6 اور بھی حکم ستمگار سے فرمایا یہ غضب ایک تختے پہ رکھا لاشۂ سلطانِ عرب کھینچتے پھرتے رہے کوچہ کوچہ اسے جب فاطمہؑ رو کے پکاریں یہ بصد رنج و تعب ہائے تاریک ہے اب سارا جہاں نظروں میں پھر گیا لاشۂ مسلمؑ کا سماں نظروں میں

309

Qatl-e-Kazim ka diya hukm jo Abbasi ne — jari 7 Shor-e-ghul sun ke Sulaiman mahal se nikla Hal tab Musa Kazim ki shahadat ka suna Apne beton ko nida di ke are sakte ho kya Chhin lo lasha-e-Maula ko Gharib-ul-Ghuraba Jaan par khel ke tab us ke jigarbandon ne Le liya Kazim ka tabut ko farzandon ne 8 Shahr jo tut pare bhai gaye dushman-e-Arab Ki Sulaiman ne munadi ke ghayuran-e-Arab Haye mara gaya wo Shah ba-sad ranj-o-taab Jis ke Nana hain Nabi, Musa Kazim hai laqab Sun ke ye aahon ke nare se gharon se nikle Sar khule shahr ke azadar gharon se nikle 9 Ghusl-e-mayyat ko jo takhte pe utare gaye Shah Zer-e-beriyan thi zindan ki takhti hamrah Paye wo tauq-e-giran aur wo zanjiren aah Jism-e-murda ke ye zewar hain shaqawat ke gawah Log kehte the Musalman wo shaqi kaisa hai Jis ne zanjiron mein lashe ko jakar rakha hai 10 Lash turbat mein utari to ba-sad shewan-o-shain Kisi Bibi ne kaha haye mere nur-e-ain Us ko dekha na kisi ne bhi, sab ne ye yaqin Ay mere Kazim-e-Mazlum, azadar-e-Husain Yaad mein pyason ki munh ashkon se dhone wale Alwida ay mere Shabbir ke rone wale
قتلِ کاظمؑ کا دیا حکم جو عباسی نے — جاری 7 شورِ غل سن کے سلیمان محل سے نکلا حال تب موسیٰ کاظمؑ کی شہادت کا سنا اپنے بیٹوں کو ندا دی کہ ارے سکتے ہو کیا چھین لو لاشۂ مولا کو غریب الغربا جان پر کھیل کے تب اُس کے جگر بندوں نے لے لیا کاظمؑ کا تابوت کو فرزندوں نے 8 شہر جو ٹوٹ پڑے بھائی گئے دشمنِ عرب کی سلیمان نے منادی کہ غیورانِ عرب ہائے مارا گیا وہ شاہ بصد رنج و تعب جس کے نانا ہیں نبیؐ، موسیٰ کاظمؑ ہے لقب سن کے یہ آہوں کے نعرے سے گھروں سے نکلے سر کھلے شہر کے عزادار گھروں سے نکلے 9 غسلِ میت کو جو تختے پہ اتارے گئے شاہ زیرِ بیڑیاں تھی زندان کی تختی ہمراہ پائے وہ طوق گراں اور وہ زنجیریں آہ جسمِ مردہ کے یہ زیور ہیں شقاوت کے گواہ لوگ کہتے تھے مسلماں وہ شقی کیسا ہے جس نے زنجیروں میں لاشے کو جکڑ رکھا ہے 10 لاش تربت میں اتاری تو بصد شیون و شین کسی بی بی نے کہا ہائے مرے نورِ عین اس کو دیکھا نہ کسی نے بھی، سب نے یہ یقیں اے مرے کاظمؑ مظلوم، عزادار حسینؑ یاد میں پیاسوں کی منہ اشکوں سے دھونے والے الوداع اے مرے شبیرؑ کے رونے والے

310

Waris-e-Sabir-o-Shakir the jo razi ba-raza 1 Waris-e-Sabir-o-Shakir the jo razi ba-raza Maut se the na harasan, na gham-e-zahr-e-jafa Phir bhi ehsas-e-ghurbat ke ajab alam tha Yaad aata tha gharib-ul-watan mein kya kya Kabhi Shabbir ke rauze pe nazar jati thi Kan mein haye Husaina ki sada aati thi 2 Kabhi Dada ke Najaf mein tha kaleja pe malal Kabhi Dadi ke Baqi ki judai mein nidhal Kabhi Baghdad mein Baba ki lahad par be-hal Kabhi rauze se Payambar ke bichharne ka malal Dar-o-diwar Madina kabhi yaad aate hain Haye Nana ka watan keh ke tarap jate hain 3 Shakl dekhi thi na parde mein jis bete ki Us ki taswir bhi reh reh ke jhalakti thi Dil mein arman the, nigahon mein gham-e-mazi Mayyat-e-Shabbar ke qarib aur bahut dur Taqi Yaad farzand-e-dil-zar ko har aati thi Jaise Sughra Shah-e-Mazlum ko yaad aati thi 4 Wahan aata tha kabhi karb mein us khwahar ka Surat-e-Zainab-e-Kubra thi jo bhai pe fida Sochte the ke wo hote to ye un se kehta [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Sarparast us ki tumhi meri jagah par ab ho [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 5 In khayalat-e-gham-angez mein paiham jo ghar se Ashk ankhon se bahe, rish-e-mubarak pe gire Kufa-o-Sham ke bazar nigahon mein phire Maut ne tham liye tar-e-rag-e-jaan ke sire Chal base Kazim-e-hasti se hamare Maula Gham ko rote hue duniya se sidhare Maula 6 Yan hua Fatima ka lal Muharram mein masmum Aur wahan kab se Madine mein bahen thi maghmum Go azizon mein hua zahir ka talluq madum Dil ko ho jata hai sab hal kahin se malum Muztarib thi gham-e-furqat ke safine mein bahen Tus mein bhai tarapta tha, Madine mein bahen Waris-e-Sabir-o-Shakir the jo razi ba-raza Nasim Amrohvi
وارثِ صابر و شاکر تھے جو راضی بہ رضا 1 وارثِ صابر و شاکر تھے جو راضی بہ رضا موت سے تھے نہ ہراساں، نہ غمِ زہرِ جفا پھر بھی احساسِ غربت کے عجب عالم تھا یاد آتا تھا غریب الوطن میں کیا کیا کبھی شبیرؑ کے روضے پہ نظر جاتی تھی کان میں ہائے حسینا کی صدا آتی تھی 2 کبھی دادا کے نجف میں تھا کلیجہ پہ ملال کبھی دادی کے بقیع کی جدائی میں نڈھال کبھی بغداد میں بابا کی لحد پر بے حال کبھی روضے سے پیمبرؐ کے بچھڑنے کا ملال در و دیوار مدینہ کبھی یاد آتے ہیں ہائے نانا کا وطن کہہ کے تڑپ جاتے ہیں 3 شکل دیکھی تھی نہ پردے میں جس بیٹے کی اس کی تصویر بھی رہ رہ کے جھلکتی تھی دل میں ارمان تھے، نگاہوں میں غمِ ماضی میتِ شبرؑ کے قریب اور بہت دور تقیؑ یاد فرزندِ دل زار کو ہر آتی تھی جیسے صغرا شہِ مظلوم کو یاد آتی تھی 4 وہاں آتا تھا کبھی کرب میں اُس خواہر کا صورتِ زینب کبریٰ تھی جو بھائی پہ فدا سوچتے تھے کہ وہ ہوتے تو یہ ان سے کہتا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] سرپرست اس کی تمہی میری جگہ پر اب ہو [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 5 ان خیالاتِ غم انگیز میں پیہم جو گھر سے اشک آنکھوں سے بہے، ریشِ مبارک پہ گرے کوفہ و شام کے بازار نگاہوں میں پھرے موت نے تھام لئے تارِ رگِ جاں کے سرے چل بسے کاظمِ ہستی سے ہمارے مولا غم کو روتے ہوئے دنیا سے سدھارے مولا 6 یاں ہوا فاطمہؑ کا لال محرم میں مسموم اور وہاں کب سے مدینے میں بہن تھی مغموم گو عزیزوں میں ہوا ظاہر کا تعلق معدوم دل کو ہوجاتا ہے سب حال کہیں سے معلوم مضطرب تھی غمِ فرقت کے سفینے میں بہن طوس میں بھائی تڑپتا تھا، مدینے میں بہن وارثِ صابر و شاکر تھے جو راضی بہ رضا نسیم امروہوی

311

Tha wohi alam-e-ghurbat mein Raza ka alam 1 Tha wohi alam-e-ghurbat mein Raza ka alam Karbala mein jo Shah-e-Karb-o-bala ka alam Wohi taslim, wohi sabr-o-raza ka alam Wohi tasbih, wohi zikr-e-Khuda ka alam Naqsh-e-Tauhid ko is tarah mitaya jaye Zahr aur Saqi-e-Kausar ko pilaya jaye 2 Go bahut dur watan se the Husain ibn-e-Ali Tha na ghamkhwar bhi un ka dam-e-akhir koi Rone wale to magar un ke the maujud kai Sar khule hi sabhi maqtal mein bahen thi to sahi Tha yaqin gham mein meri jaan ko khoyegi bahen Fatima lash pe aur matam pe royegi bahen 3 Kushta-e-zahr zamane mein Hasan bhi the magar Naza mein zanu-e-Shabbir pe tha un ka sar Bahnein taskin ko maujud, tasalli ko pisar Apne sab Ahl-e-Watan, apne aziz, apna ghar Yan watan dur, bahen hai na koi bhai hai Naza ka waqt hai aur alam-e-tanhai hai 4 In khayalat-e-gham-angez mein paiham jo ghar se Ashk ankhon se bahe, rish-e-mubarak pe gire Kufa-o-Sham ke bazar nigahon mein phire Maut ne tham liye tar-e-rag-e-jaan ke sire Chal base Kazim-e-hasti se hamare Maula Gham ko rote hue duniya se sidhare Maula Tha wohi alam-e-ghurbat mein Raza ka alam
تھا وہی عالمِ غربت میں رضاؑ کا عالم 1 تھا وہی عالمِ غربت میں رضاؑ کا عالم کربلا میں جو شہِ کرب و بلا کا عالم وہی تسلیم، وہی صبر و رضا کا عالم وہی تسبیح، وہی ذکرِ خدا کا عالم نقشِ توحید کو اس طرح مٹایا جائے زہر اور ساقیِ کوثر کو پلایا جائے 2 گو بہت دور وطن سے تھے حسین ابنِ علیؑ تھا نہ غم خوار بھی ان کا دمِ آخر کوئی رونے والے تو مگر ان کے تھے موجود کئی سر کھلے ہی سبھی مقتل میں بہن تھی تو سہی تھا یقین غم میں مرے جان کو کھوئے گی بہن فاطمہؑ لاش پہ اور ماتم پہ روئے گی بہن 3 کشتۂ زہر زمانے میں حسنؑ بھی تھے مگر نزع میں زانوئے شبیرؑ پہ تھا ان کا سر بہنیں تسکین کو موجود، تسلی کو پسر اپنے سب اہلِ وطن، اپنے عزیز، اپنا گھر یاں وطن دور، بہن ہے نہ کوئی بھائی ہے نزع کا وقت ہے اور عالمِ تنہائی ہے 4 ان خیالاتِ غم انگیز میں پیہم جو گھر سے اشک آنکھوں سے بہے، ریشِ مبارک پہ گرے کوفہ و شام کے بازار نگاہوں میں پھرے موت نے تھام لئے تارِ رگِ جاں کے سرے چل بسے کاظمِ ہستی سے ہمارے مولا غم کو روتے ہوئے دنیا سے سدھارے مولا تھا وہی عالم غربت میں رضاؑ کا عالم

312

Qaid mein Maula Taqi Sham-o-sahar rote the 1 Qaid mein Maula Taqi Sham-o-sahar rote the Rote bhi the nigahban, magar rote the Yaad-e-Shabbir mein jab pit ke sar rote the Dar-o-diwar ka [lafz ghair wazeh] tha, jigar rote the Marte marte bhi zaban par Shah-e-Mazlum hi rahe Mayyat qabr mein Abid ke barabar hi rahe 2 Un ke rone se hazaron ka jigar narm hua Mutasim pehle hi jalta tha, par ab aur jala Mahal ke darban se aakhir wo unhein zahr diya Jis ke pite hi kaleje mein gira tir-e-qaza Kuchh wasiyat ke bhi likhne ki na muhlat pai Qaid mein Waris-e-Kazim ne shahadat pai 3 Kaun zindan mein apna tha jo un ko rota Be-kasi lash-e-Mazlum pe karti thi buka Go buzurg aap ke Firdaus mein karte the aza Ek Bibi ki yahan aati thi pur-dard sada Lash par rone ko beta, na koi bhai hai Haye bachche, tujhe ghurbat mein ajal aai hai 4 Yan na madar hai, na Dadi hai, na beti, na bahen Lash ko dhankne wala na koi mard na zan Ab ye zindan ke nigahban ka hai dil [ghair wazeh] Tha wo tifl-e-Madani jis ne diya ghusl-o-kafan Sab ne dekha ke wo pit ke sar rota hai Jis tarah bap ke matam mein pisar rota hai 5 Qabr-e-Athar mein utari gayi jab nash-e-Imam Nur se ho gayi roshan lahad-e-Pak tamam Phir kiya ro ke kahin se isi Bibi ne kalam Rone wale mere Shabbir ke, tujh par ho salam Khuld se sare buzurgon ko yahan lai hai Dafn karne teri mayyat ko Batul aai hai Qaid mein Maula Taqi Sham-o-sahar rote the Nasim Amrohvi (Bashukriya naat-o-salam khwan Syed Irshad Ali) Barq Zaidi Taqsim ki gayi hai zakat us ke nur ki Sare jahan charkh ke bhi khandan mein
قید میں مولا تقیؑ شام و سحر روتے تھے 1 قید میں مولا تقیؑ شام و سحر روتے تھے روتے بھی تھے نگہباں، مگر روتے تھے یادِ شبیرؑ میں جب پیٹ کے سر روتے تھے در و دیوار کا [لفظ غیر واضح] تھا، جگر روتے تھے مرتے مرتے بھی زباں پر شہِ مظلوم ہی رہے میت قبر میں عابدؑ کے برابر ہی رہے 2 ان کے رونے سے ہزاروں کا جگر نرم ہوا معتصم پہلے ہی جلتا تھا، پر اب اور جلا محل کے دربان سے آخر وہ انہیں زہر دیا جس کے پیتے ہی کلیجے میں گرا تیرِ قضا کچھ وصیت کے بھی لکھنے کی نہ مہلت پائی قید میں وارثِ کاظمؑ نے شہادت پائی 3 کون زندان میں اپنا تھا جو ان کو روتا بے کسی لاشِ مظلوم پہ کرتی تھی بکا گو بزرگ آپ کے فردوس میں کرتے تھے عزا ایک بی بی کی یہاں آتی تھی پُردرد صدا لاش پر رونے کو بیٹا، نہ کوئی بھائی ہے ہائے بچے، تجھے غربت میں اجل آئی ہے 4 یاں نہ مادر ہے، نہ دادی ہے، نہ بیٹی، نہ بہن لاش کو ڈھانکنے والا نہ کوئی مرد نہ زن اب یہ زندان کے نگہباں کا ہے دل [غیر واضح] تھا وہ طفلِ مدنی جس نے دیا غسل و کفن سب نے دیکھا کہ وہ پیٹ کے سر روتا ہے جس طرح باپ کے ماتم میں پسر روتا ہے 5 قبرِ اطہر میں اتاری گئی جب نعشِ امام نور سے ہوگئی روشن لحدِ پاک تمام پھر کیا رو کے کہیں سے اسی بی بی نے کلام رونے والے مرے شبیرؑ کے، تجھ پر ہو سلام خلد سے سارے بزرگوں کو یہاں لائی ہے دفن کرنے تری میت کو بتولؑ آئی ہے قید میں مولا تقیؑ شام و سحر روتے تھے نسیم امروہوی (بشکریہ نعت و سلام خواں سید ارشاد علی) برق زیدی تقسیم کی گئی ہے زکوٰۃ اُس کے نور کی سارے جہان چرخ کے بھی خاندان میں

313

Qaid ho kar jo chale Shahr-e-Madina se Taqi 1 Qaid ho kar jo chale Shahr-e-Madina se Taqi Zalimon ko tha ye dar, rah mein roke na koi Le chale bandh ke zanjiron mein jaldi jaldi Jad ke rauze pe ye kehne ki bhi fursat na mili Dushman-e-jaan hui be-wajah Khudai Nana Zulm to dekhiye ummat ki duhai Nana 2 Rauza-e-qalb-e-Payambar ki lahad se guzre Pas se dekhte Shabbar ki lahad se guzre Ro diye Abid-e-Muzaffar ki lahad se guzre Aah ki Baqir-o-Jafar ki lahad se guzre Aakhri bar ziyarat ki ijazat na mili In mazaron se bhi rukhsat ki ijazat na mili 3 Tha wo din, aaj ka mahina, ke hua jab ye sitam Gham ye tha ab ki Muharram mein kahan honge hum Qaid mein bazm bapa kar ke manayenge jo gham Tauq gardan mein hai, kis tarah karenge matam Ye Taqi Allah hamein rone pe iza denge Apne Dada ko to har hal mein pursa denge 4 Rah mein the ke Haram ka para chand nazar Dil pe wo chot lagi Shimr ka jaise khanjar Aa gaya yaad wo Mazlum, wo kamsin, wo safar Dekh kar chand wo Sabir ki dua ro ro kar Rah mein apni ye taufiq ata kar Ya Rab Mujhe ye qurban ho, pehle mera Akbar Ya Rab 5 Rote rote kabhi barhti thi jawan ki [ghair wazeh] Jag uthte the gham-angez sada sun ke shaqi Zulm dhate the kuchh is ka ke tarapte the Taqi Taziyanon se kabhi aur sinanon se kabhi Har sitam zulm ye sab Shabih-e-gham sehta tha Ankh se ashk to pahlu se lahu behta tha 6 Raste bhar yunhi karte hue Mazlum ko yaad Thi Haram ki nawin jagah, ye pahunche Baghdad Tang zindan mein hue qaid misal-e-Sajjad Aai Zahra ki sada: mere Taqi faryad Main tere sath hun, kal Sham ko phir aaungi Karbala mein bhi, Baghdad mein reh jaungi Qaid ho kar jo chale Shahr-e-Madina se Taqi
قید ہو کر جو چلے شہرِ مدینہ سے تقیؑ 1 قید ہو کر جو چلے شہرِ مدینہ سے تقیؑ ظالموں کو تھا یہ ڈر، راہ میں روکے نہ کوئی لے چلے باندھ کے زنجیروں میں جلدی جلدی جد کے روضے پہ یہ کہنے کی بھی فرصت نہ ملی دشمنِ جاں ہوئی بے وجہ خدائی نانا ظلم تو دیکھئے امت کی دہائی نانا 2 روضۂ قلبِ پیمبر کی لحد سے گزرے پاس سے دیکھتے شبرؑ کی لحد سے گزرے رو دیئے عابدِ مظفر کی لحد سے گزرے آہ کی باقرؑ و جعفرؑ کی لحد سے گزرے آخری بار زیارت کی اجازت نہ ملی ان مزاروں سے بھی رخصت کی اجازت نہ ملی 3 تھا وہ دن، آج کا مہینہ، کہ ہوا جب یہ ستم غم یہ تھا اب کی محرم میں کہاں ہوں گے ہم قید میں بزم بپا کر کے منائیں گے جو غم طوق گردن میں ہے، کس طرح کریں گے ماتم یہ تقیؑ اللہ ہمیں رونے پہ ایذا دیں گے اپنے دادا کو تو ہر حال میں پرسہ دیں گے 4 راہ میں تھے کہ حرم کا پڑا چاند نظر دل پہ وہ چوٹ لگی شمر کا جیسے خنجر آگیا یاد وہ مظلوم، وہ کمسن، وہ سفر دیکھ کر چاند وہ صابر کی دعا رو رو کر راہ میں اپنی یہ توفیق عطا کر یارب مجھے یہ قربان ہو، پہلے مرا اکبر یارب 5 روتے روتے کبھی بڑھتی تھی جوان کی [غیر واضح] جاگ اٹھتے تھے غم انگیز صدا سن کے شقی ظلم ڈھاتے تھے کچھ اس کا کہ تڑپتے تھے تقیؑ تازیانوں سے کبھی اور سنانوں سے کبھی ہر ستم ظلم یہ سب شبیہِ غم سہتا تھا آنکھ سے اشک تو پہلو سے لہو بہتا تھا 6 راستے بھر یوں ہی کرتے ہوئے مظلوم کو یاد تھی حرم کی نویں جگہ، یہ پہنچے بغداد تنگ زنداں میں ہوئے قید مثالِ سجادؑ آئی زہرا کی صدا: مرے تقیؑ فریاد میں تیرے ساتھ ہوں، کل شام کو پھر آؤں گی کربلا میں بھی، بغداد میں رہ جاؤں گی قید ہو کر جو چلے شہر مدینہ سے تقیؑ

314

Qaid ho kar jo chale Shahr-e-Madina se Taqi — jari 7 Shab-e-Ashur thi, wo farz thi shab-bedari Raat bhar ashk rahe dida-e-tar se jari Tha kabhi pyason ka matam, kabhi zikr-e-Bari Yaad-e-Mazlum mein wo raat basar ki sari Subh jab suye falak ankh utha ke dekha [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] 8 Is qadar roye ke ashkon se musalla hua tar Karbalai ke khayal aate rahe phir din bhar Al-atash kehti hai wo char baras ki dukhtar Jaan-ba-lab pyas se phule mein hai Saqqa-e-safar Yaad-e-Asghar mein jo kha kha ke pachharen roye Ro diye ghair bhi jab mar ke dharen roye 9 Kaun zindan mein apna tha jo un ko rota Be-kasi lash-e-Mazlum pe karti thi buka Uth Masum to Firdaus mein the mahv-e-aza Ek Bibi ki yahan aati thi pur-dard sada Lash par rone ko beta, na koi bhai hai Haye bachche, tujhe ghurbat mein ajal aai hai Kaun sa zulm tha jo Maula Naqi ne na saha 1 Kaun sa zulm tha jo Maula Naqi ne na saha Bad-dua dil mein [ghair wazeh] ko kiya Ek dil-sang Khalifa ne magar kya Haye Mazlum ko pani na diya, zahr diya Yas is dam koi hamdard na shaidai tha Be-kasi mein ajab alam-e-tanhai tha 2 Askari rote the zanu pe rakhe bap ka sar Bahr-e-imdad baradar tha na koi khwahar Karbala aise mein aa jati thi jab pesh-e-nazar Dil se aati thi ye awaz, wo jangal tha magar Gor mein farq-e-manzar hai yahan Baba ka Tha wahan chalti hui ret, ye sar-e-Dada ka 3 Yan abhi main ne pilaya tha pidar ko pani Tin din se wahan pyasa tha Nabi ka jani Yan mayassar hai kafan, dafn mein hai asani Haye be-gor-o-kafan lash wahan uryani Para-e-dil se yahan ashk bahane ke liye Wan tha bimar par qaid mein jane ke liye
قید ہو کر جو چلے شہرِ مدینہ سے تقیؑ — جاری 7 شبِ عاشور تھی، وہ فرض تھی شب بیداری رات بھر اشک رہے دیدۂ تر سے جاری تھا کبھی پیاسوں کا ماتم، کبھی ذکرِ باری یادِ مظلوم میں وہ رات بسر کی ساری صبح جب سوئے فلک آنکھ اٹھا کے دیکھا [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] 8 اس قدر روئے کہ اشکوں سے مصلی ہوا تر کربلائی کے خیال آتے رہے پھر دن بھر العطش کہتی ہے وہ چار برس کی دختر جان بلب پیاس سے پھولے میں ہے سقائے سفر یادِ اصغرؑ میں جو کھا کھا کے پچھاڑیں روئے رو دیئے غیر بھی جب مار کے دھاڑیں روئے 9 کون زندان میں اپنا تھا جو ان کو روتا بے کسی لاشِ مظلوم پہ کرتی تھی بکا اٹھ معصوم تو فردوس میں تھے محوِ عزا ایک بی بی کی یہاں آتی تھی پُردرد صدا لاش پر رونے کو بیٹا، نہ کوئی بھائی ہے ہائے بچے، تجھے غربت میں اجل آئی ہے کون سا ظلم تھا جو مولا نقیؑ نے نہ سہا 1 کون سا ظلم تھا جو مولا نقیؑ نے نہ سہا بد دعا دل میں [غیر واضح] کو کیا ایک دل سنگ خلیفہ نے مگر کیا ہائے مظلوم کو پانی نہ دیا، زہر دیا یاس اس دم کوئی ہمدرد نہ شیدائی تھا بے کسی میں عجب عالمِ تنہائی تھا 2 عسکریؑ روتے تھے زانو پہ رکھے باپ کا سر بہرِ امداد برادر تھا نہ کوئی خواہر کربلا ایسے میں آ جاتی تھی جب پیشِ نظر دل سے آتی تھی یہ آواز، وہ جنگل تھا مگر گور میں فرقِ منظر ہے یہاں بابا کا تھا وہاں چلتی ہوئی ریت، یہ سرِ دادا کا 3 یاں ابھی میں نے پلایا تھا پدر کو پانی تین دن سے وہاں پیاسا تھا نبیؐ کا جانی یاں میسر ہے کفن، دفن میں ہے آسانی ہائے بے گور و کفن لاش وہاں عریانی پارۂ دل سے یہاں اشک بہانے کے لئے واں تھا بیمار پر قید میں جانے کے لئے

315

Kaun sa zulm tha jo Maula Naqi ne na saha — jari 4 Ibn-e-Manazir ke qusur mein ye the mahv-e-buka Nigahban bole ye ghar ke hamare Maula Bahr-e-tazim uthao, mujhe ay mah-liqa Khuld se laye hain tashrif Rasul-o-Zahra Sath Zahra ke Shah-e-Badr-o-Hunain aaye hain Mere lene ko Hasan aur Husain aaye hain 5 Phir utha kar sar ba-zor pukare ye Imam Mere Nana, mere Dada, meri Dadi ko salam Keh ke ye gir gaye takiya pe jo Maula-e-Anam Askari rone tarapne lage, arwah-e-kiram Pursa deta tha na koi, na gale milta tha Bachpan rote the aur Arsh-e-Khuda hilta tha 6 Fatima karti thin ye bain tarap kar har bar Mere Shabbar ke pote, teri ghurbat ke nisar Misl-e-Shabbar ke jo tera hai tan-e-zar-o-nizar Waqt-e-rehlat tujhe pani bhi mila na zinhar Kab ghabrana, kahin aisa koi Mazlum hua Satwan tu mera pota hai jo masmum hua Kaun sa zulm tha jo Maula Naqi ne na saha Jab zahr se shahid hue gyarhwin Imam 1 Jab zahr se shahid hue gyarhwin Imam Sazish wale khak urane lage tamam Bazar band kar diye, chhore sab apne kam Matam mein Askari ke hue khwas-o-aam Darwaza-e-Imam pe aisi fughan hui Samarra mein qayamat-e-sughra ayan hui 2 Jis ghar mein thi bani hui qabr-e-Ali Naqi Us mein hi dafn lash-e-Hasan Askari hui Ghar ghar se thi buland sada aah aah ki Unnis sal bhi na hui umr-e-Askari Donon khub Askari be-watan hua Pyase Husain ko na mayassar kafan hua 3 Ab is talluq se hote hain tukre dil-o-jigar Zulm Ahl-e-Bait par kiye aada ne is qadar Sajjad jaise roye na lash-e-Husain par Yusuf na roya Askari ki lash par magar Zarre uthaye gard wahan nabakar the Amada-e-qatl par yahan badbakht aghyar the
کون سا ظلم تھا جو مولا نقیؑ نے نہ سہا — جاری 4 ابنِ مناظر کے قصور میں یہ تھے محوِ بکا نگہباں بولے یہ گھر کے ہمارے مولا بہرِ تعظیم اٹھاؤ، مجھے اے ماہ لقا خلد سے لائے ہیں تشریف رسولؐ و زہرا ساتھ زہرا کے شہِ بدر و حنین آئے ہیں میرے لینے کو حسنؑ اور حسینؑ آئے ہیں 5 پھر اٹھا کر سر بزور پکارے یہ امام میرے نانا، مرے دادا، مری دادی کو سلام کہہ کے یہ گر گئے تکیہ پہ جو مولاۓ انام عسکریؑ رونے تڑپنے لگیں، ارواحِ کرام پرسہ دیتا تھا نہ کوئی، نہ گلے ملتا تھا بچپن روتے تھے اور عرشِ خدا ہلتا تھا 6 فاطمہؑ کرتی تھیں یہ بین تڑپ کر ہر بار میرے شبرؑ کے پوتے، تری غربت کے نثار مثلِ شبرؑ کے جو تیرا ہے تنِ زار و نزار وقتِ رحلت تجھے پانی بھی ملا نہ زنهار کب گھبرانا، کہیں ایسا کوئی مظلوم ہوا ساتواں تو مرا پوتا ہے جو مسموم ہوا کون سا ظلم تھا جو مولا نقیؑ نے نہ سہا جب زہر سے شہید ہوئے گیارھویں امام 1 جب زہر سے شہید ہوئے گیارھویں امام سازش والے خاک اڑانے لگے تمام بازار بند کر دیئے، چھوڑے سب اپنے کام ماتم میں عسکریؑ کے ہوئے خواص و عام دروازۂ امام پہ ایسی فغاں ہوئی سامرہ میں قیامتِ صغریٰ عیاں ہوئی 2 جس گھر میں تھی بنی ہوئی قبرِ علی نقیؑ اس میں ہی دفن لاشِ حسن عسکریؑ ہوئی گھر گھر سے تھی بلند صدا آہ آہ کی انیس سال بھی نہ ہوئی عمرِ عسکریؑ دونوں خوب عسکری بے وطن ہوا پیاسے حسینؑ کو نہ میسر کفن ہوا 3 اب اس تعلق سے ہوتے ہیں ٹکڑے دل و جگر ظلم اہلِ بیت پر کئے اعدا نے اس قدر سجادؑ جیسے روئے نہ لاشِ حسینؑ پر یوسف نہ رویا عسکریؑ کی لاش پر مگر ذرے اٹھائے گرد وہاں نابکار تھے آمادہ قتل پر یہاں بدبخت اغیار تھے

316

Jab zahr se shahid hue gyarhwin Imam — jari 4 Maula Imam-e-Asr hue, aap to nihan Bachte to kaise Abid-e-bimar-o-natawan Beta tha un ko sabr-o-tahammul ka imtihan Wo Kufa-o-Dimashq gaye, pichhe bibiyan Islam ka tha bar Sajjad ki pusht par Zarre baraste rehte the Abid ki pusht par 5 Maula bahut buland hai Hazrat ka martaba Lekin hai be-misal ye Abid ka hausla Le kar chale jo sath asiron ka qafila Dushwar sare marhalon se tha ye marhala Din ban gaya tha raat nigah-e-Imam mein Man bahnein pahunchiyon sath thin bazar-e-Sham mein 6 Sajjad natawan gaye darbar-e-aam mein Iza-rasan the jama sab is izdeham mein Is darja tab-e-zabt thi chhote the Imam mein Duniya khud Sakina ko zindan-e-Sham mein Zulm is qadar hue the Muhammad ki Aal par Roya Yazid khud bhi asiron ke hal par Jab zahr se shahid hue gyarhwin Imam Zuhur Charchavi Mutamid ka tha zamana ke hua zulm ye aah 1 Mutamid ka tha zamana ke hua zulm ye aah Askari zahr se mare gaye be-jurm-o-gunah Chand lamhe bhi na guzre ke tarapne lage Shah Aai Zahra ki ye awaz ke Inna lillah Jaan-ba-lab hai mera farzand, duhai Baba Zahr ke ab qaid se kya hogi rihai Baba 2 Kisi pahlu mere bachche ko nahin hai aram Rote leta hai bistar pe tarap kar payam Aa ke balin-e-Hasan phir ye kiya ro ke kalam Rone wale mere Shabbar ke, tujh par ho salam Naza ka waqt hai aur alam-e-tanhai hai Sar hiranay ko Batul aai hai 3 Ghar mein apne the nazar-band jo Maula-e-Anam Do hi munis the yahan, ek kaniz ek ghulam Aag nigahon se nihan panch baras ka gul-fam Us ko lipta kar hue sine se kehte the Imam Tu ghar-bar kahin Uqda-kusha ko saunpa Bap rukhsat hai mere lal, Khuda ko saunpa
جب زہر سے شہید ہوئے گیارھویں امام — جاری 4 مولا امامِ عصر ہوئے، آپ تو نہاں بچتے تو کیسے عابدِ بیمار و ناتواں بیٹا تھا ان کو صبر و تحمل کا امتحاں وہ کوفہ و دمشق گئے، پیچھے بیبیاں اسلام کا تھا بار سجادؑ کی پشت پر ذرے برستے رہتے تھے عابدؑ کی پشت پر 5 مولا بہت بلند ہے حضرت کا مرتبہ لیکن ہے بے مثال یہ عابدؑ کا حوصلہ لے کر چلے جو ساتھ اسیروں کا قافلہ دشوار سارے مرحلوں سے تھا یہ مرحلہ دن بن گیا تھا رات نگاہِ امام میں ماں بہنیں پہنچیوں ساتھ تھیں بازارِ شام میں 6 سجادؑ ناتواں گئے دربارِ عام میں ایذا رساں تھے جمع سب اس اژدہام میں اس درجہ تابِ ضبط تھی چھوٹے تھے امام میں دنیا خود سکینہؑ کو زندانِ شام میں ظلم اس قدر ہوئے تھے محمدؐ کی آل پر رویا یزید خود بھی اسیروں کے حال پر جب زہر سے شہید ہوئے گیارھویں امام ظہور چارچوی معتمد کا تھا زمانہ کہ ہوا ظلم یہ آہ 1 معتمد کا تھا زمانہ کہ ہوا ظلم یہ آہ عسکریؑ زہر سے مارے گئے بے جرم و گناہ چند لمحے بھی نہ گزرے کہ تڑپنے لگے شاہ آئی زہرا کی یہ آواز کہ انا للہ جان بلب ہے مرا فرزند، دہائی بابا زہر کے اب قید سے کیا ہوگی رہائی بابا 2 کسی پہلو مرے بچے کو نہیں ہے آرام روتے لیتا ہے بستر پہ تڑپ کر پیغام آ کے بالینِ حسنؑ پھر یہ کیا رو کے کلام رونے والے مرے شبرؑ کے، تجھ پر ہو سلام نزع کا وقت ہے اور عالمِ تنہائی ہے سر ہرانے کو بتولؑ آئی ہے 3 گھر میں اپنے تھے نظر بند جو مولاۓ انام دو ہی مونس تھے یہاں، ایک کنیز ایک غلام آگ نگاہوں سے نہاں پانچ برس کا گل فام اس کو لپٹا کر ہوئے سینے سے کہتے تھے امام تو گھر بار کہیں عقدہ کشا کو سونپا باپ رخصت ہے مرے لال، خدا کو سونپا

317

Mutamid ka tha zamana ke hua zulm ye aah — jari 4 Aaj hai ankhon mein tarikh-e-ranj-e-awwal Gharq-e-ashk-e-gham-e-Shabbir hain ankhon ke kanwal Mere marne se bare matam-e-shahr mein khalal Ho jo ghaibat bhi to jari rahe ye tarz-e-amal Jaan-e-Zahra ke liye ashk bahana beta Har jagah Majlis-e-Shabbar mein jana beta 5 Nagahan pas gayi, bete ko pani manga Daur kar aab-e-khunak lai kaniz-e-Maula Jam ko dekh ke yaad aa gaya wo khushk gala Haye Shabbir kaha aur wahin dam tora Gir gaye takiye pe teora ke bas ek bar Hasan Chal base pyase hi pyase ke azadar Hasan 6 Dosto hasb-e-tamanna-e-Imam-e-Kaunain Majlis-e-gham mein hain Mahdi bhi hamare matam Dil se aati hai ye awaz ba-sad shewan-o-shain Assalam ay Shah-e-din Muntiqim-e-Khun-e-Husain Ashk-e-gham nazr-e-Imam-e-dusra karte hain Taziyat aap ke Baba ki ada karte hain Mutamid ka tha zamana ke hua zulm ye aah Chhut kar pidar se be-kas-o-tanha the Askari 1 Chhut kar pidar se be-kas-o-tanha the Askari Paband-e-hukm-e-hakim-e-yakta the Askari Haq ke Wali the, khalq ke Maula the Askari Ehsas tha jis ka jigar, wo diya karte Askari Abr-e-karam the, bahr-e-sakha the zamane mein Dete hi chale hote rahe is gharane mein 2 Be-misl the jo aam din, muhabbat-e-Ilah Kya qadr jahilon mein hui us ki aah aah Dam bhar na dast-e-zulm-e-adu se mili panah Pardes mein Gharib-e-Madina hua tabah Sad pe tarah tarah ke rahe ek jaan par Aaya kisi tarah ka na shikwa zaban par 3 Zindan-e-Sham sa to nahin hai koi makan Makhsus hai musibat-e-Sajjad-e-natawan Is tarah ki zamin hai yahan zer-e-asman Maskan bana ka ghar tha ke afat ka al-aman Paida hue the aqrab-o-mar is ki khak se Lo pahunche koi ye ranj-o-mihan Aal-e-Pak se
معتمد کا تھا زمانہ کہ ہوا ظلم یہ آہ — جاری 4 آج ہے آنکھوں میں تاریخِ رنجِ اول غرقِ اشکِ غمِ شبیرؑ ہیں آنکھوں کے کنول میرے مرنے سے بڑے ماتمِ شہر میں خلل ہو جو غیبت بھی تو جاری رہے یہ طرزِ عمل جانِ زہرا کے لئے اشک بہانا بیٹا ہر جگہ مجلسِ شبرؑ میں جانا بیٹا 5 ناگہاں پاس گئی، بیٹے کو پانی مانگا دوڑ کر آبِ خنک لائی کنیزِ مولا جام کو دیکھ کے یاد آگیا وہ خشک گلا ہائے شبیرؑ کہا اور وہیں دم توڑا گر گئے تکیے پہ تیورا کے بس ایک بار حسنؑ چل بسے پیاسے ہی پیاسے کے عزادار حسنؑ 6 دوستو حسبِ تمناۓ امامِ کونین مجلسِ غم میں ہیں مہدیؑ بھی ہمارے ماتم دل سے آتی ہے یہ آواز بہ صد شیون و شین السلام اے شہِ دیں منتقمِ خونِ حسینؑ اشکِ غم نذرِ امامِ دوسرا کرتے ہیں تعزیت آپ کے بابا کی ادا کرتے ہیں معتمد کا تھا زمانہ کہ ہوا ظلم یہ آہ چھٹ کر پدر سے بے کس و تنہا تھے عسکریؑ 1 چھٹ کر پدر سے بے کس و تنہا تھے عسکریؑ پابندِ حکمِ حاکمِ یکتا تھے عسکریؑ حق کے ولی تھے، خلق کے مولا تھے عسکریؑ احساس تھا جس کا جگر، وہ دیا کرتے عسکریؑ ابرِ کرم تھے، بحرِ سخا تھے زمانے میں دیتے ہی چلے ہوتے رہے اس گھرانے میں 2 بے مثل تھے جو عام دیں، محبتِ الٰہ کیا قدر جاہلوں میں ہوئی اس کی آہ آہ دم بھر نہ دستِ ظلمِ عدو سے ملی پناہ پردیس میں غریبِ مدینہ ہوا تباہ صد پے طرح طرح کے رہے ایک جان پر آیا کسی طرح کا نہ شکوہ زبان پر 3 زندانِ شام سا تو نہیں ہے کوئی مکان مخصوص ہے مصیبتِ سجادِ ناتواں اس طرح کی زمیں ہے یہاں زیرِ آسمان مسکن بنا کا گھر تھا کہ آفت کا الامان پیدا ہوئے تھے عقرب و مار اس کی خاک سے لو پہنچے کوئی یہ رنج و محن آلِ پاک سے

318

Chhut kar pidar se be-kas-o-tanha the Askari — jari 4 Khafa kaun is kharabe mein ghamkhwar-e-Ahl-e-Bait Kis ghar mein thi mili hui sarkar-e-Ahl-e-Bait Dam torta tha qafila-salar-e-Ahl-e-Bait Majbur tha para hua Mukhtar-e-Ahl-e-Bait Bistar zamin-e-sakht ka, takiya tha khisht ka Virane mein asir tha malik bahisht ka 5 Mauqa mila to zahr diya Shah ko be-gunah Labbaik dil-e-Rasul ki halat hui tabah Bimar ho ke uth na saka [lafz ghair wazeh] Makkar Mutamid sa na hoga Khuda gawah Bheje tabib us ne dawa karne ke liye Poshida apna hal-e-jafa karne ke liye 6 Shiddat wo tab ki zahr ka, wo sadma-e-giran Aisa tha zof, kanpta tha jism-e-natawan Kamsin A'imma the Hujjat-e-Haq Sahib-uz-Zaman Tha dusra baras, koi kehta hai panchwan Jaan-e-Nabi ne bar-e-imamat utha liya Is kamsini mein koh-e-musibat utha liya Chhut kar pidar se be-kas-o-tanha the Askari Ay Sahib-uz-Zaman ye zamana alam ka hai 1 Ay Sahib-uz-Zaman ye zamana alam ka hai Aada ko ranj-e-Shah-e-Shahidan ke gham ka hai Dushwar zikr-e-kushta-e-dard-o-alam ka hai Hum ko sahara aap hi ke ek dam ka hai Wird-e-zaban dua hai zuhur-e-Imam ki Aaye wo din ke rah khule intiqam ki 2 Pehle Batul aayengi mahshar mein be-qarar Aahon se kanp uthega bhi Arsh-e-Kirdigar Par amad-e-Husain hai taswir-e-ashkbar Sab qafila bhi sath, ma tifl-e-shir-khwar Wo ek taza hashr, wo Masum ka bayan Adil ki bargah mein Mazlum ka bayan 3 Nauha karenge arsa-e-mahshar mein khas-o-aam Hal apna jab karenge bayan Shah-e-tishna-kam Ay momino ye ghaur-o-taammul ka hai maqam Kya kya kahenge Dadras-e-Khalq se Imam Kaaba mein aana Ahl-e-Haram ko liye hue Jana bala ke dasht mein be-Hajj kiye hue
چھٹ کر پدر سے بے کس و تنہا تھے عسکریؑ — جاری 4 خفا کون اس خرابے میں غم خوارِ اہلِ بیت کس گھر میں تھی ملی ہوئی سرکارِ اہلِ بیت دم توڑتا تھا قافلہ سالارِ اہلِ بیت مجبور تھا پڑا ہوا مختارِ اہلِ بیت بستر زمینِ سخت کا، تکیہ تھا خشت کا ویرانے میں اسیر تھا مالک بہشت کا 5 موقع ملا تو زہر دیا شہ کو بے گناہ لبیک دلِ رسولؐ کی حالت ہوئی تباہ بیمار ہو کے اٹھ نہ سکا [لفظ غیر واضح] مکار معتمد سا نہ ہوگا خدا گواہ بھیجے طبیب اس نے دوا کرنے کیلئے پوشیدہ اپنا حالِ جفا کرنے کیلئے 6 شدت وہ تب کی زہر کا، وہ صدمۂ گراں ایسا تھا ضعف، کانپتا تھا جسمِ ناتواں کمسن ائمہ تھے حجتِ حق صاحب الزماں تھا دوسرا برس، کوئی کہتا ہے پانچواں جانِ نبیؐ نے بارِ امامت اٹھالیا اس کمسنی میں کوہِ مصیبت اٹھالیا چھٹ کر پدر سے بے کس و تنہا تھے عسکریؑ اے صاحب الزمانؑ یہ زمانہ الم کا ہے 1 اے صاحب الزمانؑ یہ زمانہ الم کا ہے اعدا کو رنجِ شاہِ شہیداں کے غم کا ہے دشوار ذکرِ کشتۂ درد و الم کا ہے ہم کو سہارا آپ ہی کے ایک دم کا ہے وردِ زباں دعا ہے ظہورِ امام کی آئے وہ دن کہ راہ کھلے انتقام کی 2 پہلے بتولؑ آئیں گی محشر میں بے قرار آہوں سے کانپ اٹھے گا بھی عرشِ کردگار پر آمدِ حسینؑ ہے تصویرِ اشکبار سب قافلہ بھی ساتھ، مع طفلِ شیر خوار وہ ایک تازہ حشر، وہ معصوم کا بیاں عادل کی بارگاہ میں مظلوم کا بیاں 3 نوحہ کریں گے عرصۂ محشر میں خاص و عام حال اپنا جب کریں گے بیاں شاہِ تشنہ کام اے مومنو یہ غور و تأمل کا ہے مقام کیا کیا کہیں گے دادرسِ خلق سے امام کعبہ میں آنا اہلِ حرم کو لئے ہوئے جانا بلا کے دشت میں بے حج کئے ہوئے

319

Ay Sahib-uz-Zaman ye zamana alam ka hai — jari 4 Shorish wo fauj-e-Sham ki, wo garm dasht-o-ras Shahzadiyon Madine ki jangal mein be-hawas Mehmanon ki wo dil-shikan, wo hujum-e-yas Bachchon ka sath aur kai din ki bhuk pyas Ashur ko Husain ka dil chak ho gaya Lashon ka ek dher sar-e-khak ho gaya 5 Roye har ek madar-o-pidar ki lash par Qasim yatim Hazrat-e-Shabbar ki lash par Lashon pe bhanjon ke, baradar ki lash par Bain banaye naujawan Ali Akbar ki lash par Wo tir-e-zulm, hamla-e-nabakar ka Hazrat ki god aur lahu shir-khwar ka 6 Allah se kahega wo Mazlum apna hal Wo zakhm kha ke ghore se girna dam-e-zawal Sine ka dard, Shimr ki sakhti, zamin lal Pani ka sang-dil se dam-e-wapas sawal Be-ab tegh, khanjar, gala, wa musibata Wo baad-e-qatl, ranj-o-bala, wa musibata Ay Sahib-uz-Zaman ye zamana alam ka hai [Nisbat juzwi taur par ghair wazeh] Sajjad jab dobara asir-e-jafa hue 1 Sajjad jab dobara asir-e-jafa hue Zanjir aur tauq mein phir mubtala hue Ruh-e-Rasul-e-Pak ko sadme siwa hue Daur-o-alam Batul ko la-intiha hue Ghul tha ke phir Madine ki basti ujri hai Gardan mein tauq, paon mein zanjir pari hai 2 Al-qissa jis ghari ke namayan hui sahar Nikal hua Yazid ka amada-e-safar Ankhen wuzu ko Khwahar-e-Sultan-e-bahr-o-bar Fizza ne ja-namaz bichhai ba-chashm-e-tar Ek dam malul had se siwa hoti jati thin Zainab namaz parhti thin aur roti jati thin 3 Farigh huin dua se jo Zainab ba-chashm-e-tar Fizza ko tab bula ke ye boli wo nauhagar Yan se bahut qarib hai, sunti hun wo shajar Khuli ne jis darakht mein bandha tha Shah ka sar Le chal wahan pe Fatima Zahra ki jani ko Ro lungi is darakht ke niche main bhai ko
اے صاحب الزمانؑ یہ زمانہ الم کا ہے — جاری 4 شورش وہ فوجِ شام کی، وہ گرم دشت وراس شہزادیوں مدینے کی جنگل میں بے حواس مہمانوں کی وہ دل شکن، وہ ہجومِ یاس بچوں کا ساتھ اور کئی دن کی بھوک پیاس عاشور کو حسینؑ کا دل چاک ہوگیا لاشوں کا ایک ڈھیر سرِ خاک ہوگیا 5 روئے ہر ایک مادر و پدر کی لاش پر قاسمؑ یتیم حضرتِ شبرؑ کی لاش پر لاشوں پہ بھانجوں کے، برادر کی لاش پر بین بنائے نوجوان علی اکبرؑ کی لاش پر وہ تیرِ ظلم، حملۂ نابکار کا حضرت کی گود اور لہو شیر خوار کا 6 اللہ سے کہے گا وہ مظلوم اپنا حال وہ زخم کھا کے گھوڑے سے گرنا دمِ زوال سینے کا درد، شمر کی سختی، زمین لال پانی کا سنگ دل سے دمِ واپس سوال بے آب تیغ، خنجر، گلا، وا مصیبتا وہ بعدِ قتل، رنج و بلا، وا مصیبتا اے صاحب الزمانؑ یہ زمانہ الم کا ہے [نسبت جزوی طور پر غیر واضح] سجادؑ جب دوبارہ اسیرِ جفا ہوئے 1 سجادؑ جب دوبارہ اسیرِ جفا ہوئے زنجیر اور طوق میں پھر مبتلا ہوئے روحِ رسولِ پاکؐ کو صدمے سوا ہوئے دور و الم بتولؑ کو لا انتہا ہوئے غل تھا کہ پھر مدینے کی بستی اجڑی ہے گردن میں طوق، پاؤں میں زنجیر پڑی ہے 2 القصہ جس گھڑی کہ نمایاں ہوئی سحر نکل ہوا یزید کا آمادۂ سفر آنکھیں وضو کو خواہرِ سلطانِ بحر و بر فضہ نے جا نماز بچھائی بچشمِ تر اک دم ملول حد سے سوا ہوتی جاتی تھیں زینبؑ نماز پڑھتی تھیں اور روتی جاتی تھیں 3 فارغ ہوئیں دعا سے جو زینبؑ بچشمِ تر فضہ کو تب بلا کے یہ بولی وہ نوحہ گر یاں سے بہت قریب ہے، سنتی ہوں وہ شجر خولی نے جس درخت میں باندھا تھا شاہ کا سر لے چل وہاں پہ فاطمہ زہرا کی جانی کو رو لوں گی اس درخت کے نیچے میں بھائی کو

320

[Safha 320 se jari] 3 Donon mein bayan kar ke jo Zainab ba-hal-e-zar Aain dasht, haye Husaina ki thi pukar Ek bar tha wahan na bura lag gayi thi zar Tha mustaqim wahan ka [lafz ghair wazeh] shumar Zulmat-e-Abbas ki qabr is bad-khisal se Rakhta tha bughz dil mein Muhammad ki Aal se 4 Pahuncha ye us ne aa ke Gharib-e-Sajjad sar Aurat ne kaun si hai jo roti hai is qadar Bola koi shaqi ke tujhe kya nahin khabar Zainab yahi hai ashiq-e-Sultan-e-bahr-o-bar Muddat se sogwar-e-Shah-e-tishna-kam hai Ye Khwahar-e-Husain alaihissalam hai 5 Sunta tha ye ke khufiya mein aaya wo bad-zaban Pahuncha qarib Dukhtar-e-Khatun-e-ins-o-jan Tha admi jo hath mein ek patthar-e-giran Amman shaqi ne farq pe Zainab ke nagahan Bakhsh aaya gaya zamin pe tharra ke gir parin Sar par lagi wo zarb ke be-dam ke gir parin 6 Halki maraz mein jab ye qayamat hui bapa Sadr se sar ho gaye Zainab ke dast-o-pa Sahra mein jinn-o-ins ke rone ki thi sada Pahunchin jahan mein Khwahar-e-Sultan-e-Karbala Rone lagi wo qabr ki sada asman se Shor par gaya ke uth gayin Zainab jahan se 7 Dauri ye hal dekh ke Fizza ba-sad alam Dekha ke jism-e-pak mein baqi nahin hai dam Dauri wahan se piti sar wo asir-e-gham Abid ke pas aa ke pukari ba-chashm-e-nam Jannat mein sogwar-e-Shah-e-bahr-o-bar gayin Jald aaiye ke Zainab-e-dilgir mar gayin 8 Ay sarguroh Aal-e-Aba wa musibata Sar pe azad khak-e-aza wa musibata Mara tum ye aur hua wa musibata Zainab ne ki jahan se qaza wa musibata Saman-e-ghusl-e-Zainab-e-dilgir kijiye Jaldi phuphi ke dafn ki tadbir kijiye Sajjad jab dobara asir-e-jafa hue
[صفحہ 320 سے جاری] 3 دونوں میں بیاں کر کے جو زینبؑ بحالِ زار آئیں دشت، ہائے حسینا کی تھی پکار اک بار تھا وہاں نہ برا لگ گئی تھی زار تھا مستقیم وہاں کا [لفظ غیر واضح] شمار ظلمتِ عباسؑ کی قبر اس بد خصال سے رکھتا تھا بغض دل میں محمدؐ کی آل سے 4 پہنچا یہ اس نے آ کے غریبِ سجادؑ سر عورت نے کون سی ہے جو روتی ہے اس قدر بولا کوئی شقی کہ تجھے کیا نہیں خبر زینبؑ یہی ہے عاشقِ سلطانِ بحر و بر مدت سے سوگوارِ شہِ تشنہ کام ہے یہ خواہرِ حسینؑ علیہ السلام ہے 5 سنتا تھا یہ کہ خفیہ میں آیا وہ بد زبان پہنچا قریب دخترِ خاتونِ انس و جان تھا آدمی جو ہاتھ میں اک پتھر گراں اماں شقی نے فرق پہ زینبؑ کے ناگہاں بخش آیا گیا زمین پہ تھرا کے گر پڑیں سر پر لگی وہ ضرب کہ بے دم کے گر پڑیں 6 ہلکی مرض میں جب یہ قیامت ہوئی بپا صدر سے سر ہو گئے زینبؑ کے دست و پا صحراء میں جن و انس کے رونے کی تھی صدا پہنچیں جہاں میں خواہرِ سلطانِ کربلا رونے لگی وہ قبر کی صدا آسمان سے شعل پڑ گیا کہ اٹھ گئیں زینبؑ جہان سے 7 دوڑی یہ حال دیکھ کے فضہ بہ صد الم دیکھا کہ جسمِ پاک میں باقی نہیں ہے دم دوڑی وہاں سے پیٹی سر وہ اسیرِ غم عابدؑ کے پاس آ کے پکاری بچشمِ نم جنت میں سوگوارِ شہِ بحر و بر گئیں جلد آئیے کہ زینبؑ دلگیر مر گئیں 8 اے سرگروہ آلِ عبا وا مصیبتا سر پہ آزاد خاکِ عزا وا مصیبتا مارا تم یہ اور ہوا وا مصیبتا زینبؑ نے کی جہاں سے قضا وا مصیبتا سامانِ غسلِ زینبؑ دلگیر کیجئے جلدی پھوپھی کے دفن کی تدبیر کیجئے سجاد جب دوبارہ اسیر جفا ہوئے

321

Jab Karbala se lut ke watan ko Haram phire 1 Jab Karbala se lut ke watan ko Haram phire Giryan siyah-posh ba-sad ranj-o-gham phire Ek dusre se kehte hue ye hum phire Kyun laut kar na aaye koi jaise hum phire Qabron mein sab to apnon se daman jhatak gaye hain Lekin Rubab Hasan mein baithi hui hain 2 Jab baithe baithe dhoop mein sar se guzar gaya Halat kharab hui chehre ka rang ura Zainab ne ek din aa ke bare dard se kaha Hujre mein chaliye Bhabhi, ye hai Imam ka Saye mein ab jahan kuchh asan kijiye Yun dhoop mein na jaan ko pareshan kijiye 3 Jab sab bandh ho chuke to ye kehne lagin Rubab Wada kiya hai Rauza-e-Amin-e-Bu Turab Saye mein ab na baithungi ay Imam Janab Kis dil se lun wada-e-ghulami ki ab main tab Kya hai sinon mein Fatima ke nur-e-ain se Wada wafa na kar saki Banu-e-Husain se 4 Jab dhoop se uthti na Rubab magar nigar Samjha ke le chale unhein Sajjad Namdar Rukh kar ke Karbala ki taraf roin zar zar Bolin ke wada aap se tha yun main Shahriyar Majbur kar diya mujhe hukm-e-Imam ne Rakh lijiye aabru meri in sab ke samne 5 Ye kehte kehte achchhi lagi dam nikal gaya Sajjad bole Amman ne wada wafa kiya Zainab ne ro ke Sibt-e-Payambar ko di sada Asan kar do meri bhi mushkil bachche Khuda Mere bulane mein bhi na takhir ab karo Akbar ka wasta mujhe jaldi talab karo 6 Ki is fughan par qayamat ka tha saman Thin Bibi Rubab ki qismat par nauha-khwan Aur sar jhukaye baithe the Sajjad natawan Aai sada ke Sayyida ka to main nagahan Qabr mein apni aaj ye soyegi chain se Main sadr ne is ne khub nibhai Husain se (Bashukriya sozkhwan Ashiq Ali / [hawala juzwi taur par ghair wazeh])
جب کربلا سے لٹ کے وطن کو حرم پھرے 1 جب کربلا سے لٹ کے وطن کو حرم پھرے گریاں سیاہ پوش بہ صد رنج و غم پھرے اک دوسرے سے کہتے ہوئے یہ ہم پھرے کیوں لوٹ کر نہ آئے کوئی جیسے ہم پھرے قبروں میں سب تو اپنوں سے دامن جھٹک گئے ہیں لیکن ربابؑ حسن میں بیٹھی ہوئی ہیں 2 جب بیٹھے بیٹھے دھوپ میں سر سے گزر گیا حالت خراب ہوئی چہرے کا رنگ اڑا زینبؑ نے اک دن آ کے بڑے درد سے کہا حجرے میں چلیے بھابھی، یہ ہے امام کا سائے میں اب جہاں کچھ آسان کیجئے یوں دھوپ میں نہ جان کو پریشان کیجئے 3 جب سب باندھ ہو چکے تو یہ کہنے لگیں ربابؑ وعدہ کیا ہے روضۂ امینِ بوترابؑ سائے میں اب نہ بیٹھوں گی اے امام جناب کس دل سے لوں وعدۂ غلامی کی اب میں تاب کیا ہے سینوں میں فاطمہؑ کے نورِ عین سے وعدہ وفا نہ کر سکی بانوی حسینؑ سے 4 جب دھوپ سے اٹھتی نہ ربابؑ مگر نگار سمجھا کے لے چلے انہیں سجادؑ نامدار رخ کرکے کربلا کی طرف روئیں زار زار بولیں کہ وعدہ آپ سے تھا یوں میں شہریار مجبور کردیا مجھے حکمِ امام نے رکھ لیجئے آبرو مری ان سب کے سامنے 5 یہ کہتے کہتے اچھی لگی دم نکل گیا سجادؑ بولے اماں نے وعدہ وفا کیا زینبؑ نے رو کے سبطِ پیمبرؐ کو دی صدا آسان کر دو میری بھی مشکل بچے خدا میرے بلانے میں بھی نہ تاخیر اب کرو اکبرؑ کا واسطہ مجھے جلدی طلب کرو 6 کی اس فغاں پر قیامت کا تھا سماں تھیں بی بی ربابؑ کی قسمت پر نوحہ خواں اور سر جھکائے بیٹھے تھے سجادؑ ناتواں آئی صدا کے سیدہؑ کا تو میں ناگہاں قبر میں اپنی آج یہ سوئے گی چین سے میں صدر نے اس نے خوب نبھائی حسینؑ سے (بشکریہ سوزخواں عاشق علی / [حوالہ جزوی طور پر غیر واضح])

322

Mukhtar qaid-e-Kufa se jab ho gaye riha 1 Mukhtar qaid-e-Kufa se jab ho gaye riha Aur ikhtiyar takht-e-hukumat pe mil gaya Mara use jo qatil-e-Aal-e-Nabi mila Ni azar jabke unhein zyada lain hua Khush ho ke shukr-e-Khaliq-e-kaun-o-makan kiya Ek nama mar ke janib-e-Shabbir rawan kiya 2 Arz likhi ye Abid-e-aali-maqam ko Mara hai qatilan-e-Shah-e-tishna-kam ko Maula ye arzu hai is adna ghulam ko Hazrat utariye rakht-e-aza-e-Imam ko Syedaniyon se kahiye na aah-o-buka karen Khudain apne ghulam ke Haq mein dua karen 3 Pani hai main ne ye bhi khabar Ya Imam-e-Din Baithi hain Hasan-khana mein Bibi koi hazin Daur hai mujhe halak na ho jaye wo kahin Ni azar ho chuka hai Bani-kahish lain Dil ko sambhalen ab Ali Asghar ka wasta Saye mein baithiye, Sibt-e-Payambar ka wasta 4 Nama Imam-e-Asr ne Mukhtar ka parha Bait-ush-Sharaf mein ja ke ye Makhduma se kaha Ye dhoop aur aduon ki taklif ta-ba-kya Amman hamein par rahm hai Mukhtar ne likha Hui use khushi agar aram payen aap Main bhi ye chahta hun ke saye mein aayen aap 5 Makhduma ne suna jo ye farman-e-Imam ka Ro kar kaha uthao agar hai yahi raza Dekha ek aah bhar ke suye dasht-e-Karbala Hathon ko jor kar ba-sad andoh ye kaha Main jaise ji na uthi thi is maqam se Maula chali hun saye mein hukm-e-Imam se 6 Ye keh ke uthna chaha na utha gaya magar Sab bibiyan lipat gayin jaldi se daur kar Uthi na thin ke mar gaye jahan ke safar Ro kar pukare Syed Sajjad namwar Le kar chali hun puri kis khush-sarisht ko Amman rawana huin bagh-e-bahisht ko Mukhtar qaid-e-Kufa se jab ho gaye riha
مختار قیدِ کوفہ سے جب ہو گئے رہا 1 مختار قیدِ کوفہ سے جب ہو گئے رہا اور اختیار تختِ حکومت پہ مل گیا مارا اسے جو قاتلِ آلِ نبیؐ ملا نی آزار جب کہ انہیں زیادہ لعیں ہوا خوش ہو کے شکرِ خالقِ کون و مکاں کیا اک نامہ مر کے جانبِ شبیرؑ رواں کیا 2 عرض لکھی یہ عابدِ عالی مقام کو مارا ہے قاتلانِ شہِ تشنہ کام کو مولا یہ آرزو ہے اس ادنیٰ غلام کو حضرت اتاریے رختِ عزاۓ امام کو سیدانیوں سے کہیے نہ آہ و بکا کریں خدائیں اپنے غلام کے حق میں دعا کریں 3 پانی ہے میں نے یہ بھی خبر یا امام دیں بیٹھی ہیں حسن خانہ میں بی بی کوئی حزیں دور ہے مجھے ہلاک نہ ہو جائے وہ کہیں نی آزار ہو چکا ہے بنی کاہش لعیں دل کو سنبھالیں اب علی اصغرؑ کا واسطہ سایہ میں بیٹھیے، سبطِ پیمبرؐ کا واسطہ 4 نامہ امامِ عصر نے مختار کا پڑھا بیت الشرف میں جا کے یہ مخدومہ سے کہا یہ دھوپ اور ادوں کی تکلیف تا بہ کیا اماں ہمیں پر رحم ہے مختار نے لکھا ہوئی اسے خوشی اگر آرام پائیں آپ میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ سائے میں آئیں آپ 5 خدومہ نے سنا جو یہ فرمانِ امام کا رو کر کہا اٹھاؤ اگر ہے یہی رضا دیکھا اک آہ بھر کے سوئے دشتِ کربلا ہاتھوں کو جوڑ کر بہ صد اندوہ یہ کہا میں جیسے جی نہ اٹھی تھی اس مقام سے مولا چلی ہوں سائے میں حکمِ امام سے 6 یہ کہہ کے اٹھنا چاہا نہ اٹھا گیا مگر سب بیبیاں لپٹ گئیں جلدی سے دوڑ کر اٹھی نہ تھیں کہ مر گئے جہاں کے سفر رو کر پکارے سید سجادؑ نامور لے کر چلی ہوں پوری کس خوش سرشت کو اماں روانہ ہوئیں باغِ بہشت کو مختار قید کوفہ سے جب ہو گئے رہا

323

Ay momino phir athwin Shawwal aai hai 1 Ay momino phir athwin Shawwal aai hai Huzn-o-malal-o-yas ko hamrah lai hai Az farsh ta-ba-Arsh ghata gham ki chhai hai Khar-e-alam ne dil mein khatak ye lagai hai Tore mazar-e-Hazrat-e-ret-o-daur ne Rauze giraye Aal ke Ibn-e-Saud ne 2 Zehn mein jo aina-e-murawwat ka aaya hai Haye ak dil se lain ne nikala hai Jannati mazar-e-Abid-o-Baqir giraya hai Rauza-e-Hasan ka Jannat-e-Baqi ka mitaya hai Bidat samajh ke takht-e-Natiq ki qabr ko Natiq hi dhaya Jafar Sadiq ki qabr ko 3 Is par bhi is lain ne sitam ye dikhaya Lan mazar Hazrat Hamza gira diya Marqad ka aina ke nishan tak mita diya Marqad Janab-e-Khatm-e-Rusul ka bhi dha diya Turbat mita ke Jannat-e-Asad wal Maula ki Masjid mitai khak ke andar Rasul ki 4 Qabron pe zaban-e-hal se kehti hain bar bar Tore hain Ahl-e-Bait-e-Muhammad ke sab mazar Ibn-e-Saud ne wo kiya zulm ashkar Kafir talak bhi kar nahin sakte jo zinhar Qabron ka Aal-e-Pak ki naqsha mita diya Dhere Ahl-e-Bait-e-Payambar ke laga diya Ay momino phir athwin Shawwal aai hai
اے مومنو پھر آٹھویں شوال آئی ہے 1 اے مومنو پھر آٹھویں شوال آئی ہے حزن و ملال و یاس کو ہمراہ لائی ہے از فرش تا بہ عرش گھٹا غم کی چھائی ہے خارِ الم نے دل میں کھٹک یہ لگائی ہے توڑے مزارِ حضرتِ ریت و دور نے روضے گرائے آل کے ابنِ سعود نے 2 ذہن میں جو آئینۂ مروّت کا آیا ہے ہے ہے آک دل سے لعیں نے نکالا ہے جنتی مزارِ عابدؑ و باقرؑ گرایا ہے روضۂ حسنؑ کا جنتِ بقیع کا مٹایا ہے بدعت سمجھ کے تختِ ناطق کی قبر کو ناطق ہی ڈھایا جعفر صادقؑ کی قبر کو 3 اس پر بھی اس لعیں نے ستم یہ دکھایا لعن مزار حضرت حمزہ گرا دیا مرقد کا آئینہ کے نشاں تک مٹا دیا مرقد جنابِ ختمِ رسلؐ کا بھی ڈھا دیا تربت مٹا کے جنتِ اسد وال مولا کی مسجد مٹائی خاک کے اندر رسولؐ کی 4 قبروں پہ زباں حال سے کہتی ہیں بار بار توڑے ہیں اہل بیت محمدؐ کے سب مزار ابنِ سعود نے وہ کیا ظلم آشکار کافر تلک بھی کر نہیں سکتے جو زنهار قبروں کا آلِ پاک کی نقشہ مٹا دیا ڈھیرے اہل بیت پیمبرؐ کے لگا دیا اے مومنو پھر آٹھویں شوال آئی ہے

324

Jaan-e-Nabi-o-khassa-e-Dawar hai Fatima 1 Jaan-e-Nabi-o-khassa-e-Dawar hai Fatima Kuchh shak nahin Shafi-e-Mahshar hai Fatima Salatin-e-zi-waqar ki madar hai Fatima Afsos aaj be-kas-o-be-par hai Fatima Jannat mein chain hoyega kyun kar Rasul ko Tora hai mujrimun ne mazar-e-Batul ko 2 Ay momino ajab hai Zahra ka majra Shawwal ki thi ath jo mahshar bapa hua Aada ne dhai jab Jannat-e-Baqi Mustafa Hairat hai kyun zamin pe na asman gira Ya Rab Ilah jald ab un par azab ho Be-din qaum-e-Najd ka khana kharab ho 3 Zinda rahin to bap ko rone nahin diya Mahrum jah-e-Muhammad se kar diya Darwaza ko giraya to Mohsin ne ki qaza Pahlu shikast ho gaya, zulm aisa kiya Rahat na di hayat mein Bint-e-Rasul ko Mismar aaj kar diya qabr-e-Batul ko 4 Kya zulm kar gaye ke nahin jis ki intiha Qabron ko torna, qabron ko mismar kar diya Allah Ahl-e-Bait se kya un ko bughz tha Marne ke baad bhi ye sitam wa musibata Ya Rab gira de Najdiyon par asman ko Dikhla de qahr apna tu Ahl-e-Jahan ko 5 Zinda rahin to dukh mein hamesha hui basar Zahra ne chain paya na duniya mein ek pahar Baad-e-Rasul jhel gayin apni jaan par Ummat se taklif hue kahan se kya safar Ki gayi ye Fatima ne wasiyat Imam se Dafn shab mein mujh ko chhupa kar awam se 6 Qabron bhi tum ne banain Ali ne kisi jagah Thi is mein maslahat bari, shak nahin baja Bint-e-Rasul-e-Pak ko aada se khauf tha Yani na dhayen lain qabr-e-Sayyida Afsos is ka hai ke ye Najdi na mar gaye Is waqt jo na hua, wo aaj kar gaye
جانِ نبیؐ و خاصۂ داور ہے فاطمہؑ 1 جانِ نبیؐ و خاصۂ داور ہے فاطمہؑ کچھ شک نہیں شفیعِ محشر ہے فاطمہؑ سلطینِ ذی وقار کی مادر ہے فاطمہؑ افسوس آج بے کس و بے پر ہے فاطمہؑ جنت میں چین ہوئے گا کیونکر رسولؐ کو توڑا ہے مجرموں نے مزارِ بتولؑ کو 2 اے مومنو عجب ہے زہرا کا ماجرا شوال کی تھی آٹھ جو محشر بپا ہوا اعدا نے ڈھائی جب جنتِ بقیع مصطفیٰؐ حیرت ہے کیوں زمیں پہ نہ آسماں گرا یارب الٰہ جلد اب ان پر عذاب ہو بے دین قومِ نجد کا خانہ خراب ہو 3 زندہ رہیں تو باپ کو رونے نہیں دیا محروم جاہِ محمدؐ سے کردیا دروازہ کو گرایا تو محسن نے کی قضا پہلو شکست ہوگیا، ظلم ایسا کیا راحت نہ دی حیات میں بنتِ رسولؐ کو مسمار آج کردیا قبرِ بتولؑ کو 4 کیا ظلم کر گئے کہ نہیں جس کی انتہا قبروں کو توڑنا، قبروں کو مسمار کردیا اللہ اہل بیت سے کیا ان کو بغض تھا مرنے کے بعد بھی یہ ستم وا مصیبتا یارب گرا دے نجدیوں پر آسمان کو دکھلادے قہر اپنا تو اہلِ جہان کو 5 زندہ رہیں تو دکھ میں ہمیشہ ہوئی بسر زہرا نے چین پایا نہ دنیا میں اک پہر بعدِ رسولؐ جھیل گئیں اپنی جان پر امت سے تکلیف ہوئے کہاں سے کیا سفر کی گئی یہ فاطمہؑ نے وصیت امام سے دفن شب میں مجھ کو چھپا کر عوام سے 6 قبروں بھی تم نے بنائیں علیؑ نے کسی جگہ تھی اس میں مصلحت بڑی، شک نہیں بجا بنتِ رسولؐ پاک کو اعدا سے خوف تھا یعنی نہ ڈھائیں لعین قبرِ سیدہؑ افسوس اس کا ہے کہ یہ نجدی نہ مر گئے اس وقت جو نہ ہوا، وہ آج کر گئے

325

Jaan-e-Nabi-o-khassa-e-Dawar hai Fatima — jari 7 Kis munh se ye kahun ke bani qabr-e-Sayyida Tora gaya mazar-e-Hasan wa musibata Zain-ul-Aba-o-Baqir-o-Jafar ki qabr ka Hai nishan bhi koi baqi nahin raha Is zulm ki nazir to ay asman nahin Sadat ke bhi qabron ka naam-o-nishan nahin 8 Maula zuhur kijiye, khatm ka maqam Wallah intizar tumhara hai subh-o-sham Afsos hai ke aain na jane hamari kam Purse ko Ya Imam-e-Zaman aaye hain ghulam Qarib ki lainon ne ujri ki Aal ki Dhaya pidar ko Fatima khush-khisal ki Jaan-e-Nabi-o-khassa-e-Dawar hai Fatima Ay sogwaro aah-o-buka ka maqam hai Maulana Syed Faragh Ali Rizvi Marhum 1 Ay sogwaro aah-o-buka ka maqam hai Ab rehlat-e-Husain alaihissalam hai Mehman tumhara jata hai jo tishna-kam hai Sar pitna khak ura kar matam tamam hai Ab wo sada-e-Haye Husaina na aayegi Ghar mein tumhare Fatima Zahra na aayegi 2 Ay Shah-e-Karbala teri khidmat na hogi Ay kashti-e-Jafari teri khidmat na hogi Ay jaan-e-Fatima teri khidmat na hogi Mehman-e-Nainawa teri khidmat na hogi Ji bhar ke ro sake na ye roshan nasib ki Majlis ye aakhri hai Husain-e-Gharib ki 3 Agle baras Husain Haram mein aayenge Baqi rahi hayat to ye gham manayenge Aur Fatima ke lal pe ansu bahayenge Gar mar gaye to qabr mein hum khak urayenge Tayyar qafila hai Shah-e-Mashriqain ka Lo Karbala ko jata hai kunba Husain ka
[جانِ نبیؐ و خاصۂ داور ہے فاطمہؑ — جاری] 7 کس منہ سے یہ کہوں کہ بنی قبرِ سیدہؑ توڑا گیا مزارِ حسنؑ وا مصیبتا زین العبا و باقر و جعفرؑ کی قبر کا ہے نشاں بھی کوئی باقی نہیں رہا اس ظلم کی نظیر تو اے آسماں نہیں سادات کے بھی قبروں کا نام و نشاں نہیں 8 مولا ظہور کیجئے، ختم کا مقام واللہ انتظار تمہارا ہے صبح و شام افسوس ہے کہ آئیں نہ جانے ہماری کام پرسہ کو یا امامِ زمان آئے ہیں غلام قریب کی لعینوں نے اجڑی کی آل کی ڈھایا پدر کو فاطمہؑ خوش خصال کی جانِ نبیؐ و خاصۂ داور ہے فاطمہؑ اے سوگوارو آہ و بکا کا مقام ہے مولانا سید فراغ علی رضوی مرحوم 1 اے سوگوارو آہ و بکا کا مقام ہے اب رحلتِ حسینؑ علیہ السلام ہے مہمان تمہارا جاتا ہے جو تشنہ کام ہے سر پیٹنا خاک اڑا کر ماتم تمام ہے اب وہ صدائے ہائے حسینا نہ آئے گی گھر میں تمہارے فاطمہ زہرا نہ آئے گی 2 اے شاہِ کربلا تری خدمت نہ ہوگی اے کشتیِ جعفری تری خدمت نہ ہوگی اے جانِ فاطمہؑ تری خدمت نہ ہوگی مہمانِ نینوا تری خدمت نہ ہوگی جی بھر کے رو سکے نہ یہ روشن نصیب کی مجلس یہ آخری ہے حسینؑ غریب کی 3 اگلے برس حسینؑ حرم میں آئیں گے باقی رہی حیات تو یہ غم منائیں گے اور فاطمہ کے لال پہ آنسو بہائیں گے گر مر گئے تو قبر میں ہم خاک اڑائیں گے تیار قافلہ ہے شہِ مشرقین کا لو کربلا کو جاتا ہے کنبہ حسینؑ کا

326

Ay sogwaro aah-o-buka ka maqam hai — jari 4 Abbas bawafa, Ali Akbar na jaiye Jhule ko khali chhor ke Asghar na jaiye Le kar barat Qasim-e-be-par na jaiye Viran makan hota hai, Sarwar na jaiye Aai sada na roz-e-azadari kyun kiye Phir agle sal apne bhare ghar ko layenge 5 Bin phaile jawano, Ali Akbar bhi aayenge Ishq-o-alam ke sath baradar bhi aayenge Banu ki god mein Ali Asghar bhi aayenge Naushah ban ke Qasim-e-be-par bhi aayenge Zainab ka hath thame Sakina bhi aayegi Ek shab ki biyahi Fatima Kubra bhi aayegi 6 Zainab ke lal, Shah ke shuhada bhi aayenge Safon mein Murtaza, Abid-e-bimar aayenge Shabbar ke sath Haider-e-Karrar aayenge Zahra ko thame Ahmad-e-Mukhtar aayenge Dil kyun na be-qarar hue Bint-e-Rasul ka Majruh aaj tak bhi hai pahlu Batul ka 7 Lo alwida hota hai, rukhsat ye tishna-kam Tum zinda rahe ho mah-e-Muharram se subh-o-sham Kaunain apne hath se do ga main bhare jam Rukhsat Husain hota hai tum par mera salam Donon jahan mein khush raho aur shad-dam raho Allah duniya mein deti hain abad raho 8 Ay Shah-e-Karbala-e-Mualla salam lo Hum be-kason ke wali-o-Maula salam lo Aqa salam lo, Shah-e-wala salam lo Ay Fatima ke chand hamara salam lo Rukhsat ye aakhri hai dil-e-afgar aate hain Maula salam lo, ye azadar aate hain Ay sogwaro aah-o-buka ka maqam hai (Bashukriya sozkhwan Muhammad Rizvi, Karachi)
[اے سوگوارو آہ و بکا کا مقام ہے — جاری] 4 عباسؑ باوفا، علی اکبرؑ نہ جائیے جھولے کو خالی چھوڑ کے اصغرؑ نہ جائیے لے کر برات قاسمِ بے پر نہ جائیے ویراں مکان ہوتا ہے، سرورؑ نہ جائیے آئی صدا نہ روزِ عزاداری کیوں کئے پھر اگلے سال اپنے بھرے گھر کو لائیں گے 5 بن پھیلے جوانو، علی اکبرؑ بھی آئیں گے عشق و علم کے ساتھ برادر بھی آئیں گے بانو کی گود میں علی اصغرؑ بھی آئیں گے نوشاہ بن کے قاسمِ بے پر بھی آئیں گے زینبؑ کا ہاتھ تھامے سکینہؑ بھی آئے گی اک شب کی بیاہی فاطمہ کبریٰ بھی آئے گی 6 زینبؑ کے لعل، شاہ کے شہدا بھی آئیں گے صفوں میں مرتضیٰؑ، عابدِ بیمار آئیں گے شبرؑ کے ساتھ حیدرِ کرار آئیں گے زہرا کو تھامے احمدِ مختارؐ آئیں گے دل کیوں نہ بے قرار ہوئے بنتِ رسولؐ کا مجروح آج تک بھی ہے پہلو بتولؑ کا 7 لو الوداع ہوتا ہے، رخصت یہ تشنہ کام تم زندہ رہے ہو ماہِ محرم سے صبح و شام کونین اپنے ہاتھ سے دو گا میں بھرے جام رخصت حسینؑ ہوتا ہے تم پر مرا سلام دونوں جہاں میں خوش رہو اور شاد دم رہو اللہ دنیا میں دیتی ہیں آباد رہو 8 اے شاہِ کربلائے معلیٰ سلام لو ہم بیکسوں کے والی و مولا سلام لو آقا سلام لو، شہِ والا سلام لو اے فاطمہؑ کے چاند ہمارا سلام لو رخصت یہ آخری ہے دلِ افگار آتے ہیں مولا سلام لو، یہ عزادار آتے ہیں اے سوگوارو آہ و بکا کا مقام ہے (بشکریہ سوزخواں محمد رضوی، کراچی)

327

Nauha-jat Lachar Husaina hai yar Husaina (matam) Lachar Husaina hai yar Husaina Ay be-kason ke qatil, salar Husaina Wo khanjar be-rahm chala paye muqaddar Aur lut gaye Ahmad-e-Mukhtar Husaina Qurban gayi dekho to kya shab-e-mihan ki Nokon se sinanon ki hai inkar Husaina Man baithi rahe magar jism aur Is jism pe yun tiron ki bochhar Husaina Qatl khaye dekhun dil mera jab nok-e-sinan par Bandha jayega main tere gesu-e-khamdar Husaina Zindan-e-adam be-aman na hue dakhil Ghar Fatima ka ho gaya bazar Husaina [Dusra hissa] Man bahnon ke ansuon ka bana kaun sharbat Abid ke hua sahib-e-azar Husaina Sar nange bahen ko teri aada ne phiraya Yun lut gayi hai teri sarkar Husaina Bimar ko zanjiron mein aada ne jakra Pehnaya hai ek tauq-e-giran-bar Husaina Bachchon ko tamanche, gham-e-iza mein mare Kuchh keh na saki Zainab nachar Husaina Adam Safiullah se ta Mahdi-e-Dauran Aisi na luti thi koi sarkar Husaina (Bashukriya sozkhwan Muhammad Ahmad Jafari)
نوحہ جات لاچار حسینا ہے یار حسینا (ماتم) لاچار حسینا ہے یار حسینا اے بے کسوں کے قاتل، سالار حسینا وہ خنجر بے رحم چلا پائے مقدر اور لوٹ گئے احمد مختار حسینا قربان گئی دیکھو تو کیا شبِ محن کی نوکوں سے سانوں کی ہے انکار حسینا ماں بیٹھی رہے مگر جسم اور اس جسم پہ یوں تیروں کی بوچھار حسینا قتل کھائے دیکھوں دل مرا جب نوکِ سناں پر بندھا جائے گا میں تیرے گیسوئے خم دار حسینا زندانِ عدم بے امان نہ ہوئے داخل گھر فاطمہؑ کا ہوگیا بازار حسینا [دوسرا حصہ] ماں بہنوں کے آنسوؤں کا بنا کون شربت عابدؑ کے ہوا صاحبِ آزار حسینا سر ننگے بہن کو تری اعدا نے پھرایا یوں لوٹ گئی ہے تری سرکار حسینا بیمار کو زنجیروں میں اعدا نے جکڑا پہنایا ہے اک طوق گراں بار حسینا بچوں کو طمانچے، غمِ ایذا میں مارے کچھ کہہ نہ سکی زینبؑ ناچار حسینا آدمؑ صفی اللہ سے تا مہدیِ دوراں ایسی نہ لٹی تھی کوئی سرکار حسینا (بشکریہ سوزخواں محمد احمد جعفری)

328

Jawane baradar, shahidaye baradar (matam) Jawane baradar, shahidaye baradar Abbas kahan se tumhein laye baradar Luta gaya Shimr, duani hai Khuda ki Ab tegh-e-sar par karam farmaye baradar Ay god ke pale pe kahan tak ka malal hai Main zinda hun aur bachchiyon ko rulaye baradar Ab koi na baqi mera aisa ke main az marg Lasha-e-sar-e-maqtal se utha laye baradar Pani na pila sake ye pyase bhai Qurban wafa ki teri ho jaye baradar (Bashukriya Alhaj Natiq Husain Rizvi Baradaran-o-Pisaran) Saqqa-e-Sakina, shahidaye Sakina (matam) Saqqa-e-Sakina, shahidaye Sakina Abbas chale sadr na mar jaye Sakina Kyun khun-e-jigar yahi marzi hai jo chashm ke ansu Din raat pari siliyan khaye Sakina Parwan charha lun arman nikalun (matam) Parwan charha lun, arman nikalun Tumhein Ali Akbar tumhein dulha to bana lun Phul bijli ka khila hai to ho dil mein Ay lal main kis tarah kaleje ko sambhalun Shayad koi tum aaye kaho zakhm-e-jigar ka Tumhein Ali Akbar main kaleje se laga lun Ay lal tere bayan ki Zainab tarapti hasrat In khun bhare hathon mein mehndi to laga lun
جوانے برادر شہیدائے برادر (ماتم) جوانے برادر، شہیدائے برادر عباسؑ کہاں سے تمہیں لائے برادر لوٹا گیا شمر دوانی ہے خدا کی اب تیغِ سر پر کرم فرمائے برادر اے گود کے پالے پہ کہاں تک کا ملال ہے میں زندہ ہوں اور بچیوں کو رلائے برادر اب کوئی نہ باقی مرا ایسا کہ میں از مرگ لاشۂ سرِ مقتل سے اٹھا لائے برادر پانی نہ پلا سکے یہ پیاسے بھائی قربان وفا کی تری ہوجائے برادر (بشکریہ الحاج ناطق حسین رضوی برادران و پسران) سقائے سکینہ شہیدائے سکینہ (ماتم) سقائے سکینہ، شہیدائے سکینہ عباسؑ چلے صدر نہ مرجائے سکینہ کیوں خونِ جگر یہی مرضی ہے جو چشم کے آنسو دن رات پڑی سیلیاں کھائے سکینہ پروان چڑھالوں ارمان نکالوں (ماتم) پروان چڑھالوں، ارمان نکالوں تمھیں علی اکبرؑ تمہیں دولہا تو بنا لوں پھول بجلی کا کھلا ہے تو ہو دل میں اے لال میں کس طرح کلیجے کو سنبھالوں شاید کوئی تم آئے کہو زخمِ جگر کا تمھیں علی اکبرؑ میں کلیجے سے لگا لوں اے لال ترے بیان کی زینبؑ تڑپتی حسرت ان خون بھرے ہاتھوں میں مہندی تو لگا لوں

329

Pyason se zyada dur na tha behte hue darya ka pani (Nisar Sahib) Pyason se zyada dur na tha behte hue darya ka pani Taqa hi qismat kya kahiye, paya na magar qatra pani Abbas ke honton ke chhale kehte the Imam Husain hai Qabze mein tha Ghazi ke darya lekin na piya qatra pani Asghar ne yahan nagahan tum se ay Ahl-e-Sitam mangaya pani Bachche ko zara sa de dete, khola hua darya ka pani Kuchh is se zyada ho na saka majbur tha darya kya karta Pani ke liye tarpe Asghar ke liye tarsa pani (Bashukriya salam-o-nauha khwan Master Ghulam Abbas) Lachar khari hai mere yar khari hai (matam) Lachar khari hai be-yar khari hai Bhaiya teri bahen sar-e-diwar khari hai Sar nange mujhe dekh ke munh mor liya kyun Bhaiya ye bahen talib-e-didar khari hai Manga hai Sakina ko kanizi mein tumhari Hamein hui wo bhi pas-e-diwar khari hai Sab rassiyon pe baithe hain aur dekhen nazar hum Rahi main zindagi gham-e-anbar khari hai [Safha ke balai hisse mein sabiqa kalam ka tasalsul] Yun ghar se mere lal ko le jayen na Hazrat Man ke dil mein reh gayi arman ki lau Pehna ke zara dekh lun poshak-e-shahani Tare se chamkein ye sare ke sare lalon Tum jab dur ke liye leti balin to sar ki Maze ke sab fauj-e-jafakar nikle (Bashukriya sozkhwan Razi Zaidi / Lahore)
پیاسوں سے زیادہ دور نہ تھا بہتے ہوئے دریا کا پانی (نثار صاحب) پیاسوں سے زیادہ دور نہ تھا بہتے ہوئے دریا کا پانی تاکہ ہی قسمت کیا کہیے پایا نہ مگر قطرہ پانی عباسؑ کے ہونٹوں کے چھالے کہتے تھے امام حسیں ہے قبضے میں تھا غازی کے دریا لیکن نہ پیا قطرہ پانی اصغرؑ نے یہاں ناگہاں تم سے اے اہلِ ستم منگایا پانی بچے کو ذرا سا دے دیتے، کھولا ہوا دریا کا پانی کچھ اس سے زیادہ ہو نہ سکا مجبور تھا دریا کیا کرتا پانی کے لئے تڑپے اصغرؑ کیلئے ترسا پانی (بشکریہ سلام و نوحہ خواں ماسٹر غلام عباس) لاچار کھڑی ہے میرے یار کھڑی ہے (ماتم) لاچار کھڑی ہے بے یار کھڑی ہے بھیا تیری بہن سرِ دیوار کھڑی ہے سر ننگے مجھے دیکھ کے منہ موڑ لیا کیوں بھیا یہ بہن طالبِ دیدار کھڑی ہے مانگا ہے سکینہؑ کو کنیزی میں تمہاری ہمیں ہوئی وہ بھی پسِ دیوار کھڑی ہے سب رسیوں پہ بیٹھے ہیں اور دیکھیں نظر ہم رہی میں زندگی غمِ انبار کھڑی ہے [صفحہ کے بالائی حصے میں سابقہ کلام کا تسلسل] یوں گھر سے مرے لال کو لے جائیں نہ حضرت ماں کے دل میں رہ گئی ارمان کی لو پہنا کے ذرا دیکھ لوں پوشاک شہانی تارے سے چمکیں یہ سارے کے سارے لالوں تم جب دور کے لئے لیتی بالیں تو سر کی مزے کے سب فوج جفا کار نکلے (بشکریہ سوزخواں رضی زیدی / لاہور)

330

Hilti hai zamin, rota hai falak, andhiyari jahan wali hai Hilti hai zamin, rota hai falak, andhiyari chhane wali hai Sab zulm hue, ye uswan ghar jane wali hai Jaise se sada di Banu ne Asghar ko [lafz ghair wazeh] Maula Pani ke iwaz fauj-e-aada ab tir chalane wali hai Wo Zainab sahra chhore mein, wo bal bikhere lal sitam Madar ke kaleje par baat teri Asghar tarsane wali hai Bachchon ke pyase [matn juzwi taur par ghair wazeh] Ghoron se kuchal ke jab Shah-e-Mazlum ki awaz hai, dil ko main aziyat pahunchane wali hai Ghore se gire jab Shah-e-wala to Zainab se ye sada Ghar lut ke tanhai ki ummat ab aag lagane wali hai (Bashukriya shair-o-sozkhwan Qasim Husain Zaidi, Madariya Bareli) Ahmad Nadim Qasmi Pure qad se jo khara hun to ye tera karam Mujh ko jhukne nahin deta hai sahara tera Bint-e-Zahra ye kehti thi ro ro mere bhai ka lasha bata do Bint-e-Zahra ye kehti thi ro ro mere bhai ka lasha bata do Hum musibat-zadon ki dawa lo, mere bhai ka lasha bata do Bap man mar gaye ghar se chhuti aa ke ghurbat mein afat pe tuti Chhup gaye mere Sultan-e-khush-khu, mere bhai ka lasha bata do Agar khaimon mein tum ne lagai mere Nana ki masjid jalai Ab zyada na hum ko satao, mere bhai ka lasha bata do Kaisi afat mein hum sab pare hain, kis musibat mein chhote bare hain Mere Nana ki ummat ho tum to, mere bhai ka lasha bata do Zakir Husain Zaidi / America (az Maula-e-Kainat) Ali jaisa dusra par guzra nahin dekha Kai sadiyon ne ki apni umr par naz Zamana mor kar dekha, kabhi manzar nahin dekha (Bashukriya baradar Kashif, shair-o-nauha khwan Baqir Husain Zaidi)
ہلتی ہے زمیں، روتا ہے فلک، اندھیاری جہاں والی ہے ہلتی ہے زمیں، روتا ہے فلک، اندھیاری چھانے والی ہے سب ظلم ہوئے، یہ اسواں گھر جانے والی ہے جیسے سے صدا دی بانو نے اصغرؑ کو [لفظ غیر واضح] مولا پانی کے عوض فوجِ اعدا اب تیر چلانے والی ہے وہ زینبؑ صحرا چھوڑے میں، وہ بال بکھیرے لال ستم مادر کے کلیجے پر بات تری اصغرؑ ترسانے والی ہے بچوں کے پیاسے [متن جزوی طور پر غیر واضح] گھوڑوں سے کچل کے جب شہِ مظلوم کی آواز ہے، دل کو میں اذیت پہنچانے والی ہے گھوڑے سے گرے جب شاہِ والا تو زینبؑ سے یہ صدا گھر لوٹ کے تنہائی کی امت اب آگ لگانے والی ہے (بشکریہ شاعر و سوزخواں قاسم حسین زیدی، مادریہ برلی) احمد ندیم قاسمی پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا کرم مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا بنتِ زہرا یہ کہتی تھی رو رو میرے بھائی کا لاشہ بتادو بنتِ زہرا یہ کہتی تھی رو رو میرے بھائی کا لاشہ بتادو ہم مصیبت زدوں کی دوا لو، میرے بھائی کا لاشہ بتادو باپ ماں مر گئے گھر سے چھوٹی آ کے غربت میں آفت پہ ٹوٹی چھپ گئے میرے سلطانِ خوش خو، میرے بھائی کا لاشہ بتادو اگر خیموں میں تم نے لگائی مرے نانا کی مسجد جلائی اب زیادہ نہ ہم کو ستاؤ، میرے بھائی کا لاشہ بتادو کیسی آفت میں ہم سب پڑے ہیں، کس مصیبت میں چھوٹے بڑے ہیں میرے نانا کی امت ہو تم تو، میرے بھائی کا لاشہ بتادو ذاکر حسین زیدی / امریکہ (از مولائے کائنات) علیؑ جیسا دوسرا پر گزرا نہیں دیکھا کئی صدیوں نے کی اپنی عمر پر ناز زمانہ موڑ کر دیکھا، کبھی منظر نہیں دیکھا (بشکریہ برادر کاشف، شاعر و نوحہ خواں باقر حسین زیدی)

331

Rozadaro qayamat ke din hain Ibn-e-Muljim ne Haider ko mara, rozadaro qayamat ke din hain Tum se rukhsat hai Fateh-e-Khaibar, rozadaro qayamat ke din hain Suni qabr-e-Rasul-e-Khuda hai, ghar mein Zahra ke aah-o-buka hai Khak urata hai Haider ka kunba, rozadaro qayamat ke din hain Aal-e-Ahmad par afat hai aai, be-kason par qayamat hai chhai Uth ke qabr se Haider ka saya, rozadaro qayamat ke din hain Ro raha hai Jannat ke malik, khak urate hain sab ke sab malik Ghar se Haider ka kunba hai nikla, rozadaro qayamat ke din hain Sawari hai Shahid-e-Karbala ki Sawari hai Shahid-e-Karbala ki Uthi hai Aal-e-din ke Badshah ki Barhe jao adab aur qaide se Sawari hai ye jaan-e-Mustafa ki Karo jis ki Shimr ne gardan juda ki Ali ke jaan-nashin Farzand-e-Zahra ki sawari hai Husain be-kas-o-Mazlum-o-tanha ki sawari hai Ye khanjar talab karta raha jo Shimr se pani Aai pyase Shahid-e-tishna-laban ki sawari hai Kalamullah-e-Natiq, Ibn-e-Zahra ki sawari hai Rasulullah ki ummat ke shaidai ki sawari hai Farishte shamein jala kar jalau mein rote jate hain Is Mazlum Shah-e-din-o-duniya ki sawari hai Ali Asghar ke gham mein rone wale ki sawari hai Rasulullah ki ummat ke shaidai ki sawari hai Rasan bazar-e-Sham mein jis ke Haram aaye Is awara-watan Mazlum Aqa ki sawari hai Bhare hain ashk ankhon mein kaleja gham se tukre ho Chalo rote hue Mazlum Maula ki sawari hai (Bashukriya Maulana Syed Taqi Hadi o Imtiaz Raza Zaidi)
روزہ دارو قیامت کے دن ہیں ابنِ ملجم نے حیدرؑ کو مارا، روزہ دارو قیامت کے دن ہیں تم سے رخصت ہے فاتحِ خیبر، روزہ دارو قیامت کے دن ہیں سونی قبرِ رسولِ خدا ہے، گھر میں زہرا کے آہ و بکا ہے خاک اڑاتا ہے حیدرؑ کا کنبہ، روزہ دارو قیامت کے دن ہیں آلِ احمدؐ پر آفت ہے آئی، بے کسوں پر قیامت ہے چھائی اٹھ کے قبر سے حیدر کا سایہ، روزہ دارو قیامت کے دن ہیں رو رہا ہے جنت کے مالک، خاک اڑاتے ہیں سب کے سب مالک گھر سے حیدرؑ کا کنبہ ہے نکلا، روزہ دارو قیامت کے دن ہیں سواری ہے شہیدِ کربلا کی سواری ہے شہیدِ کربلا کی اٹھی ہے آلِ دیں کے بادشاہ کی بڑھے جاؤ ادب اور قاعدے سے سواری ہے یہ جانِ مصطفیٰؐ کی کرو جس کی شمر نے گردن جدا کی علیؑ کے جانشیں فرزندِ زہرا کی سواری ہے حسینؑ بے کس و مظلوم و تنہا کی سواری ہے یہ خنجر طلب کرتا رہا جو شمر سے پانی آئی پیاسے شہیدِ تشنہ لباں کی سواری ہے کلام اللہ ناطق، ابنِ زہرا کی سواری ہے رسول اللہ کی امت کے شیدا کی سواری ہے فرشتے شمعیں جلا کر جلو میں روتے جاتے ہیں اس مظلوم شاہِ دین و دنیا کی سواری ہے علی اصغرؑ کے غم میں رونے والے کی سواری ہے رسول اللہ کی امت کے شیدا کی سواری ہے رسن بازارِ شام میں جس کے حرم آئے اس آوارہ وطن مظلوم آقا کی سواری ہے بھرے ہیں اشک آنکھوں میں کلیجہ غم سے ٹکڑے ہو چلو روتے ہوئے مظلوم مولا کی سواری ہے (بشکریہ مولانا سید تقی ہادی و امتیاز رضا زیدی)

332

Aqa ki sawari hai qarine se adab se Rukhsat hai qayamat-o-gham ki sawari Hai ru-ba-safar, jism ki sawari Ay qaum, chali Masih-e-Azam ki sawari Jani hai Shahanshah-e-do-alam ki sawari Hoshiyar zara walwala-e-dast-e-talab se Aqa ki sawari hai qarine se adab se Is shan ka marna nahin dekho ge na jina Duba hua ek khun ke darya mein safina Islam ka muhtam hai is ghar ka qarina Is dar pe mar-o-mehr ko aata hai pasina Hoshiyar zara walwala-e-dast-e-talab se Aqa ki sawari hai qarine se adab se Kuchh dur nahin jaan, do Sham ho chalo mein Ghaibat ke hijab ka Haram ho chalo mein Waris gham-e-Sarwar ka sadma ho chalo mein Khud taht-e-Haq sahib-e-matam ho chalo mein Waris-e-gham-e-Sarwar ka sadma ho chalo mein Khud taht-e-Haq sahib-e-matam ho chalo mein Hoshiyar zara walwala-e-dast-e-talab se Aqa ki sawari hai qarine se adab se Muzda hun thame hue dil, ashiq-e-mahshar Hun khak-basar, tegh-ba-kaf, Haider-e-Safdar Kehte hue aate hun Hasan haye baradar Majlis mein hun khole hue sar, jaan-e-Payambar Hoshiyar zara walwala-e-dast-e-talab se Aqa ki sawari hai qarine se adab se Millat ka dil-ara hai sawari hai ye jis ki Islam ka pyara hai sawari hai ye jis ki Matlub hamara hai sawari hai ye jis ki Pyasa ay mara hai sawari hai ye jis ki Hoshiyar zara walwala-e-dast-e-talab se Aqa ki sawari hai qarine se adab se
آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے رخصت ہے قیامت و غم کی سواری ہے رو بہ سفر، جسم کی سواری اے قوم، چلی مسیحِ اعظم کی سواری جانی ہے شہنشاہِ دو عالم کی سواری ہشیار ذرا ولولۂ دستِ طلب سے آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے اس شان کا مرنا نہیں دیکھو گے نہ جینا ڈوبا ہوا اک خون کے دریا میں سفینہ اسلام کا مہتم ہے اس گھر کا قرینہ اس در پہ مر و مہر کو آتا ہے پسینہ ہشیار ذرا ولولۂ دستِ طلب سے آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے کچھ دور نہیں جان، دو شام ہو چلو میں غیبت کے حجاب کا حرم ہو چلو میں وارث غمِ سرور کا صدمہ ہو چلو میں خود تحتِ حق صاحبِ ماتم ہو چلو میں وارثِ غمِ سرور کا صدمہ ہو چلو میں خود تحتِ حق صاحبِ ماتم ہو چلو میں ہشیار ذرا ولولۂ دستِ طلب سے آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے مژدہ ہوں تھامے ہوئے دل، عاشقِ محشر ہوں خاک بسر، تیغ بکف، حیدرِ صفدر کہتے ہوئے آتے ہوں حسنؑ ہائے برادر مجلس میں ہوں کھولے ہوئے سر، جانِ پیمبرؐ ہشیار ذرا ولولۂ دستِ طلب سے آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے ملت کا دل آرا ہے سواری ہے یہ جس کی اسلام کا پیارا ہے سواری ہے یہ جس کی مطلوب ہمارا ہے سواری ہے یہ جس کی پیاسا اے مارا ہے سواری ہے یہ جس کی ہشیار ذرا ولولۂ دستِ طلب سے آقا کی سواری ہے قرینے سے ادب سے

333

Bain / Qitaat (Sibt Jafar) Sallat alaihi masaibun lau annaha Sallat alal ayyami sirna layaliya Aap ke baad kisi bap mere itne masaib mujh pe pare Parte agar roz-e-roshan par to hote shab-e-Yalda ki tarah se Ko to nahin bhi aap ki furqat dar se iza aap ki ummat Baba hamara bagh bhi chhina, mujh ko sar-e-darbar bulaya Hasan-o-Haider ko bula kar un ki guluadi ko jhutlaya Siliyan do din Baba, meri Ruqayya khule sar mahal mein mangti Ho gaye dafn un mein se aksar, kal tak jo the aap ke sathi Azadaron se khitab Rakha hai hamein naam-e-Mazlum ki aza se Shikwa hai ajab aap ko chhaka ro dha se Afsos ke is daur ke mominon ki hai koshish Majlis ka talluq na rahe "Aal-e-Aba" se (Syed Etizaz Husain Zaidi Shahadat Saharanpuri) Zainab ne kaha bap ke qadmon se lipat kar ab aaye ho Baba Hazrat Shahid Naqvi Wo Karbala, wo Sham-e-Ghariban, wo Zainab hazin, wo hifazat-e-khiyam ki Aaya wo ek sawar qarib-e-khiyam, tare mein suye fars pari Aai niqab chehre se apne sawar ne, pehchan kar Ali-o-Zahra ka naam Har chand Sabira thin bahut Bint-e-Fatima, be-sakhta zaban pe faryad aa gayi Zainab ne kaha bap ke qadmon se lipat kar, ab aaye ho Baba Jab lut gaya pardes mein insan ka ghar, ab aaye ho Baba Baba agar aana hi tha Khaliq ki raza se, us waqt na aaye Jab khak pe be-sar para tha Ali Akbar, ab aaye ho Baba Kitne ke ghere mein mere bete bhi khunin, arman aur awaz mein Us waqt sada aap ko deta tha wo dilbar, ab aaye ho Baba Jab farsh-e-zamin par qatl-e-Muhammad-o-Hasan the, us waqt kahan the Janab aap ke pahlu mein Ali Asghar aaya, ab aaye ho Baba Jab bhai ka sar katta tha main dekh rahi thi, Hazrat se sada di Sar khole hue roi thi main khaime ke dar par, ab aaye ho Baba
بین / قطعات (سبط جعفر) صَلَّتْ عَلَیْہِ مَصَائِبٌ لَوْ أَنَّهَا صَلَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا آپ کے بعد کسی باپ میرے اتنے مصائب مجھ پہ پڑے پڑتے اگر روزِ روشن پر تو ہوتے شبِ یلدا کی طرح سے کو تو نہیں بھی آپ کی فرقت در سے ایذا آپ کی امت بابا ہمارا باغ بھی چھینا، مجھ کو سرِ دربار بلایا حسنؑ و حیدرؑ کو بلاکر ان کی گلوادی کو جھٹلایا سیلیاں دو دیں بابا، میری رقیہ کھلے سر محل میں مانگتی ہو گئے دفن ان میں سے اکثر، کل تک جو تھے آپ کے ساتھی عزاداروں سے خطاب رکھا ہے ہمیں نامِ مظلوم کی عزا سے شکوہ ہے عجب آپ کو چھاکا رو دھا سے افسوس کہ اس دور کے مومنوں کی ہے کوشش مجلس کا تعلق نہ رہے "آلِ عبا" سے (سید اعتزاز حسین زیدی شہادت سہارنپوری) زینبؑ نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر اب آئے ہو بابا حضرت شاہد نقوی وہ کربلا، وہ شامِ غریباں، وہ زینبؑ حزیں، وہ حفاظتِ خیام کی آیا وہ اک سوار قریبِ خیام، تارے میں سوئے فرس پڑی آئی نقاب چہرے سے اپنے سوار نے، پہچان کر علیؑ و زہرا کا نام ہر چند صابرہ تھیں بہت بنتِ فاطمہؑ، بے ساختہ زباں پہ فریاد آگئی زینبؑ نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر، اب آئے ہو بابا جب لٹ گیا پردیس میں انسان کا گھر، اب آئے ہو بابا بابا اگر آنا ہی تھا خالق کی رضا سے، اس وقت نہ آئے جب خاک پہ بے سر پڑا تھا علی اکبرؑ، اب آئے ہو بابا کتنے کے گھیرے میں مرے بیٹے بھی خونیں، ارماں اور آواز میں اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا وہ دلبر، اب آئے ہو بابا جب فرشِ زمیں پر قتلِ محمدؐ و حسنؑ تھے، اس وقت کہاں تھے جناب آپ کے پہلو میں علی اصغرؑ آیا، اب آئے ہو بابا جب بھائی کا سر کٹتا تھا میں دیکھ رہی تھی، حضرت سے صدا دی سر کھولے ہوئے روئی تھی میں خیمے کے در پر، اب آئے ہو بابا

334

Zainab ne kaha bap ke qadmon se lipat kar ab aaye ho Baba — jari Jab log jalane lage lashe hamare, Haq aana tha magar Tum reh na sake the khafa Baba ki to phir, ab aaye ho Baba Jab bal Sakina ke bikhre hue the, lagte the tamanche Hasrat se mujhe dekhti thin Banu-e-muztar, ab aaye ho Baba Kya aap ne farzandon se ye dekha na hoga, kya hashr bapa tha Jab pusht se pyari ki khinchi gayi chadar, ab aaye ho Baba Jab Sham ke Firaun mein lut rahe the khaimon ko lutere Aap aa gaye hote to na chhinti meri chadar, ab aaye ho Baba Ek raat ke mehman hain phir qaid salasil, ab aaye ho Baba Bazar mein hum subh ko jayenge khule sar, ab aaye ho Baba Shayad koi khanjar pe jata tha, aane dijiye ke wo sar Bechani thin Zainab sar-e-bazar pidar, ab aaye ho Baba (Bashukriya nauha khwan Ustad Agha o Maulana Nasim Agha) Anees Pardesi Marhum Baat aayegi parde ki to yaad aayegi Zainab Tarikh-e-gham-o-dard ko dohrayegi Zainab Ay Ahl-e-Matam Ahl-e-Gham, uncha rahe apna alam Ali Muhammad Rizvi Ay Ahl-e-Matam Ahl-e-Gham, uncha rahe apna alam Jab tak hai daur-e-asman, sun le ye har pir-o-jawan Awaz par Shabbir ki barhta hai ye karwan Rukne na payen ye qadam, uncha rahe apna alam Har qalb par chhaye chalo, duniya ko batlaye chalo Ek ek majaz zulm ki taswir dikhate chalo Har dil mein bhar do Shah ka gham, uncha rahe apna alam Kab tak na manega koi, wo waqt aayega kabhi Har qalb par chha jayega, apna Husain ibn-e-Ali Is dard par har sar ho kham, uncha rahe apna alam Jab bhi koi mushkil pari, duniya isi dar pe jhuki Sinon se gham kha kar idhar, aati sada hai Ya Ali Likha idhar batil ka dam, uncha rahe apna alam Ye parcham-e-Abbas hai, tute dilon ki aas hai Ab tak isi parcham tale, zinda kisi ki pyas hai
[زینبؑ نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر اب آئے ہو بابا — جاری] جب لوگ جلانے لگے لاشے ہمارے، حق آنا تھا مگر تم رہ نہ سکے تھے خفا بابا کی تو پھر، اب آئے ہو بابا جب بال سکینہؑ کے بکھرے ہوئے تھے، لگتے تھے طمانچے حسرت سے مجھے دیکھتی تھیں بانوی مضطر، اب آئے ہو بابا کیا آپ نے فرزندوں سے یہ دیکھا نہ ہوگا، کیا حشر بپا تھا جب پشت سے پیاری کی کھینچی گئی چادر، اب آئے ہو بابا جب شام کے فرعون میں لوٹ رہے تھے خیموں کو لٹیرے آپ آگئے ہوتے تو نہ چھنتی مری چادر، اب آئے ہو بابا اک رات کے مہمان ہیں پھر قید سلاسل، اب آئے ہو بابا بازار میں ہم صبح کو جائیں گے کھلے سر، اب آئے ہو بابا شاید کوئی خنجر پہ جاتا تھا، آنے دیجئے کہ وہ سر بیچانی تھیں زینبؑ سرِ بازار پدر، اب آئے ہو بابا (بشکریہ نوحہ خواں استاد آغا و مولانا نسیم آغا) انیس پردیسی مرحوم بات آئے گی پردے کی تو یاد آئے گی زینبؑ تاریخِ غم و درد کو دہرائے گی زینبؑ اے اہلِ ماتم اہلِ غم، اونچا رہے اپنا علم علی محمد رضوی اے اہلِ ماتم اہلِ غم، اونچا رہے اپنا علم جب تک ہے دورِ آسمان، سن لے یہ ہر پیرو جواں آواز پر شبیرؑ کی بڑھتا ہے یہ کارواں رکنے نہ پائیں یہ قدم، اونچا رہے اپنا علم ہر قلب پر چھائے چلو، دنیا کو بتلائے چلو اک اک مجاز ظلم کی تصویر دکھاتے چلو ہر دل میں بھر دو شہ کا غم، اونچا رہے اپنا علم کب تک نہ مانے گا کوئی، وہ وقت آئے گا کبھی ہر قلب پر چھا جائے گا، اپنا حسین ابن علیؑ اس درد پر ہر سر ہو خم، اونچا رہے اپنا علم جب بھی کوئی مشکل پڑی، دنیا اسی در پہ جھکی سینوں سے غم کھا کر ادھر، آتی صدا ہے یا علیؑ لکھا ادھر باطل کا دم، اونچا رہے اپنا علم یہ پرچمِ عباسؑ ہے، ٹوٹے دلوں کی آس ہے اب تک اسی پرچم تلے، زندہ کسی کی پیاس ہے

335

Ay Ahl-e-Matam Ahl-e-Gham, uncha rahe apna alam — jari Jis ne sahe lakhon sitam, uncha rahe apna alam Wo Sher-e-Bani Hashim, Masum ka tha gham Islam zinda kar gayi, Asghar ke marne ki ada Nahin kar saha tir-e-sitam, uncha rahe apna alam Zinda hai zulm jis ki sada, mitta nahin khun ka likha Jabran ka Haq ki gham, ek mojiza hai Karbala Ye silsila hoga na kam, uncha rahe apna alam Jab Karbala yaad aayegi, insaniyat sharmayegi Mazlum ki awaz hai, dil ko main aziyat pahunchayegi Pesh ho gaye phir chamakte qadam, uncha rahe apna alam Zinda ye bedari rahe, ye silsila jari rahe Hum hon na hon is bazm mein qaim azadari rahe Nikle isi parcham ka dam, uncha rahe apna alam Ay naujawanan-e-aza, tum ho moti dil ki duniya Matam uthti rahe, sinon se matam ki sada Qaim rahe Akbar ka gham, uncha rahe apna alam (Bashukriya Syed Asif Haider / Sadiq Abbas o Riyaz Momin) Karbala ki fazaon mein ab tak ek dukhiyari man ki sada hai Husain Bhai Naqvi Karbala ki fazaon mein ab tak ek dukhiyari man ki sada hai Karbala tere is ho ke bete mein lal mera kahin kho gaya hai Kis ko main lal keh kar bulaun, kis ko sine se apne lagaun Duriyan re ke kis ko sulaun, haye Asghar mera kho gaya hai Tu agar ruth jayega pani, hoga kaise basar zindagani Pas koi nahin hai nishani, tera jhula bhi ab jal chuka hai Aise dil hone lage kis ka, yun nasib na bigre kisi ka Is tarah ghar na ujre kisi ka, jaise taraj ye ghar hua hai Hain qayamat na manazil dam bhar, laut kar tu bhi aa na Asghar Ho jaiye Haq pe qurban Sarwar, haye kaise ka ab kya maza hai Ho ye matam lab pe mere Abid, karte rahe hain sab aain ke chain Yun shahidon ke lashe pare hain, jaise Quran ghar mein parha hai Mujh se jis dam ye puchhegi Sughra, kyun dikhai nahin deta bhaiya Keh sakungi main kis tarah beta, tu bhi Haq par fida ho chuka hai Dil-nashin hai Madine ka manzar, hai nigahon mein Kaabe ki hasrat Hai Abbas ghurbat un ke ki rukhsat, Karbala phir nazar Karbala hai
[اے اہلِ ماتم اہلِ غم، اونچا رہے اپنا علم — جاری] جس نے سہے لاکھوں ستم، اونچا رہے اپنا علم وہ شیرِ بنی ہاشم، معصوم کا تھا غم اسلام زندہ کر گئی، اصغرؑ کے مرنے کی ادا نہیں کر سہا تیرِ ستم، اونچا رہے اپنا علم زندہ ہے ظلم جس کی صدا، مٹتا نہیں خون کا لکھا جبراً کا حق کی غم، اک معجزہ ہے کربلا یہ سلسلہ ہوگا نہ کم، اونچا رہے اپنا علم جب کربلا یاد آئے گی، انسانیت شرمائے گی مظلوم کی آواز ہے، دل کو میں اذیت پہنچائے گی پیش ہوگئے پھر چمکتے قدم، اونچا رہے اپنا علم زندہ یہ بیداری رہے، یہ سلسلہ جاری رہے ہم ہوں نہ ہوں اس بزم میں قائم عزاداری رہے نکلے اسی پرچم کا دم، اونچا رہے اپنا علم اے نوجوانانِ عزا، تم ہو موتی دل کی دنیا ماتم اٹھتی رہے، سینوں سے ماتم کی صدا قائم رہے اکبرؑ کا غم، اونچا رہے اپنا علم (بشکریہ سید آصف حیدر / صادق عباس و ریاض مومن) کربلا کی فضاؤں میں اب تک ایک دکھیاری ماں کی صدا ہے حسین بھائی نقوی کربلا کی فضاؤں میں اب تک ایک دکھیاری ماں کی صدا ہے کربلا تیرے اس ہو کے بیٹے میں لال میرا کہیں کھو گیا ہے کس کو میں لال کہہ کر بلاؤں، کس کو سینے سے اپنے لگاؤں دوریاں رے کے کس کو سلاؤں، ہائے اصغرؑ میرا کھو گیا ہے تو اگر روٹھ جائے گا پانی، ہوگا کیسے بسر زندگانی پاس کوئی نہیں ہے نشانی، تیرا جھولا بھی اب جل چکا ہے ایسے دل ہونے لگے کس کا، یوں نصیب نہ بگڑے کسی کا اس طرح گھر نہ اجڑے کسی کا، جیسے تاراج یہ گھر ہوا ہے ہیں قیامت نہ منازل دم بھر، لوٹ کر تو بھی آ نہ اصغرؑ ہوجئے حق پہ قربان سرورؑ ہائے کیسے کا اب کیا مزا ہے ہو یہ ماتم لب پہ میرے عابدؑ، کرتے رہے ہیں سب آئیں کے چین یوں شہیدوں کے لاشے پڑے ہیں، جیسے قرآن گھر میں پڑھا ہے مجھ سے جس دم یہ پوچھے گی صغرا، کیوں دکھائی نہیں دیتا بھیا کہسکوں گی میں کس طرح بیٹا، تو بھی حق پر فدا ہوچکا ہے دل نشیں ہے مدینے کا منظر، ہے نگاہوں میں کعبے کی حسرت ہے عباسؑ غربت ان کے کی رخصت، کربلا پھر نظر کربلا ہے

336

Dam-ba-dam un ka dam bhare jao Sahir Faizabadi Dam-ba-dam un ka dam bhare jao Ya Ali Ya Ali kiye jao Hasan Kaaba jo dekhna chaho Sajid-e-Karbala chale jao Chalne walo Ali se chalte raho Apna anjam dekhte jao Tum ko jina hai jab inhi ke liye Jab tak wo kahen, jiye jao Zindagi ka bharam hai zikr-e-Husain Zainat ka Haq ada kiye jao Qabr ki roshni hain ashk-e-aza In chiraghon ko bhi liye jao Fath-e-Mazlumiyat ki hui hai Har jagah har sitam sahe jao Rone walo Husain ke gham mein Fatima ki dua liye jao Gham-e-Husain manana bahut zaruri hai / Uruj Bachnuri Ruh-e-nijat mein Khurshid-e-zindagi ke liye Baqa ke waste, mazi ki bandagi ke liye Jahalatun ke andheron mein roshni ke liye Kisi bhi shama jalana bahut zaruri hai Wo jis mein Asghar-e-Masum ka tabassum hai Wo jis mein ashiqon ka sailab hai, tabassum hai Wo jis mein aakhri Shabbir ki sada hai Wo dastan sunana bahut zaruri hai Ye wo Husain hai jo nur-e-Ibn-e-Adam hai Ke jis ke zer-e-qadam rifat-e-do-alam hai Isi Husain ke gham mein jo soz-e-matam hai Ye baat sab ko batana bahut zaruri hai Wo jis ne din bachaya hai Karbala aa kar Wo jis ne aakhri sajda kiya tah-e-khanjar Wo jis ke dard par roye tamam-tar sar Mazar us ke dil par banana bahut zaruri hai
دم بدم ان کا دم بھرے جاؤ ساحر فیض آبادی دم بدم ان کا دم بھرے جاؤ یا علیؑ یا علیؑ کئے جاؤ حسنؑ کعبہ جو دیکھنا چاہو ساجدِ کربلا چلے جاؤ چلنے والو علیؑ سے چلتے رہو اپنا انجام دیکھتے جاؤ تم کو جینا ہے جب انہی کیلئے جب تک وہ کہیں، جئے جاؤ زندگی کا بھرم ہے ذکرِ حسینؑ زینت کا حق ادا کئے جاؤ قبر کی روشنی ہیں اشکِ عزا ان چراغوں کو بھی لئے جاؤ فتحِ مظلومیت کی ہوئی ہے ہر جگہ ہر ستم سہے جاؤ رونے والو حسینؑ کے غم میں فاطمہؑ کی دعا لئے جاؤ غمِ حسینؑ منانا بہت ضروری ہے / عروج بچنوری روحِ نجات میں خورشیدِ زندگی کے لئے بقا کے واسطے، ماضی کی بندگی کے لئے جہالتوں کے اندھیروں میں روشنی کے لئے کسی بھی شمع جلانا بہت ضروری ہے وہ جس میں اصغرِ معصوم کا تبسم ہے وہ جس میں عاشقوں کا سیلاب ہے، تبسم ہے وہ جس میں آخری شبیرؑ کی صدا ہے وہ داستان سنانا بہت ضروری ہے یہ وہ حسینؑ ہے جو نورِ ابنِ آدم ہے کہ جس کے زیرِ قدم رفعتِ دو عالم ہے اسی حسینؑ کے غم میں جو سوزِ ماتم ہے یہ بات سب کو بتانا بہت ضروری ہے وہ جس نے دین بچایا ہے کربلا آ کر وہ جس نے آخری سجدہ کیا تہِ خنجر وہ جس کے درد پر روئے تمام تر سر مزار اس کے دل پر بنانا بہت ضروری ہے

337

Gham-e-Husain manana bahut zaruri hai — jari Wo bhuk pyas, wo bachchon ki sada-e-Akbar Wo shakl aur wo bazu kate jo darya par Wo Shimr ka aakhri sajda, wo Shimr ka khanjar Har ek ko yaad dilana bahut zaruri hai Khun-e-Aal-e-Muhammad ka aaj darya hai Bala ka Sham-e-Ghariban mein ghalba andhera hai Rasai adaon aur khak pe pehra hai Aza ka farsh bichhana bahut zaruri hai Wo chhe mahine ke Asghar, jinhein na pani mila Wo naujawan Ali Akbar jinhein na pani mila Wo Karbala ke bahattar, jinhein na pani mila Ye sab pahil un ki lagana bahut zaruri hai Husain to kirdar hai admi ke liye Husain ki zarurat hai zindagi ke liye Uruj Muharram-e-Husaini ko bartari ke liye Nishan-e-rah banana bahut zaruri hai (Bashukriya Nazim Husain / Latif Haider / Rais Haideri) Shahid-e-Karbala Baba, gharib-o-be-watan Baba Shahid-e-Karbala Baba, gharib-o-be-watan Baba Hazar ankhon tum mare gaye tishna-dahan Baba Agar hamrah main hoti, tumhari lash par roti Gadari kar ke pehnati tumhein do gaz kafan Baba Hasan ko zahr pilaya, tumhein tiron se chheda Mitaya rafta rafta yun nishan-e-Panjtan Baba Madine aap se chhuta, hai Kaaba chhuta, ghar chhuta Bataya Karbala mein aap ne apna watan Baba Ali Akbar ko roti main, Ali Asghar ko roti main Laya khak mein taqdir ne sara chaman Baba Mere sar pe mushkil-e-aza jo keh para tha Isi ke hathon mein bandhi lainon ne rasan Baba (Bashukriya Muhammad Husain Birjand o Jafar Ali Suraj Marhum)
[غمِ حسینؑ منانا بہت ضروری ہے — جاری] وہ بھوک پیاس، وہ بچوں کی صدائے اکبرؑ وہ شکل اور وہ بازو کٹے جو دریا پر وہ شمر کا آخری سجدہ، وہ شمر کا خنجر ہر اک کو یاد دلانا بہت ضروری ہے خونِ آلِ محمدؐ کا آج دریا ہے بلا کا شامِ غریباں میں غلبہ اندھیرا ہے رسائی اداؤں اور خاک پہ پہرا ہے عزا کا فرش بچھانا بہت ضروری ہے وہ چھہ مہینے کے اصغرؑ، جنہیں نہ پانی ملا وہ نوجوان علی اکبرؑ جنہیں نہ پانی ملا وہ کربلا کے بہتر، جنہیں نہ پانی ملا یہ سب پہیل ان کی لگانا بہت ضروری ہے حسینؑ تو کردار ہے آدمی کے لئے حسینؑ کی ضرورت ہے زندگی کے لئے عروج محرمِ حسینی کو برتری کے لئے نشانِ راہ بنانا بہت ضروری ہے (بشکریہ ناظم حسین / لطیف حیدر / رئیس حیدری) شہیدِ کربلا بابا، غریب و بے وطن بابا شہیدِ کربلا بابا، غریب و بے وطن بابا ہزار آنکھوں تم مارے گئے تشنہ دہن بابا اگر ہمراہ میں ہوتی، تمہاری لاش پر روتی گداڑی کر کے پہناتی تمہیں دو گز کفن بابا حسنؑ کو زہر پلایا، تمہیں تیروں سے چھیدا مٹایا رفتہ رفتہ یوں نشانِ پنجتن بابا مدینے آپ سے چھوٹا، ہے کعبہ چھوٹا، گھر چھوٹا بتایا کربلا میں آپ نے اپنا وطن بابا علی اکبرؑ کو روتی میں، علی اصغرؑ کو روتی میں لایا خاک میں تقدیر نے سارا چمن بابا مرے سر پہ مشکلِ عزا جو کہہ پڑا تھا اسی کے ہاتھوں میں باندھی لعینوں نے رسن بابا (بشکریہ محمد حسین برجند و جعفر علی سورج مرحوم)

338

Mere gharib alwida, mere shahid alwida Hamid Lakhnavi Mere gharib alwida, mere shahid alwida Jal chuka jangal mein ghar, lut chuka sab mal-o-zar Shahron mein hum dar-badar, phir chuke ab nange sar Mere gharib alwida, mere shahid alwida Bazuon ki aab-zan, khul chuki Shah-e-Zaman Ye chaki ranj-o-mihan, kha chuki zakhm-e-badan Mere gharib alwida, mere shahid alwida Sab se juda ho chuki, aap ko bhi kho chuki Rota tha aur ro chuki, ashkon se munh dho chuki Mere gharib alwida, mere shahid alwida Shah-e-Gharib alwida, aap pe Zainab nisar Chhora hai mujh se mazar, kya karun main sogwar Mere gharib alwida, mere shahid alwida Roungi main subh-o-sham, aap ka le le ke naam Ya Murtaza aali-maqam, bheje mera salam Mere gharib alwida, mere shahid alwida Dasht par hun main jalte hue khaimon ke qarib Sultan Hasan Shah Taqvi Allahabadi Dasht par hun main jalte hue khaimon ke qarib Thartharate hue, sahme hue bachchon ke qarib Shab hai lau mein ye tanhai hai Sar pe ek aur musibat liye raat aai hai Koi waris na tha, dil tham ke uthi Zainab Kar ke dam Nad-e-Ali dasht mein nikli Zainab Nagahan dekha wo manzar ke hua dil hai tab Ek sawar aaya idhar Zainab ke chehre pe niqab Barh kar Zainab ne ba-sad jah-o-hasham tok diya Nagahan pe dal ke hath us ko kahin rok diya Boli ab lutne wale, yahan kya payenge Dekh ye bachche mere, khauf se mar jayenge Ek be-gor-o-kafan hai jo chehra dekha Gham-o-andoh barha zabt ka yara na raha Subh ek bar ke wo bap ke qadmon pe giri Hosh jab aaya to ro ro ke bayan karne lagi
میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع حمید لکھنوی میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع کل چکا جنگل میں گھر، لٹ چکا سب مال و زر شہروں میں ہم دربدر، پھر چکے اب ننگے سر میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع بازؤں کی آب زن، کھل چکی شاہِ زمن یہ چکی رنج و محن، کھا چکی زخمِ بدن میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع سب سے جدا ہوچکی، آپ کو بھی کھو چکی روتا تھا اور روچکی، اشکوں سے منہ دھو چکی میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع شاہِ غریب الوداع، آپ پہ زینبؑ نثار چھوڑا ہے مجھ سے مزار، کیا کروں میں سوگوار میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع روؤں گی میں صبح و شام، آپ کا لے لے کے نام یا مرتضیٰ عالی مقام، بھیجے میرا سلام میرے غریب الوداع، میرے شہید الوداع دشت پر ہوں میں جلتے ہوئے خیموں کے قریب سلطان حسن شاہ تقوی اللہ آبادی دشت پر ہوں میں جلتے ہوئے خیموں کے قریب تھرتھراتے ہوئے، سہمے ہوئے بچوں کے قریب شب ہے لوئے میں یہ تنہائی ہے سر پہ اک اور مصیبت لئے رات آئی ہے کوئی وارث نہ تھا، دل تھام کے اٹھی زینبؑ کر کے دم نادِ علیؑ دشت میں نکلی زینبؑ ناگہاں دیکھا وہ منظر کہ ہوا دل ہے تاب ایک سوار آیا ادھر زینبؑ کے چہرے پہ نقاب بڑھ کر زینبؑ نے بصد جاہ و حشم ٹوک دیا ناگہاں پہ ڈال کے ہاتھ اس کو کہیں روک دیا بولی اب لوٹنے والے، یہاں کیا پائیں گے دیکھ یہ بچے مرے، خوف سے مر جائیں گے ایک بے گور و کفن ہے جو چہرہ دیکھا غم و اندوہ بڑھا ضبط کا یارا نہ رہا صبح اک بار کے وہ باپ کے قدموں پہ گری ہوش جب آیا تو رو رو کے بیاں کرنے لگی

339

Mere Baba... mere Baba...... Bhaiya jab mara gaya aap kahan the Baba Qatl Abbas hua aap kahan the Baba Sab ye kehte hain ke qismat aur pani Band karta hai kahan kaun kisi par pani Mere Baba mere Baba Ye gham kam na hua aap kahan the Baba Haye bachchon ke liye jang jo Abbas ne ki Aisi bahaduri shaqi na saki Mere Baba mere Baba Ek ek bazu kata aap kahan the Baba Aakhir-e-Asghar maidan ko hua aur kam Tir jab us ke laga aap kahan the Baba Mera walid Husain jab nahin mila Baba Lashe pe pamal kiya aap kahan the Baba Baad-e-sar hamara koi waris na raha Jab chhini meri rida aap kahan the Baba Sun ke Zainab ne tera bayan baithi Dil magar kehta raha aap kahan the Baba Main to ye kehti thi sath tumhare thi beti Tum ne ye kaise kaha aap kahan the Baba (Bashukriya nauha khwan Syed Nasir Husain Zaidi / Tanzim-ul-Husaini) Kin tamannaon ka tha ay Ibn-e-Hasan ka sehra Maulana Rahat Jafari Abadi Kin tamannaon ka tha ay Ibn-e-Hasan ka sehra Haye afsos magar ras na aaya sehra Khuld ke phulon se huron ne jise gundha tha Haif sad haif khizan ne wohi kata sehra Dar pe jis ke dulhan dhamp ke munh roti thi Us ke gham mein ek shab ki dulhan ki ujri Jab chala ran ko ye bandhe hue dulha sehra Zabh pe khaimon ki taklif barhane ke liye Dushmanon ki nigah-e-bad mein wo aaya sehra Jis mein arman the bahnon ke to hasrat man ki Tegh-o-shamshir-e-sitam ne wohi kata sehra Aa gayi ek shab ki dulhan, gham ki ujri Jab idhar dasht mein naushah ka ujra sehra Kat gayi sath har ek rang ke lari phulon ki Lash pamal hui khak pe bikhra sehra Haye hasrat ke laga Fatima Kubra ka suhag Aa ke farzaq-e-ajal ne jo luta ye sehra
میرے بابا... میرے بابا...... بھیا جب مارا گیا آپ کہاں تھے بابا قتل عباسؑ ہوا آپ کہاں تھے بابا سب یہ کہتے ہیں کہ قسمت اور پانی بند کرتا ہے کہاں کون کسی پر پانی میرے بابا میرے بابا یہ غم کم نہ ہوا آپ کہاں تھے بابا ہائے بچوں کیلئے جنگ جو عباسؑ نے کی ایسی بہادری شکی نہ سکی میرے بابا میرے بابا ایک اک بازو کٹا آپ کہاں تھے بابا آخرِ اصغرؑ میدان کو ہوا اور کم تیر جب اس کے لگا آپ کہاں تھے بابا میرا والد حسینؑ جب نہیں ملا بابا لاشے پہ پامال کیا آپ کہاں تھے بابا بعدِ سر ہمارا کوئی وارث نہ رہا جب چھنی میری ردا آپ کہاں تھے بابا سن کے زینبؑ نے تیرا بیاں بیٹھی دل مگر کہتا رہا آپ کہاں تھے بابا میں تو یہ کہتی تھی ساتھ تمہارے تھی بیٹی تم نے یہ کیسے کہا آپ کہاں تھے بابا (بشکریہ نوحہ خواں سید ناصر حسین زیدی / تنظیم الحسینی) کن تمناوں کا تھا اے ابنِ حسنؑ کا سہرا مولانا راحت جعفری آبادی کن تمناوں کا تھا اے ابنِ حسنؑ کا سہرا ہائے افسوس مگر راس نہ آیا سہرا خلد کے پھولوں سے حوروں نے جسے گوندھا تھا حیف صد حیف خزاں نے وہی کاٹا سہرا در پہ جس کے دلہن ڈھاپ کے منہ روتی تھی اس کے غم میں ایک شب کی دلہن کی اجڑی جب چلا رن کو یہ باندھے ہوئے دولہا سہرا ذبح پہ خیموں کی تکلیف بڑھانے کے لئے دشمنوں کی نگہ بد میں وہ آیا سہرا جس میں ارمان تھے بہنوں کے تو حسرت ماں کی تیغ و شمشیر ستم نے وہی کاٹا سہرا آگئی ایک شب کی دلہن، غم کی اجڑی جب ادھر دشت میں نوشاہ کا اجڑا سہرا کٹ گئی ساتھ ہر اک رنگ کے لڑی پھولوں کی لاش پامال ہوئی خاک پہ بکھرا سہرا ہائے حسرت کہ لگا فاطمہؑ کبریٰ کا سہاگ آ کے فرزق اجل نے جو لوٹا یہ سہرا

340

Abbas kahan ho Mare gaye Sarwar ke madadgar jo jo, Abbas kahan ho Ab din mein talab karte hain aada se ro ro, Abbas kahan ho Mazlum ghurbat mein gaye chhor ke kis par, ay bhai Jafar Ashiq to wohi hai jo ho afat mein Khuda ho, Abbas kahan ho Shabbir se lipti hui roti hai Sakina Tum us ko yatimi ki musibat se bacha lo, Abbas kahan ho Sar khole hue Banu chali aati hai bahar, ay bhai Haider Shabbir chale Aal-e-Payambar ko sambhalo, Abbas kahan ho Larte hue ghore se gire sajde mein Shabbir, hain Bint-e-dilgir Lillah Ruqayya pe dar-e-roz-e-qayamat, Abbas kahan ho Hai zinda jawed shahidan-e-muhabbat, phir kyun hai ye ghaflat Hazrat se qadam uthaye ankhon ko joro, Abbas kahan ho Ro ro ke puchhti hain Banu Shah-e-Zaman se Ro ro ke puchhti hain Banu Shah-e-Zaman se Maqtal jawan ki mayyat kis tarah laye ran se Mehman bula ke pyase, Sibt-e-Nabi ko mara Aisa suluk koi karta hai be-watan se Jhula jo dekha khali, ro kar Sakina boli Amman hamare Asghar ab tak na aaye ran se Bechain hain Sakina aur sans ruk rahi hai Tanha ghulami ne bandha hai yun rasan se Sughra ne khat mein likha, mushkil Mustafa ko Kya yun bhi ruthe hain bhai bahen se Afsos shab ki mayyat uryan pari hai ran mein Donon jahan ka malik mahrum hai kafan se Qamar Zaidi Us ko Shabbir hona parta hai Jis ko Shabbir de Khuda Zainab
عباس کہاں ہو مارے گئے سرور کے مددگار جو جو، عباس کہاں ہو اب دن میں طلب کرتے ہیں اعدا سے رو رو، عباس کہاں ہو مظلوم غربت میں گئے چھوڑ کے کس پر، اے بھائی جعفر عاشق تو وہی ہے جو ہو آفت میں خدا ہو، عباس کہاں ہو شبیرؑ سے لپٹی ہوئی روتی ہے سکینہؑ تم اس کو یتیمی کی مصیبت سے بچالو، عباس کہاں ہو سر کھولے ہوئے بانو چلی آتی ہے باہر، اے بھائی حیدر شبیرؑ چلے آلِ پیمبرؐ کو سنبھالو، عباس کہاں ہو لڑتے ہوئے گھوڑے سے گرے سجدے میں شبیرؑ، ہیں بنتِ دلگیر للّٰہ رقیہ پہ درِ روزِ قیامت، عباس کہاں ہو ہے زندہ جاوید شہیدانِ محبت، پھر کیوں ہے یہ غفلت حضرت سے قدم اٹھائے آنکھوں کو جوڑو، عباس کہاں ہو رو رو کے پوچھتی ہیں بانو شہِ زمن سے رو رو کے پوچھتی ہیں بانو شہِ زمن سے مقتل جوان کی میت کس طرح لائے رن سے مہماں بلا کے پیاسے، سبطِ نبیؐ کو مارا ایسا سلوک کوئی کرتا ہے بے وطن سے جھولا جو دیکھا خالی، رو کر سکینہؑ بولی اماں ہمارے اصغرؑ اب تک نہ آئے رن سے بے چین ہیں سکینہؑ اور سانس رک رہی ہے تنہا غلامی نے باندھا ہے یوں رسن سے صغرا نے خط میں لکھا، مشکل مصطفیٰؐ کو کیا یوں بھی روٹھے ہیں بھائی بہن سے افسوس شب کی میت عریاں پڑی ہے رن میں دونوں جہاں کا مالک محروم ہے کفن سے قمر زیدی اس کو شبیرؑ ہونا پڑتا ہے جس کو شبیرؑ دے خدا زینبؑ

341

Riwayat-e-Sham-e-Ghariban / Shafaq Akbarabadi Kaun Aal-e-Payambar ka ab puchhne wala hai Khaimon ko shar ke aada ne jala dala hai Jab jala hai ek khaima to Ali wahan ghabra kar Us khaime mein jati hain zarok jo khaima hai Ek bar lainon ne sab khaime jala dale Majbur hain ab Zainab, kuchh bas nahin chalta hai Bimar bhatije ke pas aa ke ye farmaya Hoshiyar ho ay beta, ghar aag se jalta hai Mar jayen kahin jal kar ya khaimon se ab niklein Aadi ho zamane ke, kya hukm Khuda ka hai Hoshiyar hue Abid, ki arz phuphi Amman Khaimon se nikal jayen, sab ko yahi zeba hai Ay momino sar pito, andher hua kaisa Kunba Shabbir be-kas ka, sar nange nikla hai Ek khaime mein jaga, ghabra ke lipat aata Ye hal hai Zainab ka dil tuta jata hai [Bayen kalam] Puchha jo kisi ne ye kyun itni hai be-hali Batlao to khaime mein kya mal tumhara hai Farmaya ye Zainab ne ankhon ko hun kya main Is khaime mein mera ek bimar bhatija hai Al-qissa gaye aada jab lut ke ranon ko Ek khaime mein sab kunba Shabbir ka baitha hai Zainab ne gaye bete, paya na Sakina ko Ye aur qayamat ka ek waqia guzra hai Kulsum se farmaya, bhai ki wasiyat thi Zainab ki hifazat mein ek mera bachcha hai Lekin jo guzarti hai dil par wo kahun kyun kar Gham se hai kaleja khun, itab jo Sakina hai Lo bahnein chalin dhunden ab tute bachche ko Dil par kabhi nahin qabu, ye waqia aisa hai Mayyat ko jati thi ye dhundte bachche ko Dekha isi janib se ek sawar aata hai Zainab ne kaha us se ay Shaikh bata de ye Tu ne kisi bachche ko is dasht mein dekha hai
روایتِ شامِ غریباں / شفق اکبر آبادی کون آلِ پیمبرؐ کا اب پوچھنے والا ہے خیموں کو شر کے اعدا نے جلا ڈالا ہے جب جلا ہے ایک خیمہ تو علیؑ وہاں گھبرا کر اس خیمے میں جاتی ہیں زروک جو خیمہ ہے اک بار لعینوں نے سب خیمے جلا ڈالے مجبور ہیں اب زینبؑ، کچھ بس نہیں چلتا ہے بیمار بھتیجے کے پاس آکے یہ فرمایا ہشیار ہو اے بیٹا، گھر آگ سے جلتا ہے مر جائیں کہیں جل کر یا خیموں سے اب نکلیں عادی ہو زمانے کے، کیا حکم خدا کا ہے ہشیار ہوئے عابدؑ، کی عرض پھوپھی اماں خیموں سے نکل جائیں، سب کو یہی زیبا ہے اے مومنو سر پیٹو، اندھیر ہوا کیسا کنبہ شبیرؑ بے کس کا، سر ننگے نکلا ہے اک خیمے میں جاگہ، گھبرا کے لپٹ آتا یہ حال ہے زینبؑ کا دل ٹوٹا جاتا ہے [بائیں کالم] پوچھا جو کسی نے یہ کیوں اتنی ہے بے حالی بتلاؤ تو خیمے میں کیا مال تمہارا ہے فرمایا یہ زینبؑ نے آنکھوں کوہوں کیا میں اس خیمے میں میرا اک بیمار بھتیجا ہے القصہ گئے اعدا جب لوٹ کے رانوں کو اک خیمے میں سب کنبہ شبیرؑ کا بیٹھا ہے زینبؑ نے گئے بیٹے، پایا نہ سکینہؑ کو یہ اور قیامت کا اک واقعہ گزرا ہے کلثومؑ سے فرمایا، بھائی کی وصیت تھی زینبؑ کی حفاظت میں اک میرا بچہ ہے لیکن جو گزرتی ہے دل پر وہ کہوں کیوں کر غم سے ہے کلیجہ خوں، عتاب جو سکینہؑ ہے لو بہنیں چلیں ڈھونڈیں اب ٹوٹے بچے کو دل پر کبھی نہیں قابو، یہ واقعہ ایسا ہے میت کو جاتی تھی یہ ڈھونڈتے بچے کو دیکھا اسی جانب سے اک سوار آتا ہے زینبؑ نے کہا اس سے اے شیخ بتا دے یہ تو نے کسی بچے کو اس دشت میں دیکھا ہے

342

Riwayat-e-Sham-e-Ghariban — jari Wo bola nahin dekha main ne kisi bachche ko Albatta naya is dam ek waqia guzra hai Ghora tha mera pyasa, main le gaya darya par Wan ja ke suna koi is dard se rota hai Go pyasa tha ye ghora lekin na piya pani Main khud mutafakkir hun, ye majra kaisa hai Awaz wo kis ki thi ab tak na main ye samjha Ghore ka bhi dil jis ne is tarah hilaya hai Ye sun ke chalin donon darya ki taraf fauran Mil jaye kahin bachchi dil ki ye tamanna hai Al-qissa ye donon jab wan pahunchin to kya dekha Ek lasha-e-be-sar hai aur bali Sakina hai Farmaya ye Zainab ne batlao to ay beti Kis tarah se pehchani Sarwar ka ye lasha Ki arz Sakina ne ro ro ke phuphi Amman Han sunte hi yahan aa kar jo waqia guzra hai Do bar pukari main ay Baba mere Baba Jab dekha jawab is ka koi nahin milta hai [Bayen kalam] Be-hali barhi meri ghabra ke main chillai Ay apne nawase ab, roo ye Sakina hai Phir ro ke Sakina ye boli ke phuphi Amman Main kya kahun baad is ke jo waqia guzra hai Is halq-e-burida se awaz ye aai phir Tu dhundti hai jis ko us samt wo leta hai Awaz ye sunte hi main aa gayi lashe par Aur hal-e-dil-e-zakhmi ro ro ke sunaya hai Hain aap yahan lete aram se ay Baba Kuchh is ki khabar bhi hai kya hal hamara hai Baad aap ke aada ne dhaye hain sitam kaise Khaime bhi jalaye hain, asbab bhi luta hai Bande jo pehnaye the Baba mujhe shafqat se Wo le liye zalim ne, jin ka mujhe sadma hai Khun dekh ke kanon se ab tak hai barse jari Zalim ki taaddi se rukhsar bhi nila hai Bhai ki alamat par aaya na taras un ko Bimar ko lohe ka ek tauq pehnaya hai
[روایتِ شامِ غریباں — جاری] وہ بولا نہیں دیکھا میں نے کسی بچے کو البتہ نیا اس دم اک واقعہ گزرا ہے گھوڑا تھا مرا پیاسا، میں لے گیا دریا پر واں جا کے سنا کوئی اس درد سے روتا ہے گو پیاسا تھا یہ گھوڑا لیکن نہ پیا پانی میں خود متفکر ہوں، یہ ماجرا کیسا ہے آواز وہ کس کی تھی اب تک نہ میں یہ سمجھا گھوڑے کا بھی دل جس نے اس طرح ہلایا ہے یہ سن کے چلیں دونوں دریا کی طرف فوراً مل جائے کہیں بچی دل کی یہ تمنا ہے القصہ یہ دونوں جب واں پہنچیں تو کیا دیکھا اک لاشۂ بے سر ہے اور بالی سکینہؑ ہے فرمایا یہ زینبؑ نے بتلاؤ تو اے بیٹی کس طرح سے پہچانی سرورؑ کا یہ لاشہ کی عرض سکینہؑ نے رو رو کے پھوپھی اماں ہاں سنتے ہی یہاں آکر جو واقعہ گزرا ہے دوبار پکاری میں اے بابا مرے بابا جب دیکھا جواب اس کا کوئی نہیں ملتا ہے [بائیں کالم] بے حالی بڑھی میری گھبرا کے میں چلائی اے اپنے نواسے اب، روؤ یہ سکینہؑ ہے پھر رو کے سکینہؑ یہ بولیں کہ پھوپھی اماں میں کیا کہوں بعد اس کے جو واقعہ گزرا ہے اس حلقِ بریدہ سے آواز یہ آئی پھر تو ڈھونڈتی ہے جس کو اس سمت وہ لیٹا ہے آواز یہ سنتے ہی میں آگئی لاشے پر اور حالِ دل زخمی رو رو کے سنایا ہے ہیں آپ یہاں لیٹے آرام سے اے بابا کچھ اس کی خبر بھی ہے کیا حال ہمارا ہے بعد آپ کے اعدا نے ڈھائے ہیں ستم کیسے خیمے بھی جلائے ہیں، اسباب بھی لوٹا ہے بندے جو پہنائے تھے بابا مجھے شفقت سے وہ لے لئے ظالم نے، جن کا مجھے صدمہ ہے خون دیکھ کے کانوں سے اب تک ہے برسے جاری ظالم کی تعدی سے رخسار بھی نیلا ہے بھائی کی علامت پر آیا نہ ترس ان کو بیمار کو لوہے کا اک طوق پہنایا ہے

343

Riwayat-e-Sham-e-Ghariban — ikhtitam Ay Baba phuphi Amman khaime se yun nikli hain Chadar hai na maqna hai, barahna sar roti hain Han ay khalq-e-sitamgar bas rok qalam apna Jangal mein har ek janib ek hashr sa barpa hai ***** Shah ne dar-e-khaima se Zainab ko pukara hai Riwayati nauha / Saba Lakhnavi Shah ne dar-e-khaima se Zainab ko pukara hai Ab rukhsat-e-akhir ko bhaiya tera aaya hai Hum jate hain marne ko, hoshiyar bahen ghar se Ab tum ho asiri hai aur sath mein kunba hai Chhute na kahin daman ab mera ka hathon se Jo tum ko sambhale tha wo marne ko jata hai Bazaron mein kochon mein sar nange phirogi tum Aur yun hi rasan-basta darbar mein jana hai Aada tumhein pahunchayen, durron se aziyat kar Tum uff na bahen karna, ye meri tamanna hai [Bayen kalam] Abbas na Akbar hain, Qasim na Muhammad hain Is dasht-e-musibat mein tu be-kas-o-tanha hai Ab daur-e-yatimi hai aur ladle bachche hain Be-maut mujhe khanjar is ranj ne mara hai Tum mere yatimon se hoshiyar bahen rehna Kaun un ka zamane mein ab puchhne wala hai Shab ki adat use sine par Ab khak ka bistar hai aur bali Sakina hai Farmaya Sakina ko phir pas bula kar ye Kyun jaan tu khoti hai, Baba abhi zinda hai Ab baad mere jiti chaliye ga ro lena Matam ka mere kis ko Haq tujh se zyada hai Beti ne kaha Baba marne ko na tum jao Farmaya mashiyyat mein kya dakhl kisi ka hai Boli ye Sakina phir puchha do Madine mein Farmaya ye Sarwar ne, kya zor hamara hai Mahdud hain sab rahein, le jaun tumhein kyun kar Majbur hun, be-kas hun, kuchh bas nahin apna hai
[روایتِ شامِ غریباں — اختتام] اے بابا پھوپھی اماں خیمے سے یوں نکلی ہیں چادر ہے نہ مقنع ہے، برہنہ سر روتی ہیں ہاں اے خلقِ ستمگر بس روک قلم اپنا جنگل میں ہر اک جانب اک حشر سا برپا ہے ***** شاہ نے درِ خیمہ سے زینبؑ کو پکارا ہے روایتی نوحہ / صبا لکھنوی شہ نے درِ خیمہ سے زینبؑ کو پکارا ہے اب رخصتِ آخر کو بھیا ترا آیا ہے ہم جاتے ہیں مرنے کو، ہشیار بہن گھر سے اب تم ہو اسیری ہے اور ساتھ میں کنبہ ہے چھوٹے نہ کہیں دامن اب میرا کا ہاتھوں سے جو تم کو سنبھالے تھا وہ مرنے کو جاتا ہے بازاروں میں کوچوں میں سر ننگے پھرو گی تم اور یوں ہی رسن بستہ دربار میں جانا ہے اعدا تمہیں پہنچائیں، دُرّوں سے اذیت کر تم اُف نہ بہن کرنا، یہ میری تمنا ہے [بائیں کالم] عباسؑ نہ اکبرؑ ہیں، قاسمؑ نہ محمدؑ ہیں اس دشتِ مصیبت میں تو بے کس و تنہا ہے اب دور یتیمی ہے اور لاڈلے بچے ہیں بے موت مجھے خنجر اس رنج نے مارا ہے تم میرے یتیموں سے ہشیار بہن رہنا کون ان کا زمانے میں اب پوچھنے والا ہے شب کی عادت اسے سینے پر اب خاک کا بستر ہے اور بالی سکینہؑ ہے فرمایا سکینہؑ کو پھر پاس بلا کر یہ کیوں جان تو کھوتی ہے، بابا ابھی زندہ ہے اب بعد میرے جیتی چلئے گا رو لینا ماتم کا مرے کس کو حق تجھ سے زیادہ ہے بیٹی نے کہا بابا مرنے کو نہ تم جاؤ فرمایا مشیت میں کیا دخل کسی کا ہے بولی یہ سکینہؑ پھر پوچھا دو مدینے میں فرمایا یہ سرور نے، کیا زور ہمارا ہے محدود ہیں سب راہیں، لے جاؤں تمہیں کیوں کر مجبور ہوں، بے کس ہوں، کچھ بس نہیں اپنا ہے

344

Shah ne dar-e-khaima se Zainab ko pukara hai — jari Samjha chuke jab Hazrat is nazon ki pali ko Sajjad ke pas aa ke dekha ke ghash aaya hai Hoshiyar kiya Shah ne aur ro ke ye farmaya Ay lal utho, Baba ab marne ko jata hai Hosh aaya jo Abid ko, ki arz ye Baba se Aap aaye akele kyun? Dil mera dharakta hai Hamrah na Qasim hain, Abbas na Akbar hain Mujh se bhi to kuchh kahiye, kya waqia guzra hai Shabbir ne farmaya, sab qatl hue ran mein Ab mere siwa beta koi nahin zinda hai Talim ke Shah ne asrar-e-imamat phir Farmaya ke ab tum ho aur qaid ki iza hai Sar nange rasan-basta hamrah Haram hoge Bazaron mein kochon mein yun hi tumhein phirna hai Bekar na ho jaye mehnat meri, ay beta Ummat ki shafaat ka tum se hi sahara hai Ek aur wasiyat hai is be-kas-o-muztar ki Pura use kar dena, ye dil ki tamanna hai [Bayen kalam] Jab chhut ke zindan se tum jana Madine ko Kehna mere Shiaon se, ye paigham hamara hai Jab pani piyen thanda to yaad aaye Karbala Pyasa jise tiron ne mara hai Akbar ki judai ka hai dagh kaleje par Be-shir ko bhi tir-e-sitamgar ne mara hai Abbas se bhai ke shane kate darya par Pamal hua ran mein Qasim sa pyara hai Mehman bula kar di zillat mujhe ay Shabbir Zalim ne zara mujhe, Ahmad ka nawasa hai Tum meri taraf un se dosto pahunchana Koi mere lashe par rone nahin paya hai Sajjad se phir bole, jate hain Khuda Hafiz Mauquf qayamat par didar hamara hai Khaime se sada Sarwar jate hain suye maidan Bibiyon pe qayamat pardes mein chhaya hai
[شاہ نے درِ خیمہ سے زینبؑ کو پکارا ہے — جاری] سمجھا چکے جب حضرتؑ اس نازوں کی پالی کو سجادؑ کے پاس آ کے دیکھا کہ غش آیا ہے ہشیار کیا شہؑ نے اور رو کے یہ فرمایا اے لال اٹھو، بابا اب مرنے کو جاتا ہے ہوش آیا جو عابدؑ کو، کی عرض یہ بابا سے آپ آئے اکیلے کیوں؟ دل میرا دھڑکتا ہے ہمراہ نہ قاسمؑ ہیں، عباسؑ نہ اکبرؑ ہیں مجھ سے بھی تو کچھ کہیے، کیا واقعہ گزرا ہے شبیرؑ نے فرمایا، سب قتل ہوئے رن میں اب میرے سوا بیٹا کوئی نہیں زندہ ہے تعلیم کے شہؑ نے اسرارِ امامت پھر فرمایا کہ اب تم ہو اور قید کی ایذا ہے سر ننگے رسن بستہ ہمراہ حرم ہوگے بازاروں میں کوچوں میں یوں ہی تمہیں پھرنا ہے بے کار نہ ہو جائے محنت مری، اے بیٹا امت کی شفاعت کا تم سے ہی سہارا ہے اک اور وصیت ہے اس بے کس و مضطر کی پورا اسے کر دینا، یہ دل کی تمنا ہے [بائیں کالم] جب چھوٹ کے زندان سے تم جانا مدینے کو کہنا مرے شیعوں سے، یہ پیغام ہمارا ہے جب پانی پئیں ٹھنڈا تو یاد آئے کربلا پیاسا جسے تیروں نے مارا ہے اکبرؑ کی جدائی کا ہے داغ کلیجے پر بے شیر کو بھی تیرِ ستمگر نے مارا ہے عباسؑ سے بھائی کے شانے کٹے دریا پر پامال ہوا رن میں قاسمؑ سا پیارا ہے مہمان بلا کر دی ذلت مجھے اے شبیر ظالم نے ذرا مجھے، احمدؐ کا نواسا ہے تم میری طرف ان سے دوستو پہنچانا کوئی مرے لاشے پر رونے نہیں پایا ہے سجادؑ سے پھر بولے، جاتے ہیں خدا حافظ موقوف قیامت پر دیدار ہمارا ہے خیمے سے صدا سرورؑ جاتے ہیں سوئے میداں بیبوں پہ قیامت پردیس میں چھایا ہے

345

Ghabrayegi Zainab, mar jayegi Zainab (Matin / Tabib) Ghabrayegi Zainab, mar jayegi Zainab Bhaiya ko Madine mein kahan payegi Zainab Bhaiya ye bahen qaid se aai to hai chhut kar, azad hai khwahar Par teri lahad se na kahin jayegi Zainab Chhut jayega dekhte hi ghar ko kaleja, yaad aaoge bhaiya Dil dhundega tum ko to kahan payegi Zainab Ghar ja ke dekhegi to Qaim hai na Abbas Apne Ali Asghar ko kahan payegi Zainab Be-parda hui qaid bhi khai aur maut na aai Kya jane kya kya abhi dukh payegi Zainab Kaisa ye bhara ghar hua barbad itna, kya aai tabahi Ab is ko na abad kabhi payegi Zainab Puchhenge jo sab log ke bazu pe hua kya, ye nil hai kaisa Kis kis ko nishan-e-rasan dikhlayegi Zainab (Bashukriya soz-o-nauha khwan Muhtarama Kaukab Rizvi o Professor Shirin Rizvi) Salam khak-nashinon pe sogwaron ka Salam-e-akhir / Rashid Aal-e-Raza Salam khak-nashinon pe sogwaron ka Gharib dete hain ye tumhare pyaron ka Salam un pe jinhein Shimr khaye jati hai Khule saron pe piri ki khak aati hai Salam un pe jo zahmat-kash-e-salasil hai Salam bhejte hain apni shahzadi par Ke jis ko saunp gaye marte waqt Shah-e-Sarwar Amir ho ke jise Shamiyon ke narghe mein Husainiyat se kaha tha Ali ke lahje mein Musafir ne jise be-kasi ye dikhlai Magar karo chuke na pahuncha ka bhai Sakina Bibi tumhare ghulam hazir hain Tumhare jad ke pas to ashiqon ke jam hazir hain Husain mere sadr se Bint-e-Nabi Kahan pe chhut gayi ho khaime ke [aakhri misra juzwi taur par ghair wazeh]
گھبرائے گی زینبؑ، مرجائے گی زینبؑ (متین / طبیب) گھبرائے گی زینبؑ، مرجائے گی زینبؑ بھیا کو مدینے میں کہاں پائے گی زینبؑ بھیا یہ بہن قید سے آئی تو ہے چھٹ کر، آزاد ہے خواہر پر تیری لحد سے نہ کہیں جائے گی زینبؑ چھٹ جائے گی دیکھتے ہی گھر کو کلیجہ، یاد آؤ گے بھیا دل ڈھونڈے گا تم کو تو کہاں پائے گی زینبؑ گھر جا کے دیکھے گی تو قائم ہے نہ عباسؑ اپنے علی اصغرؑ کو کہاں پائے گی زینبؑ بے پردہ ہوئی قید بھی کھائی اور موت نہ آئی کیا جانے کیا کیا ابھی دکھ پائے گی زینبؑ کیسا یہ بھرا گھر ہوا برباد اتنا، کیا آئی تباہی اب اس کو نہ آباد کبھی پائے گی زینبؑ پوچھیں گے جو سب لوگ کہ بازو پہ ہوا کیا، یہ نیل ہے کیسا کس کس کو نشانِ رسن دکھلائے گی زینبؑ (بشکریہ سوز و نوحہ خواں محترمہ کوکب رضوی و پروفیسر شیرین رضوی) سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا سلام آخر / رشید آلِ رضا سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا غریب دیتے ہیں یہ تمہارے پیاروں کا سلام ان پہ جنہیں شمر کھائے جاتی ہے کھلے سروں پہ پیری کی خاک آتی ہے سلام ان پہ جو زحمت کشِ سلاسل ہے سلام بھیجتے ہیں اپنی شہزادی پر کہ جس کو سونپ گئے مرتے وقت شہِ سرور امیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں حسینیت سے کہا تھا علیؑ کے لہجے میں مسافر نے جسے بے کسی یہ دکھلائی مگر کرو چکے نہ پہنچا کا بھائی سکینہؑ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں تمہارے جد کے پاس تو عاشقوں کے جام حاضر ہیں حسینؑ میرے صدر سے بنتِ نبیؐ کہاں پہ چھٹ گئی ہو خیمے کے [آخری مصرع جزوی طور پر غیر واضح]

346

Salam khak-nashinon pe sogwaron ka — jari Pehla raat bari dard hai soye mein Kahan hun main, nihan zanjiron ke gehre mein Zainab garm, pyasi ki siskiyan Bibi Wo sine jis pe sar rakhti thin ab kahan Bibi Janab-e-Madar-e-be-shir ko bhi sab ka salam Ajib waqt hai kya den tasalliyon ka payam Abhi kaleje mein ek aag si lagi hogi Abhi to god ki garmi na kam hui hogi Nahin andhere mein kuchh sochta kahan dhunden Tumhara chand kahan chhup gaya, kahan dhunden Nahin lainon mein insan koi Khuda Hafiz Dardmand hai aur ye be-warisi Khuda Hafiz Sharik-e-Haq durud-o-salam Shabbir Salam Syed-e-Laulak ke bhare ghar par Salam mujh si Islam khasta-tan Ashura Salam un pe shahidon ke be-kafan lasho Bache to agle baras hum aayen aur ye gham phir hai Jo chal base to ye apna salam-e-akhir hai Be-parda Haram hain, sathi tere pardesi des par aaya hai Akhtar Be-parda Haram hain sath tere pardesi des par aaya hai Sajjad, Khuda malum tujhe Islam kahan le aaya hai Honton par magar khushk zaban bachche ne sawal aap kiya Asghar ke gale par zalim ne is jurm mein tir chalaya hai Ab kaun sahara de barh kar Abbas dilawar bhi to nahin Zahra ka pisar tanha, sar par Akbar ko tanha kar laya hai Kis waste Shah-e-Mazlum ko [misra juzwi taur par ghair wazeh] Be-parda kyun Zainab ko qaidi mein Abid aaya hai Shabbir chale hain maidan ko beti hai Sakina daman se Ehsas-e-yatimi ne shayad Masum ka dil tarpaya hai Hai khauf-e-rida ke chhinne ka, parde ka muhafiz koi nahin Ghurbat mein Ali ki beti par ye kaisa zamana aaya hai Sajjad ko sab tum bhul gaye darbar mein jana yaad raha Ankhon mein hamesha Sham rahi ta-umr ye sog manaya hai Akhtar ye teri awaz nahin, faryad hai Dukhtar-e-Zainab ki Sine ke ansu behte hain Quran ka dil bhar aaya hai
[سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا — جاری] پہلا رات بڑی درد ہے سوئے میں کہاں ہوں میں، نہاں زنجیروں کے گہرے میں زینبؑ گرم، پیاسی کی سسکیاں بی بی وہ سینے جس پہ سر رکھتی تھیں اب کہاں بی بی جنابِ مادرِ بے شیر کو بھی سب کا سلام عجیب وقت ہے کیا دیں تسلیوں کا پیام ابھی کلیجے میں اک آگ سی لگی ہوگی ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئی ہوگی نہیں اندھیرے میں کچھ سوچتا کہاں ڈھونڈیں تمہارا چاند کہاں چھپ گیا، کہاں ڈھونڈیں نہیں لعینوں میں انسان کوئی خدا حافظ درد مند ہے اور یہ بے وارثی خدا حافظ شریکِ حق درود و سلام شبیرؑ سلام سیدِ لولاک کے بھرے گھر پر سلام مجھسی اسلام خستہ تن عاشورہ سلام ان پہ شہیدوں کے بے کفن لاشو بچے تو اگلے برس ہم آئیں اور یہ غم پھر ہے جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے بے پردہ حرم ہیں، ساتھی تیرے پردیسی دیس پر آیا ہے اختر بے پردہ حرم ہیں ساتھ ترے پردیسی دیس پر آیا ہے سجادؑ، خدا معلوم تجھے اسلام کہاں لے آیا ہے ہونٹوں پر مگر خشک زباں بچے نے سوال آپ کیا اصغرؑ کے گلے پر ظالم نے اس جرم میں تیر چلایا ہے اب کون سہارا دے بڑھ کر عباسؑ دلاور بھی تو نہیں زہرا کا پسر تنہا، سر پر اکبرؑ کو تنہا کر لایا ہے کس واسطے شاہِ مظلوم کو [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] بے پردہ کیوں زینبؑ کو قیدی میں عابدؑ آیا ہے شبیرؑ چلے ہیں میدان کو بیٹی ہے سکینہؑ دامن سے احساسِ یتیمی نے شاید معصوم کا دل تڑپایا ہے ہے خوفِ ردا کے چھننے کا، پردے کا محافظ کوئی نہیں غربت میں علیؑ کی بیٹی پر یہ کیسا زمانہ آیا ہے سجادؑ کو سب تم بھول گئے دربار میں جانا یاد رہا آنکھوں میں ہمیشہ شام رہی تا عمر یہ سوگ منایا ہے اختر یہ تیری آواز نہیں، فریاد ہے دخترِ زینبؑ کی سینے کے آنسو بہتے ہیں قرآن کا دل بھر آیا ہے

347

Pardesi kunbe walon ki yaad jo tir chhuti hai Salman Rizvi (Islamabad) Pardesi kunbe walon ki yaad jo tir chhuti hai Nana ke rauze pe Sughra chupke chupke roti hai Aane wale bhai ka rasta, takti hai bimar bahen Bhai ki majbur judai, bachchi khaye soti hai Akbar ki shadi ki tamanna haye muqaddar Sughra ka Sehre ki lariyan to nahin, ashkon ka har piroti hai Kis ka rota dekhe ansu, sar ke din-e-asr ke baad Sughra apne rukhsaron se gard bhi roti hai Jis ne afat ki rahon mein farsh bichhaya phulon ka Afat us ke pyaron ki rah mein kante boti hai Bap ke sine par soti thi, wo bhi ek zamana tha Ek zamana ye hai Sakina, khak ke upar soti hai Apne khali daman ko, Salman kabhi khali na kaho Yaad-e-Shahid-e-Karb-o-bala mein, har ansu ek moti hai (Bashukriya soz-o-salam-o-nauha khwan Muhammad Raza Zaidi) Nishan-e-fauj-e-Shabbir sajaya jata hai Nishan-e-fauj-e-Shabbir sajaya jata hai Shabbir Khuda yaad aaya jata hai Ali ka lal alam le chuka baradar se Sakina Bibi ka Saqqa banaya jata hai Alam mein mashk bandhi, sab ko bandhi ummid Ke ab pyason ko pani pilaya jata hai Khuda kare ke ye khaime mein kamyab aaye Bari ummid se parda uthaya jata hai Ummid qata hui, ab sambhal nahin sakte Nishan-e-fauj-e-Khuda thartharaya jata hai Kata ke hath, zabani mein so gaye Abbas Alam Husain ke khaime mein laya jata hai Kuchh aisi shan se Akbar uthaye laye hain Ke jis tarah se janaza uthaya jata hai (Bashukriya sozkhwan Syed Nihal Husain Zaidi)
پردیسی کنبے والوں کی یاد جو تیر چھوتی ہے سلمان رضوی (اسلام آباد) پردیسی کنبے والوں کی یاد جو تیر چھوتی ہے نانا کے روضے پہ صغرا چپکے چپکے روتی ہے آنے والے بھائی کا رستہ، تکتی ہے بیمار بہن بھائی کی مجبور جدائی، بچی کھائے سوتی ہے اکبرؑ کی شادی کی تمنا ہائے مقدر صغرا کا سہرے کی لڑیاں تو نہیں، اشکوں کا ہار پروتی ہے کس کا روتا دیکھے آنسو، سر کے دنِ عصر کے بعد صغرا اپنے رخساروں سے گرد بھی روتی ہے جس نے آفت کی راہوں میں فرش بچھایا پھولوں کا آفت اس کے پیاروں کی راہ میں کانٹے بوتی ہے باپ کے سینے پر سوتی تھی، وہ بھی ایک زمانہ تھا ایک زمانہ یہ ہے سکینہؑ، خاک کے اوپر سوتی ہے اپنے خالی دامن کو، سلمانؑ کبھی خالی نہ کہو یادِ شہیدِ کرب و بلا میں، ہر آنسو اک موتی ہے (بشکریہ سوز و سلام و نوحہ خواں محمد رضا زیدی) نشانِ فوجِ شبیرؑ سجایا جاتا ہے نشانِ فوجِ شبیرؑ سجایا جاتا ہے شبیرؑ خدا یاد آیا جاتا ہے علیؑ کا لال علم لے چکا برادر سے سکینہؑ بی بی کا سقہ بنایا جاتا ہے علم میں مشک بندھی، سب کو بندھی امید کہ اب پیاسوں کو پانی پلایا جاتا ہے خدا کرے کہ یہ خیمے میں کامیاب آئے بڑی امید سے پردہ اٹھایا جاتا ہے امید قطع ہوئی، اب سنبھل نہیں سکتے نشانِ فوجِ خدا تھرتھرایا جاتا ہے کٹا کے ہاتھ، زبانی میں سو گئے عباسؑ علم حسینؑ کے خیمے میں لایا جاتا ہے کچھ ایسی شان سے اکبرؑ اٹھائے لائے ہیں کہ جس طرح سے جنازہ اٹھایا جاتا ہے (بشکریہ سوز خواں سید نہال حسین زیدی)

348

Hansliyon wale mere, haye! Hazrat Sokhta Lakhnavi Lash pe be-shir ki man karti thi ro kar ye bayan Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Arzu dil hi mein rahi, dudh barhani ki tamanna Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Man ko na tha jo tum ab god mein aa jao Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Suna hai sara ban ka, tum ho akele gul-badan Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Haye ye kya sitam kiya, sath mujhe na le liya Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Hota to tha jo kuchh ho chuka, mujh se na bigro mah-liqa Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Dil chala jata hai mera god mein aao mah-liqa Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Rahm karo ay meri jaan warna ye mar jayegi man Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa [Bayen kalam — jari] Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Achchha meri thi gar khata mangi us ki main saza Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Jhula tumhein jhulaungi, loriyan de sulaungi Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Ab na dilaungi kabhi pani, manga dungi abhi Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa Karti hun har raat bhar lal mere, jag kar Hansliyon wale mere ho chuke bas ab khafa (Bashukriya Ustad Sadiq Husain ... / Anjuman Abidiya Kazimiya) Agha Sarosh / Hyderabad / Deccan Zahra ne mujhe Majlis-e-Sarwar mein dua di Ja maut na aaye tujhe didar-e-Ali tak Be-nur nigahon ko dikhai nahin dete Parcham ko hain thame hue do hath abhi tak (Bashukriya sozkhwan Sajjad Baqiri o Ali Raza Baqiri)
ہنسلیوں والے مرے، ہائے! حضرت سوختہ لکھنوی لاش پہ بے شیر کی ماں کرتی تھی رو کر یہ بیاں ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا آرزو دل ہی میں رہی، دودھ بڑھانی کی تمنا ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا ماں کو نہ تھا جو تم اب گود میں آ جاؤ ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا سونا ہے سارا بن کا، تم ہو اکیلے گل بدن ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا ہائے یہ کیا ستم کیا، ساتھ مجھے نہ لے لیا ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا ہوتا تو تھا جو کچھ ہو چکا، مجھ سے نہ بگڑو مہ لقا ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا دل چلا جاتا ہے میرا گود میں آؤ مہ لقا ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا رحم کرو اے مری جان ورنہ یہ مر جائے گی ماں ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا [بائیں کالم — جاری] ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا اچھا مری تھی گر خطا مانگی اس کی میں سزا ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا جھولا تمہیں جھلاؤں گی، لوریاں دے سلاؤں گی ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا اب نہ دلاؤں گی کبھی پانی، منگا دوں گی ابھی ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا کرتی ہوں ہر رات بھر لال مرے، جاگ کر ہنسلیوں والے مرے ہوچکے بس اب خفا (بشکریہ استاد صادق حسین ... / انجمن عابدیہ کاظمیہ) آغا سروش / حیدر آباد / دکن زہرا نے مجھے مجلسِ سرورؑ میں دعا دی جا موت نہ آئے تجھے دیدارِ علیؑ تک بے نور نگاہوں کو دکھائی نہیں دیتے پرچم کو ہیں تھامے ہوئے دو ہاتھ ابھی تک (بشکریہ سوز خواں سجاد باقری و علی رضا باقری)

349

Haye Akbar jawan, haye Akbar jawan Lash-e-farzand pe ro ke kehti thi man Haye Akbar jawan, haye Akbar jawan Ay mere ladle tum ko dhundun kahan Dil mein hasrat thi dulha tujhe main banaun Chand si main bahen ghar mein biyah kar laun Tere marne se dil ki kali ho gayi bayan Sath Shabbir ke gaya hai mera tu nihal Badle pani ke aada na den bad-nisal Lo khabar jald ran mein wo koi kahan Koi hasrat nikle na pai meri Nau-e-Jannat sawari tumhari chali Roko tabut sehra to bandh le man Ran mein Asghar akela hai ay mere lal Ban mein nur ke na roye ye rakha khayal Main chali qaid ki, sab tumhein (Bashukriya Hadi-o-Shahid Baradaran / Abidiya Kazimiya) Ghar chalo Sham hoti hai Asghar Qabr-e-Asghar pe kehti thi Madar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar Man tumhein lene aai hai dilbar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar Kyun khafa man se tum ho, zamana shar-khak kyun tum ko bhaya Aao godi mein meri thak kar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar Kis ko dikhlaun main khali bhara ghar, ab na Akbar na Sibt-e-Payambar Khauf ka bab hoka hai, yas safar ko rajh hai Zarra jata nahin mere dilbar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar God mein meri ab shab aa jao, chand si surat apni dikhao Haye Karbala se uja de gaye, khak mein bal tere ate hain Sun le tum se ye faryad Madar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar Nikalta parta hai munh se kaleja, tera jhula hai khaime mein suna Khak par nind aayegi kyun kar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar Dasht ki kyun zamin tum ko bhai, god kyun tum ne meri ujari Utho ab khwab se jaan-e-Madar, ghar chalo Sham hoti hai Asghar
ہائے اکبرؑ جوان، ہائے اکبرؑ جوان لاشِ فرزند پہ رو کے کہتی تھی ماں ہائے اکبرؑ جوان، ہائے اکبرؑ جوان اے مرے لاڈلے تم کو ڈھونڈوں کہاں دل میں حسرت تھی دولہا تجھے میں بناؤں چاند سی میں بہن گھر میں بیاہ کر لاؤں تیرے مرنے سے دل کی کلی ہو گئی بیاں ساتھ شبیرؑ کے گیا ہے میرا تو نہال بدلے پانی کے اعدا نہ دیں بد نصال لو خبر جلد رن میں وہ کوئی کہاں کوئی حسرت نکلے نہ پائی مری نوئے جنت سواری تمہاری چلی روکو تابوت سہرا تو باندھ لے ماں رن میں اصغرؑ اکیلا ہے اے مرے لال بن میں نور کے نہ روئے یہ رکھا خیال میں چلی قید کی، سب تمہیں (بشکریہ ہادی و شاہد برادران / عابدیہ کاظمیہ) گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ قبر اصغرؑ پہ کہتی تھی مادر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ ماں تمہیں لینے آئی ہے دلبر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ کیوں خفا ماں سے تم ہو، زمانہ شرخاک کیوں تم کو بھایا آؤ گودی میں میری تھک کر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ کس کو دکھلاؤں میں خالی بھرا گھر، اب نہ اکبرؑ نہ سبطِ پیمبر خوف کا باب ہوکا ہے، یاس سفر کو رجھ ہے ذرہ جاتا نہیں میرے دلبر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ گود میں میری اب شبِ آ جاؤ، چاند سی صورت اپنی دکھاؤ ہائے کربلا سے اجا دے گئے، خاک میں بال تیرے اٹے ہیں سن لے تم سے یہ فریاد مادر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ نکلتا پڑتا ہے منہ سے کلیجہ، تیرا جھولا ہے خیمے میں سونا خاک پر نیند آئے گی کیوں کر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ دشت کی کیوں زمیں تم کو بھائی، گود کیوں تم نے میری اجاڑی اٹھو اب خواب سے جانِ مادر، گھر چلو شام ہوتی ہے اصغرؑ

350

Ab kis ka intizar hai, utho Sakina ghar chalo (Doctor Professor Hilal Naqvi) Ab kis ka intizar hai, utho Sakina ghar chalo Tum par phuphi nisar hai, utho Sakina ghar chalo Sham-e-Ghariban aa gayi, gham ki siyahi chha gayi Bachne hain apne fauj mein, khatm larai ho gayi Lutne ka intizar hai, utho Sakina ghar chalo Baithi ho Baba ki khak par, utho ay meri nim-jaan Ammu tumhare khuld se lene na aayenge yahan Kaisa ye hal-e-zar hai, utho Sakina ghar chalo Ammu tumhare nahr par shane kata ke so gaye Baba ko dhundti ho kya, Baba bhi ran ke ho gaye Ek hashr ashkar hai, utho Sakina ghar chalo Baithi ho kyun ye siskiyan, rakhna hai hausla tumhein Asghar ke sath gahwara aata hai yaad kya tumhein Ab wo tir-e-mazar hai, utho Sakina ghar chalo [Bayen kalam] Phuphi ki jaan pe is qadar gham nahin imtihan Bache hue hain hont bhi ubhri hui hain ungliyan Daman bhi tar tar hai, utho Sakina ghar chalo Sar par hai shab ki tirgi, kab tak yahan pe rogi Baba ka tan kuchal gaya sine pe kis ke sogi Zakhmon ka jism-e-zar hai, utho Sakina ghar chalo Khak aur khun ke darmiyan lashein hain sab ate hue Bachao ki kise yahan sar hain bhi kate hue Roti hui bahar hai, utho Sakina ghar chalo Sar-e-alam sar kis ke se surat mere jari ki hai Pyari meri na ro, na ro, lashe mein tharthari si hai Maqtal bhi sogwar hai, utho Sakina ghar chalo Kitne sitam ko ho gayi, pamal ho gaya sukun Phir tumhare chhin gaye, dekho tapak raha hai khun Rukh par lahu ki dhar hai, utho Sakina ghar chalo (Bashukriya nauha khwan Jafar Kazmi Sahib)
اب کس کا انتظار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو (ڈاکٹر پروفیسر ہلال نقوی) اب کس کا انتظار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو تم پر پھوپھی نثار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو شامِ غریباں آگئی، غم کی سیاہی چھا گئی بچنے ہیں اپنے فوج میں، ختم لڑائی ہوگئی لٹنے کا انتظار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو بیٹھی ہو بابا کی خاک پر، اٹھو اے میری نیم جاں عمو تمہارے خلد سے لینے نہ آئیں گے یہاں کیسا یہ حالِ زار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو عمو تمہارے نہر پر شانے کٹا کے سو گئے بابا کو ڈھونڈتی ہو کیا، بابا بھی رن کے ہوگئے اک حشر آشکار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو بیٹھی ہو کیوں یہ سسکیاں، رکھنا ہے حوصلہ تمہیں اصغرؑ کے ساتھ گہوارہ آتا ہے یاد کیا تمہیں اب وہ تیرِ مزار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو [بائیں کالم] پھوپھی کی جان پہ اس قدر غم نہیں امتحان بچے ہوئے ہیں ہونٹ بھی ابھری ہوئی ہیں انگلیاں دامن بھی تار تار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو سر پر ہے شب کی تیرگی، کب تک یہاں پہ رو گی بابا کا تن کچل گیا سینے پہ کس کے سو گی زخموں کا جسم زار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو خاک اور خون کے درمیان لاشیں ہیں سب اٹے ہوئے بچاؤ کی کسے یہاں سر ہیں بھی کٹے ہوئے روتی ہوئی بہار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو سرِ علم سر کس کے سے صورت مرے جری کی ہے پیاری مری نہ رو، نہ رو، لاشے میں تھرتھری سی ہے مقتل بھی سوگوار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو کتنے ستم کو ہوگئی، پامال ہوگیا سکون پھر تمہارے چھن گئے، دیکھو ٹپک رہا ہے خون رخ پر لہو کی دھار ہے، اٹھو سکینہؑ گھر چلو (بشکریہ نوحہ خواں جعفر کاظمی صاحب)

351

Ay Sakina ab na Baba aayenge (Maulana Tauqir Zaidi) Shahzadi Shahzadi sabr kar Masum Bibi sabr kar Tu jo royegi Haram ghabrayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Sath-e-Sham-e-Ghariban hai qarib, ek qayamat-khez tufan hai qarib Dasht mein tanha Haram reh jayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Sabr kar Karbala ki god mein, so gaye Asghar qaza ki god mein Kya khabar thi bhi mare jayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Ab phuphi Zainab sambhalengi tumhein, god mein apni sula lengi tumhein Syed Sajjad dil bahlayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Yahan faryad karti jayegi, chadaren aag hi chhini jayengi Is qadar ye zulm aada dhayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Ek qayamat aur dhayenge lain, aag khaimon mein lagayenge lain Jis ke shole asman tak jayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Sham-e-zindan denge tohfa-e-azar, tum ko Abid ko paband-e-salasil bar bar Paon piyada Sham tak le jayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Sham-e-zindan ki yaad hoti jayegi, Karbala abad hoti jayegi Rone wale is qadar ho jayenge, ay Sakina ab na Baba aayenge Mara gaya Husain jo mehman Karbala Riwayati nauha Mara gaya Husain jo mehman Karbala Lashon se tha bhara hua maidan Karbala Jab raat aai baad-e-shahidan Karbala Karta tha sain sain biyaban Karbala Mehman mominon ka bura aaj tak Husain Aram hai falak ko na did-e-Hafiz Husain Ek raat ka Husain hai mehman Karbala Dar aaya khaima-gah mein jab lashkar-e-sharar Dodi hue Abid-e-muztar wo nauhagar Zarra lagaya ek sitamgar ne pusht par Haram is ghari se the haye pachhtate Karbala Jinhein kisi ne Zainab-o-Kulsum ki rida Fizza ne dar-e-khaima nida ki: Ya Sher-e-Karbala Qatil ka lasha god se pamal ho gaya Asghar ki pyas be-kasi ke naam ho gaya Sukha hai dopahar mein gulistan Karbala Mashar Lakhnavi Marhum (Jadid Bayaz / Imamiya Kutub Khana Lahore)
اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے (مولانا توقیر زیدی) شاہزادی شاہزادی صبر کر معصوم بی بی صبر کر تو جو روئے گی حرم گھبرائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے ساتھِ شامِ غریباں ہے قریب، ایک قیامت خیز طوفاں ہے قریب دشت میں تنہا حرم رہ جائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے صبر کر کربلا کی گود میں، سو گئے اصغرؑ قضا کی گود میں کیا خبر تھی بھی مارے جائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے اب پھوپھی زینبؑ سنبھالیں گی تمہیں، گود میں اپنی سلا لیں گی تمہیں سید سجادؑ دل بہلائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے یہاں فریاد کرتی جائے گی، چادریں آگ ہی چھینی جائیں گی اس قدر یہ ظلم اعدا ڈھائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے ایک قیامت اور ڈھائیں گے لعیں، آگ خیموں میں لگائیں گے لعیں جس کے شعلے آسماں تک جائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے شامِ زنداں دیں گے تحفۂ آزار، تم کو عابدؑ کو پابندِ سلاسل بار بار پاؤں پیادہ شام تک لے جائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے شامِ زنداں کی یاد ہوتی جائے گی، کربلا آباد ہوتی جائے گی رونے والے اس قدر ہو جائیں گے، اے سکینہؑ اب نہ بابا آئیں گے مارا گیا حسینؑ جو مہمان کربلا روایتی نوحہ مارا گیا حسینؑ جو مہمان کربلا لاشوں سے تھا بھرا ہوا میدان کربلا جب رات آئی بعدِ شہیدان کربلا کرتا تھا سائیں سائیں بیابان کربلا مہمان مومنوں کا برا آج تک حسینؑ آرام ہے فلک کو نہ دیدِ حافظ حسینؑ اک رات کا حسینؑ ہے مہمان کربلا در آیا خیمہ گاہ میں جب لشکرِ شرر دودی ہوئے عابدِ مضطر وہ نوحہ گر ذرا لگایا ایک ستمگر نے پشت پر حرم اس گھڑی سے تھے ہائے پچھتاتے کربلا جنہیں کسی نے زینبؑ و کلثومؑ کی ردا فضہ نے درِ خیمہ ندا کی: یاشیرِ کربلا قاتل کا لاشہ گود سے پامال ہوگیا اصغرؑ کی پیاس بے کسی کے نام ہوگیا سوکھا ہے دو پہر میں گلستان کربلا معشر لکھنوی مرحوم (جدید بیاض / امامیہ کتب خانہ لاہور)

352

Masuma ko turbat mein bhi zalim ne sataya, faryad Khudaya Jannat-ul-Baqi / Syed Raza Sahib-ul-Baqi Masuma ko turbat mein bhi zalim ne sataya, faryad Khudaya Be-din ne turbat pe imarat ko giraya, faryad Khudaya Sone na diya qabr mein bhi haye jahan ki lanat hai Khuda ki Beti pe Muhammad ki sitam kaisa ye dhaya, faryad Khudaya Phir khole hawa dil Hasan sabz-qaba ka, aur khun-e-Ahl aaya Madar ki lahad ko jo sitamgar ne mitaya, faryad Khudaya Zinda hain jab tak na kabhi chain se soyen, bas bap ko royhen Jab seh na saken zulm to turbat ko bulaya, faryad Khudaya Sar pito magar ye qayamat ki ghari hai, is roz lain ne Qabr ko gira kar, Arsh-e-Ilahi ko hilaya, faryad Khudaya Rauza jo gira, Arsh se awaz ye aai, Khatun ki duhai Mazluma ne marqad mein bhi aram na paya, faryad Khudaya Shahzadi Kaunain abhi leti magar intizar, is gham se hai muztar Ab tak na use rauza-e-pur-nur dikhaya, faryad Khudaya (Bashukriya qari-o-zakir-e-Hadis-e-Kisa sozkhwan Raza Maulai) Haye zalim ne kiya zulm dhaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Nauha-e-inhidam Jannat-ul-Baqi / Bashir Haye zalim ne kiya zulm dhaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Qabr mein be-kasi kar dala, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Pak Shiaon ki rauza-dari, haye badbakht jallad nari Kuchh na khauf-e-Khuda dil mein laya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Amina, Fatima aur Hasan ka, Abid-o-Baqir par zulm ka Haye Sadiq ka rauza giraya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Rukh duniya ke lakhon hi sarah, jo ke sote the qabron ke andar Un ko zalim ne nahaq jagaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Makan-e-Taif mein de ke lain ne hujron se Jahannum ki Qatl-e-Shiaon ko nahaq karaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Be-gunahon pe wo zulm tore, mare naam Muhammad pe kore Qaid mein alimon ko phansaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Haye bhula ke apni sharafat kar liya din zalim ne gharat Khat kuchh aisa dil mein samaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya Ay Bashir ab ba-sad aah-o-zari kar dua ye Parwardigar-e-Bari Kar de zalim ka jald se safaya, Ahl-e-Bait-e-Nabi ko sataya
معصومہؑ کو تربت میں بھی ظالم نے ستایا، فریاد خدایا جنت البقیع / سید رضا صاحب البقیع معصومہؑ کو تربت میں بھی ظالم نے ستایا، فریاد خدایا بے دیں نے تربت پہ عمارت کو گرایا، فریاد خدایا سونے نہ دیا قبر میں بھی ہائے جہاں کی لعنت ہے خدا کی بیٹی پہ محمدؐ کی ستم کیسا یہ ڈھایا، فریاد خدایا پھر کھولے ہوا دل حسنؑ سبز قبا کا، اور خونِ اہل آیا مادر کی لحد کو جو ستمگر نے مٹایا، فریاد خدایا زندہ ہیں جب تک نہ کبھی چین سے سوئیں، بس باپ کو روئیں جب سہ نہ سکیں ظلم تو تربت کو بلایا، فریاد خدایا سر پیٹو مگر یہ قیامت کی گھڑی ہے، اس روز لعیں نے قبر کو گرا کر، عرشِ الٰہی کو ہلایا، فریاد خدایا روضہ جو گرا، عرش سے آواز یہ آئی، خاتون کی دہائی مظلومہ نے مرقد میں بھی آرام نہ پایا، فریاد خدایا شہزادی کونین ابھی لیٹی مگر انتظار، اس غم سے ہے مضطر اب تک نہ اسے روضہ پر نور دکھایا، فریاد خدایا (بشکریہ قاری و ذاکر حدیث کساء سوز خواں رضا مولائی) ہائے ظالم نے کیا ظلم ڈھایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا نوحہ انہدام جنت البقیع / بشیر ہائے ظالم نے کیا ظلم ڈھایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا قبر میں بے کسی کر ڈالا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا پاک شیعوں کی روضہ داری، ہائے بدبخت جلاد ناری کچھ نہ خوفِ خدا دل میں لایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا آمنہؑ، فاطمہؑ اور حسنؑ کا، عابدؑ و باقرؑ پر ظلم کا ہائے صادقؑ کا روضہ گرایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا رخ دنیا کے لاکھوں ہی سرہ، جو کہ سوتے تھے قبروں کے اندر ان کو ظالم نے ناحق جگایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا مکان طائف میں دے کے لعیں نے حجرؤں سے جہنم کی قتلِ شیعوں کو ناحق کرایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا بے گناہوں پہ وہ ظلم توڑے، مارے نام محمدؐ پہ کوڑے قید میں عالموں کو پھنسایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا ہائے بھلا کے اپنی شرافت کرلیا دین ظالم نے غارت خط کچھ ایسا دل میں سمایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا اے بشیرؔ اب بصد آہ و زاری کر دعا یہ پروردگار باری کردے ظالم کا جلد سے صفایا، اہلبیتِ نبیؐ کو ستایا

353

Ay Karbala bata, Ali Asghar kahan gaya (Sibt Haider Zaidi) Ay Karbala bata Ali Asghar kahan gaya Tir tum wo halq pe kha kar kahan gaya Kehti thi Umm-e-Farwa ke ay Karbala bata Naushah ban ke Qasim-e-Shabbar kahan gaya Jis ke chehre se pahunchti thi mujhe bu-e-Husain Wo naujawan Shabih-e-Payambar kahan gaya Haider ki yadgar-o-alamdar-e-fauj-e-Shah Wo Karbala ka zaigham-o-Safdar kahan gaya Ay waqt-e-asr, yaad ho tujh ko to ye bata Ghore se gir ke Sibt-e-Payambar kahan gaya Mauj-e-Furat sar ko patak kar ye kehti hai Ay Karbala wo pyason ka lashkar kahan gaya Ay Karbala ki Sham-e-Ghariban zara bata Jalta hua mariz ka bistar kahan gaya Bad-e-saba tha jis ki zulm ki zanjir-o-tauq mein Ay Karbala wo Abid-e-muztar kahan gaya [Bayen kalam] Jin ke gharon se chhin ke chadar gaya lain Bibiyon ka qafila wo khule sar kahan gaya Sagar Lakhnavi Na kyun har sang-dil ashk-e-gham-e-Shabbir se larze Ye wo pani hai jo surakh kar deta hai patthar mein Inhi ashkon ki qimat par milenge qasr-e-Jannat ke Yahi sikka chalega har taraf bazar-e-mahshar mein Syed Sibt Hasan Anjum Aaj bhi dahr mein ba-tarf-e-Haider Haq-o-batil ki jang jari hai Aakhri waris-e-dar Panjtanon Ab zarurat faqat tumhari hai (Bashukriya sozkhwan Syed Riyaz Haider Zaidi, Lahore)
اے کربلا بتا، علی اصغرؑ کہاں گیا (سبط حیدر زیدی) اے کربلا بتا علی اصغرؑ کہاں گیا تیر تم وہ حلق پہ کھا کر کہاں گیا کہتی تھی ام فروہؑ کہ اے کربلا بتا نوشاہ بن کے قاسمِ شبرؑ کہاں گیا جس کے چہرے سے پہنچتی تھی مجھے بوئے حسینؑ وہ نوجوان شبیہِ پیمبرؐ کہاں گیا حیدرؑ کی یادگار و علمدارِ فوجِ شاہ وہ کربلا کا ضیغم و صفدرؑ کہاں گیا اے وقتِ عصر، یاد ہو تجھ کو تو یہ بتا گھوڑے سے گر کے سبطِ پیمبرؐ کہاں گیا موجِ فرات سر کو پٹک کر یہ کہتی ہے اے کربلا وہ پیاسوں کا لشکر کہاں گیا اے کربلا کی شامِ غریباں ذرا بتا جلتا ہوا مریض کا بستر کہاں گیا بادِ صبا تھا جس کی ظلم کی زنجیر و طوق میں اے کربلا وہ عابدِ مضطرؑ کہاں گیا [بائیں کالم] جن کے گھروں سے چھین کے چادر گیا لعیں بیبوں کا قافلہ وہ کھلے سر کہاں گیا ساگر لکھنوی نہ کیوں ہر سنگ دل اشکِ غمِ شبیرؑ سے لرزے یہ وہ پانی ہے جو سوراخ کردیتا ہے پتھر میں انہی اشکوں کی قیمت پر ملیں گے قصرِ جنت کے یہی سکہ چلے گا ہر طرف بازارِ محشر میں سید سبط حسن انجم آج بھی دہر میں بطرفِ حیدر حق و باطل کی جنگ جاری ہے آخری ورثہ دار پنج تنوں اب ضرورت فقط تمہاری ہے (بشکریہ سوز خواں سید ریاض حیدر زیدی، لاہور)

354

Baad-e-Husain kis ne kaha main yatim hun (Shorur) Baad-e-Husain kis ne kaha main yatim hun Maqtal se aa rahi hai sada main yatim hun Bolin Sakina sar se kanon par rakh ke hath Ghar na puchhen bahr-e-Khuda, main yatim hun Jo hai wo zulm karta hai majbur jaan kar Shayad yahi hai meri khata, main yatim hun Main apne ansuon se bujha lungi apni pyas Darya se laut aao chacha, main yatim hun Sar rakh diya Sakina ne Zainab ki god mein Rakhna phuphi khayal mera, main yatim hun Daman phata hua hai, gareban chak hai Dekha ay Zamin-e-Karb-o-bala, main yatim hun Maqtal se suye Sham ye kehti hui chali Baba mera shahid hua, main yatim hun Zikr-e-Sakina aate hi dil kanp utha Shor Jaise kisi ne mujh se kaha main yatim hun (Bashukriya nauha khwan Mujtaba Naqvi Artist) Sar-katdaron ka Mazlum Urdu tarjuma Jahan mein tum chale Shabbar-o-Shabbir par roye Gharon mein aah-o-zari, jangal mein jano roye Farishte Arsh par matam, shahidon mein Gaye Shahzadgan-e-Khuld-e-Jannat ke gulistan mein Tumhein hain Jannat ke roz-e-shahadat se Shafaat ki na rakhen wo koi ummid rahmat se Idhar Syedaniyon bachchon ko zanjir jang deti hain Idhar dushmanon ki masturat khauf se kehti hain Ke tum ran ke khangore ho, tumhein lazim tha mar jana Faryad ye har su thi ke ay Madine Is shahr se rukhsat hue Maula-e-Madine Ankhon pe basti hui Sadat se khali Kis waste viran na ho duniya-e-Madina Shabbir hue garan rah-e-shahadat Shabbir par ab dil mein tamanna-e-Madina
بعد حسینؑ کس نے کہا میں یتیم ہوں (شورور) بعد حسینؑ کس نے کہا میں یتیم ہوں مقتل سے آرہی ہے صدا میں یتیم ہوں بولیں سکینہؑ سر سے کانوں پر رکھ کے ہاتھ گھر نہ پوچھیں بہر خدا، میں یتیم ہوں جو ہے وہ ظلم کرتا ہے مجبور جان کر شاید یہی ہے میری خطا، میں یتیم ہوں میں اپنے آنسوؤں سے بجھالوں گی اپنی پیاس دریا سے لوٹ آؤ چچا، میں یتیم ہوں سر رکھ دیا سکینہؑ نے زینبؑ کی گود میں رکھنا پھوپھی خیال مرا، میں یتیم ہوں دامن پھٹا ہوا ہے، گریباں چاک ہے دیکھا اے زمینِ کرب و بلا، میں یتیم ہوں مقتل سے سوئے شام یہ کہتی ہوئی چلی بابا مرا شہید ہوا، میں یتیم ہوں ذکرِ سکینہؑ آتے ہی دل کانپ اٹھا شور جیسے کسی نے مجھ سے کہا میں یتیم ہوں (بشکریہ نوحہ خواں مجتبٰی نقوی آرٹسٹ) سر کٹداروں کا مظلوم اردو ترجمہ جہاں میں تم چلے شبرؑ و شبیرؑ پر روئے گھروں میں آہ و زاری، جنگل میں جانو روئے فرشتے عرش پر ماتم، شہیدوں میں گئے شہزادگانِ خلدِ جنت کے گلستان میں تمہیں ہیں جنت کے روزِ شہادت سے شفاعت کی نہ رکھیں وہ کوئی امید رحمت سے ادھر سیدانیوں بچوں کو زنجیر جنگ دیتی ہیں ادھر دشمنوں کی مستورات خوف سے کہتی ہیں کہ تم رن کے کھنگورے ہو، تمہیں لازم تھا مرجانا فریاد یہ ہر سو تھی کہ اے مدینے اس شہر سے رخصت ہوئے مولاۓ مدینے آنکھوں پہ بستی ہوئی سادات سے خالی کس واسطے ویران نہ ہو دنیاۓ مدینہ شبیرؑ ہوئے گران راہِ شہادت شبیرؑ پر اب دل میں تمنائے مدینہ

355

Sar-katdaron ka Mazlum Urdu tarjuma — jari Wo manzar phir kahan Ahl-e-Madina ko nazar aaya Madine ka musafir sab Madine laut kar aaya Haram aa gaya, ummat ke Shahzade nahin aaye ***** Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai ke sar-katdaron ka iqtibas Aur Urdu tarjuma: Shaikh Ayaz, manzum: Rais Amrohvi (Bashukriya Doctor Professor Maula Hasan Rizvi / Professor ...) Dinon ko jo sarak kinare mayen bahnein roti hain Un ke waris bhi hote hain, un ka bhi to ghar bhi hota hai (Abid Raza Shakib) Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Khususan [asma juzwi taur par ghair wazeh] Muharram aa gaya ummat ke Shahzade nahin aaye! Chale Shaban mein maqtal ki janib Karbala wale Musallah the nirali shan se sabr-o-raza wale Unhein khud naz tha apni sharafat par shujaat par Yahi the Mustafa wale, yahi the Murtaza wale Muharram aa gaya ummat ke Shahzade nahin aaye Bani taqdir-e-Yazdan thi, yahi sirr-e-mashiyyat tha Madine aur Makke mein bapa shor-e-qayamat tha Bani Hashim ke jis mein afrad-e-millat tha Shahadat Karbala walon ki kya thi ramz-e-qudrat tha Muharram aa gaya ummat ke Shahzade nahin aaye Madine se gaye wo Karbala ki qatl-gahon mein Wo khun-e-qatl-gahen aaj tak faryad karti hain Husaini qafila sahraon ki jin rahon se guzra tha Wo khunin qatl-gahen aaj tak faryad karti hain Muharram aa gaya ummat ke Shahzade nahin aaye
[سر کٹداروں کا مظلوم اردو ترجمہ — جاری] وہ منظر پھر کہاں اہلِ مدینہ کو نظر آیا مدینے کا مسافر سب مدینے لوٹ کر آیا حرم آگیا، امت کے شہزادے نہیں آئے ***** حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے سر کٹداروں کا اقتباس اور اردو ترجمہ: شیخ ایاز، منظوم: رئیس امروہوی (بشکریہ ڈاکٹر پروفیسر مولا حسن رضوی / پروفیسر ...) دینوں کو جو سرک کنارے مائیں بہنیں روتی ہیں ان کے وارث بھی ہوتے ہیں، ان کا بھی تو گھر بھی ہوتا ہے (عابد رضا شکیب) التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب خصوصاً [اسماء جزوی طور پر غیر واضح] محرم آگیا امت کے شہزادے نہیں آئے! چلے شعبان میں مقتل کی جانب کربلا والے مسلّح تھے نرالی شان سے صبر و رضا والے انہیں خود ناز تھا اپنی شرافت پر شجاعت پر یہی تھے مصطفیٰؐ والے، یہی تھے مرتضیٰؑ والے محرم آگیا امت کے شہزادے نہیں آئے بنی تقدیرِ یزداں تھی، یہی سرِ مشیت تھا مدینے اور مکے میں بپا شورِ قیامت تھا بنی ہاشم کے جس میں افراد ملت تھا شہادت کربلا والوں کی کیا تھی رمزِ قدرت تھا محرم آگیا امت کے شہزادے نہیں آئے مدینے سے گئے وہ کربلا کی قتل گاہوں میں وہ خونِ قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں حسینی قافلہ صحراؤں کی جن راہوں سے گزرا تھا وہ خونیں قتل گاہیں آج تک فریاد کرتی ہیں محرم آگیا امت کے شہزادے نہیں آئے

356

Jab kabhi ghairat-e-insan ka sawal aata hai Jab kabhi ghairat-e-insan ka sawal aata hai Bint-e-Zahra tere parde ka khayal aata hai Ay khilafat tumhein Haq chhinne ka afsos nahin Par gunahon ki sadaqat ka khayal aata hai Is tarah tanha khare the Shabbir ran mein Jis tarah chand ko taron mein zawal aata hai Maut kis soch mein hai, lasha-e-Akbar pe khari Kya Payambar ki jawani ka khayal aata hai Shuhada ke pichhe ke piri hai zaban honton par Aaj Shabbir ko Haider ka jalal aata hai Kaun qaidi hai ke laye hain Kufa wale Kuchh Muhammad ki nawasi ka khayal aata hai ***** Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma juzwi taur par ghair wazeh] Banu ka ye arman tha abad makan hoga Banu ka ye arman tha abad makan hoga Ek roz wo hoga jab Asghar bhi jawan hoga Lash aai jo Asghar ki, man ro ke ye kehti thi Beta tujhe maut aai, ab kaun jawan hoga Logo mere bachche ko maqtal se utha lao Wan khak ka bistar hai, aram kahan hoga Aghosh mein rehne tujhe kyun gor pasand aai Wan khak ka bistar hai, aram kahan hoga Agah nahin thi main taqdir ke likhe se Tifl mein mera bachcha ankhon se nihan hoga Khwahar un ke bachche ko do ghont pila jao Main aati hun pani ye gar kahan hoga Be-shir ki turbat pe ye bain the Madar ke Sughra tujhe puchhegi, kya mera miyan hoga (Bashukriya salam-o-nauha khwan Syed Iqbal Husain Bali)
جب کبھی غیرتِ انسان کا سوال آتا ہے جب کبھی غیرتِ انسان کا سوال آتا ہے بنتِ زہراؑ ترے پردے کا خیال آتا ہے اے خلافت تمہیں حق چھیننے کا افسوس نہیں پر گناہوں کی صداقت کا خیال آتا ہے اس طرح تنہا کھڑے تھے شبیرؑ رن میں جس طرح چاند کو تاروں میں زوال آتا ہے موت کس سوچ میں ہے، لاشۂ اکبرؑ پہ کھڑی کیا پیمبرؐ کی جوانی کا خیال آتا ہے شہدا کے پیچھے کے پیری ہے زباں ہونٹوں پر آج شبیرؑ کو حیدرؑ کا جلال آتا ہے کون قیدی ہے کے لائے ہیں کوفہ والے کچھ محمدؐ کی نواسی کا خیال آتا ہے ***** التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب [اسماء جزوی طور پر غیر واضح] بانو کا یہ ارمان تھا آباد مکان ہوگا بانو کا یہ ارمان تھا آباد مکان ہوگا اک روز وہ ہوگا جب اصغرؑ بھی جوان ہوگا لاش آئی جو اصغرؑ کی، ماں رو کے یہ کہتی تھی بیٹا تجھے موت آئی، اب کون جوان ہوگا لوگو مرے بچے کو مقتل سے اٹھا لاؤ واں خاک کا بستر ہے، آرام کہاں ہوگا آغوش میں رہنے تجھے کیوں گور پسند آئی واں خاک کا بستر ہے، آرام کہاں ہوگا آگاہ نہیں تھی میں تقدیر کے لکھے سے طفل میں مرا بچہ آنکھوں سے نہاں ہوگا خواہرؑ ان کے بچے کو دو گھونٹ پلا جاؤ میں آتی ہوں پانی یہ گر کہاں ہوگا بے شیر کی تربت پہ یہ بین تھے مادر کے صغرا تجھے پوچھے گی، کیا میرا میاں ہوگا (بشکریہ سلام و نوحہ خواں سید اقبال حسین بالی)

357

Karbala se jo kabhi ho ke hawa aati hai Karbala se jo kabhi ho ke hawa aati hai Kisi Masum ki bachchi ki sada aati hai Haye barhta ho marqad mein kahin qalb-e-Rubab Ali Asghar, Ali Asghar ki sada aati hai Man samajhti thi, bahen ladli aaya hai shabab Shab se sunte hain ke Akbar ki qaza aati hai Munh phir lete hain Abbas, patak parte hain ashk Shimr ki samt se zulmi jo hawa aati hai Kaun sota hai kinare tere ay Nahr-e-Furat Teri mitti se abhi bu-e-wafa aati hai (Bashukriya salam khwan Anees Haider Naqvi) Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab [Asma juzwi taur par ghair wazeh] Kya kya sitam Husain ke dil par guzar gaye Kya kya sitam Husain ke dil par guzar gaye Akbar guzar gaye, Ali Asghar guzar gaye Mushkil thi rah-e-Haq mein har ek manzil-e-wafa Le kar Ali ka naam bahr guzar gaye Faujon ko chirte hue Abbas Namdar Maqtal se misl-e-Haider-e-Safdar guzar gaye Arman lakhon dil mein the Madar liye hue Din biyah ke jab aaye to Akbar guzar gaye Jab yaad aa gayi kabhi Zainab ko Karbala Kya kya kya nazar ke samne manzar guzar gaye Sadme jo umr bhar mein koi seh na payega Ek dopahar mein Shah ke dil par guzar gaye (Bashukriya sozkhwan Haider Jaunpuri o Zaman Abbas Aqil Rizvi) Iltimas Surah Fatiha baraye isal-e-sawab Sozkhwan Janab Sahib ... [juzwi taur par ghair wazeh]
کربلا سے جو کبھی ہو کے ہوا آتی ہے کربلا سے جو کبھی ہو کے ہوا آتی ہے کسی معصوم کی بچی کی صدا آتی ہے ہائے بڑھتا ہو مرقد میں کہیں قلبِ ربابؑ علی اصغرؑ، علی اصغرؑ کی صدا آتی ہے ماں سمجھتی تھی، بہن لاڈلی آیا ہے شباب شب سے سنتے ہیں کہ اکبرؑ کی قضا آتی ہے منہ پھر لیتے ہیں عباسؑ پٹک پڑتے ہیں اشک شمر کی سمت سے ظلمی جو ہوا آتی ہے کون سوتا ہے کنارے ترے اے نہرِ فرات تیری مٹی سے ابھی بوئے وفا آتی ہے (بشکریہ سلام خواں انیس حیدر نقوی) التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب [اسماء جزوی طور پر غیر واضح] کیا کیا ستم حسینؑ کے دل پر گزر گئے کیا کیا ستم حسینؑ کے دل پر گزر گئے اکبرؑ گزر گئے، علی اصغرؑ گزر گئے مشکل تھی راہِ حق میں ہر اک منزلِ وفا لے کر علیؑ کا نام بہر گزر گئے فوجوں کو چیرتے ہوئے عباسؑ نامدار مقتل سے مثلِ حیدرِ صفدرؑ گزر گئے ارمان لاکھوں دل میں تھے مادر لئے ہوئے دن بیاہ کے جب آئے تو اکبرؑ گزر گئے جب یاد آگئی کبھی زینبؑ کو کربلا کیا کیا کیا نظر کے سامنے منظر گزر گئے صدمے جو عمر بھر میں کوئی سہ نہ پائے گا اک دوپہر میں شاہؑ کے دل پر گزر گئے (بشکریہ سوز خواں حیدر جونپوری و زمان عباس عقیل رضوی) التمـاس سورۃ فاتحہ برائے ایصالِ ثواب سوز خواں جناب صاحب ... [جزوی طور پر غیر واضح]

358

Yaad aai na tumhein Fatima Sughra Baba Yaad aai na tumhein Fatima Sughra, Baba Karbala ja ke hamein bhul na jana, Baba Haye kis kis ka gila kis ki shikayat likhun Ek nama to kisi ne bhi na likha, Baba Keh gaye the mere bhai tumhein le jaunga Kya hua, aaye na lene mere bhaiya, Baba Main samajhti hun ke bhai ne rachai shadi Is liye aaye na lene mere bhaiya, Baba Ab to Asghar bhi mera ghutnon chalta hoga Mere bhai ko mera naam batana, Baba Naam sun kar mera kahiye to tumhein meri qasam Meri janib se kaleje se lagana, Baba So rahi hun Ali Asghar jo rahon mein Hai ye hasrat meri jhule ko jhulana, Baba (Bashukriya sozkhwan Professor Aziz Zaidi o Ibn Husain Karbalai) Iltimas-e-Fatiha baraye shair-o-sozkhwan Asar Dehlavi Luta gaya hai Sibt-e-Payambar, watan se dur Sagar Faizabadi Luta gaya hai Sibt-e-Payambar, watan se dur Ujra hai Fatima ka bhara ghar, watan se dur Guzri hai yun Husain pe Ashur Karbala Jaise para ho arsa-e-mahshar, watan se dur Sab kuchh nisar kar ke Muhammad ke din par Basti thi ja-ba-jaye Sarwar, watan se dur Ay maut ek bahen se na chhin us ke bhai ko Sughra watan mein hai, Ali Akbar watan se dur Marne chale Husain to Zainab ne ye kaha Chhora hai kis pe lakhe baradar, watan se dur Pyasa shahid ho gaya Sughra ka nur-e-ain Phera gale pe Shimr ne khanjar, watan se dur Chalti hui zamin pe be-gor-o-be-kafan Jaan-e-Rasul qad hai bahattar, watan se dur Ay Dasht-e-Karbala unhein mehman bana ke rakh Soye hain sar kata ke bahattar, watan se dur
یاد آئی نہ تمہیں فاطمہ صغرا بابا یاد آئی نہ تمہیں فاطمہ صغرا، بابا کربلا جا کے ہمیں بھول نہ جانا، بابا ہائے کس کس کا گلہ کس کی شکایت لکھوں ایک نامہ تو کسی نے بھی نہ لکھا، بابا کہہ گئے تھے مرے بھائی تمہیں لے جاؤں گا کیا ہوا، آئے نہ لینے مرے بھیا، بابا میں سمجھتی ہوں کہ بھائی نے رچائی شادی اس لئے آئے نہ لینے مرے بھیا، بابا اب تو اصغرؑ بھی مرا گھٹنوں چلتا ہوگا میرے بھائی کو مرا نام بتانا، بابا نام سن کر مرا کہئے تو تمہیں میری قسم میری جانب سے کلیجے سے لگانا، بابا سو رہی ہوں علی اصغرؑ جو راہوں میں ہے یہ حسرت مری جھولے کو جھلانا، بابا (بشکریہ سوز خواں پروفیسر عزیز زیدی و ابن حسین کربلائی) التمـاس فاتحہ برائے شاعر و سوز خواں اثر دہلوی لوٹا گیا ہے سبطِ پیمبرؐ، وطن سے دور ساگر فیض آبادی لوٹا گیا ہے سبطِ پیمبرؐ، وطن سے دور اجڑا ہے فاطمہؑ کا بھرا گھر، وطن سے دور گزری ہے یوں حسینؑ پہ عاشور کربلا جیسے پڑا ہو عرصۂ محشر، وطن سے دور سب کچھ نثار کر کے محمدؐ کے دین پر بستی تھی جا بہ جائے سرورؑ، وطن سے دور اے موت ایک بہن سے نہ چھین اس کے بھائی کو صغرا وطن میں ہے، علی اکبرؑ وطن سے دور مرنے چلے حسینؑ تو زینبؑ نے یہ کہا چھوڑا ہے کس پہ لاکھے برادر، وطن سے دور پیاسا شہید ہو گیا صغرا کا نورِ عین پھیرا گلے پہ شمر نے خنجر، وطن سے دور چلتی ہوئی زمیں پہ بے گور و بے کفن جانِ رسولؐ قد ہے بہتر، وطن سے دور اے دشتِ کربلا انہیں مہماں بنا کے رکھ سوئے ہیں سر کٹا کے بہتر، وطن سے دور

359

Luta gaya hai Sibt-e-Payambar, watan se dur — jari Sughra, ye dil mein kehti thi Allah kya karun? Hai mujh se ruth kar mera Asghar, watan se dur Mujh ko ye kya khabar thi ke roti rahungi main Baba na aayenge mere ja kar, watan se dur Din biyah ke jab aaye to Akbar na rahe Mara gaya Shabih-e-Payambar, watan se dur Haye Bani ki Aal gharib-ul-watan hui Syedaniyan phiri hain khule sar, watan se dur Sagar ab is watan ki hifazat kare Khuda Hum ne watan banaya jo aa kar, watan se dur (Bashukriya Muhtaram Afaq Husain Rizvi / Abdul Muiz Rizvi o Taj Akbari) Syed Ghulam Syedain Rizvi Taban Jarchavi Mera khayal hai jab kabhi koi dua mango Faqat ghulam-e-aulad-e-Fatima mango ***** Mere bachche ki aati hai mehndi Bashukriya Muhtarama Sabira Kazmi Pahunchti ro kar pukari, mere bachche ki aati hai mehndi Log kehte hain kyun aaj zari, mere bachche ki aati hai mehndi Koi dulha ki chhoti si lado anchal ko jhula do Der hoti hai jald aao pyari, mere bachche ki aati hai mehndi Meri bali Sakina kahan ho, kyun nigahon se ab tak nihan ho Tang ke lao chadar orh pyari, mere bachche ki aati hai mehndi Jaye keh do ye Shah-e-Zaman se, koi Sughra ko laye watan se Jayen main Akbar bangla mein sawari, mere bachche ki aati hai mehndi Sun kar Fatima khud aai ghar mein, do bahnon ki hai shadi Aaj jagi hai qismat tumhari, mere bachche ki aati hai mehndi Ja ke Shabbir Khuda ke nawase keh do Maula ke chhor ke chup Ghar mein shadi ki karti hain jari, mere bachche ki aati hai mehndi ***** Syed Ali Ansar Rizvi Agar "main Karbala" ka bayan ashar karte hain Kabhi iqrar karte hain, kabhi inkar karte hain
[لوٹا گیا ہے سبطِ پیمبرؐ، وطن سے دور — جاری] صغرا، یہ دل میں کہتی تھی اللہ کیا کروں؟ ہے مجھ سے روٹھ کر مرا اصغرؑ، وطن سے دور مجھ کو یہ کیا خبر تھی کہ روتی رہوں گی میں بابا نہ آئیں گے مرے جا کر، وطن سے دور دن بیاہ کے جب آئے تو اکبرؑ نہ رہے مارا گیا شبیہِ پیمبرؐ، وطن سے دور ہے ہے بنی کی آل غریب الوطن ہوئی سیدانیاں پھری ہیں کھلے سر، وطن سے دور ساگر اب اس وطن کی حفاظت کرے خدا ہم نے وطن بنایا جو آ کر، وطن سے دور (بشکریہ محترم آفاق حسین رضوی / عبدالمعز رضوی و تاج اکبری) سید غلام سیدین رضوی تاباں جارچوی مرا خیال ہے جب کبھی کوئی دعا مانگو فقط غلامِ اولادِ فاطمہؑ مانگو ***** میرے بچے کی آتی ہے مہندی بشکریہ محترمہ صابرہ کاظمی پہنچتی رو کر پکاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی لوگ کہتے ہیں کیوں آج زاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی کوئی دولہا کی چھوٹی سی لاڈو آنچل کو جھلا دو دیر ہوتی ہے جلد آؤ پیاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی میری بالی سکینہؑ کہاں ہو، کیوں نگاہوں سے اب تک نہاں ہو ٹنگ کے لاؤ چادر اوڑھ پیاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی جائے کہہ دو یہ شاہِ زمن سے، کوئی صغرا کو لائے وطن سے جائیں میں اکبرؑ بنگلہ میں سواری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی سن کر فاطمہؑ خود آئی گھر میں، دو بہنوں کی ہے شادی آج جاگی ہے قسمت تمہاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی جا کے شبیرؑ خدا کے نواسے کہہ دو مولا کے چھوڑ کے چپ گھر میں شادی کی کرتی ہیں جاری، میرے بچے کی آتی ہے مہندی ***** سید علی انصر رضوی اگر "میں کربلا" کا بیاں اشعار کرتے ہیں کبھی اقرار کرتے ہیں، کبھی انکار کرتے ہیں

360

Rawangi az Madina / Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Aaj Madine mein hain gham ki farawaniyan Aaj Madine mein hain dard ki tughyaniyan Aaj Madine mein hain ashkon ki arzaniyan Aaj Madine mein hain zalzala-samaniyan Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya Des se pardes mein zulm uthane chale Din ki bigri hui baat banane chale Quwwat-e-Islam ki shan barhane chale Khun se be-shir ke rang jamane chale Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya Khalq ke ghamkhwar se shahr chhura, ghar chhura Qasr baradar, chaman aur kuchh [ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya Aaj Madine tere aine bikhar gaye Sahib-e-masnad gaye, Waris-e-Haider gaye [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya Ahl-e-Madina se keh do ke kuchh bolne [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Jaan-e-Payambar gaya, sath na sab ho liye [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya Mujh ko khabar bhi hai kuchh ab na idhar aayenge Abid-e-Mazlum faqat le ke khabar aayenge [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Shahid-e-Abrar ne tark-e-watan kar diya Qaum ke sardar ne tark-e-watan kar diya
روانگی از مدینہ / شہید ابرار نے ترک وطن کردیا آج مدینے میں ہیں غم کی فراوانیاں آج مدینے میں ہیں درد کی طغیانیاں آج مدینے میں ہیں اشکوں کی ارزانییاں آج مدینے میں ہیں زلزلہ سامانیاں شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا دیس سے پردیس میں ظلم اٹھانے چلے دین کی بگڑی ہوئی بات بنانے چلے قوتِ اسلام کی شان بڑھانے چلے خون سے بے شیر کے رنگ جمانے چلے شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا خلق کے غم خوار سے شہر چھڑا، گھر چھڑا قصر برادر، چمن اور کچھ [غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا آج مدینے تیرے آئینے بکھر گئے صاحبِ مسند گئے، وارثِ حیدرؑ گئے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا اہلِ مدینہ سے کہہ دو کہ کچھ بولنے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جانِ پیمبر گیا، ساتھ نہ سب ہو لئے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا مجھ کو خبر بھی ہے کچھ اب نہ ادھر آئیں گے عابدؑ مظلوم فقط لے کے خبر آئیں گے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شہیدِ ابرار نے ترک وطن کردیا قوم کے سردار نے ترک وطن کردیا مختصر زیارات السَّلامُ عَلَيْكَ يا أبا عبدِ اللهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا ابنَ رسولِ اللهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا ابنَ أميرِ المؤمنينَ وابنَ سيِّدِ الوصيِّينَ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا ابنَ فاطمةَ الزهراءِ سيِّدةِ نساءِ العالمينَ، ورحمةُ اللهِ وبركاتُه. السَّلامُ عَلَيْكَ يا غريبَ الغرباءِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا مُعينَ الضُّعفاءِ والفقراءِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا شمسَ الشموسِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا أنيسَ النفوسِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا مدفوناً بأرضِ طوسٍ، راضياً بالقدرِ والقضاءِ، عليَّ بنَ موسى الرضا، ورحمةُ اللهِ وبركاتُه. السَّلامُ عَلَيْكَ يا صاحبَ العصرِ والزمانِ، الأمانَ الأمانَ الأمانَ من فتنِ الزمانِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا شريكَ القرآنِ، السَّلامُ عَلَيْكَ يا إمامَ الإنسِ والجانِّ، عجَّلَ الرحمنُ فرجَكَ، وسهَّلَ اللهُ مخرجَكَ وظهورَكَ، ورحمةُ اللهِ وبركاتُه. السَّلامُ عَلَيْكُمْ يا ساداتِ شهداءِ كربلاءَ، ورحمةُ اللهِ وبركاتُه.

361

Hamd, Naat-o-Manaqib Sine mein jo ek dard sa hota hai wo tu hai Hamd / Ahmad Naveed Sine mein jo ek dard sa hota hai wo tu hai Jo dard ki shiddat se guzarta hai wo main hun Jo bagh ko shabnam se bhigota hai wo tu hai Jo phul ki tarah dhul ke nikharta hai wo main hun Mitti mein jo darya ko dabata hai wo tu hai Mitti se jo qatra sa ubharta hai wo main hun Daghon ko mere dil se jo dhota hai wo tu hai Daghon ki tamanna mein jo marta hai wo main hun Mujh khak mein ek tukhm jo bota hai wo tu hai Saya sa sar-e-dahr jo karta hai wo main hun Har shai mein jo aina parta hai wo tu hai Jo aina-khanon mein sanwarta hai wo main hun Jo tha, wo jo hota hai, jo hota hai wo tu hai Hone ke dhoke se jo guzarta hai wo main hun Hakim-ul-Ummat Hazrat Allama Iqbal Tu ghani az har do alam, man faqir Roz-e-mahshar uzr-haye man pazir Gar tu mi-bini hisabam na-guzir Az nigah-e-Mustafa pinhan bi-gir (Bashukriya Hafiz Qari Abdul Mannan / Iqra Dairat-ul-Quran) Syed Hashim Raza Hashim Us ki tausif agar ho to bayan ho kaise Umr bhar jis ko Muhammad ne kiye hon sajde (Bashukriya sozkhwan Syed Khalil Ahmad)
حمد، نعت و مناقب سینے میں جو اک درد سا ہوتا ہے وہ تو ہے حمد / احمد نوید سینے میں جو اک درد سا ہوتا ہے وہ تو ہے جو درد کی شدت سے گزرتا ہے وہ میں ہوں جو باغ کو شبنم سے بھگوتا ہے وہ تو ہے جو پھول کی طرح دُھل کے نکھرتا ہے وہ میں ہوں مٹی میں جو دریا کو دباتا ہے وہ تو ہے مٹی سے جو قطرہ سا ابھرتا ہے وہ میں ہوں داغوں کو مرے دل سے جو دھوتا ہے وہ تو ہے داغوں کی تمنا میں جو مرتا ہے وہ میں ہوں مجھ خاک میں اک تخم جو بوتا ہے وہ تو ہے سایہ سا سرِ دہر جو کرتا ہے وہ میں ہوں ہر شے میں جو آئینہ پرتا ہے وہ تو ہے جو آئینہ خانوں میں سنورتا ہے وہ میں ہوں جو تھا، وہ جو ہوتا ہے، جو ہوتا ہے وہ تو ہے ہونے کے دھوکے سے جو گزرتا ہے وہ میں ہوں حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ تو غنی از ہر دو عالم، من فقیر روزِ محشر عذر ہائے من پذیر گر تو می بینی حسابم ناگزیر از نگاہِ مصطفیٰؐ پنہاں بگیر (بشکریہ حافظ قاری عبد المنان / اقراء دائرۃ القرآن) سید ہاشم رضا ہاشم اس کی توصیف اگر ہو تو بیاں ہو کیسے عمر بھر جس کو محمدؐ نے کئے ہوں سجدے (بشکریہ سوز خواں سید خلیل احمد)

362

Kaun kehta hai mujhe shan-e-Sikandar de de Duaiya Naat / Syed Sibt Jafar Kaun kehta hai mujhe shan-e-Sikandar de de Mere Mabuda mujhe faqr-e-Abuzar de de Malik-e-Lauh-o-Qalam, mere charagar Mujh ko alfaz-o-maani ka lashkar de de Ishq jo tu ne Uwais-e-Qarani ko bakhsha Ho jo mumkin to mujhe us se fuzun-tar de de Tajwar bhi mere qadmon mein saadat dhunden Zinat-e-sar ko jo nalain-e-Payambar de de Jis ko Sarkar ne bakhsha sharaf-e-goyai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Tere Mahbub ne baiat pe bandha aksar Wusat-e-rizq na de, mujh ko wo patthar de de Zahiri tan ke liye aur na kafan ko kapra Jo mere aib chhupaye wohi chadar de de Waqt ke Marhab-o-Antar se nimatne ke liye Phir koi Fateh-e-Khaibar sa Muzaffar de de Sibt Jafar ki to bakhshish ko yahi kafi hai Ke ghulami dar-e-Aal-e-Payambar de de Izzat Abu Talib se, shohrat Abu Talib se Sibt Jafar Izzat Abu Talib se, shohrat Abu Talib se Hum laye hain likhwa kar qismat Abu Talib se Wo jis liye karte hain nafrat Abu Talib se Hum ko hai isi bais ulfat Abu Talib se Jahan apni chali jaye, jaye Muhammad ki Aai hai Haider mein adat Abu Talib se Sardi ke muhafiz the aur walid-e-Haider ke Rakhti hai adawat kyun ummat Abu Talib se [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Jo aqd Khadija aur Sarwar ka parhaya tha Khutbe ki hui jari sunnat Abu Talib se
کون کہتا ہے مجھے شانِ سکندر دے دے دعائیہ نعت / سید سبط جعفر کون کہتا ہے مجھے شانِ سکندر دے دے میرے معبودا مجھے فقرِ ابوذر دے دے مالکِ لوح و قلم، میرے چارہ گر مجھ کو الفاظ و معانی کا لشکر دے دے عشق جو تو نے اویسِ قرنی کو بخشا ہو جو ممکن تو مجھے اس سے فزوں تر دے دے تاجور بھی مرے قدموں میں سعادت ڈھونڈیں زینتِ سر کو جو نعلینِ پیمبرؐ دے دے جس کو سرکار نے بخشا شرفِ گویائی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تیرے محبوب نے بیعت پہ باندھا اکثر وسعتِ رزق نہ دے، مجھ کو وہ پتھر دے دے ظاہری تن کے لئے اور نہ کفن کو کپڑا جو مرے عیب چھپائے وہی چادر دے دے وقت کے مرحب و عنتر سے نمٹنے کے لئے پھر کوئی فاتحِ خیبر سا مظفر دے دے سبط جعفر کی تو بخشش کو یہی کافی ہے کہ غلامی درِ آلِ پیمبرؐ دے دے عزت ابو طالبؑ سے، شہرت ابو طالبؑ سے سبط جعفر عزت ابو طالبؑ سے، شہرت ابو طالبؑ سے ہم لائے ہیں لکھوا کر قسمت ابو طالبؑ سے وہ جس لئے کرتے ہیں نفرت ابو طالبؑ سے ہم کو ہے اسی باعث الفت ابو طالبؑ سے جہاں اپنی چلی جائے، جائے محمدؐ کی آئی ہے حیدرؑ میں عادت ابو طالبؑ سے سردی کے محافظ تھے اور والدِ حیدرؑ کے رکھتی ہے عداوت کیوں امت ابو طالبؑ سے [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جو عقد خدیجہؑ اور سرورؐ کا پڑھایا تھا خطبے کی ہوئی جاری سنت ابو طالبؑ سے

363

Izzat Abu Talib se, shohrat Abu Talib se — jari Kya gham Abu Talib nusrat mein Payambar ki Kya kuchh na hua, puchho ye mat Abu Talib se Lutta raha wo badla aulad-e-Payambar se Hoti rahi jis jis ko muhabbat Abu Talib se Nuqsan jo aada ne Haider se uthaya tha Karte hain wasul us ki qimat Abu Talib se Az qaul-e-Nabi [matn juzwi taur par ghair wazeh] Hasil karo iman ki daulat Abu Talib se Sarkar ne farmaya is sal ko Aam-ul-Huzn Jis sal hui un ki furqat Abu Talib se Reh paye na Makka mein ek sal bhi aakhir tak Sarkar ki hijrat hai zahmat Abu Talib se Har ek hawala hai mazbut magar Sibt Jafar ki saadat hai nisbat Abu Talib se Shair-o-Musawwir-o-Khattat Yadullah Haider Kyun zamin par dhundta hai us ka saya ay falak Us ka saya to ghulaman-e-Ali ke sar pe hai Ay Khadija hogi tauqir sari aap ki Hazrat Khadijatul Kubra / Shadan Dehlavi Ay Khadija hogi tauqir sari aap ki Aa gayi jab ghar mein Muhammad ke sawari aap ki Zer-e-bar-e-Islam hai, zer-e-bar-e-Rasul Kharch is par hogi daulat jo sari aap ki Kar diya din-e-Khuda par aap ne sab kuchh nisar Zinat-e-Islam hai ye jaan-nisari aap ki Pehli saf mein aap ne ki hai ada pehli namaz Awwaliyat ki sanad taat-guzari aap ki Saltanat-o-kishwar-o-taslim ki malik hain aap Sudmand itni hui sarmaya-kari aap ki Aap ne di hai Nabi [misra juzwi taur par ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Char din mein aap ki rehlat, Abu Talib ki maut Haye shafqat un ki aur khidmat-guzari aap ki Ye jo Aam-ul-Huzn thehra aap ki rehlat ka sal Yun Nabi ke kam aai ghamgusari aap ki
[عزت ابو طالبؑ سے، شہرت ابو طالبؑ سے — جاری] کیا غم ابو طالبؑ نصرت میں پیمبرؐ کی کیا کچھ نہ ہوا، پوچھو یہ مت ابو طالبؑ سے لٹتا رہا وہ بدلہ اولادِ پیمبرؐ سے ہوتی رہی جس جس کو محبت ابو طالبؑ سے نقصان جو اعدا نے حیدرؑ سے اٹھایا تھا کرتے ہیں وصول اس کی قیمت ابو طالبؑ سے از قولِ نبیؐ [متن جزوی طور پر غیر واضح] حاصل کرو ایمان کی دولت ابو طالبؑ سے سرکارؐ نے فرمایا اس سال کو عام الحزن جس سال ہوئی ان کی فرقت ابو طالبؑ سے رہ پائے نہ مکہ میں اک سال بھی آخر تک سرکارؐ کی ہجرت ہے زحمت ابو طالبؑ سے ہر ایک حوالہ ہے مضبوط مگر سبط جعفر کی سعادت ہے نسبت ابو طالبؑ سے شاعر و مصور و خطاط یداللہ حیدر کیوں زمیں پر ڈھونڈتا ہے اس کا سایہ اے فلک اس کا سایہ تو غلامانِ علیؑ کے سر پہ ہے اے خدیجہؑ ہوگی توقیر ساری آپ کی حضرت خدیجہ الکبریٰؑ / شاداں دہلوی اے خدیجہؑ ہوگی توقیر ساری آپ کی آگئی جب گھر میں محمدؐ کے سواری آپ کی زیرِ بارِ اسلام ہے، زیرِ بارِ رسولؐ خرچ اس پر ہوگی دولت جو ساری آپ کی کردیا دینِ خدا پر آپ نے سب کچھ نثار زینتِ اسلام ہے یہ جاں نثاری آپ کی پہلی صف میں آپ نے کی ہے ادا پہلی نماز اولیت کی سند طاعت گزاری آپ کی سلطنت و کشور و تسلیم کی مالک ہیں آپ سود مند اتنی ہوئی سرمایہ کاری آپ کی آپ نے دی ہے نبیؐ [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] چار دن میں آپ کی رحلت، ابو طالبؑ کی موت ہائے شفقت ان کی اور خدمت گزاری آپ کی یہ جو عام الحزن ٹھہرا آپ کی رحلت کا سال یوں نبیؐ کے کام آئی غمگساری آپ کی

364

Mere khayal ko nisbat hui Madine se Naat Mere khayal ko nisbat hui Madine se Mahak gulab ki aane lagi pasine se Faraz-e-Arsh pe Lauh-o-Qalam hain nur-nishan [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Nabi ki un se ulfat nahin to mar jao Tumhara marna hi behtar hai aise jine se Khule hain faiz-o-ata ke tamam darwaze Bas ek saghar-e-hubb-e-Nabi ke pine se Isi Madine mein aaye hain Rahmat-e-Alam So doston ka safar hai isi safine se [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Wo nur jis ki nahin tab Tur-e-Sina ko Wo nur hum ne lagaya hai apne sine se Aaya mah-e-wiladat-e-Nabi ka, lehrane lagi dali dali Naat / Syed Muhammad Razi Jafari Aaya mah-e-wiladat-e-Nabi ka, lehrane lagi dali dali Saj gaya mominon ke dilon mein Shah-e-Mashriq ka darbar-e-aali Martaba naat-khwani ka puchho Tahir Sidrat-ul-Muntaha se Kabhi dad-o-qurban jis par, aur tasdiq azan-e-Bilali Ji raha hun ummid-e-karam par [misra juzwi taur par ghair wazeh] Naat mujh ko karam ke wasile [matn juzwi taur par ghair wazeh] Is mein aaye hain jinn-o-malaik aur insan hon jo hawali Tere banda-nawazon ke sadqe [matn juzwi taur par ghair wazeh] Koi Salman to koi Abuzar, ek nigah-e-karam jis pe dali Kaaba Laila kare kyun kisi ki, dar-badar kyun phire mara mara Ban gaya ho jo rahguzar-e-Sikandar, Kocha-e-Mustafa ka sawali Main ye zad-e-siyah-kar aakhir, sun chhupata kahan roz-e-mahshar Aa gayi kam mahshar mein mere, mere Sarkar ki kamli kali (Ba-hawala Mahnama Safina Nark)
میرے خیال کو نسبت ہوئی مدینے سے نعت مرے خیال کو نسبت ہوئی مدینے سے مہک گلاب کی آنے لگی پسینے سے فرازِ عرش پہ لوح و قلم ہیں نور نشان [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] نبیؐ کی ان سے الفت نہیں تو مرجاؤ تمہارا مرنا ہی بہتر ہے ایسے جینے سے کھلے ہیں فیض و عطا کے تمام دروازے بس ایک ساغرِ حبِ نبیؐ کے پینے سے اسی مدینے میں آئے ہیں رحمتِ عالم سو دوستوں کا سفر ہے اسی سفینے سے [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] وہ نور جس کی نہیں تاب طورِ سینا کو وہ نور ہم نے لگایا ہے اپنے سینے سے آیا ماہِ ولادتِ نبیؐ کا، لہرانے لگی ڈالی ڈالی نعت / سید محمد رضی جعفری آیا ماہِ ولادتِ نبیؐ کا، لہرانے لگی ڈالی ڈالی سج گیا مومنوں کے دلوں میں شاہِ مشرق کا دربارِ عالی مرتبہ نعت خوانی کا پوچھو طاہر سدرۃ المنتہیٰ سے کبھی داد و قربان جس پر، اور تصدیق اذانِ بلالی جی رہا ہوں امیدِ کرم پر [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] نعت مجھ کو کرم کے وسیلے [متن جزوی طور پر غیر واضح] اس میں آئے ہیں جن و ملائک اور انسان ہوں جو حوالی تیرے بندہ نوازوں کے صدقے [متن جزوی طور پر غیر واضح] کوئی سلمان تو کوئی ابوذرؓ، اک نگاہِ کرم جس پہ ڈالی کعبہ لیلیٰ کرے کیوں کسی کی، در بدر کیوں پھرے مارا مارا بن گیا ہو جو رہگذرِ سکندرؔ، کوچۂ مصطفیٰؐ کا سوالی میں یہ زدِ سیاہ کار آخر، سنہ چھپاتا کہاں روزِ محشر آگئی کام محشر میں مرے، میرے سرکارؐ کی کملی کالی (بحوالہ ماہنامہ سفینہ نارک)

365

Hua ya na hua?! Go ke Rab koi bhi Allah ka jaisa na hua Abu Talib sa koi palne wala na hua Jis ki aghosh mein pale hon Nabi aur Imam Palne wala koi dusra aisa na hua Baat parde ki hai, Allah-o-Nabi hi janen Jane kya kya hua, Meraj mein aur kya na hua [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Jis ka saya bhi haqiqat ko gawara na hua Dar se Yasin ke [misra juzwi taur par ghair wazeh] Shukr hai aap ka pyar jo achchha na hua Mere amal to le jate mujhe Dozakh mein Han magar aap ki rahmat ko gawara na hua Hai agar banda Khuda ka to Ali ka ho ja Jo Ali ka na hua, banda-e-Khuda ka na hua Sath Jibrail-o-Khuda ke mera naam aane laga Haq ada madhat-e-Sarwar ka hua ya na hua Jaisa jalsa hua Maidan-e-Ghadir-e-Khum mein Aisa jalsa kabhi duniya mein dobara na hua Jab kabhi din-e-Muhammad pe bura waqt para Aal-e-Ahmad ke siwa palne wala na hua Surah-e-Hamd mein "an'amta alaihim" kya hai? Kya ye hai gar Aal-e-Muhammad ka qasida na hua Rah-e-Haq mein thi mere manaqib ki pyas Shair-e-Aal-e-Aba hashr mein ruswa na hua Qabr mein aa ke Nakirain salami denge Sibt Jafar na mujhe kehna jo aisa na hua Shair-o-sozkhwan Sibt Jafar hun main, mere mamduh to aaj har jagah Hashr mein dekh kar meri [lafz ghair wazeh], sab ko hairat thi ye admi kaun hai?! Sirf Tahir hi nahin hai un ke gham mein nauha-khwan Kar diye paida gham-e-Shabbir ne sukhanwar saikron (Syed Tahir Nasir Ali, Lahore)
ہوا یا نہ ہوا؟! گو کہ رب کوئی بھی اللہ کا جیسا نہ ہوا ابو طالبؑ سا کوئی پالنے والا نہ ہوا جس کی آغوش میں پلے ہوں نبیؐ اور امام پالنے والا کوئی دوسرا ایسا نہ ہوا بات پردے کی ہے، اللہ و نبیؐ ہی جانیں جانے کیا کیا ہوا، معراج میں اور کیا نہ ہوا [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جس کا سایہ بھی حقیقت کو گوارا نہ ہوا در سے یاسینؐ کے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شکر ہے آپ کا پیار جو اچھا نہ ہوا میرے اعمال تو لے جاتے مجھے دوزخ میں ہاں مگر آپ کی رحمت کو گوارا نہ ہوا ہے اگر بندہ خدا کا تو علیؑ کا ہو جا جو علیؑ کا نہ ہوا، بندۂ خدا کا نہ ہوا ساتھ جبرئیل و خدا کے مرا نام آنے لگا حق ادا مدحتِ سرور کا ہوا یا نہ ہوا جیسا جلسہ ہوا میدانِ غدیرِ خم میں ایسا جلسہ کبھی دنیا میں دوبارہ نہ ہوا جب کبھی دینِ محمدؐ پہ برا وقت پڑا آلِ احمدؐ کے سوا پالنے والا نہ ہوا سورۂ حمد میں "أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" کیا ہے؟ کیا یہ ہے گر آلِ محمدؐ کا قصیدہ نہ ہوا راہِ حق میں تھی مرے مناقب کی پیاس شاعرِ آلِ عبا حشر میں رسوا نہ ہوا قبر میں آ کے نکیرین سلامی دیں گے سبط جعفر نہ مجھے کہنا جو ایسا نہ ہوا شاعر و سوزخواں سبط جعفر ہوں میں، میرے مدوح تو آج ہر جگہ حشر میں دیکھ کر میری [لفظ غیر واضح]، سب کو حیرت تھی یہ آدمی کون ہے؟! صرف طاہر ہی نہیں ہے ان کے غم میں نوحہ خواں کردیے پیدا غمِ شبیرؑ نے سخنور سیکڑوں (سید طاہر ناصر علی، لاہور)

366

La Fata Ali / Pir-e-Tariqat Hazrat Badi Shah Warsi [Ibtidai misra juzwi taur par ghair wazeh] La Fata Ali Rutba Allah kyun na ho Sher-e-Khuda Ali Bandon ko un ke [misra juzwi taur par ghair wazeh] Mushkil mein hain Mushkil-kusha Ali Banda hun main unhi ka, unhi ka ghulam hun Maula mere Imam, mere peshwa Ali Jis tarah ek zat Muhammad hai be-misal Paida hua na hoga koi dusra Ali Be-shak yahi to panch hain maqsud-e-kainat Khair-un-Nisa, Husain-o-Hasan, Mustafa, Ali Rubai / Pir-e-Tariqat Hazrat Anbar Shah Warsi Allah ke man banda-e-Haider hastam Dar aqida-e-ishq Sikandar hastam Mahmud Muhammad az bargah-e-irfan-e-ishq Dar dair-e-kharabat qalandar hastam Dam dam Ali Ali Maula ka kar tu Niyazi Bahr hai meri buzurgi, bahr mera [ghair wazeh] Faqri qalandari mere dast-e-Haideri Phir mera Ali Wali, dam dam Ali Ali Allah-o-Mustafa tere, donon jahan gada tere Kaun-o-makan sada tere, qalb-o-jigar Khuda tere Bagh-e-jahan teri gali, dam dam Ali Ali Atiya-e-husn-e-Kibriya, ulfat-e-din-e-Mustafa Dawat-gar-e-Anbiya, baiat-e-dast-e-Auliya Teri hi zat se chali, dam dam Ali Ali Quwwat-e-bazu-e-Nabi, azmat-e-nau-e-Adami Satwat-e-ilm-e-alami, haisiyat-e-hilm-e-Hashimi Aap ka wasf Ya Ali, dam dam Ali Ali Ganj-e-khafi ka aap ho, aap ke is ghulam ka Dil jo hua hai gham-zada, aap ko yaad kar liya Sahar se har ek bala tali, dam dam Ali Ali
لا فتىٰ علیؑ / پیر طریقت حضرت بدیع شاہ وارثیؒ [ابتدائی مصرع جزوی طور پر غیر واضح] لا فتىٰ علیؑ رتبہ اللہ کیوں نہ ہو شیرِ خدا علیؑ بندوں کو ان کے [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] مشکل میں ہیں مشکل کشا علیؑ بندہ ہوں میں انہی کا، انہی کا غلام ہوں مولا مرے امام، مرے پیشوا علیؑ جس طرح ایک ذات محمدؐ ہے بے مثال پیدا ہوا نہ ہوگا کوئی دوسرا علیؑ بے شک یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات خیر النساءؑ، حسینؑ و حسنؑ، مصطفیٰؐ، علیؑ رباعی / پیر طریقت حضرت عنبر شاہ وارثیؒ "اللہ" کہ من بندۂ حیدر ہستم در عقیدہ عشق سکندر ہستم محمود محمد از بارگاہِ عرفانِ عشق در دیرِ خرابات قلندر ہستم دم دم علی علی مولا کا کر تو نیازی بحر ہے میری بزرگی، بحر مرا [غیر واضح] فقری قلندری مرے دستِ حیدری پھر میرا علیؑ ولی، دم دم علی علی اللہ و مصطفیٰؐ تیرے، دونوں جہاں گدا تیرے کون و مکاں سدا تیرے، قلب و جگر خدا تیرے باغِ جہاں تری گلی، دم دم علی علی عطیہ حسنِ کبریا، الفتِ دینِ مصطفیٰؐ دعوت گرِ انبیاء، بیعتِ دستِ اولیاء تیری ہی ذات سے چلی، دم دم علی علی قوتِ بازوئے نبیؐ، عظمتِ نوعِ آدمی سطوتِ علمِ عالمی، حیثیتِ حلمِ ہاشمی آپ کا وصف یا علیؑ، دم دم علی علی گنجِ خفی کا آپ ہو، آپ کے اس غلام کا دل جو ہوا ہے غم زدہ، آپ کو یاد کرلیا سحر سے ہر اک بلا ٹلی، دم دم علی علی

367

Ali Akbar / Syed Sibt Jafar Jab Khuda ko pukara, Ali aa gaye Jab Ali aa gaye, zindagi aa gayi Zindagi bandagi, roshni aa gayi Agahi aa gayi Maut ko kyun koi [matn juzwi taur par ghair wazeh] Maut kya ek khatar, maut se kya hazar Is se bachna bhi kya, aa gayi Asl-e-millat na kehna hai [matn juzwi taur par ghair wazeh] [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Main chala hun Ali se mulaqat ko Jis ki thi arzu, wo ghari aa gayi Jibrail aur [lafz ghair wazeh] kya mahsur Zarra tera chhor kar koi jata nahin Jo ghulami ka teri maza pa gaya Us jis ko teri naukri aa gayi Jis ka Maula tha main, us ka Maula Ali Jab Nabi ne kaha, din kamil hua Marhaba Mustafa, Rab bhi razi hua Wo jo aaya thi ayat, wohi aa gayi Teri masnad pe ghairon ko bithla diya Naib-e-Mustafa manzar kar diya Tu bhi duniya-o-Ali hi raha, manzilat mein teri kya kami aa gayi Mulk-e-ishq mein itna ajib hai Main bhi khamosh hun, wo bhi khamosh hain Un ko sab hai khabar, is liye chup hun main Kya pata, ankh mein aa gayi Jis duniya maut ki ek shart hai Aur duniya bhi us ki manzil faqat hai Haq saadat-o-Zahra ke maqruz hai Jab tera safar hua to Nabi aa gayi Aag le kar koi tere dar pe kya ruk gaya Mere Maula tere kab tanhai ka jab khayal aaya, hashr hashri aa gayi Ishq jab tak na ho, sharm hota nahin Mujh mein kab ahliyat thi teri madh ki Mere Maula main qurban tere ishq ke Sibt Jafar ko bhi shairi aa gayi Subh-e-Ashur agar se Shimr ne kaha, ay Shabih-e-Nabi mere nur-e-nazar Jo basar hui aakhri raat thi, ab azan-e-do-sahar aakhri aa gayi Apne honton pe sukhi zaban pher kar, meri jaan tum bhi itmam-e-hujjat karo Keh rahe the jab Asghar se Shah-e-din, ek mazalim mein fauj tishna aa gayi Pyas mein to mar jata magar ye main lutata na Haq, ye bedad ki Hurmala ki halat pe ye soch kar, nanhe Asghar ko ran mein hansi aa gayi Mard koi na baqi bacha asr tak, sirf Sajjad the, wo bhi behosh the Aur tha kaun nusrat ko Shabbir ki, be-kasi aa gayi Karbala aur Kufe ki bhi [matn juzwi taur par ghair wazeh] Sham ko bhi Sham ki Karbala aur Kufa to hue the log dushman, magar kyun apni shahr ke Khaye patthar to Zainab [matn juzwi taur par ghair wazeh]
علی اکبرؑ / سید سبط جعفر جب خدا کو پکارا، علیؑ آگئے جب علیؑ آگئے، زندگی آگئی زندگی بندگی، روشنی آگئی آگہی آگئی موت کو کیوں کوئی [متن جزوی طور پر غیر واضح] موت کیا ایک خطر، موت سے کیا حذر اس سے بچنا بھی کیا، آگئی اصلِ ملت نہ کہنا ہے [متن جزوی طور پر غیر واضح] [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] میں چلا ہوں علیؑ سے ملاقات کو جس کی تھی آرزو، وہ گھڑی آگئی جبرئیل اور [لفظ غیر واضح] کیا محصور ذرّہ تیرا چھوڑ کر کوئی جاتا نہیں جو غلامی کا تیری مزہ پا گیا اس جس کو تیری نوکری آگئی جس کا مولا تھا میں، اس کا مولا علیؑ جب نبیؐ نے کہا، دین کامل ہوا مرحبا مصطفیٰؐ، رب بھی راضی ہوا وہ جو آیا تھی آیت، وہی آگئی تیری مسند پہ غیروں کو بٹھلا دیا نائبِ مصطفیٰؐ منظر کردیا تو بھی دنیا و علیؑ ہی رہا، منزلت میں تری کیا کمی آگئی ملکِ عشق میں اتنا عجیب ہے میں بھی خاموش ہوں، وہ بھی خاموش ہیں ان کو سب ہے خبر، اس لئے چپ ہوں میں کیا پتا، آنکھ میں آگئی جس دنیا موت کی ایک شرط ہے اور دنیا بھی اس کی منزل فقط ہے حق سعادت و زہرا کے مقروض ہے جب تیرا سفر ہوا تو نبیؐ آگئی آگ لے کر کوئی تیرے در پہ کیا رُک گیا میرے مولا ترے کب تنہائی کا جب خیال آیا، حشر حشری آگئی عشق جب تک نہ ہو، شرم ہوتا نہیں مجھ میں کب اہلیت تھی تری مدح کی میرے مولا میں قرباں ترے عشق کے سبط جعفر کو بھی شاعری آگئی صبحِ عاشور اگر سے شمر نے کہا، اے شبیہِ نبیؐ مرے نورِ نظر جو بسر ہوئی آخری رات تھی، اب اذانِ دو سحر آخری آگئی اپنے ہونٹوں پہ سوکھی زبان پھر کر، میری جاں تم بھی اتمامِ حجت کرو کہہ رہے تھے جب اصغرؑ سے شاہِ دیں، اک مظالم میں فوج تشنہ آگئی پیاس میں تو مرجاتا مگر یہ میں لٹاتا نہ حق، یہ بیداد کی حرملہ کی حالت پہ یہ سوچ کر، ننھے اصغرؑ کو رن میں ہنسی آگئی مرد کوئی نہ باقی بچا عصر تک، صرف سجادؑ تھے، وہ بھی بے ہوش تھے اور تھا کون نصرت کو شبیرؑ کی، بے کسی آگئی کربلا اور کوفے کی بھی [متن جزوی طور پر غیر واضح] شام کو بھی شام کی کربلا اور کوفہ تو ہوئے تھے لوگ دشمن، مگر کیوں اپنی شہر کے کھائے پتھر تو زینبؑ [متن جزوی طور پر غیر واضح]

368

Andar ka Kaaba chira to Haider bana diya Sayyida Anwar Amina Andarz Andar ka Kaaba chira to Haider bana diya Bistar pe soye Nafs-e-Payambar bana diya Zarre aise bakhshe hain zi-jah-o-zi-hasham [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Abid ko us ne taj-e-ibadat ata kiya Baqir bana diya, koi Jafar bana diya Aal-e-Nabi ko bakhsh diye ilm-e-ikhtiyar Musa ko tu ne hajaton ka dar bana diya Zamin banaya koi bachchon ka hashr tak Jo un ke dar pe pahuncha to rahbar bana diya Taqwa Taqi ko, Naqi ko ata kiya Aur Askari ko Sahib-e-Lashkar bana diya Kis kis ne aise paye hain farzand zi-hayat Ta-hashr jin ko Hadi-o-Rahbar bana diya Maula ye teri madh-sarai ka hai sharaf Ek zarra-e-haqir ko Anwar bana diya Gar Ali nahin aaye, zindagi nahin aati Syed Sibt Jafar Gar Ali nahin aate, zindagi nahin aati Zindagi nahin aati, roshni nahin aati Roshni nahin aati, bandagi nahin aati Bandagi nahin aati, agahi nahin aati Ruh ke gulistan mein tazgi nahin aati Nafs-e-bachcha kar apna kis sukun se soya Us ka ek shab sona kainat ne dekha Jab tak na ho kisi pe marzi-e-Ilahi ka Aur na gar mayassar ho bistar-e-Rasul-e-Khuda Murtaza ke bistar pe nind hi nahin aati Wo Rasul ka bistar gar na tu bichhla deta Fath-e-Khandaq-o-Khaibar gar na tu dikhla deta Qatl-e-Marhab-o-Antar gar na tu bikhla deta Wo Ghadir ka mimbar gar na tu nikla deta Shaikh tere hisse mein tirgi nahin aati
اندر کا کعبہ چیراتو حیدرؑ بنا دیا سیدہ انوار آمنہ اندرز اندر کا کعبہ چیراتو حیدرؑ بنا دیا بستر پہ سوئے نفسِ پیمبرؐ بنا دیا ذرے ایسے بخشے ہیں ذی جاہ و ذی حشم [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] عابدؑ کو اس نے تاجِ عبادت عطا کیا باقرؑ بنا دیا، کوئی جعفرؑ بنا دیا آلِ نبیؐ کو بخش دیے علمِ اختیار موسیٰؑ کو تو نے حاجتوں کا در بنا دیا ضامن بنایا کوئی بچوں کا حشر تک جو ان کے در پہ پہنچا تو رہبر بنا دیا تقویٰ تقیؑ کو، نقیؑ کو عطا کیا اور عسکریؑ کو صاحبِ لشکر بنا دیا کس کس نے ایسے پائے ہیں فرزند ذی حیات تا حشر جن کو ہادی و رہبر بنا دیا مولا یہ تیری مدح سرائی کا ہے شرف اک ذرۂ حقیر کو انور بنا دیا گر علیؑ نہیں آئے، زندگی نہیں آتی سید سبط جعفر گر علیؑ نہیں آتے، زندگی نہیں آتی زندگی نہیں آتی، روشنی نہیں آتی روشنی نہیں آتی، بندگی نہیں آتی بندگی نہیں آتی، آگہی نہیں آتی روح کے گلستاں میں تازگی نہیں آتی نفسِ بچہ کر اپنا کس سکوں سے سویا اس کا ایک شب سونا کائنات نے دیکھا جب تک نہ ہو کسی پہ مرضیِ الٰہی کا اور نہ گر میسر ہو بسترِ رسولِ خدا مرتضیٰؑ کے بستر پہ نیند ہی نہیں آتی وہ رسولؐ کا بستر گر نہ تو بچھلا دیتا فتحِ خندق و خیبر گر نہ تو دکھلا دیتا قتلِ مرحب و عنتر گر نہ تو بکھلا دیتا وہ غدیر کا منبر گر نہ تو نکلا دیتا شیخ تیرے حصے میں تیرگی نہیں آتی

369

Gar Ali nahin aaye, zindagi nahin aati — jari Kaaba jis ka parhte ho, bughz un se rakhte ho Bhik ke bhi talib ho, dam bhi un ka bharte ho Un ke dushmanon se tum rah-o-rasm rakhte ho Dawa-e-muhabbat hai, dushmani bhi karte ho Kaise itni ho tum sharm bhi nahin aati Gar sukun milta hai "Allah Hu" ke naron mein Garmiyon ke rozon mein, be-riya namazon mein Soz-e-ishq milta hai Sufi jawanon mein Baithna nahin jab tak admi maqtalon mein Dil kabhi to aati hai, ashiqi nahin aati Jo bhi wird-e-Nad-e-Ali subh-o-sham karta hai Jo durud-e-Aal-e-Nabi subh-o-sham parhta hai Gham-e-Husain ka zikr kar, dam Ali ka bharta hai Un ke dushmanon par jo be-shumar karta hai Pas aise bande ke be-kali nahin aati Kuchh nahin rakha Allah falsafa ki bahson mein Marifat nahin milti [misra juzwi taur par ghair wazeh] Kuchh asar nahin baqi waizon ki baton mein Ab koi nahin aata Maulvi ki baton mein Be-wilaye Aal-e-Nabi agahi nahin aati Ishq jis se karte hain us ki baat bhi manen Uswa-e-Nabi-o-Ali har qadam pe apnayen Jitne kam achchhe hain un ko kal pe mat talen Tang-dast Momin ki be-kasi pe farmayen Aaj se amal kijiye, kal kabhi nahin aati Bhik bhi nahin milti, pet bhi nahin bharta Ilm bhi nahin milta un ke dar pe aaye bina Tajriba hai ye mera, yani Sibt Jafar ka Dil pe chot khaye bina, un se lau lagaye bina Lakh mere liye shairi nahin aati Taqsim ki gayi hai zakat us ke nur ki Sayyargan-e-charkh ke bhi khandan mein (Engineer Syed Ikhlaq Husain Barq Zaidi Marhum)
[گر علیؑ نہیں آئے، زندگی نہیں آتی — جاری] کعبہ جس کا پڑھتے ہو، بغض اُن سے رکھتے ہو بھیک کے بھی طالب ہو، دم بھی اُن کا بھرتے ہو اُن کے دشمنوں سے تم راہ و رسم رکھتے ہو دعویٰ محبت ہے، دشمنی بھی کرتے ہو کیسے اتنی ہو تم شرم بھی نہیں آتی گر سکون ملتا ہے "اللہ ہو" کے نعروں میں گرمیوں کے روزوں میں، بے ریا نمازوں میں سوزِ عشق ملتا ہے صوفی جوانوں میں بیٹھنا نہیں جب تک آدمی مقتلوں میں دل کبھی تو آتی ہے، عاشقی نہیں آتی جو بھی وردِ نادِ علیؑ صبح و شام کرتا ہے جو درودِ آلِ نبیؐ صبح و شام پڑھتا ہے غمِ حسینؑ کا ذکر کر، دم علیؑ کا بھرتا ہے اُن کے دشمنوں پر جو بے شمار کرتا ہے پاس ایسے بندے کے بے کلی نہیں آتی کچھ نہیں رکھا اللہ فلسفہ کی بحثوں میں معرفت نہیں ملتی [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کچھ اثر نہیں باقی واعظوں کی باتوں میں اب کوئی نہیں آتا مولوی کی باتوں میں بے ولائے آلِ نبیؐ آگہی نہیں آتی عشق جس سے کرتے ہیں اس کی بات بھی مانیں اسوۂ نبیؐ و علیؑ ہر قدم پہ اپنائیں جتنے کام اچھے ہیں ان کو کل پہ مت ٹالیں تنگ دست مومن کی بیکسی پہ فرمائیں آج سے عمل کیجئے، کل کبھی نہیں آتی بھیک بھی نہیں ملتی، پیٹ بھی نہیں بھرتا علم بھی نہیں ملتا ان کے در پہ آئے بنا تجربہ ہے یہ میرا، یعنی سبط جعفر کا دل پہ چوٹ کھائے بنا، ان سے لو لگائے بنا لاکھ مرے لئے شاعری نہیں آتی تقسیم کی گئی ہے زکوٰۃ اُس کے نور کی سیارگانِ چرخ کے بھی خاندان میں (انجینئر سید اخلاق حسین برق زیدی مرحوم)

370

Madh-e-Haider na karun mujh ko hazar kis ka hai Madh-e-Masumin (az awwal ta aakhir) Madh-e-Haider na karun mujh ko hazar kis ka hai Kyun na Haq baat karun, mujh ko khatar kis ka hai Rah mein Aal-e-Muhammad ke na kam aaye to phir Mere kandhon pe ye rakha hua sar kis ka hai Jis pe Rizwan-e-Jinan aaya ho rozan ban kar Aisa Zahra ke siwa dusra dar kis ka hai Dam nikalta ho jahan maut ka bhi aate hue Panjtan hi ka to hai aur wo ghar kis ka hai Tair-e-Sidra banayega Muhammad ke siwa Qab-e-Qausain talak aur safar kis ka hai Fath-e-Khaibar ko kiya quwwat-e-Rabbani se Quwwat-e-Rab pe ye tasarruf magar kis ka hai Dastan un ki shujaat ki raqam hai jis par Gar nahin bahr-e-Jibrail to par kis ka hai Gar nahin hai mere Maula teri khush-damani ka Din-e-Islam ki bunyad mein zar kis ka hai Haq se mutalliq na sahi, kufr pe bhi chalti rahi Zulfiqar aisa chikan aur hunar kis ka hai Qaim-e-Aal-e-Muhammad ka sipahi ban kar (Insaf ba-janib Nabi Shaban) Qaim-e-Aal-e-Muhammad ka sipahi ban kar Sar-ba-kaf ho ja, tujhe khauf-o-khatar kis ka hai Hon shayatin-e-zaman ya ke sipah-e-ashrar Aap jab sar pe salamat hain to dar kis ka hai Ab to apne bhi hue fitna-gari par mail Tum ko malum hai andesha-e-shar kis ka hai Wo jo roshan hain tumhare, hain wohi apne bhi Kya hamein un se, hamein khauf-e-zarar kis ka hai Reh ke parde mein bhi wo hum pe nazar rakhte hain Warna hum aap pe faizan-e-nazar kis ka hai
مدحِ حیدرؑ نہ کروں مجھ کو حذر کس کا ہے مدحِ معصومین (از اول تا آخر) مدحِ حیدرؑ نہ کروں مجھ کو حذر کس کا ہے کیوں نہ حق بات کروں، مجھ کو خطر کس کا ہے راہ میں آلِ محمدؐ کے نہ کام آئے تو پھر میرے کاندھوں پہ یہ رکھا ہوا سر کس کا ہے جس پہ رضوانِ جناں آیا ہو روزن بن کر ایسا زہرا کے سوا دوسرا در کس کا ہے دم نکلتا ہو جہاں موت کا بھی آتے ہوئے پنجتن ہی کا تو ہے اور وہ گھر کس کا ہے طائرِ سدرہ بنائے گا محمدؐ کے سوا قابِ قوسین تلک اور سفر کس کا ہے فتحِ خیبر کو کیا قوتِ ربانی سے قوتِ رب پہ یہ تصرف مگر کس کا ہے داستان ان کی شجاعت کی رقم ہے جس پر گر نہیں بحرِ جبرئیل تو پر کس کا ہے گر نہیں ہے مرے مولا تیری خوش دامنی کا دینِ اسلام کی بنیاد میں زر کس کا ہے حق سے متعلق نہ سہی، کفر پہ بھی چلتی رہی ذوالفقار ایسا چکن اور ہنر کس کا ہے قائمِ آلِ محمدؐ کا سپاہی بن کر (انصاف بجانب نبی شعبان) قائمِ آلِ محمدؐ کا سپاہی بن کر سر بکف ہو جا، تجھے خوف و خطر کس کا ہے ہوں شیاطینِ زماں یا کہ سپاہِ اشرار آپ جب سر پہ سلامت ہیں تو ڈر کس کا ہے اب تو اپنے بھی ہوئے فتنہ گری پر مائل تم کو معلوم ہے اندیشۂ شر کس کا ہے وہ جو روشن ہیں تمہارے، ہیں وہی اپنے بھی کیا ہمیں ان سے، ہمیں خوفِ ضرر کس کا ہے رہ کے پردے میں بھی وہ ہم پہ نظر رکھتے ہیں ورنہ ہم آپ پہ فیضانِ نظر کس کا ہے

371

Qaim-e-Aal-e-Muhammad ka sipahi ban kar — jari Is qayamat mein na aaoge to kab aaoge Wajah-e-takhir hai kya, tum ko hazar kis ka hai Aap parda jo hata len to qayamat ho jaye Tab-e-didar kise, itna jigar kis ka hai Aap Zamzam se bhi khush-tar hai mera ashk-e-aza Jis ka Kausar ho badal aisa gauhar kis ka hai Rahati Sahib ke hua aap pe Sibt Jafar Gar zarron ka nahin hai to asar kis ka hai Syed Hashim Raza Hashim Madhat-e-Mahbub-e-Haq asan nahin Lazimi taskin, tariqa chahiye Naat ki to baat hi kuchh aur hai Naam lene ko saliqa chahiye (Bashukriya Muhtaram Riyazuddin o Nawab Irshad Ali Khan) Dar surat-e-paiwand-e-jahan bud Ali bud Hazrat Shams Tabrizi Dar surat-e-paiwand-e-jahan bud Ali bud Ta naqsh-e-zamin bud, zaman bud Ali bud Ham awwal-o-ham aakhir-o-ham zahir-o-batin Ham abid-o-ham mabud-o-mabud Ali bud Ham Adam-o-ham Shis-o-ham Idris-o-ham Ayyub Ham Yunus-o-ham Yusuf-o-ham Hud Ali bud Harun-e-wilayat ke pas az Musa Imran Wallah Ali bud, Ali bud, Ali bud An Shah-e-sarafraz ke andar shab-e-Meraj Ba Ahmad-e-Mukhtar yaki bud, Ali bud Basta / Hazrat Shadan Dehlavi Jahan kahin nigah-e-fan-shanas milti hai Wahan pe dagh-e-hunar be-qiyas milti hai Jo sozkhwan ka ho zikr-e-Husain pe [ghair wazeh] Pyas-o-[ghair wazeh]-o-bazu ki aas milti hai
[قائمِ آلِ محمدؐ کا سپاہی بن کر — جاری] اس قیامت میں نہ آؤ گے تو کب آؤ گے وجہِ تاخیر ہے کیا، تم کو حذر کس کا ہے آپ پردہ جو ہٹا لیں تو قیامت ہوجائے تابِ دیدار کسے، اتنا جگر کس کا ہے آپ زمزم سے بھی خوشتر ہے مرا اشکِ عزا جس کا کوثر ہو بدل ایسا گہر کس کا ہے راحتی صاحب کے ہوا آپ پہ سبط جعفر گر زرّوں کا نہیں ہے تو اثر کس کا ہے سید ہاشم رضا ہاشم مدحتِ محبوبِ حق آسان نہیں لازمی تسکیں، طریقہ چاہیے نعت کی تو بات ہی کچھ اور ہے نام لینے کو سلیقہ چاہیے (بشکریہ محترم ریاض الدین و نواب ارشاد علی خان) در صورتِ پیوندِ جہاں بود علیؑ بود حضرت شمس تبریزیؒ در صورتِ پیوندِ جہاں بود علیؑ بود تا نقشِ زمین بود، زمان بود علیؑ بود ہم اول و ہم آخر و ہم ظاہر و باطن ہم عابد و ہم معبد و معبود علیؑ بود ہم آدم و ہم شیث و ہم ادریس و ہم ایوب ہم یونس و ہم یوسف و ہم ہود علیؑ بود ہارونِ ولایت کہ پس از موسیٰ عمران واللہ علیؑ بود، علیؑ بود، علیؑ بود آں شاہِ سرافراز کہ اندر شبِ معراج با احمدِ مختار یکی بود، علیؑ بود بستہ / حضرت شاداں دہلوی جہاں کہیں نگہِ فن شناس ملتی ہے وہاں پہ داغِ ہنر بے قیاس ملتی ہے جو سوز خواں کا ہو ذکرِ حسینؑ پہ [غیر واضح] پیاس و [غیر واضح] و بازو کی آس ملتی ہے

372

Maqam pesh-e-Khuda motabar Batul ka hai Syed Sibt Jafar Zaidi Maqam pesh-e-Khuda motabar Batul ka hai Jo kainat mein hai khushk-o-tar Batul ka hai Khuda ke din ka charcha jo hai zamane mein Nahin ye aur kisi ka samar Batul ka hai Khadija aur Muhammad ki hain yahi waris Hai jitna din mein shamil wo zar Batul ka hai Hai dil yun to mashiyyat mein Panjtan ko magar Kisi ka itna nahin jis qadar Batul ka hai Tamam khalq jise Jibrail kehti hai Khuda ka abd hai, banda magar Batul ka hai Yahan salam ko Khair-ul-Anam aate hain Adab se aao yahan par, ye dar Batul ka hai Barha de farsh-e-aza, soz-o-nauha-o-matam Khuda ka shukr ke ghar ka magar Batul ka hai Namaz-o-roza bhi wajib hain, Hajj-o-matam bhi Zara na kijiyo ghaflat agar Batul ka hai Jhukta chala tha [lafz ghair wazeh] ne sar-e-darbar Ghar khol gaye the ye sar Batul ka hai Mahak raha hai jo gulshan mein ye gul-e-Abbas Ye bagh-e-Murtaza mein shajar Batul ka hai Hasan aur ishq donon hain Nabi ke par Ali ka ladla Ghazi pisar Batul ka hai Wo Sham-o-Kufa mein khutbat-e-Zainab-o-Sajjad Ali ki shan ka mazhar, asar Batul ka hai Khuda ka khas karam hai jo Sibt Jafar par Ata-e-sukhan ki, faiz-e-nazar Batul ka hai Hakim Arif Akbarabadi (Hafni) Ajib log hain ye dushmanan-e-Aal-e-Nabi Inhi se bhik bhi mangen, inhi pe war karen?!
مقام پیشِ خدا معتبر بتولؑ کا ہے سید سبط جعفر زیدی مقام پیشِ خدا معتبر بتولؑ کا ہے جو کائنات میں ہے خشک و تر بتولؑ کا ہے خدا کے دین کا چرچا جو ہے زمانے میں نہیں یہ اور کسی کا ثمر بتولؑ کا ہے خدیجہؑ اور محمدؐ کی ہیں یہی وارث ہے جتنا دین میں شامل وہ زر بتولؑ کا ہے ہے دل یوں تو مشیت میں پنجتن کو مگر کسی کا اتنا نہیں جس قدر بتولؑ کا ہے تمام خلق جسے جبرئیل کہتی ہے خدا کا عبد ہے، بندہ مگر بتولؑ کا ہے یہاں سلام کو خیر الانام آتے ہیں ادب سے آؤ یہاں پر، یہ در بتولؑ کا ہے بڑھا دے فرشِ عزا، سوز و نوحہ و ماتم خدا کا شکر کہ گھر کا مگر بتولؑ کا ہے نماز و روزہ بھی واجب ہیں، حج و ماتم بھی ذرا نہ کیجیو غفلت اگر بتولؑ کا ہے جھکتا چلا تھا [لفظ غیر واضح] نے سرِ دربار گھر کھول گئے تھے یہ سر بتولؑ کا ہے مہک رہا ہے جو گلشن میں یہ گلِ عباسؑ یہ باغِ مرتضیٰ میں شجر بتولؑ کا ہے حسنؑ اور عشق دونوں ہیں نبیؐ کے پر علیؑ کا لاڈلا غازی پسر بتولؑ کا ہے وہ شام و کوفہ میں خطباتِ زینبؑ و سجادؑ علیؑ کی شان کا مظہر، اثر بتولؑ کا ہے خدا کا خاص کرم ہے جو سبط جعفر پر عطا سخن کی، فیضِ نظر بتولؑ کا ہے حکیم عارف اکبر آبادی (حفنی) عجیب لوگ ہیں یہ دشمنانِ آلِ نبیؐ انہی سے بھیک بھی مانگیں، انہی پہ وار کریں؟!

373

Shairi bhi meri un se mansub hai Syed Sibt Jafar Zaidi Sozkhwani to khidmat hi Zahra ki hai, shairi bhi meri un se mansub hai Khidmat-e-khalq, Mahmud-o-taqrir jo bhi hai, wo bhi Aal-e-Nabi un se mansub hai Hai ghulami-e-Aal-e-Nabi ka samar, mujh ko Ustad kehte hain Ahl-e-Nazar Is mein jurat hi kya, sab ko malum hai, har bara admi un se mansub hai Asiya-sai, tarsil-e-paigham-e-Haq, gah gahwara-junbani-e-Husain ki Panjtan ka jo khadim hai Ruh-ul-Amin, us ki naukri un se mansub hai Tin Shaban ho ya ho terah Rajab, ya wo Zi-l-Hajj ki atharah jo hain Ya isi tarah ki koi tarikh ho, apni har ek khushi un se mansub hai Hain jo Doctor Hammad [misra juzwi taur par ghair wazeh] Jo hain mamduh-o-Mahbub-e-Rab-e-Ali, meri khush-nafsi un se mansub hai Hun wo insha-e-azm-e-Mustafa, Sayyida, sab ke sab hi Muhammad hain Mushkil-kusha Jo bhi chahun kisi aur se bhi mang lun, sari dad un se mansub hai [Bayen kalam] Un ke masnun [matn juzwi taur par ghair wazeh] Wanzuru ta-ke un ko tana na do, jin ki diwangi un se mansub hai Agle pishon ke Arsh se hai roshni, un ka jo dost hai wo hai aftab Apni kya roshni, apni kya bakhshishi, un se mansub hai Be-hadis kaha, nara-e-Haideri, kaisa Allama Maulana aur Maulvi?! Jo ke sani, Ghadiri-o-Maulai hai, bas wohi Maulvi un se mansub hai Subh se Sham tak Majlisein [matn juzwi taur par ghair wazeh] Maktab-e-Haq mein shayad isi waste, har Hadis-e-Nabi un se mansub hai Fath-e-Makka ke bhi baad Muslim hue, jhuti baten jo karte rahe Wo jo Sarkar se har tarah dur the, har koi un ki inhi se mansub hai Kazimain, Najaf, Karbala, Samarra, Sham-o-Qum Mashhad-o-Madina, Tibba jahan Ye shiar-e-Khuda aur Muhammad ke hain, un mein har ek hi un se mansub hai
شاعری بھی مری اُن سے منسوب ہے سید سبط جعفر زیدی سوز خوانی تو خدمت ہی زہرا کی ہے، شاعری بھی مری اُن سے منسوب ہے خدمتِ خلق، محمود و تقریر جو بھی ہے، وہ بھی آلِ نبیؐ اُن سے منسوب ہے ہے غلامیِ آلِ نبیؐ کا ثمر، مجھ کو استاد کہتے ہیں اہلِ نظر اس میں جرأت ہی کیا، سب کو معلوم ہے، ہر بڑا آدمی اُن سے منسوب ہے آسیا سائی، ترسیلِ پیغامِ حق، گاہ گہوارہ جنبانیِ حسینؑ کی پنجتن کا جو خادم ہے روح الامین، اس کی نوکری اُن سے منسوب ہے تین شعبان ہو یا ہو تیرہ رجب، یا وہ ذی الحج کی اٹھارہ جو ہیں یا اسی طرح کی کوئی تاریخ ہو، اپنی ہر اک خوشی اُن سے منسوب ہے ہیں جو ڈاکٹر حماد [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] جو ہیں مدوح و محبوبِ ربِ علیؑ، میری خوش نفسی اُن سے منسوب ہے ہوں وہ انشاءِ عزمِ مصطفیٰؐ، سیدہؑ، سب کے سب ہی محمدؐ ہیں مشکل کشا جو بھی چاہوں کسی اور سے بھی مانگ لوں، ساری داد اُن سے منسوب ہے [بائیں کالم] اُن کے مسنون [متن جزوی طور پر غیر واضح] وانظرو تاکہ ان کو طعنہ نہ دو، جن کی دیوانگی اُن سے منسوب ہے اگلے پشوں کے عرش سے ہے روشنی، اُن کا جو دوست ہے وہ ہے آفتاب اپنی کیا روشنی، اپنی کیا بخششی، اُن سے منسوب ہے بے حدیث کہا، نعرۂ حیدری، کیسا علامہ مولانا اور مولوی؟! جو کہ سانی، غدیری و مولائی ہے، بس وہی مولوی اُن سے منسوب ہے صبح سے شام تک مجلسیں [متن جزوی طور پر غیر واضح] مکتبِ حق میں شاید اسی واسطے، ہر حدیثِ نبیؐ اُن سے منسوب ہے فتحِ مکہ کے بھی بعد مسلم ہوئے، جھوٹی باتیں جو کرتے رہے وہ جو سرکار سے ہر طرح دور تھے، ہر کوئی اُن کی انہی سے منسوب ہے کاظمین، نجف، کربلا، سامرہ، شام و قم مشہد و مدینہ، طبیبہ جہاں یہ شعارِ خدا اور محمدؐ کے ہیں، اُن میں ہر ایک ہی اُن سے منسوب ہے

374

Shairi bhi meri un se mansub hai — jari Mazhab-e-Jafari yani Din-e-Nabi hai to Khatam se Qaim tak ek hi Par ye aizaz Masum-e-Imam ka hai, sara Din-e-Nabi un se mansub hai Qabr un se mulaqat ki hai jagah, main kahin soch kar qabr tak aa gaya Zindagi bhi ata mere Maula ki thi, maut bhi un se mansub hai Panjtan se muhabbat buzurgon ko thi, aap ka dawa hum in bhi len agar Banda-parwar magar is ka kya hai sabab? Aap bhi har Khariji un se mansub hai Dekh tarikh-e-Khaibar bhi to [matn juzwi taur par ghair wazeh] Jin ka murshid hai tarikh wohi Rab, nara-e-Haideri un se mansub hai Wo jo ghali-o-ustad [matn juzwi taur par ghair wazeh] Ek bechari police hi kya mansar, har burai un se mansub hai Wo jo Abbas hain Ghazi-sifat, lashkar un ke maddah Allah aur Panjtan Khidmat-e-Shah-e-din mein jo hazir rahe, aaj tak haziri un se mansub hai Tere mamduh hain Malik-e-do-jahan, Sibt Jafar [matn juzwi taur par ghair wazeh] Kyun tujhe fikr hai dad-o-bedad ki, jab teri shairi un se mansub hai Namaz-e-ishq parhta hun, Khuda se baat karta hun Sibt Jafar Adu-e-Aal-e-Mutahhar se do do hath karta hun Namaz-e-ishq parhta hun, Khuda se baat karta hun To pesh-e-samein-e-muhtaram soghat karta hun Na is ko shairi kahiye, na lafzi-o-sanai Faqat nazr-e-aqidat hai, na fankari na purkari Baghli shairi Jannat mein khairat karta hun (Ba-munasibat-e-wiladat-e-Imam Husain) Agarche the Shabih-e-Mustafa Shabbar-o-Akbar bhi Magar jab koi puchhe hu-ba-hu taswir-e-Sarwar ki Hasan ka naam leta hun, Hasan ki baat karta hun Sawal-e-janashini-e-Payambar aur Haider par Farazdaq ki tarah sud-o-ziyan se bala-tar ho kar Hasan ki kasrat-e-izdiwaj ka jo itna charcha hai Muarrikh jhut likhta hai, munafiq kufr kehta hai Main un ko mustanad imkanat karta hun
[شاعری بھی مری اُن سے منسوب ہے — جاری] مذہبِ جعفری یعنی دینِ نبیؐ ہے تو خاتم سے قائم تک ایک ہی پر یہ اعزاز معصومِ امام کا ہے، سارا دینِ نبیؐ اُن سے منسوب ہے قبر اُن سے ملاقات کی ہے جگہ، میں کہیں سوچ کر قبر تک آگیا زندگی بھی عطا میرے مولا کی تھی، موت بھی اُن سے منسوب ہے پنجتن سے محبت بزرگوں کو تھی، آپ کا دعویٰ ہم ان بھی لیں اگر بندہ پرور مگر اس کا کیا ہے سبب؟ آپ بھی ہر خارجی اُن سے منسوب ہے دیکھ تاریخِ خیبر بھی تو [متن جزوی طور پر غیر واضح] جن کا مرشد ہے تاریخ وہی رب، نعرۂ حیدری اُن سے منسوب ہے وہ جو غالی و استاد [متن جزوی طور پر غیر واضح] ایک بیچاری پولیس ہی کیا منصر، ہر برائی اُن سے منسوب ہے وہ جو عباسؑ ہیں غازی صفت، لشکر اُن کے مداح اللہ اور پنجتن خدمتِ شاہِ دیں میں جو حاضر رہے، آج تک حاضری اُن سے منسوب ہے تیرے مدوح ہیں مالکِ دو جہاں، سبط جعفر [متن جزوی طور پر غیر واضح] کیوں تجھے فکر ہے داد و بیداد کی، جب تیری شاعری اُن سے منسوب ہے نمازِ عشق پڑھتا ہوں، خدا سے بات کرتا ہوں سبط جعفر عدوئے آلِ مطہر سے دو دو ہاتھ کرتا ہوں نمازِ عشق پڑھتا ہوں، خدا سے بات کرتا ہوں تو پیشِ سامعینِ محترم سوغات کرتا ہوں نہ اس کو شاعری کہیے، نہ لفظی و صناعی فقط نذرِ عقیدت ہے، نہ فنکاری نہ پرکاری بغلی شاعری جنت میں خیرات کرتا ہوں (بمناسبتِ ولادتِ امام حسینؑ) اگرچہ تھے شبیہِ مصطفیٰؐ شبرؑ و اکبرؑ بھی مگر جب کوئی پوچھے ہو بہو تصویرِ سرورؑ کی حسنؑ کا نام لیتا ہوں، حسنؑ کی بات کرتا ہوں سوالِ جانشینیِ پیمبرؐ اور حیدرؑ پر فرزدق کی طرح سود و زیاں سے بالاتر ہو کر حسنؑ کی کثرتِ ازدواج کا جو اتنا چرچا ہے مؤرخ جھوٹ لکھتا ہے، منافق کفر کہتا ہے میں اُن کو مستند امکانات کرتا ہوں

375

Namaz-e-ishq parhta hun, Khuda se baat karta hun — jari Unwan-e-iqtidar aa jaye jab bojhal hathon mein Qalam ko dekhta hun jab kisi na-ahl hathon mein To main fikr-e-difa-e-izzat-e-Sadat karta hun Muarrikh Maulvi, Mufti, Muhaddis, Munsif-o-Sharai Ba-zam-e-khud hi kehlaye lekin jab [matn juzwi taur par ghair wazeh] Apne radd-e-bala mein sadqa-o-khairat karta hun Zamane ki munafiq, na-muwafiq talkh baton se Main jab pichha chhurana chahta hun talkh yadon se Hasan ki madh se taskin-e-ehsasat karta hun Nigahen phirta Aal-e-Nabi se yaad aata hai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Baraat ka wazifa hai jo main din raat karta hun Na chhora hath se mere kabhi phir qabr ka daman Hai jab se samne mere Hasan ka uswa-e-ahsan Ajab ma-fauq-e-fitrat, khariq-ul-adat karta hun Janab-e-Hasan se masiyat pichha chhurwati hai Muhabbat, marifat ke sath jaan barhti jati hai Sar-e-taslim kham, takmil imkanat karta hun Sawal ban ke aate hain jahan Jibrail-o-Rizwan bhi Isi dar ka bhikari hun, yahi hai raz-e-khush-hali Dard-e-Zahra ke kuthon mein guzar auqat karta hun Bacha kar tama-e-duniya se, bachaya fikr-e-mahshar se Hamesha rakhi wabasta dar-e-Aal-e-Payambar se Yahi ek iltija ay Qazi-ul-Hajat karta hun Jahan ke khushnumaon ke ishq ke lagen paon mein Hai jis ki dhum Jannat mein to shohrat asmanon mein Yahan bhi pesh-e-khidmat mein wohi nukat karta hun Dukat-ush-shauq fi sadri wali halat hai Ali murabbia am rabiyah Allah ki surat hai Mujhe dil se magar mazid ilzamat karta hun Ali, hubbuhu al-janna, taqsim-un-nar wal-janna Wasiy-ul-Mustafa, haqqan Imam-ul-ins wal-janna Ghulu ka zikr kya jab naql-e-farmudat karta hun Nasri ne kaha didar-e-Rab ka apni ankhon se Chala aur maut pani se apne Rab ke hathon se Kabhi main rashk karta hun, kabhi haihat karta hun
[نمازِ عشق پڑھتا ہوں، خدا سے بات کرتا ہوں — جاری] عنوانِ اقتدار آ جائے جب بوجھل ہاتھوں میں قلم کو دیکھتا ہوں جب کسی نااہل ہاتھوں میں تو میں فکرِ دفاعِ عزتِ سادات کرتا ہوں مورخ مولوی، مفتی، محدث، منصف و شرعی بزعمِ خود ہی کہلائے لیکن جب [متن جزوی طور پر غیر واضح] اپنے ردّ بالا میں صدقہ و خیرات کرتا ہوں زمانے کی منافق، ناموافق تلخ باتوں سے میں جب پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں تلخ یادوں سے حسنؑ کی مدح سے تسکینِ احساسات کرتا ہوں نگاہیں پھرتا آلِ نبیؐ سے یاد آتا ہے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] برائت کا وظیفہ ہے جو میں دن رات کرتا ہوں نہ چھوڑا ہاتھ سے میرے کبھی پھر قبر کا دامن ہے جب سے سامنے میرے حسنؑ کا اسوۂ احسن عجب مافوقِ فطرت، خارق العادات کرتا ہوں جنابِ حسنؑ سے معصیت پیچھا چھڑواتی ہے محبت، معرفت کے ساتھ جاں بڑھتی جاتی ہے سرِ تسلیم خم، تکمیل امکانات کرتا ہوں سوال بن کے آتے ہیں جہاں جبرئیل و رضواں بھی اسی در کا بھکاری ہوں، یہی ہے رازِ خوش حالی دردِ زہرا کے کُھٹوں میں گزر اوقات کرتا ہوں بچا کر طمعِ دنیا سے، بچایا فکرِ محشر سے ہمیشہ رکھی وابستہ درِ آلِ پیمبرؐ سے یہی اک التجا اے قاضی الحاجات کرتا ہوں جہاں کے خوشنماؤں کے عشق کے لگیں پاؤں میں ہے جس کی دھوم جنت میں تو شہرہ آسمانوں میں یہاں بھی پیشِ خدمت میں وہی نکات کرتا ہوں دُکاتُ الشوق فی صدری والی حالت ہے علیؑ مربیہ ام ربیہ اللہ کی صورت ہے مجھے دل سے مگر مزید الزامات کرتا ہوں علیؑ، حُبُّهُ الجنة، تقسيمُ النارِ والجنة وصیُّ المصطفیٰ، حقاً امامُ الانسِ والجنة غلو کا ذکر کیا جب نقلِ فرمودات کرتا ہوں نصری نے کہا دیدارِ رب کا اپنی آنکھوں سے چلا اور موت پانی سے اپنے رب کے ہاتھوں سے کبھی میں رشک کرتا ہوں، کبھی ہیہات کرتا ہوں

376

Namaz-e-ishq parhta hun, Khuda se baat karta hun — jari Najaf aur Kazimain-o-Karbala, Mashhad ki Jannat mein Gaya tha Samarra, Sham aur Qum Maula ki khidmat mein Main tanhai mein aksar yaad wo halat karta hun Hai dur-andeshi-o-majburi ye Sibt Jafar ki Jahan saif ka gham [misra juzwi taur par ghair wazeh] Qalam se kam leta hun, qalam halat karta hun Zist jis ki bandi ho, wo Husain mera hai Sibt Jafar Zist jis ki bandi hai, wo Husain mera hai Maut jis pe marti hai, wo Husain mera hai Jis ki sab Khudai hai, wo Husain mera hai Karbala bhi us ka hai, duniya bhi us ke hain Ausiya bhi us ke hain, Auliya bhi us ke hain Khalq sari jis ki hai, wo Husain mera hai Aisi nai kis ki hai, aisa kis ka Nana hai Ek ka Siddiq-e-kaun-o-makan, ek Arab ki malika hai Jo waqar-e-hasti hai, wo Husain mera hai Dadi jis ki Bint-e-Asad aur Jad Abu Talib Man hai Fatima Zahra, bap ka laqab Ghalib Jo uruj-e-hasti hai, wo Husain mera hai Jis ke zer-e-pair aayen, mulk apni jholiyan phailaye Jis ke dar se qatre bhi aab-e-Kausar mil jaye Rizwan jis ka rozi hai, wo Husain mera hai Jis ke dast-e-qudrat mein bab hai nabuwwat ki Din ka to kehna kya, jabke khud mashiyyat bhi Jis ka ka parhti hai, wo Husain mera hai Waris-e-shukr-e-maras, azm-o-hausla ki had Syed-e-Shabab-e-Jannat, jis ne mashiyyat ki sanad Mustafa se pai hai, wo Husain mera hai Jis ke waste ta-abad ban gaye hon khud Sarwar Tul de den sajde ko hukm-e-Rab se Payambar Jo Khuda ki marzi hai, wo Husain mera hai Sat bete Rabab ko kitne apni tifli mein Ek hasiyat hi ko kya din ko zayati mein Jis ne zindagi di hai, wo Husain mera hai
[نمازِ عشق پڑھتا ہوں، خدا سے بات کرتا ہوں — جاری] نجف اور کاظمین و کربلا، مشہد کی جنت میں گیا تھا سامرہ، شام اور قم مولا کی خدمت میں میں تنہائی میں اکثر یاد وہ حالات کرتا ہوں ہے دور اندیشی و مجبوری یہ سبط جعفر کی جہاں سیف کا غم [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] قلم سے کام لیتا ہوں، قلم حالات کرتا ہوں زیست جس کی باندی ہو، وہ حسینؑ میرا ہے سبط جعفر زیست جس کی باندی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے موت جس پہ مرتی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے جس کی سب خدائی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے کربلا بھی اس کا ہے، دنیا بھی اس کے ہیں اوصیاء بھی اس کے ہیں، اولیاء بھی اس کے ہیں خلق ساری جس کی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے ایسی نائی کس کی ہے، ایسا کس کا نانا ہے اک کا صدیقِ کون و مکاں، اک عرب کی ملکہ ہے جو وقارِ ہستی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے دادی جس کی بنتِ اسد اور جد ابو طالبؑ ماں ہے فاطمہ زہرا، باپ کا لقب غالب جو عروجِ ہستی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے جس کے زیرِ پیر آئیں، ملک اپنی جھولیاں پھیلائے جس کے در سے قطرے بھی آبِ کوثر مل جائے رضواں جس کا روزی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے جس کے دستِ قدرت میں باب ہے نبوت کی دن کا تو کہنا کیا، جبکہ خود مشیت بھی جس کا کا پڑھتی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے وارثِ شکر مراس، عزم و حوصلہ کی حد سیدِ شبابِ جنت، جس نے مشیت کی سند مصطفیٰؐ سے پائی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے جس کے واسطے تا ابد بن گئے ہوں خود سرور طول دے دیں سجدے کو حکمِ رب سے پیمبرؐ جو خدا کی مرضی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے سات بیٹے رابب کو کتنے اپنی ظفلی میں ایک حسیت ہی کو کیا دین کو ضیعتی میں جس نے زندگی دی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے

377

Zist jis ki bandi ho, wo Husain mera hai — jari De aman sar-e-maqtal jis ne dushman-e-jaan ko Sar-buland jis ne kiya, sar kata ke Yazdan ko Jis ki bakhsha hi hai, wo Husain mera hai Gar ummat-e-Jad ki jis ne nok-e-neza par Ki tilawat-e-Quran jis ne nok-e-neza par Din jis se baqi hai, wo Husain mera hai Hath kat gaye phir bhi bahr-o-bar pe qabza hai Qabza kar ke darya par aaj bhi jo pyasa hai Jis ka aisa bhai hai, wo Husain mera hai Kufr orh kar aaya jab mulukiyat ki niqab Jis ne apne khutbon se us ko kar diya be-naqab Jis ki khwahar aisi hai, wo Husain mera hai Rang-o-nasl-o-mazhab ka farq yahan nahin koi Ek sab ka maslak hai, ek qaumiyat sab ki Bazm ye Husaini hai, wo Husain mera hai Sibt Jafar ek shair, sozkhwan Aal-e-Nabi Us ko izzat-o-shohrat Panjtan ke dar se mili Jis ka faiz jari hai, wo Husain mera hai Shifa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Sibt Jafar Chala tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Jaza tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Sila tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Shifa, shafaat, karam, sakhawat hain sab inhi ke to istiare Palat ja Qum se, bare ghatte na kar khataon ka khauf pyare Shifa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Habib ibn-e-Mazahir un ki jo khak-e-pa par ye rakh raha hai Jo shauq-e-didar mein tu apne makan ki chhat se gir gaya hai Chala tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Khuda ne bhi apne din ki khatir Husain se le rakhe hain paise Samajh le achchhi tarah se Razib, tujhe agar chahiye hain paise To phir tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge
[زیست جس کی باندی ہو، وہ حسینؑ میرا ہے — جاری] دے اماں سرِ مقتل جس نے دشمنِ جاں کو سر بلند جس نے کیا، سر کٹا کے یزداں کو جس کی بخشا ہی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے گر امتِ جد کی جس نے نوکِ نیزہ پر کی تلاوتِ قرآن جس نے نوکِ نیزہ پر دین جس سے باقی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے ہاتھ کٹ گئے پھر بھی بحر و بر پہ قبضہ ہے قبضہ کر کے دریا پر آج بھی جو پیاسا ہے جس کا ایسا بھائی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے کفر اوڑھ کر آیا جب ملوکیت کی نقاب جس نے اپنے خطبوں سے اس کو کردیا بے نقاب جس کی خواہر ایسی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے رنگ و نسل و مذہب کا فرق یہاں نہیں کوئی ایک سب کا مسلک ہے، ایک قومیت سب کی بزمِ یہ حسینی ہے، وہ حسینؑ میرا ہے سبط جعفر اک شاعر، سوز خواں آلِ نبیؐ اس کو عزت و شہرت پنجتن کے در سے ملی جس کا فیض جاری ہے، وہ حسینؑ میرا ہے شفا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے سبط جعفر چلا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے جزا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے صلہ تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے شفا، شفاعت، کرم، سخاوت ہیں سب انہی کے تو استعارے پلٹ جا قم سے، بڑے گھٹتے نہ کر خطاؤں کا خوف پیارے شفا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے حبیب ابنِ مظاہر ان کی جو خاکِ پا پر یہ رکھ رہا ہے جو شوقِ دیدار میں تو اپنے مکان کی چھت سے گر گیا ہے چلا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے خدا نے بھی اپنے دین کی خاطر حسینؑ سے لے رکھے ہیں پیسے سمجھ لے اچھی طرح سے راضیب، تجھے اگر چاہیے ہیں پیسے تو پھر تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے

378

Shifa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge — jari Banu Umayya ke khauf se kyun idhar udhar phir raha hai mara Hasan ay Muhammad ke Din-e-Muhammad ki tarah agar chahiye sahara Bhala tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Jahan ke Malik hi jante hain yahan ke pechida raston ko Tu Wahab-e-Kalbi ki tarah aa, tujhe jo Haq ki talash hai to Pata tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Banaya Rizwan ko tu ne rozi, baraye tasdiq-e-qaul-e-Zahra Pari jo bachchon ki zarurat kabhi tere din ko Khudaya Baqa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Husain ke Baba Murtaza ne kharid li marzi-e-Ilahi Wirasatan bhi asalatan bhi hai milkiyat Aal-e-Murtaza ki Raza tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Isi se bakhshish ki baat kar le, yahi to Sardar hain jahan ke Ghulam-zada bana ke tujh ko, sanad-e-ghulami ki gar na denge Pata tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Hai Din-e-Islam kyun pareshan, baqa ki hai fikr tujh ko kaisi Pukarta kyun nahin isi ko jo tera hai kashti ka sathi Baqa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Misalon un ke dar pe aa jao, hai har ek gham ka hai madawa Use zinda rakho Din-e-Ahmad, bas ab na takhir kar Khudaya Dawa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Na maut ke zaiqe se ghabra, sipah-e-shuhada mein aa ja Hayat mein sath Shah-e-Jannat, to maut ka shahr se zyada Maza tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Husain ko khak mat samjho, na apna jaisa bashar hi kahiyo Agar khair nur hi nahin hain to apne bare mein fikr kijo Ziya tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Qubuliyat ki jo ho zamanat, jo kam achchhe banao tere Ho ek Azam bhi Husain shamil, jo kam donon jahan mein aaye Dua tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge
[شفا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے — جاری] بنو امیہ کے خوف سے کیوں ادھر ادھر پھر رہا ہے مارا حسنؑ اے محمدؐ کے دینِ محمدؐ کی طرح اگر چاہیے سہارا بھلا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے جہاں کے مالک ہی جانتے ہیں یہاں کے پیچیدہ راستوں کو تو وہبِ کلبی کی طرح آ، تجھے جو حق کی تلاش ہے تو پتہ تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے بنایا رضوان کو تو نے روزی، برائے تصدیقِ قولِ زہرا پڑی جو بچوں کی ضرورت کبھی ترے دین کو خدایا بقا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے حسینؑ کے بابا مرتضیٰؑ نے خرید لی مرضیِ الٰہی وراثتاً بھی اصالتاً بھی ہے ملکیت آلِ مرتضیٰؑ کی رضا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے اسی سے بخشش کی بات کرلے، یہی تو سردار ہیں جہاں کے غلام زادہ بنا کے تجھ کو، سندِ غلامی کی گر نہ دیں گے پتا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے ہے دینِ اسلام کیوں پریشان، بقا کی ہے فکر تجھ کو کیسی پکارتا کیوں نہیں اسی کو جو تیرا ہے کشتی کا ساتھی بقا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے مثالوں ان کے در پہ آ جاؤ، ہے ہر اک غم کا ہے مداوا اسے زندہ رکھو دینِ احمدؐ، بس اب نہ تاخیر کر خدایا دوا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے نہ موت کے ذائقے سے گھبرا، سپاہِ شہداء میں آجا حیات میں ساتھ شہِ جنت، تو موت کا شہر سے زیادہ مزہ تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے حسینؑ کو خاک مت سمجھو، نہ اپنا جیسا بشر ہی کہیو اگر خیر نور ہی نہیں ہیں تو اپنے بارے میں فکر کیجو ضیا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے قبولیت کی جو ہو ضمانت، جو کام اچھے بناؤ تیرے ہو اک اعظم بھی حسینؑ شامل، جو کام دونوں جہاں میں آئے دعا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے

379

Shifa tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge — jari Aur kya tu ne Haq-e-nusrat agarche tu jang kar na paya Ay Zafar-e-jinn, jo kam tere supurd tha tu ne kar dikhaya Jaza tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Aza-e-Shabbir ke khilaf tujhe ye "aizaz" to milega Kisi bhi unwan ki bhi surat Husain ka samna karega Saza tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Agarche zimma hai Mustafa ka, Ali-o-Husain-o-Fatima ka Khuda bhi ijra us ka dega, phir bhi Shah-e-Abbas bawafa ka Sila tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Janab-e-Zainab ke sar ki chadar, Husain ka pairahan milega Tu apni be-pardagi se Din-e-Muhammad na ghabra Aba tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Jo keh raha hai tu Sibt Jafar, nafa hai mauqa Pehle saat jo aa ke baithe hain Ahl-e-Mahfil to bahr-e-madhat Gala tujhe aur kaun dega?! Husain hi to ata karenge Aal-e-Nabi ke nauha-khwani Syed Sibt Jafar Jise nisbat nahin Aal-e-Nabi se Use kya kam ilm-o-agahi se Khuda dushman ko bhi mahfuz rakhe Wabal-o-zillat-e-bughz-e-Ali se Abu Sufyan ke ghar mein andhera Milegi uqbat-o-hurriyat-e-fikr se Ali ibn-e-Husain ibn-e-Ali se Ye hain Aal-e-Nabi ke nauha-khwani Chali nasl-e-Payambar phir inhi se Ba-zahir laghar-o-bimar qaidi Haqiqat mein qawi-tar Haideri se Mahakega unhein kya tauq-e-aada Bulandi muhkam ke milti hai Ali se Hain tinat mein donon se bhi bad-tar Ba-zahir hain Yazidi admi se
[شفا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے — جاری] اور کیا تو نے حقِ نصرت اگرچہ تو جنگ کر نہ پایا اے زعفرِ جن، جو کام تیرے سپرد تھا تو نے کر دکھایا جزا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے عزائے شبیرؑ کے خلاف تجھے یہ "اعزاز" تو ملے گا کسی بھی عنوان کی بھی صورت حسینؑ کا سامنا کرے گا سزا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے اگرچہ ذمہ ہے مصطفیٰؐ کا، علیؑ و حسینؑ و فاطمہؑ کا خدا بھی اجرا اس کا دے گا، پھر بھی شاہِ عباسؑ باوفا کا صلہ تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے جنابِ زینبؑ کے سر کی چادر، حسینؑ کا پیرہن ملے گا تو اپنی بے پردگی سے دینِ محمدؐ نہ گھبرا عبا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے جو کہہ رہا ہے تو سبط جعفر، نفع ہے موقع پہلے ساعت جو آکے بیٹھے ہیں اہلِ محفل تو بہرِ مدحت گلا تجھے اور کون دے گا؟! حسینؑ ہی تو عطا کریں گے آلِ نبیؐ کے نوحہ خوانی سید سبط جعفر جسے نسبت نہیں آلِ نبیؐ سے اسے کیا کام علم و آگہی سے خدا دشمن کو بھی محفوظ رکھے وبال و ذلتِ بغضِ علیؑ سے ابو سفیان کے گھر میں اندھیرا ملے گی عقبت و حریت فکر سے علیؑ ابنِ حسینؑ ابنِ علیؑ سے یہ ہیں آلِ نبیؐ کے نوحہ خوانی چلی نسلِ پیمبرؐ پھر انہی سے بظاہر لاغر و بیمار قیدی حقیقت میں قوی تر حیدری سے محاکے گا انہیں کیا طوقِ اعدا بلندی محکم کے ملتی ہے علیؑ سے ہیں طینت میں دونوں سے بھی بدتر بظاہر ہیں یزیدی آدمی سے

380

Imam har dusra the Muhammad Baqir Sibt Jafar Imam har dusra the Muhammad Baqir Khuda ki khas ata the Muhammad Baqir The shakl-o-surat-o-sirat mein aks-e-Payambar Jabhi to un ki jagah the Muhammad Baqir Janab-e-Syed Sajjad ko tha naz un par Ke Jannat ki ziya the Muhammad Baqir Salam Hazrat-e-Jabir se kehlwaya Rasul Sharaf ye jin ko mila the Muhammad Baqir Sharik-e-hashr-o-misaq mein the roz-e-alast Gawah "qalu bala" the Muhammad Baqir Asir-o-ghazi-e-Karb-o-bala-o-Kufa-o-Sham [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Wo jin ki shan mein aaya [Arabi fiqra ghair wazeh] Wo aitibar-e-yaqin the Muhammad Baqir Kya qiyam to dekha istiqamat the Muhammad Baqir Chale to bad-e-saba the Muhammad Baqir Imam-e-Azam-o-Malik the khosha-chinon mein Bare baron se siwa the Muhammad Baqir Wo jin ko ilm mein Khaliq ne razdan kiya Wohi batayenge kya the Muhammad Baqir Para jo waqt koi sakht Sibt Jafar par Shafaat aur shifa the Muhammad Baqir Sarfaraz Abad Kuchh nahin mansab-o-martaba chahiye Mere Maula tera aasra chahiye De ke takht-e-hukumat ye bole Husain Ay bhikari tujhe aur kya chahiye?! (Bashukriya kamsin madhkhwan Ehtisham Shahanshah)
امام ہر دوسرا تھے محمد باقرؑ سبط جعفر امام ہر دوسرا تھے محمد باقرؑ خدا کی خاص عطا تھے محمد باقرؑ تھے شکل و صورت و سیرت میں عکسِ پیغمبرؐ جبھی تو ان کی جگہ تھے محمد باقرؑ جنابِ سید سجادؑ کو تھا ناز ان پر کہ جنت کی ضیا تھے محمد باقرؑ سلام حضرتِ جابر سے کہلوایا رسولؐ شرف یہ جن کو ملا تھے محمد باقرؑ شریکِ حشر و میثاق میں تھے روزِ الست گواہ "قالوا بلیٰ" تھے محمد باقرؑ اسیر و غازیِ کرب و بلا و کوفہ و شام [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] وہ جن کی شان میں آیا [عربی فقرہ غیر واضح] وہ اعتبارِ یقیں تھے محمد باقرؑ کیا قیام تو دیکھا استقامت تھے محمد باقرؑ چلے تو بادِ صبا تھے محمد باقرؑ امامِ اعظم و مالک تھے خوشہ چینوں میں بڑے بڑوں سے سوا تھے محمد باقرؑ وہ جن کو علم میں خالق نے رازداں کیا وہی بتائیں گے کیا تھے محمد باقرؑ پڑا جو وقت کوئی سخت سبط جعفر پر شفاعت اور شفا تھے محمد باقرؑ سرفراز ابد کچھ نہیں منصب و مرتبہ چاہیے میرے مولا ترا آسرا چاہیے دے کے تختِ حکومت یہ بولے حسینؑ اے بھکاری تجھے اور کیا چاہیے؟! (بشکریہ کمسن مدح خواں احتشام شہنشاہ)

381

[Unwan juzwi taur par ghair wazeh — Imam Jafar Sadiq] [Ye safha Imam Jafar Sadiq ki madh par mushtamil hai. Mutaddid alfaz scan mein ghair wazeh hain.] Zamane mein jo [ghair wazeh] Mustafa ka hai Imam Jafar Sadiq / Sibt Jafar Zamane mein [ghair wazeh] Mustafa ka hai [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Khuda-o-Mustafa, Maula Ali ke naam ka [ghair wazeh] [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Ali ki aulad, Anbiya aur Nur-e-Huda ki [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Hai Millat-e-Jafari mein ilm-o-sidq ki nisbat [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Imam Jafar Sadiq ki azmat-o-marifat [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Safdar Husain Zauqi (Mudir Al-Qaim) Aal-e-Rasul ke [ghair wazeh] mein saz Shahid-e-Karbala mera Raza saz Rehan Azmi [Do ashar juzwi taur par ghair wazeh] (Bashukriya Shair-e-Ahl-e-Bait Tahzib Zaidi o Captain Waqar Zaidi / Y.H.O.C)
[عنوان جزوی طور پر غیر واضح — امام جعفر صادقؑ] [یہ صفحہ امام جعفر صادقؑ کی مدح پر مشتمل ہے۔ متعدد الفاظ scan میں غیر واضح ہیں۔] زمانے میں جو [غیر واضح] مصطفیٰؐ کا ہے امام جعفر صادقؑ / سبط جعفر زمانے میں [غیر واضح] مصطفیٰؐ کا ہے [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] خدا و مصطفیٰؐ، مولا علیؑ کے نام کا [غیر واضح] [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] علیؑ کی اولاد، انبیاء اور نورِ ہدیٰ کی [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] ہے ملتِ جعفری میں علم و صدق کی نسبت [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] امام جعفر صادقؑ کی عظمت و معرفت [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] صفدر حسین ذوقی (مدیر القائم) آلِ رسولؐ کے [غیر واضح] میں ساز شہیدِ کربلا میرا رضا ساز ریحان اعظمی [دو اشعار جزوی طور پر غیر واضح] (بشکریہ شاعرِ اہل بیت تہذیب زیدی و کیپٹن وقار زیدی / Y.H.O.C)

382

Sahab-e-fazl-o-rahmat the Imam Musa Kazim Sibt Jafar Sahab-e-fazl-o-rahmat the Imam Musa Kazim Khuda ki khas ayat the Imam Musa Kazim Amin-o-Kazim-o-Nafs-e-Zakiya, Tahir-o-Sabir Nishan-e-ilm-o-hikmat the Imam Musa Kazim Ye badkhwahon pe bhi apne hamesha rahm karte the Murawwat hi murawwat the Imam Musa Kazim Jo un par zulm karta tha dua us ko bhi dete the Sarapa afw-o-rahmat the Imam Musa Kazim Jahan se jab hue rukhsat Imam Jafar Sadiq Bache rushd-o-hidayat the Imam Musa Kazim Gharon par tha musallat go Bani Abbas ka hakim Magar sardar-e-ummat the Imam Musa Kazim Aziyat dene walon se bhi tha shafqat ka bartao Mujassam khulq-o-shafqat the Imam Musa Kazim Khafa Allah aise the ke dil kehta hai [ghair wazeh] Ba-jaye-khud mashiyyat the Imam Musa Kazim [Bayen kalam] [Ibtidai misra juzwi taur par ghair wazeh] Waqar-e-Adamiyat the Imam Musa Kazim The jab azad natiq the, hue jab dakhil-e-zindan To phir Quran-e-samit the Imam Musa Kazim Agarche aa raha dekha har ek [lafz ghair wazeh] ne Wo koh-e-istiqamat the Imam Musa Kazim Shahid-e-[ghair wazeh] ko jis ne karaya tha [ghair wazeh] zindan mein Gaye jab zer-e-turbat the Imam Musa Kazim Ata jin ne kiya "Khair-e-Kasir" aur umr-e-tulani Go [misra juzwi taur par ghair wazeh] the Imam Musa Kazim Har ek Ahl-e-Nazar mane na mane jante hain Ke Haq ki dar-e-qayamat the Imam Musa Kazim Jahan bhi Sibt Jafar par koi nazuk maqam aaya Wahan par hi himayat the Imam Musa Kazim Waqar Ambalvi Islam ke daman mein aur Aal ke hua kya hai?! Ek zarb-e-Yadullahi, ek sajda-e-Shabbiri
سحابِ فضل و رحمت تھے امام موسیٰ کاظمؑ سبط جعفر سحابِ فضل و رحمت تھے امام موسیٰ کاظمؑ خدا کی خاص آیت تھے امام موسیٰ کاظمؑ امین و کاظم و نفسِ زکیہ، طاہر و صابر نشانِ علم و حکمت تھے امام موسیٰ کاظمؑ یہ بدخواہوں پہ بھی اپنے ہمیشہ رحم کرتے تھے مروت ہی مروت تھے امام موسیٰ کاظمؑ جو ان پر ظلم کرتا تھا دعا اس کو بھی دیتے تھے سراپا عفو و رحمت تھے امام موسیٰ کاظمؑ جہاں سے جب ہوئے رخصت امام جعفر صادقؑ بچے رشد و ہدایت تھے امام موسیٰ کاظمؑ گھروں پر تھا مسلط گو بنی عباس کا حاکم مگر سردارِ امت تھے امام موسیٰ کاظمؑ اذیت دینے والوں سے بھی تھا شفقت کا برتاؤ مجسم خلق و شفقت تھے امام موسیٰ کاظمؑ خفا اللہ ایسے تھے کہ دل کہتا ہے [غیر واضح] بجائے خود مشیت تھے امام موسیٰ کاظمؑ [بائیں کالم] [ابتدائی مصرع جزوی طور پر غیر واضح] وقارِ آدمیت تھے امام موسیٰ کاظمؑ تھے جب آزاد ناطق تھے، ہوئے جب داخلِ زنداں تو پھر قرآنِ صامت تھے امام موسیٰ کاظمؑ اگرچہ آ رہا دیکھا ہر اک [لفظ غیر واضح] نے وہ کوہِ استقامت تھے امام موسیٰ کاظمؑ شہیدِ [غیر واضح] کو جس نے کرایا تھا [غیر واضح] زنداں میں گئے جب زیرِ تربت تھے امام موسیٰ کاظمؑ عطا جن نے کیا "خیرِ کثیر" اور عمرِ طولانی گو [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] تھے امام موسیٰ کاظمؑ ہر اک اہلِ نظر مانے نہ مانے جانتے ہیں کہ حق کی دارِ قیامت تھے امام موسیٰ کاظمؑ جہاں بھی سبط جعفر پر کوئی نازک مقام آیا وہاں پر ہی حمایت تھے امام موسیٰ کاظمؑ وقار انبالوی اسلام کے دامن میں اور آل کے ہوا کیا ہے؟! اک ضربِ یداللّٰہی، اک سجدۂ شبیری

383

Marja hai khalaeq ka rauza mere Maula ka Sibt Jafar Marja hai khalaeq ka rauza mere Maula ka Yun hi to nahin jag mein charcha mere Maula ka Wo Shah-e-Arab bhi hain aur Mah-e-Ajam bhi hain Har mulk-o-har alam [ghair wazeh] mere Maula ka Hai aaj bhi qadmon mein shahi bhi, khilafat bhi Shahon se to afzal hai banda mere Maula ka Kaunain ki daulat jab milti hai ek zarre par Kyun jaye kisi dar par mangta mere Maula ka Zahr khap gayi Shahzadi, aur lag gayi shadi bhi Chalta hai magar ab tak sikka mere Maula ka Har amr-e-Ilahi aur taqdir pe Shakir the Tha jabke mashiyyat par qabza mere Maula ka Malik tere palle mein kuchh bhi na bache shayad Misaq agar kar de qarza mere Maula ka Musa ka asa kitne qatilon ke sheron se Musa se bhi kuchh bala qad tha mere Maula ka Jis tarah Farazdaq tha Sajjad ka shaidai Maddah tha Dibil bhi sachcha mere Maula ka Hargiz nahin ban sakta Mamun Wali un ka Tadfin ko aayega beta mere Maula ka Jata bhi insan bhi, hatta ke malaik bhi Le jate hain Mashhad se sadqa mere Maula ka Rah-e-hawadis mein bichhaye hain muradon ke Barhane ko bazu pe naqsha mere Maula ka Khashmi mein mat rahiyo ay apne bandon ko Bachta hai halakat se rauza mere Maula ka Jab bhi koi mushkil ho, aana ho, pyasa ho Har ek maraz se hai [shifa] mere Maula ka [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Allah agar yawar hai banda mere Maula ka
مرجع ہے خلائق کا روضہ مرے مولا کا سبط جعفر مرجع ہے خلائق کا روضہ مرے مولا کا یوں ہی تو نہیں جگ میں چرچا مرے مولا کا وہ شاہِ عرب بھی ہیں اور ماہِ عجم بھی ہیں ہر ملک و ہر عالم [غیر واضح] مرے مولا کا ہے آج بھی قدموں میں شاہی بھی، خلافت بھی شاہوں سے تو افضل ہے بندہ مرے مولا کا کونین کی دولت جب ملتی ہے اک ذرّے پر کیوں جائے کسی در پر منگتا مرے مولا کا زہر کھپ گئی شہزادی، اور لگ گئی شادی بھی چلتا ہے مگر اب تک سکہ مرے مولا کا ہر امرِ الٰہی اور تقدیر پہ شاکر تھے تھا جبکہ مشیت پر قبضہ مرے مولا کا مالک ترے پلے میں کچھ بھی نہ بچے شاید میثاق اگر کردے قرضہ مرے مولا کا موسیٰ کا عصا کتنے قاتلوں کے شیروں سے موسیٰ سے بھی کچھ بالا قد تھا مرے مولا کا جس طرح فرزدق تھا سجادؑ کا شیدائی مداح تھا دعبل بھی سچا مرے مولا کا ہرگز نہیں بن سکتا مامون ولی ان کا تدفین کو آئے گا بیٹا مرے مولا کا جاتا بھی انسان بھی، حتیٰ کہ ملائک بھی لے جاتے ہیں مشہد سے صدقہ مرے مولا کا راہِ حوادث میں بچھائے ہیں مرادوں کے بڑھانے کو بازو پہ نقشہ مرے مولا کا خشمی میں مت رہیو اے اپنے بندوں کو بچتا ہے ہلاکت سے روضہ مرے مولا کا جب بھی کوئی مشکل ہو، آنا ہو، پیاسا ہو ہر ایک مرض سے ہے [شفا] مرے مولا کا [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اللہ اگر یاور ہے بندہ مرے مولا کا

384

Bashar ho kar bhi tum shar se juda ho Imam Taqi Jawad / Syed Sibt Jafar Bashar ho kar bhi tum shar se juda ho Koi samjhe to kya samjhe ke kya ho Taqi, Jawad, Fateh aur Hadi Abu Jafar, Muhammad, Murtaza ho Tumhi ho fakhr-e-Adam, shan-e-Khatam Waqar-e-nasl-e-Hazrat Mariya ho Imamat kis ne Haq se pai [ghair wazeh] Har ek se is fazilat mein siwa ho Bhala phir maut kya maregi us ko Tumhare naam par jo mar mita ho Chalo khidmat mein un ki gham ke maro Ilaj-e-gardish-e-dauran jo chaho Na un ko azma ay Ibn-e-Aksam Agar thori si bhi tujh mein haya ho Bakhshish-e-Mashhad, Madina, Karbala bhi Chalenge Kazimain-o-Samarra ho Zamana lakh tu Aqa Ali Naqi jaisa Sibt Jafar Zamana lakh tu Aqa Ali Naqi jaisa Kahan hai dusra aisa Ali Naqi jaisa Sharik-e-hal bachchon ke the Imam bhi Koi sharik nahin tha Ali Naqi jaisa Thi Momin ki khatir gawara zillat bhi Imam koi na dekha Ali Naqi jaisa Ada-e-qarz ho ya aur koi majburi Hai kaun puchhne wala Ali Naqi jaisa Pare hain jis ke Taqi aur Askari beta Sharaf hai kab ye kisi ka Ali Naqi jaisa Mila Imam Hasan Askari ko ye aizaz Pisar hai Mahdi to Baba Ali Naqi jaisa [Do misra juzwi taur par ghair wazeh] Sharaf mila hai ziyarat ka Sibt Jafar ko Nahin hai dusra shaida Ali Naqi jaisa
بشر ہو کر بھی تم شر سے جدا ہو امام تقی جوادؑ / سید سبط جعفر بشر ہو کر بھی تم شر سے جدا ہو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے کہ کیا ہو تقی، جواد، فاتح اور ہادی ابو جعفر، محمد، مرتضیٰ ہو تمہی ہو فخرِ آدم، شانِ خاتم وقارِ نسلِ حضرت ماریہ ہو امامت کس نے حق سے پائی [غیر واضح] ہر اک سے اس فضیلت میں سوا ہو بھلا پھر موت کیا مارے گی اس کو تمہارے نام پر جو مر مٹا ہو چلو خدمت میں ان کی غم کے مارو علاجِ گردشِ دوراں جو چاہو نہ ان کو آزما اے ابنِ اکثم اگر تھوڑی سی بھی تجھ میں حیا ہو بخششِ مشہد، مدینہ، کربلا بھی چلیں گے کاظمین و سامرہ ہو زمانہ لاکھ تو آقا علی نقیؑ جیسا سبط جعفر زمانہ لاکھ تو آقا علی نقیؑ جیسا کہاں ہے دوسرا ایسا علی نقیؑ جیسا شریکِ حال بچوں کے تھے امام بھی کوئی شریک نہیں تھا علی نقیؑ جیسا تھی مومن کی خاطر گوارا ذلت بھی امام کوئی نہ دیکھا علی نقیؑ جیسا ادائے قرض ہو یا اور کوئی مجبوری ہے کون پوچھنے والا علی نقیؑ جیسا پڑے ہیں جس کے تقیؑ اور عسکریؑ بیٹا شرف ہے کب یہ کسی کا علی نقیؑ جیسا ملا امام حسن عسکریؑ کو یہ اعزاز پسر ہے مہدیؑ تو بابا علی نقیؑ جیسا [دو مصرع جزوی طور پر غیر واضح] شرف ملا ہے زیارت کا سبط جعفر کو نہیں ہے دوسرا شیدا علی نقیؑ جیسا

385

Naib-e-Khair-ul-Wara, Quran-e-goya Askari Sibt Jafar Naib-e-Khair-ul-Wara, Quran-e-goya Askari Terahwan hain Mushaf-e-Natiq ka sura Askari Jis ke pichhe Anbiya bhi aayenge parhne namaz Ay khusha farzand hai wo aap hi ka Askari Ta-abad hai un ke bete ki imamat dahr mein Qaim-e-Aal-e-Muhammad ke hain Baba Askari Khaliq-o-makhluq sab ke kam aata hai mudam Do jahan mein aap hi ka khanwada Askari Anbiya-o-Mursalin aur din Imamon ke amin Nur-o-ismat aur hidayat ka iada Askari Khadim-e-Khallaq-e-Alam aur makhdum-e-jahan Bap Dada ki tarah hain Shah-e-wala Askari Babiyan-e-jashn aur "Zulfiqar Sahib" shukriya Bahr-e-madhat Sibt Jafar ko bulaya Askari (Syed Zulfiqar Abbas Sahib Muntazim Jashn-e-Wiladat ba-maqam Masjid Askari) Hali gham sunayenge jab Imam aayenge Sibt Jafar Hali gham sunayenge jab Imam aayenge Zakhm-e-dil dikhayenge jab Imam aayenge Mahfilein jamayenge jab Imam aayenge Bam-o-dar sajayenge jab Imam aayenge Jashn hum manayenge jab Imam aayenge Zakhm hain abhi taza Makka aur Madine ke Sham-o-Kufa-o-Karb-o-bala hum bhula nahin sakte Az Saqifa ta Iran zulm tir se nahin pahunche Jitne dukh uthaye hain hum ne ghar walon se Ek ek chukayenge jab Imam aayenge Marhala qayamat ka hai zuhur par mauquf Intizar-e-hur-o-Jannat hai zuhur par mauquf Intiqam-e-Karb-o-bala hai zuhur par mauquf Intiqam-e-roz-e-jaza hai zuhur par mauquf Hum sukun payenge jab Imam aayenge
نائبِ خیر الوریٰ، قرآنِ گویا عسکریؑ سبط جعفر نائبِ خیر الوریٰ، قرآنِ گویا عسکریؑ تیرھواں ہیں مصحفِ ناطق کا سورہ عسکریؑ جس کے پیچھے انبیاء بھی آئیں گے پڑھنے نماز اے خوشا فرزند ہے وہ آپ ہی کا عسکریؑ تابد ہے ان کے بیٹے کی امامت دہر میں قائمِ آلِ محمدؐ کے ہیں بابا عسکریؑ خالق و مخلوق سب کے کام آتا ہے مدام دو جہاں میں آپ ہی کا خانوادہ عسکریؑ انبیاء و مرسلین اور دیں اماموں کے امین نور و عصمت اور ہدایت کا اعادہ عسکریؑ خادمِ خلاقِ عالم اور مخدومِ جہاں باپ دادا کی طرح ہیں شاہ والا عسکریؑ بابیانِ جشن اور "ذوالفقار صاحب" شکریہ بہرِ مدحت سبط جعفر کو بلایا عسکریؑ (سید ذوالفقار عباس صاحب منتظم جشنِ ولادت بمقام مسجد عسکری) حالی غم سنائیں گے جب امام آئیں گے سبط جعفر حالی غم سنائیں گے جب امام آئیں گے زخمِ دل دکھائیں گے جب امام آئیں گے محفلیں جمائیں گے جب امام آئیں گے بام و در سجائیں گے جب امام آئیں گے جشن ہم منائیں گے جب امام آئیں گے زخم ہیں ابھی تازہ مکہ اور مدینے کے شام و کوفہ و کرب و بلا ہم بھلا نہیں سکتے از سقیفہ تا ایران ظلم تیر سے نہیں پہنچے جتنے دکھ اٹھائے ہیں ہم نے گھر والوں سے ایک ایک چکائیں گے جب امام آئیں گے مرحلہ قیامت کا ہے ظہور پر موقوف انتظارِ حور و جنتا ہے ظہور پر موقوف انتقامِ کرب و بلا ہے ظہور پر موقوف انتقامِ روزِ جزا ہے ظہور پر موقوف ہم سکون پائیں گے جب امام آئیں گے

386

Hali gham sunayenge jab Imam aayenge — jari Shak hai jin ko Allah ke adl aur adalat par Mansab-e-nabuwwat par, Sayyida ki ismat par Murtaza ki [ghair wazeh] se muttasil niyabat par Jin ko shak hai barah par, barahwin ki ghaibat par Sab hi mare jayenge jab Imam aayenge Naam par Sahaba ke kam fasiqon jaise! Naam par Sahaba ke kam kafiron jaise! Naam par Sahaba ke kam mushrikon jaise! Naam par Sahaba ke kam munkiron jaise! Sab nazar chukayenge jab Imam aayenge Ye hamare makr-o-riya, shairana ayyari! Kya hamare saum-o-salat aur ye azadari! Kitna hai khulus in mein, kis qadar riyakari! Kya Imam-e-khatir hum ne ki hai tayyari?! Kaise munh dikhayenge jab Imam aayenge Dini mehnat jo subh-o-sham karte hain Un ke dushmanon se bhi rah-o-rasm rakhte hain Khums bhi nahin dete, ghibatein bhi karte hain [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Mominon se bhi dil mein bughz-o-kina rakhte hain! Kis tarah chhupayenge jab Imam aayenge Jhut bolne ko hum mashghale samajhte hain! Baat baat par beja maslahat baratte hain! Aur munafiqat ko bhi maslahat hi kehte hain! Lahw-o-lahab ka saman hum gharon mein rakhte hain! Kis tarah chhupayenge jab Imam aayenge Nemat-e-shariat ko bojh hi samajhte hain! Lahw-o-laib hi ko hum zindagi samajhte hain! Sahiban-e-zar ko "bara admi" samajhte hain! Tang-dast Momin ko bas [lafz ghair wazeh] samajhte hain! Kya maqam payenge jab Imam aayenge Apne zati dushman ko dozakhī samajhte hain! Apne aap ko lekin Jannati samajhte hain! Amr aur nahi ko bas wajibi samajhte hain! Dil-fareb baton ko shairi samajhte hain! Baat kya banayenge jab Imam aayenge "Rukn" jo kehte hain aage to kya hoga?
[حالی غم سنائیں گے جب امام آئیں گے — جاری] شک ہے جن کو اللہ کے عدل اور عدالت پر منصبِ نبوت پر، سیدہؑ کی عصمت پر مرتضیٰؑ کی [غیر واضح] سے متصل نیابت پر جن کو شک ہے بارہ پر، بارہویں کی غیبت پر سب ہی مارے جائیں گے جب امام آئیں گے نام پر صحابہ کے کام فاسقوں جیسے! نام پر صحابہ کے کام کافروں جیسے! نام پر صحابہ کے کام مشرکوں جیسے! نام پر صحابہ کے کام منکروں جیسے! سب نظر چکائیں گے جب امام آئیں گے یہ ہمارے مکر و ریا، شاعرانہ عیاری! کیا ہمارے صوم و صلوٰۃ اور یہ عزاداری! کتنا ہے خلوص ان میں، کس قدر ریاکاری! کیا امامِ خاطر ہم نے کی ہے تیاری؟! کیسے منہ دکھائیں گے جب امام آئیں گے دینی محنت جو صبح و شام کرتے ہیں ان کے دشمنوں سے بھی راہ و رسم رکھتے ہیں خمس بھی نہیں دیتے، غیبتیں بھی کرتے ہیں [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] مومنوں سے بھی دل میں بغض و کینہ رکھتے ہیں! کس طرح چھپائیں گے جب امام آئیں گے جھوٹ بولنے کو ہم مشغلے سمجھتے ہیں! بات بات پر بیجا مصلحت برتتے ہیں! اور منافقت کو بھی مصلحت ہی کہتے ہیں! اہو و لہو کا سامان ہم گھروں میں رکھتے ہیں! کس طرح چھپائیں گے جب امام آئیں گے نعمتِ شریعت کو بوجھ ہی سمجھتے ہیں! لہو و لعب ہی کو ہم زندگی سمجھتے ہیں! صاحبانِ زر کو "بڑا آدمی" سمجھتے ہیں! تنگ دست مومن کو بس [لفظ غیر واضح] سمجھتے ہیں! کیا مقام پائیں گے جب امام آئیں گے اپنے ذاتی دشمن کو دوزخی سمجھتے ہیں! اپنے آپ کو لیکن جنتی سمجھتے ہیں! امر اور نہی کو بس واجبی سمجھتے ہیں! دل فریب باتوں کو شاعری سمجھتے ہیں! بات کیا بنائیں گے جب امام آئیں گے "رکن" جو کہتے ہیں آگے تو کیا ہوگا؟

387

Hali gham sunayenge jab Imam aayenge — jari Kya hai apni tayyari, pesh hum karenge kya? Sibt Jafar apna to amal yahi hai sarmaya Hamd-o-Naat-o-Soz-o-Salam aur manqabat, nauha Hum yahi sunayenge jab Imam aayenge Zahr nau Imamon ko ashqiya ne dilwaya Aur giraya darwaza Sayyida pe jalta hua Murtaza se Maula ko bhi shahid karwaya Aal-e-Mustafa ko kya mubtala-e-Karb-o-bala Kya saza na payenge jab Imam aayenge Sari zindagi roye khun Abid-e-muztar Sham aur Kufa mein be-gunah auraton par Shahzadiyon ko [ghair wazeh] ke le kar barahna sar Wo jo uthe hujre se chup hain in mazalim par Munh kahan chhupayenge jab Imam aayenge Zahid Fatehpuri Qatl hua bhi tha to Ali ke hathon! Kaise qismat ke dhani Marhab-o-Antar honge! Zuhur ka waqt aa gaya hai Imam se lau lagaye rakhna Sibt Jafar Zuhur ka waqt aa gaya hai Imam se lau lagaye rakhna Zuhur ka waqt aa gaya hai, Haram pe nazrein jamaye rakhna Zuhur ka waqt aa gaya hai, chiragh-e-ulfat jalaye rakhna Na nind aaye, na ankh aaye, dekho har ek pe nazar jamaye Dil-o-nazar se gumrahon se bachaye, kis raste se aaye Zuhur ka waqt aa gaya hai, har ek rasta sajaye rakhna Na hubb-e-duniya se kuchh ilaqa, na ghair se rah-o-rasm rakhna Tumhari daulat hai ilm-o-taqwa, gaya Dajjal us pe hamla Zuhur ka waqt aa gaya hai, apni punji bachaye rakhna Yahin kahin aas-pas hoga, wo aane wala Khuda ka hai Hawari Askari sath honge, Maula ke sath honge Zuhur ka waqt aa gaya hai, sawariyon se banaye rakhna Hai intiqam-e-Husain baqi, wo aane wala hisab lega Aqida apna durust rakhna jo un ki nusrat ki hai tamanna Zuhur ka waqt aa gaya hai, amal ko bhi azma ke rakhna
[حالی غم سنائیں گے جب امام آئیں گے — جاری] کیا ہے اپنی تیاری، پیش ہم کریں گے کیا؟ سبط جعفر اپنا تو عمل یہی ہے سرمایہ حمد و نعت و سوز و سلام اور منقبت، نوحہ ہم یہی سنائیں گے جب امام آئیں گے زہر نو اماموں کو اشقیا نے دلوایا اور گرایا دروازہ سیدہؑ پہ جلتا ہوا مرتضیٰؑ سے مولا کو بھی شہید کروایا آلِ مصطفیٰؐ کو کیا مبتلائے کرب و بلا کیا سزا نہ پائیں گے جب امام آئیں گے ساری زندگی روئے خون عابدِ مضطر شام اور کوفہ میں بے گناہ عورتوں پر شاہ زادیوں کو [غیر واضح] کے لے کر برہنہ سر وہ جو اٹھے حجرے سے چپ ہیں ان مظالم پر منہ کہاں چھپائیں گے جب امام آئیں گے زاہد فتح پوری قتل ہوا بھی تھا تو علیؑ کے ہاتھوں! کیسے قسمت کے دھنی مرحب و عنتر ہوں گے! ظہور کا وقت آگیا ہے امام سے لو لگائے رکھنا سبط جعفر ظہور کا وقت آگیا ہے امام سے لو لگائے رکھنا ظہور کا وقت آگیا ہے، حرم پہ نظریں جمائے رکھنا ظہور کا وقت آگیا ہے، چراغِ الفت جلائے رکھنا نہ نیند آئے، نہ آنکھ آئے، دیکھو ہر اک پہ نظر جمائے دل و نظر سے گمراہوں سے بچائے، کس راستے سے آئے ظہور کا وقت آگیا ہے، ہر ایک رستہ سجائے رکھنا نہ حبِ دنیا سے کچھ علاقہ، نہ غیر سے راہ و رسم رکھنا تمہاری دولت ہے علم و تقویٰ، گیا دجال اس پہ حملہ ظہور کا وقت آگیا ہے، اپنی پونجی بچائے رکھنا یہیں کہیں آس پاس ہوگا، وہ آنے والا خدا کا ہے حواری عسکریؑ ساتھ ہوں گے، مولا کے ساتھ ہوں گے ظہور کا وقت آگیا ہے، سواریوں سے بنائے رکھنا ہے انتقامِ حسینؑ باقی، وہ آنے والا حساب لے گا عقیدہ اپنا درست رکھنا جو ان کی نصرت کی ہے تمنا ظہور کا وقت آگیا ہے، عمل کو بھی آزما کے رکھنا

388

Zuhur ka waqt aa gaya hai Imam se lau lagaye rakhna — jari Saza hai chand ek zuhuron ki, sab alamatain puri ho chuki hain Basirat-o-marifat tumhari, adu ke Haq ko khul kar rahi hain Zuhur ka waqt aa gaya hai, dil-o-nazar ko bachaye rakhna Sune na naghma-haye-ulfat jo roz roz keh ke keh rahe hain Bache ziyarat jo Sibt Jafar Imam ke dar pe aa pare ho Zuhur ka waqt aa gaya hai, tum apna bistar lagaye rakhna Muin, uswa-e-Hasani, jazba-e-bakhshish apni nazar mein rakhna Hai mojiza inqilab-e-Iran, muhabbat aur maishat ka Zuhur ka waqt aa gaya hai, ye baat dil mein bithaye rakhna [Do band juzwi taur par ghair wazeh] Haram ko torne wale na bachne payen, na chhupne payen Haram ke dar jalane wale na chhupne payen, na bachne payen Zuhur ka waqt aa gaya hai, har ek pe nazrein jamaye rakhna Har shakh-e-aqidat ko samar dete hain Abbas Sarfaraz Abad Har shakh-e-aqidat ko samar dete hain Abbas Nazzara-e-taufiq nazar dete hain Abbas Muddat se nahin harf wo Quran-e-wafa ke Tahrir sar-e-ab jo kar dete hain Abbas Ankhon mein gham-e-Shabbir nam hone se pehle Ashkon ke iwaz lal-o-gauhar dete hain Abbas Shabbir ke qadmon mein badal jati hai taqdir Hurr ko ajab aizaz-o-khabar dete hain Abbas Mujh ko kahin jane ki zarurat nahin hoti Har chiz mera baithe ghar dete hain Abbas Ghazi se na daryaft karo wusat-e-darya Darya ko to mashkize mein bhar dete hain Abbas Lo dekhiye kya dast-e-burida ne sar-e-Sham Tabindagi-e-nur-e-sahar dete hain Abbas Aa jaye Abad maut dar-e-Aal-e-Nabi par Kehte hain yahan umr-e-Khizr dete hain Abbas
[ظہور کا وقت آگیا ہے امام سے لو لگائے رکھنا — جاری] سزا ہے چند اک ظہوروں کی، سب علامتیں پوری ہوچکی ہیں بصیرت و معرفت تمہاری، عدو کے حق کو کھل کر رہی ہیں ظہور کا وقت آگیا ہے، دل و نظر کو بچائے رکھنا سنے نہ نغمہ ہائے الفت جو روز روز کہہ کے کہہ رہے ہیں بچے زیارت جو سبط جعفر امام کے در پہ آ پڑے ہو ظہور کا وقت آگیا ہے، تم اپنا بستر لگائے رکھنا معینؑ، اسوۂ حسنیؑ، جذبۂ بخشش اپنی نظر میں رکھنا ہے معجزہ انقلابِ ایران، محبت اور معیشت کا ظہور کا وقت آگیا ہے، یہ بات دل میں بٹھائے رکھنا [دو بند جزوی طور پر غیر واضح] حرم کو توڑنے والے نہ بچنے پائیں، نہ چھپنے پائیں حرم کے در جلانے والے نہ چھپنے پائیں، نہ بچنے پائیں ظہور کا وقت آگیا ہے، ہر اک پہ نظریں جمائے رکھنا ہر شاخِ عقیدت کو ثمر دیتے ہیں عباسؑ سرفراز ابد ہر شاخِ عقیدت کو ثمر دیتے ہیں عباسؑ نظارۂ توفیق نظر دیتے ہیں عباسؑ مدت سے نہیں حرف وہ قرآنِ وفا کے تحریر سرِ آب جو کردیتے ہیں عباسؑ آنکھوں میں غمِ شبیرؑ نم ہونے سے پہلے اشکوں کے عوض لعل و گہر دیتے ہیں عباسؑ شبیرؑ کے قدموں میں بدل جاتی ہے تقدیر حر کو عجب اعزاز و خبر دیتے ہیں عباسؑ مجھ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہر چیز مرا بیٹھے گھر دیتے ہیں عباسؑ غازی سے نہ دریافت کرو وسعتِ دریا دریا کو تو مشکیزہ میں بھر دیتے ہیں عباسؑ لو دیکھئے کیا دستِ بریدہ نے سرِ شام تابندگیِ نورِ سحر دیتے ہیں عباسؑ آجائے ابد موت درِ آلِ نبیؐ پر کہتے ہیں یہاں عمرِ خضر دیتے ہیں عباسؑ

389

Intizar us ka sar-e-Arsh-e-Ali hota hai Zikr-e-Shahanshah-e-Wafa / Sibt Jafar Intizar us ka sar-e-Arsh-e-Ali hota hai Jashn-e-Abbas jo har sal bapa hota hai Kya kahen Majlis-o-Milad se kya hota hai Yun bhi kuchh ajr-e-risalat ka ada hota hai Jab kahin zikr-e-Shahanshah-e-Wafa hota hai Farsh se Arsh talak Sall-e-Ali hota hai Manwa khair-e-amal aur bhala kya hoga Jis jagah "ti Ali, ti Ali" hota hai Mujh ko de deta hai taufiq Shahanshah-e-Abbas Mehrban jab bhi kabhi mujh pe Khuda hota hai Aa ke jate hain Jibrail tilawat ke liye Madh-e-Abbas mein jo sher kaha hota hai Baith jate hain farishte bhi wahan dam ke liye Jab kahin parcham-e-Abbas khula hota hai Be-wafai ka guzar aur na khizlan ka kuchh kam Jis chaman mein gul-e-Abbas khila hota hai Gar gunahon se phir bhi bacha mere Maula Jo aulad-e-Zahra pe rote hain aksar Na duniya ke gham mein rula mere Maula Munafiq na fasiq na mushrik na kafir Bana kar Husaini utha mere Maula Bacha hum ko duniya ke ranj-o-bala se Muhabbat-e-Shah-e-Karbala mere Maula Jo ashrar hain un ko barbad kar de Bas ab ho chuki iltija mere Maula Tujhe wasta teri rajaiyat ka Hamare hon qarze ada mere Maula Jahan mein jo fitne bapa kar rahe hain Na de un ko muhlat zara mere Maula Apne Syed-us-Sajidin aur [lafz ghair wazeh] De bimariyon se shifa mere Maula (Ba-munasibat "Jashn-e-Wafa" Sipah-e-Abbas / Khairpur Mirs)
انتظار اس کا سرِ عرشِ علیؑ ہوتا ہے ذکرِ شہنشاہِ وفا / سبط جعفر انتظار اس کا سرِ عرشِ علیؑ ہوتا ہے جشنِ عباسؑ جو ہر سال بپا ہوتا ہے کیا کہیں مجلس و میلاد سے کیا ہوتا ہے یوں بھی کچھ اجرِ رسالت کا ادا ہوتا ہے جب کہیں ذکرِ شہنشاہِ وفا ہوتا ہے فرش سے عرش تلک صلِ علیؑ ہوتا ہے مانوا خیرِ عمل اور بھلا کیا ہوگا جس جگہ "تی علی، تی علی" ہوتا ہے مجھ کو دے دیتا ہے توفیق شہنشاہِ عباسؑ مہرباں جب بھی کبھی مجھ پہ خدا ہوتا ہے آ کے جاتے ہیں جبرئیل تلاوت کے لئے مدحِ عباسؑ میں جو شعر کہا ہوتا ہے بیٹھ جاتے ہیں فرشتے بھی وہاں دم کے لئے جب کہیں پرچمِ عباسؑ کھلا ہوتا ہے بے وفائی کا گزر اور نہ خذلان کا کچھ کام جس چمن میں گلِ عباسؑ کھلا ہوتا ہے گر گناہوں سے پھر بھی بچا میرے مولا جو اولادِ زہرا پہ روتے ہیں اکثر نہ دنیا کے غم میں رلا میرے مولا منافق نہ فاسق نہ مشرک نہ کافر بنا کر حسینی اٹھا میرے مولا بچا ہم کو دنیا کے رنج و بلا سے محبتِ شہِ کربلا میرے مولا جو اشرار ہیں ان کو برباد کردے بس اب ہوچکی التجا میرے مولا تجھے واسطہ تیری رجائیت کا ہمارے ہوں قرضے ادا میرے مولا جہاں میں جو فتنے بپا کر رہے ہیں نہ دے ان کو مہلت ذرا میرے مولا اپنے سید الساجدینؑ اور [لفظ غیر واضح] دے بیماریوں سے شفا میرے مولا (بمناسبت "جشنِ وفا" سپاہِ عباسؑ / خیرپور میرس)

390

Jo zer-e-Kisa parwan charhe Zainab aisi hasti hai Syed Sibt Jafar Jo zer-e-Kisa parwan charhe Zainab aisi hasti hai Jo Zainabi ab-o-jad ke rahe Zainab aisi hasti hai Wo jis ne banai apni jagah arbab ke Masumon mein Khud Fatima jis pe naz kare Zainab aisi hasti hai Shabbir se baqi Din-e-Khuda, Shabbir se baqi Payambar Shabbir rahe zinda jis se Zainab aisi hasti hai Dharas hai Imam-e-Dauran ko, Zainab sa nigahban sath mein hai Abbas bhi Shabbir se Zainab aisi hasti hai Kine ki hifazat bhi karna, bazar mein khutbe bhi dena Is wasf mein hai man se aage Zainab aisi hasti hai Sare parde se ummat ne kiya, aur apne beton ko raza Jo auraton ka parda rakhe Zainab aisi hasti hai Sar nezon ke liye din ki khatir jo ware apne beton ka Qasam bhi na kare par sab thi na le Zainab aisi hasti hai Mukhtar hai wo Sibt Jafar, hai tu badlon se pal bhar mein Halat jo sari millat ke Zainab aisi hasti hai La-raib saadat hai khidmat Ali Akbar ki Shadan Dehlavi La-raib saadat hai khidmat Ali Akbar ki Hum sab ki ibadat hai madhat Ali Akbar ki Quran to na late the Jibrail Amin lekin Wo dekhne aate the surat Ali Akbar ki Allah ke baad un ka takbir mein naam aaya Ta-hashr azanon mein hai shohrat Ali Akbar ki Tazim se ek bosa peshani pe dete the Jab dekhte the Sarwar surat Ali Akbar ki Islam ka bachpan tha aur un ki jawani thi Hai din ke tahaffuz mein khidmat Ali Akbar ki La-raib Ali Akbar shahir ki daulat hain Aur Din-e-Payambar hai daulat Ali Akbar ki Bhari pur jawani mein qaim jo rahe Haq par Allah ne dekhi hai qudrat Ali Akbar ki Juz kar-e-nabuwwat ke milti hai Payambar se Surat Ali Akbar ki, sirat Ali Akbar ki
جو زیرِ کساء پروان چڑھے زینبؑ ایسی ہستی ہے سید سبط جعفر جو زیرِ کساء پروان چڑھے زینبؑ ایسی ہستی ہے جو زینبی اب و جد کے رہے زینبؑ ایسی ہستی ہے وہ جس نے بنائی اپنی جگہ ارباب کے معصوموں میں خود فاطمہؑ جس پہ ناز کرے زینبؑ ایسی ہستی ہے شبیرؑ سے باقی دینِ خدا، شبیرؑ سے باقی پیغمبر شبیرؑ رہے زندہ جس سے زینبؑ ایسی ہستی ہے ڈھارس ہے امامِ دوراں کو، زینبؑ سا نگہباں ساتھ میں ہے عباسؑ بھی شبیرؑ سے زینبؑ ایسی ہستی ہے کینے کی حفاظت بھی کرنا، بازار میں خطبے بھی دینا اس وصف میں ہے ماں سے آگے زینبؑ ایسی ہستی ہے سارے پردے سے امت نے کیا، اور اپنے بیٹوں کو رضا جو عورتوں کا پردہ رکھے زینبؑ ایسی ہستی ہے سر نیزوں کے لئے دیں کی خاطر جو وارے اپنے بیٹوں کا قسم بھی نہ کرے پر سب تھی نہ لے زینبؑ ایسی ہستی ہے مختار ہے وہ سبط جعفر، ہے تو بدلوں سے پل بھر میں حالات جو ساری ملت کے زینبؑ ایسی ہستی ہے لاریب سعادت ہے خدمت علی اکبرؑ کی شاداں دہلوی لاریب سعادت ہے خدمت علی اکبرؑ کی ہم سب کی عبادت ہے مدحت علی اکبرؑ کی قرآن تو نہ لاتے تھے جبرئیل امیں لیکن وہ دیکھنے آتے تھے صورت علی اکبرؑ کی اللہ کے بعد ان کا تکبیر میں نام آیا تا حشر اذانوں میں ہے شہرت علی اکبرؑ کی تعظیم سے اک بوسہ پیشانی پہ دیتے تھے جب دیکھتے تھے سرورؑ صورت علی اکبرؑ کی اسلام کا بچپن تھا اور ان کی جوانی تھی ہے دین کے تحفظ میں خدمت علی اکبرؑ کی لاریب علی اکبرؑ شہیر کی دولت ہیں اور دینِ پیغمبرؐ ہے دولت علی اکبرؑ کی بھری پور جوانی میں قائم جو رہے حق پر اللہ نے دیکھی ہے قدرت علی اکبرؑ کی جز کارِ نبوت کے ملتی ہے پیغمبرؐ سے صورت علی اکبرؑ کی، سیرت علی اکبرؑ کی

391

Husainiyat ki baqa the Janab Zaid Shahid Syed Sibt Jafar Zaidi Husainiyat ki baqa the Janab Zaid Shahid Yazidiyat ki fana the Janab Zaid Shahid Qadam qadam pe jo Sajjad ne kiye sajde Inhi ki ek jaza the Janab Zaid Shahid Imam Jafar Sadiq ke aap the mamduh Na sirf ye ke chacha the Janab Zaid Shahid Agarche aap nahin the maqam-e-ismat par Magar baid-e-khata the Janab Zaid Shahid Hai nasl-e-Syed Sajjad un se bhi mansub Sharaf ye jis ko mila the Janab Zaid Shahid Imam Jafar Sadiq se ja ke puchho to Wohi batayenge kya the Janab Zaid Shahid Shahadat aap ne pai agarche baad-e-Husain Shahid-e-Karb-o-bala the Janab Zaid Shahid Khiraj-e-khun-e-shahidan-e-Karbala ka hukm Buland jis ne kiya the Janab Zaid Shahid Is intiqam pe duniya ko kyun shikayat hai Ke Waris-e-shuhada the Janab Zaid Shahid Jis inqilab ke hain Mir-e-Karwan Qaim Isi ki bang-e-dara the Janab Zaid Shahid Banu Umayya larazte the naam se un ke Ghazab ke kard-e-Khuda the Janab Zaid Shahid Wo jis maqam pe utre hon Musa ke Wahan bhi jalwa-numa the Janab Zaid Shahid Ek aisa waqt bhi Zaid Shahid par aaya Miyan-e-arz-o-sama the Janab Zaid Shahid Jala ke rakh banaya, pe roshni na gayi Chiragh-e-Haq ki ziya the Janab Zaid Shahid Shahid hote rahe yun to is gharane mein Laqab hi yakta hua, the Janab Zaid Shahid Hai sare Zaidiyon ko Sibt Jafar is pe naz Waqar-e-Aal-e-Aba the Janab Zaid Shahid
حسینیت کی بقا تھے جناب زید شہید سید سبط جعفر زیدی حسینیت کی بقا تھے جناب زید شہید یزیدیت کی فنا تھے جناب زید شہید قدم قدم پہ جو سجادؑ نے کئے سجدے انہی کی ایک جزا تھے جناب زید شہید امام جعفر صادقؑ کے آپ تھے ممدوح نہ صرف یہ کہ چچا تھے جناب زید شہید اگرچہ آپ نہیں تھے مقامِ عصمت پر مگر بعیدِ خطا تھے جناب زید شہید ہے نسلِ سید سجادؑ ان سے بھی منسوب شرف یہ جس کو ملا تھے جناب زید شہید امام جعفر صادقؑ سے جا کے پوچھو تو وہی بتائیں گے کیا تھے جناب زید شہید شہادت آپ نے پائی اگرچہ بعدِ حسینؑ شہیدِ کرب و بلا تھے جناب زید شہید خراجِ خونِ شہیدانِ کربلا کا حکم بلند جس نے کیا تھے جناب زید شہید اس انتقام پہ دنیا کو کیوں شکایت ہے کہ وارثِ شہدا تھے جناب زید شہید جس انقلاب کے ہیں میرِ کارواں قائمؑ اسی کی بانگِ درا تھے جناب زید شہید بنو امیہ لرزتے تھے نام سے ان کے غضب کے کرد خدا تھے جناب زید شہید وہ جس مقام پہ اترے ہوں موسیٰ کے وہاں بھی جلوہ نما تھے جناب زید شہید اک ایسا وقت بھی زید شہید پر آیا میانِ ارض و سما تھے جناب زید شہید جلا کے راکھ بنایا، پہ روشنی نہ گئی چراغِ حق کی ضیا تھے جناب زید شہید شہید ہوتے رہے یوں تو اس گھرانے میں لقب ہی یکتا ہوا، تھے جناب زید شہید ہے سارے زیدیوں کو سبط جعفر اس پہ ناز وقارِ آلِ عبا تھے جناب زید شہید

392

Zaid Shahid Hakim Syed Muhammad Kazim Zaidi Zaid Shahid qudrat-e-Dawar ka shahkar Zaid Shahid Din-e-Payambar ka shahkar Zaid Shahid himmat-e-Haider ka shahkar Zaid Shahid jazba-e-Shabbar ka shahkar Zaid Shahid qalb-e-har mushrikin pe [ghair wazeh] Zaid Shahid nur-e-nigah-e-Husain hai Zaid Shahid Syed Sajjad ka pisar Zaid Shahid Baqir-e-zi-jah ki sipar Zaid Shahid surat-e-Abbas, Sher-e-nar Zaid Shahid fidya-e-iman par kar-o-far Zaid Shahid azm-o-amal mein bhi taq hai Zaid Shahid qatil-e-bughz-o-nifaq hai Zaid Shahid Jafar-e-Tayyar ka jamal Zaid Shahid Hamza-e-zi-jah ka kamal Zaid Shahid himmat-e-be-khauf ki misal Zaid Shahid Hazrat Abbas ka jalal Zaid Shahid tegh-e-Yadullah ki dhar hai Zaid Shahid qalb-e-munafiq pe bar hai Zaid Shahid Sher-e-Diyar-e-[ghair wazeh] Zaid Shahid ilm-o-amal mein Wali, jari Zaid Shahid saya-e-ijlal-e-Haideri Zaid Shahid aks-e-jamal-e-Payambari Zaid Shahid [lafz ghair wazeh] jahan se dara nahin Zaid Shahid ajal ke aage jhuka nahin (Bashukriya Allama Haider Abbas Zaidi Al-Wasiti) Haqiqat Syed Sibt Jafar Insan kahan, wo log hamein shaitan dikhai dete hain Jo Aal-e-Nabi ki azmat se anjan dikhai dete hain Maidan-e-Mubahala ho ya [ghair wazeh], jalwat panchon ki Hon jama jahan har surat mein Quran dikhai dete hain Takmil-e-risalat hoti hai, tarwij-e-wilayat hoti hai Jo aaj Ghadir-e-Khum mein hamein palan dikhai dete hain
زید شہید حکیم سید محمد کاظم زیدی زید شہید قدرتِ داور کا شاہکار زید شہید دینِ پیمبرؐ کا شاہکار زید شہید ہمتِ حیدرؑ کا شاہکار زید شہید جذبۂ شبرؑ کا شاہکار زید شہید قلبِ ہر مشرکیں پہ [غیر واضح] زید شہید نورِ نگاہِ حسینؑ ہے زید شہید سید سجادؑ کا پسر زید شہید باقرِ ذی جاہ کی سپر زید شہید صورتِ عباسؑ، شیرِ نر زید شہید فدیۂ ایماں پر کر و فر زید شہید عزم و عمل میں بھی طاق ہے زید شہید قاتلِ بغض و نفاق ہے زید شہید جعفرِ طیار کا جمال زید شہید حمزۂ ذی جاہ کا کمال زید شہید ہمتِ بے خوف کی مثال زید شہید حضرت عباسؑ کا جلال زید شہید تیغِ یداللہ کی دھار ہے زید شہید قلبِ منافق پہ بار ہے زید شہید شیرِ دیارِ [غیر واضح] زید شہید علم و عمل میں ولی، جری زید شہید سایۂ اجلالِ حیدری زید شہید عکسِ جمالِ پیمبری زید شہید [لفظ غیر واضح] جہاں سے ڈرا نہیں زید شہید اجل کے آگے جھکا نہیں (بشکریہ علامہ حیدر عباس زیدی الواسطی) حقیقت سید سبط جعفر انسان کہاں، وہ لوگ ہمیں شیطان دکھائی دیتے ہیں جو آلِ نبیؐ کی عظمت سے انجان دکھائی دیتے ہیں میدانِ مباہلہ ہو یا [غیر واضح]، جلوت پانچوں کی ہوں جمع جہاں ہر صورت میں قرآن دکھائی دیتے ہیں تکمیلِ رسالت ہوتی ہے، ترویجِ ولایت ہوتی ہے جو آج غدیرِ خم میں ہمیں پالان دکھائی دیتے ہیں

393

Haqiqat — jari Kuchh log Rasul-e-Akram ka Jibrail ko kehte hain Ustad Halanke hamein wo is ghar ke darban dikhai dete hain Jannat ko jo dur se jate hain be-izn-o-jawan wale Ali Hote hue pul par un ke kaise chalan dikhai dete hain Hasnain ke dar ko chhorna kya, Jannat ke liye marna kaisa Jab is dar par Dozakh ki tarah Rizwan dikhai dete hain Karta hun ghulami ka dawa, par sharm se sar gar jata hun Jab Abuzar-o-Qanbar-o-Miqdad-o-Salman dikhai dete hain Qurban hain khun-o-khirwan is par, danai-o-hikmat rashk kare Jis hosh-o-khirad par Bahlul nadan dikhai dete hain Kehte hain ye Hindu rishi hain kirdar jo [ghair wazeh]-o-Fizza ka Devi, devta, avatar, guru, Bhagwan dikhai dete hain Nusrat ki tamanna mein mukhlis, tajil ki dawat mein sachche Do char hi aise matwale insan dikhai dete hain Shalwaren hain unchi takhnon se, Maulvi gardan lambi, darhi Kuchh in mein Abu Sufyan to kuchh Marwan dikhai dete hain Gumbad-o-minar ke pesh-e-nazar aane to lage hain mahfil mein Bakhshish ke ab aage taur se bahut imkan dikhai dete hain Wo hal kya hai pesh-e-darun aur aage pahredaron ne Ab bani-e-mahfil manawi se nadan dikhai dete hain Jab aa gaye turbat mein Maula to chahe Munkirin ab puchhen Sare hi sawalat ab mujh ko asan dikhai dete hain Jab madh ki mahfil sajti hai tab Mir Hasan, Sibt Jafar Jibrail, Farazdaq, Dibil aur Hassan dikhai dete hain Milad-o-Majalis mein raunaq, abad hain apne azakhane Darbar bhi jabke ghairon ke sunsan dikhai dete hain Bahte hain jo Sarwar ke gham mein rehte hi nahin ansu Rumal mein Zahra ki ko marjan dikhai dete hain
[حقیقت — جاری] کچھ لوگ رسولِ اکرمؐ کا جبرئیل کو کہتے ہیں استاد حالانکہ ہمیں وہ اس گھر کے دربان دکھائی دیتے ہیں جنت کو جو دور سے جاتے ہیں بے اذن و جوان والے علیؑ ہوتے ہوئے پل پر اُن کے کیسے چالان دکھائی دیتے ہیں حسنینؑ کے در کو چھوڑنا کیا، جنت کے لئے مرنا کیسا جب اس در پر دوزخ کی طرح رضوان دکھائی دیتے ہیں کرتا ہوں غلامی کا دعویٰ، پر شرم سے سر گر جاتا ہوں جب بوذر و قنبر و مقداد و سلمان دکھائی دیتے ہیں قربان ہیں خون و خروان اس پر، دانائی و حکمت رشک کرے جس ہوش و خرد پر بہلولؑ نادان دکھائی دیتے ہیں کہتے ہیں یہ ہندو رشی ہیں کردار جو [غیر واضح] و فضہؑ کا دیوئی، دیوتا، اوتار، گرو، بھگوان دکھائی دیتے ہیں نصرت کی تمنا میں مخلص، تعجیل کی دعوت میں سچے دو چار ہی ایسے متوالے انسان دکھائی دیتے ہیں شلواریں ہیں اونچی ٹخنوں سے، مولوی گردن لمبی، داڑھی کچھ ان میں ابو سفیان تو کچھ مروان دکھائی دیتے ہیں گنبد و مینار کے پیشِ نظر آنے تو لگے ہیں محفل میں بخشش کے اب آگے طور سے بہت امکان دکھائی دیتے ہیں وہ حال کیا ہے پیشِ دروں اور آگے پہراداروں نے اب بانیِ محفل معنوی سے نادان دکھائی دیتے ہیں جب آگئے تربت میں مولا تو چاہے منکرین اب پوچھیں سارے ہی سوالات اب مجھ کو آسان دکھائی دیتے ہیں جب مدح کی محفل سجتی ہے تب میر حسن، سبط جعفر جبرئیل، فرزدق، دعبل اور حسان دکھائی دیتے ہیں میلاد و مجالس میں رونق، آباد ہیں اپنے عزاخانے دربار بھی جبکہ غیروں کے سنسان دکھائی دیتے ہیں بہتے ہیں جو سرور کے غم میں رہتے ہی نہیں آنسو رومال میں زہرا کی کو مرجان دکھائی دیتے ہیں

394

Koi jane bhala kya muqaddarat-e-Masuma-e-Qum ki Sibt Jafar Koi jane bhala kya muqaddarat-e-Masuma-e-Qum ki Khuda hi janta hai manzilat-e-Masuma-e-Qum ki Ziyarat ke liye wo ba-yaqin Iran aayega Likhega jo koi bhi manqabat-e-Masuma-e-Qum ki Hain ye bhi Fatima, un ka laqab Masuma-e-Qum hai Muqaddas kis qadar hai shakhsiyat-e-Masuma-e-Qum ki Nahin Masum, pe mahfuz rahin har ek burai se Koi kya kar sakega manqabat-e-Masuma-e-Qum ki Unhein Masum agar bhi kaha karte the Masum Ye azmat dekhiye Zainab-sifat Masuma-e-Qum ki Wo hon Maula Raza ya raat ke walid Musa Kazim Kiya karte the sab izzat bahut Masuma-e-Qum ki Ziyarat aur salami ko Imam-e-Asr aate hain Koi dekhe Alavi mein muhabbat Masuma-e-Qum ki Jo zair-e-Tus aayega mayassar laziman hogi Shafaat us ko Yaum-e-Akhirat Masuma-e-Qum ki Madad karte na meri gar Imam Musa Kazim Kahan thi mere bas mein manqabat-e-Masuma-e-Qum ki Yahan se bhi na mil paya agar bakhshish ka parwana Khuda ki maghfirat hai mazrat Masuma-e-Qum ki Rahe qismat tumhari, aaye ho phir Sibt Jafar tum Ziyarat ko Azim-ur-Rahmat Masuma-e-Qum ki Khuda, Mustafa, Murtaza mere Maula Syed Sibt Jafar Khuda, Mustafa, Murtaza mere Maula Hain Hasnain aur Fatima mere Maula "Maula muntazira" par hai iman mera Na bhatko mazid, aao mere Maula Main tera sawali hun, tera bhikari Na muhtaj kar ghair ka mere Maula
کوئی جانے بھلا کیا مقدرتِ معصومۂ قم کی سبط جعفر کوئی جانے بھلا کیا مقدرتِ معصومۂ قم کی خدا ہی جانتا ہے منزلتِ معصومۂ قم کی زیارت کے لئے وہ با یقیں ایران آئے گا لکھے گا جو کوئی بھی منقبتِ معصومۂ قم کی ہیں یہ بھی فاطمہؑ، ان کا لقب معصومۂ قم ہے مقدس کس قدر ہے شخصیتِ معصومۂ قم کی نہیں معصوم، پہ محفوظ رہیں ہر اک برائی سے کوئی کیا کرسکے گا منقبتِ معصومۂ قم کی انہیں معصوم اگر بھی کہا کرتے تھے معصوم یہ عظمت دیکھئے زینب صفت معصومۂ قم کی وہ ہوں مولا رضاؑ یا رات کے والد موسیٰ کاظمؑ کیا کرتے تھے سب عزت بہت معصومۂ قم کی زیارت اور سلامی کو امامِ عصرؑ آتے ہیں کوئی دیکھے علوی میں محبت معصومۂ قم کی جو زائر طوس آئے گا میسر لازماً ہوگی شفاعت اس کو یومِ آخرت معصومۂ قم کی مدد کرتے نہ میری گر امام موسیٰ کاظمؑ کہاں تھی مرے بس میں منقبتِ معصومۂ قم کی یہاں سے بھی نہ مل پایا اگر بخشش کا پروانہ خدا کی مغفرت ہے معذرت معصومۂ قم کی رہے قسمت تمہاری، آئے ہو پھر سبط جعفر تم زیارت کو عظیم الرحمت معصومۂ قم کی خدا، مصطفیٰؐ، مرتضیٰؑ میرے مولا سید سبط جعفر خدا، مصطفیٰؐ، مرتضیٰؑ میرے مولا ہیں حسنینؑ اور فاطمہؑ میرے مولا "مولا منتظرا" پر ہے ایمان میرا نہ بھٹکو مزید، آؤ مرے مولا میں تیرا سوالی ہوں، تیرا بھکاری نہ محتاج کر غیر کا میرے مولا

395

Khuda, Mustafa, Murtaza mere Maula — jari Nahin chahiye mujh ko duniya ki daulat Hai kafi tumhari raza mere Maula Na main tum ko bhulun, na tum mujh ko bhulo Yahi tum se hai iltija mere Maula Jinhein sab samajhte hain Shah-o-tawangar Hain sab tere dar ke gada mere Maula Na hajat-rawai agar aap ne ki Hai kaun apna hajat-rawa mere Maula Kahin log us ko Khuda, wo na mane Koi aisa banda dikha mere Maula "Alak al-hamd" tu ne rah-e-Haq dikhai Sada rah-e-Haq par chala mere Maula Jo aayen kahin "Ahmad" [lafz ghair wazeh] Aina sidha rasta dikha mere Maula Ye mana ke Ghaffar-o-Sattar hai tu Gunahon se phir bhi bacha mere Maula Jo aulad-e-Zahra pe rote hain aksar Na duniya ke gham mein rula mere Maula Munafiq na fasiq, na mushrik na kafir Bana kar Husaini utha mere Maula Bacha hum ko duniya ke ranj-o-bala se Muhabbat-e-Shah-e-Karbala mere Maula Jo ashrar hain un ko barbad kar de Bas ab ho chuki iltija mere Maula Tujhe wasta teri rajaiyat ka Hamare hon qarze ada mere Maula Jahan mein jo fitne bapa kar rahe hain Na de un ko muhlat zara mere Maula Apne Syed-us-Sajidin aur [lafz ghair wazeh] De bimariyon se shifa mere Maula
[خدا، مصطفیٰؐ، مرتضیٰؑ میرے مولا — جاری] نہیں چاہیے مجھ کو دنیا کی دولت ہے کافی تمہاری رضا میرے مولا نہ میں تم کو بھولوں، نہ تم مجھ کو بھولو یہی تم سے ہے التجا میرے مولا جنہیں سب سمجھتے ہیں شاہ و توانگر ہیں سب تیرے در کے گدا میرے مولا نہ حاجت روائی اگر آپ نے کی ہے کون اپنا حاجت روا میرے مولا کہیں لوگ اس کو خدا، وہ نہ مانے کوئی ایسا بندہ دکھا میرے مولا "الک الحمد" تو نے رہِ حق دکھائی سدا راہِ حق پر چلا میرے مولا جو آئیں کہیں "احمد" [لفظ غیر واضح] آئینہ سیدھا رستہ دکھا میرے مولا یہ مانا کہ غفار و ستار ہے تو گناہوں سے پھر بھی بچا میرے مولا جو اولادِ زہرا پہ روتے ہیں اکثر نہ دنیا کے غم میں رلا میرے مولا منافق نہ فاسق، نہ مشرک نہ کافر بنا کر حسینی اٹھا میرے مولا بچا ہم کو دنیا کے رنج و بلا سے محبتِ شہِ کربلا میرے مولا جو اشرار ہیں ان کو برباد کردے بس اب ہوچکی التجا میرے مولا تجھے واسطہ تیری رجائیت کا ہمارے ہوں قرضے ادا میرے مولا جہاں میں جو فتنے بپا کر رہے ہیں نہ دے ان کو مہلت ذرا میرے مولا اپنے سید الساجدینؑ اور [لفظ غیر واضح] دے بیماریوں سے شفا میرے مولا

396

Khuda, Mustafa, Murtaza mere Maula — jari Shabih-e-Nabi naujawan ke tasadduq Jawanon ko de hausla mere Maula Bachi rida-e-yatimon aur Zainab Bacha le bewaon ki rida mere Maula Burai dila bahr-e-Sajjad-o-Kazim Aqide hain jo be-khata mere Maula Tujhe wasta Asghar-e-be-zaban ka Na rad kijiyo koi dua mere Maula Hamein Bagh-e-Jannat se pehle dikha de Madina, Najaf, Karbala mere Maula Jo Ahl-e-Aza ko satate hain un ko Mile kuchh yahan bhi saza mere Maula Tera Sibt Jafar hai mansub tujh se Hai banda bura ya bhala mere Maula Aaiye apne Maula se baten karen Sibt Jafar Aaiye apne Maula se baten karen, aaj mauqa bhi hai aur fursat bhi hai Main mukhatab jo hun wo bhi maujud hain, khud-kalami nahin hai, saat bhi hai Mera iman hai, mera elan hai, aap ghaib nahin balke maujud hain Aap waqif bhi hain aur qadir bhi hain, ye bara waqt hai meri nusrat karen Mujh se baten karen, mujh ko shabash den, meri khidmat ki, mere kirdar ki Dad dijiye mujhe meri sachchai ki, mere afkar ki, mere ashar ki Gar gunahgar hun aur khatakar hun to bhi kya hai, bashar hun, Payambar nahin Main na Masum-o-Mursal-o-Wali, main farishta nahin, koi rahbar nahin Ek shair hun, Haq ka parastar hun aur isi waste bar-sar-e-dar hun [Ek satr juzwi taur par ghair wazeh] Meri hasti hi kya, meri taqat bhi kya, aap ka sath hai tab hun sabit-qadam Main jo maidan mein muqabil hun ashrar ke, shukr-e-hal hai aap hi ka karam Meri rudad ko, meri faryad ko koi sunta nahin silsila awazon Jo koi hota rahe, hone do, chup rahun? Aap farmaiye Aqa main kya karun
[خدا، مصطفیٰؐ، مرتضیٰؑ میرے مولا — جاری] شبیہِ نبیؐ نوجوان کے تصدق جوانوں کو دے حوصلہ میرے مولا بچی ردائے یتیموں اور زینبؑ بچا لی بیوؤں کی ردا میرے مولا برائی دلا بہرِ سجادؑ و کاظمؑ عقیدے ہیں جو بے خطا میرے مولا تجھے واسطہ اصغرؑ بے زباں کا نہ رد کیجیو کوئی دعا میرے مولا ہمیں باغِ جنت سے پہلے دکھا دے مدینہ، نجف، کربلا میرے مولا جو اہلِ عزا کو ستاتے ہیں ان کو ملے کچھ یہاں بھی سزا میرے مولا ترا سبط جعفر ہے منسوب تجھ سے ہے بندہ برا یا بھلا میرے مولا آئیے اپنے مولا سے باتیں کریں سبط جعفر آئیے اپنے مولا سے باتیں کریں، آج موقع بھی ہے اور فرصت بھی ہے میں مخاطب جو ہوں وہ بھی موجود ہیں، خود کلامی نہیں ہے، ساعت بھی ہے میرا ایمان ہے، میرا اعلان ہے، آپ غائب نہیں بلکہ موجود ہیں آپ واقف بھی ہیں اور قادر بھی ہیں، یہ بڑا وقت ہے میری نصرت کریں مجھ سے باتیں کریں، مجھ کو شاباش دیں، میری خدمات کی، میرے کردار کی داد دیجئے مجھے میری سچائی کی، میرے افکار کی، میرے اشعار کی گر گنہگار ہوں اور خطاکار ہوں تو بھی کیا ہے، بشر ہوں، پیغمبر نہیں میں نہ معصوم و مرسل و ولی، میں فرشتہ نہیں، کوئی رہبر نہیں ایک شاعر ہوں، حق کا پرستار ہوں اور اسی واسطے برسرِ دار ہوں [ایک سطر جزوی طور پر غیر واضح] میری ہستی ہی کیا، میری طاقت بھی کیا، آپ کا ساتھ ہے تب ہوں ثابت قدم میں جو میدان میں مقابل ہوں اشرار کے، شکر حال ہے آپ ہی کا کرم میری روداد کو، میری فریاد کو کوئی سنتا نہیں سلسلہ آوازوں جو کوئی ہوتا رہے، ہونے دو، چپ رہوں؟ آپ فرمائیے آقا میں کیا کروں

397

Aaiye apne Maula se baten karen — jari Al-madad, al-madad, al-madad Imam-e-Zaman [Satr juzwi taur par ghair wazeh] Tut parte hain hum par ab [lafz ghair wazeh], ay Imam-e-Zaman Hum ne mana ke hum sab gunahgar hain, aap ke naam-lewa hain, khabardar hain Ek dam rahm par na chhoren hamein, dushman-e-din-o-millat jo ashrar hain Uth rahe hain jo fitne hamare khilaf, un ke muqabil ianat karen Mauhibat, azadari inayat hain aap hi, Maula agahi hifazat karen Mujh ko pyas-e-shahadat nahin hai zara, un ka kya tazkira, un ka shikwa bhi kya Qahiran Maula jo log zimmedar hain, aap par hai yahan un ka sab majra [Do satren juzwi taur par ghair wazeh] Muhkamat-e-shariat hain tashbih ki zad mein, Maula madad aap farmaiye Ab nahin koi ummid-e-islah ki, Zulfiqar-e-Ali ke liye aa jaiye Idhar sar-e-mar ne kamal dene wale bhatke hain, phir bhi shar na ho gaye Maulvi, Mufti, Qazi, Namazi, baja par [lafz ghair wazeh] bhi pach dar ho gaye Farq Mazlum-o-Zalim mein baqi nahin, ilm par jahl ghalbe ki koshish mein hai Rab-e-Kaaba mujhe tera hi wasta, ubhar phir se halqe ki koshish mein hai Tama ki deg is qaum ko kha gayi, baat mimbar se mihrab tak aa gayi [Ek satr juzwi taur par ghair wazeh] Aaiye apne Maula se baten karen Ay Imam-e-Zaman, Shah-e-har-do-jahan, kyun main der kar rahun? Aap aa jaiye to Hain jo dushman-e-din asman bhi mere, phir bhi sun kar chalun aap aa jaiye to Tane-zan hain jo mujh pe Ahl-e-Jahan, sab ko samjhaun main, mere bas mein kahan Aap ke samne un ki auqat kya, main unhein kyun [ghair wazeh], aap aa jaiye to Masjidein bach rahi hain yahan har qadam, dil jo ghar hain Khuda ke wo viran hain Dil mein tirgi, [lafz ghair wazeh], main bacha lun karun aap aa jaiye to Ay Shah-e-bar-Haq, ise shatar manzar, mere halat ki aap ko hai khabar Hai gharon ki parastish to bar-Haq magar, kyun hisab un karun aap aa jaiye to
آئیے اپنے مولا سے باتیں کریں — جاری المدد، المدد، المدد امامِ زماں [سطر جزوی طور پر غیر واضح] ٹوٹ پڑتے ہیں ہم پر اب [لفظ غیر واضح]، اے امامِ زماں ہم نے مانا کہ ہم سب گنہگار ہیں، آپ کے نام لیوا ہیں، خبردار ہیں ایک دم رحم پر نہ چھوڑیں ہمیں، دشمنِ دیں و ملت جو اشرار ہیں اٹھ رہے ہیں جو فتنے ہمارے خلاف، ان کے مقابل اعانت کریں موہبت، عزاداری عنایت ہیں آپ ہی، مولا آگہی حفاظت کریں مجھ کو پیاسِ شہادت نہیں ہے ذرا، ان کا کیا تذکرہ، ان کا شکوہ بھی کیا قاہراً مولا جو لوگ ذمہ دار ہیں، آپ پر ہے یہاں ان کا سب ماجرا [دو سطریں جزوی طور پر غیر واضح] محکماتِ شریعت ہیں تشبیہ کی زد میں، مولا مدد آپ فرمائیے اب نہیں کوئی امیدِ اصلاح کی، ذوالفقارِ علیؑ کے لئے آ جائیے ادھر سرِ مر نے کمال دینے والے بھٹکے ہیں، پھر بھی شر نہ ہوگئے مولوی، مفتی، قاضی، نمازی، بجا پر [لفظ غیر واضح] بھی پچ در ہوگئے فرق مظلوم و ظالم میں باقی نہیں، علم پر جہل غلبے کی کوشش میں ہے ربِ کعبہ مجھے تیرا ہی واسطہ، ابھر پھر سے حلقے کی کوشش میں ہے طمع کی دیگ اس قوم کو کھا گئی، بات منبر سے محراب تک آگئی [ایک سطر جزوی طور پر غیر واضح] آئیے اپنے مولا سے باتیں کریں اے امامِ زماں، شاہِ ہر دو جہاں، کیوں میں دیر کر رہوں؟ آپ آ جائیے تو ہیں جو دشمنِ دین آسمان بھی مرے، پھر بھی سن کر چلوں آپ آ جائیے تو طعنے زن ہیں جو مجھ پہ اہلِ جہاں، سب کو سمجھاؤں میں، میرے بس میں کہاں آپ کے سامنے ان کی اوقات کیا، میں انہیں کیوں [غیر واضح]، آپ آ جائیے تو مسجدیں بچ رہی ہیں یہاں ہر قدم، دل جو گھر ہیں خدا کے وہ ویران ہیں دل میں تیرگی، [لفظ غیر واضح]، میں بچا لوں کروں آپ آ جائیے تو اے شہِ برحق، اسے شتر منظر، میرے حالات کی آپ کو ہے خبر ہے گھروں کی پرستش تو برحق مگر، کیوں حساب ان کروں آپ آ جائیے تو

398

Aaiye apne Maula se baten karen — jari Intiqam-e-shahidan-e-Karb-o-bala dekhna hai mujhe, Shah-e-har-do-sara Maut is shart par mujh ko manzur hai, phir se main ji uthun aap aa jaiye to Naghma-haye-mawaddat sunata hun main, aap ke ashiqon ko bulata hun main Aap ki rah mein Maula sajda karun aur qaside parhun aap aa jaiye to Shair-o-sozkhwan Sibt Jafar hun main, sab ko malum hai kis ka naukar hun main Main musibat mein hun, aap ghaibat mein hain, kyun hisab kahan aap aa jaiye to Sham-o-Kufe ke darbar-o-bazar mein ye Sakina ki umr se faryad thi Khun-o-shar ki [lafz ghair wazeh] guzaron mein yahan roun, aap aa jaiye to Hazrat Shadan Dehlavi Naz karo Ain-e-Khuda, qasam Allah Mazhab ko tamasha na banao Billah Kya chiz hai Islam baghair-e-Haider? La hawla wa la quwwata illa billah Bagh-e-Hashim ki kali hain Fatima Bint-e-Asad Bagh-e-Hashim ki kali hain Fatima Bint-e-Asad Qurbat-e-qalb-e-Nabi hain Fatima Bint-e-Asad Manzil-e-Imran Aal-e-Ibrahim mein shamil hain ye Yani nasl-e-Hashimi hain Fatima Bint-e-Asad Parwarish pai Nabi ki saye mein un ke hui Naghma-e-Islam ki hain Fatima Bint-e-Asad Ek Imam aur ek Nabi hain aap ki aghosh mein Din ki tabindagi hain Fatima Bint-e-Asad Gyarah Masumon ki Dadi, ki Imaman ki hain man Rahm se goya bhari hain Fatima Bint-e-Asad Un ki man hain jis ki Qaim hai imamat hashr tak Ek hayat-e-daimi hain Fatima Bint-e-Asad Khud bhi beti hain Asad ki aur beta bhi Asad Markaz-e-nasl-e-jari hain Fatima Bint-e-Asad Kyun na ay zair, shahane Madar-e-Haider karen Ruh-e-Akbar shairi hain Fatima Bint-e-Asad
آئیے اپنے مولا سے باتیں کریں — جاری انتقامِ شہیدانِ کرب و بلا دیکھنا ہے مجھے، شاہِ ہر دو سرا موت اس شرط پر مجھ کو منظور ہے، پھر سے میں جی اٹھوں آپ آ جائیے تو نغمہ ہائے مودت سناتا ہوں میں، آپ کے عاشقوں کو بلاتا ہوں میں آپ کی راہ میں مولا سجدہ کروں اور قصیدے پڑھوں آپ آ جائیے تو شاعر و سوزخواں سبط جعفر ہوں میں، سب کو معلوم ہے کس کا نوکر ہوں میں میں مصیبت میں ہوں، آپ غیبت میں ہیں، کیوں حساب کہاں آپ آ جائیے تو شام و کوفے کے دربار و بازار میں یہ سکینہؑ کی عمر سے فریاد تھی خون و شر کی [لفظ غیر واضح] گزاروں میں یہاں روؤں، آپ آ جائیے تو حضرت شاداں دہلوی ناز کرو آئینِ خدا، قسم اللہ مذہب کو تماشا نہ بناؤ باللہ کیا چیز ہے اسلام بغیرِ حیدرؑ؟ لا حول ولا قوة الا بالله باغِ ہاشم کی کلی ہیں فاطمہ بنت اسد باغِ ہاشم کی کلی ہیں فاطمہ بنت اسد قربتِ قلبِ نبیؐ ہیں فاطمہ بنت اسد منزلِ عمران آلِ ابراہیم میں شامل ہیں یہ یعنی نسلِ ہاشمی ہیں فاطمہ بنت اسد پرورش پائی نبیؐ کی سائے میں ان کے ہوئی نغمۂ اسلام کی ہیں فاطمہ بنت اسد اک امام اور اک نبیؐ ہیں آپ کی آغوش میں دین کی تابندگی ہیں فاطمہ بنت اسد گیارہ معصوموں کی دادی، کی امامان کی ہیں ماں رحم سے گویا بھری ہیں فاطمہ بنت اسد ان کی ماں ہیں جس کی قائم ہے امامت حشر تک اک حیاتِ دائمی ہیں فاطمہ بنت اسد خود بھی بیٹی ہیں اسد کی اور بیٹا بھی اسد مرکزِ نسلِ جری ہیں فاطمہ بنت اسد کیوں نہ اے زائر، شہانے مادرِ حیدر کریں روحِ اکبر شاعری ہیں فاطمہ بنت اسد

399

Naam Nani Fatima aur Fatima ki jaan-nashin Umm-ul-Banin Naam Nani Fatima aur Fatima ki jaan-nashin Sher-dil, aali-nasab bachchon ki man Umm-ul-Banin Zauja-e-Sher-e-Khuda, Abbas se Ghazi ki man Jo dua ki thi Ali ne us ke maqsad ki amin Zainab-o-Kulsum-o-Shabbir-o-Hasan ki sarparast Zimmedar-e-kar-e-Sardar-e-Nisa-il-Alamin Un ke husn-e-tarbiyat ka jawedani shahkar Bawafa Abbas, khidmat-guzar-e-Shah-e-Din Saut ki aulad par kar de jo beton ko nisar Ek bajuz Umm-ul-Banin duniya mein man aisi nahin Waqiat-e-Karbala sunti rahin tafsil se Kya kuchh tha ke hal-e-Abbas ka puchha nahin Han magar naam-e-Husain aaya to ye ro kar kaha Kya mera Abbas dam-e-Karbala mein tha nahin Jab kabhi likhta hun Zair madh mein Abbas ki Yaad aati hain mujhe be-sakhta Umm-ul-Banin Allah Allah ye aizaz, ye rutba Fizza Allah Allah ye aizaz, ye rutba Fizza Haq ne bakhshi hai tujhe qurbat-e-Zahra Fizza Tu nahin aina-e-Tathir mein shamil lekin Tujh pe hai Malik-e-Tathir ka saya Fizza Zainab-o-Shabbar-o-Shabbir ko pala tu ne Teri aghosh hai Masumon ka jhula Fizza Tujh ko man kehti thi aulad-e-Batul-e-Azra Teri Meraj hai ye mansab-e-Ala Fizza Haider-o-Fatima-o-Shabbar-o-Shabbir ke sath Sall-e-Ala teri bhi tausif mein aaya Fizza Guftagu karti thi Quran ke hawale de kar Aisi ek talib-e-kutub-e-Zahra Fizza Har jagah misl-e-sipar tu rahi Zainab ke liye Zarre khata bhi kya tu ne gawara Fizza Madh-e-Fizza bhi hai Zahra ki khushi ay Zair Dil ye kehta hai likhun tera qasida Fizza
نام نانی فاطمہؑ اور فاطمہؑ کی جانشیں ام البنینؑ نام نانی فاطمہؑ اور فاطمہؑ کی جانشیں شیر دل، عالی نسب بچوں کی ماں ام البنینؑ زوجۂ شیرِ خدا، عباسؑ سے غازی کی ماں جو دعا کی تھی علیؑ نے اس کے مقصد کی امیں زینبؑ و کلثومؑ و شبیرؑ و حسنؑ کی سرپرست ذمہ دارِ کارِ سردارِ نساءِ العالمین ان کے حسنِ تربیت کا جاودانی شاہکار باوفا عباسؑ، خدمت گزارِ شاہِ دین سوت کی اولاد پر کردے جو بیٹوں کو نثار اک بجز ام البنینؑ دنیا میں ماں ایسی نہیں واقعاتِ کربلا سنتی رہیں تفصیل سے کیا کچھ تھا کہ حالِ عباسؑ کا پوچھا نہیں ہاں مگر نامِ حسینؑ آیا تو یہ رو کر کہا کیا مرا عباسؑ دمِ کربلا میں تھا نہیں جب کبھی لکھتا ہوں زائر مدح میں عباسؑ کی یاد آتی ہیں مجھے بے ساختہ ام البنینؑ الله الله یہ اعزاز، یہ رتبہ فضہؑ الله الله یہ اعزاز، یہ رتبہ فضہؑ حق نے بخشی ہے تجھے قربتِ زہرا فضہؑ تو نہیں آئینۂ تطہیر میں شامل لیکن تجھ پہ ہے مالکِ تطہیر کا سایہ فضہؑ زینبؑ و شبرؑ و شبیرؑ کو پالا تو نے تیری آغوش ہے معصوموں کا جھولا فضہؑ تجھ کو ماں کہتی تھی اولادِ بتولِ عذرا تیری معراج ہے یہ منصبِ اعلیٰ فضہؑ حیدرؑ و فاطمہؑ و شبرؑ و شبیرؑ کے ساتھ صل علیٰ تیری بھی توصیف میں آیا فضہؑ گفتگو کرتی تھی قرآن کے حوالے دے کر ایسی اک طالبِ کتبِ زہرا فضہؑ ہر جگہ مثلِ سپر تو رہی زینبؑ کے لئے ذرے کھاتا بھی کیا تو نے گوارا فضہؑ مدحِ فضہ بھی ہے زہرا کی خوشی اے زائر دل یہ کہتا ہے لکھوں تیرا قصیدہ فضہؑ

400

Mutafarriqat-o-Qaumiyat Ya Kashif-e-Asrar madad kijiye meri Quran / Hazrat Rafiq Rizvi Ya Kashif-e-Asrar madad kijiye meri Ya Syed-o-Salar madad kijiye meri Ya kul ke madadgar madad kijiye meri Ya Haider-e-Karrar madad kijiye meri Muddat se mujhe chashm-e-tawajjuh ki talab hai Main banda-e-nachiz saliqa na adab hai Ehsan zara Arsh-nashin, farsh-nashin par Ek khas tawajjuh ho mere qalb-e-hazin par Karna hai mujhe guftagu Quran-e-Mubin par Darta hun ke gumrah na ho jaun kahin par Phulon ki mahak dene sitaron ki ziya hai Is zehn-e-Haq-agah ki taufiq barha de Harun ka qissa na Sulaiman ki baten Karni hain mujhe Ahmad-e-Zishan ki baten Quran ki aur Sahib-e-Quran ki baten Maqsud magar bazm mein iman ki baten Quran ka koi mutabadil na badal hai Quran har ek uqda-e-dushwar ka hal hai Quran risalat ka muhafiz bhi khabar bhi Quran basirat bhi basarat bhi basar bhi Quran nazzara bhi nazarat bhi nazar bhi Quran taassur bhi muassir bhi asar bhi Quran khud ahkam bhi, hakim bhi, hukm bhi Quran Muhammad ki sadaqat ka bharam bhi
متفرقات و قومیّات یا کاشف اسرار مدد کیجئے میری قرآن / حضرت رفیق رضوی یا کاشفِ اسرار مدد کیجئے میری یا سید و سالار مدد کیجئے میری یا کل کے مددگار مدد کیجئے میری یا حیدرِ کرار مدد کیجئے میری مدت سے مجھے چشمِ توجہ کی طلب ہے میں بندۂ ناچیز سلیقہ نہ ادب ہے احسان ذرا عرش نشیں، فرش نشیں پر اک خاص توجہ ہو مرے قلبِ حزیں پر کرنا ہے مجھے گفتگو قرآن مبیں پر ڈرتا ہوں کہ گمراہ نہ ہوجاؤں کہیں پر پھولوں کی مہک دینے ستاروں کی ضیا ہے اس ذہنِ حق آگاہ کی توفیق بڑھا دے ہارونؑ کا قصہ نہ سلیمانؑ کی باتیں کرنی ہیں مجھے احمدِ ذیشانؐ کی باتیں قرآن کی اور صاحبِ قرآن کی باتیں مقصود مگر بزم میں ایمان کی باتیں قرآن کا کوئی متبادل نہ بدل ہے قرآن ہر اک عقدۂ دشوار کا حل ہے قرآن رسالت کا محافظ بھی خبر بھی قرآن بصیرت بھی بصارت بھی بصر بھی قرآن نظارہ بھی نظارت بھی نظر بھی قرآن تاثر بھی موثر بھی اثر بھی قرآن خود احکام بھی، حاکم بھی، حکم بھی قرآن محمدؐ کی صداقت کا بھرم بھی

401

[Safha 401 se jari] Quran mein sahra bhi samandar bhi shajar bhi Jannat ke nazare bhi hain Kausar ki khabar bhi Kashti ki misalein bhi hain, Sidra ke shajar bhi Quran ke daman mein har ek shai bhi, zar bhi Quran musaddiq bhi, mazahir bhi, mubin bhi Quran ke Hafiz mein Jibrail-e-Amin bhi Quran munawwar bhi, mehr bhi, sada bhi Quran muazzam bhi, mukarram bhi, ziya bhi Quran muallim bhi, mauzun bhi, nida bhi Quran nawazish bhi, inayat bhi, ata bhi Quran ke asrar khafi bhi hain jali bhi Quran ke hamraz Muhammad bhi, Ali bhi Quran Mahbub bhi, muhib bhi, ajib bhi Quran qarina bhi, saliqa bhi, adab bhi Quran tahayyur bhi, tafakkur bhi, ghazab bhi Quran masail bhi, masaib bhi, sabab bhi Kaunain ka mukhtasar bhi hai Kaunain ki had bhi Quran ki aghosh mein azal bhi hai abad bhi Quran mutqin bhi, qawanin-e-Khuda bhi Quran sahar bhi, tazakkur bhi, sila bhi Quran muallim bhi, mudarris bhi, jaza bhi Quran mufakkir bhi, hidayat bhi, huda bhi Quran madawa bhi, muawin bhi, madad bhi Masnad bhi Muhammad ka, Muhammad ki sanad bhi Quran mein wahdat bhi, nasihat bhi, dua bhi Quran mein azkar bhi, jurat bhi, wafa bhi Quran mein inkar bhi, adab-e-wafa bhi Quran mein inam bhi, rahmat bhi, saza bhi Wallah ke ye qaul-e-Khuda-e-Azali hai Quran mein har husn-e-khafi aur jali hai Allah ki marzi bhi, Payambar ki raza bhi Isai ka Nafs-e-Hazrat-e-Musa ka asa bhi
[صفحہ 401 سے جاری] قرآن میں صحرا بھی سمندر بھی شجر بھی جنت کے نظارے بھی ہیں کوثر کی خبر بھی کشتی کی مثالیں بھی ہیں، سدرہ کے شجر بھی قرآن کے دامن میں ہر اک شے بھی، زَر بھی قرآن مصدق بھی، مظاہر بھی، مبیں بھی قرآن کے حافظ میں جبرئیلِ امیں بھی قرآن منور بھی، مہر بھی، صدا بھی قرآن معظم بھی، مکرم بھی، ضیا بھی قرآن معلم بھی، موزوں بھی، ندا بھی قرآن نوازش بھی، عنایت بھی، عطا بھی قرآن کے اسرار خفی بھی ہیں جلی بھی قرآن کے ہمراز محمدؐ بھی، علیؑ بھی قرآن محبوب بھی، محب بھی، عجیب بھی قرآن قرینہ بھی، سلیقہ بھی، ادب بھی قرآن تحیر بھی، تفکر بھی، غضب بھی قرآن مسائل بھی، مصائب بھی، سبب بھی کونین کا مختصر بھی ہے کونین کی حد بھی قرآن کی آغوش میں ازل بھی ہے ابد بھی قرآن متقن بھی، قوانینِ خدا بھی قرآن سحر بھی، تذکر بھی، صلہ بھی قرآن معلم بھی، مدرس بھی، جزا بھی قرآن مفکر بھی، ہدایت بھی، ہدیٰ بھی قرآن مداوا بھی، معاون بھی، مدد بھی مسند بھی محمدؐ کا، محمدؐ کی سند بھی قرآن میں وحدت بھی، نصیحت بھی، دعا بھی قرآن میں اذکار بھی، جرأت بھی، وفا بھی قرآن میں انکار بھی، آدابِ وفا بھی قرآن میں انعام بھی، رحمت بھی، سزا بھی واللہ کہ یہ قولِ خدائے ازلی ہے قرآن میں ہر حسنِ خفی اور جلی ہے اللہ کی مرضی بھی، پیمبرؐ کی رضا بھی عیسائی کا نفسِ حضرتِ موسیٰؑ کا عصا بھی

402

[Safha 402 se jari] Dawud ki lai, Yusuf-e-Kanaan ki qaba bhi Betabi-e-Yaqub bhi, Adam ki dua bhi Taqwa bhi, shayatin bhi, insan bhi, jinn bhi Quran ki ayat mein raten bhi hain din bhi Zahra ka kahin zikr, kahin zikr-e-Ali ka Hijrat ka kahin aur kahin Meraj ka qissa Nachiz to hai Ayat-e-Misaq se samjha Quran sarasar hai Muhammad ka qasida Quran Hadis hai, usul-e-Arabi ka Quran sahifa hai Khuda-e-Azali ka Ye qaul-e-Payambar ka zamane mein hai mashhur Jo Aal se hai dur wo Quran se hai dur Quran ko Kaunain mein karta hai jo mahjur Shayad ke hai parwarda-e-dast-e-shab-e-dijur Kaunain se kehti hai ye Quran ki shahi Kafi hai mujhe Aal-e-Payambar ki gawahi Haqiqat-dosti Nahj-ul-Balagha Syed Sibt Jafar Zaidi Haqiqat-dosti Nahj-ul-Balagha, jihat-shinasi Nahj-ul-Balagha Zamin pe hai asman ko jane wala, hai wohi admi Nahj-ul-Balagha Ata karti hai apne Qadriyon ko shuur-e-bandagi Nahj-ul-Balagha Ho kyun kar koi Quran bhi nahin samjha abhi Nahj-ul-Balagha Ali Ghalib hain jaise Mustafa ke, hui Quran ki Nahj-ul-Balagha Khushi mein Ali ki, ghamgini faqat karti rahi Nahj-ul-Balagha Rahi jo munis-o-mahram Ali ki, wo thi bas ek hi Nahj-ul-Balagha Shiar us ka hai aulad-e-Ali mein, hai dukhtar-e-manawi Nahj-ul-Balagha Sahaif Anbiya ke parh liye to, bahut achchhi lagi Nahj-ul-Balagha Barhegi jis qadar Quran-fahmi, samajh mein aayegi Nahj-ul-Balagha Sahaif sare khul gaye sari, gulon ki tazgi Nahj-ul-Balagha Wohi Mustafa Maula Ali hain, hai ab bhi muddai Nahj-ul-Balagha Saliqe ki sada mein de rahi hai, mushkil aaj bhi Nahj-ul-Balagha Ali ka zulm ke madd-e-muqabil, hai kursi aaj bhi Nahj-ul-Balagha Aziyat-gah-e-jahl-o-gumrahi mein, hai kab agahi Nahj-ul-Balagha
[صفحہ 402 سے جاری] داؤدؑ کی لے، یوسفِ کنعان کی قبا بھی بیٹابیِ یعقوبؑ بھی، آدمؑ کی دعا بھی تقویٰ بھی، شیاطین بھی، انسان بھی، جن بھی قرآن کی آیات میں راتیں بھی ہیں دن بھی زہرا کا کہیں ذکر، کہیں ذکرِ علیؑ کا ہجرت کا کہیں اور کہیں معراج کا قصہ ناچیز تو ہے آیۂ میثاق سے سمجھا قرآن سراسر ہے محمدؐ کا قصیدہ قرآن حدیث ہے، اصولِ عربی کا قرآن صحیفہ ہے خدائے ازلی کا یہ قولِ پیمبرؐ کا زمانے میں ہے مشہور جو آل سے ہے دور وہ قرآن سے ہے دور قرآن کو کونین میں کرتا ہے جو مہجور شاید کہ ہے پروردۂ دستِ شبِ دیجور کونین سے کہتی ہے یہ قرآن کی شاہی کافی ہے مجھے آلِ پیمبرؐ کی گواہی حقیقت دوستی نہج البلاغہ سید سبط جعفر زیدی حقیقت دوستی نہج البلاغہ، جہت شناسی نہج البلاغہ زمیں پہ ہے آسماں کو جانے والا، ہے وہی آدمی نہج البلاغہ عطا کرتی ہے اپنے قادریوں کو شعورِ بندگی نہج البلاغہ ہو کیونکر کوئی قرآن بھی نہیں سمجھا ابھی نہج البلاغہ علیؑ غالب ہیں جیسے مصطفیٰؐ کے، ہوئی قرآن کی نہج البلاغہ خوشی میں علیؑ کی، غمگینی فقط کرتی رہی نہج البلاغہ رہی جو مونس و محرم علیؑ کی، وہ تھی بس ایک ہی نہج البلاغہ شعار اس کا ہے اولادِ علیؑ میں، ہے دختر معنوی نہج البلاغہ صحائف انبیاء کے پڑھ لیے تو، بہت اچھی لگی نہج البلاغہ بڑھے گی جس قدر قرآن فہمی، سمجھ میں آئے گی نہج البلاغہ صحائف سارے کھل گئے ساری، گلوں کی تازگی نہج البلاغہ وہی مصطفیٰؐ مولا علیؑ ہیں، ہے اب بھی مدعی نہج البلاغہ سلیقے کی صدا میں دے رہی ہے، مشکل آج بھی نہج البلاغہ علیؑ کا ظلم کے مدِ مقابل، ہے کرسی آج بھی نہج البلاغہ اذیت گاہِ جہل و گمراہی میں، ہے کب آگہی نہج البلاغہ

403

Haqiqat-dosti Nahj-ul-Balagha — jari Zamane bhar ke diwanon pe Ghalib, hai nashri shairi Nahj-ul-Balagha Ali ki guftagu Quran goya, Ali ki khamushi Nahj-ul-Balagha Nabuwwat, mansab-e-talim-o-hikmat, niyabat-e-ilm ki Nahj-ul-Balagha Ali baad-e-Nabi hain sab se bartar, subut-e-bartari Nahj-ul-Balagha Asa-e-Musa Nahj-ul-Balagha, shikwa-e-Haideri Nahj-ul-Balagha Zakirin se khitab / Hakim Kazim Zaidi Ye mana rifat-e-mimbar tujhe nasib hui Tere nasib mein bagh-e-jahan ke phul bhi hain Magar buland nahin samein se Zakir Ke samein mein Zahra bhi hain, Rasul bhi hain Zair Amrohvi Zakir-e-Shabbir yani qadrdan-e-Ahl-e-Bait Sozkhwan-e-Aal waqf-e-astan-e-Ahl-e-Bait Soz mein bharta hai zer-o-bam se ye tasir-e-gham Kaif-e-gham se ashna hai sozkhwan-e-Ahl-e-Bait Ay Rab-e-Jahan Panjtan-e-Pak ka sadqa Dua / Mohsin Taqvi (Shahid) Ay Rab-e-Jahan Panjtan-e-Pak ka sadqa Is qaum ka daman gham-e-Shabbir se bhar de Bachchon ko ata kar Ali Asghar ka tabassum Burhon ko Habib ibn-e-Mazahir ki nazar de Kamsin ko mile walwala-e-Aun-o-Muhammad Har ek jawan ko Ali Akbar ka jigar de Maon ko sikha Sani-e-Zahra ka saliqa Bahnon ko Sakina ki duaon ka asar de Maula mujhe nasib ki asiri ki qasam hai Be-jurm asiron ko rihai ki khabar de Jo chadar-e-Zainab ki azadar hain Maula Mahfuz rahen aisi khawatin ke parde Jo din ke kam aaye wo aulad ata kar Jo Majlis-e-Shabbir ki khatir ho wo ghar de
[حقیقت دوستی نہج البلاغہ — جاری] زمانے بھر کے دیوانوں پہ غالب، ہے نشری شاعری نہج البلاغہ علیؑ کی گفتگو قرآن گویا، علیؑ کی خامشی نہج البلاغہ نبوت، منصبِ تعلیم و حکمت، نیابتِ علم کی نہج البلاغہ علیؑ بعدِ نبیؐ ہیں سب سے برتر، ثبوتِ برتری نہج البلاغہ عصائے موسیٰؑ نہج البلاغہ، شکوۂ حیدری نہج البلاغہ ذاکرین سے خطاب / حکیم کاظم زیدی یہ مانا رفعتِ منبر تجھے نصیب ہوئی ترے نصیب میں باغِ جہاں کے پھول بھی ہیں مگر بلند نہیں سامعین سے ذاکر کہ سامعین میں زہرا بھی ہیں، رسولؐ بھی ہیں زائر امروہوی ذاکرِ شبیرؑ یعنی قدر دانِ اہل بیت سوز خوانِ آل وقفِ آستانِ اہل بیت سوز میں بھرتا ہے زیر و بم سے یہ تاثیرِ غم کیفِ غم سے آشنا ہے سوز خوانِ اہل بیت اے رب جہاں پنجتن پاک کا صدقہ دعا / محسن تقوی (شہید) اے رب جہاں پنجتن پاک کا صدقہ اس قوم کا دامن غمِ شبیرؑ سے بھر دے بچوں کو عطا کر علی اصغرؑ کا تبسم بوڑھوں کو حبیب ابنِ مظاہر کی نظر دے کم سن کو ملے ولولۂ عونؑ و محمدؑ ہر ایک جوان کو علی اکبرؑ کا جگر دے ماؤں کو سکھا ثانیِ زہرا کا سلیقہ بہنوں کو سکینہؑ کی دعاؤں کا اثر دے مولا مجھے نصیب کی اسیری کی قسم ہے بے جرم اسیروں کو رہائی کی خبر دے جو چادرِ زینبؑ کی عزادار ہیں مولا محفوظ رہیں ایسی خواتین کے پردے جو دین کے کام آئے وہ اولاد عطا کر جو مجلسِ شبیرؑ کی خاطر ہو وہ گھر دے

404

[Safha 404 se jari] Muflis pe zar-o-mal-o-jawahir ki ho barish Maqruz ka har qarz ada ghaib se kar de Gham koi na de hum ko siwaye gham-e-Shabbir Shabbir ka gham bant raha hai to idhar de (Bashukriya nauha khwan Syed Sajid Husain Jafari) Bibi Banu Karbal ke ban mein lut jahan bechari re [Riwayati nauha] Kaun zarurat thi jo hum se des Madina chhore re Aah tere Karbal ke ban mein ghero zadan ne mare Kaisa hamara wo bechara bhara beta pyari re Sar ko bas kata kar apnon mein reh gayi dukhari re Bibi Banu Karbal ke ban mein lut jahan bechari re (Bashukriya sozkhwan Syed Musa Raza o Master Mahmud Ali Kazmi) Nawed-bakhsh-e-Khair-ul-Wara hai Zul-Ashira mein Shadan Dehlavi Nawed-bakhsh-e-Khair-ul-Wara hai Zul-Ashira mein Ke elan-e-risalat ho raha hai Zul-Ashira mein Amin-o-Sadiq-o-Adil jo kehte the Muhammad ko Ab un ki azmaish bar-mala hai Zul-Ashira mein Kabhi the motarif Payambar to akhlaq-e-Muhammad ke Amal ki rah mein kya ho gaya hai Zul-Ashira mein Utha lai yaqin dawat-e-mard se munkir ho ke Ke jaise chup ka roza rakh liya hai Zul-Ashira mein Basat hai Nabi se jin ko wo Islam le aayen Ke tasdiq-e-Nabi ka marhala hai Zul-Ashira mein Jo mera sath dega, jaanashin hoga wohi mera Yahi irshad-e-Khatam-ul-Anbiya hai Zul-Ashira mein Bahut tashwish thi sab ko Nabi ki jaanashini par Magar ye faisla to ho chuka hai Zul-Ashira mein Payambar jo khabar denge Ghadir-e-Khum ke mimbar se Isi ki aaj goya ibtida hai Zul-Ashira mein
[صفحہ 404 سے جاری] مفلِس پہ زر و مال و جواہر کی ہو بارش مقروض کا ہر قرض ادا غیب سے کردے غم کوئی نہ دے ہم کو سوائے غمِ شبیرؑ شبیرؑ کا غم بانٹ رہا ہے تو ادھر دے (بشکریہ نوحہ خواں سید ساجد حسین جعفری) بی بی بانو کربل کے بن میں لوٹ جہاں بچاری رے [روایتی نوحہ] کون ضرورت تھی جو ہم سے دیس مدینہ چھوڑے رے آہ تیرے کربل کے بن میں گھیرو زدن نے مارے کیسا ہمارا وہ بیچارہ بھرا بیتا پیاری رے سر کو بس کٹا کر اپنوں میں رہ گئی دکھاری رے بی بی بانو کربل کے بن میں لوٹ جہاں بچاری رے (بشکریہ سوز خواں سید موسیٰ رضا و ماسٹر محمود علی کاظمی) نوید بخشِ خیر الوریٰ ہے ذوالعشیرہ میں شاداں دہلوی نوید بخشِ خیر الوریٰ ہے ذوالعشیرہ میں کہ اعلانِ رسالت ہو رہا ہے ذوالعشیرہ میں امین و صادق و عادل جو کہتے تھے محمدؐ کو اب ان کی آزمائش برملا ہے ذوالعشیرہ میں کبھی تھے معترف پیغمبرؐ تو اخلاقِ محمدؐ کے عمل کی راہ میں کیا ہوگیا ہے ذوالعشیرہ میں اُٹھا لائی یقین دعوتِ مرد سے منکر ہوکے کہ جیسے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے ذوالعشیرہ میں بعثت ہے نبیؐ سے جن کو وہ اسلام لے آئیں کہ تصدیقِ نبیؐ کا مرحلہ ہے ذوالعشیرہ میں جو میرا ساتھ دے گا، جانشیں ہوگا وہی میرا یہی ارشادِ ختم الانبیاء ہے ذوالعشیرہ میں بہت تشویش تھی سب کو نبیؐ کی جانشینی پر مگر یہ فیصلہ تو ہوچکا ہے ذوالعشیرہ میں پیمبرؐ جو خبر دیں گے غدیرِ خم کے منبر سے اسی کی آج گویا ابتدا ہے ذوالعشیرہ میں

405

Nur hai jalwa-numa Shib-e-Abu Talib mein Shadan Dehlavi Nur hai jalwa-numa Shib-e-Abu Talib mein Din mahfuz hua Shib-e-Abu Talib mein Sari duniya se mukhalif to koi khauf nahin Hai nigahban Khuda Shib-e-Abu Talib mein Ahl-e-Makka ne jo di tark-e-marasim ki saza Aa gaye Ahl-e-Wafa Shib-e-Abu Talib mein Halqa-e-afiyat-o-hifz-e-Khuda mein aaye Chand khasan-e-Khuda Shib-e-Abu Talib mein Ahl-e-iman rahe tin baras tak mahsur Aur har zulm saha Shib-e-Abu Talib mein Aal-e-Hashim ne sahe tin baras tak paiham Sitam-o-jaur-o-jafa Shib-e-Abu Talib mein Aakhirash phar diya Ibn-e-Adi ne misaq Sab ne ye raz suna Shib-e-Abu Talib mein Khud hi sayyadon ne is qaid ko tora aakhir Ye hua lutf-e-Khuda Shib-e-Abu Talib mein Sarwar-e-Kaunain hain aaye Shab-e-Meraj mein Shadan Dehlavi Sarwar-e-Kaunain hain aaye Shab-e-Meraj mein Khul gaye rahmat ke darwaze Shab-e-Meraj mein Tay kiya yun nur ke paikar ne nurani safar Waqt thehra, fasle simte Shab-e-Meraj mein Junbish-e-zanjir-e-dar se garmi-e-bistar se puchh Kitni muddat ke the kuchh lamhe Shab-e-Meraj mein Sidra-o-Firdaus-o-Jannat, Arsh-o-Kursi-o-Qalam Kis qadar nazdik se guzre Shab-e-Meraj mein Anbiya sare saf-andar-saf qatar-andar-qatar Sab ziyarat ke liye aaye Shab-e-Meraj mein Gul farishte Hamiyan-e-Arsh-o-Rizwan-e-Bahisht Sab hi mushtaq-e-ziyarat the Shab-e-Meraj mein Sab ye kehte hain ke is mein bhi Ali ka hath hai The Payambar mutmain jis se Shab-e-Meraj mein Bakhshish-e-ummat, shafaat, maghfirat, roz-e-niyaz Kitne masle hal ho gaye kitne Shab-e-Meraj mein
نور ہے جلوہ نما شعبِ ابوطالب میں شاداں دہلوی نور ہے جلوہ نما شعبِ ابوطالب میں دین محفوظ ہوا شعبِ ابوطالب میں ساری دنیا سے مخالف تو کوئی خوف نہیں ہے نگہبان خدا شعبِ ابوطالب میں اہلِ مکہ نے جو دی ترکِ مراسم کی سزا آگئے اہلِ وفا شعبِ ابوطالب میں حلقۂ عافیت و حفظِ خدا میں آئے چند خاصانِ خدا شعبِ ابوطالب میں اہلِ ایماں رہے تین برس تک محصور اور ہر ظلم سہا شعبِ ابوطالب میں آلِ ہاشم نے سہے تین برس تک پیہم ستم و جور و جفا شعبِ ابوطالب میں آخرش پھاڑ دیا ابنِ عدی نے میثاق سب نے یہ راز سنا شعبِ ابوطالب میں خود ہی صیادوں نے اس قید کو توڑا آخر یہ ہوا لطفِ خدا شعبِ ابوطالب میں سرورِ کونین ہیں آئے شبِ معراج میں شاداں دہلوی سرورِ کونین ہیں آئے شبِ معراج میں کھل گئے رحمت کے دروازے شبِ معراج میں طے کیا یوں نور کے پیکر نے نورانی سفر وقت ٹھہرا، فاصلے سمٹے شبِ معراج میں جنبشِ زنجیرِ در سے گرمیِ بستر سے پوچھ کتنی مدت کے تھے کچھ لمحے شبِ معراج میں سدرہ و فردوس و جنت، عرش و کرسی و قلم کس قدر نزدیک سے گزرے شبِ معراج میں انبیاء سارے صف اندر صف قطار اندر قطار سب زیارت کے لئے آئے شبِ معراج میں گل فرشتے حامیانِ عرش و رضوانِ بہشت سب ہی مشتاقِ زیارت تھے شبِ معراج میں سب یہ کہتے ہیں کہ اس میں بھی علیؑ کا ہاتھ ہے تھے پیمبرؐ مطمئن جس سے شبِ معراج میں بخششِ امت، شفاعت، مغفرت، روزِ نیاز کتنے مسئلے حل ہوگئے کتنے شبِ معراج میں

406

Muttahid ho gaye kuffar Shab-e-Hijrat mein Shadan Dehlavi Muttahid ho gaye kuffar Shab-e-Hijrat mein Haq ke the dar-pay-e-azar Shab-e-Hijrat mein Ek lashkar diya tartib ke jis mein shamil Har qabile ka tha sardar Shab-e-Hijrat mein Gher kar charon taraf se wo Payambar ka makan Qatl-e-Hazrat pe the tayyar Shab-e-Hijrat mein Azim-e-tark-e-watan ho gaya Khaliq ka Rasul Ho ke halat jo dushwar Shab-e-Hijrat mein Pas jis jis ki amanat thi Ali ko saunpi Ho gaye aap subukbar Shab-e-Hijrat mein Chhin ki nind Ali, sote rahe bistar par Dushmanon ne kiya bedar Shab-e-Hijrat mein Sans se farishton ke is isar pe fakhr Kiya gaya Nafs-e-Ali marzi-e-Dawar ke iwaz Dekhiye garmi-e-bazar Shab-e-Hijrat mein Alam le kar bahut jate rahe aghyar-e-Khaibar mein Shadan Dehlavi Alam le kar bahut jate rahe aghyar-e-Khaibar mein Magar un se na samjha uqda-e-dushwar Khaibar mein Musalsal tin din jari raha ye silsila lekin Na kam aaya koi harba, koi hathyar Khaibar mein Bana rakha tha diwana jinhein mal-e-ghanimat ne Wo diwane nazar aane lage hoshiyar Khaibar mein Khair jab azmaya bhagne walon ka markab ne Jo buzdil the wo sharminda hue har bar Khaibar mein Hui jab un ki paspai se un ki himmat-afzai Adad samjhe nahin ab koi bhi char Khaibar mein Bil-aakhir Sarwar-e-Kaunain ne uth kar ye farmaya Bahut nazdik hai lo gar-kusha ka Khaibar mein Main kal jis ko alam dunga wo mera jaanashin hoga Wohi rajul hoga, jari hoga, wohi Karrar Khaibar mein
متحد ہوگئے کفار شبِ ہجرت میں شاداں دہلوی متحد ہوگئے کفار شبِ ہجرت میں حق کے تھے درپے آزار شبِ ہجرت میں ایک لشکر دیا ترتیب کہ جس میں شامل ہر قبیلے کا تھا سردار شبِ ہجرت میں گھیر کر چاروں طرف سے وہ پیمبرؐ کا مکان قتلِ حضرت پہ تھے تیار شبِ ہجرت میں عازمِ ترکِ وطن ہوگیا خالق کا رسولؐ ہو کے حالات جو دشوار شبِ ہجرت میں پاس جس جس کی امانت تھی علیؑ کو سونپی ہوگئے آپ سبکبار شبِ ہجرت میں چھین کی نیند علیؑ، سوتے رہے بستر پر دشمنوں نے کیا بیدار شبِ ہجرت میں سانس سے فرشتوں کے اس ایثار پہ فخر کیا گیا نفسِ علیؑ مرضیِ داور کے عوض دیکھئے گرمیِ بازار شبِ ہجرت میں علم لے کر بہت جاتے رہے اغیارِ خیبر میں شاداں دہلوی علم لے کر بہت جاتے رہے اغیارِ خیبر میں مگر ان سے نہ سمجھا عقدۂ دشوار خیبر میں مسلسل تین دن جاری رہا یہ سلسلہ لیکن نہ کام آیا کوئی حربہ، کوئی ہتھیار خیبر میں بنا رکھا تھا دیوانہ جنہیں مالِ غنیمت نے وہ دیوانے نظر آنے لگے ہشیار خیبر میں خیر جب آزمایا بھاگنے والوں کا مرکب نے جو بزدل تھے وہ شرمندہ ہوئے ہر بار خیبر میں ہوئی جب ان کی پسپائی سے ان کی ہمت افزائی عدد سمجھے نہیں اب کوئی بھی چار خیبر میں بالآخر سرورِ کونینؐ نے اٹھ کر یہ فرمایا بہت نزدیک ہے لوگرکشا کا خیبر میں میں کل جس کو علم دوں گا وہ میرا جانشیں ہوگا وہی رجل ہوگا، جری ہوگا، وہی جرار خیبر میں

407

Alam le kar bahut jate rahe aghyar-e-Khaibar mein — jari Nawed-e-jaanashini, muzda-e-fath-o-zafar sun kar Nazar aane lage sab jang ko tayyar Khaibar mein Jo jis ki jaanashini mein barha shauq-e-alamdari To sab aaye qarib Ahmad-e-Mukhtar Khaibar mein Nabi se the bahut nazdik lekin sochte ye the Na jane kal muqaddar kis ka ho bedar Khaibar mein Zaban keh raha taaruf, tha bahana hai bhala kis ka Khuda jane hain kis ke muntazir Sarkar Khaibar mein Shujaat mein na utra koi mayar-e-Payambar par Koi Ghazi hua, Haider, na Karrar Khaibar mein Payambar ne pukara Ali aur aa gaye Haider Unhein hota tha sabit Ghazi-o-Jarrar Khaibar mein Kiye Marhab ke do tukre, ukharaa Bab-e-Khaibar ko Chali ba-ahl-e-zamani shan se talwar Khaibar mein Ulfat phailna faqat do ungliyon se Bab-e-Khaibar ko Kiya asan tha jo marhala dushwar Khaibar mein Ali ne sab ke daman bhar diye sone ke tukron se Ghani ko bana dala jo the nadar Khaibar mein Khabar hai sare zamane ko ibtida-e-Ghadir Shadan Dehlavi Khabar hai sare zamane ko ibtida-e-Ghadir Ke Zul-Ashira mein rakhi gayi bina-e-Ghadir Hain wohi awwal-o-wohi aakhir ke misdaq Nabi baraye jaza aur Ali baraye Ghadir Hamari umr do-roza mein ek Eid ka din Sadiyon ka sanad hai na bina-e-Ghadir Ba-qadr-e-zarf-e-samaat, ba-qadr-e-zarf-e-shuur Awam sun ke samajhte rahe sada-e-Ghadir Wo qabl-e-Sirat se sabit-qadam na guzrenge Ubur kar nahin sakte jo singhaye Ghadir Wohi rahega qayamat ki dhoop se mahfuz Nasib hoga jise saya-e-rida-e-Ghadir Kafil-e-hubb-e-Ali ka jo ho nahin sakta Wo dil hai tang, bahut is mein kya samaye Ghadir Kaleja-o-bazu, Salman-o-Maysam-o-Miqdad Tamam umr mili hai unhein saza-e-Ghadir
[علم لے کر بہت جاتے رہے اغیارِ خیبر میں — جاری] نویدِ جانشینی، مژدۂ فتح و ظفر سن کر نظر آنے لگے سب جنگ کو تیار خیبر میں جو جس کی جانشینی میں بڑھا شوقِ علمداری تو سب آئے قریب احمدِ مختارؐ خیبر میں نبیؐ سے تھے بہت نزدیک لیکن سوچتے یہ تھے نہ جانے کل مقدر کس کا ہو بیدار خیبر میں زباں کہہ رہا تعارف، تھا بہانہ ہے بھلا کس کا خدا جانے ہیں کس کے منتظر سرکار خیبر میں شجاعت میں نہ اترا کوئی معیارِ پیمبرؐ پر کوئی غازی ہوا، حیدرؑ، نہ کرار خیبر میں پیمبرؐ نے پکارا علیؑ اور آگئے حیدرؑ انہیں ہوتا تھا ثابت غازی و جرار خیبر میں کئے مرحب کے دو ٹکڑے، اکھاڑا بابِ خیبر کو چلی باہل زمانی شان سے تلوار خیبر میں اُلفت پھیلنا فقط دو انگلیوں سے بابِ خیبر کو کیا آسان تھا جو مرحلہ دشوار خیبر میں علیؑ نے سب کے دامن بھر دیئے سونے کے ٹکڑوں سے غنی کو بنا ڈالا جو تھے نادار خیبر میں خبر ہے سارے زمانے کو ابتدائے غدیر شاداں دہلوی خبر ہے سارے زمانے کو ابتدائے غدیر کہ ذوالعشیرہ میں رکھی گئی بنائے غدیر ہیں وہی اوّل و وہی آخر کے مصداق نبیؐ برائے جزا اور علیؑ برائے غدیر ہماری عمر دو روزہ میں ایک عید کا دن صدیوں کا سند ہے نہ بنائے غدیر بقدر ظرفِ سماعت، بقدر ظرفِ شعور عوام سن کے سمجھتے رہے صدائے غدیر وہ قبلِ صراط سے ثابت قدم نہ گزریں گے عبور کر نہیں سکتے جو سنگھائے غدیر وہی رہے گا قیامت کی دھوپ سے محفوظ نصیب ہوگا جسے سایۂ ردائے غدیر کفیلِ حبِ علیؑ کا جو ہو نہیں سکتا وہ دل ہے تنگ، بہت اس میں کیا سمائے غدیر کلیجہ و بازو، سلمانؓ و میثمؓ و مقدادؓ تمام عمر ملی ہے انہیں سزائے غدیر

408

Aks-e-yaqin Aal-e-Aba hai Mubahala Shadan Dehlavi Aks-e-yaqin Aal-e-Aba hai Mubahala Shak aur guman ke zikr ki dawa hai Mubahala Waqif wohi hain manzilat-e-Ahl-e-Bait se Jo jante hain hukm-e-Khuda hai Mubahala Nasraniyon ko naz jo ruhaniyat pe tha Jab to bachaye jang hua hai Mubahala Rishton ki bartari hai zamamat amal ke sath Is waste Nabi ne kiya hai Mubahala Kitna har ek guruh-o-jang-o-jihad hai Lekin Mubahala baja hai Mubahala Pur-nur suraton ki karamat ko dekh kar Nasraniyon ne tal diya hai Mubahala Bat kar tabah-kari-e-jang-o-jidal se Manshur-e-aman, sulh-o-baqa hai Mubahala Is fath ko bhi fath nahin jante hain log Ek jang bar-namaz hua hai Mubahala Lahiq jo hua hirs ko azar-e-Fadak ka Shadan Dehlavi Lahiq jo hua hirs ko azar-e-Fadak ka Ek qism din ban gaya Haqdar-e-Fadak ka Tahwil mein Zahra ki raha char baras tak Kis baat se nagah girah Sarkar-e-Fadak ka Kis guman mein duniya se Syed hamare jo Payambar Karne lage lalach bhi asardar-e-Fadak ka Quran ka jo Haq beti ko bakhshna tha Nabi ne Is bagh ke dar-pay hua ghaddar-e-Fadak ka Ki us ne gawahon ki talab Bint-e-Nabi se Dawa jo hua bar-sar-e-darbar-e-Fadak ka Ghabraya gaya sakht irshad-e-Nabi ko Har Ahl-e-Hukumat hua bimar-e-Fadak ka Quran ko kafi jo samajhte the wo ayyar Karte hi rahe Aal se inkar-e-Fadak ka Quran kisi ko kabhi kafi nahin hota Batla gaya qissa sar-e-darbar-e-Fadak ka
عکسِ یقین آلِ عبا ہے مباہلہ شاداں دہلوی عکسِ یقین آلِ عبا ہے مباہلہ شک اور گماں کے ذکر کی دوا ہے مباہلہ واقف وہی ہیں منزلتِ اہل بیت سے جو جانتے ہیں حکمِ خدا ہے مباہلہ نصرانیوں کو ناز جو روحانیت پہ تھا جب تو بچائے جنگ ہوا ہے مباہلہ رشتوں کی برتری ہے ضمامت عمل کے ساتھ اس واسطے نبیؐ نے کیا ہے مباہلہ کتنا ہر ایک گروہ و جنگ و جہاد ہے لیکن مباہلہ بجا ہے مباہلہ پر نور صورتوں کی کرامت کو دیکھ کر نصرانیوں نے ٹال دیا ہے مباہلہ بت کر تباہ کاریِ جنگ و جدال سے منشورِ امن، صلح و بقا ہے مباہلہ اس فتح کو بھی فتح نہیں جانتے ہیں لوگ اک جنگ بر نماز ہوا ہے مباہلہ لاحق جو ہوا حرص کو آزار فدک کا شاداں دہلوی لاحق جو ہوا حرص کو آزار فدک کا اک قسم دیں بن گیا حق دار فدک کا تحویل میں زہرا کی رہا چار برس تک کس بات سے ناگہ گیرہ سرکار فدک کا کس گماں میں دنیا سے سید ہمارے جو پیمبرؐ کرنے لگے لالچ بھی اثر دار فدک کا قرآن کا جو حق بیٹی کو بخشنا تھا نبیؐ نے اس باغ کے درپے ہوا غدار فدک کا کی اس نے گواہوں کی طلب بنتِ نبیؐ سے دعویٰ جو ہوا برسرِ دربار فدک کا گھبرایا گیا سخت ارشادِ نبیؐ کو ہر اہلِ حکومت ہوا بیمار فدک کا قرآن کو کافی جو سمجھتے تھے وہ عیار کرتے ہی رہے آل سے انکار فدک کا قرآن کسی کو کبھی کافی نہیں ہوتا بتلا گیا قصہ سرِ دربار فدک کا

409

Lahiq jo hua hirs ko azar-e-Fadak ka — jari Lena hi para jhuti Hadison ka sahara Zahra se jo lena hua dushwar-e-Fadak ka Tarkib ko Payambar ke wo karte nahin taslim Ghairon ko batate hain jo Haqdar-e-Fadak ka Shayad unhein ye raz bhi malum nahin hai Quran ki tauhin hai inkar-e-Fadak ka In zalimon ke nam-e-amal mein shamil Narazi-e-Zahra bhi hai aur bar-e-Fadak ka Jo likh ke Payambar ne diya ek wasiqah Chhura diya Zahra ko jo Haqdar-e-Fadak ka Zalim ne wo tahrir Nabi phar ke phenki Aur Fatima se kar diya inkar-e-Fadak ka Haqdar ko karta hai wirasat se jo mahrum Ta-hashr rahega wo gunahgar-e-Fadak ka Hai Munkir-e-Zahra ki saza jin ko bhi malum Wo zikr bhi karte nahin Sarkar-e-Fadak ka Har qadam tha wird-e-zaban dam hama-dam, dam Maula Sibt Jafar Kabhi thi rah mein teri fikr, kahin gham Maula Har qadam tha wird-e-zaban dam hama-dam, dam Maula Kab hamare bas mein thi barbadi is dagar ki Aap ne bulaya to aa gaye hain hum Maula Chher ta hi na bhulega hum ko teri dastarkhwan Nematain do alam ki kahin jahan bhi hum Maula Tere mehman ban kar chum kar tera sang-e-dar Ho gaye hain duniya mein hum bhi muhtaram Maula Aap jis se razi hon wo khushi ata kijiye Aur har gham se bartar ho na koi gham Maula Ab koi nahin bacha shubahat-e-dahr-o-taj Jis se hai nigahon mein aap ka hasham Maula Har qadam teri janib qarib-tar hai Allah Mujh se rahen dur mein kishwar-e-Iram Maula Lag raha hai yun mujh ko jaise mil gayi Meraj Jab se chum aaya hun aap ke qadam Maula
[لاحق جو ہوا حرص کو آزار فدک کا — جاری] لینا ہی پڑا جھوٹی حدیثوں کا سہارا زہرا سے جو لینا ہوا دشوار فدک کا ترکیب کو پیمبرؐ کے وہ کرتے نہیں تسلیم غیروں کو بتاتے ہیں جو حق دار فدک کا شاید انہیں یہ راز بھی معلوم نہیں ہے قرآن کی توہین ہے انکار فدک کا ان ظالموں کے نام اعمال میں شامل ناراضیِ زہرا بھی ہے اور بار فدک کا جو لکھ کے پیمبرؐ نے دیا ایک وثیقہ چھڑا دیا زہرا کو جو حق دار فدک کا ظالم نے وہ تحریر نبیؐ پھاڑ کے پھینکی اور فاطمہؑ سے کردیا انکار فدک کا حق دار کو کرتا ہے وراثت سے جو محروم تا حشر رہے گا وہ گنہگار فدک کا ہے منکرِ زہرا کی سزا جن کو بھی معلوم وہ ذکر بھی کرتے نہیں سرکار فدک کا ہر قدم تھا وردِ زباں دم ہمہ دم، دم مولا سبط جعفر کبھی تھی راہ میں تیری فکر، کہیں غم مولا ہر قدم تھا وردِ زباں دم ہمہ دم، دم مولا کب ہمارے بس میں تھی بربادی اس ڈگر کی آپ نے بلایا تو آگئے ہیں ہم مولا چھیڑتا ہی نہ بھولے گا ہم کو تیری دسترخوان نعمتیں دو عالم کی کہیں جہاں بھی ہم مولا تیرے مہمان بن کر چوم کر تیرا سنگِ در ہوگئے ہیں دنیا میں ہم بھی محترم مولا آپ جس سے راضی ہوں وہ خوشی عطا کیجئے اور ہر غم سے برتر ہو نہ کوئی غم مولا اب کوئی نہیں بچا شبہاتِ دہر و تاج جس سے ہے نگاہوں میں آپ کا حشم مولا ہر قدم تری جانب قریب تر ہے اللہ مجھ سے رہیں دور میں کشورِ ارم مولا لگ رہا ہے یوں مجھ کو جیسے مل گئی معراج جب سے چوم آیا ہوں آپ کے قدم مولا

410

Har qadam tha wird-e-zaban dam hama-dam, dam Maula — jari Rah aap pe mushtaq bhi aur safar musalsal tha Aaye tere dar pe hue phir se taza-dam Maula Aap ke siwa aata kaun is ko samajhne ga Hal jo suna, aai meri chashm-e-nam Maula Janta hai khub is ko Sibt Jafar khush magar Hai ye sher-goi bhi aap ka karam Maula (Dar Astana-e-Imam Raza, Mashhad Muqaddas) Shahid ho gaye kuchh aur tere lal Husain Sibt Jafar Shahid ho gaye kuchh aur tere lal Husain Jo reh gaye hain unhein ab to hi sambhal Husain Hain phir se ghar se hue hum ko shaidai koi De azm-e-Hazrat-e-Muslim sa be-misal Husain Bachche aur bibiyan bazar mein hain nange sar Royen kyun na khabri un ke Karb-o-bal Husain Ho fikr-o-jazba-e-Zaid-e-Shahid phir bedar Ata ho Hazrat-e-Mukhtar ka jalal Husain Hain tere dost ke dost aur ghair ke dushman Gunahgar samajh kar na hum ko dal Husain Hamari be-amali ne kiya hamein ruswa Chhar ke hum se hui zindagi wabal Husain Khataen fitrat-e-be-par ki bakhshne wale Misal hum hain gunah se nikal Husain Gunah-o-tark-e-amal aur azab ke aage Hain teri Majlis-o-matam hamari dhal Husain Muhib nahin ke hun mamnun tere qatil ke Bana rahe hain tere zikr se jo mal Husain Tha hun to tera bhi Waris magar amir-o-alil Na hoti warna teri lash pamal Husain Ijazat us ko dila de zuhur ki Rab se Wo Muntiqim jo hai parde mein tera lal Husain Laqab hai tera, mera naam Sibt Jafar hai To dhundunga jahan mein mera khayal Husain (Ba-munasibat-e-shahadat-e-mominin)
[ہر قدم تھا وردِ زباں دم ہمہ دم، دم مولا — جاری] راہ آپ پہ مشتاق بھی اور سفر مسلسل تھا آئے تیرے در پہ ہوئے پھر سے تازہ دم مولا آپ کے سوا آتا کون اس کو سمجھنے گا حال جو سنا، آئی میری چشمِ نم مولا جانتا ہے خوب اس کو سبط جعفر خوش مگر ہے یہ شعر گوئی بھی آپ کا کرم مولا (در آستانۂ امام رضاؑ، مشہد مقدس) شہید ہوگئے کچھ اور تیرے لال حسینؑ سبط جعفر شہید ہوگئے کچھ اور تیرے لال حسینؑ جو رہ گئے ہیں انہیں اب تو ہی سنبھال حسینؑ ہیں پھر سے گھر سے ہوئے ہم کو شہیدائی کوئی دے عزمِ حضرتِ مسلمؑ سا بے مثال حسینؑ بچے اور بیبیاں بازار میں ہیں ننگے سر روئیں کیوں نہ خبری ان کے کرب و بال حسینؑ ہو فکر و جذبۂ زیدِ شہید پھر بیدار عطا ہو حضرتِ مختارؑ کا جلال حسینؑ ہیں تیرے دوست کے دوست اور غیر کے دشمن گناہ گار سمجھ کر نہ ہم کو ڈال حسینؑ ہماری بے عملی نے کیا ہمیں رسوا چھڑ کے ہم سے ہوئی زندگی وبال حسینؑ خطائیں فطرتِ بے پر کی بخشنے والے مثال ہم ہیں گناہ سے نکال حسینؑ گناہ و ترکِ عمل اور عذاب کے آگے ہیں تیری مجلس و ماتم ہماری ڈھال حسینؑ محب نہیں کہ ہوں ممنون تیرے قاتل کے بنا رہے ہیں تیرے ذکر سے جو مال حسینؑ تھا ہوں تو تیرا بھی وارث مگر امیر و علیل نہ ہوتی ورنہ تیری لاش پامال حسینؑ اجازت اس کو دلادے ظہور کی رب سے وہ منتقم جو ہے پردے میں تیرا لال حسینؑ لقب ہے تیرا، مرا نام سبط جعفر ہے تو ڈھونڈوں گا جہاں میں مرا خیال حسینؑ (بمناسبتِ شہادتِ مومنین)

411

Main nahin manta / Gauhar Jarchavi Chand sikkon mein jo fatwa ka gham bech de Us azadar ko main nahin manta Din ka duniya ke badle jo sauda kare Us azadar ko main nahin manta Koh-e-gham se jo pahar Ahl-e-Daulat ke dar par sajda kare Mal-o-zar ko jo apna Khuda man le Us azadar ko main nahin manta Ghar gharibon ke Majlis mein jaye nahin Zikr-e-Maula wahan par sunaye nahin Jo Khuda kar nazar sau bahane kare Us azadar ko main nahin manta Ek gharib-ul-watan se milega bhi kya Ahl-e-Daulat ko khush kar ke luta faida Jo bulawe pe Majlis ke ye soch kare Us azadar ko main nahin manta Jis ki khushiyon ka mausam hai Mah-e-Aza Hanste honton se karta hai aah-o-buka Ahl-e-Girya se jo qahqahe mein chher kare Us azadar ko main nahin manta Chashm-e-gham ko dikhaye jo taza ada Jeb bhar ke kahe haye Karb-o-bala Jo dikhawe ke ansu bahata rahe Us azadar ko main nahin manta Nauha-khwani ko jo git ka rang de Zikr-e-Maula ki qimat jo le kar ke le Jo hisab parh ke muskurate hue Us azadar ko main nahin manta Dosti mein ho jis ki shiar-e-adu Baithta hai gham-e-Shabbir ko jo ru-ba-ru Jis ki rozi chalaye ye raste Us azadar ko main nahin manta Karbala ke shahidon ka pani kare Ho ke mane ye surkh rukh Khud gham-e-Karbala jis se kehne lage Us azadar ko main nahin manta Kuchh samajhte nahin wo Zakir ka maqam Jo ke ye soch kar sina-kobi kare Us azadar ko main nahin manta Aise tajir hain gar un ko mauqa mile Bech den ye to mushkil-o-alam to bare Aise saudagaran se jo sauda kare Us azadar ko main nahin manta Hosh kar hosh kar pasdar-e-aza Jo ye sare sitam dekh kar chup rahe Us azadar ko main nahin manta Thi azadari kya aur kya ho gayi Majlis ek mashghala ho gayi Is tabahi ka sadma nahin hai jise Us azadar ko main nahin manta
میں نہیں مانتا / گوہر جارچوی چند سکوں میں جو فتویٰ کا غم بیچ دے اس عزادار کو میں نہیں مانتا دین کا دنیا کے بدلے جو سودا کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا کوہِ غم سے جو پہاڑ اہلِ دولت کے در پر سجدہ کرے مال و زر کو جو اپنا خدا مان لے اس عزادار کو میں نہیں مانتا گھر غریبوں کے مجلس میں جائے نہیں ذکرِ مولا وہاں پر سنائے نہیں جو خدا کر نظر سو بہانے کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا اک غریب الوطن سے ملے گا بھی کیا اہلِ دولت کو خوش کر کے لوٹا فائدہ جو بلاوے پہ مجلس کے یہ سوچ کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا جس کی خوشیوں کا موسم ہے ماہِ عزا ہنستے ہونٹوں سے کرتا ہے آہ و بکا اہلِ گریہ سے جو قہقہے میں چھیڑ کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا چشمِ غم کو دکھائے جو تازہ ادا جیب بھر کے کہے ہائے کرب و بلا جو دکھاوے کے آنسو بہاتا رہے اس عزادار کو میں نہیں مانتا نوحہ خوانی کو جو گیت کا رنگ دے ذکرِ مولا کی قیمت جو لے کر کے لے جو حساب پڑھ کے مسکراتے ہوئے اس عزادار کو میں نہیں مانتا دوستی میں ہو جس کی شعارِ عدو بیٹھتا ہے غمِ شبیرؑ کو جو روبرو جس کی روزی چلائے یہ راستے اس عزادار کو میں نہیں مانتا کربلا کے شہیدوں کا پانی کرے ہوکے مانے یہ سرخ رخ خود غمِ کربلا جس سے کہنے لگے اس عزادار کو میں نہیں مانتا کچھ سمجھتے نہیں وہ ذاکر کا مقام جو کہ یہ سوچ کر سینہ کوبی کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا ایسے تاجر ہیں گر ان کو موقع ملے بیچ دیں یہ تو مشکل و علم تو بڑے ایسے سوداگران سے جو سودا کرے اس عزادار کو میں نہیں مانتا ہوش کر ہوش کر پاسدارِ عزا جو یہ سارے ستم دیکھ کر چپ رہے اس عزادار کو میں نہیں مانتا تھی عزاداری کیا اور کیا ہوگئی مجلس ایک مشغلہ ہوگئی اس تباہی کا صدمہ نہیں ہے جسے اس عزادار کو میں نہیں مانتا

412

Unsur-e-khulq-o-murawwat se hai khilqat man ki Payam Azmi Unsur-e-khulq-o-murawwat se hai khilqat man ki Hai muhabbat jo koi shai to muhabbat man ki Zindagi deti hai insan ko shafqat man ki Bap se barh ke hai duniya ko zarurat man ki Zinat-e-Isa ko mili bap ke ehsan ke baghair Dahr mein koi bhi paida na hua man ke baghair Roshni deta hai jo khud bhi ziya mangta hai Har bashar qimat-o-ikram-o-ata mangta hai Apne mauqe pe har ek ajr-e-wafa mangta hai Jo bhi hai apni muhabbat ka sila mangta hai Pyar sab karte hain duniya mein tijarat ke liye Sirf ek man ki muhabbat hai muhabbat ke liye Mushkilein seh ke hamein dars-e-wafa deti hai Shab ke sannate mein uth uth ke dua deti hai Khun-e-dil apna ye nas nas ke pila deti hai Gosht ke lothre ko insan bana deti hai Mamta rah-e-muhabbat se thakti hi nahin Bap thak jata hai, man pyar se thakti hi nahin Man ki aghosh hai wo madrasa-e-fikr-o-nazar Pyar ke hath jahan karte hain tamir-e-bashar Fitratain aa ke jahan banti hain anwar-e-sahar Misl-e-Asma ye banati hai dilon ko gauhar Apni aulad ki taqdir badal deti hai Bap ke khun ki tasir badal deti hai
عنصرِ خلق و مروت سے ہے خلقت ماں کی پیام اعظمی عنصرِ خلق و مروت سے ہے خلقت ماں کی ہے محبت جو کوئی شے تو محبت ماں کی زندگی دیتی ہے انسان کو شفقت ماں کی باپ سے بڑھ کے ہے دنیا کو ضرورت ماں کی زینتِ عیسیٰ کو ملی باپ کے احسان کے بغیر دہر میں کوئی بھی پیدا نہ ہوا ماں کے بغیر روشنی دیتا ہے جو خود بھی ضیا مانگتا ہے ہر بشر قیمت و اکرام و عطا مانگتا ہے اپنے موقع پہ ہر اک اجرِ وفا مانگتا ہے جو بھی ہے اپنی محبت کا صلہ مانگتا ہے پیار سب کرتے ہیں دنیا میں تجارت کے لئے صرف اک ماں کی محبت ہے محبت کے لئے مشکلیں سہہ کے ہمیں درسِ وفا دیتی ہے شب کے سناٹے میں اٹھ اٹھ کے دعا دیتی ہے خونِ دل اپنا یہ نس نس کے پلا دیتی ہے گوشت کے لوتھڑے کو انسان بنا دیتی ہے مامتا راہِ محبت سے تھکتی ہی نہیں باپ تھک جاتا ہے، ماں پیار سے تھکتی ہی نہیں ماں کی آغوش ہے وہ مدرسۂ فکر و نظر پیار کے ہاتھ جہاں کرتے ہیں تعمیرِ بشر فطرتیں آ کے جہاں بنتی ہیں انوارِ سحر مثلِ اسماء یہ بناتی ہے دلوں کو گوہر اپنی اولاد کی تقدیر بدل دیتی ہے باپ کے خون کی تاثیر بدل دیتی ہے

413

Unsur-e-khulq-o-murawwat se hai khilqat man ki — jari Fikr-e-halat-o-gham-e-subh-o-masa kuchh bhi nahin Man ki godi mein masarrat ke siwa kuchh bhi nahin Zindagi beton ko di aur liya kuchh bhi nahin Man ki ulfat se bari shai Khuda kuchh bhi nahin Pas-e-mamta ka khud Allah bhi farmata hai Wada-e-man karti hai Jannat se libas aata hai Yaad hai aaj bhi ek man ki muhabbat ka saman Jis ghari dahr se rukhsat huin Khatun-e-Jinan Sahn mein rakha tha tabut-e-Ali, the giryan Sar ke Shabbir sada dete the bolo, Amman Matami to dastur kahin tut gaye Sun ke bete ki sada band-e-kafan tut gaye (Bashukriya Syed Muhammad Ali Jafari o Shahid Ibn Haider) Ba-munasibat Eid-e-Zahra (Shuja) / Sibt Jafar Jo khar-e-gul ke sine mein-o-yar rehta hai Qarib-e-Kaaba hi rehta ho khar rehta hai Jo shab ke aaye Ghadir aur jang-e-Khaibar se Inhi ko bughz-e-Ali ka bukhar rehta hai Ali ka chahne wala kisi bhi ahd mein ho Jahan bhi rehta hai mardana-war rehta hai Najaf mein Khuld mein Kaabe mein qalb-e-Momin mein Kahan kahan mera Parwardigar rehta hai Na hadisat-e-zamana, na fikr-e-Barzakh-o-Hashr Ke gird-e-Nad-e-Ali ka hisar rehta hai Dil-o-dimagh-o-zaban mein na ho kharabi agar Nabi-o-Aal-e-Muhammad se pyar rehta hai Agarche Hajj bhi kare aur namaz-o-roza bhi Adu-e-Aal-e-Nabi be-shumar rehta hai Kare zuhur se pehle ada wo ajr un ka Agar Nabi ka kisi par udhar rehta hai
[عنصرِ خلق و مروت سے ہے خلقت ماں کی — جاری] فکرِ حالات و غمِ صبح و مسا کچھ بھی نہیں ماں کی گودی میں مسرت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی بیٹوں کو دی اور لیا کچھ بھی نہیں ماں کی الفت سے بڑی شے خدا کچھ بھی نہیں پاسِ ممتا کا خود اللہ بھی فرماتا ہے وعدۂ ماں کرتی ہے جنت سے لباس آتا ہے یاد ہے آج بھی اک ماں کی محبت کا سماں جس گھڑی دہر سے رخصت ہوئیں خاتونِ جناں صحن میں رکھا تھا تابوتِ علیؑ، تھے گریاں سر کے شبیرؑ صدا دیتے تھے بلو، اماں ماتمی تو دستور کہیں ٹوٹ گئے سن کے بیٹے کی صدا بندِ کفن ٹوٹ گئے (بشکریہ سید محمد علی جعفری و شہید ابن حیدر) بمناسبت عیدِ زہرا (شجاع) / سبط جعفر جو خارِ گل کے سینے میں و یار رہتا ہے قریبِ کعبہ ہی رہتا ہو خار رہتا ہے جو شب کے آئے غدیر اور جنگِ خیبر سے انہی کو بغضِ علیؑ کا بخار رہتا ہے علیؑ کا چاہنے والا کسی بھی عہد میں ہو جہاں بھی رہتا ہے مردانہ وار رہتا ہے نجف میں خلد میں کعبے میں قلبِ مومن میں کہاں کہاں مرا پروردگار رہتا ہے نہ حادثاتِ زمانہ، نہ فکرِ برزخ و حشر کہ گردِ نادِ علیؑ کا حصار رہتا ہے دل و دماغ و زباں میں نہ ہو خرابی اگر نبیؐ و آلِ محمدؐ سے پیار رہتا ہے اگرچہ حج بھی کرے اور نماز و روزہ بھی عدوئے آلِ نبیؐ بے شمار رہتا ہے کرے ظہور سے پہلے ادا وہ اجر ان کا اگر نبیؐ کا کسی پر ادھار رہتا ہے

414

Ghairon ki muhabbat mein maro kis ne kaha hai Ghairon ki muhabbat mein maro kis ne kaha hai Apnon ki adawat mein jiyo kis ne kaha hai Kuffar ka jab khauf hai aur mar ka bhi dar Hamrah-e-Payambar ke raho kis ne kaha hai Jab apna hi lashkar har ek jang se tum ko Hathyar bhi hamrah rakho kis ne kaha hai Mar jana mein yani ke falan "laula Ali" Balke kabhi ghaur karo kis ne kaha hai Sarkar ne chhori hain giran-qadr jo chizen In donon se tum paon ke chalo kis ne kaha hai Qaumiyat ki maut hi to hai ajr-e-risalat Itrat na do aur kalima parho kis ne kaha hai Farmaya Nabi jis ke liye "mulk ati" Is shakhs pe tum war karo kis ne kaha hai Parhte raho Quran bhi aur Naat-e-Nabi bhi Aur Aal ka tum naam na lo kis ne kaha hai Jis Bibi ko farmaya Nabi "bizatun minni" Us Bibi ki takzib karo kis ne kaha hai Jo baad-e-Nabi aap ho Quran-e-mujassam Is shakhs se Quran na lo kis ne kaha hai Jis shakhs ko ukharein Nabi bazm se apni Pahlu mein use dafn karo kis ne kaha hai Jis zarra ki gawahi pe karen fakhr malaik Be-hurmati is zarra ki karo kis ne kaha hai Kehlate hue Katib-e-Wahy aur Sahabi Tum Nafs-e-Payambar se laro kis ne kaha hai Sardar hon jo log jawanan-e-Jinan ke In donon se tum bughz rakho kis ne kaha hai Mahshar mein rakho un se shafaat ki ummidein Duniya mein un ki itaat na karo kis ne kaha hai Jin logon ki khud apni shafaat bhi ho mushkil Aison ki muhabbat mein maro kis ne kaha hai Zahra ka jo Haq khayen, karo un pe tabarra Khud ghasbi ki ek pani na do kis ne kaha hai
غیروں کی محبت میں مرو کس نے کہا ہے غیروں کی محبت میں مرو کس نے کہا ہے اپنوں کی عداوت میں جیو کس نے کہا ہے کفار کا جب خوف ہے اور مار کا بھی ڈر ہمراہِ پیمبرؐ کے رہو کس نے کہا ہے جب اپنا ہی لشکر ہر اک جنگ سے تم کو ہتھیار بھی ہمراہ رکھو کس نے کہا ہے مر جانا میں یعنی کہ فلاں "لولا علیؑ" بلکہ کبھی غور کرو کس نے کہا ہے سرکارؐ نے چھوڑی ہیں گراں قدر جو چیزیں ان دونوں سے تم پاؤں کے چلو کس نے کہا ہے قومیت کی موت ہی تو ہے اجرِ رسالت عترت نہ دو اور کلمہ پڑھو کس نے کہا ہے فرمایا نبیؐ جس کے لئے "ملک عتی" اس شخص پہ تم وار کرو کس نے کہا ہے پڑھتے رہو قرآن بھی اور نعتِ نبیؐ بھی اور آل کا تم نام نہ لو کس نے کہا ہے جس بی بی کو فرمایا نبیؐ "بضعہ منی" اس بی بی کی تکذیب کرو کس نے کہا ہے جو بعدِ نبیؐ آپ ہو قرآنِ مجسم اس شخص سے قرآن نہ لو کس نے کہا ہے جس شخص کو اکھاڑیں نبیؐ بزم سے اپنی پہلو میں اسے دفن کرو کس نے کہا ہے جس ذرہ کی گواہی پہ کریں فخر ملائک بے حرمتی اس ذرہ کی کرو کس نے کہا ہے کہلاتے ہوئے کاتبِ وحی اور صحابی تم نفسِ پیمبرؐ سے لڑو کس نے کہا ہے سردار ہوں جو لوگ جوانانِ جناں کے ان دونوں سے تم بغض رکھو کس نے کہا ہے محشر میں رکھو ان سے شفاعت کی امیدیں دنیا میں ان کی اطاعت نہ کرو کس نے کہا ہے جن لوگوں کی خود اپنی شفاعت بھی ہو مشکل ایسوں کی محبت میں مرو کس نے کہا ہے زہرا کا جو حق کھائیں، کرو ان پہ تبرا خود غصبی کی اک پانی نہ دو کس نے کہا ہے

415

Ghairon ki muhabbat mein maro kis ne kaha hai — jari Jis bahr mein aata hi na ho naam-o-naqs Is bahr mein tum sher kaho kis ne kaha hai Sozkhwani (Sardar Husain Zaidi / Razakaran-e-Husain) Sozkhwani qarar deti hai, jazba-e-gham ubhar deti hai Rone wale sukun pate hain, zindagi ko sanwar deti hai Sozkhwani ki aahon ke, naqsh dil mein utar deti hai Soz ki tahrir se tarif, Majlis-e-gham nikhar deti hai Soz hai chashni bhi lazzat bhi, kaisi kaisi bahar deti hai Soz-e-Zamin hai qalb-e-Momin ka, dil ko wo ikhtiyar deti hai Faida ye hai parhne wale ko, gul kar ke gauhar nikhar deti hai Main bhi nauhon mein soz parhta hun, mujh ko Sarkar pyar deti hai Doctor Professor Hilal Naqvi Islam ka paigham nahin aa sakta Quran bhi kuchh kam nahin aa sakta Jis mulk mein hon bughz-e-Ali par pehre Is mulk mein Islam nahin aa sakta Koi aisa bhi hota hai / Rahi Jahangirabadi Chhupa karta hai koi gul to koi khar hota hai Koi tadbir par khush hai, koi qismat ko rota hai Koi thokar bhi pata hai, koi par bhi khota hai Koi aisa bhi hota hai, koi aisa bhi hota hai Alam patthar pe koi katta hai jang mein aa ke Koi maidan mein jhande garta hai apni talwar ke Bachata hai koi izzat ko, koi apni zillat se Koi aisa bhi hota hai, koi aisa bhi hota hai Ali walon ko Nafs-e-Mahshar mein hoga munh gham ka Hamara ghair koi dhundta hoga kisi dam ka Koi pahunchaye Jannat aur koi Dozakh mein dhota hai Koi aisa bhi hota hai, koi aisa bhi hota hai Rah-e-Haq-e-Pak ke kitne mutmain ho aaj Rahi Chala jo rah par ghairon ki us ne pai gumrahi Wasila rah pata hai, wasila rah khota hai Koi aisa bhi hota hai, koi aisa bhi hota hai
[غیروں کی محبت میں مرو کس نے کہا ہے — جاری] جس بحر میں آتا ہی نہ ہو نام و نقص اس بحر میں تم شعر کہو کس نے کہا ہے سوزخوانی (سردار حسین زیدی / رضا کارانِ حسین) سوز خوانی قرار دیتی ہے، جذبۂ غم ابھار دیتی ہے رونے والے سکون پاتے ہیں، زندگی کو سنوار دیتی ہے سوز خوانی کی آہوں کے، نقش دل میں اتار دیتی ہے سوز کی تحریر سے تعریف، مجلسِ غم نکھار دیتی ہے سوز ہے چاشنی بھی لذت بھی، کیسی کیسی بہار دیتی ہے سوزِ ضامن ہے قلبِ مومن کا، دل کو وہ اختیار دیتی ہے فائدہ یہ ہے پڑھنے والے کو، گل کر کے گوہر نکھار دیتی ہے میں بھی نوحوں میں سوز پڑھتا ہوں، مجھ کو سرکار پیار دیتی ہے ڈاکٹر پروفیسر ہلال نقوی اسلام کا پیغام نہیں آ سکتا قرآن بھی کچھ کام نہیں آ سکتا جس ملک میں ہوں بغضِ علیؑ پر پہرے اس ملک میں اسلام نہیں آ سکتا کوئی ایسا بھی ہوتا ہے / راہی جہانگیر آبادی چھپا کرتا ہے کوئی گل تو کوئی خار ہوتا ہے کوئی تدبیر پر خوش ہے، کوئی قسمت کو روتا ہے کوئی ٹھوکر بھی پاتا ہے، کوئی پار بھی کھوتا ہے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی ایسا بھی ہوتا ہے علم پتھر پہ کوئی کاٹتا ہے جنگ میں آکے کوئی میدان میں جھنڈے گاڑتا ہے اپنی تلوار کے بچاتا ہے کوئی عزت کو، کوئی اپنی ذلت سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی ایسا بھی ہوتا ہے علیؑ والوں کو نفسِ محشر میں ہوگا منہ غم کا ہمارا غیر کوئی ڈھونڈتا ہوگا کسی دم کا کوئی پہنچائے جنت اور کوئی دوزخ میں دھوتا ہے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی ایسا بھی ہوتا ہے رہِ حق پاک کے کتنے مطمئن ہو آج راہی چلا جو راہ پر غیروں کی اُس نے پائی گمراہی وسیلہ راہ پاتا ہے، وسیلہ راہ کھوتا ہے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے، کوئی ایسا بھی ہوتا ہے

416

Chhor de / Sibt Jafar Hai Nabi se muhabbat ka dawa, tujhe un ki aulad se dushmani chhor de Gar shafaat Payambar se darkar hai, un ke akhbar se dushmani chhor de Din-e-Haq ki zarurat jo bachchon ki thi, ghar se bahar the kuchh apne bachchon ke liye Aise bachchon ki takzib karta ho jo chahe, us ko dushmani chhor de Tu na Haq ka sarapa hai na kuchh aur, phir kyun kya Jo kaha kar use phir bhulaya bhi kar, magar munafiq nahin, dushmani chhor de Hai jo tujh pe giran naam Mushkil-kusha, tu jo Makka Hadis kis ki hua Kyun tu dushman-e-Muhammad se bahar hai, tu hum se kam nisbat-e-Jafari chhor de Dostdar-e-Nabi-o-Ali se dur gurez kare Kyun wo kehta hai jo khud bhi karta nahin, buzdili chhor, yar-parasti chhor de Tere nazdik kirdar kuchh bhi nahin, tu faqat marg-e-guftar se waghla Khud amal karke auron ko talqin kar, wird-e-lafzi-o-zakiri chhor de Hamd-o-Naat-o-sanaye-murshid ke siwa shairi kuchh nahin ji ka khayal hai Hai ye tere liye bhi muzarr ay insan, ab buri man le shairi chhor de Apne gareban mein bhi jhank le, apni islah kar, sidha ho Sirf baton na kar Sibt Jafar, na mani ho to muballighi chhor de Sharan haram / Dilwar Nigar ("Asri Ulum-o-Funun-e-Islami" par Dilwar Nigar Sahib ka manzum tabsira) Sibt Jafar muhtaram hain jin ki ye tasnif hai. Is mein jo mazamin hain wo qabil-e-tarif hain. Nabi, Quran aur shan-e-Ali ke mauzuat hain. Chand mazamin wo sare aise malumat hain jin par bara-e-rast ilmi mansab nahin. Kuchh nigahon mein magar ye bura matlab nahin. Sozkhwani aur musiqa mein kya rabta hai, ye sawal un se karen. Alim hain jo baqaida talim-yafta hain, ye sozkhwani hai sawab kyunke gana hai aur bajana hai. Is mein un ka intikhab sozkhwani dar haqiqat nauha par dur hai. Ye Husain ibn-e-Ali ke gham se itna ashna hai aur ise sozkhwani ko aisa jhut hai. Aur gham ko daira kar aisa jhut hai. Main koi Alim nahin aur na ye mera maqam. Main samajhta hun ke musiqa nahin sharan haram. Qaul-e-Ahmad Sadiqi ka hai baja. Satwat-e-Maula Ali ka hai fan-e-qawwal ka. Sozkhwani ke mauzu par Yaad-e-Husain, sozkhwani dekhiye lahje mein shahadat ka hai Haq. Taliban-e-din jo qawwal ko bidat kehte hain, un ke irshadat ko hum be-haqiqat kehte hain. Kash aise Alimon se sirf ye puchhe koi, din ko ye "aula" phailate hain ya Maulvi! [Aakhri satren juzwi taur par ghair wazeh]
چھوڑ دے / سبط جعفر ہے نبیؐ سے محبت کا دعویٰ، تجھے ان کی اولاد سے دشمنی چھوڑ دے گر شفاعت پیمبرؐ سے درکار ہے، ان کے اخبار سے دشمنی چھوڑ دے دینِ حق کی ضرورت جو بچوں کی تھی، گھر سے باہر تھے کچھ اپنے بچوں کے لئے ایسے بچوں کی تکذیب کرتا ہو جو چاہے، اس کو دشمنی چھوڑ دے تو نہ حق کا سراپا ہے نہ کچھ اور، پھر کیوں کیا جو کہا کر اسے پھر بھلایا بھی کر، مگر منافق نہیں، دشمنی چھوڑ دے ہے جو تجھ پہ گراں نام مشکل کشا، تو جو مکہ حدیث کس کی ہوا کیوں تو دشمنِ محمدؐ سے باہر ہے، تو ہم سے کم نسبتِ جعفری چھوڑ دے دوستدارِ نبیؐ و علیؑ سے دور گریز کرے کیوں وہ کہتا ہے جو خود بھی کرتا نہیں، بزدلی چھوڑ، یار پرستی چھوڑ دے تیرے نزدیک کردار کچھ بھی نہیں، تو فقط مرگِ گفتار سے واغلا خود عمل کرکے اوروں کو تلقین کر، وردِ لفظی و ذاکری چھوڑ دے حمد و نعت و ثنائے مرشد کے سوا شاعری کچھ نہیں جی کا خیال ہے ہے یہ تیرے لئے بھی مضر اے انسان، اب بری مان لے شاعری چھوڑ دے اپنے گریباں میں بھی جھانک لے، اپنی اصلاح کر، سیدھا ہو صرف باتوں نہ کر سبط جعفر، نہ مانی ہو تو مبلغی چھوڑ دے شرعاً حرام / دلور نگار ("عصری علوم و فنونِ اسلامی" پر دلور نگار صاحب کا منظوم تبصرہ) سبط جعفر محترم ہیں جن کی یہ تصنیف ہے۔ اس میں جو مضامین ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں۔ نبیؐ، قرآن اور شانِ علیؑ کے موضوعات ہیں۔ چند مضامین وہ سارے ایسے معلومات ہیں جن پر براہِ راست علمی منصب نہیں۔ کچھ نگاہوں میں مگر یہ برا مطلب نہیں۔ سوزخوانی اور موسیقی میں کیا رابطہ ہے، یہ سوال ان سے کریں۔ عالم ہیں جو باقاعدہ تعلیم یافتہ ہیں، یہ سوز خوانی ہے ثواب کیونکہ گانا ہے اور بجانا ہے۔ اس میں ان کا انتخاب سوز خوانی در حقیقت نوحہ پر دور ہے۔ یہ حسین ابن علیؑ کے غم سے اتنا آشنا ہے اور اسے سوزخوانی کو ایسا جھوٹ ہے۔ اور غم کو دائرہ کر ایسا جھوٹ ہے۔ میں کوئی عالم نہیں اور نہ یہ میرا مقام۔ میں سمجھتا ہوں کہ موسیقی نہیں شرعاً حرام۔ قولِ احمد صادقی کا ہے بجا۔ سطوتِ مولا علیؑ کا ہے فنِ قوال کا۔ سوزخوانی کے موضوع پر یادِ حسینؑ، سوزخوانی دیکھئے لہجے میں شہادت کا ہے حق۔ طالبانِ دین جو قوال کو بدعت کہتے ہیں، ان کے ارشادات کو ہم بے حقیقت کہتے ہیں۔ کاش ایسے عالموں سے صرف یہ پوچھے کوئی، دین کو یہ "اولا" پھیلاتے ہیں یا مولوی! [آخری سطریں جزوی طور پر غیر واضح]

417

Sharan haram — jari [Ibtidai chand satren juzwi taur par ghair wazeh] Sozkhwani ka saz dil hai, is liye is ko salam Sozkhwani ke saz ka parda hai zikr-e-Husain Baat ye parde mein kyun rehti ke jaye hain yaqin Shahidon aur shahidon ke warison ko salam Sibt Jafar Nabi-o-Aal-e-Nabi ke mujahidon ko salam Shahidon aur shahidon ke warison ko salam Hai Eid asl mein apne muhasbe ka din Jo aisa karte hain in sare Mominon ko salam Faqih ho ya azakhana ya dil-e-Momin Janab-e-Fatima Zahra ke sab gharon ko salam Shahid zinda hain aur Haq se rizq pate hain Khuda ke khas muhibbon, fidaiyon ko salam Jo mulk-o-qaum ke aur Mominon ke khadim hain Ba-sad khulus wafadar khadimon ko salam Jo din gunahon se hua Pak asl mein hai wo Eid Gunah se Pak dinon aur in shabon ko salam Hain karwan-e-shahadat mein hum bhi shamil Imam-e-Waqt ke sare sipahiyon ko salam Musafiran-e-shahadat, hayat hon ya Shahid Jo kam aayen rah-e-Haq mein un lahuon ko salam Khuda ke bandon ke apne huquq hon jinhein yaad Hamari samt se un sare sathiyon ko salam Rakhen jo yaad shahidon ke Ahl-e-Khana ko Dua karen un sare muhsinon ko salam Iltimas-e-Fatiha baraye sozkhwan Sibt Ali Zaidi / Qasr-e-Musayyab Iltimas-e-dua-e-sehat baraye Shair-e-Ahl-e-Bait Nishan Akbarabadi
[شرعاً حرام — جاری] [ابتدائی چند سطریں جزوی طور پر غیر واضح] سوز خوانی کا ساز دل ہے، اس لئے اس کو سلام سوزخوانی کے ساز کا پردہ ہے ذکرِ حسینؑ بات یہ پردے میں کیوں رہتی کہ جائے ہیں یقین شہیدوں اور شہیدوں کے وارثوں کو سلام سبط جعفر نبیؐ و آلِ نبیؐ کے مجاہدوں کو سلام شہیدوں اور شہیدوں کے وارثوں کو سلام ہے عید اصل میں اپنے محاسبے کا دن جو ایسا کرتے ہیں ان سارے مومنوں کو سلام فقیح ہو یا عزاخانہ یا دلِ مومن جنابِ فاطمہ زہرا کے سب گھروں کو سلام شہید زندہ ہیں اور حق سے رزق پاتے ہیں خدا کے خاص محبوں، فدائیوں کو سلام جو ملک و قوم کے اور مومنوں کے خادم ہیں بصد خلوص وفادار خادموں کو سلام جو دین گناہوں سے ہوا پاک اصل میں ہے وہ عید گناہ سے پاک دنوں اور ان شبوں کو سلام ہیں کاروانِ شہادت میں ہم بھی شامل امامِ وقت کے سارے سپاہیوں کو سلام مسافرانِ شہادت، حیات ہوں یا شہید جو کام آئیں رہِ حق میں ان لہوؤں کو سلام خدا کے بندوں کے اپنے حقوق ہوں جنہیں یاد ہماری سمت سے ان سارے ساتھیوں کو سلام رکھیں جو یاد شہیدوں کے اہلِ خانہ کو دعا کریں ان سارے محسنوں کو سلام التمـاس فاتحہ برائے سوز خواں سبط علی زیدی / قصرِ مسیّب التمـاس دعائے صحت برائے شاعرِ اہل بیت نیشان اکبر آبادی

418

Ay meri bahen be-parda na phir — Sibt Jafar Ay meri bahen be-parda na phir, sharm se guzar ja hun Tu Waris-e-chadar-e-Zainab hai, main tujh ko yaad dilata hun Be-parda hue jab Ahl-e-Haram ne apna chhupaya balon se Jab rah mein paya muhib apna, tab hue sawali chadar ke Tu us ki muhib hai jis ke liye tazim ko uthte the Sarwar Mat bhul, meri khwahar, tu bhi Zahra ki duaon ka samar Hai duniya-o-dindari tujh se mana hai azadari tujh se Chal uswa-e-Zahra par ta-ke Allah bhi ho razi tujh se Karta hai tujhe din ki khatir phir Momin-o-Muhammad ko tayyar Ye waqt bara nazdik ki tarah karna hai tujh ko parda-dar Sibt-e-Jafar ne wasiyat jo ki thi paigham hai is mein tere liye Ilm-o-amal, meri daulat aur sharm-o-haya tera zewar Gharon mein Imam-e-Zamana tujh par bahut bharosa hai Tujh par hai bari zimmedari, naslon ki hifazat karna hai Man, betiyan aur bahnon se yahi darkhwast hai Sibt Jafar ki Quran-o-Nabi aur Aal-e-Nabi hon pesh-e-nazar har ek ghari Safdar hun, Shuja-o-Muhkam hun, Asif hun ya Hashim nauha-khwan Deta hai tujhe paigham yahi har man-o-Zakir-o-marsiya-khwan Ay mere baradar-e-imani Mat ghair se apni yari rakh ay mere baradar-e-imani Mat Momin se narazi rakh ay mere baradar-e-imani Jo Aal-e-Nabi ka dushman hai wo ghair hai, tera dushman hai Mat ghair se apni yari rakh ay mere baradar-e-imani Zahra ko Imam-e-Zamana ko mushkil hai ke is se sadma ho Mat Momin se narazi rakh ay mere baradar-e-imani Jab baat kare na-mahram se ya samne aa jaye tere Tu apni nigahen nichi rakh ay mere baradar-e-imani Bahlaye na tujh ko Shaitan-e-lain, rakh yaad usul-o-furu-e-din Pabandi-e-amr-o-nawahi rakh ay mere baradar-e-imani
اے میری بہن بے پردہ نہ پھر — سبط جعفر اے مری بہن بے پردہ نہ پھر، شرم سے گزر جا ہوں تو وارثِ چادرِ زینبؑ ہے، میں تجھ کو یاد دلاتا ہوں بے پردہ ہوئے جب اہلِ حرم نے اپنا چھپایا بالوں سے جب راہ میں پایا محب اپنا، تب ہوئے سوالی چادر کے تو اس کی محب ہے جس کے لئے تعظیم کو اٹھتے تھے سرورؑ مت بھول، مری خواہر، تو بھی زہرا کی دعاؤں کا ثمر ہے دنیا و دینداری تجھ سے مانا ہے عزاداری تجھ سے چل اسوۂ زہرا پر تاکہ اللہ بھی ہو راضی تجھ سے کرتا ہے تجھے دین کی خاطر پھر مومن و محمدؐ کو تیار یہ وقت بڑا نزدیک کی طرح کرنا ہے تجھ کو پردہ دار سبطِ جعفر نے وصیت جو کی تھی پیغام ہے اس میں تیرے لئے علم و عمل، میری دولت اور شرم و حیا تیرا زیور گھروں میں امام زمانہ تجھ پر بہت بھروسہ ہے تجھ پر ہے بڑی ذمہ داری، نسلوں کی حفاظت کرنا ہے ماں، بیٹیاں اور بہنوں سے یہی درخواست ہے سبط جعفر کی قرآن و نبیؐ اور آلِ نبیؐ ہوں پیشِ نظر ہر ایک گھڑی صفدر ہوں، شجاع و محکم ہوں، اصف ہوں یا ہاشم نوحہ خواں دیتا ہے تجھے پیغام یہی ہر ماں و ذاکر و مرثیہ خواں اے میرے برادر ایمانی مت غیر سے اپنی یاری رکھ اے میرے برادر ایمانی مت مومن سے ناراضی رکھ اے میرے برادر ایمانی جو آلِ نبیؐ کا دشمن ہے وہ غیر ہے، تیرا دشمن ہے مت غیر سے اپنی یاری رکھ اے میرے برادر ایمانی زہرا کو امامِ زمانہ کو مشکل ہے کہ اس سے صدمہ ہو مت مومن سے ناراضی رکھ اے میرے برادر ایمانی جب بات کرے نامحرم سے یا سامنے آ جائے تیرے تو اپنی نگاہیں نیچی رکھ اے میرے برادر ایمانی بہکائے نہ تجھ کو شیطانِ لعین، رکھ یاد اصول و فروعِ دین پابندیِ امر و نواہی رکھ اے میرے برادر ایمانی

419

Ay mere baradar-e-imani — jari Tu kis ka muhib aur mati hai aur kis ka muwali waqai hai Kuchh pas Nabi-o-Ali bhi rakh ay mere baradar-e-imani Amal-o-aqaid apni jagah, huliya bhi to ho Momin jaisa Munchhen kam aur darhi rakh ay mere baradar-e-imani Nigaran hain Imam-e-Zamana tujh par, taqlid bhi kar matam bhi kar Dushman pe nigahen gehri rakh ay mere baradar-e-imani Ban sakta nahin qabr-o-hashr par soch tu ye shuur kis ka Pichhla Hajj Ali-o-Batul ki rakh ay mere baradar-e-imani "Uff" tak ki ijazat tujh ko nahin man bap se jab tu baat kare Awaz bhi apni nichi rakh ay mere baradar-e-imani Sarwar ka ye tujh se wasiyat hai jab pani piye to nigahon mein Shabbir ki tishna-dahani rakh ay mere baradar-e-imani Mat radd-e-amal ki parwa kar ay Shair-e-Haq Sibt Jafar Tu koshish apni jari rakh ay mere baradar-e-imani Ye zindagi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Sibt Jafar Ye zindagi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Gham aur khushi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Dharas bari hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Hum teri hasb-e-mansha qabr kar na paye Tu munhadim hui jab hum tab bhi be-khabar the Sharmindagi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Hai wajah-e-khalq-e-alam madfun is zamin par Masum panch hain aur Bint-e-Asad yahi par Ye zindagi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Aal ka khazina Ashab ka dafina Azwaj ka bhi madfan, Ansar ka Madina Ye roshni hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia
[اے میرے برادر ایمانی — جاری] تو کس کا محب اور ماتی ہے اور کس کا موالی واقعی ہے کچھ پاس نبیؐ و علیؑ بھی رکھ اے میرے برادر ایمانی اعمال و عقائد اپنی جگہ، حلیہ بھی تو ہو مومن جیسا مونچھیں کم اور داڑھی رکھ اے میرے برادر ایمانی نگران ہیں امامِ زمانہؑ تجھ پر، تقلید بھی کر ماتم بھی کر دشمن پہ نگاہیں گہری رکھ اے میرے برادر ایمانی بن سکتا نہیں قبر و حشر پر سوچ تو یہ شعور کس کا پچھلا حج علیؑ و بتولؑ کی رکھ اے میرے برادر ایمانی "اُف" تک کی اجازت تجھ کو نہیں ماں باپ سے جب تو بات کرے آواز بھی اپنی نیچی رکھ اے میرے برادر ایمانی سرور کا یہ تجھ سے وصیت ہے جب پانی پئے تو نگاہوں میں شبیرؑ کی تشنہ دہانی رکھ اے میرے برادر ایمانی مت ردِ عمل کی پروا کر اے شاعرِ حق سبط جعفر تو کوشش اپنی جاری رکھ اے میرے برادر ایمانی یہ زندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ سبط جعفر یہ زندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ غم اور خوشی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ ڈھارس بڑی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ ہم تیری حسبِ منشا قبر کر نہ پائے تو منہدم ہوئی جب ہم تب بھی بے خبر تھے شرمندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ ہے وجہِ خلقِ عالم مدفون اس زمیں پر معصوم پانچ ہیں اور بنتِ اسدؑ یہی پر یہ زندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ آل کا خزینۂ اصحاب کا دفینہ ازواج کا بھی مدفن، انصار کا مدینہ یہ روشنی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ

420

[Safha 420 se jari — Ye zindagi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia] [Pehla misra juzwi taur par ghair wazeh] Piron ke astane kitne saje hue hain Par roshni hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Dil kya muraden ab bhi pate hain hum yahin se Milta hai jo yahan se, milta nahin kahin se Dharas bari hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Tujh par jo hakimon ne pehre bitha diye hain Apne tain wo teri azmat ghata rahe hain Khaif hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia [Ek misra juzwi taur par ghair wazeh] Aulad-e-Ibrahim aur Aal-e-Saud ko bhi Nafrat wohi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Aal-e-Saud hon ya hon Khariji-o-Najdi Dhaya jinhon ne tujh ko donon jahan mein un ki Zillat hui hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Mah-e-aza hai, hangam-e-Shawwal ka mahina Qabr jab tu hogi wo din khushi ka hoga Gham aur khushi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Jate hain jaise Mashhad, hum Karbala bhi jayen Ke Madina Aqsa azad hum karayen Banka yahi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Ajdad ka watan aur madfan hai, Sibt Jafar Tujh par ho [lafz ghair wazeh] bhi rahmat, ay sarzamin-e-Sarwar Ye din bhi hai tujh se ay Jannat-ul-Baqia Qita / Syed Mahdi Zahir Tabatabai Ho zikr-e-Shah to faza dardnak kar pehle Nawa-e-gham ke gareban ko chak kar pehle Rahe zara bhi na araish-e-tarab baqi Tarannum ko soz ke darya mein Pak kar pehle (Bashukriya sozkhwan Professor Suhail Jafari o Ayub Husain Bilgrami)
[صفحہ 420 سے جاری — یہ زندگی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ] [پہلا مصرع جزوی طور پر غیر واضح] پیروں کے آستانے کتنے سجے ہوئے ہیں پر روشنی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ دل کیا مرادیں اب بھی پاتے ہیں ہم یہیں سے ملتا ہے جو یہاں سے، ملتا نہیں کہیں سے دھارس بڑی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ تجھ پر جو حاکموں نے پہرے بٹھا دیئے ہیں اپنے تئیں وہ تیری عظمت گھٹا رہے ہیں خائف ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ [ایک مصرع جزوی طور پر غیر واضح] اولادِ ابراہیم اور آلِ سعود کو بھی نفرت وہی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ آلِ سعود ہوں یا ہوں خارجی و نجدی ڈھایا جنہوں نے تجھ کو دونوں جہاں میں ان کی ذلت ہوئی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ ماہِ عزا ہے، ہنگامِ شوال کا مہینہ قبر جب تو ہوگی وہ دن خوشی کا ہوگا غم اور خوشی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ جاتے ہیں جیسے مشہد، ہم کربلا بھی جائیں کہ مدینہ اقصیٰ آزاد ہم کرائیں بانکا یہی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ اجداد کا وطن اور مدفن ہے، سبط جعفر تجھ پر ہو [لفظ غیر واضح] بھی رحمت، اے سرزمینِ سرور یہ دین بھی ہے تجھ سے اے جنت البقیعہ قطعہ / سید مہدی ظہیر طباطبائی ہو ذکرِ شہ تو فضا دردناک کر پہلے نوائے غم کے گریباں کو چاک کر پہلے رہے ذرا بھی نہ آرائشِ طرب باقی ترنم کو سوز کے دریا میں پاک کر پہلے (بشکریہ سوز خواں پروفیسر سہیل جعفری و ایوب حسین بلگرامی)

421

Sehra (Shadan Dehlavi) Taqrib-e-shadi khana-abadi Shah-e-do-alam Amir-ul-Mominin Hazrat Ali ibn Abi Talib Hamrah Sayyida Nisa-il-Alamin Hazrat Fatima Zahra Likha hai main ne Shadan dilbar-e-Imran ka sehra Naye andaz ka sehra, naye unwan ka sehra Nirali waza ke ghunche, nirale rang ki kaliyan Nirali shan ka dulha, nirali shan ka sehra Nahin zauja kisi shauhar ki Masuma zamane mein Kisi ne bhi nahin bandha hai is unwan ka sehra Abu Talib ka beta hai to beti hai Khadija ki Hain donon Muhsin-e-Islam, hai ehsan ka sehra Khud is ko Bagh-e-Jannat se bana kar lai hain huren Farishton ne na dekha tha kabhi is shan ka sehra Har ek ghunche pe huron ne parhi Nad-e-Ali pehle Piroya surat-e-tasbih phir iman ka sehra Abu Talib ki mehnat ka samar bakhshta hai Khaliq ne Bari minnat ka sehra hai, bare arman ka sehra Hai khush-bakht Asad ki ruh Firdaus-e-Mualla mein Hua ham-naam Amina bandh kar iman ka sehra Agar Masum hai dulha to dulhan bhi hai Masuma Na dekhegi kabhi chashm-e-falak is shan ka sehra Jhukain sajde mein lariyan dekh kar dulha ke chehre ko Farishte dekh len khud aage ek insan ka sehra Jahan ilm-o-shujaat ek paikar mein sama jayen Isi ko zeb deta hai faqat mizan ka sehra Sar-e-ayat par khud jis ne dastar-e-amal bandhi Isi ke sar pe bandha Haq ne is elan ka sehra
سہرا (شاداں دہلوی) تقریبِ شادی خانہ آبادی شاہِ دو عالم امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ہمراہ سیدہ نساءِ العالمین حضرت فاطمہ زہرا لکھا ہے میں نے شاداں دلبرِ عمران کا سہرا نئے انداز کا سہرا، نئے عنوان کا سہرا نرالی وضع کے غنچے، نرالے رنگ کی کلیاں نرالی شان کا دولہا، نرالی شان کا سہرا نہیں زوجہ کسی شوہر کی معصومہ زمانے میں کسی نے بھی نہیں باندھا ہے اس عنوان کا سہرا ابوطالب کا بیٹا ہے تو بیٹی ہے خدیجہ کی ہیں دونوں محسنِ اسلام، ہے احسان کا سہرا خود اس کو باغِ جنت سے بنا کر لائی ہیں حوریں فرشتوں نے نہ دیکھا تھا کبھی اس شان کا سہرا ہر اک غنچے پہ حوروں نے پڑھی نادِ علیؑ پہلے پرویا صورتِ تسبیح پھر ایمان کا سہرا ابوطالب کی محنت کا ثمر بخشتا ہے خالق نے بڑی منت کا سہرا ہے، بڑے ارمان کا سہرا ہے خوش بخت اسد کی روح فردوسِ معلیٰ میں ہوا ہم نام آمنہ باندھ کر ایمان کا سہرا اگر معصوم ہے دولہا تو دلہن بھی ہے معصومہ نہ دیکھے گی کبھی چشمِ فلک اس شان کا سہرا جھکیں سجدے میں لڑیاں دیکھ کر دولہا کے چہرے کو فرشتے دیکھ لیں خود آگے اک انسان کا سہرا جہاں علم و شجاعت ایک پیکر میں سما جائیں اسی کو زیب دیتا ہے فقط میزان کا سہرا سرِ آیات پر خود جس نے دستارِ عمل باندھی اسی کے سر پہ باندھا حق نے اس اعلان کا سہرا

422

Sehra — jari Gawah Ahmad ke saye mein hain dulha dulhan donon Khuda rakhe salamat Waris-e-Quran ka sehra Parha hai aqd khud Allah ne Arsh-e-Mualla par Ke sar par kul Imamon ke hai ye iman ka sehra Bani sare saf-andar-saf, qatar-andar-qatar aaye Mubarak-bad dene dekh kar mizan ka sehra Jo dekhen aina-e-ausaf apne ek chehre mein Wo chehra jis pe jalwa-gar hai har unwan ka sehra Ibadat hai ziyarat is liye dulha ke chehre ki Hai is par marifat ka nur aur irfan ka sehra Muhammad Mustafa ko do mubarak-bad ay Shadan Ke sar par un ki dukhtar ke hai aisi shan ka sehra Khaliq-e-Bari ke sar sari khilqat ka sehra Sibt Jafari Khaliq-e-Bari ke sar sari khilqat ka sehra Pyare Muhammad ke mathe par khatm-e-nabuwwat ka sehra Maula-e-Ali ke sar par hai imamat aur wilayat ka sehra Bibi Khadija ke sar par isar aur khidmat ka sehra Aur Abu Talib ke sar par Haq ki himayat ka sehra Fatima Zahra ke sar par hai ismat-o-iffat ka sehra Maula Hasan ke sar par tawazu aur murawwat ka sehra Aur Husain ke sar par hai siyadat aur shahadat ka sehra Abid-e-Mazlum ke sar par hai sabr-o-ibadat ka sehra Maula Baqir ke sar par hai ilm ki wusat ka sehra Jafar Sadiq ke sar par hai Haq-o-sadaqat ka sehra Musa Kazim ke sar par hai zabt-o-hidayat ka sehra Shah-e-Tus ke sar par hai din-o-hukumat ka sehra Maula Naqi ke sar par taqwa aur sakhawat ka sehra
[سہرا — جاری] گواہ احمدؐ کے سائے میں ہیں دولہا دلہن دونوں خدا رکھے سلامت وارثِ قرآن کا سہرا پڑھا ہے عقد خود اللہ نے عرشِ معلیٰ پر کہ سر پر کل اماموں کے ہے یہ ایمان کا سہرا بنی سارے صف اندر صف، قطار اندر قطار آئے مبارک باد دینے دیکھ کر میزان کا سہرا جو دیکھیں آئینۂ اوصاف اپنے ایک چہرے میں وہ چہرہ جس پہ جلوہ گر ہے ہر عنوان کا سہرا عبادت ہے زیارت اس لئے دولہا کے چہرے کی ہے اس پر معرفت کا نور اور عرفان کا سہرا محمد مصطفیٰؐ کو دو مبارک باد اے شاداں کہ سر پر ان کی دختر کے ہے ایسی شان کا سہرا خالقِ باری کے سر ساری خلقت کا سہرا سبط جعفری خالقِ باری کے سر ساری خلقت کا سہرا پیارے محمدؐ کے ماتھے پر ختمِ نبوت کا سہرا مولائے علیؑ کے سر پر ہے امامت اور ولایت کا سہرا بی بی خدیجہؑ کے سر پر ایثار اور خدمت کا سہرا اور ابو طالب کے سر پر حق کی حمایت کا سہرا فاطمہ زہرا کے سر پر ہے عصمت و عفت کا سہرا مولا حسنؑ کے سر پر تواضع اور مروت کا سہرا اور حسینؑ کے سر پر ہے سیادت اور شہادت کا سہرا عابدِ مظلوم کے سر پر ہے صبر و عبادت کا سہرا مولا باقرؑ کے سر پر ہے علم کی وسعت کا سہرا جعفر صادقؑ کے سر پر ہے حق و صداقت کا سہرا موسیٰ کاظمؑ کے سر پر ہے ضبط و ہدایت کا سہرا شاہِ طوس کے سر پر ہے دین و حکومت کا سہرا مولا نقیؑ کے سر پر تقویٰ اور سخاوت کا سہرا

423

Khaliq-e-Bari ke sar sari khilqat ka sehra — jari Hai jo Naqi ke sar par hai taqwa aur sharafat ka sehra Askari ke sar par hai Khuda ki fauj aur taqat ka sehra Qaim-e-Aal-e-Muhammad ke sar muhabbat-o-ghaibat ka sehra Abbas-o-Zainab ke sar par azm-o-itaat ka sehra Akbar-o-Qasim ke sar par hai Haq ki nusrat ka sehra Nanhe Ali Asghar ke sar par hai shahadat ki hifazat ka sehra Ruqayya aur Anwar ke sar par lutf-o-inayat ka sehra Mohsin aur [naam ghair wazeh] ke sar par mail-e-muhabbat ka sehra Sibt Jafar ke sar par hai Aal ki madhat ka sehra Doctor Syed Yawar Abbas Gaya hun na kha gaya Madina, jahan bhi dekha hai wohi to hai Karam zara sa kuchh aur Ya Rab! Agar Karbala ki bhi arzu hai Agar jo hum Karbala mein hue, na jane kaise kis sath hue? Kisi se kuchh keh nahin rahe hain ke is aaj apne se do-ba-du hai (Bashukriya sozkhwan Mujahid Zaidi o Ali Mahdi) Rukhsati (Shadan Dehlavi) Sayyida Nisa-il-Alamin Hazrat Fatima Zahra Salamullah Alaiha Khushi ki baat hai shadi ye paigham-e-masarrat hai Magar phir bhi muhib-e-jaan-e-Nabi ke dil ki halat hai Wohi beti ke jis ko bap ne pala hai man ban kar Isi beti ki Payambar ke ghar se aaj rukhsat hai Tumhein bhi hai lab par, ankhen par ansu bhi hain un ke Judai ka alam hai aur shadi ki masarrat hai Wo jis ko basat matni kaha karte hain Payambar Isi lutf-e-Nabi ki aaj un ke ghar se rukhsat hai Baba Fatima Zahra ka ghar Khaliq-e-Alam ne Khushi hai hasb-e-fitrat aur gham hasb-e-zarurat hai Mila hai Fatima ko Haider-e-Karrar sa shauhar Ali par Khaliq-e-Kaun-o-Makan ki khas rahmat hai
[خالقِ باری کے سر ساری خلقت کا سہرا — جاری] ہے جو نقیؑ کے سر پر ہے تقویٰ اور شرافت کا سہرا عسکریؑ کے سر پر ہے خدا کی فوج اور طاقت کا سہرا قائمِ آلِ محمدؐ کے سر محبت و غیبت کا سہرا عباسؑ و زینبؑ کے سر پر عزم و اطاعت کا سہرا اکبرؑ و قاسمؑ کے سر پر ہے حق کی نصرت کا سہرا ننھے علی اصغرؑ کے سر پر ہے شہادت کی حفاظت کا سہرا رقیہ اور انوار کے سر پر لطف و عنایت کا سہرا محسن اور [نام غیر واضح] کے سر پر میلِ محبت کا سہرا سبط جعفر کے سر پر ہے آل کی مدحت کا سہرا ڈاکٹر سید یاور عباس گیا ہوں نہ کھا گیا مدینہ، جہاں بھی دیکھا ہے وہی تو ہے کرم ذرا سا کچھ اور یارب! اگر کربلا کی بھی آرزو ہے اگر جو ہم کربلا میں ہوئے، نہ جانے کیسے کس ساتھ ہوئے؟ کسی سے کچھ کہہ نہیں رہے ہیں کہ اس آج اپنے سے دو بدو ہے (بشکریہ سوز خواں مجاہد زیدی و علی مہدی) رخصتی (شاداں دہلوی) سیدہ نساءِ العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خوشی کی بات ہے شادی یہ پیغامِ مسرت ہے مگر پھر بھی محبِ جانِ نبیؐ کے دل کی حالت ہے وہی بیٹی کہ جس کو باپ نے پالا ہے ماں بن کر اسی بیٹی کی پیغمبر کے گھر سے آج رخصت ہے تمہیں بھی ہے لب پر، آنکھیں پر آنسو بھی ہیں ان کے جدائی کا الم ہے اور شادی کی مسرت ہے وہ جس کو بعثت متنی کہا کرتے ہیں پیغمبر اسی لطفِ نبیؐ کی آج ان کے گھر سے رخصت ہے بابا فاطمہ زہرا کا گھر خالقِ عالم نے خوشی ہے حسبِ فطرت اور غم حسبِ ضرورت ہے ملا ہے فاطمہؑ کو حیدرِ کرار سا شوہر علیؑ پر خالقِ کون و مکاں کی خاص رحمت ہے

424

Rukhsati — jari Bakherein khas hain Zahra Khudawand-e-do-alam ki Inhi ke pas hai jo sare alam ki fazilat hai Ali hi sirf kufw-e-Sayyida hain sare alam mein Bahut hi qimti hai jo Payambar ki nasihat hai Kabhi shauhar ki khidmat mein kami aane nahin dena Isi khidmat mein rahat hai, isi khidmat mein azmat hai Sharafat hai, haya hai, sharm hai, ghairat hai, iffat hai Yahi aurat ke zewar hain, yahi aurat ki izzat hai Isi zewar pe qaim hain wafadari ki bunyaden Isi zewar se ghar aurat ka rashk-e-Qasr-e-Jannat hai Behtar ho use daulat agar sabr-o-qanaat ki To ye daulat sada us ke liye paigham-e-rahat hai Shikayat ka kabhi mauqa na dena apne shauhar ko Ke shauhar ki itaat mein sada aurat ki izzat hai Meri beti, meri is tarbiyat ki aabru rakhna Jahan tum ja rahi ho wo makan bhi rashk-e-Jannat hai Payambar ne ye keh kar hath rakha sar pe Zahra ke Kaha: ay lakht-e-dil, is ghar se teri aaj rukhsat hai Ali ko do mubarak-bad is rukhsat pe ay Shadan Ke Zahra un ke ghar mein aai hain, ghar rashk-e-Jannat hai Hakim Arif Akbarabadi Lab hon duj ke liye dil ho kudurat ke liye Maut hai ye to zamir-e-Adamiyat ke liye Kar ke tauhin-e-aza [misra juzwi taur par ghair wazeh] Kyun hamein majbur karte ho baghawat ke liye (Bashukriya sozkhwan Doctor Ayaz Zaidi)
[رخصتی — جاری] بکھیریں خاص ہیں زہرا خداوندِ دو عالم کی انہی کے پاس ہے جو سارے عالم کی فضیلت ہے علیؑ ہی صرف کفوِ سیدہ ہیں سارے عالم میں بہت ہی قیمتی ہے جو پیغمبر کی نصیحت ہے کبھی شوہر کی خدمت میں کمی آنے نہیں دینا اسی خدمت میں راحت ہے، اسی خدمت میں عظمت ہے شرافت ہے، حیا ہے، شرم ہے، غیرت ہے، عفت ہے یہی عورت کے زیور ہیں، یہی عورت کی عزت ہے اسی زیور پہ قائم ہیں وفاداری کی بنیادیں اسی زیور سے گھر عورت کا رشکِ قصرِ جنت ہے بہتر ہو اسے دولت اگر صبر و قناعت کی تو یہ دولت سدا اس کے لئے پیغامِ راحت ہے شکایت کا کبھی موقع نہ دینا اپنے شوہر کو کہ شوہر کی اطاعت میں سدا عورت کی عزت ہے مری بیٹی، مری اس تربیت کی آبرو رکھنا جہاں تم جا رہی ہو وہ مکاں بھی رشکِ جنت ہے پیغمبرؐ نے یہ کہہ کر ہاتھ رکھا سر پہ زہرا کے کہا: اے لختِ دل، اس گھر سے تیری آج رخصت ہے علیؑ کو دو مبارک باد اس رخصت پہ اے شاداں کہ زہرا ان کے گھر میں آئی ہیں، گھر رشکِ جنت ہے حکیم عارف اکبر آبادی لب ہوں دُعج کے لئے دل ہو کدورت کے لئے موت ہے یہ تو ضمیرِ آدمیت کے لئے کر کے توہینِ عزا [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] کیوں ہمیں مجبور کرتے ہو بغاوت کے لئے (بشکریہ سوز خواں ڈاکٹر ایاز زیدی)

425

Manzum tarjuma Dua-e-Faraj (Imam-e-Zamana) Ilahi azuma al-bala (Shadan Dehlavi) Ya Ilahi barh gayi meri musibat be-shumar Hain azim afatain, balaen mujh pe be-shumar Baat jo poshida thi wo baat aakhir khul gayi Fash parda ho gaya ay Waqif-e-Sirr-e-Khafi Na-ummidi ka hai ghalba aur tuti hai ummid Mujh pe huin balaon ki nahin koi baid Haye haye ye zamin bhi tang mujh par hogi Mere Malik asman ne bhi rukawat dal di Karb-o-bala hai, madad tu hi mere Parwardigar Sirf tujh se hi shikayat kar raha hun bar bar Jo yaqin rakhta nahin tujh par wo nadan hi hai Tu sahara sirf tangi aur asani mein hai Hai Muhammad aur un ki Aal par durud hamara Un pe ho har dam nuzul-e-rahmat-e-Parwardigar Sahiban-e-Amr hain ye log Isna Ashar hain Aur in sab ki itaat hum sab par farz hai Hum ko un ke martabe ki marifat bakhsh gayi Un ke sadqe mein ata kar de hamein asudgi Jald-tar, nazdik-tar, yani jhapakte hi palak Ya phir is se bhi zara jaldi ho a ke liye Sarparasti kijiye meri, Muhammad Ya Ali Ya Ali-o-Ya Muhammad, aap hain mere Wali Aap hi donon hain kafi sarparasti ko meri Ya Ali-o-Ya Muhammad, Ya Muhammad Ya Ali Aap hain mere madad, meri madad farmaiye Aap hi donon faqat meri madad ko aaiye Mere Aqa! Mere Maula, Sahib-e-Asr-o-Zaman! Aap se faryad karta hai ye abd-e-natawan Aaiye faryad ko, faryad ko Aaiye imdad ko, Maula meri imdad ko
منظوم ترجمہ دعائے فرج (امام زمانہؑ) الٰہی عَظُمَ البلاء (شاداں دہلوی) یا الٰہی بڑھ گئی میری مصیبت بے شمار ہیں عظیم آفتیں، بالائیں مجھ پہ بے شمار بات جو پوشیدہ تھی وہ بات آخر کھل گئی فاش پردہ ہوگیا اے واقفِ سرِ خفی ناامیدی کا ہے غلبہ اور ٹوٹی ہے امید مجھ پہ ہوئیں بلاؤں کی نہیں کوئی بعید ہائے ہائے یہ زمین بھی تنگ مجھ پر ہوگی میرے مالک آسماں نے بھی رکاوٹ ڈال دی کرب و بلا ہے، مدد تو ہی مرے پروردگار صرف تجھ سے ہی شکایت کر رہا ہوں بار بار جو یقیں رکھتا نہیں تجھ پر وہ نادان ہی ہے تو سہارا صرف تنگی اور آسانی میں ہے ہے محمدؐ اور ان کی آل پر درود ہمارا ان پہ ہو ہر دم نزولِ رحمتِ پروردگار صاحبانِ امر ہیں یہ لوگ اثنا عشر ہیں اور ان سب کی اطاعت ہم سب پر فرض ہے ہم کو ان کے مرتبے کی معرفت بخش گئی ان کے صدقے میں عطا کردے ہمیں آسودگی جلد تر، نزدیک تر، یعنی جھپکتے ہی پلک یا پھر اس سے بھی ذرا جلدی ہو آ کے لئے سرپرستی کیجئے میری، محمدؐ یا علیؑ یا علیؑ و یا محمدؐ، آپ ہیں میرے ولی آپ ہی دونوں ہیں کافی سرپرستی کو مری یا علیؑ و یا محمدؐ، یا محمدؐ یا علیؑ آپ ہیں میرے مدد، میری مدد فرمائیے آپ ہی دونوں فقط میری مدد کو آئیے میرے آقا! میرے مولا، صاحبِ عصر و زماں! آپ سے فریاد کرتا ہے یہ عبدِ ناتواں آئیے فریاد کو، فریاد کو آئیے امداد کو، مولا مری امداد کو

426

Manzum tarjuma Dua-e-Faraj — jari Bas isi liye, isi saat, isi dam ho asar Mere Maula jald-tar, han jald-tar, han jald-tar Rahm karne wala hai tu sab se barh kar ay Khuda Wasta tujh ko Muhammad aur un ki Aal ka Ho qubul ab to ye Shadan Dehlavi ki iltija Yani tajil-e-zuhur-e-Mahdi-e-din ki dua Shan-e-aslaf ki duniya ko dikha do uth kar Allama Hasan [naam juzwi taur par ghair wazeh] Shan-e-aslaf ki duniya ko dikha do uth kar Tar-e-ghurur ko kirdar bana do uth kar Tafarraqa apne idaron ka mita do uth kar Qaum ki nao bhanwar mein hai, bacha do uth kar Ya Ali keh ke charho dar pe talwaron ki Shan dikhla do zamane ko alamdaron ki Mito khak, bano khak se iksir bano Kushta-e-tegh bano, kushta-e-shamshir bano Hurr ki taqlid karo, paikar-e-hurriyat bano Jo manane se ubharti hai wo taswir bano Maut ki god mein Mazlum ka jina dekho Tegh ki dhar pe chalta hai safina dekho Aap shamshir se pyas apni bujhana sikho Sabr ka hukm hai, pal tegh ka khana sikho Apne hi khun mein khud aap nahana sikho Qaum murda hai to murde ka jalana sikho Walwale ke utho aati jawani ki tarah Khun rag rag se nikle lage pani ki tarah Jis jagah nao thehar jaye wohin sahil ho Paon ruk jaye jahan pal ke wohin manzil ho
[منظوم ترجمہ دعائے فرج — جاری] بس اسی لئے، اسی ساعت، اسی دم ہو اثر میرے مولا جلد تر، ہاں جلد تر، ہاں جلد تر رحم کرنے والا ہے تو سب سے بڑھ کر اے خدا واسطہ تجھ کو محمدؐ اور ان کی آل کا ہو قبول اب تو یہ شاداں دہلوی کی التجا یعنی تعجیلِ ظہورِ مہدیِ دیں کی دعا شانِ اسلاف کی دنیا کو دکھا دو اٹھ کر علامہ حسن [نام جزوی طور پر غیر واضح] شانِ اسلاف کی دنیا کو دکھا دو اٹھ کر تارِ غرور کو کردار بنا دو اٹھ کر تفرقہ اپنے اداروں کا مٹا دو اٹھ کر قوم کی ناؤ بھنور میں ہے، بچا دو اٹھ کر یا علیؑ کہہ کے چڑھو دار پہ تلواروں کی شان دکھلا دو زمانے کو علمداروں کی مٹّو خاک، بنو خاک سے اکسیر بنو کشتۂ تیغ بنو، کشتۂ شمشیر بنو حرؑ کی تقلید کرو، پیکرِ حریت بنو جو منانے سے ابھرتی ہے وہ تصویر بنو موت کی گود میں مظلوم کا جینا دیکھو تیغ کی دھار پہ چلتا ہے سفینہ دیکھو آپ شمشیر سے پیاس اپنی بجھانا سیکھو صبر کا حکم ہے، پل تیغ کا کھانا سیکھو اپنے ہی خون میں خود آپ نہانا سیکھو قوم مردہ ہے تو مردے کا جلانا سیکھو ولولے کے اٹھو آتی جوانی کی طرح خون رگ رگ سے نکلے لگے پانی کی طرح جس جگہ ناؤ ٹھہر جائے وہیں ساحل ہو پاؤں رک جائے جہاں پل کے وہیں منزل ہو

427

Shan-e-aslaf ki duniya ko dikha do uth kar — jari Sar katane se jo asan ho wo mushkil ho Dagh jis dil pe behtar ho wo kamil dil ho Jab tu Mohsin kahin duniya mein thikana hoga Warna phir ashk-e-nadamat hi bahana hoga Aql-o-shuur hain Rab ki nemat, Haq-e-nemat ada karo Haq-e-mawaddat ada karo Sibt Jafar Aql-o-shuur hain Rab ki nemat, Haq-e-nemat ada karo Haq ka hai inam-e-zahanat, Haq-e-zahanat ada karo Din-o-shariat bhi hain rahmat, Haq-e-rahmat ada karo Karna hai gar madhat-e-Haider, har shaiba-e-naqs-e-Payambar Qalam ke badle Sibt Jafar, hazir hai Jibrail ka Shah par Quran-o-Sunnat ko parh kar Haq-e-madhat ada karo Khatm na ho paya jo Khaibar, Sher-e-Rab se Haider ko bula kar Bole Ali se ye Payambar, tum bhi to Mahbub-e-Dawar Mard-e-ghazab Haider-e-Safdar, Haq-e-muhabbat ada karo Tha ye Rasul ko hukm aur hukm-e-Ghadir mein sab ko bula kar Haider ko hathon pe utha kar, Man kuntu Maulah mana kar Apne Wali ko Maula bana kar, Haq-e-risalat ada karo Maula ki ulfat ke sabab se hoti hai aulad halali Maula se ulfat hai tumhari walida ki iffat ki gawahi Mominon khidmat karke man ki Haq-e-amanat ada karo Karte raho Maula ke mil kar pairawi-e-Salman-o-Abuzar Tumhari bakhshish ke zamin hain Ali Wali, Maula ke qamar Chahe ho kar jam-e-Kausar Haq-e-wilayat ada karo Shib-e-Abi Talib mein kahan the ashiq-e-Nabi ke dawedaro Jaan bacha kar bhage walo, Nabi ko tanha to mat chhoro Kahan ho Payambar ke yaro, Haq-e-rifaqat ada karo Bhatke walon ki aulad ho, chahe jitni siyah banao Koi lagaye kab maidan mein jhanda, jhanda barhao Mard bano maidan mein aao, Haq-e-shujaat ada karo
[شانِ اسلاف کی دنیا کو دکھا دو اٹھ کر — جاری] سر کٹانے سے جو آسان ہو وہ مشکل ہو داغ جس دل پہ بہتر ہو وہ کامل دل ہو جب تو محسن کہیں دنیا میں ٹھکانا ہوگا ورنہ پھر اشکِ ندامت ہی بہانا ہوگا عقل و شعور ہیں رب کی نعمت، حقِ نعمت ادا کرو حقِ مودّت ادا کرو سبط جعفر عقل و شعور ہیں رب کی نعمت، حقِ نعمت ادا کرو حق کا ہے انعامِ ذہانت، حقِ ذہانت ادا کرو دین و شریعت بھی ہیں رحمت، حقِ رحمت ادا کرو کرنا ہے گر مدحتِ حیدرؑ، ہر شائبۂ نقص پیغمبرؐ قلم کے بدلے سبط جعفر، حاضر ہے جبرئیل کا شہ پر قرآن و سنت کو پڑھ کر حقِ مدحت ادا کرو ختم نہ ہو پایا جو خیبر، شیرِ رب سے حیدرؑ کو بلا کر بولے علیؑ سے یہ پیغمبرؐ، تم بھی تو محبوبِ داور مردِ غضب حیدرِ صفدرؑ، حقِ محبت ادا کرو تھا یہ رسولؐ کو حکم اور حکمِ غدیر میں سب کو بلا کر حیدرؑ کو ہاتھوں پہ اٹھا کر، من کنت مولاہ منا کر اپنے ولی کو مولا بنا کر، حقِ رسالت ادا کرو مولا کی الفت کے سبب سے ہوتی ہے اولاد حلالی مولا سے الفت ہے تمہاری والدہ کی عفت کی گواہی مومنوں خدمت کرکے ماں کی حقِ امانت ادا کرو کرتے رہو مولا کے مل کر پیرویِ سلمان و ابوذرؓ تمہاری بخشش کے ضامن ہیں علیؑ ولی، مولا کے قمر چاہے ہو کر جامِ کوثر حقِ ولایت ادا کرو شعبِ ابی طالب میں کہاں تھے عاشقِ نبیؐ کے دعویدارو جان بچا کر بھاگے والو، نبی کو تنہا تو مت چھوڑو کہاں ہو پیغمبرؐ کے یارو، حقِ رفاقت ادا کرو بھٹکے والوں کی اولاد ہو، چاہے جتنی سیاہ بناؤ کوئی لگائے کب میدان میں جھنڈا، جھنڈا بڑھاؤ مرد بنو میدان میں آؤ، حقِ شجاعت ادا کرو

428

Aql-o-shuur hain Rab ki nemat, Haq-e-nemat ada karo — jari Baad-e-Nabi chhinon bas bhi chal na saka jab zulm-e-hukumat Shura ki Saqifa se aa kar aai Ali ke dar pe hukumat Nabi ke Waris taj-o-hukumat, Haq-e-niyabat ada karo Din-dar-o-hassas Khatibo, khub banao khub rulao Khandaq aur Khaibar bhi sunao, fiqh-o-shariat bhi batlao Din aur duniya donon nibhao, Haq-e-khitabat ada karo Waizo Shairo aur Adibo! Zulm ke aage sar na jhukao Jo Haq hai bas wohi kaho, tum qalam ki hurmat ko mat becho Apne farize ko pehchano, Haq-e-sadaqat ada karo Saum-o-salat ki pabandi bhi karte raho, Majlis bhi karo Khums-o-jihad aur Hajj-o-Zakat ka khalq-e-Khuda ka dhyan rakho Mahi-e-shariat-dar jawano, Haq-e-itaat ada karo Wasta tum ko Ahl-e-Haram ka, be-parda bahar na niklo Parde se izzat hai tumhari, is izzat ka dhyan rakho Qaum ki mao bahno, Haq-e-haya ada karo Garche tera bhi hai ibadat, rasm-e-baraat na-kafi hai Hai tu muhabbat ain-e-saadat, bari muhabbat na-kafi hai Bari murawwat na-kafi hai, Haq-e-murawwat ada karo Qaid-e-Millat-e-Jafari ho, socho tum Naib kis ke ho Dawa Sahib, Mufti Jafar aur Husaini jaise bano Waqt-e-qiyam hai bahar niklo, Haq-e-qiyadat ada karo Kul Yaum-e-Ashura aur Kul Arz-e-Karb-o-bala hai Gunj rahi afaq mein har su aaj talak Hal min ki sada Labbaik kehne wale jiyao, Haq-e-nusrat ada karo Kis ko phir mar rahe ho Sham aur Kufa ke badbakhto Shafi-e-Mahshar Ahl-e-Haram hain, charon jis ki chhin rahe ho Nabi ka kalima parhne walo, ajr-e-nabuwwat ada karo Aur tumhein aata hi kya hai Saqifa walon ki aulado Ali Batul aur Aal-e-Nabi ko jitna sata sakte ho sata lo Banda-e-Abu Sufyan ke chelo, apni sunnat ada karo
[عقل و شعور ہیں رب کی نعمت، حقِ نعمت ادا کرو — جاری] بعدِ نبیؐ چھینوں بس بھی چل نہ سکا جب ظلمِ حکومت شوریٰ کی سقيفہ سے آکر آئی علیؑ کے در پہ حکومت نبیؐ کے وارث تاج و حکومت، حقِ نیابت ادا کرو دین دار و حساس خطیبو، خوب بناؤ خوب رلاؤ خندق اور خیبر بھی سناؤ، فقہ و شریعت بھی بتلاؤ دین اور دنیا دونوں نبھاؤ، حقِ خطابت ادا کرو واعظو شاعرو اور ادیبو! ظلم کے آگے سر نہ جھکاؤ جو حق ہے بس وہی کہو، تم قلم کی حرمت کو مت بیچو اپنے فریضے کو پہچانو، حقِ صداقت ادا کرو صوم و صلوٰۃ کی پابندی بھی کرتے رہو، مجلس بھی کرو خمس و جہاد اور حج و زکوٰۃ کا خلقِ خدا کا دھیان رکھو ماہیِ شریعت دار جوانو، حقِ اطاعت ادا کرو واسطہ تم کو اہلِ حرم کا، بے پردہ باہر نہ نکلو پردے سے عزت ہے تمہاری، اس عزت کا دھیان رکھو قوم کی ماؤ بہنو، حقِ حیا ادا کرو گرچہ تیرا بھی ہے عبادت، رسمِ براعت ناکافی ہے ہے تو محبت عین سعادت، بری محبت ناکافی ہے بری مروت ناکافی ہے، حقِ مروت ادا کرو قائدِ ملت جعفری ہو، سوچو تم نائب کس کے ہو دعویٰ صاحب، مفتی جعفرؒ اور حسینی جیسے بنو وقتِ قیام ہے باہر نکلو، حقِ قیادت ادا کرو کل یومِ عاشورا اور کل ارضِ کرب و بلا ہے گونج رہی آفاق میں ہر سو آج تلک ہل من کی صدا لبیک کہنے والے جیاؤ، حقِ نصرت ادا کرو کس کو پھر مار رہے ہو شام اور کوفہ کے بدبختو شفیعِ محشر اہلِ حرم ہیں، چاروں جس کی چھین رہے ہو نبیؐ کا کلمہ پڑھنے والو، اجرِ نبوت ادا کرو اور تمہیں آتا ہی کیا ہے سقيفہ والوں کی اولادو علیؑ بٹولؑ اور آلِ نبیؐ کو جتنا ستا سکتے ہو ستالو بندۂ ابو سفیان کے چیلوں، اپنی سنت ادا کرو

429

Aql-o-shuur hain Rab ki nemat, Haq-e-nemat ada karo — jari Muntazirin-e-Imam-e-Zamana, apni safon ko sidha rakho Waqt-e-zuhur-e-Imam-e-Zamana hai, shauq se tum ankhen pharo Dawa-e-nusrat karne walo, Haq-e-ghaibat ada karo Suye qabristan chale hain dafn ki khatir mujh ko le ke Pehle na aa jayen wo farishte pursish jo karte hain sab se Aa kar qabr mein Maula mere, Haq-e-shafaat ada karo Syed Sibt Jafar Zaidi, tum bhi faqat baten na banao Dawa-e-ulfat rakhte ho to jo kehte ho karke dikhao Uswa-e-Ahl-e-Bait apnao, Haq-e-nasihat ada karo Hazrat Mojiz Jaunpuri Kaun hai Islam ka dushman ye khulta hi na tha Karbala jab samne aai to pehchane gaye Chhupe hi se raha buton ka ye apna manzum Is azakhane se nikle, is azakhane gaye Ek Khaliq, ek Quran, ek ummat, ek Rasul Dars-e-Ittihad / Allama Hasan Azamgarhi Ek Khaliq, ek Quran, ek ummat, ek Rasul Ek gulshan, ek mali, ek dali, ek phul Hum ne mana hain ye do gale shikasta jam ke Shisha, kai phir bhi donon hath hain Islam ke Raste do hain magar donon ka rahbar ek hai Lab hain do, saz hain do, Saqi-e-Kausar ek hai Chhor do jang-o-jadal ki rah, ab bhi chhor do Bal-e-shishe mein jo par jaye to mil kar jor do Tum ko kehna hai jahan sarmayadar zindagi Bais-e-ilm-o-amal, sad-iftikhar zindagi Zindagi mil kar guzaro, chain se aram se Bandha rishta-e-manad-o-Momin Islam se Chhini kashti-e-mulazim mein kinara chahiye Dubne wale ko tinke ka sahara chahiye
[عقل و شعور ہیں رب کی نعمت، حقِ نعمت ادا کرو — جاری] منتظرینِ امامِ زمانہ، اپنی صفوں کو سیدھا رکھو وقتِ ظہورِ امامِ زمانہ ہے، شوق سے تم آنکھیں پھاڑو دعویٰ نصرت کرنے والو، حقِ غیبت ادا کرو سوئے قبرستان چلے ہیں دفن کی خاطر مجھ کو لے کے پہلے نہ آجائیں وہ فرشتے پرسش جو کرتے ہیں سب سے آ کر قبر میں مولا میرے، حقِ شفاعت ادا کرو سید سبط جعفر زیدی، تم بھی فقط باتیں نہ بناؤ دعویٰ الفت رکھتے ہو تو جو کہتے ہو کرکے دکھاؤ اسوۂ اہلِ بیت اپناؤ، حقِ نصیحت ادا کرو حضرت معجز جونپوری کون ہے اسلام کا دشمن یہ کھلتا ہی نہ تھا کربلا جب سامنے آئی تو پہچانے گئے چھپے ہی سے رہا بتوں کا یہ اپنا منظوم اس عزاخانے سے نکلے، اس عزا خانے گئے ایک خالق، ایک قرآن، ایک امت، ایک رسول درسِ اتحاد / علامہ حسن اعظم گڑھی ایک خالق، ایک قرآن، ایک امت، ایک رسول ایک گلشن، ایک مالی، ایک ڈالی، ایک پھول ہم نے مانا ہیں یہ دو گلے شکستہ جام کے شیشہ، کئی پھر بھی دونوں ہاتھ ہیں اسلام کے راستے دو ہیں مگر دونوں کا رہبر ایک ہے لب ہیں دو، ساز ہیں دو، ساقیِ کوثر ایک ہے چھوڑ دو جنگ و جدل کی راہ، اب بھی چھوڑ دو بالِ شیشے میں جو پڑ جائے تو مل کر جوڑ دو تم کو کہنا ہے جہاں سرمایہ دار زندگی باعثِ علم و عمل، صد افتخار زندگی زندگی مل کر گزارو، چین سے آرام سے بندھا رشتۂ مناد و مومن اسلام سے چھینی کشتیِ ملازم میں کنارا چاہیے ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا چاہیے

430

Ek Khaliq, ek Quran, ek ummat, ek Rasul — jari Gar yahi alam raha to zindagi dushwar hai Ya Ali keh kar laga do hath, bera par hai Dur-o-shab-e-ghaflat mein guzarainge Yaad rakho ek din chin chin ke mare jayenge Thokaren khate phiroge, dekhna har gam par Bhik bhi mange na paoge Khuda ke naam par Sar pe suraj aa gaya, Mohsin bas ab hoshyar ho Tabish-e-khwab-e-giran! Bedar ho, bedar ho Naujawanon se khitab Hazrat Allama Hasan Azamgarhi Marhum Payam-e-sahar ban ke aana hai tum ko Chiragh-e-jahan ko jagana hai tum ko Jo mauj-e-hawadis se ghabra rahi hai Wo kashti kinare lagana hai tum ko Ye niche hain ta astana-e-tabassum Usul-e-tabassum sikhana hai tum ko Zamin-e-watan ke ziya-bar zarro Abhi Arsh par jagmagana hai tum ko Kiya hum ne abad jis sarzamin ko Use rashk-e-Jannat banana hai tum ko Jo jage the aur jag kar so gaye hain Unhein rafta rafta jagana hai tum ko Jo na-waqif-e-raz-e-hasti hain Mohsin Unhein raz-e-hasti batana hai tum ko Ay Husain ibn-e-Ali ke manne walo utho Hazrat Allama Hasan Azamgarhi Marhum Ay Husain ibn-e-Ali ke manne walo utho Safha-e-tarikh-e-mazi chhupane walo utho Sirr-e-ghurbat-e-Karbala ke jane walo utho Parcham-e-Shabbir ke pehchane walo utho Aajkal kuchh kashmakash is tarah aap khari mein hai Qaum ka kya tazkira, insaniyat mushkil mein hai
[ایک خالق، ایک قرآن، ایک امت، ایک رسول — جاری] گر یہی عالم رہا تو زندگی دشوار ہے یا علیؑ کہہ کر لگا دو ہاتھ، بیڑا پار ہے دور و شبِ غفلت میں گزرائیں گے یاد رکھو ایک دن چین چین کے مارے جائیں گے ٹھوکریں کھاتے پھرو گے، دیکھنا ہر گام پر بھیک بھی مانگے نہ پاؤ گے خدا کے نام پر سر پہ سورج آگیا، محسن بس اب ہشیار ہو تابشِ خوابِ گراں! بیدار ہو، بیدار ہو نوجوانوں سے خطاب حضرت علامہ حسن اعظم گڑھی مرحوم پیامِ سحر بن کے آنا ہے تم کو چراغِ جہاں کو جگانا ہے تم کو جو موجِ حوادث سے گھبرا رہی ہے وہ کشتی کنارے لگانا ہے تم کو یہ نیچے ہیں تا آستانۂ تبسم اصولِ تبسم سکھانا ہے تم کو زمینِ وطن کے ضیا بار ذرّو ابھی عرش پر جگمگانا ہے تم کو کیا ہم نے آباد جس سرزمیں کو اسے رشکِ جنت بنانا ہے تم کو جو جاگے تھے اور جاگ کر سوگئے ہیں انہیں رفتہ رفتہ جگانا ہے تم کو جو ناواقفِ رازِ ہستی ہیں محسن انہیں رازِ ہستی بتانا ہے تم کو اے حسین ابنِ علیؑ کے ماننے والو اٹھو حضرت علامہ حسن اعظم گڑھی مرحوم اے حسین ابنِ علیؑ کے ماننے والو اٹھو صفحۂ تاریخِ ماضی چھپانے والو اٹھو سرِ غربتِ کربلا کے جانے والو اٹھو پرچمِ شبیرؑ کے پہچانے والو اٹھو آجکل کچھ کشمکش اس طرح آپ کھڑی میں ہے قوم کا کیا تذکرہ، انسانیت مشکل میں ہے

431

Naujawanon se khitab — jari Tum agar chaho to duniya ho abhi zer-o-zabar Tum agar chaho to pani ho paharon ke jigar Manne wale ho kis ke, ye to hai tum ko khabar Apna parcham barh ke lehra do falak ke dosh par Nakhuda ban jao, kashti dal do manjhdhar mein Dasht ko gulshan bana do, gul khila do khar mein Han ye sach hai waqt ke sanche mein dhal sakte ho tum Qaum ki bigri hui qismat badal sakte ho tum Waqt-e-mushkil, Ya Ali keh kar sambhal sakte ho tum Rasta kya tegh ki dharon pe chal sakte ho tum Tabish-e-sakit rahoge kuchh to do aakhir jawab Qaum ke roshan sitaro, kab banoge aftab Ho chuke hain muzmahil aza, rawan darkar hai Waqt kehta hai ke mukhlis rahnuma darkar hai Nao hai tufan ki zad par, nakhuda darkar hai Azm-o-istiqlal-e-Shah-e-Karbala darkar hai Jurat-e-Abbas, Akbar ki jawani chahiye Nafs ki jis se taharat ho wo pani chahiye Behtar talim mil jul kar mitana chahiye Qaum ke ajza ko ek markaz pe lana chahiye Azm-e-Shabbir zamane ko dikhana chahiye Abhi zirah-ba-kaf maidan mein aana chahiye Dekhiye kya ho tijori ke dabaye phul do Sanat-o-hirfat ke har su karkhane khol do Azm ka darya bahe, mauj-e-tughyani na ho Mauj uthe lekin mizaj-e-mauj tufani na ho Wo banen hal-e-pareshan aur pareshani na ho Qissa-e-gham reh na jaye, baat tulani na ho Dasht hai Mohsin abhi dar-e-amal diye ho Sahiban-e-zauq se dad-e-sukhan lete ho
[نوجوانوں سے خطاب — جاری] تم اگر چاہو تو دنیا ہو ابھی زیر و زبر تم اگر چاہو تو پانی ہو پہاڑوں کے جگر ماننے والے ہو کس کے، یہ تو ہے تم کو خبر اپنا پرچم بڑھ کے لہرا دو فلک کے دوش پر ناخدا بن جاؤ، کشتی ڈال دو منجدھار میں دشت کو گلشن بنا دو، گل کھلا دو خار میں ہاں یہ سچ ہے وقت کے سانچے میں ڈھل سکتے ہو تم قوم کی بگڑی ہوئی قسمت بدل سکتے ہو تم وقتِ مشکل، یا علیؑ کہہ کر سنبھل سکتے ہو تم راستہ کیا تیغ کی دھاروں پہ چل سکتے ہو تم تابشِ ساکت رہو گے کچھ تو دو آخر جواب قوم کے روشن ستارو، کب بنو گے آفتاب ہو چکے ہیں مضمحل اعضاء رواں درکار ہے وقت کہتا ہے کہ مخلص رہنما درکار ہے ناؤ ہے طوفان کی زد پر، ناخدا درکار ہے عزم و استقلالِ شاہِ کربلا درکار ہے جرأتِ عباسؑ، اکبرؑ کی جوانی چاہیے نفس کی جس سے طہارت ہو وہ پانی چاہیے بہتر تعلیم مل جل کر مٹانا چاہیے قوم کے اجزاء کو اک مرکز پہ لانا چاہیے عزمِ شبیرؑ زمانے کو دکھانا چاہیے ابھی زرہ بکف میدان میں آنا چاہیے دیکھئے کیا ہو تجوری کے دبائے پھول دو صنعت و حرفت کے ہر سو کارخانے کھول دو عزم کا دریا بہے، موجِ طغیانی نہ ہو موج اٹھے لیکن مزاجِ موج طوفانی نہ ہو وہ بنیں حال پریشاں اور پریشانی نہ ہو قصۂ غم رہ نہ جائے، بات طولانی نہ ہو دشت ہے محسن ابھی درِ عمل دیئے ہو صاحبانِ ذوق سے دادِ سخن لیتے ہو

432

Salamat raho Ghaziyo tum jahan mein Hazrat Allama Hasan Azamgarhi Marhum Jahan-e-firasat ke tum hukmran ho Riyaz-e-sadaqat ke tum baghban ho Zamin-e-shujaat ke tum asman ho Aal-e-dua ke dil pasban ho Salamat raho Ghaziyo tum jahan mein Baqaya-e-nizam-e-ukhuwat hai tum se Zamane mein zinda sharafat hai tum se Buzurgan-e-zinda ki azmat hai tum se Gulistan-e-fitrat ke tum pasban ho Salamat raho Ghaziyo tum jahan mein Tumhin se hai ye azmat-e-jawedani Tumhin ho chiragh-e-rah-e-zindagani Ye juhd-e-musalsal, ye azm-e-jawani Futuhat shayad hain tum kamran ho Salamat raho Ghaziyo tum jahan mein Zuljanah / Allama Hasan Azamgarhi Marhum Tu haiwan hai magar be-rahm insanon se behtar hai Tera naqsh-e-qadam un ke gulistanon se behtar hai Tu wo markab hai jis se admi tarz-e-wafa sikhe Tera zikr-e-wafa batil ke insanon se behtar hai Pahunchein Nana ka kalima aur nawa-e-parcham tha main Tu haiwan hai magar un martaba-danon se behtar hai Zamane ki nigahon mein tu ek adna sa markab hai Magar namaiyat-andesh farzanon se behtar hai Husain ibn-e-Ali ki bazm ka har ek parwana Chiragh-e-mahfil-e-zulm ke parwanon se behtar hai Khusha qismat rah-e-Mazlum ke qadmon se wabasta Ye teri zindagi khuddar insanon se behtar hai Bachaye rawiye se markab-e-shamshir ka kehna Meri tishna-labi in tere paimanon se behtar hai Mera ye ek arman ka hasil, rah-e-Haq par gamzan hona Mera ye ek arman kitne armanon se behtar hai
سلامت رہو غازیو تم جہاں میں حضرت علامہ حسن اعظم گڑھی مرحوم جہانِ فراست کے تم حکمران ہو ریاضِ صداقت کے تم باغبان ہو زمینِ شجاعت کے تم آسماں ہو آلِ دعا کے دل پاسبان ہو سلامت رہو غازیو تم جہاں میں بقایائے نظامِ اخوت ہے تم سے زمانے میں زندہ شرافت ہے تم سے بزرگانِ زندہ کی عظمت ہے تم سے گلستانِ فطرت کے تم پاسبان ہو سلامت رہو غازیو تم جہاں میں تمہیں سے ہے یہ عظمتِ جاودانی تمہیں ہو چراغِ رہِ زندگانی یہ جہدِ مسلسل، یہ عزمِ جوانی فتوحات شاید ہیں تم کامران ہو سلامت رہو غازیو تم جہاں میں ذوالجناح / علامہ حسن اعظم گڑھی مرحوم تو حیواں ہے مگر بے رحم انسانوں سے بہتر ہے ترا نقشِ قدم ان کے گلستانوں سے بہتر ہے تو وہ مرکب ہے جس سے آدمی طرزِ وفا سیکھے ترا ذکر وفا باطل کے انسانوں سے بہتر ہے پہنچیں نانا کا کلمہ اور نوائے پرچم تھا میں تو حیواں ہے مگر ان مرتبہ دانوں سے بہتر ہے زمانے کی نگاہوں میں تو اک ادنیٰ سا مرکب ہے مگر نامائیت اندیش فرزانوں سے بہتر ہے حسین ابنِ علیؑ کی بزم کا ہر اک پروانہ چراغِ محفلِ ظلم کے پروانوں سے بہتر ہے خوشا قسمت رہِ مظلوم کے قدموں سے وابستہ یہ تیری زندگی خود دار انسانوں سے بہتر ہے بچائے رویے سے مرکبِ شمشیر کا کہنا مری تشنہ لبی ان تیرے پیمانوں سے بہتر ہے مرا یہ ایک ارماں کا حاصل، راہِ حق پر گامزن ہونا مرا یہ ایک ارماں کتنے ارمانوں سے بہتر ہے

433

Zuljanah — jari Jahan se zulm-o-istibdad ka farman jari ho Zamin-e-kam-sukhan aise aiwanon se behtar hai Ay Khomeini zinda-bad Rahi Jahangirabadi Marhaba, che kar kardi ay Khomeini zinda-bad Qaum ra bedar kardi ay Khomeini zinda-bad Natija-e-iman girafti-o-ba-naam-e-Kibriya Az samim-e-dil pukara kardi ay Khomeini zinda-bad Dast-e-Haq bar pusht-e-tu bud ay Haqi Haq-parast Batilaan ra khwar kardi ay Khomeini zinda-bad Qila-e-nakhwat ke muhkam ze sad-ha sal bud Tu hamin mismar kardi ay Khomeini zinda-bad Arsh-e-Shahanshah dar aish-o-takabbur ki guzasht Zindagi dushwar kardi ay Khomeini zinda-bad Buda-i dar alam-e-ghurbat magar az Badshah Qaum ra khabardar kardi ay Khomeini zinda-bad An mulk kar taht-e-khudi wadar gasht Phir an ra tu dar kardi ay Khomeini zinda-bad Jannat-e-khuran ke Shaddad-e-zaman tamir kard Afarin, tu nar kardi ay Khomeini zinda-bad Atish-e-Namrud-e-dauran bud har ja shola-bar Tu magar gulzar kardi ay Khomeini zinda-bad Quwwat-o-zor-e-Shahanshahi baghair-e-asliha Tu hamin be-kar kardi ay Khomeini zinda-bad Sahib-e-ilm-o-amal, ay Sahib-e-kirdar-o-azm Nist bad-kirdar kardi ay Khomeini zinda-bad Man tera khwaham bibinam kamran ba-tul-e-umr Ham chunin tu kar kardi ay Khomeini zinda-bad Naib-e-Mahdi-e-dauran, Qaid-o-Hadi-e-din Rah-e-Haq hamwar kardi ay Khomeini zinda-bad
[ذوالجناح — جاری] جہاں سے ظلم و استبداد کا فرمان جاری ہو زمینِ کم سخن ایسے ایوانوں سے بہتر ہے اے خمینیؒ زندہ باد راہی جہانگیر آبادی مرحبا، چه کار کردی اے خمینیؒ زندہ باد قوم را بیدار کردی اے خمینیؒ زندہ باد نتیجۂ ایماں گرفتی و بنامِ کبریا از صمیمِ دل پکارا کردی اے خمینیؒ زندہ باد دستِ حق بر پشتِ تو بود اے حقی حق پرست باطلاں را خوار کردی اے خمینیؒ زندہ باد قلعۂ نخوت کہ محکم ز صد ہا سال بود تو ہمیں مسمار کردی اے خمینیؒ زندہ باد عرشِ شاہنشاہ در عیش و تکبر کی گزشت زندگی دشوار کردی اے خمینیؒ زندہ باد بودہ ای در عالمِ غربت مگر از بادشاہ قوم را خبردار کردی اے خمینیؒ زندہ باد ان ملک کر تحتِ خودی وادار گشت پھر آن را تو دار کردی اے خمینیؒ زندہ باد جنتِ خوراں کہ شدادِ زماں تعمیر کرد آفرین، تو نار کردی اے خمینیؒ زندہ باد آتشِ نمرود دوراں بود ہر جا شعلہ بار تو مگر گلزار کردی اے خمینیؒ زندہ باد قوت و زورِ شہنشاہی بغیر اسلحہ تو همین بے کار کردی اے خمینیؒ زندہ باد صاحبِ علم و عمل، اے صاحبِ کردار و عزم نیست بد کردار کردی اے خمینیؒ زندہ باد من ترا خواہم ببینم کامراں با طولِ عمر ہم چنین تو کار کردی اے خمینیؒ زندہ باد نائبِ مہدیؑ دوران، قائد و ہادیِ دیں راہِ حق ہموار کردی اے خمینیؒ زندہ باد

434

Ay Khomeini zinda-bad — jari Tahniyat gar an qubul uftad, ba-izz-o-sharaf Marhaba, che kar kardi ay Khomeini zinda-bad Rahi-e-nail ke khu khwab bud ay rahbar Tu magar bedar kardi ay Khomeini zinda-bad (Rahi Sahib ne kalam Khomeini Sahib ko Iran mein pesh kiya) Ay Pak Watan Painda-bad (Maulana Syed Ahmad Husain Zaidi, Rahi Jahangirabadi) Lutf-o-karam-e-Rab-e-Akbar ay Pak Watan Painda-bad Allah ki qudrat ke mazhar ay Pak Watan Painda-bad Kyunke na kahun main khush ho kar ay Pak Watan Painda-bad Tu kitni duaon ka hai asar ay Pak Watan Painda-bad Isar-o-shahadat ke hasil, Tauhid-o-Nabuwwat ke hasil Ay quwwat-e-Din-e-Payambar ay Pak Watan Painda-bad Ay Pak zamin, ay Pakistan, ay bagh-e-tamanna-e-iman Kashana-e-Din-e-iman ke ghar ay Pak Watan Painda-bad Ay Shair-e-Mashriq ke maskan, ay Qaid-e-Azam ke gulshan Kis kis ki tu minnat ka hai samar ay Pak Watan Painda-bad Ghuncha jo tere Haq ka chatka, batil ki nigahon mein khatka Lekin hai karam-e-Haq ka tujh par ay Pak Watan Painda-bad Allah kare lakhon ne diya hai khun tujhe In koshishon ka tu hai jauhar ay Pak Watan Painda-bad Ay Rahi dua Allah se kar de Qaid-e-Azam sa rahbar Is se bhi kahun main phir behtar ay Pak Watan Painda-bad Man / Shair-e-Ahl-e-Bait Syed Safdar Ali Zaidi (U.A.E.) Jab Khuda se koi iltija kijiye apni maon ke Haq mein dua kijiye Farz hai un ki khidmat kiya kijiye, is mein hargiz na koi khata kijiye Kyunke ehsan man ne kiye is qadar, Haq ada kar nahin sakte hum umr bhar Dudh man ne apne hubb-e-Ali ghol kar ye pilati rahi hum ko Sham-o-sahar Us ne Allah kehna sikhaya hamein aur Muhammad hamein batlaya hamein Pani keh ke us ne uthaya hamein, god mein le ke Quran sunaya hamein
[اے خمینیؒ زندہ باد — جاری] تہنیت گر آن قبول افتد، بہ عز و شرف مرحبا، چه کار کردی اے خمینیؒ زندہ باد راہیِ نائل کہ خو خواب بود اے راہبر تو مگر بیدار کردی اے خمینیؒ زندہ باد (راہی صاحب نے کلام خمینی صاحب کو ایران میں پیش کیا) اے پاک وطن پائندہ باد (مولانا سید احمد حسین زیدی، راہی جہانگیر آبادی) لطف و کرمِ ربِ اکبر اے پاک وطن پائندہ باد اللہ کی قدرت کے مظہر اے پاک وطن پائندہ باد کیونکہ نہ کہوں میں خوش ہو کر اے پاک وطن پائندہ باد تو کتنی دعاؤں کا ہے اثر اے پاک وطن پائندہ باد ایثار و شہادت کے حاصل، توحید و نبوت کے حاصل اے قوتِ دینِ پیغمبر اے پاک وطن پائندہ باد اے پاک زمین، اے پاکستان، اے باغِ تمنائے ایماں کاشانۂ دینِ ایمان کے گھر اے پاک وطن پائندہ باد اے شاعرِ مشرق کے مسکن، اے قائدِ اعظم کے گلشن کس کس کی تو منت کا ہے ثمر اے پاک وطن پائندہ باد غنچہ جو تیرے حق کا چٹکا، باطل کی نگاہوں میں کھٹکا لیکن ہے کرمِ حق کا تجھ پر اے پاک وطن پائندہ باد اللہ کرے لاکھوں نے دیا ہے خون تجھے ان کوششوں کا تو ہے جوہر اے پاک وطن پائندہ باد اے راہی دعا اللہ سے کر دے قائدِ اعظمؒ سا رہبر اس سے بھی کہوں میں پھر بہتر اے پاک وطن پائندہ باد ماں / شاعرِ اہلِ بیت سید صفدر علی زیدی (U.A.E.) جب خدا سے کوئی التجا کیجئے اپنی ماؤں کے حق میں دعا کیجئے فرض ہے ان کی خدمت کیا کیجئے، اس میں ہرگز نہ کوئی خطا کیجئے کیونکہ احسان ماں نے کئے اس قدر، حق ادا کر نہیں سکتے ہم عمر بھر دودھ ماں نے اپنے حبِ علیؑ گھول کر یہ پلائی رہی ہم کو شام و سحر اس نے اللہ کہنا سکھایا ہمیں اور محمدؐ ہمیں بتلایا ہمیں پانی کہہ کے اس نے اٹھایا ہمیں، گود میں لے کے قرآن سنایا ہمیں

435

Man — jari Phir bataya kya hain Hasan-o-Husain, bete Bint-e-Nabi ke hain ye gulshan Jin ke dam se hain qaim zamin-o-zaman, wohi bakhshen hain, wohi bakhshen Naam barah Imamon ke batlaye, chaudah Masum bhi hum ko samjhaye Qalb un ki muhabbat ke darya se khalwat jane ke dikhlaye Panch tan Aal-e-Payambar din ke Qaid, se aisi Tauhid jumla se kam le Baad khatm-e-Nabuwwat imamat mile, wo imamat jo ta-ba-qayamat chale Panjgana namazon ka tohfa diya, Fajr aur Zuhr aur Asr, Maghrib, Isha Har Jumairat ko phir Hadis-e-Kisa parhe, sar par hamare use hum kya Majlison ke tabarruk ki khudi dua aur alam ke phere ki peshkash di Waqt-e-faisla khatm-o-idrak di, zikr ki badr-e-Shah-e-Laulak di Us ne Nad-e-Ali bhi sikhai hamein, rah-e-ilm-o-yaqin ki dikhai hamein Us ne di har dam rahnumai hamein, apne paon mein Jannat dikhai hamein Din ko us ne hum par ayan kar diya, Ya Ali keh ke dard-e-zaban kar diya Maqsad-e-zindagani bayan kar diya, Ya Ali keh ke dard-e-zaban kar diya Farz hai ye hamara bhi ay dosto, aulad ko kuchh wirsa ada hum se ho Ho sake jo bhi maon ki khidmat karo, un ki khatir jiyo un ki khatir maro Jis ki zinda hain man salamat rahen, wo salamat rahen man qayamat rahen Abidin ke wo ek rahat rahen, aaj bhi jo umr ke maon ki khidmat karen Gar nahin jin ki man zinda hon, kabhi jo chal un ki namaz qaza mein rahen Apne jitne bhi roze qaza hon rakhen, din zakat un ke badle ada karen Aap sab mil ke ab hum ye duaen karen, Rab se maon ko tu hamari Khuda Qabr mein un ki tanhai ko bacha, aur farishton ki pursish se un ko bacha Bakhsh de un ko tujh ko Nabi ki qasam, tujh ko Haider-o-Batul ki qasam Tujh ko Shabbir ka [ghair wazeh] ki qasam, tujh ko Zainab ki be-chadari ki qasam Tujh ko kanon se bahte lahu ki qasam, tujh ko chhe mah ke bachchon ki qasam Tujh ko Shabih-e-Nabi ki, Zainab-o-Khaibar pyas ki qasam Tujh ko Abbas ke bazuon ki qasam, nok-e-neza pe sare saron ki qasam Tujh ko Kufa-o-zindan ki qasam, tujh ko maqtal ke sare Hurron ki qasam Tujh ko bimar-e-Karb-o-bala ki qasam, tujh ko Sughra ki aah-o-buka ki qasam Umm-ul-Banin ke is Mustafa ki qasam, tujh ko Bint-e-Nabi Fatima ki qasam Tujh ko barish ki aur tujh ko suraj ki qasam, chala karoron ne jo man bahen ki qasam Tujh ko godi ki, is Hanzal ki qasam, tin ke dulha dulhan ki qasam Tujh ko baghon mein bantte zamin ki qasam, ek bhai ki bahen ki qasam Tujh ko Haramon ka yaum-e-gham, ek tishna-dahan be-watan ki qasam
[ماں — جاری] پھر بتایا کیا ہیں حسنؑ و حسینؑ، بیٹے بنتِ نبیؐ کے ہیں یہ گلشن جن کے دم سے ہیں قائم زمیں و زمن، وہی بخشیں ہیں، وہی بخشیں نام بارہ اماموں کے بتلائے، چودہ معصوم بھی ہم کو سمجھائے قلب ان کی محبت کے دریا سے خلوت جانے کے دکھلائے پانچ تن آلِ پیغمبر دیں کے قائد، سے ایسی توحید جمل سے کام لے بعد ختمِ نبوت امامت ملے، وہ امامت جو تا بہ قیامت چلے پنجگانہ نمازوں کا تحفہ دیا، فجر اور ظہر اور عصر، مغرب، عشا ہر جمعرات کو پھر حدیثِ کساء پڑھے، سر پر ہمارے اسے ہم کیا مجلسوں کے تبرک کی خودی دعا اور علم کے پھیرے کی پیشکش دی وقتِ فیصلہ ختم و ادارک دی، ذکر کی بدرِ شاہِ لولاک دی اس نے نادِ علیؑ بھی سکھائی ہمیں، راہِ علم و یقین کی دکھائی ہمیں اس نے دی ہر دم رہنمائی ہمیں، اپنے پاؤں میں جنت دکھائی ہمیں دین کو اس نے ہم پر عیاں کر دیا، یا علیؑ کہہ کے درد زباں کر دیا مقصدِ زندگانی بیاں کر دیا، یا علیؑ کہہ کے درد زباں کر دیا فرض ہے یہ ہمارا بھی اے دوستو، اولاد کو کچھ ورثہ ادا ہم سے ہو ہوسکے جو بھی ماؤں کی خدمت کرو، ان کی خاطر جیو ان کی خاطر مرو جس کی زندہ ہیں ماں سلامت رہیں، وہ سلامت رہیں ماں قیامت رہیں عابدین کے وہ ایک راحت رہیں، آج بھی جو عمر کے ماؤں کی خدمت کریں گر نہیں جن کی ماں زندہ ہوں، کبھی جو چل اُن کی نماز قضا میں رہیں اپنے جتنے بھی روزے قضا ہوں رکھیں، دین زکوٰۃ ان کے بدلے ادا کریں آپ سب مل کے اب ہم یہ دعائیں کریں، رب سے ماؤں کو تو ہماری خدا قبر میں ان کی تنہائی کو بچا، اور فرشتوں کی پرسش سے ان کو بچا بخش دے ان کو تجھ کو نبیؐ کی قسم، تجھ کو حیدرؑ کا و بتولؑ کی قسم تجھ کو شبیرؑ کا [غیر واضح] کی قسم، تجھ کو زینبؑ کی بے چادری کی قسم تجھ کو کانوں سے بہتے لہو کی قسم، تجھ کو چھ ماہ کے بچوں کی قسم تجھ کو شبیہِ نبیؐ کی، زینبؑ و خیبر پیاس کی قسم تجھ کو عباسؑ کے بازوؤں کی قسم، نوکِ نیزہ پہ سارے سروں کی قسم تجھ کو کوفہ و زنداں کی قسم، تجھ کو مقتل کے سارے حروں کی قسم تجھ کو بیمارِ کرب و بلا کی قسم، تجھ کو صغرا کی آہ و بکا کی قسم ام البنینؑ کے اس مصطفیٰ کی قسم، تجھ کو بنتِ نبیؐ فاطمہؑ کی قسم تجھ کو بارش کی اور تجھ کو سورج کی قسم، چلا کروڑوں نے جو ماں بہن کی قسم تجھ کو گودی کی، اس حنظل کی قسم، تین کے دولہا دلہن کی قسم تجھ کو باغوں میں بانٹتے زمیں کی قسم، ایک بھائی کی بہن کی قسم تجھ کو حرموں کا یومِ غم، اک تشنہ دہن بے وطن کی قسم

436

Man — jari Tujh ko Muslim ke do bachchon ki qasam, un ke rone ki aur siskiyon ki qasam Un ke zakhmi dil ki aahon ki qasam, un yatimon ke nile zakhmon ki qasam Har dam un ko bakhsh de Ya Rab, ke Zahra us ke ghar dekho Un ke daman ko khushiyon se bhar do, tu Bagh-e-Jannat mein aane ke har dam dekho Ay mere Karim, ay mere Karim, mere bakhsh Sughra ke man bap ki har khata Bakhsh de un ko jo kar gaye hain intiqal, tujh ko khud teri hi zat ka wasta Ashab the kya Abuzar-o-Salman-o-ghaira Syed Sibt Jafar Zaidi Ashab the kya Abuzar-o-Salman-o-ghaira Jo ban gaye Islam ki pehchan-o-ghaira Allah na kare koi ho is tarah Musalman The jaise Musalman Abu Sufyan-o-ghaira Elan anokha hai to mimbar bhi ho waisa Mangwane gaye is liye palan-o-ghaira Shaikh kaha, Maula kaha, Laula kaha phir bhi Hain munharif-o-Munkir-o-anjan-o-ghaira Haider se madad mangte hain dawai tha jin ka Hum ghair ka lene nahin ehsan-o-ghaira Mughlizate hain jo Fatima, Husain-o-Ali ko Sach hai un se to behtar Banu Najran-o-ghaira Shib-e-Abu Talib mein Khuda jane kahan the Bakr-o-Umar Hazrat Usman-o-ghaira Jis rah pe maujud hon pehle se wo Hazrat The is rah se Shaitan-o-ghaira Sukh ne charhaya jinhein parwan-o-ghaira Marwa gaye un ko wohi Marwan-o-ghaira Maula ki ziyarat ke marakiz hain yaqinan Musa ke liye turbat-o-mizan-o-ghaira Jo chahe saza dijiye ay Munkir-e-Haider Pul par na agar ho tera chalan-o-ghaira Ashab ki aapas mein muhabbat ke hain shayad Siffin-o-Jamal, Baiat-e-Rizwan-o-ghaira
[ماں — جاری] تجھ کو مسلم کے دو بچوں کی قسم، ان کے رونے کی اور سسکیوں کی قسم ان کے زخمی دل کی آہوں کی قسم، ان یتیموں کے نیلے زخموں کی قسم ہر دم ان کو بخش دے یا رب، کہ زہرا اس کے گھر دیکھو ان کے دامن کو خوشیوں سے بھر دو، تو باغِ جنت میں آنے کے ہر دم دیکھو اے مرے کریم، اے مرے کریم، میرے بخش صغرا کے ماں باپ کی ہر خطا بخش دے ان کو جو کر گئے ہیں انتقال، تجھ کو خود تیری ہی ذات کا واسطہ اصحاب تھے کیا بوذر و سلمان و غیرہ سید سبط جعفر زیدی اصحاب تھے کیا بوذرؓ و سلمانؓ و غیرہ جو بن گئے اسلام کی پہچان و غیرہ اللہ نہ کرے کوئی ہو اس طرح مسلماں تھے جیسے مسلماں ابو سفیان و غیرہ اعلان انوکھا ہے تو منبر بھی ہو ویسا منگوانے گئے اس لئے پالان و غیرہ شیخ کہا، مولا کہا، لولا کہا پھر بھی ہیں منحرف و منکر و انجان و غیرہ حیدرؑ سے مدد مانگتے ہیں دعوائی تھا جن کا ہم غیر کا لینے نہیں احسان و غیرہ مغلظاتے ہیں جو فاطمہؑ، حسینؑ و علیؑ کو سچ ہے ان سے تو بہتر بنو نجران و غیرہ شعبِ ابوطالبؑ میں خدا جانے کہاں تھے بکرؓ و عمرؓ حضرت عثمانؓ و غیرہ جس راہ پہ موجود ہوں پہلے سے وہ حضرت تھے اس راہ سے شیطان و غیرہ سوکھ نے چڑھایا جنہیں پروان و غیرہ مروا گئے ان کو وہی مروان و غیرہ مولا کی زیارت کے مراکز ہیں یقیناً موسیٰ کے لئے تربت و میزان و غیرہ جو چاہے سزا دیجئے اے منکرِ حیدرؑ پل پر نہ اگر ہو ترا چالان و غیرہ اصحاب کی آپس میں محبت کے ہیں شائد صفین و جمل، بیعتِ رضوان و غیرہ

437

Ashab the kya Abuzar-o-Salman-o-ghaira — jari Hain Aal-e-Muhammad ke sana-khwanon mein shamil Sab jinn-o-malak, qudsi-o-ghilman-o-ghaira Allah ho, Jibrail ho, Rahi hun kar Sibt Jafar hun, Farazdaq hun ke Hassan-o-ghaira Hajiyo mubarak ho Syed Sibt Jafar Zaidi Hajiyo mubarak ho tum Khuda ke ghar aaye Ki ziyarat Kaaba aur Haji kehlaye Jannat-ul-Baqia mein madfan jo qabren hain Un se faiz pate hain do jahan ke gharane Rauza-e-Rasul-e-Khuda, rashk-e-Jannat-ul-Firdaus Kash har Musalman ko Haq Taala dikhlaye Kya karunga itna ke bhant dunga apnon mein Ye jo shukr keh kar ghar janal mein sunaye Jite ji use Jannat mil gayi hai duniya mein Jis ko Kaaba-o-Taiba gali wala bulaye Makka aur Madina ke baad Sham aur Iran Phir Iraq bhi tum ko Kirdigar pahunchaye Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Sibt Jafar Kitne sunahre din the jabke hum gaye Madine Kitne suhane din the jab hum gaye Madine Phir hum Iraq-o-Sham aur Iran bhi gaye the Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Kitna karam tha mujh par Allah Mustafa ka Jab Muhammad-o-Naat-o-madhat un ko se kar raha tha Sarkar-e-Anbiya ki jab chadaron ko chuma Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Jab samne tha Kaaba, yani hamara Qibla Jab samne tha Rauza-e-Sarwar-e-Anbiya ka Asar-e-Panjtan the aur Jannat-ul-Baqia Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Iran-o-Sham ho kar hum Karbala mein pahunche Phir Kazimain ho kar hum Samarra mein pahunche Phir Najaf Diyar-e-Sher-e-Khuda mein pahunche Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre
[اصحاب تھے کیا بوذر و سلمان و غیرہ — جاری] ہیں آلِ محمدؐ کے ثنا خوانوں میں شامل سب جن و ملک، قدسی و غلمان و غیرہ اللہ ہو، جبرئیل ہو، راہی ہوں کر سبط جعفر ہوں، فرزدق ہوں کہ حسانؓ و غیرہ حاجیو مبارک ہو سید سبط جعفر زیدی حاجیو مبارک ہو تم خدا کے گھر آئے کی زیارت کعبہ اور حاجی کہلائے جنت البقیعہ میں مدفن جو قبریں ہیں ان سے فیض پاتے ہیں دو جہاں کے گھرانے روضۂ رسولؐ خدا، رشکِ جنت الفردوس کاش ہر مسلماں کو حق تعالیٰ دکھلائے کیا کروں گا اتنا کہ بھانت دوں گا اپنوں میں یہ جو شکر کہہ کر گھر جنال میں سنائے جیتے جی اسے جنت مل گئی ہے دنیا میں جس کو کعبہ و طیبہ گلی والا بلائے مکہ اور مدینہ کے بعد شام اور ایران پھر عراق بھی تم کو کردگار پہنچائے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے سبط جعفر کتنے سنہرے دن تھے جب کہ ہم گئے مدینے کتنے سہانے دن تھے جب ہم گئے مدینے پھر ہم عراق و شام اور ایران بھی گئے تھے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے کتنا کرم تھا مجھ پر اللہ مصطفیٰؐ کا جب محمدؐ و نعت و مدحت ان کو سے کر رہا تھا سرکارِ انبیا کی جب چادروں کو چوما راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے جب سامنے تھا کعبہ، یعنی ہمارا قبلہ جب سامنے تھا روضۂ سرورِ انبیا کا آثارِ پنجتن تھے اور جنت البقیعہ راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے ایران و شام ہو کر ہم کربلا میں پہنچے پھر کاظمین ہو کر ہم سامرہ میں پہنچے پھر نجف دیارِ شیرِ خدا میں پہنچے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے

438

Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre — jari Pahunchun Najaf Madain kab the nasib aise Allah ka karam tha jo hum Iraq pahunche Bikhre hue the har su Maula ke mere jalwe Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Pur-nur kitne chehre, Aal-e-Hakim ke the Fayyaz-o-Sistani ke dekhe chehre Aur wo Shabbir Najafi ke zordar khutbe Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Bibi ki ziyarat-e-Kufa bhi dekh aaye Doliyon ki ziyarat jaldi bhi dekh aaye Ki Sham ki ziyarat, Sayyida bhi dekh aaye Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Aao ay Sibt Jafar yadon ko taza kar len Tohfa ankhon ko phir se azda kar len Hum bhulne na payen ye yaden aur baten Raten thin kya suhani, kitne the din sunahre Dua / Engineer Sajid Raza Haideri Ya Ilahi! Teri inayat se band tu ne hain rizq-o-afat ke Ay ke wo jis ka ulfat-o-karam karta hai sari mushkilat ko kam Sab ka Aqa tu hi Ilahi hai, tu ne sab ki farakhi chahi hai Har pareshani-o-musibat se tu bachata hai apni qudrat se Tu ne Ya Rab banaye asbab band the bab-o-khule arbab Tu ne Allah apni izzat se kiya naz faqat ko qudrat se Teri marzi pe chal raha hai jahan, teri rahmat mein pal raha hai jahan Jo bhi shai hai teri mashiyyat se, apni ja par hai teri qudrat se Dur farmaen afatain tu ne, sahl farmaen mushkilein tu ne Tu hai laiq tujhe pukara jaye, mushkilein dur karne tu aa jaye Rukh-o-gulfat mein har musibat mein tu hai banaye panah afat mein Tu na chahe to amal nahin sakta, koi tadbir chal nahin sakti Kis ko manzil mili hai tere baghair, andar na mushkil mili hai tere baghair Batlaye mila hun ay Malik, sakhtiyon mein ghira hun ay Malik
[راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے — جاری] پہنچوں نجف مدائن کب تھے نصیب ایسے اللہ کا کرم تھا جو ہم عراق پہنچے بکھرے ہوئے تھے ہر سو مولا کے میرے جلوے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے پر نور کتنے چہرے، آلِ حکیم کے تھے فیاض و سیستانی کے دیکھے چہرے اور وہ شبیر نجفی کے زوردار خطبے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے بی بی کی زیارتِ کوفہ بھی دیکھ آئے دولیوں کی زیارت جلدی بھی دیکھ آئے کی شام کی زیارت، سیدہ بھی دیکھ آئے راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے آؤ اے سبط جعفر یادوں کو تازہ کرلیں تحفہ آنکھوں کو پھر سے آزدہ کرلیں ہم بھولنے نہ پائیں یہ یادیں اور باتیں راتیں تھیں کیا سہانی، کتنے تھے دن سنہرے دعا / انجینئر ساجد رضا حیدری یا الٰہی! تری عنایت سے بند تو نے ہیں رزق و آفت کے اے کہ وہ جس کا الفت و کرم کرتا ہے ساری مشکلات کو کم سب کا آقا تو ہی الٰہی ہے، تو نے سب کی فراخی چاہی ہے ہر پریشانی و مصیبت سے تو بچاتا ہے اپنی قدرت سے تو نے یارب بنائے اسباب بند تھے باب و کھلے ارباب تو نے اللہ اپنی عزت سے کیا ناز فقط کو قدرت سے تیری مرضی پہ چل رہا ہے جہاں، تیری رحمت میں پل رہا ہے جہاں جو بھی شے ہے تیری مشیت سے، اپنی جا پر ہے تیری قدرت سے دور فرمائیں آفتیں تو نے، سہل فرمائیں مشکلیں تو نے تو ہے لائق تجھے پکارا جائے، مشکلیں دور کرنے تو آ جائے رخ و گلفت میں ہر مصیبت میں تو ہے بنائے پناہ آفت میں تو نہ چاہے تو عمل نہیں سکتا، کوئی تدبیر چل نہیں سکتی کس کو منزل ملی ہے تیرے بغیر، اندر نہ مشکل ملی ہے تیرے بغیر بتلائے ملا ہوں اے مالک، سختیوں میں گھرا ہوں اے مالک

439

Dua — jari Marhala aisa aa gaya hai bara, meri taqat se jo hua hai bara Tu ne dala hai is musibat ko, tu ne qadir kiya hai afat ko Iqtidar-e-Azim se Ya Rab! Iqtidar-e-Karim se Ya Rab! Jis pe Malik tu dal de afat, koi kis tarah tal de afat Munh to jo teri taraf phir sakta hai, kaun apni taraf Band dar tu kar de to khole kaun, gar tu dushwar kar de ay Malik Phir le mujh se gar nazar Ya Rab, kaise ho zindagi basar Ya Rab Bhej rahmat Muhammad par, barkaten un ki Aal-e-Athar par Mujh pe nazr-e-karam tu farma de, dur ranj-o-alam tu farma de Jis mein mujh pe teri nazil hon, meri sab hajaten bhi hasil hon Ranjon ki nazar tu farma de, dur khauf-o-khatar tu farma de Kar de har ranj-o-gham ko dur Rahim, rahm kar tu hi hai Ghafur-o-Rahim De Ilahi aman musibat se, rakh na tu dur apni itaat se Silsila zikr ka na torun main, teri rassi kabhi na chhorun main Sakhtiyat mein na ghaflat ho, ada mujh se teri rahmat ho Ranj zyada hain meri taqat se, dil hai maghmum dard-o-afat se Tu hi qadir hai, rahm wala tu, ranj-o-gham se bachane wala tu Kar ata ay Qadir! Qudrat se, bhik taqdir apni rahmat se Mere Malik! Syed Sibt Jafar Zaidi (Khana-e-Kaaba ke samne kahe gaye ashar) Mujh ko aate nahin adab-e-tashakkur Khuda Mere Malik tu bata shukr karun kaise ada? Tere altaf ki Malik na koi had na shumar Rab-ul-Izzat tu bana de mujhe rah-e-raza Main to is ka bhi na tha Ahl ke tu ne jo tu ne diya Phir bhi Malik jo mujhe karna hai wo kar de ata Tu ne paida kiya insan phir iman diya Dekhe iqan nahin Sahib-e-Irfan kiya Rahnumai ke liye Hadi-e-Kamil bheja Sirf Quran hi nahin Sahib-e-Quran bhi diya Hum ko Tauhid-o-Risalat ka parhaya kalima Apne ghar Khana-e-Kaaba ko banaya Qibla
[دعا — جاری] مرحلہ ایسا آگیا ہے بڑا، میری طاقت سے جو ہوا ہے بڑا تو نے ڈالا ہے اس مصیبت کو، تو نے قادر کیا ہے آفت کو اقتدارِ عظیم سے یارب! اقتدارِ کریم سے یارب! جس پہ مالک تو ڈال دے آفت، کوئی کس طرح ٹال دے آفت منہ تو جو تیری طرف پھر سکتا ہے، کون اپنی طرف بند در تو کردے تو کھولے کون، گر تو دشوار کردے اے مالک پھر لے مجھ سے گر نظر یارب، کیسے ہو زندگی بسر یارب بھیج رحمت محمدؐ پر، برکتیں ان کی آلِ اطہر پر مجھ پہ نظرِ کرم تو فرمادے، دور رنج و الم تو فرمادے جس میں مجھ پہ تیری نازل ہوں، میری سب حاجتیں بھی حاصل ہوں رنجوں کی نظر تو فرمادے، دور خوف و خطر تو فرمادے کردے ہر رنج و غم کو دور رحیم، رحم کر تو ہی ہے غفور و رحیم دے الٰہی اماں مصیبت سے، رکھ نہ تو دور اپنی طاعت سے سلسلہ ذکر کا نہ توڑوں میں، تیری رسی کبھی نہ چھوڑوں میں سختیات میں نہ غفلت ہو، ادا مجھ سے تیری رحمت ہو رنج زیادہ ہیں میرے طاقت سے، دل ہے مغموم درد و آفت سے تو ہی قادر ہے، رحم والا تو، رنج و غم سے بچانے والا تو کر عطا اے قدیر! قدرت سے، بھیک تقدیر اپنی رحمت سے میرے مالک! سید سبط جعفر زیدی (خانۂ کعبہ کے سامنے کہے گئے اشعار) مجھ کو آتے نہیں آدابِ تشکر خدا میرے مالک تو بتا شکر کروں کیسے ادا؟ تیرے الطاف کی مالک نہ کوئی حد نہ شمار ربِ العزت تو بنا دے مجھے راہِ رضا میں تو اس کا بھی نہ تھا اہل کہ تو نے جو تو نے دیا پھر بھی مالک جو مجھے کرنا ہے وہ کردے عطا تو نے پیدا کیا انسان پھر ایمان دیا دیکھے ایقان نہیں صاحبِ عرفان کیا رہنمائی کیلئے ہادیِ کامل بھیجا صرف قرآن ہی نہیں صاحبِ قرآن بھی دیا ہم کو توحید و رسالت کا پڑھایا کلمہ اپنے گھر خانۂ کعبہ کو بنایا قبلہ

440

Mere Malik — jari Peshwai ke liye hum ko wo rahbar bakhshe Jin ka sani na jahan mein koi hoga na hua Hum ko Sadat bana kar diya achchha mahaul Achchhe man bap diye achchhe aqraba-o-rufaqa Qabr ke hum ko sawalat-o-jawabat bataye Hum ko dikhlaya farudon ka sidha rasta Talab-e-ilm ki taufiq di aur rizq-e-halal Aur makhluq se milne ka saliqa bakhsha Kaun Shaitan hai, kin logon se bachna hai hamein Ye bhi batlaya tu kin baton se hota hai khata Ho jo naraz to phir kaise manayen tujh ko Ta dam-e-marg rakha tauba ka darwaza khula Sibt Jafar pe izafi ye karam tu ne kiya Shukr-e-nemat ka shuur aur di taufiq-e-sana Nusrat-e-Hazrat-e-Hujjat ki saadat ho ata Sibt Jafar ki hai bas aakhri tujh se ye dua Ba-munasibat wiladat Janab Sakina / Sibt Jafar Shahr-e-din ki dukhtar-e-Janab Sakina hain Mahbub-e-Dawar, Janab Sakina Tumhare hain ajdad Fakhr-e-do-alam, tumhare hain Shabbir, Janab Sakina Hain Dadi tumhari do alam ki malika, to Dada hain Haider, Janab Sakina Tumhari hai Shahzadi, aulad-e-alam ki sari tumhari, Janab Sakina Hai duniya mein maskan mujahid sipahi tumhara hi manzar, Janab Sakina Wiladat ki khushiyan mana to rahe hain magar dil hai muztar, Janab Sakina Kyun chashm-e-nam to ankhon mein ansu ajab hai ye manzar, Janab Sakina Tumhara kahan tak Sham tak Sham-e-Ghariban se safar hai, Janab Sakina Hain awaragan-e-hijrat tumhare hi ghar, Janab Sakina Tumhare gharane ka mamnun-e-ehsan hai Din-e-Payambar, Janab Sakina Ye din aur ummat hi kya jab karamon se khud Rab-e-Akbar, Janab Sakina Wo duniya to hoga khula, jis ne hoga tumhara muqaddar, Janab Sakina Bari Aqa-zadi, Imam-e-Zamana bhi roye hain tum par, Janab Sakina Do alam mein siyahi mere pe rahi banda-parwar, Janab Sakina Tumhari inayat parha main ne nauha tumhari liye par, Janab Sakina Mujhe bhul mat jana waqt-e-shafaat, main hun Sibt Jafar, Janab Sakina
[میرے مالک — جاری] پیشوائی کیلئے ہم کو وہ رہبر بخشے جن کا ثانی نہ جہاں میں کوئی ہوگا نہ ہوا ہم کو سادات بنا کر دیا اچھا ماحول اچھے ماں باپ دیئے اچھے اقربا و رفقا قبر کے ہم کو سوالات و جوابات بتائے ہم کو دکھلایا فرودوں کا سیدھا رستہ طلبِ علم کی توفیق دی اور رزقِ حلال اور مخلوق سے ملنے کا سلیقہ بخشا کون شیطان ہے، کن لوگوں سے بچنا ہے ہمیں یہ بھی بتلایا تو کن باتوں سے ہوتا ہے خطا ہو جو ناراض تو پھر کیسے منائیں تجھ کو تا دمِ مرگ رکھا توبہ کا دروازہ کھلا سبط جعفر پہ اضافی یہ کرم تو نے کیا شکر نعمت کا شعور اور دی توفیقِ ثنا نصرتِ حضرتِ حجتؑ کی سعادت ہو عطا سبط جعفر کی ہے بس آخری تجھ سے یہ دعا بمناسبت ولادت جناب سکینہؑ / سبط جعفر شہر دیں کی دخترِ جناب سکینہؑ ہیں محبوبِ داور، جناب سکینہؑ تمہارے ہیں اجداد فخرِ دو عالمؐ، تمہارے ہیں شبیرؑ، جناب سکینہؑ ہیں دادی تمہاری دو عالم کی ملکہ، تو دادا ہیں حیدرؑ، جناب سکینہؑ تمہاری ہے شہزادی، اولادِ عالم کی ساری تمہاری، جناب سکینہؑ ہے دنیا میں مسکن مجاہد سپاہی تمہارا ہی منظر، جناب سکینہؑ ولادت کی خوشیاں منا تو رہے ہیں مگر دل ہے مضطر، جناب سکینہؑ کیوں چشمِ نم تو آنکھوں میں آنسو عجب ہے یہ منظر، جناب سکینہؑ تمہارا کہاں تک شام تک شامِ غریباں سے سفر ہے، جناب سکینہؑ ہیں آوارگانِ ہجرت تمہارے ہی گھر، جناب سکینہؑ تمہارے گھرانے کا ممنون احساں ہے دینِ پیمبرؐ، جناب سکینہؑ یہ دین اور امت ہی کیا جب کرموں سے خود ربِ اکبر، جناب سکینہؑ وہ دنیا تو ہوگا کھلا، جس نے ہوگا تمہارا مقدر، جناب سکینہؑ بری آقا زادی، امامِ زمانہ بھی روئے ہیں تم پر، جناب سکینہؑ دو عالم میں سیاہی میرے پہ رہی بندۂ پرور، جناب سکینہؑ تمہاری عنایت پڑھا میں نے نوحہ تمہاری لئے پر، جناب سکینہؑ مجھے بھول مت جانا وقتِ شفاعت، میں ہوں سبط جعفر، جناب سکینہؑ

441

Shairi / Maulana Rahi Ye sifat mein shohrat ki hawa kisi chali hai Kuchh ho ke na ho hum ne magar shairi ki hai Shair hain magar shairi ke ilm se azad Kehte hain ke wasl to kya chiz rawi hai Kya wazn kisi lafz ka hai aur mahal kya Kis ja wazni hai koi kis ja sahih hai Jab qafiya-paimai mein aaye to na dekha Ita-e-jali hai ke ye ita-e-khafi hai Kya husn hai alfaz ki tartib mein kya aib Tarkib-e-izafi hai, bayan ya nafi hai Kuchh fikr zaruri hai na kuchh ilm zaruri Kuchh bhi na sahi sifat mein shohrat to hui hai Kuchh Ahl-e-Kalam aise bhi aaye hain nazm mein Khud bhi na samajh payen ke kya baat kahi hai Maruf ko tarannum se kar angusht-numa pao Aur in mein sheron ke jo koi ghalti hai Pichhlwa hua bazm mein ek paye ka shair Bechare ki wo bazm hi ab charagari hai Maujud radif is mein hua aur qafiya ghaib Wo nazm bhi mahfil mein kabhi hum ne suni hai Ghairon ki sunate hain ghazal apni bata kar Is par ye dhitai ke abhi taza kahi hai Zahir ye hua hai kabhi andaz-e-ada se Chori ki hai ya likh kar kisi aur ne di hai Jo bazm-e-adib aise hi afrad ki hogi Is bazm mein jana bhi mere be-adabi hai Han madhat-e-Masum mein ba-jazba-e-taqwa Lekin koi dare parhe baat bhali hai Kehlate hain jo Ahl-e-Adab un ki bhi suniye Na-Haq jo kuchh baat wohi baat bani hai Alfaz hon be-nazm to kehlati hai wo nazm Duniya ke adibon ne bhi kya khub ghari hai
شاعری / مولانا راہی یہ صفت میں شہرت کی ہوا کسی چلی ہے کچھ ہو کہ نہ ہو ہم نے مگر شاعری کی ہے شاعر ہیں مگر شاعری کے علم سے آزاد کہتے ہیں کہ وصل تو کیا چیز روی ہے کیا وزن کسی لفظ کا ہے اور محل کیا کس جا وزنی ہے کوئی کس جا صحیح ہے جب قافیہ پیمائی میں آئے تو نہ دیکھا ایطائے جلی ہے کہ یہ ایطائے خفی ہے کیا حسن ہے الفاظ کی ترتیب میں کیا عیب ترکیب اضافی ہے، بیان یا نفی ہے کچھ فکر ضروری ہے نہ کچھ علم ضروری کچھ بھی نہ سہی صفت میں شہرت تو ہوئی ہے کچھ اہلِ کلام ایسے بھی آئے ہیں نظم میں خود بھی نہ سمجھ پائیں کہ کیا بات کہی ہے معروف کو ترنم سے کر انگشتِ نما پاؤ اور ان میں شعروں کے جو کوئی غلطی ہے پچھلوا ہوا بزم میں اک پائے کا شاعر بے چارے کی وہ بزم ہی اب چارہ گری ہے موجود ردیف اس میں ہوا اور قافیہ غائب وہ نظم بھی محفل میں کبھی ہم نے سنی ہے غیروں کی سناتے ہیں غزل اپنی بتا کر اس پر یہ ڈھٹائی کہ ابھی تازہ کہی ہے ظاہر یہ ہوا ہے کبھی اندازِ ادا سے چوری کی ہے یا لکھ کر کسی اور نے دی ہے جو بزم ادیب ایسے ہی افراد کی ہوگی اس بزم میں جانا بھی مرے بے ادبی ہے ہاں مدحتِ معصوم میں با جذبۂ تقویٰ لیکن کوئی ڈرے پڑھے بات بھلی ہے کہلاتے ہیں جو اہلِ ادب ان کی بھی سنیے ناحق جو کچھ بات وہی بات بنی ہے الفاظ ہوں بے نظم تو کہلاتی ہے وہ نظم دنیا کے ادیبوں نے بھی کیا خوب گھڑی ہے

442

Shairi — jari Ho ghair-shuuri to use kehte hain sab sher Jo ba-shuuri hai wohi husn-e-sukhan hai Tarjuma ghalat ho to wo talil ka hai husn Mumkin jo na ho sher mein mumkin wo hui hai Kya aur kahun bazm ye jis tarah hai aaj Is tarah ke misre mein bhi kuchh baat yahi hai Taswir ko dekha na Rasul-e-Arabi ko Kuchh bhi ho isi tarah pe kehna jo mili hai Dekha ho na dekha ho magar bazm mein keh do Wallah ye taswir Rasul-e-Arabi hai Pahuncha tha yahan tak to kaha dil ne ke Rahi Is rah pe aa ja jo teri rah rahi hai Salam / Muhtaram Muin Zaidi Kyun zill Ahl-e-Jahan ko hai agar shart-e-wafa meri ibadat mein hai Ism-e-ghair to wo harf-e-dua hai, jo Anajil mein Taurat mein hai Hum ne dekha hai badalte hue riqqat ko ba-yak junbish-e-abru-e-Husain Haye kya kaifiyat-e-jazb-o-kashish hai ke jo is chashm-e-karamat mein hai Sare khasan-e-Khuda apni jabinon pe raqam karte hain is khak ka naam Khun-e-peshani-e-Sibt-e-Shah-e-Laulak ka naqsh kisi zat mein hai Shani mar Haider-e-Karrar ki be-kar ne tarikh ka rukh mor diya Gardish-e-dahr zara thehar, Husain ibn-e-Ali khaima-e-matam mein hai Dekh le nawak se Shabih-e-tir-o-bala na ho jayen kahin arz-o-sama Ek man jhule ko sine se lagaye hue gham apne khayalat mein hai Shimr ne ye qasid-e-safari se kaha bachcha ja kar meri beti ko payam Tera Baba ba-hadaf-e-jaur-o-jafa, qatl-gah-e-gardish-e-halat mein hai
[شاعری — جاری] ہو غیر شعوری تو اسے کہتے ہیں سب شعر جو باشعوری ہے وہی حسنِ سخن ہے ترجمہ غلط ہو تو وہ تعلیل کا ہے حسن ممکن جو نہ ہو شعر میں ممکن وہ ہوئی ہے کیا اور کہوں بزم یہ جس طرح ہے آج اس طرح کے مصرعے میں بھی کچھ بات یہی ہے تصویر کو دیکھا نہ رسولِ عربیؐ کو کچھ بھی ہو اسی طرح پہ کہنا جو ملی ہے دیکھا ہو نہ دیکھا ہو مگر بزم میں کہہ دو واللہ یہ تصویر رسولِ عربیؐ ہے پہنچا تھا یہاں تک تو کہا دل نے کہ راہی اس راہ پہ آجا جو تری راہ رہی ہے سلام / محترم معینم زیدی کیوں ظلّ اہل جہاں کو ہے اگر شرط وفا میری عبادات میں ہے اسمِ غیر تو وہ حرفِ دعا ہے، جو اناجیل میں تورات میں ہے ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے رقت کو بیک جنبشِ ابروئے حسینؑ ہائے کیا کیفیتِ جذب و کشش ہے کہ جو اس چشمِ کرامات میں ہے سارے خاصانِ خدا اپنی جبینوں پہ رقم کرتے ہیں اس خاک کا نام خونِ پیشانیِ سبطِ شہِ لولاک کا نقش کسی ذات میں ہے شانی مر حیدرِ کرار کی بیکار نے تاریخ کا رخ موڑ دیا گردشِ دہر ذرا ٹھہر، حسین ابنِ علیؑ خیمۂ ماتم میں ہے دیکھ لے ناوک سے شبیہِ تیر و بالا نہ ہو جائیں کہیں ارض و سما ایک ماں جھولے کو سینے سے لگائے ہوئے غم اپنے خیالات میں ہے شمر نے یہ قاصد صفری سے کہا بچہ جا کر مری بیٹی کو پیام تیرا بابا بہدفِ جور و جفا، قتل گہِ گردشِ حالات میں ہے

443

Wasila-e-Hayat (Man, Bap) Muhtaram Syed Naveshta Raza, Raza Sarwari Sahib nazm Maut ki aghosh mein jab tak so jati hai man Tab kahin ja kar Raza thora sukun pati hai man Fikr mein bachchon ki kuchh is tarah ghul jati hai man Naujawan hote hue burhi nazar aati hai man Ruh hoti hai hazar to nosanda kafan Chahaton ka pairahan bachche ko pehnati hai man Ek ek hasrat ko apne azm-o-istiqlal se Ansuon se ghusl de kar khud hi dafnati hai man Khankna rahe hi nahin deti tiron ko kabhi Jane kis kis se, kahan se mang kar lati hai man Ruh ke rishton ki ye gehrayian to dekhiye Chot lagti hai hamare aur chillati hai man Jab khilonon ko machalta hai koi ghurbat ka phul Ansuon ke saz par bachche ko bahlati hai man Muflisi bachche ki zid par jab uthati hai hath Jaise ho jurm koi is tarah sharmati hai man Kab zarurat ho meri bachche ko, itna soch kar Jagti rehti hain ankhen aur so jati hai man Pehle bachchon ko khilati hai sukun-o-chain se Baad mein jo kuchh bacha wo shauq se khati hai man Mangti hi kuchh nahin apne liye Allah se Apne bachchon ke liye daman ko phailati hai man De ke ek bimar bachche ko duaen aur dawa Pani hi rakh ke sar qadmon pe so jati hai man Jane kitni barf ki raton mein aisa bhi hua Bachcha to chhati pe hai, gile mein so jati hai man Jane anjane mein ho jaye jo bachche se qusur Ek anjani saza ke dar se tharrati hai man Ek ek hamle se bachche ko bachane ke liye Dhal banti hai kabhi talwar ban jati hai man Samne bachchon ke khush rehti hai har ek hal mein Raat ko chup-chap ke lekin ashk barsati hai man
وسیلۂ حیات (ماں، باپ) محترم سید نوشتہ رضا، رضا سروری صاحب نظم موت کی آغوش میں جب تک سوجاتی ہے ماں تب کہیں جا کر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گھل جاتی ہے ماں نوجوان ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں روح ہوتی ہے حضر تو نوسندہ کفن چاہتوں کا پیرہن بچے کو پہناتی ہے ماں ایک ایک حسرت کو اپنے عزم و استقلال سے آنسوؤں سے غسل دے کر خود ہی دفناتی ہے ماں کھنکنا رہے ہی نہیں دیتی تیروں کو کبھی جانے کس کس سے، کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں جب کھلونوں کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں مفلسی بچے کی ضد پر جب اٹھاتی ہے ہاتھ جیسے ہو جرم کوئی اس طرح شرماتی ہے ماں کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سوجاتی ہے ماں پہلے بچوں کو کھلاتی ہے سکون و چین سے بعد میں جو کچھ بچا وہ شوق سے کھاتی ہے ماں مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لئے اللہ سے اپنے بچوں کے لئے دامن کو پھیلاتی ہے ماں دے کے اک بیمار بچے کو دعائیں اور دوا پانی ہی رکھ کے سر قدموں پہ سوجاتی ہے ماں جانے کتنی برف کی راتوں میں ایسا بھی ہوا بچہ تو چھاتی پہ ہے، گیلے میں سوجاتی ہے ماں جانے انجانے میں ہو جائے جو بچے سے قصور ایک انجانی سزا کے ڈر سے تھراتی ہے ماں ایک اک حملے سے بچے کو بچانے کے لئے ڈھال بنتی ہے کبھی تلوار بن جاتی ہے ماں سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر اک حال میں رات کو چپ چاپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں

444

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Chahe hum khushiyon mein man ko bhul jayen dosto! Jab musibat sar pe aati hai to yaad aati hai man Baten karti hai jo bachche ko lita kar god mein Phul se jharte hain munh se aise lagti hai man Apna rakha aulad ko zahir kabhi karti nahin Dekh kar khamosh bachche ko tarap jati hai man Umr bhar rote hain wo man ki ziyarat ke liye Jin ke aate hi jahan se khud chali jati hai man Baad-e-ghurbat zindagi mein aish-o-ishrat jab mile Bas Khuda hi janta hai kitna yaad aati hai man Gar hi deta hai achanak, nazar aata hai kam Muskurati hai kabhi khamosh reh jati hai man Khane khilwa kar kabhi aghosh ka pala gaya Ya Ali Maula madad kehti hui aati hai man Jane kaisa rabt hai man aur Ali ke darmiyan "Ya Ali" bachcha pukare, aur aa jati hai man Paida hote hi taras payen jo man ke pyar ko Dekh kar auron ki maen un ko yaad aati hai man Zindagi mein qadr jo man bap ki karte nahin Umr bhar aise khatakaron ko tarpati hai man Man ke marte hi jo Abba dusri shadi karen Zulm par sauteli man ke roz yaad aati hai man Kar ke shadi dusri ho jaye jo shauhar alag Khun ki ek ek bund bachchon ko pilati hai man Bhuk se majbur ho kar mehman ke samne Mangte hain bachche jab roti to sharmati hai man Apne anchal se gulabi ansuon ko ponchh kar Der tak ghurbat pe apni ashk barsati hai man Sab ko deti hai sukun aur khud ghamon ki dhoop mein Rafta rafta barf ki surat pighal jati hai man Bachcha aaya ko diya, aur khud kalb ko chil pres Bhuka bachcha jab awara to jhunjhlati hai man Duron ki godiyon mein parwarish jin ki hui Aise bachchon ki muhabbat ko taras jati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو! جب مصیبت سر پہ آتی ہے تو یاد آتی ہے ماں باتیں کرتی ہے جو بچے کو لٹا کر گود میں پھول سے جھڑتے ہیں منہ سے ایسے لگتی ہے ماں اپنا رکھا اولاد کو ظاہر کبھی کرتی نہیں دیکھ کر خاموش بچے کو تڑپ جاتی ہے ماں عمر بھر روتے ہیں وہ ماں کی زیارت کے لئے جن کے آتے ہی جہاں سے خود چلی جاتی ہے ماں بعدِ غربت زندگی میں عیش و عشرت جب ملے بس خدا ہی جانتا ہے کتنا یاد آتی ہے ماں گر ہی دیتا ہے اچانک، نظر آتا ہے کم مسکراتی ہے کبھی خاموش رہ جاتی ہے ماں کھانے کھلوا کر کبھی آغوش کا پالا گیا یا علیؑ مولا مدد کہتی ہوئی آتی ہے ماں جانے کیسا ربط ہے ماں اور علیؑ کے درمیان "یا علیؑ" بچہ پکارے، اور آجاتی ہے ماں پیدا ہوتے ہی ترس پائیں جو ماں کے پیار کو دیکھ کر اوروں کی مائیں ان کو یاد آتی ہے ماں زندگی میں قدر جو ماں باپ کی کرتے نہیں عمر بھر ایسے خطاکاروں کو تڑپاتی ہے ماں ماں کے مرتے ہی جو ابا دوسری شادی کریں ظلم پر سوتیلی ماں کے روز یاد آتی ہے ماں کر کے شادی دوسری ہوجائے جو شوہر الگ خون کی اک اک بوند بچوں کو پلاتی ہے ماں بھوک سے مجبور ہوکر مہماں کے سامنے مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں اپنے آنچل سے گلابی آنسوؤں کو پونچھ کر دیر تک غربت پہ اپنی اشک برساتی ہے ماں سب کو دیتی ہے سکوں اور خود غموں کی دھوپ میں رفتہ رفتہ برف کی صورت پگھل جاتی ہے ماں بچہ آیا کو دیا، اور خود کلب کو چیل پریس بھوکا بچہ جب آوارہ تو جھنجھلاتی ہے ماں دوروں کی گودیوں میں پرورش جن کی ہوئی ایسے بچوں کی محبت کو ترس جاتی ہے ماں

445

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Jo zaban par bhi na aaye dil mein ghut kar reh gaye Aise kuchh arman apne sath le jati hai man Jis ko parhne ke liye bachchon ko fursat hi nahin Ek din wo aakhri tarikh ban jati hai man Aisa bhi hota hai, bachcha puchh lagta hai use Jab nai tahzib ke sanche mein dhal jati hai man "Dur ho ja kar kahin mar!" keh to deti hai magar Sham ke hote hi darwaze pe aa jati hai man Sar jhukaye gham-zada bachcha idhar aaya nazar Daur kar bachche ko ghar mein khud bulati hai man Har taraf khatra hi khatra ho to apne lal ko Rakh ke ek sanduq mein darya ko de aati hai man Bap aur bachchon mein ho jata hai jab bhi ikhtilaf Kis taraf jaye ajab uljhan mein par jati hai man Ghar ke angan mein jo ho jati hain diwaren khari Kitne hi hisson mein sada afsos bat jati hai man Duniya mein banta hai istiqbal ko Khatma-e-gham ke jab nazdik aa jati hai man Chhin le shauhar jo bachche, de ke biwi ko talaq Hath khali, god khali haye reh jati hai man Jin ko pala tha paraye ghar pa kar betiyan Ab inhi bachchon par ek din bojh ban jati hai man Dasht-e-ghurbat mein sitam kar ke jalti ret par Zindagi ki lash ko zakhmon se kafnati hai man Umr bhar rakhe rahi sar par zarurat ka pahar Thak gayi sansen to ab aram farmati hai man Jin ko fursat hi nahin un ki khushi ke waste Zindagi mein jane kitni bar mar jati hai man Dukhiyariyan dilayen jin ko apne aram bech kar Ab inhi ki biwiyan ki jharkiyan khati hai man Hal-e-dil ja kar sunata hai Masuma ko wo Jab kisi bachche ko apni Qum mein yaad aati hai man Jab lab par Rauza ki jali se rota hai koi Aisa lagta hai ke jaise sar ko sehlati hai man Bhuk jab bachchon ki ankhon se utarti hai nind Raat bhar qisse kahani keh ke bahlati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] جو زباں پر بھی نہ آئے دل میں گھٹ کر رہ گئے ایسے کچھ ارماں اپنے ساتھ لے جاتی ہے ماں جس کو پڑھنے کے لئے بچوں کو فرصت ہی نہیں ایک دن وہ آخری تاریخ بن جاتی ہے ماں ایسا بھی ہوتا ہے، بچہ پوچھ لگتا ہے اسے جب نئی تہذیب کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے ماں "دور ہو جا کر کہیں مر!" کہہ تو دیتی ہے مگر شام کے ہوتے ہی دروازے پہ آجاتی ہے ماں سر جھکائے غم زدہ بچہ ادھر آیا نظر دوڑ کر بچے کو گھر میں خود بلاتی ہے ماں ہر طرف خطرہ ہی خطرہ ہو تو اپنے لعل کو رکھ کے اک صندوق میں دریا کو دے آتی ہے ماں باپ اور بچوں میں ہو جاتا ہے جب بھی اختلاف کس طرف جائے عجب الجھن میں پڑ جاتی ہے ماں گھر کے آنگن میں جو ہو جاتی ہیں دیواریں کھڑی کتنے ہی حصوں میں صدا افسوس بٹ جاتی ہے ماں دنیا میں بنتا ہے استقبال کو خاتمۂ غم کے جب نزدیک آجاتی ہے ماں چین لے شوہر جو بچے، دے کے بیوی کو طلاق ہاتھ خالی، گود خالی ہائے رہ جاتی ہے ماں جن کو پالا تھا پرائے گھر پاکر بیٹیاں اب انہی بچوں پر اک دن بوجھ بن جاتی ہے ماں دشتِ غربت میں ستم کر کے جلتی ریت پر زندگی کی لاش کو زخموں سے کفناتی ہے ماں عمر بھر رکھے رہی سر پر ضرورت کا پہاڑ تھک گئی سانسیں تو اب آرام فرماتی ہے ماں جن کو فرصت ہی نہیں ان کی خوشی کے واسطے زندگی میں جانے کتنی بار مر جاتی ہے ماں دکھیاریاں دلائیں جن کو اپنے آرام بیچ کر اب انہی کی بیویاں کی جھڑکیاں کھاتی ہے ماں حال دل جا کر سناتا ہے معصومہ کو وہ جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں جب لب پر روضہ کی جالی سے روتا ہے کوئی ایسا لگتا ہے کہ جیسے سر کو سہلاتی ہے ماں بھوک جب بچوں کی آنکھوں سے اتارتی ہے نیند رات بھر قصے کہانی کہہ کے بہلاتی ہے ماں

446

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Sab ki nazron jab par hain, ek nazar hai bete par Dekh kar chehre ko hal-e-dil samajh jati hai man Dil ka jab nasur ban jata hai ye zakhm-e-jigar Tel mitti ka chhirak kar haye mar jati hai man Zindagi dushwar kar deta hai jab zalim samaj Zahr har bachchon ko khila kar khud bhi mar jati hai man Jo Khuda is dard ko koi samajh sakta nahin Kis liye aakhir chitai ki junbish par jati hai man Gar jawan beti ho ghar mein aur koi rishta na ho Ek naye ehsas ki suli pe charh jati hai man Umr ka suraj dhala, shadi na beti ki hui Qabr mein ye dagh apne sath le jati hai man Aati hai lekin beti ki ijazat se sada Jab dua ke waste hath apne phailati hai man Har ibadat, har muhabbat mein nihan hai ek gharaz Be-gharaz, be-laus har khidmat ko kar jati hai man Apne bachchon ki bahar-e-zindagi ke waste Ansuon ke phul har mausam mein barsati hai man Zindagi bhar bhatakti hai khar-e-rah-e-zillat se Jate jate nemat-e-Firdaus de jati hai man Pyar kehte hain ke aur manta kya chiz hai Koi un bachchon se puchhe jin ki mar jati hai man Zindagani ke safar mein gardishon ki dhoop mein Jab koi saya nahin milta to yaad aati hai man Naujawanon ko watan ki sarhadon par bhej kar Zindagi apni watan ke naam kar jati hai man Ghar se jab pardes jata hai koi nur-e-nazar Hath mein Quran le kar dar pe aa jati hai man De ke bachche ko zamanat mein Raza-e-Pak ki Pichhe pichhe sar jhukaye dur tak jati hai man Kanpti awaz se kehti hai beta alwida Samne jab tak rahe hathon ko lehrati hai man Raste lagta hai purane zakhm se taza lahu Hasraton ki bolti taswir ban jati hai man Dur ho jata hai jab ankhon se godi ka pala Dil ko hathon se pakar kar ghar ko aa jati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] سب کی نظروں جب پر ہیں، اک نظر ہے بیٹے پر دیکھ کر چہرے کو حال دل سمجھ جاتی ہے ماں دل کا جب ناسور بن جاتا ہے یہ زخمِ جگر تیل مٹی کا چھڑک کر ہائے مر جاتی ہے ماں زندگی دشوار کردیتا ہے جب ظالم سماج زہر ہر بچوں کو کھلا کر خود بھی مر جاتی ہے ماں جو خدا اس درد کو کوئی سمجھ سکتا نہیں کس لئے آخر چتائی کی جنبش پڑ جاتی ہے ماں گر جواں بیٹی ہو گھر میں اور کوئی رشتہ نہ ہو اک نئے احساس کی سولی پہ چڑھ جاتی ہے ماں عمر کا سورج ڈھلا، شادی نہ بیٹی کی ہوئی قبر میں یہ داغ اپنے ساتھ لے جاتی ہے ماں آتی ہے لیک بیٹی کی اجازت سے صدا جب دعا کے واسطے ہاتھ اپنے پھیلاتی ہے ماں ہر عبادت، ہر محبت میں نہاں ہے اک غرض بے غرض، بے لوث ہر خدمت کو کر جاتی ہے ماں اپنے بچوں کی بہارِ زندگی کے واسطے آنسوؤں کے پھول ہر موسم میں برساتی ہے ماں زندگی بھر بھٹکتی ہے خارِ راہِ ذلت سے جاتے جاتے نعمتِ فردوس دے جاتی ہے ماں پیار کہتے ہیں کہ اور مانتا کیا چیز ہے کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں نوجوانوں کو وطن کی سرحدوں پر بھیج کر زندگی اپنی وطن کے نام کر جاتی ہے ماں گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئی نورِ نظر ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں دے کے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں کانپتی آواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع سامنے جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں رستے لگتا ہے پرانے زخم سے تازہ لہو حسرتوں کی بولتی تصویر بن جاتی ہے ماں دور ہوجاتا ہے جب آنکھوں سے گودی کا پالا دل کو ہاتھوں سے پکڑ کر گھر کو آجاتی ہے ماں

447

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Dusre hi din se phir rehti hai khat ki muntazir Dur pe aahat ho use bhi to aa jati hai man Hum balaon mein kahin ghirte hain to be-ikhtiyar Khair ho bachche ki keh kar dar pe aa jati hai man Laut kar wapas safar se jab bhi ghar aate hain hum Dal kar bahen gale mein sar ko sehlati hai man Aisa lagta hai ke jaise aa gaye Firdaus mein Pahunch kar bahon mein jab sine se liptati hai man Der ho jati hai ghar aane mein aksar jab hamein Ret par tiki hui jaise use ghabrati hai man Marte dam bachche nazar aa jayen agar pardes se Apni donon putliyan chaukhat pe rakh jati hai man Baad mar jane ke phir bete ki khidmat ke liye Kaise beti ka badal kar ghar mein aa jati hai man Lekin hain jo Maulana ijazat-e-aqd ki Ghar mein jane se bhi angan mein aa jati hai man Kuchh kar ansu dupatte se chhupa kar dard ko Le ke ek tufan sa dil mein palat jati hai man Shauhar hota hai mubarak-bad ka jab har taraf Be-tahasha shukr ke sajde mein gir jati hai man Bazuon mein khinch ke aa jaye jaise kainat Aise beti ke liye bahon ko phailati hai man Hote hi beti ke rukhsat mamta ke josh mein Apni beti ki paheli se lipat jati hai man Chum kar matha, kabhi sar aur kabhi de kar dua Kuchh usul-e-zindagi beti ko samjhati hai man Subh-o-rozi layega tere tumhare waste Eid ki shab bachchon ko ye keh ke bahlati hai man Martaba man ka zamana dekh le pesh-e-Khuda Is liye Firdaus se poshak mangwati hai man Zindagi bhar khush rahe bachcha mera ye soch kar Achchhi se achchhi ho khud dhund kar lati hai man Shukr ye ho hi nahin sakta kabhi us ka ada Marte marte bhi dua jine ki de jati hai man Dur ho jati hai sari umr ki us dam thakan Pyar kar bete ki jab ghar mein bahu lati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] دوسرے ہی دن سے پھر رہتی ہے خط کی منتظر دور پہ آہٹ ہو اسے بھی تو آجاتی ہے ماں ہم بلاؤں میں کہیں گھرتے ہیں تو بے اختیار خیر ہو بچے کی کہہ کر در پہ آجاتی ہے ماں لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں ایسا لگتا ہے کہ جیسے آگئے فردوس میں پہنچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں ریت پر ٹکی ہوئی جیسے اسے گھبراتی ہے ماں مرتے دم بچے نظر آجائیں اگر پردیس سے اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں بعد مرجانے کے پھر بیٹے کی خدمت کے لئے کیسے بیٹی کا بدل کر گھر میں آجاتی ہے ماں لیکن ہیں جو مولانا اجازت عقد کی گھر میں جانے سے بھی آنگن میں آجاتی ہے ماں کچھ کر آنسو دوپٹے سے چھپا کر درد کو لے کے اک طوفان سی دل میں پلٹ جاتی ہے ماں شوہر ہوتا ہے مبارک باد کا جب ہر طرف بے تحاشا شکر کے سجدے میں گر جاتی ہے ماں بازوؤں میں کھینچ کے آجائے گی جیسے کائنات ایسے بیٹی کے لئے بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں ہوتے ہی بیٹی کے رخصت مامتا کے جوش میں اپنی بیٹی کی پہیلی سے لپٹ جاتی ہے ماں چوم کر ماتھا، کبھی سر اور کبھی دے کر دعا کچھ اصولِ زندگی بیٹی کو سمجھاتی ہے ماں صبح و روزی لائے گا تیرے تمہارے واسطے عید کی شب بچوں کو یہ کہہ کے بہلاتی ہے ماں مرتبہ ماں کا زمانہ دیکھ لے پیشِ خدا اس لئے فردوس سے پوشاک منگواتی ہے ماں زندگی بھر خوش رہے بچہ مرا یہ سوچ کر اچھی سے اچھی ہو خود ڈھونڈ کر لاتی ہے ماں شکر یہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں دور ہو جاتی ہے ساری عمر کی اس دم تھکن پیار کر بیٹے کی جب گھر میں بہو لاتی ہے ماں

448

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Chhin leti hai wohi aksar sukun-e-zindagi Pyar se dil bana kar jis ko ghar lati hai man Phir lete hain nazar jis waqt bete aur bahu Ajnabi apne hi ghar mein haye ban jati hai man Hum ne ye bhi to nahin socha alag hone ke baad Jab diya hi kuchh nahin hum ne to kya khati hai man Zabt to dekho ke aati be-rukhi ke bawajud Bad-dua deti hai hargiz aur na pachhtati hai man Kitna hi bura ho, par parhun ke huzur Rok kar jazbat ko bete ke gun gati hai man Allah Allah bhul kar har ek sitam ko raat din Boli parte se shikasta dil ko bahlati hai man Zindagi apna tamasha bhi dikhati hai kabhi Ghar mein aate hi bahu ke khud chali jati hai man Han koi sauteli man gar khadima khud ko kahe Har amal mein us ke bachchon ko nazar aati hai man Shadiyan kar kar ke bachche chahe pardes mein Dil khaton se aur taswiron se bahlati hai man Ruh mein paiwast karti hai itaat aur wafa Bazuon par Zainab-o-Shabbir likh jati hai man Sal bhar mein ya kabhi chhatte mein Jumairat ko Zindagi bhar ka sila ek Fatiha pati hai man Jab talak ye hath nahin khamir se faragh Ek bahadur bawafa bete se farmati hai man Ek hi ghar se jahan khidmat ka ye batwara mila Khadima hote hue bhi ghussa kehlati hai man Apne pahlu mein lita kar roz tote ki tarah Ek barah panch chaudah hum ko ginwati hai man Umr bhar ghafil na hona matam-e-Shabbir se Raat din apne amal se hum ko samjhati hai man Jate jate bhi azadari shiar-e-Karbala Jo mili Zainab se wo miras de jati hai man Roz kar bachche lipat jate hain us diwar se Le ke mahfil se araq ghar mein jab aati hai man Bachisi aisi ke uff! Ek bund pani bhi nahin!! Ashk bhar Fatiha ankhon mein bhar lati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] چھین لیتی ہے وہی اکثر سکونِ زندگی پیار سے دل بنا کر جس کو گھر لاتی ہے ماں پھر لیتے ہیں نظر جس وقت بیٹے اور بہو اجنبی اپنے ہی گھر میں ہائے بن جاتی ہے ماں ہم نے یہ بھی تو نہیں سوچا الگ ہونے کے بعد جب دیا ہی کچھ نہیں ہم نے تو کیا کھاتی ہے ماں ضبط تو دیکھو کہ آتی بے رخی کے باوجود بددعا دیتی ہے ہرگز اور نہ پچھتاتی ہے ماں کتنا ہی برا ہو، پر پڑھوں کے حضور روک کر جذبات کو بیٹے کے گن گاتی ہے ماں اللہ اللہ بھول کر ہر اک ستم کو رات دن بولی پڑتے سے شکستہ دل کو بہلاتی ہے ماں زندگی اپنا تماشا بھی دکھاتی ہے کبھی گھر میں آتے ہی بہو کے خود چلی جاتی ہے ماں ہاں کوئی سوتیلی ماں گر خادمہ خود کو کہے ہر عمل میں اس کے بچوں کو نظر آتی ہے ماں شادیاں کر کر کے بچے چاہے پردیس میں دل خطوں سے اور تصویروں سے بہلاتی ہے ماں روح میں پیوست کرتی ہے اطاعت اور وفا بازوؤں پر زینبؑ و شبیرؑ لکھ جاتی ہے ماں سال بھر میں یا کبھی چھٹے میں جمعرات کو زندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں جب تلک یہ ہاتھ نہیں خمیر سے فراغ اک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں ایک ہی گھر سے جہاں خدمت کا یہ بٹوارا ملا خادمہ ہوتے ہوئے بھی غصہ کہلاتی ہے ماں اپنے پہلو میں لٹا کر روز طوطے کی طرح ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو گنواتی ہے ماں عمر بھر غافل نہ ہونا ماتمِ شبیرؑ سے رات دن اپنے عمل سے ہم کو سمجھاتی ہے ماں جاتے جاتے بھی عزاداری شعارِ کربلا جو ملی زینبؑ سے وہ میراث دے جاتی ہے ماں روز کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس دیوار سے لے کے محفل سے عرق گھر میں جب آتی ہے ماں بچیسی ایسی کہ اُف! اک بوند پانی بھی نہیں!! اشک بھر فاتحہ آنکھوں میں بھر لاتی ہے ماں

449

Wasila-e-Hayat (Man) — jari Jate jate bachche ko dil se lagane ke liye Daur kar Bibi bahon ko phailati hai man Sab se pehle jaan dena Fatima ke lal par Raat bhar Aun-o-Muhammad ko ye samjhati hai man Naujawan beta agar dam tor de ankhon mein Zindagi bhar sar ko diwaron se takrati hai man Fatima ke lal par qurban karne ke liye Bandh kar sehra jawan bete ko le aati hai man Khun mein dube hue aate hain jab Sarwar ke phul Ek ek tukre ko apne dil se liptati hai man Ungliyan bachchon ki thame apne bhai ke huzur Sar qurbani magar pyaron ko khud lati hai man Allah Allah sabr-e-Laila aur Husain Bap ne khinchi yahan, sine ko sehlati hai man Bech kar bachche ko tiron mein sukun-e-qalb se Phir shahadat ke liye daman ko phailati hai man Gar sukun-e-zindagi ghar jaye fauj-e-zulm mein Chhor kar Firdaus ko maqtal mein aa jati hai man De ke apne lal ko Islam ki aghosh mein God khali phir suye Jannat palat jati hai man Shimr ke khanjar se ya sukhe gale se puchhiye "Man" idhar munh se nikalta hai udhar aati hai man Aisa lagta hai kisi maqtal se ab bhi waqt-e-Asr Ek burida sar se pyas hun sada aati hai man Apne gham ko bhul kar rote hain jo Shabbir ko Un ke ashkon ke liye Jannat se aa jati hai man Bachisi aisi ho kar ek bund pani bhi na hua Ansuon par Fatiha bachchon ki dilwati hai man Lash-e-Qaim par kaha zinda rahi to aaungi Ab to suye Sham lene aa jati hai man Zarra zarra hai wahan ki khak ka khak-e-shifa Chhor kar balon se anbar kar jati hai man Ye batati hain hum ko bas Rabab khasta-tan Kis tarah jin dudh ke bachche ko bahlati hai man
[وسیلۂ حیات (ماں) — جاری] جاتے جاتے بچے کو دل سے لگانے کے لئے دوڑ کر بی بی بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں سب سے پہلے جان دینا فاطمہؑ کے لال پر رات بھر عونؑ و محمدؑ کو یہ سمجھاتی ہے ماں نوجوان بیٹا اگر دم توڑ دے آنکھوں میں زندگی بھر سر کو دیواروں سے ٹکراتی ہے ماں فاطمہؑ کے لال پر قربان کرنے کے لئے باندھ کر سہرا جوان بیٹے کو لے آتی ہے ماں خون میں ڈوبے ہوئے آتے ہیں جب سرور کے پھول ایک اک ٹکڑے کو اپنے دل سے لپٹاتی ہے ماں انگلیاں بچوں کی تھامے اپنے بھائی کے حضور سر قربانی مگر پیاروں کو خود لاتی ہے ماں اللہ اللہ صبرِ لیلیٰؑ اور حسینؑ باپ نے کھینچی یہاں، سینے کو سہلاتی ہے ماں بیچ کر بچے کو تیروں میں سکونِ قلب سے پھر شہادت کے لئے دامن کو پھیلاتی ہے ماں گر سکونِ زندگی گھر جائے فوجِ ظلم میں چھوڑ کر فردوس کو مقتل میں آجاتی ہے ماں دے کے اپنے لعل کو اسلام کی آغوش میں گود خالی پھر سوئے جنت پلٹ جاتی ہے ماں شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے "ماں" ادھر منہ سے نکلتا ہے ادھر آتی ہے ماں اس لگتا ہے کسی مقتل سے اب بھی وقتِ عصر اک بریدہ سر سے پیاس ہوں صدا آتی ہے ماں اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیرؑ کو ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں بچیسی ایسی ہو کر اک بوند پانی بھی نہ ہوا آنسوؤں پر فاتحہ بچوں کی دلواتی ہے ماں لاشِ قائمؑ پر کہا زندہ رہی تو آؤں گی اب تو سوئے شام لینے آجاتی ہے ماں ذرہ ذرہ ہے وہاں کی خاک کا خاکِ شفا چھوڑ کر بالوں سے انبار کر جاتی ہے ماں یہ بتاتی ہیں ہم کو بس ربابؑ خستہ تن کس طرح جن دودھ کے بچے کو بہلاتی ہے ماں

450

Maut ki aghosh mein bhi kab sukun pati hai man Jadid ashar ba-unwan Man Maut ki aghosh mein bhi kab sukun pati hai man Jab bhi bachche hon pareshani mein aa jati hai man Jis mein aati hai magar khud apni hi surat nazar Jate jate gham ka wo aina de jati hai man Jate jate bachche ko dil se lagane ke liye Daur kar band-e-kafan bahon ko phailati hai man Jo gham-e-Shabbir lekin hi nahin jis ka ilaj Jaise sari zindagi matam manati hai man Bhigi ankhon se parho to dil ko aata hai sukun Zindagi ki apni wo tarikh de jati hai man Hansta hi rehta hai bachchon ka gulistan-e-murad Nematain ke phul har mausam mein barsati hai man Khali hota hi nahin bachchon ka daman-e-murad Jitni aa jayen duaen utni bhar jati hai man Garmi aur sardi se bachchon ko bachane ke liye Chand banti hai kabhi Khurshid ban jati hai man Madari hai tabiat magar kabhi jazbat mein Chaunkti hai lab kabhi rukhsar sehlati hai man Operation ke zariye de ke bachche ko hayat Zindagi bhar ke liye bimar ho jati hai man Hath utha kar jab main kehta hun ke Rabb-irhamhuma Ashk-e-gham ban kar meri ankhon mein aa jati hai man Dil pe patthar milti hai mele mein khilonon ko dekh kar Baad shadi ke jo bechari na ban pati hai man De ke gumti mein use jab mili ishq-e-Husain Har zamane ke liye Mukhtar ban jati hai man Chaudah sadiyon baad bhi dekho aaj bhi maqam-e-Asr Aisa lagta hai kate sar se sada aati hai man Daurta hai bap ran ko sun ke bete ki sada Tamam kar apna mujh se wo ghar mein reh jati hai man Qasid-e-Sughra ghira hai kuchh to do beta jawab Rakh ke munh pe hath Ali Akbar ke chillati hai man Main ne us ke waste Bibi hain pairon bichkan Chhor de zalim mere bachche ko chillati hai man
موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں جدید اشعار بعنوان ماں موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں جب بھی بچے ہوں پریشانی میں آجاتی ہے ماں جس میں آتی ہے مگر خود اپنی ہی صورت نظر جاتے جاتے غم کا وہ آئینہ دے جاتی ہے ماں جاتے جاتے بچے کو دل سے لگانے کے لئے دوڑ کر بند کفن بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں جو غمِ شبیرؑ لیکن ہی نہیں جس کا علاج جیسے ساری زندگی ماتم مناتی ہے ماں بھیگی آنکھوں سے پڑھو تو دل کو آتا ہے سکوں زندگی کی اپنی وہ تاریخ دے جاتی ہے ماں ہنستا ہی رہتا ہے بچوں کا گلستانِ مراد نعمتوں کے پھول ہر موسم میں برساتی ہے ماں خالی ہوتا ہی نہیں بچوں کا دامانِ مراد جتنی آجائیں دعائیں اتنی بھر جاتی ہے ماں گرمی اور سردی سے بچوں کو بچانے کے لئے چاند بنتی ہے کبھی خورشید بن جاتی ہے ماں مادری ہے طبیعت مگر کبھی جذبات میں چونکتی ہے لب کبھی رخسار سہلاتی ہے ماں آپریشن کے ذریعے دے کے بچے کو حیات زندگی بھر کے لئے بیمار ہوجاتی ہے ماں ہاتھ اٹھا کر جب میں کہتا ہوں کہ رب ارحما اشکِ غم بن کر مری آنکھوں میں آجاتی ہے ماں دل پہ پتھر ملتی ہے میلے میں کھلونوں کو دیکھ کر بعد شادی کے جو بے چاری نہ بن پاتی ہے ماں دے کے گمتی میں اسے جب ملی عشقِ حسینؑ ہر زمانے کے لئے مختار بن جاتی ہے ماں چودہ صدیوں بعد بھی دیکھو آج بھی مقام عصر ایسا لگتا ہے کٹے سر سے صدا آتی ہے ماں دوڑتا ہے باپ رن کو سن کے بیٹے کی صدا تمام کر اپنا مجھ سے وہ گھر میں رہ جاتی ہے ماں قاصدِ صغرا گھرا ہے کچھ تو دو بیٹا جواب رکھ کے منہ پہ ہاتھ علی اکبرؑ کے چلاتی ہے ماں میں نے اس کے واسطے بی بی ہیں پیروں بیچکان چھوڑ دے ظالم مرے بچے کو چلاتی ہے ماں

451

Maut ki aghosh mein bhi kab sukun pati hai man — jari Kya bigara hai mere bete ne ay zalim tera Chalti rehti hai chhuri, chillati reh jati hai man Dekhte hi dekhte hota hai ek mahshar bapa Daurti hain lash pe ghore tarap jati hai man Wa Husaina kehti sar ko pitti roti hui Betiyon ko de ke lasha khud chali jati hai man Tazkira jab bhi kahin hota hai us ke lal ka Dard walon ko duaen dene aa jati hai man Karbala walon ke zakhmon par lagane ke liye Majlison mein ansuon ko lene aa jati hai man Bhul jate hain shahidon ko jo ye karti nahin Ek din fit hath pe faqon mein mar jati hai man Zalzala tabdil kar de ghar jo qabristan mein Khun ki ek ek bund bachche ko pilati hai man Zalzale mein dudh ke badle pila kar apna khun Jaan bachche ki bacha kar aap mar jati hai man Baithe kar doli mein beti to gayi sasural ko Dekhti ghar ke dar-o-diwar reh jati hai man Abr-e-rahmat dushmanon se bachane ke liye Zahr bachchon ko khila kar khud bhi mar jati hai man Jab bhi aata hai koi ruhani mushkil marhala Bap ke hote hue beti ko yaad aati hai man Talkhi-e-hairan reh jate hain raz-o-rumuz Zindagi ki sakhtiyan kuchh aise samjhati hai man Apni ek ungli utha kar Arsh-e-Azam ki taraf Dil pe rakh kar hath kehti hai yahan par hain Ali Baad mein in sare Masumin rowati hai man Chahe jab chahe jahan koi kare zikr-e-Husain Chhor kar Firdaus har Majlis mein aa jati hai man Jis ke galon par pale Ahl-e-Madina muddaton Apni beti ko ek faqa pe yaad aati hai man Jab rasan-basta zindagi hai kisi bazar se Ek awara-watan beti ko yaad aati hai man Be-kasi bhi pahunch gayi aakhir Diyar-e-Sham mein Udhar chale karte mein jab bachchi ko dafnati hai man
[موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں — جاری] کیا بگاڑا ہے مرے بیٹے نے اے ظالم ترا چلتی رہتی ہے چھری، چلاتی رہ جاتی ہے ماں دیکھتے ہی دیکھتے ہوتا ہے اک محشر بپا دوڑتی ہیں لاش پہ گھوڑے تڑپ جاتی ہے ماں وا حسینا کہتی سر کو پیٹتی روتی ہوئی بیٹیوں کو دے کے لاشہ خود چلی جاتی ہے ماں تذکرہ جب بھی کہیں ہوتا ہے اس کے لال کا درد والوں کو دعائیں دینے آجاتی ہے ماں کربلا والوں کے زخموں پر لگانے کے لئے مجلسوں میں آنسوؤں کو لینے آجاتی ہے ماں بھول جاتے ہیں شہیدوں کو جو یہ کرتی نہیں ایک دن فٹ ہاتھ پہ فاقوں میں مرجاتی ہے ماں زلزلہ تبدیل کر دے گھر جو قبرستان میں خون کی اک اک بوند بچے کو پلاتی ہے ماں زلزلے میں دودھ کے بدلے پلا کر اپنا خون جان بچے کی بچا کر آپ مرجاتی ہے ماں بیٹھے کر ڈولی میں بیٹی تو گئی سسرال کو دیکھتی گھر کے در و دیوار رہ جاتی ہے ماں ابرِ رحمت دشمنوں سے بچانے کے لئے زہر بچوں کو کھلا کر خود بھی مرجاتی ہے ماں جب بھی آتا ہے کوئی روحانی مشکل مرحلہ باپ کے ہوتے ہوئے بیٹی کو یاد آتی ہے ماں تلخیِ حیران رہ جاتے ہیں راز و رموز زندگی کی سختیاں کچھ ایسے سمجھاتی ہے ماں اپنی اک انگلی اٹھا کر عرشِ اعظم کی طرف دل پہ رکھ کر ہاتھ کہتی ہے یہاں پر ہیں علیؑ بعد میں ان سارے معصومین رواتی ہے ماں چاہے جب چاہے جہاں کوئی کرے ذکرِ حسینؑ چھوڑ کر فردوس ہر مجلس میں آجاتی ہے ماں جس کے گالوں پر پلے اہلِ مدینہ مدتوں اپنی بیٹی کو اک فاقہ پہ یاد آتی ہے ماں جب رہن بستہ زندگی ہے کسی بازار سے ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں بے کسی بھی پہنچ گئی آخر دیارِ شام میں اُدھر چلے کرتے میں جب بچی کو دفناتی ہے ماں

452

Maut ki aghosh mein bhi kab sukun pati hai man — jari De ke apne lal ko Islam ki aghosh mein God khali phir suye Jannat palat jati hai man Shahr mein balwai karte hain jab barpa fasad Jab tak bachche na ghar aa jayen ghabrati hai man Khane ke gayi reh gaya beta to bhar Sarkar se Qimat apne lal ki ek cheque mein pati hai man Tor kar mazhab ki diwaron ko milti hai gale Hal-e-gham apna kisi man se jo dohrati hai man Khalq mein apna nikal aati bachchon ki yaad Chhor kar khana achanak bhuki uth jati hai man Qatilon ke Haq mein jab karta hai Munsif faisla Dekh kar suye falak daman ko phailati hai man Dopahar mein apna jo sab kuchh luta de din par Wo bahadur sher-dil qaumon ki kehlati hai man Farz jab awaz deta hai to ansu ponchh kar Chhor kar bachchon ke lashe Sham ko jati hai man Umr bhar deti hai bachchon ko ghulami ka sabaq Apne beton ko wafa ke naam kar jati hai man Char beton ki shahadat ki khabar jis dam suni Apne pakiza lahu par fakhr farmati hai man Jab sunai lage aata hai Madine mein Shabbir Donon hathon se kamar pakre hue aati hai man Kitne tukre hain dil-e-Quran-e-Natiq mein sinan Zakhm-e-neza dekh kar sine pe chillati hai man Din par jab waqt parta hai to tere ki jagah Bahr-e-qurbani kafan bachche ko pehnati hai man Lash-e-Akbar par jawani pari rahi hai marsiya Kabhi shukr aisi halat mein baja lati hai man Tir kha kar muskurata hai jo ran mein be-zaban Marhaba sad marhaba kehti hui aati hai man
[موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں — جاری] دے کے اپنے لال کو اسلام کی آغوش میں گود خالی پھر سوئے جنت پلٹ جاتی ہے ماں شہر میں بلوائی کرتے ہیں جب برپا فساد جب تک بچے نہ گھر آجائیں گھبراتی ہے ماں کھانے کے گئی رہ گیا بیٹا تو بھر سرکار سے قیمت اپنے لال کی اک چیک میں پاتی ہے ماں توڑ کر مذہب کی دیواروں کو ملتی ہے گلے حالِ غم اپنا کسی ماں سے جو دہراتی ہے ماں خلق میں اپنا نکل آتی بچوں کی یاد چھوڑ کر کھانا اچانک بھوکی اٹھ جاتی ہے ماں قاتلوں کے حق میں جب کرتا ہے منصف فیصلہ دیکھ کر سوئے فلک دامن کو پھیلاتی ہے ماں دوپہر میں اپنا جو سب کچھ لٹا دے دین پر وہ بہادر شیر دل قوموں کی کہلاتی ہے ماں فرض جب آواز دیتا ہے تو آنسو پونچھ کر چھوڑ کر بچوں کے لاشے شام کو جاتی ہے ماں عمر بھر دیتی ہے بچوں کو غلامی کا سبق اپنے بیٹوں کو وفا کے نام کر جاتی ہے ماں چار بیٹوں کی شہادت کی خبر جس دم سنی اپنے پاکیزہ لہو پر فخر فرماتی ہے ماں جب سنائی لگے آتا ہے مدینے میں شبیرؑ دونوں ہاتھوں سے کمر پکڑے ہوئے آتی ہے ماں کتنے ٹکڑے ہیں دلِ قرآنِ ناطق میں سنان زخم نیزہ دیکھ کر سینے پہ چلاتی ہے ماں دین پر جب وقت پڑتا ہے تو تیرے کی جگہ بہر قربانی کفن بچے کو پہناتی ہے ماں لاشِ اکبرؑ پر جوانی پڑی رہی ہے مرثیہ کبھی شکر ایسی حالت میں بجا لاتی ہے ماں تیر کھا کر مسکراتا ہے جو رن میں بے زبان مرحبا صد مرحبا کہتی ہوئی آتی ہے ماں

453

Din dhale jab kare mazduri Raza aata hai bap Din dhale jab kare mazduri Raza aata hai bap Dekh kar hanste hue bachchon ko sukh pata hai bap Samne ankhon ke jis bete ke mar jata hai bap Lamha lamha zindagi bhar us ko yaad aata hai bap Qadr-o-qimat jab pata chalti hai man aur bap ki Jab Khuda ke fazl se insan ban jata hai bap Ek bachche ki talab mein chhor kar aram-o-chain Jane kis kis dar pe minnat mangne jata hai bap Khatuna-o-mandir-o-masjid, azakhana kabhi Pir-o-Sufi, manqabat-o-Mullaon ke ghar jata hai bap Jab talak bachcha na ho kam-e-zarurat ka liye Bas Khuda jane ke kitni thokaren khata hai bap Aisa lagta hai ke jaise chal rahi hai kainat Ghanton chalte hue bachche ko jab pata hai bap Jane kitne khwab karte hain safar bachche ke sath Ghar se pehli bar jab school le jata hai bap Dekhta hai khwab jangī zindagi ke waste Agli hi ankhon na jane kitne dukh pata hai bap Lab labati leti gari af shola-rosh mein Dar-ba-dar hai Sham-o-sahar phirta nazar aata hai bap Lamha lamha waqf kar ke god ke balon ke naam Hath khali dar-e-fani se chala jata hai bap Ghar ke balon ka mustaqbil banane ke liye Waqt ki mandi mein saste dam bik jata hai bap Khet, rishta, daftar, mill, karkhane aur dukan Apni ek ek sans un ke naam kar jata hai bap Biwi aur bachchon ko jo bhi ho khila kar pyar se Sar ke koi bhi bahana bhuka so jata hai bap Har khushi ko yun jakar leti hai zanjir-e-maash Karane ko bhi aise mein taras jata hai bap Zindagi isi uth jati hai bachchon ke liye Ghar ki tarah rafta rafta khud ko kha jata hai bap Kanpti hain putliyan bachchon hi ki fikr mein magar Jo kamaya tha wo sab khairat kar aata hai bap
دن ڈھلے جب کرے مزدوری رضا آتا ہے باپ دن ڈھلے جب کرے مزدوری رضا آتا ہے باپ دیکھ کر ہنستے ہوئے بچوں کو سکھ پاتا ہے باپ سامنے آنکھوں کے جس بیٹے کے مرجاتا ہے باپ لمحہ لمحہ زندگی بھر اس کو یاد آتا ہے باپ قدر و قیمت جب پتا چلتی ہے ماں اور باپ کی جب خدا کے فضل سے انسان بن جاتا ہے باپ ایک بچے کی طلب میں چھوڑ کر آرام و چین جانے کس کس در پہ منت مانگنے جاتا ہے باپ خاتونہ و مندر و مسجد، عزاخانہ کبھی پیر و صوفی، منقبت و ملاؤں کے گھر جاتا ہے باپ جب تلک بچہ نہ ہو کامِ ضرورت کا لئے بس خدا جانے کہ کتنی ٹھوکریں کھاتا ہے باپ ایسا لگتا ہے کہ جیسے چل رہی ہے کائنات گھنٹوں چلتے ہوئے بچے کو جب پاتا ہے باپ جانے کتنے خواب کرتے ہیں سفر بچے کے ساتھ گھر سے پہلی بار جب اسکول لے جاتا ہے باپ دیکھتا ہے خواب جنگی زندگی کے واسطے اگلی ہی آنکھوں نہ جانے کتنے دکھ پاتا ہے باپ لب لباتی لیتی گاڑی آف شعلہ روش میں در بہ در ہے شام و سحر پھرتا نظر آتا ہے باپ لمحہ لمحہ وقف کر کے گود کے بالوں کے نام ہاتھ خالی دارِ فانی سے چلا جاتا ہے باپ گھر کے بالوں کا مستقبل بنانے کے لئے وقت کی منڈی میں سستے دام بک جاتا ہے باپ کھیت، رشتہ، دفتر، مل، کارخانے اور دکان اپنی اک اک سانس ان کے نام کر جاتا ہے باپ بیوی اور بچوں کو جو بھی ہو کھلا کر پیار سے سر کے کوئی بھی بہانہ بھوکا سو جاتا ہے باپ ہر خوشی کو یوں جگڑ لیتی ہے زنجیرِ معاش کرانے کو بھی ایسے میں ترس جاتا ہے باپ زندگی اسی اٹھ جاتی ہے بچوں کے لئے گھر کی طرح رفتہ رفتہ خود کو کھا جاتا ہے باپ کانپتی ہیں پتلیاں بچوں ہی کی فکر میں مگر جو کمایا تھا وہ سب خیرات کر آتا ہے باپ

454

Bap — jari Hath khali jab khali bhuke bachchon ki taraf Gham kiye gardan pareshan-hal ghar aata hai bap Jab saza deta hai bachche ko to us ko mar kar Dil hi dil mein jane kitni der pachhtata hai bap Khun-e-dil ankhon se bahta hai khilone dekh kar Gaon ke mele mein jab bachche ko le jata hai bap Dekh kar koi khilona jab machalta hai pisar Dekhti hai pair ki manzar to sharmata hai bap Phir deta hai tasalli phir bahane aur phir Muflisi pe apni pairon ashk barsata hai bap Har tamanna, har khushi, kul hasraten, har arzu Apne bachchon ki khushi ke naam kar jata hai bap Puri karne khwahishen apne jigar ke chain ki Apni sari zindagi qurban kar jata hai bap Ek din haye nazar-andaz kar deta hai wo Bech kar apna lahu jis ko ghiza lata hai bap Zindagi kaise guzarti hai ye un se puchhiye Kisi mein chhor kar jugnu mar jata hai bap Bandhta hai sar pe jab sehra ummidon ka chiragh Der tak khud apni khush-bakhti pe itrata hai bap Ruh se hai ruh ka kuchh itna gehra rabta Lagti hai bachche ke thokar aur gir jata hai bap Bandh sehra jo banda man ko karta hai salam Man ko har ansu mein bete ka nazar aata hai bap Jab bichhar jate hain bachche kahin lete hain sukun Kitne anjane khayalon mein ulajh jata hai bap Naam karte hain jo roshan bachche apne mulk ka Koshishon pe apni us dam fakhr farmata hai bap Dekh kar ek khwab maidan mein farzand ko Fauj kar jane ke liye khud ghar se le aata hai bap Eid ki poshak bachchon ko jo mangwati hai man Sajda-e-Mabud mein khush ho ke gir jata hai bap Zindagi sari khapa deta hai bachchon ke liye Apne man aur bap ki khidmat na kar pata hai bap Zindagi ka wazn dhote dhote apni pusht par Khush rahen bachche isi dhun mein chala jata hai bap
[باپ — جاری] ہاتھ خالی جب خالی بھوکے بچوں کی طرف غم کئے گردن پریشان حال گھر آتا ہے باپ جب سزا دیتا ہے بچے کو تو اس کو مار کر دل ہی دل میں جانے کتنی دیر پچھتاتا ہے باپ خونِ دل آنکھوں سے بہتا ہے کھلونے دیکھ کر گاؤں کے میلے میں جب بچے کو لے جاتا ہے باپ دیکھ کر کوئی کھلونا جب مچلتا ہے پسر دیکھتی ہے پیر کی منظر تو شرماتا ہے باپ پھیلے دیتا ہے تسلی پھر بہانے اور پھر مفلسی پہ اپنی پیروں اشک برساتا ہے باپ ہر تمنا، ہر خوشی، کل حسرتیں، ہر آرزو اپنے بچوں کی خوشی کے نام کر جاتا ہے باپ پوری کرنے خواہشیں اپنے جگر کے چین کی اپنی ساری زندگی قربان کرجاتا ہے باپ ایک دن ہائے نظر انداز کردیتا ہے وہ بیچ کر اپنا لہو جس کو غذا لاتا ہے باپ زندگی کیسے گزرتی ہے یہ ان سے پوچھئے کسی میں چھوڑ کر جگنو مر جاتا ہے باپ باندھتا ہے سر پہ جب سہرا امیدوں کا چراغ دیر تک خود اپنی خوش بختی پہ اتراتا ہے باپ روح سے ہے روح کا کچھ اتنا گہرا رابطہ لگتی ہے بچے کے ٹھوکر اور گر جاتا ہے باپ باندھ سہرا جو بندہ ماں کو کرتا ہے سلام ماں کو ہر آنسو میں بیٹے کا نظر آتا ہے باپ جب بچھڑ جاتے ہیں بچے کہیں لیتے ہیں سکوں کتنے انجانے خیالوں میں الجھ جاتا ہے باپ نام کرتے ہیں جو روشن بچے اپنے ملک کا کوششوں پہ اپنی اس دم فخر فرماتا ہے باپ دیکھ کر اک خواب میدان میں فرزند کو فوج کر جانے کے لئے خود گھر سے لے آتا ہے باپ عید کی پوشاک بچوں کو جو منگواتی ہے ماں سجدۂ معبود میں خوش ہو کے گر جاتا ہے باپ زندگی ساری کھپا دیتا ہے بچوں کے لئے اپنے ماں اور باپ کی خدمت نہ کر پاتا ہے باپ زندگی کا وزن ڈھوتے ڈھوتے اپنی پشت پر خوش رہیں بچے اسی دھن میں چلا جاتا ہے باپ

455

Bap — jari Jab utarta hai sukuni pe ghira kirdar mein Muskura kar shukr ke sajde mein gir jata hai bap Dusron ke kam aata hai jo har ek hal mein Dekh kar darya-dili bete ki itrata hai bap Tamam umr agali jise chalna sikhaya hathon Ek din agle sahare ko taras jata hai bap Baith kar gari mein good-bye kaha aur chal diya Zindagi bhar thokaren jis ke liye khata hai bap Kar ke shadi court mein dulha dulhan ho gaye Biyada ka arman liye ghar hi mein reh jata hai bap Mulk khatre mein ho to sarhad pe bete ko bhej kar Ashk ankhon mein bhare hathon ko lehrata hai bap Bahen kar chuki khulwa deti hai wo bachchon ki man Bagh mein mazduri karke ghar mein jo lata hai bap Jab thakan se chur hota hai, bane ponchh kar Band ankhen karke thori der sustata hai bap Jab tamannaon ka kamyabi chume bete ke qadam Nazr wala hai man sajde mein gir jata hai bap Jab safar se laut kar beta kare jhuk kar salam Chumti hai sar ko man, sine se liptata hai bap Khud chala pardes bachchon ki hifazat ke liye Apni ankhen ghar ke darwaze pe rakh jata hai bap Zindagi bhar chalta rehta hai mashinon ki tarah Maut ki godi mein ek din thak ke so jata hai bap Kharch karti hai saliqe se use bachchon pe man Khun pasina baha kar jo kama lata hai bap Waqt karta hai jo bachchon ki taraf se mutmain Bhul kar sab ranj-o-gham aakhir sukun pata hai bap Umr bhar ki sari mehnat ka sila aulad se Fatiha bas Fatiha bas Fatiha pata hai bap Kya durust aur kya ghalat bachchon ki khushiyon ke liye Jo na karna chahiye tha wo bhi kar jata hai bap Chhor kar kashti-e-umr ko tufan mein apni man ke sath Farq ho jata hai beta nikal jata hai bap Zindagi bachchon ki hai man ke mukammal mukhtasar Baithne ki ghar mein fursat hi kahan pata hai bap
[باپ — جاری] جب اترتا ہے سکونی پہ گھرا کردار میں مسکرا کر شکر کے سجدے میں گر جاتا ہے باپ دوسروں کے کام آتا ہے جو ہر اک حال میں دیکھ کر دریا دلی بیٹے کی اتراتا ہے باپ تمام عمر اگلی جسے چلنا سکھایا ہاتھوں ایک دن اگلے سہارے کو ترس جاتا ہے باپ بیٹھ کر گاڑی میں گڈ بائی کہا اور چل دیا زندگی بھر ٹھوکریں جس کے لئے کھاتا ہے باپ کر کے شادی کورٹ میں دولہا دلہن ہوگئے بیادہ کا ارمان لئے گھر ہی میں رہ جاتا ہے باپ ملک خطرے میں ہو تو سرحد پہ بیٹے کو بھیج کر اشک آنکھوں میں بھرے ہاتھوں کو لہراتا ہے باپ بہن کر چکی کھلوا دیتی ہے وہ بچوں کی ماں باغ میں مزدوری کرکے گھر میں جو لاتا ہے باپ جب تھکن سے چور ہوتا ہے، بنے پونچھ کر بند آنکھیں کرکے تھوڑی دیر سستاتا ہے باپ جب تمناؤں کا کامیابی چومے بیٹے کے قدم نذر والا ہے ماں سجدے میں گر جاتا ہے باپ جب سفر سے لوٹ کر بیٹا کرے جھک کر سلام چومتی ہے سر کو ماں، سینے سے لپٹاتا ہے باپ خود چلا پردیس بچوں کی حفاظت کے لئے اپنی آنکھیں گھر کے دروازے پہ رکھ جاتا ہے باپ زندگی بھر چلتا رہتا ہے مشینوں کی طرح موت کی گودی میں اک دن تھک کے سوجاتا ہے باپ خرچ کرتی ہے سلیقے سے اسے بچوں پہ ماں خون پسینہ بہا کر جو کما لاتا ہے باپ وقت کرتا ہے جو بچوں کی طرف سے مطمئن بھول کر سب رنج و غم آخر سکوں پاتا ہے باپ عمر بھر کی ساری محنت کا صلہ اولاد سے فاتحہ بس فاتحہ بس فاتحہ پاتا ہے باپ کیا درست اور کیا غلط بچوں کی خوشیوں کے لئے جو نہ کرنا چاہئے تھا وہ بھی کرجاتا ہے باپ چھوڑ کر کشتی عمر کو طوفان میں اپنی ماں کے ساتھ فرق ہو جاتا ہے بیٹا نکل جاتا ہے باپ زندگی بچوں کی ہے ماں کے مکمل مختصر بیٹھنے کی گھر میں فرصت ہی کہاں پاتا ہے باپ

456

Bap — jari Umr bhar rehti hai is bete ke dil mein ek khalish Jab taraqqi dekhne se pehle mar jata hai bap Chal basa sahil pe pahuncha kar jo kashti-e-hayat Ghar mein jab koi khushi aaye to yaad aata hai bap Waqt se pehle bichhar jaye sharik-e-zindagi Jo faraiz man ke hain wo bhi baja lata hai bap Dil se jati hi nahin bichhre hue bachchon ki yaad Zindagi ko ghutan ki tarah khud hi kha jata hai bap Darda bidat hai agar mayyat pe use matam to phir Qabr par hathon ki kyun ashk barsata hai bap Rote rote ho gayin Yaqub ki ankhen safed Zinda Yusuf hai to phir kyun dil ko tarpata hai bap Bhul kar parh lena is ko jab koi mushkil pare De ke ek tawiz bete ko chala jata hai bap Kar ke naam Allah ke khud apni sari kainat Ek bete ke liye daman ko phailata hai bap Apni rag rag ko pila kar apni rag rag ka lahu Zindagi us ki wafa ke naam kar jata hai bap Waqt par jaye to namus par fida ho jaiyo Chalte dam Aun-o-Muhammad se ye farmata hai bap God mein apne bhatije ko utha kar le gaya Tangi-e-talwaron mein bete ko lita aata hai bap Is ke hote kya bigarega Muhammad ka koi Jo Ali se siwa bete ka kehlata hai bap Bagham se naujawani mein mar hoti hai khatm Dasht-e-ghurbat ki baharon mein bhi mar jata hai bap Jang ek ek sans se aati hai khushbu-e-wafa Naam is farzand ka Abbas rakh jata hai bap Is mujahid is muhafiz ka Abu Talib hai naam Jis ke bachche ke hawale nusrat-e-din ka alam Bardon ko chum kar thora sukun pata hai bap Dekh lete hain Abu Talib ke chehre ki taraf Jab kisi had se siwa Ahmad ko yaad aata hai bap Jab talak bazu na the maut uthta hi nahin Fakhr-o-gham ki khai mein is tarah gir jata hai bap
[باپ — جاری] عمر بھر رہتی ہے اس بیٹے کے دل میں اک خلش جب ترقّی دیکھنے سے پہلے مرجاتا ہے باپ چل بسا ساحل پہ پہنچا کر جو کشتیِ حیات گھر میں جب کوئی خوشی آئے تو یاد آتا ہے باپ وقت سے پہلے بچھڑ جائے شریکِ زندگی جو فرائض ماں کے ہیں وہ بھی بجا لاتا ہے باپ دل سے جاتی ہی نہیں بچھڑے ہوئے بچوں کی یاد زندگی کو گھٹن کی طرح خود ہی کھا جاتا ہے باپ دردا بدعت ہے اگر میت پہ اسے ماتم تو پھر قبر پر ہاتھوں کی کیوں اشک برساتا ہے باپ روتے روتے ہوگئیں یعقوبؑ کی آنکھیں سفید زندہ یوسفؑ ہے تو پھر کیوں دل کو تڑپاتا ہے باپ بھول کر پڑھ لینا اس کو جب کوئی مشکل پڑے دے کے ایک تعویذ بیٹے کو چلا جاتا ہے باپ کر کے نام اللہ کے خود اپنی ساری کائنات ایک بیٹے کے لئے دامن کو پھیلاتا ہے باپ اپنی رگ رگ کو پلا کر اپنی رگ رگ کا لہو زندگی اس کی وفا کے نام کر جاتا ہے باپ وقت پڑ جائے تو ناموس پر فدا ہو جائیو چلتے دم عونؑ و محمدؑ سے یہ فرماتا ہے باپ گود میں اپنے بھتیجے کو اٹھا کر لے گیا تنگی تلواروں میں بیٹے کو لٹا آتا ہے باپ اسکے ہوتے کیا بگاڑے گا محمدؐ کا کوئی جو علیؑ سے سوا بیٹے کا کہلاتا ہے باپ باغم سے نوجوانی میں مر ہوتی ہے ختم دشتِ غربت کی بہاروں میں بھی مرجاتا ہے باپ جنگ اک اک سانس سے آتی ہے خوشبوئے وفا نام اس فرزند کا عباسؑ رکھ جاتا ہے باپ اس مجاہد اس محافظ کا ابو طالبؑ ہے نام جس کے بچے کے حوالے نصرتِ دیں کا علم باردوں کو چوم کر تھوڑا سکوں پاتا ہے باپ دیکھ لیتے ہیں ابو طالبؑ کے چہرے کی طرف جب کسی حد سے سوا احمدؐ کو یاد آتا ہے باپ جب تلک بازو نہ تھے موت اٹھتا ہی نہیں فخر و غم کی کھائی میں اس طرح گر جاتا ہے باپ

457

Bap — jari Rote rote bas yahi kehta hai wo haye Husain Jab bhi apne jawan bete ko dafnata hai bap Jab amal karta hai beta sirat-e-Masum par Aur bhi kuchh Sahib-e-Iqbal ho jata hai bap Shadi ho jate hi bachche bhul jate hain use Zindagi bhar jangli khatir thokaren khata hai bap Dekh kar bete ki gardan pe chhuri ki dhar ko Naam-e-Ismail chillati hai, samjhata hai bap Aisa lagta hai ke do sinon mein hai bas ek dil Chubhta hai bete ke baithi dil ko sehlata hai bap Chhin leti hai ajal jab hath se bete ka hath Zindagi bhar chupke chupke ashk barsata hai bap Koi un bachchon se puchhe kya hai shadi ka maza Biyada ki tarikh rakh kar jin ki mar jata hai bap Apne dil pe kya guzarti hai use jane wo khud Sab ko deta hai tasalli, sab ko samjhata hai bap Jab na chal paye to bechari hai khud godi mein man Bachcha chalta hai to khud Majlis mein le jata hai bap Le ke hathon mein alam kehta hua haye Husain Aag pe chalta hai bachcha aur sukun pata hai bap Apni chhoti [ghair wazeh] mein ashkon ko lene ke sath Konta mein use Muslim-e-Gharib yaad aata hai bap Jab safar mein apne bachchon se bichhar jata hai bap Dekh kar man aza man ko tutti hai chaudhariyan Har azakhane mein bachchon ko liye aata hai bap Roz-e-Ashura bana deti hai man, rasta hamein Ek chhota sa uthane ko alam lata hai bap Kuchh nahin hota mayassar jab to Majlis ke liye Bech kar bachche ghar mein le aata hai bap Har azakhane mein farsh-e-Majlis-e-Shabbir par Zainab-o-Kulsum ke hamrah khud aata hai bap Qafila aata hai jab bhi laut kar pardes se Ek bimar-e-hazin Sughra ko yaad aata hai bap Alam-e-ghurbat mein jab koi musafir mil gaya Kya kahun zehn uljha ko kitna yaad aata hai bap
[باپ — جاری] روتے روتے بس یہی کہتا ہے وہ ہائے حسینؑ جب بھی اپنے جوان بیٹے کو دفناتا ہے باپ جب عمل کرتا ہے بیٹا سیرتِ معصومؑ پر اور بھی کچھ صاحبِ اقبال ہوجاتا ہے باپ شادی ہوجاتے ہی بچے بھول جاتے ہیں اسے زندگی بھر جنگلی خاطر ٹھوکریں کھاتا ہے باپ دیکھ کر بیٹے کی گردن پہ چھری کی دھار کو نامِ اسماعیلؑ چلاتی ہے، سمجھاتا ہے باپ ایسا لگتا ہے کہ دو سینوں میں ہے بس ایک دل چھبتا ہے بیٹے کے بیٹھی دل کو سہلاتا ہے باپ چین لیتی ہے اجل جب ہاتھ سے بیٹے کا ہاتھ زندگی بھر چپکے چپکے اشک برساتا ہے باپ کوئی ان بچوں سے پوچھے کیا ہے شادی کا مزا بیادہ کی تاریخ رکھ کر جن کی مرجاتا ہے باپ اپنے دل پہ کیا گزرتی ہے اسے جانے وہ خود سب کو دیتا ہے تسلی، سب کو سمجھاتا ہے باپ جب نہ چل پائے تو بیچاری ہے خود گودی میں ماں بچہ چلتا ہے تو خود مجلس میں لے جاتا ہے باپ لیکے ہاتھوں میں علم کہتا ہوا ہائے حسینؑ آگ پہ چلتا ہے بچہ اور سکوں پاتا ہے باپ اپنی چھوٹی [غیر واضح] میں اشکوں کو لینے کے ساتھ کونٹہ میں اسے مسلمؑ غریب یاد آتا ہے باپ جب سفر میں اپنے بچوں سے بچھڑ جاتا ہے باپ دیکھ کر ماں عزا ماں کو ٹوٹتی ہے چودھاریاں ہر عزاخانے میں بچوں کو لئے آتا ہے باپ روز عاشورا بنا دیتی ہے ماں، رستہ ہمیں ایک چھوٹا سا اٹھانے کو علم لاتا ہے باپ کچھ نہیں ہوتا میسر جب تو مجلس کے لئے بیچ کر بچے گھر میں لے آتا ہے باپ ہر عزاخانے میں فرشِ مجلس شبیرؑ پر زینبؑ و کلثومؑ کے ہمراہ خود آتا ہے باپ قافلہ آتا ہے جب بھی لوٹ کر پردیس سے ایک بیمار حزیں صغرا کو یاد آتا ہے باپ عالمِ غربت میں جب کوئی مسافر مل گیا کیا کہوں ذہن اُلجھا کو کتنا یاد آتا ہے باپ

458

Bap — jari Naujawan bete ko de to di ijazat-e-jang ki Pichhe pichhe thokaren khata chala aata hai bap Sun ke bete ki sada-e-aakhri thame kamar "Ya Ali" kehta hua maqtal mein aa jata hai bap Naujawan bete ke sine se sinan ko khinch kar Lash-e-maqtal se jawan ki khud utha lata hai bap Allah Allah ek burhe tishna-lab ki be-kasi Ariyan ragarte se beta dil ko sehlata hai bap Naujawan ki lash, burha jism aur khaima bhi dur Chalte chalte baith jata hai jo thak jata hai bap Misl-e-Payambar, Maula, Batul, Mustafa Ek hi banda hai jo ummat ka kehlata hai bap Lamha lamha waqf kar deta hai bachchon ke liye Doston se apne milne ko taras jata hai bap Ghar mein ek shab ki dulhan se muntazir to Shah ki Lash ke tukre liye maqtal se ghar aata hai bap Uthne lagta hai dhuan maqtal ki jalti ret se Apni tanhai pe apne ashk barsata hai bap Baad ek muddat ke sab ja kar sukun pata hai bap Fazl-e-Haq se gor ka pala jo ban jata hai bap Bahen ya barahna sath bachchon ke Shab-e-Ashur ko Har azakhane mein rone ke liye jata hai bap Tin din ki tishnagi mein khushk beti ki zaban Jab dikhai hui bete ne tarap jata hai bap Dil ko hathon se sambhale hai dar-e-khaima pe man Ek tishna hai ko tiron mein liye jata hai bap Tishnagi ka hai taqaza, chahiye pani talab Aur pani mangne se kitna sharmata hai bap Jis ne dushman ko kiya sairab bachche ke liye Pani ko do bund ko hath apne phailata hai bap Munh se jab kuchh bhi na keh paya to jalti ret par Dushmanon ke samne bachche ko rakh aata hai bap Zalzala aaya zamin ko asman tharra gaya Bachche hathon par liye khamosh reh jata hai bap Khinch kar nawak gale se mal ke chehre par lahu Chaunk uthta hai lab bhi gardan ko sehlata hai bap
[باپ — جاری] نوجوان بیٹے کو دے تو دی اجازتِ جنگ کی پیچھے پیچھے ٹھوکریں کھاتا چلا آتا ہے باپ سن کے بیٹے کی صدائے آخری تھامے کمر "یا علیؑ" کہتا ہوا مقتل میں آجاتا ہے باپ نوجوان بیٹے کے سینے سے سنان کو کھینچ کر لاشِ مقتل سے جوان کی خود اٹھا لاتا ہے باپ اللہ اللہ ایک بوڑھے تشنہ لب کی بے کسی ایڑیاں رگڑتے سے بیٹا دل کو سہلاتا ہے باپ نوجوان کی لاش بوڑھا جسم اور خیمہ بھی دور چلتے چلتے بیٹھ جاتا ہے جو تھک جاتا ہے باپ مثلِ پیغمبرؐ، مولا، بتولؑ، مصطفیٰؐ ایک ہی بندہ ہے جو امت کا کہلاتا ہے باپ لمحہ لمحہ وقف کردیتا ہے بچوں کے لئے دوستوں سے اپنے ملنے کو ترس جاتا ہے باپ گھر میں اک شب کی دلہن سے منتظر تو شاہ کی لاش کے ٹکڑے لئے مقتل سے گھر آتا ہے باپ اٹھنے لگتا ہے دھواں مقتل کی جلتی ریت سے اپنی تنہائی پہ اپنے اشک برساتا ہے باپ بعد اک مدت کے سب جا کر سکوں پاتا ہے باپ فضلِ حق سے گور کا پالا جو بن جاتا ہے باپ بہن یا برہنہ ساتھ بچوں کے شب عاشور کو ہر عزاخانے میں رونے کے لئے جاتا ہے باپ تین دن کی تشنگی میں خشک بیٹی کی زبان جب دکھائی ہوئی بیٹے نے تڑپ جاتا ہے باپ دل کو ہاتھوں سے سنبھالے ہے درِ خیمہ پہ ماں ایک تشنہ ہے کو تیروں میں لئے جاتا ہے باپ تشنگی کا ہے تقاضا، چاہئے پانی طلب اور پانی مانگنے سے کتنا شرماتا ہے باپ جس نے دشمن کو کیا سیراب بچے کے لئے پانی کو دو بوند کو ہاتھ اپنے پھیلاتا ہے باپ منہ سے جب کچھ بھی نہ کہہ پایا تو چلتی ریت پر دشمنوں کے سامنے بچے کو رکھ آتا ہے باپ زلزلہ آیا زمین کو آسمان تھرا گیا بچے ہاتھوں پر لئے خاموش رہ جاتا ہے باپ کھینچ کر ناوک گلے سے مل کے چہرے پر لہو چونک اٹھتا ہے لب بھی گردن کو سہلاتا ہے باپ

459

Bap — jari Marsiya parhti hai us ke hal pe khud be-kasi Khod kar jab qabr ek bachche ko dafnata hai bap Qabr par pani na koi phul na koi chiragh Chand ansu khushk ankhon se chhirak aata hai bap Khun mein tar bachche ki mayyat dekh kar Ashur ko Chikh uthti insaniyat aur marsiya farmata hai bap Pani ke badle gale par tir bachche ke laga Dekh kar bachche ki gardan ko tarap jata hai bap Kya bata sakta hai is beti ka koi martaba Jis ke istiqbal ko mimbar se uth jata hai bap Pani hai ghar ke faide jo rizq Allah ko Dar pe is beti ke karke khud salam aata hai bap Jab kisi beti se man ka pyar izhar pata hai yatim Ho ke khush um aisa us ko farmata hai bap Ashkon ke sailab mein dubi hui hain putliyan Ek ek ansu mein beti ko nazar aata hai bap Sar khule jata hai bhuka Sham ke darbar mein Sabr karna sabr ye keh kar chala jata hai bap Sardar mangte chhuri qasid idhar mange jawab Parh ke khat-e-bimar ka anjuman mein parh jata hai bap Jis ne dushman ko kiya sairab bachche ke liye Pani ki do bund wo apne hath phailata hai bap Ro ke Zainab ne kaha Baba bhara lut gaya Jab Shab-e-Sham-e-Ghariban mein nazar aata hai bap Kya kahunga hal-e-Asghar puchh baithe jo Rabab Aage jata hai kabhi pichhe palat aata hai bap Shan mein Umm-e-Abiha us ki farmata hai bap Jis ki chadar ke tale aa kar sukun pata hai bap Mangte aate hain jab darbar mein jab Bagh-e-Fadak Gham-zada beti ko jane kitna yaad aata hai bap Kal isi darbar mein itne the sab tazim ko Hal ye hota hai istighasa kar reh jata hai bap Zikr-e-chehra-e-khushk-lab aur kanpti hain putliyan Chhin gunah wo bagh jo beti ko de jata hai bap
[باپ — جاری] مرشہ پڑھتی ہے اسکے حال پہ خود بے کسی کھود کر جب قبر اک بچے کو دفناتا ہے باپ قبر پر پانی نہ کوئی پھول نہ کوئی چراغ چند آنسو خشک آنکھوں سے چھڑک آتا ہے باپ خون میں تر بچے کی میت دیکھ کر عاشور کو چیخ اٹھتی انسانیت اور مرثیہ فرماتا ہے باپ پانی کے بدلے گلے پر تیر بچے کے لگا دیکھ کر بچے کی گردن کو تڑپ جاتا ہے باپ کیا بتا سکتا ہے اس بیٹی کا کوئی مرتبہ جس کے استقبال کو منبر سے اٹھ جاتا ہے باپ پانی ہے گھر کے فائدے جو رزق اللہ کو در پہ اس بیٹی کے کرکے خود سلام آتا ہے باپ جب کسی بیٹی سے ماں کا پیار اظہار پاتا ہے یتیم ہو کے خوش ام ایسا اس کو فرماتا ہے باپ اشکوں کے سیلاب میں ڈوبی ہوئی ہیں پتلیاں ایک اک آنسو میں بیٹی کو نظر آتا ہے باپ سر کھلے جاتا ہے بھوکا شام کے دربار میں صبر کرنا صبر یہ کہہ کر چلا جاتا ہے باپ سردار مانگتے چھری قاصد ادھر مانگے جواب پڑھ کے خطِ بیمار کا انجمن میں پڑھ جاتا ہے باپ جس نے دشمن کو کیا سیراب بچے کے لئے پانی کی دو بوند وہ اپنے ہاتھ پھیلاتا ہے باپ رو کے زینبؑ نے کہا بابا بھرا لٹ گیا جب شبِ شامِ غریباں میں نظر آتا ہے باپ کیا کہوں گا حال اصغرؑ پوچھ بیٹھے جو ربابؑ آگے جاتا ہے کبھی پیچھے پلٹ آتا ہے باپ شان میں امِ ابیہا اُسکی فرماتا ہے باپ جسکی چادر کے تلے آ کر سکوں پاتا ہے باپ مانگتے آتے ہیں جب دربار میں جب باغِ فدک غم زدہ بیٹی کو جانے کتنا یاد آتا ہے باپ کل اسی دربار میں اتنے تھے سب تعظیم کو حال یہ ہوتا ہے استغاثہ کر رہ جاتا ہے باپ ذکرِ چہرۂ خشک لب اور کانپتی ہیں پتلیاں چھین گناہ وہ باغ جو بیٹی کو دے جاتا ہے باپ

460

Bap — jari Gunjti hai shab ke sannate mein beti ki sada Shisha-e-Sham-e-Ghariban mein nazar aata hai bap Der tak roti hai Sughra aur Sakina ke liye Jab kisi bichhri hui beti ko yaad aata hai bap Hone hi wali hai is Sham-e-Ghariban ki sahar Bazuon ko chum kar beti ko samjhata hai bap Jo sada sine pe soti thi use hangam-e-Asr Karbala ki jalti reti pe sula jata hai bap Qaid-khane mein hua kohram, bachchi mar gayi Khwab mein ek shab Sakina ko nazar aata hai bap Ye azadari ka sadqa hai jo Barzakh mein Raza Majlison mein rote hain hum aur jaza pata hai bap Jane wale nahin aayenge Sibt Jafar Masjidein shayad phir ban jayen, jane wale nahin aayenge Fakhr se un ke Ahl-e-Khana un ke qisse dohrayenge Rah-e-Khuda mein marne walon se ye Khuda ka wada hai Maut nahin aayegi un ko, rizq Khuda se payenge Sare shahidon ne paya hai qurb-o-jawar-e-Aimma-e-Zaman Maula jab aayenge apne sare shahid bhi aa jayenge Aulad-o-ahbab-o-aizza jite ji na bhula payenge Jab bhi khushi ka mauqa hoga apne pyare yaad aayenge Kitne aziz aur kitne sathi pahunche huzur-e-Shah-e-Zaman Kitne hum jaison ki shafaat apne sathi farmayenge Zikr jo hoga Karb-o-bala ka [lafz ghair wazeh]-o-mardan-e-Khuda ka Un ki baten yaad aayengi, un ke qisse yaad aayenge Fisq-o-fujur aur ghaflat mein hain dunyawi fursat karne wale Waqt-e-zuhur aur ghaibat mein bhi aise ghafil pachhtayenge Jati hai ye duniya [lafz ghair wazeh] aap ki nisbat se Maula Hath jo Hazrat sar se uthayen hum jite ji mar jayenge
[باپ — جاری] گونجتی ہے شب کے سناٹے میں بیٹی کی صدا شیشۂ شامِ غریباں میں نظر آتا ہے باپ دیر تک روتی ہے صغرا اور سکینہ کے لئے جب کسی بچھڑی ہوئی بیٹی کو یاد آتا ہے باپ ہونے ہی والی ہے اس شامِ غریباں کی سحر بازوؤں کو چوم کر بیٹی کو سمجھاتا ہے باپ جو سدا سینے پہ سوتی تھی اسے ہنگامِ عصر کربلا کی جلتی ریتی پہ سلا جاتا ہے باپ قید خانے میں ہوا کہرام، بچی مر گئی خواب میں اک شب سکینہ کو نظر آتا ہے باپ یہ عزاداری کا صدقہ ہے جو برزخ میں رضا مجلسوں میں روتے ہیں ہم اور جزا پاتا ہے باپ جانے والے نہیں آئیں گے سبط جعفر مسجدیں شاید پھر بن جائیں، جانے والے نہیں آئیں گے فخر سے ان کے اہلِ خانہ ان کے قصے دہرائیں گے راہِ خدا میں مرنے والوں سے یہ خدا کا وعدہ ہے موت نہیں آئے گی ان کو، رزق خدا سے پائیں گے سارے شہیدوں نے پایا ہے قرب و جوارِ ائمۂ زماں مولا جب آئیں گے اپنے سارے شہید بھی آجائیں گے اولاد و احباب و اعزہ جیتے جی نہ بھلا پائیں گے جب بھی خوشی کا موقع ہوگا اپنے پیارے یاد آئیں گے کتنے عزیز اور کتنے ساتھی پہنچے حضورِ شاہِ زمن کتنے ہم جیسوں کی شفاعت اپنے ساتھی فرمائیں گے ذکر جو ہوگا کرب و بلا کا [لفظ غیر واضح] و مردانِ خدا کا ان کی باتیں یاد آئیں گی، ان کے قصے یاد آئیں گے فسق و فجور اور غفلت میں ہیں دنیوی فرصت کرنے والے وقتِ ظہور اور غیبت میں بھی ایسے غافل پچھتائیں گے جاتی ہے یہ دنیا [لفظ غیر واضح] آپ کی نسبت سے مولا ہاتھ جو حضرت سر سے اٹھائیں ہم جیتے جی مر جائیں گے

461

Jane wale nahin aayenge — jari Hum ko bhula sakta hi nahin hai rah-e-mawaddat se koi Un ka hi kalima parhte rahenge, un ke tarane hi gayenge Apni hasti ishq-e-Muhammad, apni daulat hubb-e-Ali In nemat ke madd-e-muqabil har daulat ko thukrayenge Jitne [lafz ghair wazeh] zalim hain, jitne fasadi lashkar hain Un ke mazalim sun sun kar to Shimr-o-Yazid bhi sharmayenge Karb-o-bala aur Sham-o-Kufa pesh-e-nazar hain hum logon ke Zulm-o-tashaddud-o-qaid-o-salasil hausle past na kar payenge Thora muawza de ke hukumat zakhmiyon aur shahidon ka Apne tain ye samjhe hue hai zakhm hamare bhar jayenge Zinda-jawed aap ka shair Sibt Jafar ho jayega Us ko bhi mil jayegi shahadat, aap karam jo farmayenge Pakistan ki bunyadon mein Sibt Jafar Pakistan ki bunyadon mein shamil apna tan-dhan Kaun the Bani Qaid-e-Azam, kaun thin Fatima Jinnah bahen Millat-e-Jafariya ke jawano, war do mulk pe jaan aur tan Raja Sahib ki daulat aur asar-o-rasukh hi kam aaya Mulk aur qaum pe apna lagaya Seth Habib ne sarmaya Tab kahin ja kar hum ne kiya hasil ye apna Pak Watan Kya apne ehsan jatayen, kis kis ke hum naam batayen Ghairon par tanqid karen kya, kya un ke hum aib batayen Apna hai paigham-e-muhabbat, aao mil kar aage chalen Kaun tha jis ne Pakistan ko "Kufristan" qarar diya tha Bani-e-Pakistan ko kis ne "Kafir-e-Azam" thehraya tha Pakistan aur Muslim League ka koi na tha hum mein dushman Nafraten paida karne wale mulk aur qaum ke dushman hain Kal the Pakistan ke dushman, aaj hamare dushman hain Wo jo rakhe aaye hain hum se kudurat aur jalan Pakistan banane walon ki aulad pe itni jafa Kitne Momin is dharti par qatl hue be-jurm-o-khata Kaise kaise mare gaye hain [misra juzwi taur par ghair wazeh] Firqa-paraston ka maslak hai dahshat-gardi aur nafrat Dahshat-gardi din hai un ka, dahshat-gardi qaumiyat Kyun na banayen apne watan ko dahshat-gardon ka madfan
[جانے والے نہیں آئیں گے — جاری] ہم کو بھلا سکتا ہی نہیں ہے راہِ مودت سے کوئی ان کا ہی کلمہ پڑھتے رہیں گے، ان کے ترانے ہی گائیں گے اپنی ہستی عشقِ محمدؐ، اپنی دولت حبِ علیؑ ان نعمت کے مدِ مقابل ہر دولت کو ٹھکرائیں گے جتنے [لفظ غیر واضح] ظالم ہیں، جتنے فسادی لشکر ہیں ان کے مظالم سن سن کر تو شمر و یزید بھی شرمائیں گے کرب و بلا اور شام و کوفہ پیشِ نظر ہیں ہم لوگوں کے ظلم و تشدد و قید و سلاسل حوصلے پست نہ کر پائیں گے تھوڑا معاوضہ دے کے حکومت زخمیوں اور شہیدوں کا اپنے تئیں یہ سمجھے ہوئے ہے زخم ہمارے بھر جائیں گے زندہ جاوید آپ کا شاعر سبط جعفر ہو جائے گا اس کو بھی مل جائے گی شہادت، آپ کرم جو فرمائیں گے پاکستان کی بنیادوں میں سبط جعفر پاکستان کی بنیادوں میں شامل اپنا تن دھن کون تھے بانی قائد اعظم، کون تھیں فاطمہ جناح بہن ملتِ جعفریہ کے جوانو، وار دو ملک پہ جان اور تن راجہ صاحب کی دولت اور اثر و رسوخ ہی کام آیا ملک اور قوم پہ اپنا لگایا سیٹھ حبیب نے سرمایہ تب کہیں جا کر ہم نے کیا حاصل یہ اپنا پاک وطن کیا اپنے احسان جتائیں، کس کس کے ہم نام بتائیں غیروں پر تنقید کریں کیا، کیا ان کے ہم عیب بتائیں اپنا ہے پیغامِ محبت، آؤ مل کر آگے چلیں کون تھا جس نے پاکستان کو "کفرستان" قرار دیا تھا بانیِ پاکستان کو کس نے "کافرِ اعظم" ٹھہرایا تھا پاکستان اور مسلم لیگ کا کوئی نہ تھا ہم میں دشمن نفرتیں پیدا کرنے والے ملک اور قوم کے دشمن ہیں کل تھے پاکستان کے دشمن، آج ہمارے دشمن ہیں وہ جو رکھے آئے ہیں ہم سے کدورت اور جلن پاکستان بنانے والوں کی اولاد پہ اتنی جفا کتنے مومن اس دھرتی پر قتل ہوئے بے جرم و خطا کیسے کیسے مارے گئے ہیں [مصرع جزوی طور پر غیر واضح] فرقہ پرستوں کا مسلک ہے دہشت گردی اور نفرت دہشت گردی دین ہے ان کا، دہشت گردی قومیت کیوں نہ بنائیں اپنے وطن کو دہشت گردوں کا مدفن

462

Pakistan ki bunyadon mein — jari Naam Sahaba ka lete hain Shimr-o-Yazid ke pairukar Maslak un ka bughz-o-taassub, nafrat un ka karobar Hashr ke din Ashab chhurayenge un se apna daman Har shobe mein hum se taassub barta gaya taqsim ke baad Milti nahin hain naukriyan hum ko aala talim ke baad Kitne Alim aur [lafz ghair wazeh] qatl hue hain bahr-e-fan Millat-e-Jafariya ke jawano, mayusi hai kufr sarasar Dahshat-gard ab bhag rahe hain, tut rahi hai un ki kamar Waris-e-gulshan hum hain, hum ko karna hai tazyin-e-chaman Jor ke phir sare shikwon ko apna chaman tamir karen Pakistani bhaiyo aao apna watan tamir karen Pakistan hai apna watan, apna maskan, apna gulshan Jurm-o-sitam ke baqi-manda thore din bhi kat jayenge Mit jayenge zalim-o-jabir, zulm ke badal chhat jayenge Dur nahin hai Sibt Jafar Zaidi zuhur-e-Shah-e-Zaman (Ba-hawala Tarana-e-Shahadat, [lafz ghair wazeh] 2 Shahid Foundation Pakistan) Baraye rabta: 021-6028334, 021-6366335 Amman Shab-e-tira bhi hamein lagti thi roz-e-roshan Jab talak sar pe raha aap ka saya Amman Aap ke baad hamein lagta hai ab roz bhi shab Ye wo shab hai ke nahin jis ka sawera Amman Apne pyaron se bichhar jana tumhara Amman Hai ye nuqsan nahin jis ka azala Amman Aap ke baad udasi ka ajab alam hai Ek virani si lagti hai ye duniya Amman Aap ke dam se hi ehsas-e-tahaffuz tha hamein Kitna mazbut sahara tha tumhara Amman Kya kahen, kis se kahen hum pe jo afat aai Kya bigra hai muqaddar ye hamara Amman Aap ke baad ye ehsas sa hota hai hamein Aa gaya hum pe musibat ka zamana Amman Waqt ki dhoop ne jhulsa diye kitne chehre Abhi utha na saron se tera saya Amman Kis tarah hans ke guzare hain ye din chashm-e-nam Dekhen kash hamara bhi tarapna Amman Bashukriya nauha-khwan-o-sozkhwan Syed Asad Ali Zaidi Sahib (Muhammadi Dera Malir Karachi)
[پاکستان کی بنیادوں میں — جاری] نام صحابہ کا لیتے ہیں شمر و یزید کے پیروکار مسلک ان کا بغض و تعصب، نفرت ان کا کاروبار حشر کے دن اصحاب چھوڑائیں گے ان سے اپنا دامن ہر شعبے میں ہم سے تعصب برتا گیا تقسیم کے بعد ملتی نہیں ہیں نوکریاں ہم کو اعلیٰ تعلیم کے بعد کتنے عالم اور [لفظ غیر واضح] قتل ہوئے ہیں بہرِ فن ملتِ جعفریہ کے جوانو، مایوسی ہے کفر سراسر دہشت گرد اب بھاگ رہے ہیں، ٹوٹ رہی ہے ان کی کمر وارثِ گلشن ہم ہیں، ہم کو کرنا ہے تزئینِ چمن جوڑ کے پھر سارے شکووں کو اپنا چمن تعمیر کریں پاکستانی بھائیو آؤ اپنا وطن تعمیر کریں پاکستان ہے اپنا وطن، اپنا مسکن، اپنا گلشن جرم و ستم کے باقی ماندہ تھوڑے دن بھی کٹ جائیں گے مٹ جائیں گے ظالم و جابر، ظلم کے بادل چھٹ جائیں گے دور نہیں ہے سبط جعفر زیدی ظہورِ شاہِ زمن (بحوالہ ترانۂ شہادت، [لفظ غیر واضح] 2 شہید فاؤنڈیشن پاکستان) برائے رابطہ: 021-6028334, 021-6366335 اماں شبِ تیرہ بھی ہمیں لگتی تھی روزِ روشن جب تلک سر پہ رہا آپ کا سایہ اماں آپ کے بعد ہمیں لگتا ہے اب روز بھی شب یہ وہ شب ہے کہ نہیں جس کا سویرا اماں اپنے پیاروں سے بچھڑ جانا تمہارا اماں ہے یہ نقصان نہیں جس کا ازالہ اماں آپ کے بعد اداسی کا عجب عالم ہے ایک ویرانی سی لگتی ہے یہ دنیا اماں آپ کے دم سے ہی احساسِ تحفظ تھا ہمیں کتنا مضبوط سہارا تھا تمہارا اماں کیا کہیں، کس سے کہیں ہم پہ جو آفت آئی کیا بگڑا ہے مقدر یہ ہمارا اماں آپ کے بعد یہ احساس سا ہوتا ہے ہمیں آگیا ہم پہ مصیبت کا زمانہ اماں وقت کی دھوپ نے جھلسا دیئے کتنے چہرے ابھی اٹھا نہ سروں سے تیرا سایہ اماں کس طرح ہنس کے گزارے ہیں یہ دن چشمِ نم دیکھیں کاش ہمارا بھی تڑپنا اماں بشکریہ نوحہ خواں و سوز خواں سید اسد علی زیدی صاحب (محمدی ڈیرہ ملیر کراچی)

463

Original scan of Basta page 464

464

Original scan of Basta page 465

465

Original scan of Basta page 466

466

Original scan of Basta page 467

467

Original scan of Basta page 468

468

Original scan of Basta page 469

469

Original scan of Basta page 470

470

Sallent Features / Some facts about “Soazkhwani” ★ The literal meaning of Soazkhwani is sorrow or smoulder. ★ It is allegorical attribution to the martyrdom of Imam Husain (A.S.), his companions & agony thereof. ★ There are only three basic vocal fine arts of Islam/Muslims: Qirat, Qawwali & Soazkhwani. ★ Its beginning can be traced to three centuries back in this subcontinent (especially in Lucknow & its surroundings/U.P.). ★ In Soazkhwani classical poetry of Urdu is mostly used as the medium thereof. ★ Since its inception nobody cared, discovered & compiled certain rules & regulations of this art. The infrastructure is made/designed by Prof. Sibt-i-Jaafar. ★ Soazkhwani has its own code of conduct, unique to its age old civilization & Islamic culture & has its own phraseology. ★ The melody & its practice is needed or required in performance of the common arts. Whereas soazkhwani needs the pathos & pains of the incident in a touching & moving style. ★ It is a deliberate attempt according to the existing situation where message occupies the priority than the art & craft (where the message comes first & the art after words). ★ In its compositions of “Ragas” there has been clear contradictions among the “Ragees” (Classical Masters), because no clear, identified, categorized (Shudh Raag/Raagnees) are used in Soazkhwani. It does maintain the real effect of “Raga”, but excludes the irrelevant. ★ Technically the singer (Performer, Composer/Soazkhwan) is a competent, experienced & trained professional/ skilled person, who is entitled “Ustaad”. He is an adept hand, who exercises all the facets of rhythmic meters and knows all the intonations of the lyre. Prof. S. Sibt-I-Jaafar Zaidi (1957 - 2006) ★ After withdrawal from C.S.S. & advocacy, Prof. S. Sibt-i-Jaafar Zaidi is serving in a Govt. College of Karachi (as Associate Prof./BS-19). ★ He has visited 16 countries as Poet, Scholar & Soazkhwan. ★ More than 50 Audio-Video cassettes & CDS’ have been prepared & released by various, reputed companies (all over the world and also available on various web-sites). ★ More than 10 books of professor, have been published on various topics esp. Pak Studies for Intermediate & Degree Classes, Sociology for degree classes, Nishaan-e-Raah, Zaad-e-Raah, Muntakhabaat-e-Nazm-o-Nasr, Sauti Uloom-o-Funoon-e-Islami & Bastah. etc. ★ He is founder & Leading Master / Instructor (Ustaad) & Performer of traditional, Classical Soazkhwani & Founder of “I.T.S.” and admired/ recognized by Harvard University & Columbia University of U.S.A., He is being telecasted & broadcasted by the national & international electronic media since 1967 as Naatkhwan, Soazkhwan, Writer/Author, Composer, Scholar & Comperer etc.
Sallent Features / Some facts about “Soazkhwani” ★ The literal meaning of Soazkhwani is sorrow or smoulder. ★ It is allegorical attribution to the martyrdom of Imam Husain (A.S.), his companions & agony thereof. ★ There are only three basic vocal fine arts of Islam/Muslims: Qirat, Qawwali & Soazkhwani. ★ Its beginning can be traced to three centuries back in this subcontinent (especially in Lucknow & its surroundings/U.P.). ★ In Soazkhwani classical poetry of Urdu is mostly used as the medium thereof. ★ Since its inception nobody cared, discovered & compiled certain rules & regulations of this art. The infrastructure is made/designed by Prof. Sibt-i-Jaafar. ★ Soazkhwani has its own code of conduct, unique to its age old civilization & Islamic culture & has its own phraseology. ★ The melody & its practice is needed or required in performance of the common arts. Whereas soazkhwani needs the pathos & pains of the incident in a touching & moving style. ★ It is a deliberate attempt according to the existing situation where message occupies the priority than the art & craft (where the message comes first & the art after words). ★ In its compositions of “Ragas” there has been clear contradictions among the “Ragees” (Classical Masters), because no clear, identified, categorized (Shudh Raag/Raagnees) are used in Soazkhwani. It does maintain the real effect of “Raga”, but excludes the irrelevant. ★ Technically the singer (Performer, Composer/Soazkhwan) is a competent, experienced & trained professional/ skilled person, who is entitled “Ustaad”. He is an adept hand, who exercises all the facets of rhythmic meters and knows all the intonations of the lyre. Prof. S. Sibt-I-Jaafar Zaidi (1957 - 2006) ★ After withdrawal from C.S.S. & advocacy, Prof. S. Sibt-i-Jaafar Zaidi is serving in a Govt. College of Karachi (as Associate Prof./BS-19). ★ He has visited 16 countries as Poet, Scholar & Soazkhwan. ★ More than 50 Audio-Video cassettes & CDS’ have been prepared & released by various, reputed companies (all over the world and also available on various web-sites). ★ More than 10 books of professor, have been published on various topics esp. Pak Studies for Intermediate & Degree Classes, Sociology for degree classes, Nishaan-e-Raah, Zaad-e-Raah, Muntakhabaat-e-Nazm-o-Nasr, Sauti Uloom-o-Funoon-e-Islami & Bastah. etc. ★ He is founder & Leading Master / Instructor (Ustaad) & Performer of traditional, Classical Soazkhwani & Founder of “I.T.S.” and admired/ recognized by Harvard University & Columbia University of U.S.A., He is being telecasted & broadcasted by the national & international electronic media since 1967 as Naatkhwan, Soazkhwan, Writer/Author, Composer, Scholar & Comperer etc.

471